شمس الرحمن فاروقی کی فکشن نگاری: ایک مطالعہ
ڈاکٹر محمد حسین
علی گڑھ ،یو۔پی
شمس الرحمن فاروقی اردو ادب کے ایک جس طرح اردو ادب میں شمس الرحمن فاروقی کی مقبولیت ان کے تنقیدی کارناموں کی وجہ سے ہوئی اسی طرح اردو فکشن میں ان کی شہرت ان کے ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کی وجہ سے ہے۔ اس ناول میں انھوں نے جس طرح سے تاریخ اور تہذیب کے حسین امتزاج کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے نئے اور منفردتجربوں کا استعمال کیا ہے۔ اردو فکشن میں قرۃ العین حیدر کے علاوہ شاید ہی کسی اور تخلیق کار کے یہاں اس کی جھلک پائی جاتی ہو۔ ان کے یہاں ہندوستان کی قدیم تہذیب وروایت ، بالخصوص ہنداسلامی تہذیب،ہندو میھتولاجی، شعراء اور شعر وشاعری سے متعلق دلچسپ بیانیہ ، سائنس اور وقت سے متعلق تجربے دیکھنے کو ملتے ہیں۔
چوں کہ شمس الرحمن فاروقی کا مطالعہ فکشن کی شعریات کے حوالے سے کافی وسیع پیمانے پرتھا اور انھوںنے اردو فکشن پر متعدد تنقیدی مضامین اور کتابیں بھی لکھی تھیں، اس لیے فکشن کے تمام اصول و ضوابط سے وہ پہلے سے ہی واقف تھے ۔ اردو فکشن میں ان کی تنقیدی کاوشوں میں ’’افسانے کی حمایت میں‘‘،’’داستان امیر حمزہ: زبانی بیانیہ ،’’ بیان کنندہ اور سامعین‘‘ اور’’ ساحری شاہی صاحب قرانی‘‘ وغیرہ کو جو مقبولیت حاصل ہوئی وہ کسی اور فنکار کے حصے میں نہیں آئی۔ داستان پر شمس الرحمن فاروقی کے کام کا اعتراف کرتے ہوئے پروفیسر قمر الہدیٰ فریدی لکھتے ہیں
’’شمس الرحمن فاروقی نے اپنے خطبے ’’داستان سے امیر حمزہ: زبانی بیانیہ بیان کنندہ او سامعین ‘‘ میں متعدد بحثیں اُٹھائی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
شمس الرحمن فاروقی نے’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘میں تقریباً دو سو سے ڈھائی سو برس پر پھیلے ہوئے ایک خاندان اور اس سے متعلق افراد، اس عہد کے ہندوستان اور ہنداسلامی تہذیب کے مختلف رنگ و روپ کا احاطہ کیا ہے ۔ اس عہد میں زندگی بسر کرنے والے امراء ،شعرا، نوابین، مزدور اور عوام سب کے سب اپنے اپنے وقتوں اوراپنی اپنی تہذیب کی نمائندگی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول کو ترتیب دینے کے لیے تاریخی دستاویزوں ،شعراکے تذکروں اور ان کے سوانحی حالات کا بھی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اس لیے اس ناول میں بیان کیے گئے واقعات یا حادثات تاریخی یا نیم تاریخی نوعیت کے معلوم ہوتے ہیں ۔اس بات کا اعتراف خود شمس الرحمن فاروقی نے بھی کیا ہے کہ قصے کو ترتیب دیتے وقت تاریخ سے مدد ضرور لی گئی ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں بلکہ اس میں اٹھارویںاور انیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو
’’یہ بات واضح کردوں کہ اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان مکمل اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ۔ اسے اٹھارہویں،انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب، انسانی اور تہذیبی وادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا۔‘‘ ۲؎
ناول میں جن تاریخی ہستیوں کاذکر کیا گیاہے ان میں ولیم فریزر، ٹامس مٹکاف ، جان لارنس، نواب شمس الدین احمد ، بہادرشاہ ظفر، مرزا غالب، امام بخش صہبائی اور مرزا داغ وغیرہ کے نام اہم ہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے فرضی اور خیالی کردار بھی ناول میں موجود ہیں جو ناول کے اصل واقعے کو آگے بڑھانے میں مدد کرتے ہیں۔ناول کے مرکزی کردار وزیر خانم کو شمس الرحمن فاروقی نے دہلی شہر کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے ۔ جس طرح کئی حکمرانوں نے یکے بعد دیگرے دلی کی گدی سنبھالی لیکن کچھ ہی سالوں میں انھیں گدی چھوڑنی پڑی ۔اسی طرح وزیر خانم پر بھی بہتوں کی نظر پڑی جنھوںنے اس پر حکومت کرنے کی کوشش کی لیکن سب کے سب ناکام رہے۔ کوئی بھی اس پر مسلسل حکومت نہیں کرپایا ۔ جس طرح دلی شہر بار بار باہری حملوں سے اجڑی اور لٹی پٹی ،اسی طرح وزیر خانم بھی کئی بار ٹوٹی، لیکن حالات کے سامنے مجبور ہو کر کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے اور اپنی زندگی اپنی شرطوں کے مطابق گذارتی رہی ۔ یہ ہنداسلامی تہذیب کی پہلی باغی خاتون تھی جس نے ان تمام باتوں کے خلاف آواز اٹھائی جو عورتوں کو ذِلّت اور پستی کی زندگی جینے پر مجبور کرتی تھیں۔اس نے اپنے آپ کو کبھی سماج کے رسم و رواج کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا،بلکہ ان تمام بندشوں کو توڑا ہے جو اس کے راستے کی رکاوٹ بن رہے تھے۔ اس کاخیال تھا کہ معاشرے میں مرد کو جو آزادی حاصل ہے وہ عورت کو بھی حاصل ہونی چاہیے۔بقول انتظار حسین
’’ناول میں صرف ایک کردار ایسا ہے ،جو ہے تو حقیقی اور تاریخی لیکن جس کے بارے میں ہم دھندلے طور پر کچھ جانتے تھے۔یہ کردار وزیر خانم نامی ایک عورت ہے اور فاروقی کی کردار نگاری کے طفیل وہ اب جاکر اپنے پورے رنگ وآہنگ کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے ۔وہ ایک عظیم عورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی شخصیت اور وجود کے باعث ناول میں ایک رومانی رنگ ہے اور اس کی شخصیت ہی ہے جو ناول میں بیان کردہ واقعات کو مرکزی اہمیت اور معنیٰ عطاکرتی ہے۔‘‘ ۳؎
ناول میں جگہ جگہ مکالمہ نگاری کی عمدہ مثالیں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں ۔جن میں وزیر خانم اور عمدہ خانم، وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد، وزیر خانم اورمارسٹین بلیک، ولیم فریزراور حکیم احسن اللہ کے بیچ ہورہے مکالمے واقعات کے بیان میں جان ڈال دیتے ہیں ۔شمس الرحمن فاروقی نے ناول میں کرداروں کے حسبِ حال مکالموں کو ترتیب دیا ہے جو کردار جس طرح کی شخصیت کا مالک ہے اس سے بالکل اسی طرح کے مکالمے ادا کرائے ہیں۔ اسی طرح شمس الرحمن فاروقی نے ہندل پورا (کشن گڑھ ) کشمیر ،دہلی ، سون پور (بہار)اور رام پور میں پیش آنے والے واقعات کی ایسی زبردست منظر کشی کی ہے کہ پرھنے والے کویہی محسوس ہوگا کہ وہ جائے واردات پر موجود ہے اور سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اسی طرح سراپا نگاری میں بھی وہ اپنا جواب نہیں رکھتے۔ بنی ٹھنی ، وزیر خانم اورنواب شمس الدین احمد کا بہترین سراپا کھینچا ہے۔ وہ شبیہ سازی کا ذکر کرتے ہوئے ’’بنی ٹھنی‘‘ کے تمام اعضاء بدن کا اس لطف بھرے احساسات کے ساتھ تصویر کھینچتے ہیں جسے پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم کشن گرھ کی رادھا کو اپنی ماتھے کی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔مثال کے طور پر یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے
’’چودہ پندرہ برس کی لڑکی سنگ سیاہ کی ایک شکستہ سی چوکی پر یوں بیٹھی ہوئی گویا اب اٹھے گی تو پوری جوان ہی اٹھے گی۔بھر پور جوانی اس کے جسم کے عضو عضو پر دستک دے رہی تھی۔لہنگا ذرا ڈھیلا اور لمبا، لیکن گلاب کی کلی سے نازک تر ٹخنے اور گلاب کی پنکھڑی سے بھی لطیف، گلابی لیکن زندہ پھڑکتے ہوئے رنگ کے پائوں تھوڑے تھوڑے جھلک رہے تھے ۔ایک تلوے پر ہلکا سا داغ ، خدا معلوم تل تھا یا باغ کی کوئی پتی پائوں کے صدقے ہوکر رہ گئی تھی۔ گردن اسی طرح ایک طرف کو خم، صورت ویسی ہی نیم رخ، لباس شوخ اور بھڑکیلا نہیں بلکہ سفید اور گلابی اور زعفرانی ، لیکن تینوں رنگ اس طرح بول رہے تھے کہ تصویر تھر تھراتی ہوتی معلوم ہورہی تھی۔‘‘ ۴؎
اس ناول میں جزئیات نگاری کی بہتات ہے۔ شبیہ سازی ، قالین بافی،اسلحہ جات،عمارات، کھنڈرات، آلات موسیقی، کھانے پینے کی اشیاء، سردی گرمی کے ملبوسات ، سرنگار اورعطر وغیرہ جزئیات نگاری کی عمدہ مثالیں ہے ۔ اسلوب نگارش اس ناول کی اہم خوبی ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ہندوستان کی تہذیب وتمدن ، سماجی ، سیاسی ،معاشی حالات اور ذرائع آمدو رفت کے متعلق جہاں جس علاقے کا ذکر کیا ہے وہاں زبان بھی اسی علاقے کی استعمال کی ہے۔ ان میں کشن گڑھ (راجستھان )، کشمیر ، دہلی اور اترپردیش میں اس وقت بولی جانے والی زبانیں اہمیت کی حامل ہیں ۔ ناول میںموجودہ تمام کردار اپنے اپنے علاقے اور اپنے اپنے طبقوں کی زبانیں بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بیگمات، نوابین ، شعرا، اُدباء، عُشاق، خدام، نوکر چاکر کی زبان اور انگریز افسروں کی زبان کی پیش کش۔ ان کے معیار کے حساب سے استعمال کی گئی ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے داستانوی طرز تحریر ،شعرا اور ان کے کلام سے متعلق بحث ، طنزیہ اور ظریفانہ طرز اظہار، خود کلامی، خطوط نگاری، وضاحت نویسی، مبالغہ آرائی، قیاس آرائی، عربی، فارسی اور انگریزی الفاظ کا استعمال، محاورات، ضرب المثل ، تشبیہات ، استعارات کا بہترین استعمال کیا ہے۔ اس ناول سے متعلق ڈاکٹر رشید اشرف اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں
’’شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول میں نہ صرف اس عہد کی زبان کا خاص خیال رکھا ہے بلکہ ایک ماہر سماجیات کی طرح معاشرے کے ہر اتار چڑھائو پر نظر بھی رکھی اورساتھ ہی ساتھ اس کے اسباب وعلل کو جاننے کی کوشش بھی کی ہے۔ان کی یہ معروضیت ناول کو اس قدر حقیقت سے قریب تر کردیتی ہے کہ اس میں بیان کیے گئے تمام واقعات کے حقیقی ہونے کاگمان گزرتا ہے گو کہ ان میں سے بیشتر فاروقی کی قوت متخیلہ کی ایجاد ہیں۔‘‘ ۵؎
شمس الرحمن فاروقی کا دوسراناول ’’قبض زماں‘‘اردو میں قدیم روایتی موضوعات سے ہٹ کر لکھاگیا ایک ایسا ناول ہے جس میں جدیدیت اور وجودیت کے فلسفے کے ساتھ ہی وقت کا فلسفہ پیش کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے وہ قارئین کو ایک پُراسرار دنیا کی سیر کراتے ہیں، جہاں قاری اپنے عہد کے ساتھ ساتھ ماضی میں گزرے بہت سے حالات سے واقف ہو جاتا ہے۔
جس واقعے پر ’’ قبض زماں‘‘ کی بنیاد ہے اسے مولانا حامد حسن قادری نے اپنے رسالے ’’ کنزالکرامات ‘ ‘ میں درج کیا ہے ، جسے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے لکھا تھا ۔ اقتباس ملاحظہ ہو
’’شیخ اِبن سکینہ نے فرمایا ۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ اپنے بندے کے لیے زمانے کو پھیلادے اور وقت کو دراز کردے ، جب کہ وہ دوسروں کے لیے بدستور کوتاہ رہے ۔ اس طرح ، اللہ تعالی کبھی قبض زماں فرماتا ہے کہ زمانہ دراز کو تاہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘۶؎
’’ قبض زماں ‘‘ صوفیوں کی زبان میں ایک اصطلاح کے طورپر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے زمانے کو سکوڑنا اور پھیلانا۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول میں جس کردار کے ذریعے قصے کو ترتیب دیا ہے وہ دراصل اسی تجربے سے دوچار ہوتا ہے ۔قبض زماں میں دو اہم نقطوں کی وضاحت ملتی ہے جس سے ناول کو ترتیب دینے میں مدد لی گئی ہے۔ پہلا نقطہ’’امیر جان کی قبر میں شگاف کا پایا جانا، جس میں سے نکلنے والی روشنی گل محمد کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔دوسرا اہم نقطہ قبر کے اندر نہ ختم ہونے والی سیڑھیاں ۔ یہی وہ نقطے ہیںجو راوی گل محمد کو زمان و مکان کی حد بندیوں سے نکال کر ایک پُراسرار دنیا کی طرف لے جاتے ہیں۔
مذکورہ بالا بیانات کو مدو نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے سیاہ شگاف اور زمان و مکان کا تصور پیش کرنے کے لیے دومشہور سائنس دان البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) اور اسٹیفن ہاکنگ(Stephen Hawking) کے نظریات سے مدد لی ہے، کیوں کہ ناول قبض زماں کے مطالعے سے محسوس ہوتا ہے کہ فاروقی صاحب نے اس میں ’’شگاف‘‘ کا بیان دراصل کائنات میں پائے جانے والے سیاہ شگافوں کی تحقیق سے متاثر ہوکر کیا ہے۔ جس کا ذکر اسٹیفن ہاکنگ نے اپنی کتاب(A brife History of Time) کے باب ششم میں بلیک ہول (Black Holes) کے عنوان سے کیاہے۔ یہ ایک دلچسپ اصطلاح کے طور پر منظر عام پر آیا، جس نے کائنات کی ایک عجیب چیز کے طو رپر سالوں تک سائنس دانوں کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھااور پھر ایک نظریہ کی شکل میں نمودار ہوا۔اس نظریے کے مطابق سیاہ شگاف جو کچھ اپنے مرکز کی طرف کھینچتے اور نگلتے ہیں وہ اس کے اندر فنا نہیں ہوتے بلکہ کسی ایک سمتی سرنگ سے گزرتے ہوئے کسی دوسری کائنات میں جا نکلتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سیاہ شگاف کو عبور کرنے سے ہم زمان و مکان کے ذریعے کائنات کے کسی دوسرے دور دراز علاقے میں جانکلیں گے۔ وہ بھی ایک ایسا علاقہ جوہم سے ہزاروں یا شاید لاکھوں کروڑوں نوری سال (Light Years) دور واقع ہو۔ امیر جان کی قبر میں پایا جانے والا شگاف جس سے ہو کر گل محمد قبر کے اندر داخل ہوتا ہے۔وہی اسے اپنے زمانے سے قریب ڈھائی سوبرس آگے کی دنیا میں لاکھڑا کر دیتا ہے۔
جس وقت آئن سٹائن نے ’’نظریۂ اضافیت مخصوصہ‘‘ (جس میں وقت کو ابعاد ثلاثہ(طویل ،عرض اور عمق) کے علاوہ ایک اور بعد مانا گیا)میں زمان و مکان (Space time)کو متعارف کرایا۔ اس وقت زمان و مکان میں سفرکرنا ایک ناممکن اور غیر منطقی سی بات تھی ۔اس کے نظریے میں ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک خلابا ز اپنے خلائی طیارے میں روشنی کی رفتار سے ایک سیّارے کے سفر پر نکل جائے جو ہم سے ایک نوری سال دور ہواورپھر واپس زمین پر آجائے، تو دیکھے گا کہ وہ دوسال جو اس نے سفر میں گزارے وہ زمین کے زمانے کے حساب سے نصف صدی بن گئی۔
وقت کے یوں سکڑنے اور پھیلنے کو اسلامی لٹریچر میں ’’طئی زمانی‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب لاکھوں کروڑوں کلو میٹر کی مسافتوں کا چند لمحوں میں سمٹ آناہے۔ ان واقعات میں واقعہ معراج، اصحاب کہف کا واقعہ ، حضرت سلیمان علیہ السلام اور تخت بلقیس کا واقعہ اور روز قیامت کا برپا ہونا اہمیت کے حامل ہیں۔ چوں کہ اوپر ذکر آچکا ہے کہ زمان و مکان کا تصور اضافی حیثیت کا حامل ہے ۔اس لیے زمان و مکان سے آزادی کو متحرک کرنے کے لیے ایسے ایسے طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، جن سے انسانی ذہن اگر پوری طرح آزاد نہ ہو تو ایسی صورت حال ضرور پید اہو جائے کہ وہ آزادی سے قریب تر ہو جائے۔ اس کی ایک صورت ہمارے اوپر خواب کا مسلط ہونا ہے۔سونے کا مطلب دراصل بیداری کے حواس یعنی زمان و مکان کے تسلط سے آزادی ہے۔اس لیے جب ہم سو جاتے ہیںتو بیداری کے حواس وہاں منتقل ہو جاتے ہیں، جہاں زمان و مکان کی کیفیت تو موجود ہوتی ہے لیکن فی الواقع لمحات کے وہ ٹکڑے موجود نہیں ہوتے، جن لمحوں میں ہم قدم بہ قدم زندگی گزارتے ہیں ۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس نظریے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قبض زماں میں دو راوی بیان کنندہ کا استعمال کیا ہے، جس میں پہلے راوی کے ذریعے قصے کو دوسرے راوی تک منتقل کرنے کے لیے اونگھتے ہوئے ذہن کا سہار الیا ہے۔ وہ ناول کے پہلے باب کے آخری پیراگراف میں یوں رقم طراز ہیں: ’’نیندکا ایک جھونکا آیا۔ میری آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں، ہوا بھی ٹھنڈی اور شیریں ہو رہی تھی۔‘‘(صفحہ ۳۵)۔
شمس الرحمن فاروقی نے ’’قبض زماں‘‘ میں دو الگ الگ صدیوں میں پیش آنے والے واقعات کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے نیند کا سہارالیا ہے۔ جس میں پہلا راوی جب سونے کی کوشش کرتا ہے تو دنیا جہان کے کئی حادثات یکے بعد دیگرے اس کی نظروں کے سامنے گردش کرتے ہوئے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ فاروقی صاحب نے اس واقعے کے بیان کے لیے اونگھتے ہوئے ذہن کا سہارا لیا ہے ۔ جس کے لیے ’’زندہ غنودگی‘‘ کے فقرے کا استعمال کیا ہے۔ جس سے مراد نیند کا خمار،نیم خوابی یا نیم خفتگی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے داستانوی انداز بیان سے کام لیتے ہوئے جس طرح ناول کے قصے کا اختتام کیا ہے وہ قاری کے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا ہوگا کہ آخر میں انجام اس طرح ہوسکتا ہے۔ وہ جیسے ہی ناول کا آخری پیراگراف پڑھتا ہے توایک بوکھلاہٹ سی محسوس کرتا ہے ۔ یہ بوکھلاہٹ صرف قاری کو ہی نہیں بلکہ پہلے راوی کوبھی محسوس ہوتی ہے۔ جب گل محمد اس سے روہیل کھنڈ اورمراد آباد یوں کے بیچ ہو رہی جنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ:’’زوال سے پہلے پہلے ہم سب مارلیے گئے۔ کوئی متنفس نہیں بچا۔‘‘تو ایسا لگتا ہے کہ پہلا راوی جو ابھی تک اونگھ رہا تھا اور حالاتِ غنودگی میں گل محمد کی روداد حیات سن رہاتھا۔ اس کی یہ بات سن کر پوری طرح جاگ گیا ہو۔ اسی ہڑبڑاہٹ میں وہ گل محمد سے سوال کرتا ہے کہ ’’تو کیا تم مردہ ہو‘‘ جس کا جواب دیتے ہوئے گل محمد کہتا ہے کہ ’’ یہ تو میں بھی نہیں جانتا جناب شاید آپ یہ معاملہ بہتر طے کرسکتے ہیں۔‘‘
فاروقی صاحب کا کمالِ فن یہ ہے کہ انھوںنے جدید طرز کے اس ناول کا انجام بھی روایتی ناولوں سے بالکل جدا گانہ رکھا ہے۔ جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ واقعی یہ ناول اردو ادب میں ایک اضافہ ہے، جس میں جدیدیت کا فلسفہ اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ دکھائی دیتا ہے اور گل محمد اپنے وجود کی تلاش میں صدیوں بھٹکتا رہتا ہے۔عالمی ادبستان ،کتابی سلسلہ ۴۔۳ میںناول ’’قبض زماں‘‘سے متعلق یہ وضاحت ملتی ہے کہ
’’عہد رواں کی افسانوی تخلیقات کے تناظر میں یہ واحد ناول ہے جس میں بیانیہ کے مختلف موڈز، زمان و مکان کے تلازمات اورمنتقلی وقت کی تکنیک کو فنکارانہ انداز میںہم آمیزکیاگیاہے۔ دوسرے،متن کی سریت، بین المتونیت اور جزئیات کی مقصدیت مرکوز شیرازہ بندی اس ناول کا بنیادی وصف ہے۔بیانیہ کے تینوں تشکیلی عناصر تاریخی و تہذیبی سروکارسے ہم آہنگ ہو کر بعض کردار سازی کے عمل میںمعاون کردار ادا کرتے ہیں۔ تہذیبی باز گوئی اور تاریخ کے گوشوںسے اخذ کی گئی شخصیتوں کی از سر نو تخلیق کی جو راہ فاروقی نے اختیار کی ہے وہ معاصر اردو فکشن میں راہ نوکا حکم رکھتی ہے۔‘‘۷؎
شمس الرحمن فاروقی کے افسانے بھی ان کے ناولوں کی طرح روایتی موضوعات سے ہٹ کر لکھے گئے ہیں جو اردو افسانے میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی شہرت ’’غالب افسانہ‘‘ سے ہوئی۔ بظاہر ایک شاعر کی زندگی پر لکھا گیا یہ افسانہ عام افسانوں سے بالکل مختلف ہے۔ فاروقی صاحب نے اس افسانے کو ترتیب دینے کے لیے غالب کے عادات و اطوار، ان کی شخصیت، شعر سخن کی محفلیں، تذکروں، سوانحی دستاویزوں، خطوط، تنقیدی مضامین اور ۱۸۵۷ء کے آس پاس کے حالات سے مواد اکھٹا کیا ہے اور اس پر اس طرح سے افسانوی رنگ چڑھادیا ہے کہ ایک طرف اس میں افسانوی لطف برقرار رہتا ہے تو دوسری طرف غالب اور اس وقت کی تاریخی حقیقت بھی اپنی پوری سچائی کے ساتھ عیاںرہتی ہے۔ فاروقی صاحب نے مرزا غالب کی ظاہری و باطنی خوبیوں، خامیوں، جسمانی اعضاء، لباس، کردار وگُفتار وغیرہ کی ایسی سچی تصویر کشی کی ہے کہ مرزا غالب کی شخصیت اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ قاری کی نظروں کے سامنے آجاتی ہے۔
تہذیبی نقطۂ نظر سے شمس الرحمن فاروقی کا دوسرا افسانہ ’’سوار‘‘ اہمیت کا حامل ہے ۔اس کی شہرت اور مقبولیت کی بنا پر ہی شمس الرحمن فاروقی کو اہل علم نے افسانے کے میدان کا شہسوار کہا ہے۔ ’’سوار‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جو دوحصوں میں تقسیم کرکے پڑھا جاسکتا ہے ۔پہلے حصے میں پُراسرار واقعات، روحانیت اور عقیدت کا مرقع نظر آتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں مولوی خیر الدین اور عصمت کے بیچ عشق اور انا کی جنگ کے ذریعے حقیقی زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس افسانے کو ترتیب دینے کے لیے اپنے عمیق مطالعے ،دلی کی ادبی تاریخ اور تہذیب سے واقفیت ،اساطیر اور داستانوں سے گہری اُنسیت ، بیان کا جادو اور تخلیقی جوہر سے کام لیا ہے۔ اس لیے اس افسانے میں ایک طرف تو داستانوں کی سی دل فریبی اور نظر فریبی موجود ہے جہاں ایک نقاب پوش سوار کی سواری گزرنے کے بعد حالات یکایک تبدیل ہو جاتے ہیں ۔جس کی زیارت سے لوگوں کی مرادیں پوری ہو جایاکرتی ہیں۔ دوسری طرف مولوی خیر الدین اور عصمت جہاں کے باہمی تعلقات کے ذریعے عشق اور انانیت کی جنگ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جہاں پر انانیت عشق پر غالب نظر آتا ہے۔یہاں مولوی خیر الدین کی ذہنی الجھن اور کشمکش ، عصمت جہاں کے ساتھ مستقبل میں زندگی گزارنے کا خواب دیکھنا اور پھر اس خواب کا اچانک ٹوٹ جانا ایک اہم نقطے کی وضاحت ہے ۔ اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ عصمت جہاں کا مولوی خیر الدین کی زندگی میں آنا افسانے کا نقطہ عروج ہے اور عصمت جہاں سے مولوی خیر الدین کا کنارہ کشی اختیار کرلینا افسانے کا اختتام ۔ اس افسانے کاحاصل یہی ہے کہ عصمت جہاں نے خیر الدین کو لذت عشق اور لذت زیست کا ایسا مزہ چکھایا کہ وہ عشق کی انتہا پر حسرتوں بھری اور ادھوری زندگی کی اپنی راہوں میں تنہا سفر کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
’’ان صحبتوں میں آخر‘‘ میر ااور عہد میر پر لکھا گیا شمس الرحمن فاروقی کا ایک ایسا افسانہ ہے جس میں دلی کی ادبی تاریخ و تہذیب کی کئی اہم خوبیوں سے پرد ہ اُٹھایا گیا ہے۔ افسانے کی فضا پر پوری طرح سے المناکی کے عنصر غالب ہیں۔ اس میں شامل ہر کردار اپنے اندر ایک افسوس ناک اور دل دہلانے والا واقعہ لے کر سامنے آتا ہے ۔ فاروقی صاحب نے اس افسانے کے ذریعے میر کی زندگی کے کچھ اہم اور دلچسپ پہلوؤں سے قارئین کو متعارف کرانے کی کوشش کی ہے۔ جنھیں پڑھ کر یوں لگتا ہے کہ میر گدائی میں بھی شاہانہ مزاج لیے ہوئے ہیں ۔ افسانے میں میر کاکردار ایک ایسے جوشیلے ، الّھڑ اور ناتجربہ کار نوجوان کا ہے ، جس کی اپنی کوئی منزل نہیں، مستقبل سے کوئی یارانہیں،اس نے تو اپنی تمام امیدیں اور تمام خواہشیں صرف ایک بلقانی چھوکری نور السعادۃ سے وابستہ کرلی تھیں۔ حقیقی طور پر دیکھا جائے تو میر ایک کلاسیکی شاعر کی حیثیت سے اردو ادب میں مشہور ہوئے۔ جن کی تحریریں ان کی اَنا پسندشخصیت کی شاہد ہیں جو دوسروں کی باتوں میں نہ آنے والے اور سودائی انداز کے لیے جانے جاتے تھے۔ لیکن جب وہ فاروقی صاحب کے افسانے میں ایک عاشق کے کردار کے طور پر منظر عام پرآتے ہیں تو ان کی ساری اَنا دھری کی دھری رہ جاتی ہے اور وہ اپنی معشوقہ نور السعادۃ کی جوتیوں کو اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے اس سے محبت کی بھیک مانگتے اورگڑ گڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
میر کے برعکس نور السعادۃ زندگی کی حقیقت سے بخوبی واقف نظر آتی ہے۔وہ میر سے عشق تو کرتی ہے لیکن کبھی اپنی حد سے باہر نہیں آتی۔اس کی محبت پر اخلاقی پہلو غالب نظر آتے ہیں ۔ وہ ایسے شخص کو اپنا ہم سفر بنانا چاہتی ہے جو جوش اور جذبے سے کام لینے کے بجائے زندگی کے ہرموڑ پر اس کا ساتھ دے۔وہ تنہائی کی موت سے بہت گھبراتی تھی لیکن حالات نے اس کا ساتھ نہ دیا اور میر کے لاکھ کہنے کے باوجود’’ کہ مجھے ایک موقع تو دو ‘‘ وہ بالکل نہیں سنتی ہے اور اپنی ماں کے ساتھ واپس اصفہان چلی جاتی ہے۔
افسانے میں ایک اہم کرداراورموجود ہے جسے کسی بھی صورت نظر اندازنہیں کیا جاسکتا اوروہ ہے نور السعادۃ کی ماںلبیبہ خانم ۔ یہ کردار میر اورنور السعادۃ کے کردار سے بھی زیادہ متحرک ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس کردار کو افسانے میں مرکزی حیثیت سے پیش کیا ہے جو بچپن سے لے کر بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے تک مختلف مسائل سے دوچار ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔لبیبہ خانم کے کردارکے ذریعے فاروقی صاحب نے مرد معاشرے ،زمانے اور نسل پر گہرا طنز کیا ہے۔جس کی وجہ سے لبیبہ خانم ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتی ہے جواسے کسی صورت قبول نہیں تھی۔ رحمن عباس صاحب افساـنہ’’ ــــان صحبتوں میں آخر‘‘سے متاثر ہوکر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں
’’ تاریخ کا شعور ،عمیق مطالعہ اور تجزیہ کہانی کی ضرورت بن گیا ہے جس کے اثرات عملی اور سیاسی وسماجی زندگی سے مربوط ہیں۔ فاروقی نے زندگی، سیاست اور ثقافت کے درمیان رشتے کو پیش کرنے کا بہترین نمونہ ہمارے سامنے کھڑا کیا ہے ۔‘‘ ۸؎
’’آفتاب زمیں‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا ایک ایساافسانہ ہے جس میں انھوںنے غلام ہمدانی مصحفی، حیات النساء عرف بھورا بیگم اور لالہ درباری مل وفاکے ذریعے اس وقت کی لکھنوی تہذیب و معاشرت اور شعرو سخن کی دلچسپ انداز میں پیش کش کی ہے۔ افسانے میں بے شمار غزل کے اشعار پیش کیے گئے ہیں جن میں دبستان لکھنٔو کی جھلکیاں اپنی تمام تر خوبیوں کے ساتھ نظر آتی ہیں جو اس دبستان کی خصوصیت رہی ہے ۔اس افسانے کی ایک اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں لکھنٔو کی عُریانیت نہیں بلکہ اس کی شفاف فضا کو جمالیاتی جامہ پہنا کر پیش کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی لکھنٔو کی خوش نما فضا میں المناکی کے کچھ پہلو بھی بیان کیے گئے ہیں، جس میں مصحفی اوربھورا بیگم کی زندگی سراپا مثال ہے ۔ ان کی معاشی حالت کا یہ عالم تھا کہ انھیں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اشعار بیچنے تک کی نوبت آگئی ۔حیات النساء عرف بھور ابیگم ایک ایسی عورت کے طورپر منظر عام پر آتی ہے جو اس وقت کے لکھنٔو کی عیش و عشرت بھری زندگی میں مختلف حالات سے دوچار ہونے کے باوجود بھی بازاری پن کی تمام بد اعمالیوں سے دور رہتی ہے۔اس کے اندر وہ ساری خصوصیات دیکھنے کوملتی ہیں جو ایک مشرقی تہذیب کی پروردہ خاتون میں ہونی چاہئے۔ فاروقی صاحب نے اس کردار کی پیش کش کے ذریعے پبلک پسند لیڈی پر شوہر پرست بیوی کو فوقیت دی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اس افسانے میں نہ صرف عہد مصحفی کے لکھنٔو کی تصویر کشی کی ہے، بلکہ اس کے علاوہ ان کے عہد سے قریب تین سو برس قبل کے ایک تاریخی واقعے کی طرف بھی ہماری توجہ مرکوز کرائی ہے۔ جس میں نصیر الدین ہمایوں اور شیر شاہ سوری کے بیچ ہوئی جنگ اور عہد مغلیہ سے پہلے قبائلی نظام کے اذیت ناک رسوم، مذہبی جنون، نسلی و خاندانی جنون، حسب و نسب کنبہ پروری اور انتقامی کاروائی کو بڑے ہی دردناک انداز میں بیان کیا ہے۔ جس میں ایک گاؤں اکبر پورہ پوری طرح سے جلا کر برباد کر دیا جاتا ہے ۔جہاں ایک طرف پورا گاؤں جھلس رہا تھا لوگ درد سے بلکھ رہے تھے،تو دوسری طرف اس گاؤں کو جلتا ہوا دیکھنے کے لیے لوگ تماشائی بن کردور دور سے آ رہے تھے۔ اس افسانے میں شمس الرحمن فاروقی نے مظلوم انسانوں پر ظالم حکمرانوں کے ذریعے کیے جارہے مظالم کا بڑے ہی افسوسناک انداز میں بیان کیاہے۔ جہاں انسان تو زندہ نظر آرہے تھے لیکن انسانیت پوری طرح دم توڑتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔
’’لاہور کا ایک واقعہ‘‘ میں شمس الرحمن فاروقی نے عہد اقبال کی تہذیب اور قوم کی خستہ حالی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیسویںصدی خاص کر ۱۹۳۷ء کے آس پاس کے لاہور شہر کی عکاسی کی ہے۔اس افسانے کی تکمیل میں زمان و مکان اورتصّورِ وقت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسی کو ہی بنیاد بنا کر افسانے کا تانابانا بُنا گیا ہے۔ افسانے میں اچھائی اوربرائی کے بیچ کشمکش کو دکھایا گیا ہے۔ جس میں اقبال اور ا ن کی حویلی مثبت خصوصیات کی حامل ہیں جب کہ پھاٹک کے دوسری طرف بدقماش چہروں پر شیطانی چمک لیے ہوئے پیشہ ور لونڈے منفی خوصیات کے حامل ہیں۔ افسانے میںخواب اور حقیقت کی حسین مرقع کشی، سائنسی تجربے اور منطق وفلسفے کی اصطلاحات کا استعمال کیا گیاہے، جس سے مصنف کے وسیع اور عمیق مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔ اس افسانے میں عِلّت اور سبب یعنی (cause and reason) کا فرق واضح کرتے ہوئے خواب اور حقیقت کے بیچ پیدا ہونے والی کشمکش کے ذریعے بہت سے سوالات بھی قائم کیے ہیں، جسے ہم ایک نئے تجربے کا نقطۂ عروج کہہ سکتے ہیں۔
فاروقی صاحب کے دوسرے افسانوں کے برعکس ’’لاہور کا ایک واقعہ‘‘ میں ادبی تاریخ، تہذیب اور شعر وسخن کی وہ فضا دکھائی نہیںدیتی ،جو انھوں نے میر، غالب اور مصحفی وغیر ہ کے ذکر کے ساتھ ان کے عہد کی تصویر کشی کی ہے۔ مثلاً ان کے رہن سہن ، عادات واطوار، زیورات وملبوسات ، جسمانی اعضا ء کا بیان، شاعرانہ انداز ، اردو اور فارسی کے اشعار کا کثرت سے استعمال وغیرہ کے بیان سے گریز کیا ہے۔مصنف نے افسانے کو جس احتیاط اور فن کاری کے ساتھ عروج اور ارتقا ء کے منازل سے گزارا ہے ،اسی طرح اس کے انجام کی پیش کش میں بھی بڑی ہنر مندی سے کام لیا ہے ۔ راوی افسانے میں بیان کیے گئے واقعے کو اپنی خود نوشت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جس کو اس کا دوست ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور اسے خواب یا دل کے گھڑے ہوئے واقعات بتاتا ہے اور بے شمار سوالات راوی سے کر ڈالتا ہے۔راوی اپنے دوست کے ان سوالوں کے جواب دینے کی پوری کوشش کرتا ہے ،لیکن وہ اسے مطمئن کرنے میں نا کام رہ جاتا ہے۔
افسانہ’’ فانی باقی‘‘ قدیم ہندوستانی تہذیب اور ہندو دیو مالائی عناصر سے پُر ایک اساطیری افسانہ ہے جس میں وامن وششٹھ کے کردار کے ذریعے جدید انسان کی بہت سی ذہنی الجھنوں اور داخلی کشا کش کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وامن وششٹھ میں گوتم بدھ کی شخصیت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اس کا اصل مقصد اپنی زندگی کی بہت سی الجھنوں کو سلجھانے کے لیے اور کائنات کے پوشیدہ راز سے ہم آگاہی ہے۔ وہ اپنے پیدائشی وطن کو گوتم بدھ کی طرح چھوڑ دیتاہے۔ عمر کے اعتبار سے بھی وامن وششٹھ اور گوتم بدھ کا گھر سے نکلنا ایک روحانی اضطراب اور دل ودماغ کی بے چینی کا نتیجہ ہے ۔ افسانے میں وامن و ششٹھ کی تلاش در اصل تلاش ذات ہے ،کیوں کہ وہ اپنے آ پ کی تلاش میں ہی دنیاوی زندگی سے بیزار ہوکر پہاڑوں کی طرف چل پڑتا ہے۔ اس افسانے میں حیاتیاتی نظریے(Biological theory)کا بھی ذکر کیا گیاہے ۔جس کی تفصیل راوی کا ایک ماہرِ حیاتیات استاد کرتا ہے، جو انسانی جسم کے مختلف اعضاء اور اس کی ہڈیوں اوررگوں کے ذریعے کائنات کے ان چھپے ہوئے نکات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اس افسانے میںا یک طلسماتی دنیا کا نقشہ کھینچا ہے ۔ افسانے کی فضا پراوّل تاآخرپر اسراریت غالب ہے۔ راوی وامن وششٹھ اسی پر اسراریت کے ذریعے آفاق واَنفاس کے بہت سے راز سے پرد ہ اٹھاتاہے ۔ وہ ہندو مذہب کا پیرو کار ہے اور اسی مذہب کے دیوی، دیوتاؤں ، ایسر لوک ، دیوک اور دیگر مذہبی علامات کو کہانی میں بیان کرتا ہے۔ وہ افسانے کے اندر ایسے ایسے واقعات اور حالات کا ذکر کرتا ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزا د ہیں۔
مجموی طور پر افسانہ ’’ فانی باقی ‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا داستانوی انداز میں لکھا گیا ایک ایساافسانہ ہے، جس کے ذریعے انھوں نے ہندو مذہب کے چند عقائد کو اپنی کہانی کا موضوع بنایا ہے، جو ہمیں ایک پر اسرار دنیا کی طرف لے جاتے ہیں ،جہاں ہمیںاپنی اس زمینی دنیا کے علاوہ بھی دنیائیںدکھائی دیتی ہیں۔ اس کا اصل محور کہکشاں ( Galaxy)ہے،جس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہماری یہ زمین ہے، جسے انسانوںنے اپنی جفا طلبی اور اپنی محنت ومشقت کے ذریعے اس قابل بنایا کہ باقی دوسرے سیاروں کے مقابلے کہکشاں کے اس جھرمٹ میں اسے سب سے زیادہ بلندی حاصل ہوئی۔
شمس الرحمن فاروقی نے میر ، غالب اور مصحفی جیسی اہم شخصیات کی حالات زندگی ، ان کے عہد کے ادبی ، سیاسی ، سماجی و ثقافتی تاریخ، ان کے شاعرانہ مزاج ،شعرو سخن کی محفلیں اور اس وقت کی زبان وبیان کی عکاسی کرتے ہوئے افسانوں کا ایسا تانا بانا بُناہے کہ ان پر نہ صر ف حقیقت کا دھوکا ہوتا ہے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ادبی شخصیات اور ان کے عہد کو افسانہ نگارنے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو ۔جس طرح سے انھوں نے اپنے افسانوں میں تاریخ وتہذیب کو یکجا کیا ہے اور اسے داستانی دلکشی بخشی ہے اس سے صرف تہذیبی نقوش کو ہی زبان نہیںملتی بلکہ شہر بھی بولتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ انھوںنے اپنے افسانوں میں نہ صرف کردار نگاری ، سر اپا نگاری، مکالمہ نگاری ، جزئیات نگاری ، منظر نگاری ، مرقع کشی اور زبان وبیان کی بہترین پیش کش میں اپنی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے بلکہ نئی نئی تکنیک اور نئے نئے نفسیاتی ، حِسّیاتی ، رومانی اور فلسفیانہ تجربے سے بھی افسانے کی فضا کو وسعت بخشی ہے ۔ رحمن عباس صاحب، شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں
’’ فاروقی کے ان افسانوں میں تکنیک کی جلوہ گری جگہ جگہ نظر آتی ہے ۔ کرداروں کا راوی سے واحد متکلم میں بدل جانا ۔ واحد متکلم سے متکلم غیر حاضر میں اشعار کا استعمال، خواب اور خواب سے حقیقت میں چلے آنا۔ حقیقت کو خواب تصور کرنا وغیرہ ۔ فنّی طور پر ان کہانیوں کا حسن بے پناہ ہے اور فکشن کی تھوڑی بہت سُدھ بُدھ رکھنے والا ان اوصاف کو جان لے گا اور ان پر جان دے گا۔ ‘‘ ۹؎
مجموعی طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی نے بہت کم لکھنے کے باوجود بھی اردو کے بڑے فکشن نگاروں کی فہرست میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ انھوں نے اپنے ناولوں اور افسانوں کے ذریعے اردو کی قدیم ادبی تاریخ اور ہماری جو تہذیبی و تمدنی روایات رہی ہیں اس کو پھر سے زندہ کردیا ہے ۔انھوں نے تخلیقی شعور کے تجزیے اور ثقافتی تاریخ کو فکشن کے روپ میں اس جامعیت سے پیش کردیا ہے جو ان سے پہلے شایدہی کسی تخلیق کار کے یہاں دیکھنے کو ملے۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں زبان کاایک نیا تجربہ پیش کیا ہے اور انگریزی الفاظ کے بیجا استعمال سے گریز کرتے ہوئے فارسی آمیز اردو یا یوں کہیے کہ اردو کے عہد زرّیں کی زبان کو اپنے فکشن کے بیانیہ میںاستعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ اردو اورفارسی کے اشعار کا کثرتِ استعمال سے اس عہد کی ادبی فضا آسانی سے قاری کی سمجھ میں آجاتی ہے۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ داستانوی طرز بیان، واقعہ نگاری،جزئیات نگاری، رنگین اسلوب اوربیانیہ کی بدولت شمس الرحمن فاروقی کی اہمیت اردو فکشن میں باقی رہے گی ۔
حوالاجات
1۔طلسمِ ہوش رُبا:تنقید و تلخیص ،ایجوکیشنل بُک ہاؤس علی گڑھ،دوسرا ایڈیشن ۲۰۲۱ء ، ص ۹
2۔ کئی چاند تھے سرِآسماں، دوسری ہندوستانی اشاعت،پنگوئن بکس،انڈیا،نئی دہلی،مارچ۲۰۱۳،ص۸۵۰
3۔خدا لگتی،مرتبین،لئیق صلاح اور سید ارشاد حیدری،الانصار پبلیکشنز،حیدرآباد،۲۰۱۲،ص ۲۹۸
4۔ کئی چاند تھے سرِآسماں، دوسری ہندوستانی اشاعت،پنگوئن بکس،انڈیا،نئی دہلی،مارچ۲۰۱۳،ص۶۵
5۔کئی چاند تھے سرِ آسماں،ایک تجزیاتی مطالعہ،ڈاکٹر رشید اشرف،برائون بک پبلی کیشنز،نئی دہلی،ایڈیشن ۲۰۱۷، ص۱۶۸
6۔ کنزالکرامات ، یعنی مولانا جامی کی نفخات الانس سے چند کرامات کا اردو ترجمہ از حامد حسن قادری
7۔قبض زماں:بیانیہ کے صنفی و معنوی ابعاد،عالمی ادبستان ،کتابی سلسلہ۴۔۳،جولائی تادسمبر۲۰۲۱ء، ص۳۲ ۔ ۸۲۲
8۔ ماہنامہ اردو چینل ، شمس الرحمن فاروقی نمبر ، جلد ۵ شمارہ ۴، ستمبر ۲۰۰۳ تا دسمبر ۲۰۰۳، ص،۱۵۹
9۔ ایضاً، ص ۱۶۲