شمس الرحمن فاروقی اور مشرقی ماخذشعر،غیرشعر اور نثر کے حوالے سے

ڈاکٹر عرفان احمد ندوی
اردو اکادمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ

اردوتنقید کے حوالے سے دنیائے علم و ادب میں متعددنابغۂ روز گار شخصیتیں گزری ہیں۔ جب ہم ان کی فہرست سازی کرتے ہیں اور ان کے کارہائے نمایاں پر ایک تنقیدی نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا تبحر علمی اور ان کی مختلف النوع و مختلف الجہات خدمات پوری دنیا کے کئے مشعل راہ ہیں۔الطاف حسین حالی، شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، ڈپٹی نذیر احمد، کلیم الدین احمد،محمد حسین آزاد، مولاناامتیاز علی عرشی،پروفیسر نذیر احمد، وغیرہ اسمائے گرامی بہ طور نمونہ پیش کئے جا سکتے ہیں۔ اسی روایت کی سب سے مضبوط کڑی شمس الرحمن فاروقی ہیں۔ ان کی لافانی اطلاقی تنقید، نظری تنقید، منطقی و استدلالی طریقۂ نقد ، محققانہ ذوق و شوق کئی اور گوشے وا کرتے ہیں ۔ وہ اس لئے بھی ہے کہ ان کا دائرۂ علم و ادب صرف اردو ، تک محدود نہیں ہے بلکہ مشرق و مغرب کے مفکرین ودانشوران صاحب علم و فضل کا بھی احاطہ کئے ہوئے ہیں۔
جب ہم اردو ناقدین کی مختلف تحریروں کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ادباء و ناقدین مغربی تنقید سے خواہ مخواہ مرعوب دکھائی دیتے ہیں اور مشرقی کتابوں سے استفادہ کو قابل اعتنا ہی نہیں سمجھتے بلکہ اسے شجرہ ممنوعہ تصور کرتے ہیںکچھ کی تو مجبوری ہے وہ مشرقی ذخائر سے استفادہ کی صلاحیت نہیں رکھتے اور کچھ تو رکھتے ہوئے بھی اس کا استعمال نہیں کرتے بلکہ پرانی روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے صرف مغربی حوالات پر اکتفاکرتے ہیں۔حیرت و استعجاب میں اس وقت مزید اضافہ ہو جاتا ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایسا کرنے والے صرف کم شہرت کے حاملین ہی نہیںہیں بلکہ بڑے بڑوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہے جب کہ سچائی یہ ہے کہ مشرقی مآخذ میںبعض ناحیے سے مغربی مصادر سے بہتر مواد دستیاب ہے اور وہ بنیادی حوالہ بھی ہے ۔
فاروقی کے امتیازات وخصائص میں سر دست یہ بھی شامل ہے کہ وہ مغرب کے بجائے مشرق کو روشن دان سمجھتے ہیں اور جگہ جگہ اس کا حوالہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق بھی اپنا تنقیدی روزن رکھتا ہے لہذا اگر چیزیں قابل قبول ہیں تو بلا شبہہ اس کے افہام و تفہیم کو مزید بہتر بنایا جائے اور ان کے استفادہ کی صورت آسان کی جائے۔ جب ہم فاروقی کی نگارشات کا بہ غائر مطالعہ کر تے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے مشرقی حوالوں کو اپنی کتابوں میں اتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی کہ مغربی حوالوں کو اور جا بجا اپنی باتوں کی توثیق کے لئے انہیں نظیر کے طور پر پیش کیا ہے اس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ فاروقی مشرقی مآخذوں سے استفادہ کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے ۔جس سے ان کا تحقیقی ذوق و شوق،تنقیدی وژن وبصیرت،عالمانہ استدلال و استشہاد، ادبی و فکری فتوحات ،قومی و بین الاقوامی اہمیت و فضیلت اور ان کی قد آور شخصیت میں مزید چار چاند لگ گئے۔ میرے پیش نظر تنقید کے حوالے سے ان کی ایک بہت معروف کتاب’’ شعر ،غیر شعر اور نثر ‘‘ہے۔ جس میں فاروقی؎کے عرب و عجم کے علمی اکتسابات کا ایک اجمالی جائزہ پیش کیا جائے گاکتاب کے مندرجات کچھ اس طرح ہیں ۔
غبار کارواں۔
شعر غیر شعر اور نثر۔
ادب کے غیر ادبی معیار۔
علامت کی پہچان۔
صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ۔
افسانے کی حمایت میں۔
۔ن ۔م راشد صورت و معنی کی کشاکش۔
۔برف اور سنگ مرمر۔
غبار سرمہ آواز است امروز وغیرہ۔
ان میں مغربی حوالوں کے ساتھ مشرقی حوالوں کو انہوں نے بہ طور بنیادی مآخذ استعمال کیا ہے۔مثلاً اپنے مضمون’’ شعر، غیر شعر اور نثر‘‘ میں شعر کسے کہتے ہیں اور اس کی کیا تعریف ہے اس کی بابت گفتگو کرتے ہوئے ابن رشیق کا یہ قول نقل کرتے ہیں
(۱)’’ ابن رشیق کا کہنا ہے کہ بہترین شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ یہ سمجھیں کہ ہم بھی ایسا کہہ سکتے ہیں لیکن در اصل کوئی ایسا کہہ نہ پائے‘‘ (ص ۳۹)
اس بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے خلیل بن احمد کا قول بھی نقل کرتے ہیں۔
(۲)’’ اچھا شعر وہ ہے جس کا قافیہ شعر پورا ہونے کے پہلے سامع کے ذہن میں آجائے‘‘(ص ۳۹)
شعر کی عملی تنقید کے سلسلے میں ابن خلدون کا یہ قول نقل کرتے ہیں
(۳)’’ نثر ہو یا نظم ،الفاظ ہی سب کچھ ہوتے ہیں ،خیال الفاظ کا پابند ہوتا ہے(ص ۳۹)
شمس الرحمن فاروقی اپنے مضمون ’’ادب کے غیر نثری معیار ‘‘ میں عورت او ر شراب کی بابت عباسی دور کے معروف درباری شاعر ابو الطیب احمد بن محمد الحسین کندی متنبی اور جاہلی دورکے اصحاب معلقات شمار ہونے والے ایک عظیم و دیو قامت شاعر امرء القیس کے بارے میں کہتے ہیں ۔
(۴)’’متنبی سے بڑا بزدل ، شرابی اور اغلام باز شاید سار ے بغداد میں کوئی نہ رہا ہو۔امراء القیس اور ایام جاہلیت کے دوسرے شعراء کا تو پوچھنا ہی کیا‘‘(ص ۱۳۳)
شمس الرحمن فاروقی اپنے مضمون ’’مطالعۂ اسلوب کا ایک سبق (سودا، میر غالب) میں گفتگو کرتے ہوئے قدامہ ابن جعفر کا یہ قول نقل کرتے ہیں جو اشعار میں ذوق ووجدان کے حوالے سے ہے۔
(۵)’’یہ بات تو قدامہ ابن جعفر جیسا کھوسٹ بھی اپنی کتاب نقد الشعر میں لکھ گیا ہے کہ موضوع کی خوبی کا شعر کی خوبی سے کوئی تعلق نہیں‘‘(ص۲۰۶)
شمس الرحمن فاروقی اپنے مضمون ’’مطالعۂ اسلوب کا ایک سبق (سودا، میر غالب)‘‘ قلب کی تعریف کی بابت محی الدین ابن العربی کا یہ قول نقل کرتے ہیں ۔
(۶)’’ جب اس کو کامل استعداد حاصل ہو جاتی ہے اور اس کے نور اور چمک کو قوت ہوتی ہے اور جواس میں بالقوۃ تھا وہ بالفعل ظاہر ہوتا ہے ۔۔۔۔ تو اس کا قلب نام رکھتے ہیں‘‘(ص۲۲۹
اسی عنوان میں فاروقی مزید روح کے تعلق سے محی الدین ابن العربی کا ایک اور قول نقل کرتے ہیں
(۷)’’ خدا وہ آئینہ ہے جس میں تم خود کو دیکھتے ہو اور تم اس کے آئینہ ہوجس میں وہ اپنے اسماء کا مشاہدہ کرتا ہے (ص۲۳۱)
یہ مشرقی تنقید میں نمایاں حیثیت رکھنے والے ناقدین کے موقف ہیں ۔تنقید پرگفتگو کرتے ہوئے ان ناقدین اور ان کی آراء سے غیر التفاتی نہیں کی جا سکتی ہے۔ عربی ادب میں ان ناقدین کی حیثیت نقد کے بنیاد گزاروں میں ہے جنہوںنے عربی زبان و ادب کو تنقیدی نظریہ دیا جن سے عرب و عجم سب نے فائدہ اٹھایا ۔ عربی ادب کے زریں دور کو اگر دیکھا جائے تو وہ انگریزی ادب سے پہلے کا ہے ایسے میں بہت سے ایسے نظریات بھی سامنے آ جاتے ہیں جو انہیں عربی ناقدین کے موقف میں ترمیم و تنسیخ کے ساتھ وضع کئے گئے ہیں۔ اردو زبان عربی و فارسی کی ہمیشہ رہین منت رہی ہے اس کی لفظیات کی بہتات اور رسم خط اس کو عربی سے قریب تر کرتا ہے ایسے میں بہتر یہ ہوتا کہ خطی قربت کے ساتھ ہی نظری قربت بھی بنائے رکھی جاتی لیکن نو آبادیاتی ذہنیت اور نفسیات نے اردو کے ناقدین کو اس مشرقی ذخیرۂ ادب و نقد سے موڑ کر مغربی افکار و نظریات کی طرف موڑ دیا جن کو اکثر و بیشترنقل در نقل کیا جاتا ہے اصل مآخذ کی زیارت بھی نہیں کی جاتی ہے بلکہ اسے تو شجرۂ ممنوعہ تصور کیا جاتا ہے ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ عربی ؍مشرقی ناقدین کی حیات و خدمات سے واقفیت حاصل کی جائے۔
حواشی
(۱)ابن رشیق
ابن رشیق کا پورا نام ابو علی حسین بن رشیق ہے جو قیروانی کے نام سے مشہور ہیں۔ا ن کی مشہور کتابیں کچھ اس طرح ہیں(۱)کتاب العمدۃ فی معرفۃ صناعۃ الشعر و نقدہ و عیوبہ(۲)کتاب الأنموجذ و الرسائل الغائقۃ و النظم الجدید(۳) الشذوز فی اللغۃ (۴)قراضہ الذہب فی نقد اشعار العرب ۔ اپنی اہم کتاب ’’کتاب العمدۃ فی معرفۃ صناعۃ الشعر و نقدہ و عیوبہ‘‘ جیسا کہ کتاب کے نام سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب شعر کی پہچان و پرکھ سے متعلق ہے جس میں انہوں نے عربی شاعری کی شعریات پیش کی ہے ۔ عربی نقد میں یہ کتاب بنیادی حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے جس میں ادبی تنقید میں جو اپنے پیش رونقادوں کے آراء و افکارکا خلاصہ پیش کی ہے۔ اس کتاب میں وہ شاعر کی بابت کہتا ہے کہ اسے شاعر اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ دوسروں سے ان چیزوں کے شعور میں ممتاز ہوتا ہے ۔مزید شعر کی تنقیدی تاریخ ،اس کی افضلیت بیان کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ اسلام شاعری کی مخالفت نہیں کرتا ۔علاوہ ازیںشعر کے فوائد و نقصانات ، اغراض و مقاصدکو بھی بیان کیا ہے۔
وہ مسیلا مراکش اب الجیریا کے ملک ۳۹۰۔۴۵۶ھ ۔ میں پیدا ہوئے اور یہیں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی ۔ان کے والد محمدیہ میں بہ حیثیت سنار کام کرتے تھے لہذا انہوں نے یہ کام اپنے بچے کو بھی سکھایا لیکن ان کا بیٹا علم و ادب کی طرف مائل تھا اس کا جی ان باتوں میںقطعاً نہیں لگتا تھا وہ اپنا وقت پڑھنے اور مطالعے میں گزارتا۔ اس سے علمی شغف کا اندازہ صرف اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ بلوغت سے قبل ہی اس نے شعر کہنا شروع کر دیا تھا اس نے قیروان کے گرونر معز بن بادیس کی مدح کی اور وہ ان کے اشعار سے اتنا متاثر ہوا کہ ابن رشیق کا شمار ان کے مقربین میںہونے لگا۔ ان کی نگارشات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑا ناقد و، ادیب، مصنف و شاعر ہے۔بہر حال اگرعربی تنقیدکے حوالے سے بات کی جائے تو ان کی بڑی اہمیت ہے نیز ان کی نگارشات کو بڑی وقعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ عربی کے واحد ناقد ہیں جن کا اثراردو تنقید پر سب سے زیادیہ مرتب ہواہے اور ان کے اصولوں کو اردو تنقید میں کافی پسند کیا گیا ہے ۔ اس عظیم شخص نے قصیدہ، مرثیہ، نیز دیگر صنف شاعری کا بڑی تفصیلی تجزیاتی مطالعہ کیا ہے اور عالمانہ و محققانہ بحث کی ہے۔ علم و ادب کا یہ در شہسوار۔۹۹۹۔ ۱۰۷۰ میں آسودۂ خواب ابدی ہوا ۔
(۲)ابن خلدون
عبد الرحمن ابن خلدون یکم رمضان ۷۳۲ھ؍مئی ۱۳۳۲ء کو تونس میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد بزرگوار محمد ابن خلدون سے حاصل کی اس کے بعد الآبلی اور السطی جیسے عالموں سے استفادہ کیا ۔ ان کی معروف کتابیں (۱)تاریخ ابن خلدون یاکتاب العبر و دیوان المبتدا و الخبر فی معرفۃأیام العرب و العجم و البریر و من عاصرہم من ذوی السلطان الأکبر۔(۲)شفاء السائل لتہذیب المسائل(۳)مقدمۃ ابن خلدون (۴)لباب المحصل (۵) التعریف بابن خلدون و رحلاتہ شرقاً و غرباً ہیں۔
ان کی اہم ترین کتابوں میں تاریخ ابن خلدون ہے جس نے دنیائے علم ادب کو اپنی طرف مائل کیا۔ مؤرخین کی جانب سے اب تک ان کی متعددکتابیں تاریخ اسلام پر منظر عام پر آ چکی ہیں جنہیں دانشوان نے بے حد پسند کیا ہے لیکن اس طرح کی چند کتابیںہی ہیں جن میں ایسے اصول و ضوابط کی وضاحت کی گئی ہے جس کی روشنی میں ہم خود یہ معلوم کر سکیں کہ بیان کردہ واقعا ت صحیح ہیں یا نہیں انہیں اصول و قوانین کو تارٰ ابن خلدون میںبیان کئے گئے ہیں۔ دوسرے مقدمہ ابن خلدون ہے اس کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہیں کہ یہ کتاب اس زمانے تک کے انسانی علوم اور خیالات پر سب سے پہلا تبصرہ ہے اور تاریخ کے واقعات کو سائنس بنانے کی سب سے پہلی کوشش ہے۔ مقدمہ ابن خلدون میں ادب سے متعلق بحث نہایت اہم ہے اس کا موازنہ اگر ھالی کی مقدمہ شعر و شاعری سے کیا جائے تو عربی اور ارد نقد کے ابتدائی نقوش سامنے آ جائیں گے اس مقدمہ میں انہوں نے عربی اصول نقد کی کار آمد بحث کی ہے جس میں شعر ، اس کی ماہیت اور شعر ی لوازمات پر عمدہ گفتگوکی ہے جس سے عربی نقد کی اصولیات مرتب ہوتی ہیں۔
جہاں تک ان کے علمی مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو وہ بیک وقت سیاتسداں، مؤرخ،شاعر، فقیہ،قاضی،صوفی، فلسفی، اور سماجیات دان تھے تحقیقی میں ان کا انداز بالکل الگ اور اچھوتا تھا ۔ جدید فلسفۂ تاریخ نیز جدید تاریخ نویسی کی بنیاد اسی عظیم شخص کی دین ہے ۔ آج تمام مشرق و مغرب کے مفکرین ،دانشوان ،مصنفین اور مورخین اس شخص کو علم تاریخ کا بابائے آدم تسلیم کرتے ہیں ابن خلدون کی ۱۴۰۱ھ میں دنیا کے مشہور بادشاہ امیر تیمور سے بھی ملاقات ہوئی ۱۶؍مارچ ۱۴۰۶ء میں ان کا انتقال ہوا ۔اگر کوئی فلسفہ تاریخ یا تاریخ نویسی کے ضمن میں اس کا حوالہ نہ دے تو میں سمجھتا ہوں تو اس کا کام ادھورا اور نا مکمل کہلائے گا ۔
(۳)خلیل بن احمد
ان کا پورا نام ابو عبد الرحمن خلیل بن احمد الفراہیدی البصری ہے۔۷۱۸ء کو عمان میں آ پ پیدا ہوئے۔ آپ کی دو تصانیف کا پتہ چلتا ہے ۔(۱)کتاب النغم : علم موسیقی پر ہے (۲)کتاب العین : علم لغت پر ہے اور یہ عربی لغت کی اولین کتاب شمار کی جاتی ہے۔ اس میں حروف تہجی کی ترتیب ان کے مخرج کے اعتبار سے کی گئی ہے یہاں حروف تہجی کی وہی ترتیب ہے جو سنسکرت کی حروف تہجی کی ہے آپ کو علم عروض کا بانی اور ماہر لغت و موسیقی بھی کہا جا تا ہے اور اسی وجہ آج تک ان کا نام تاریخ کے اوراق میں زندہ و جاوید ہے پہلی کتاب عربی موسیقی کے رموز و اسرار کو قاری پر منکشف کرتی ہے دوسری تصنیف لفظیات ، معانی اور اس کو لغت میں جمع کرنے کے اصول و ضوابظ سے بھی بھر پور واقف کراتی ہے۔ مشہور عربی مؤرخ جرجی زیدان نے لکھا کہ آپ ایران شہزادوں کی نسل سے تھے اور ان کے جد امجد کو شہنشاہ ایران نے یمن بھیجا تھا آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً پیش قیمت حصہ بصرہ ہی میں گزارا اور وہیں پر ۷۹۰ء میں سپرد خاک ہوئے۔
(۴)متنبی
عباسی دور کے معروف درباری شاعر متنبی شہر کوفہ کے کندہ محلہ میں ۳۰۳ھ۹۱۵ء میں اس کی پیدائش ہوئی متنبی کا باب کوفہ میں گورنر تھا کچھ دنوں بعد اس کا باپ اپنے بیٹوں کے ساتھ شام ہجرت کر گیا اور یہیں ان کے تعلیم و تربیت کا آغاز ہوا۔اس نے بادیہ سماویہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا جس کی پاداش میں تواخشیدیہ کا نائب امیر حمص لؤلؤ نے اسے اور اس کے حواریوں کو ایک طویل مدت کے لئے گرفتار کر کے جیل بھی دیا ۔ متنبی کے متعدد امراء سے اس کے اچھے اور گہرے رواطب تھے جس میںعضد الدولہ بن بویہ دیلمی وغری شامل ہیں ۔۲۸؍رمضان ۳۵۴ھ۹۶۵ء کو متنبی قتل کر دیا گیا ۔
متنبی کی لغزشیں،کوتاہاںاور بے راہ رویاں اپنی جگہ ہیں اس کے با وجود وہ فہم و فراست کا حامل ، ذہین و فطین ،عربی لغت کا ماہر، منفرد اور مبہم الفاظ کے جاننے والوں میں تھا وہ اکثر اپنے باتوں میں عربوں کے منظوم ومنثور کلام کو پیش کرتا تھا اس کے اشعار عربی ادب کے قابل فخر اثاثہ ہیں۔ اسے خاتم الشعرا ء بھی کہا جاتا ہے وہ اس لئے کہ اسے شعر کہنے میںآخری درجے کی مہارت تھی۔ اس کا دیوان کو عوام و خواص میں بے حد مقبولیت حاصل ہے اس کا اندازہ صرف اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک اس کے دیوان کی تقریباً ۴۰ شروحات منظر عام پر آ چکی ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ عباسی دور کے کسی شاعر کا دیوان اس درجہ کو نہیںپہنچ سکا ۔
(۵) امرؤ القیس 
شاہی خاندان میں ۵۰۱ھ میں امرؤالقیس کی پیدائش ہوئی اس کا پاب شاہان کندہ کی نسل سے تھا اوربنو اسد کا بادشاہ تھا۔اس کی پرورش بڑے ناز و نعم میں شاہی رسم و رواج میں ہوئی۔ لیکن دھیرے دھیرے اس کی عادتیں خراب ہونے لگیں اور یہ شراب نوشی عشق بازی ،شعر و شاعری اور کھیل کود میں اپنا وقت گزارنے لگا ۔ تنبیہ کے باوجود جب اس کی روش میں تبدیلی نہ ہوئی تووالد نے مجبورگھر سے نکال دیا پھر کیا تھا یہ اپنے ہم خیال دوست و احباب کے ساتھ باغات ور چشموں کی تلاش میں رہتا اور جہاں اسے پانی نظر آتا وہاں خیمہ زن ہوکر عیش و مستی میں وقت گزارتا جب وہ سوکھنے لگتا تو کسی اور علاقے کا رخ کرتا اسی طرح وہ یمن کی سوزمین ’’دمون ‘‘ میں پہنچا یہیں اسے اپنے باپ کے مرنے کی اطلاع ملی پھر یہیں اس نے یہ قسم کھائی کہ جب تک میں باپ کے قتل کا بدلہ نہ لے لوں نہ گوشت کھاؤں گا اور نہ ہی شراب کو ہاتھ لگاؤں گا۔ بہرحال یہ اپنے باپ کا بدلہ نہ لے سکا اور خود ۵۴۴ھ میں چیچک کے عارضہ میں مبتلا ہو کر انتقال کر گیا ۔ امرؤالقیس کو تمام جاہلی شعرا کا قائد کہا جاتا ہے اس کا شمار سبع معلقات شعراء میں( طرفہ بن عبد،زہیر بن ابی سلمی،لبید بن ربیعہ،عمر بن کلثوم،عبترہ بن شداد، حارث بن حلز ہ یشکری ، امرؤالقیس) میںہوتا ہے جاہلی زمانے میں جن کے اشعار کو خانۂ کعبہ پر لٹکایا جاتا تھا ۔ یہ پہلا شاعر ہے جس نے ٹیلوں پر کھڑے ہوکر اور کھنڈروں پر رونے کی ایجاد کی ہے اس کے اشعار میں پر شکوہ الفاظ،ندرت خیال ، عمدہ ترکیبیں ،حسن تشبیہ کا استعمال استعمال ملتا ہے اس کے دیوان کے متعدد ایڈیشن آ چکے ہیں اورآج بھی لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔
(۶)قدامہ بن جعفر
بغداد میںقدامہ بن جعفر ۸۷۳ء کو پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام قدامہ بن جعفربن قدامہ بن زیاد ہے اوران کی کنیت ابو الفرج ہے۔ اس کے دادا شامی عیسائی تھے جو مقتفی باللہ کے زمانے میں اسلام سے مشرف ہوئے ۔ ان کے والد صاحب بہت پڑھے لکھے انسان نہیں تھے اس کے باوجود ان کا بیٹا اتنا عظیم مصنف و فلسفہ کہلایا ۔ یہ بغداد میں خلفاء کے دربار سے وابستہ رہے اور مختلف انتظامی امو کی انجام دہی میں مشغول رہے اور بالآخر محکمۂ خزانہ میں قائدانہ عہدے پر فائز ہوئے۔ ان کا انتقال ۹۴۸ء میںعباسی خلیفہ المکتفی باللہ کے زمانے میں ہوا۔ کئی معروف و اہم کتابیں ان سے یاد گار ہیں جن میںکچھ اس طرح ہیں۔
(۱)کتاب الخراج وصنعۃ الکتابت (۲) کتاب جلاء الحزن۔۴)کتاب الرد علی ابن المعتز
(۵)کتاب الرسا لۃ فی ابی علی بن مقلہ وتعرف بالنجم الثاقب۔(۶) نقد الشعر
نقد الشعر : شعر پر تنقید کے حوالے سے اپنے موضوع کی مناسبت سے پہلی اور مفید ترین کتاب ہے شعر کے حوالے اگر بات کی جائے اور اس کتاب کا حوالہ نہ دیا جائے تو بات ادھوری تصور کی جاتی ہے۔ قدامہ بن جعفر نے اس کتاب میں ان شواہد و براہین کو یکجا کر دیا ہے جس سے آپ معیاری و غیر معیاری اشعار کی پہچان اور پرکھ کر سکتے ہیں۔ مزید شعر کے اوزان و قوافی، شعر کی ہیئت ،اوصاف و معانی پر بھی شرح وو بسط سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب عربی نقد میں بوطیقائی حیثیت رکھتی ہے جس میں نقد کی تعریف ،اس کی تعمیر و ترقی، معیار نقد،جاہلی اور صدر اسلام میں نقد کی کیفیت و حالت، تیسری اور چوتھی صدی میں نقد کے مراحل و ترقی وغیرہ امور بڑی تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ۔اس کتاب میں نقد کی ایک مبسوط تاریخ مندرج ہے ۔
(۷)محی الدین ابن العربی 
۱۱۶۵ء میں اندلس کے شہر مرسیہ میں ایک معزز عرب خاندان میں آپ کی ولادت ہوئی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ کا گھرانہ سخاوت میں یکتائے روزگار حاتم طائی میں سے تھا  آپ کے والد ہسپانوی حالم محد بن سعید مرذنیش کے دربار سے وابستہ تھے ابھی آپ آتھ برس کے تھے کہ مرسیہ پر مؤحدون کا قبضہ ہوگیا تو مجبورا آپ کے خاندان کو وہاں سے ہجرت کرنی پڑی۔ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے وقت کے ماہرین سے حاصل کی تعلیم اور ان کی صحبت کا بھی پھو پور فائدہ اٹھایاعلاوی ازیں صوفیاء کی خدمت میں بھی آپ کا وقت گزرتا تھا تقبیاباً دو سال مکہ مکرمہ میں بھی آپ نے گزارا اور اپنی تصنیفی و تالیفی سر گرمیوں میں ہمہ تن مصروف رہے آپ ایک اچھے شاعربھی تھے مکہ میں آپ کی شاعری کی دھوم تھے۔
ابن عربی کا اصل میدان علم الکلام، فلسفہ وتذکیہ باطن اور تصوف و سلوک ہے ان کی اسی فنی خصوصیات کی وجہ سے انہیں ’’ الکبریت الاحمر‘‘ نادر روزگار اور شیخ اکبر کہا جاتا ہے۔ (۱)کتاب الیقین(۲) الاعلام باشارت اہل الالہام(۳) فصوص الحکم(۴)کنز الاسرار فیما روی عن النبی المختار من الادعیۃ و المختار (۵) الجمع و التفصیل فی اسرار معانی التنزیل(۶) التدبیر ات الالہیۃ فی المملکۃ الانسانیۃ
اور الفتوحات المکیۃ ان کی معروف کتابیں ہیں ان کی اکثر کتابوں کے اردو ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔
یہ ان کی اہم ترین کتابوں میں ایک ہے جو تصوف اسلامی پر بہت زیادہاہمیت و افادیت کی حامل ہے اس میں وحدۃ الوجود پر بھی بحث کی گئی ہے یہی فلسفہ بعد میں ادب پر وجودیت کی شکل میں باہر آیا ۔ موجودہ وجودیت اور ابن عربی کے فلسفہ و جودیت کا تقابلی مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اس کا اثر تمام صوفی سلاسل پر نمایاں ہے یہ بہت ضخیم کتاب ہے جو پانچ سو ساٹھ ابواب پر مشتمل ہے ۔ مکہ میں قیام کے دوران اس کا آغاز عمل میں آیا ۔روحانی تعلیمات کی بابت اس کتاب کی اہمیت دائرۃ المعارف کی ہے۔ میرا خیال ہے کہ تصوف پر کام کرنے والا اس کتاب سے بے اعتنائی نہیں کر سکتا ۔
التدبیر ات الالہیۃ فی المملکۃ الانسانیۃ : یہ عام فہم کتاب ہے اسے وہ بھی سمجھ سکتا ہے جسے تصوف سے بہت زیادہ ربط نہ ہو یا اس کی باریکیوں سے واقفیت نہ رکھتا ہو۔ اس میں انسان کے مدارج کا بیان ہے جس سے انسان اپنی شناخت کر سکتا ہے۔ صوفیا نے ہمیشہ انسان کو اپنے اندر غور و فکر کی دعوت دی ہے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی نظر ہمیشہ اپنے خالق و مالک پر رکھے۔ مزید فرماتے ہیں کہ سورج ذات باری تعالی ہے سایہ دنیا ہے اور جو سایہ تیرے پاؤں میں تجھ سے ملاہوا ہے وہ تیزرا رزق ہے پس انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنا چاہیے نہ کہ ساری زندگی دنیا کی طلب میں ہی گنوا دے اور رب کی طرف سے ملنے والا حصہ بھی کھو دے۔
یہ عربی نقد کی وہ بنیادی کتابیں ہیں جن پر صرف عربی نقد کی بلند و بالا عمارت کی بنیاد ہے بلکہ ان کی روشنی میں متعدد ادبی دبستان اور فلسفہ و جودیت آئے ہیںبس فرق اتنا ہے کہ مغربی ناقدین و دانشوران نے اصلی ماخذ اور حوالوں کو غائب کر دیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کے نظریات ہیںمگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ در اصل انہوں نے روشنی تو مذکورہ ماخذ سے حاصل کی اور ترمیم و تنسیخ کے بعد اسے پیش کر دیا اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان بنیادی مآخذ کا براہ راست مطالعہ کیا جائے اور اس کی اصلیت قاری کے رو بہ روپیش کی جائے۔شمس الرحمن فاروقی نے اس پر بحث تو نہیں کی ہے البتہ وہ عربی کے بنیادی حوالوں سے اردو کو ضرور مالا مال کر تے رہے ہیں ۔وہ اردو کے واحد نقاد ہیں جن کے یہاں عربی حوالوں کی اس قدر بہتات اور کثرت ہے جن کی سب سے بڑی وجہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہ ان حوالوں کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے تھے او رتسلیم بھی کرتے تھے۔
حواشی
(۱)شعر غیر شعر اور نثر؍ شمس الرحمن فاروقی؍ص۳۹؍ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی ۱۹۹۸ء
(۲)ایضاً ؍ص؍ ۳۹ (۳) ایضاً ؍ص؍ ۳۹
(۴)ایضاً ؍ص ؍۱۳۳ (۵) ایضاً ؍ ص؍۲۰۶
(۶) ایضاً ؍ ص؍ ۲۲۹ (۷) ایضاً ؍ص؍۱۳۱