کثیر التہذیب محاضروں کی واضح مثال
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘
پروفیسرصغیر افراہیم
سابق صدر شعبۂ اردو،وسابق مدیر تہذیب الاخلاق
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ
ناول حیات وممات کے نکات و رموز جاننے اور اُن کے مسلسل تصادم کو اُجاگر کرنے کا فنّی اظہار ہے۔ اس کا دائرہ کائنات کی طرح وسیع ہے جسے ناول نگار موقع ومحل کے اعتبار سے، لف ونشر کی طرح سمیٹتا اور وسعت دیتا چلاجاتا ہے۔ اس عمل کو وہ سادگی کی شکل بھی مہیا کرتا ہے اور تہہ داری کی بھی۔ وہ حقیقت و تخیل کی ہم آمیزی میں حیات وممات کو استعاراتی، علامتی ، تمثیلی غرض کوئی بھی انداز عطا کرسکتاہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ناول جملے یا واقعات گڑھنے کا فن نہیں ہے، بلکہ ایک پختہ کار تخلیقی شعور رکھنے والے فن کار کا شعوری اور منصوبہ بند عمل ہے۔ اور یہ تخلیقی عمل کامیابیوں سے ہم کنار، اُسی وقت ہوتاہے، جب عامل وسیع تر ذہنی اُفق کاحامل ہو، زبان وبیان پر اُس کی گرفت ہو اور ایجاز واختصار کے وصف سے وہ واقف ہو۔
ناول کی تشکیل میں گوناگوں واقعات کی ترتیب وتنظیم کا انحصار اس پر مبنی ہوتا ہے کہ ناول نگار کے شعور ولاشعور میں کشاکش کا سبب کیاہے؟ اُس کا اصل عِندیہ کیا ہے؟ وہ اپنے تخلیقی مقاصد کی براری میں کس حد تک اظہار پر قدرت رکھتا ہے اور انسانی نفسیات وجنسیات کے پیچ وخم کو کردار میں کس حد تک ضابطے اور سلیقے سے ڈھالنے کا فن اُس کوآتا ہے۔ تخلیق کار ماضی قریب کے جس عہد کی عکاّسی کرتا ہے وہ ان معنوں میں اہم ہے کہ وقت گُزرجاتا ہے مگر فن پارہ مذکورہ عہد کا چشم دید گواہ بن کر قائم رہتا ہے اور بعض اوقات خلق کی جانے والی معاشرتی تاریخ کووہ اِس صداقت اورصورتِ واقع کے ساتھ رقم کرتا ہے کہ تاریخ داں بھی اس کا تصور نہیں کرسکتا کہ یہ محض واقع کا بیان نہیں ہوتا۔ اس کی وضاحت کا سبب یہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کے تعلق سے کہا ہے کہ:
’’یہ بات واضح کردوں کہ اگر چہ میں نے اس کتاب میں مندرج اہم تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان مکمل اہتمام کیا ہے، لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھارہویں۔انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب اور انسانی اورتہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا۔‘‘(ص: ۷۴۸)
زمانی اعتبار سے ناول کے کینوس کا بغور مطالعہ کریں تو اس میں مغلوں، مرہٹوں اورراجپوتوں کے شانہ بشانہ انگریزوں کی مکمل حکمت عملی بھی محسوس ہوتی ہے۔ دہلی، جے پور اوررام پور کی سرگرمیوں کے ساتھ ایڈورڈمارسین بلیک، ولیم فریزر، نواب شمس الدین،نواب یوسف علی خاں، بہادر شاہ ظفر اورفتح الملک مرزا فخرو بھی نظر آتے ہیں۔ شاہ نصیر اورداغؔ کے مابین غالبؔ ہیں اور پھر بین السطورمیں غالبؔ کے سفرِ کلکتہ کے اسباب بھی جھلکتے ہیں گویا کہ اس میں تاریخی شعور، تہذیبی اور ادبی پس منظر، روایت سے جُڑے رہنے پر اصرار، سوانحی گوشے، جغرافیائی حد بندیاں اس طرح شامل کی گئی ہیں کہ ماضی کے دریچے اپنے طمطراق کے ساتھ وا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اکیسویں صدی جدید ترین ٹکنالوجی کے روشن امکانات کے ساتھ ساتھ تخلیقی اور تنقیدی بصیرتوں کے فروغ کے طور پر بھی نمودار ہوتی ہے۔ صدی کے آغاز سے ہی اردو ناول میں بیانیہ کا ایسا تخلیقی فشار در آتا ہے جو تاریخی، لسانی اور تہذیبی ہم آمیزی کے اعتبار سے نہ صرف قاری کو حیرت واستعجاب میںمبتلا کرتا ہے بلکہ دورِ زیاں کا ثقافتی بیانیہ قرار پایا ہے۔ آغاز ’’عزازیل‘‘ (یعقوب یاور ۲۰۰۱ء)، ’’قلعہ جنگی‘‘ (مستنصر حسین تارڑ۲۰۰۲ء)، ’’غمِ دل وحشتِ دل‘‘ (محمدحسن ۲۰۰۳ء)، ’’پارپرے‘‘(جوگندرپال ۲۰۰۴ء)، ’’تاجم سلطان‘‘ (قاضی عبدالستار ۲۰۰۵ء) سے ہوتا ہے۔ ان ناولوں نے تاریخی، طبقاتی اور تہذیبی شعور کے ذریعے قاری کوجس تمدنی بازیافت کے لیے مہمیز کیا، اُس کی موثر مثال ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ میںملتی ہے۔ عام نہج سے ہٹا ہوا یہ ناول ۲۰۰۶ء میں پاکستان کے مشہور اشاعتی ادارے شہر زاد اور ہندوستان میں پینگوئن ویاترا بُکس سے شائع ہوا۔ اِس ضخیم ناول میں تاریخ کا گہرا شعور اور ہمارے تہذیبی ارتقاء کے ایک خاص دور کو بڑی فنکاری سے روشن کیا گیا ہے۔ پلاٹ منظم ہے کہ ایک باب کا اختتام دوسرے باب کا پس منظر بنتا ہے اور قصہ اِس طرح آگے بڑھتا ہے کہ حیرت و استعجاب کا ماحول بر قرار رہتا ہے۔ شعور کی رَو اور اندرونی خود کلامی کے ساتھ کہیں کہیں جنس کی نزاکتوں اور لطافتوں کا بھی اظہار ملتا ہے۔’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کا کینوس زندگی کی طرح بسیط ہے، جس طرح زندگی کی کہانی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اُسی طرح ناول میں وزیر خانم کی دربدری کی صراحت اور وسعت کا فنکارانہ اظہار ہے:
’’میری جوانی کے دن دربدری میں گئے، اور فکروالم میں ، نہ تھمنے والے قدموں کے ساتھ کسی خیر گریز پا کے تعاقب پر مجبور، جو اپنی جھلک دکھادکھا کر میرا منھ چڑاتا رہتا ہے‘‘۔ (ص: ۸۴۶)
اِس فن پارہ میں زندگی کی تصویر کشی کرتے ہوئے حقیقت کو تخلیقی عمل میںیوں پیش کیاجاتا ہے کہ قصہ کی حیثیت سے اُس کے تمام عناصر میں تال میل، ہم آہنگی اور ربط قائم ہو جائے۔
شمس الرحمن فاروقی نے خود اِس نقطۂ نظر پر مدلل گفتگو کی ہے کہ ناول نگار کو سادہ حقیقت نگار ہی نہیں، زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کا بھی ترجمان ہونا چاہیے۔اِس کا فن اخلاقیاتی شعور کا بھی مطالبہ کرتا ہے اورفنّی حکمت عملی کا بھی ۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ناول نثر میں ایک طربیہ کہانی ہوتی ہے لیکن اِس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ناول زندگی کی حقیقتوں کو پیش کرنے کا فن ہے تو اس میں طربیہ کے ساتھ ساتھ المیہ عناصر کو پیش کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ ناول جو اپنے طور پر ایک وسیع کینوس کی حامل صنف ہے تو اس کو طربیہ میں سمیٹ کر محدود کرنے کا حق، ہم کو حاصل نہیں ہے۔
ناول کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے دانشورانِ ادب نے کہا ہے کہ جو ناول نگار اخلاقی و اصلاحی مقاصد کو پیش کرنے کے لیے اِس صنف کو اختیار کر تے ہیں تو ناول تہہ دارنہ ہوکربیشتر ایک سطحی قصہ بن کر رہ جاتا ہے چونکہ زندگی صرف معروضی سچائی کا نام نہیں اس لیے اعلیٰ اخلاقی یا صرف اصلاحی قدروں کو پیش کرنے کا نام ناول نگاری نہیں ہو سکتا۔ ناول زندگی کی پیچیدہ تر صداقتوں کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے اس میں خیر کے ساتھ شر، حق کے ساتھ باطل، ایمان کے ساتھ بے ایمانی، سچ کے ساتھ جھوٹ کے رشتے کی دریافت، اس کا فن بن جاتا ہے۔ اِس کا مقصود صرف نیکی اور اخلاقیات کا درس دینا ہی نہیں ہے بلکہ سماج میں رہنے والے کرداروں کے منفی اخلاق، غیر انسانی افعال کے محرکات کی جستجو اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کی گہری انسان دوستی کی آرزو کے بیان کرنے کا عمل بھی ہے۔
چوںکہ ناول ایک پھیلی ہوئی بڑی تصویر ہے جس میں ایک مقررہ پلاٹ کو واضح کرنے کے لیے کائنات کے متنوع کرداروں، جو مختلف جماعتوں اور قبیلوں کے ساتھ رہتے ہیں ، کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی مصوری ہوتی ہے۔ اس رنگ وروغن کے آئینہ خانہ میں شمس الرحمن فاروقی کا ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ صرف حقیقت نگاری کا نمونہ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بھرپور زندگی متحرک نظر آتی ہے جس میں بلاشبہ ہنداسلامی تہذیب اور ثقافت کی روداد کو صفحہ قرطاس پر منتقل کیا گیا ہے۔
محقق، ناقد اور فکشن نگار، شمس الرحمن فاروقی ہندوستان میں فارسی تہذیب کی ترقی و ترویج اور اردو کی کلاسیکی روایت سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ زبان کے بننے اور سنورنے کے عمل سے بھی آگاہ ہیں۔ تہذیبوں کے اتصال اور ادغام پر بھی اُن کی گہری نظر ہے لہٰذاانھوں نے اِس پورے تدریجی عمل کے نشیب و فراز کو اپنے بیانیے کا جُز بنایا ہے۔اسی لیے ناول میں قدیم و متروک الفاظ کے ساتھ مشکل الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کو بھی فضا بندی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی کی بازیافت کے متعین مقصد نے شمس الرحمن فاروقی کے اسلوب کو بے حد مشکل بنا دیا ہے لیکن فضا، ماحول اوربرتاؤ کے اعتبار سے دیکھیں تو سب کچھ موقع و محل سے گہری مناسبت رکھتاہے جس کا اعتراف ہندو پاک کے کئی بڑے فکشن کے ناقدین نے کیا ہے۔
معروضی مطالعہ اِس کا غماز ہے کہ فاروقی کے پیشِ نظر اردو کے بھی کئی ناول تھے جن سے انھیں خام مواد ملا ہے۔ مثلاً’’امراؤ جان ادا‘‘ میں لکھنؤ کے قرب و جوار کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منظر کشی سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ انحطاط پذیر حیدر آباد ی تہذیب ، حویلیوں کی ٹوٹتی ہوئی دیواروں کا المیہ اورمعاشرے کی اُلٹتی ہوئی بساط کا حال انھوں نے عزیز احمد کے ناول ’’ایسی بلندی ایسی پستی‘‘ میں محسوس کیا ۔ ’’آگ کا دریا‘‘ جس کا وسیع کینوس ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کے پسِ منظرکو سمیٹے ہوئے ہے، اُس سے بھی فاروقی نے تاریخی بصیرت کے ساتھ تکنیک اور فن کی جدّت و نُدرت کے تاثر کو قبول کیا ہے۔ اردو کا ایک اوربڑا ناول ’’اداس نسلیں‘‘ بھی اُن کے پیشِ نظر رہا ہوگا جس میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی کشمکش کے ساتھ بدلتے ہوئے تاریخ کے منظر نامہ اور تہذیبی تصادم ، ہندو پاک کے گوناگوں پیچیدہ مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اردوزبان وادب کے تعلق سے ایک خاص دور کی تہذیب و ثقافت کے عروج و زوال کے اسباب وعلل کو مرکز و محور بنایاہے۔ اس رنگارنگ منظر نامے پر کئی دائرے اُبھرتے ہیں۔ کشمیر، راجپوتانہ اور پنجاب کے بعد دہلی کا گہرا رنگ حاوی ہے۔یہ دائروی رنگ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک پھیلا ہوا ہے۔ سلیم جعفر ہوں یا وسیم جعفر، خانمؔ کی زندگی کی چھان بین اور اُس کے عہد کے تہذیب و تمدن کی تلاش میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ فاروقی بھی اِس جستجو میں اُن کے معاون ہوتے ہیں۔
۱۸۱۱ء میں وزیر خانمؔ پیدا ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے من موہنی نے نیا روپ اختیار کر لیاہو۔ خانمؔ کے بُزرگ مصوّر تھے ، انھوں نے ایک ایسی تصوراتی تصویر بنائی تھی جو اتفاقاً مہاراول کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے مشابہ تھی۔وقت کی طنابیں کھنچتی ہیں اور قاری کو احساس ہوتا چلا جاتا ہے کہ تقدیر بھی دونوں کی ایک جیسی، المیاتی کرب کا شکار رہی ہے۔ حالاںکہ محمد یوسف سادہ کار کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیر خانمؔ عرف چھوٹی بیگم جس نے شاہ نصیر کی شاگردی میں زہرہؔ تخلص اختیار کیا، وہ اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ با صلاحیت اور آزاد طبیعت کی مالک تھی۔
احمد محفوظ نے اس فن پارے کے بارے میں دُرست فرمایا ہے کہ یہ ناول انیسویں صدی سے بہت پہلے شروع ہوکر ۱۸۵۶ء میں ختم ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے کا بیان ہمیں ایسی دنیا کی سیر کراتا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی لحاظ سے بے حد منورہے۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانمؔ ایک یادگارکردار ہے۔ وہ فعال اور پُر رعب ہی نہیں مقناطیسی کشش بھی رکھتا ہے۔ اِسی پُروقار شخصیت کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ نہ صرف شجرۂ خاندان آگے تک چلتا ہے بلکہ کہانی بھی ارتقاء پذیر ہوتی ہے۔ اگر یوں کہیں کہ ناول ایک ہی خاندان کی کہانی کا پس منظر رکھتا ہے لیکن اس کے مختلف کردار کے رابطوں سے جو وسعت اس میں پیدا ہوئی ہے وہ مغلیہ عہد کے آخری دورکے تاریخی اور معاشرتی صورتِ حال کا احاطہ کرتی ہے۔ اِس میں قلعہ کی نامور ہستیاں ،بہادر شاہ ظفرؔ اور فتح الملک مرزا فخرو، اپنے افعال و اعمال کے ساتھ موجود ہیں۔ فکشن کا قاری جانتا ہے کہ ناول میں مرکزی کرداروں کے ساتھ جب تک دوسرے کرداروں کا رابطہ پیش نہیں کیا جاتا ہے اور اُن کا تذکرہ شامل نہیں ہوتا ہے، تب تک نہ تو پلاٹ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ناول کی صورت اختیار کر تے ہیں۔ مذکورہ ناول میں مغلیہ دور کے زوال کی اشاراتی رُودادکے ساتھ تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں قلعہ سے متعلق شخصیتوں کے رہن سہن، بود و باش اور غور و فکر کو ان کے مکالموں کے ذریعہ فعال اور متحرک کرنے کی کامیاب سعی ہے۔ناول میں فنونِ لطیفہ خصوصی طور سے شعر و سخن کے تعلق سے ادبی محفلیں، مناظرے، مشاعروں کی تہذیب کا جو بیان ملتا ہے وہ بیانیہ تخلیقی اور اسلوبی نقطۂ نظر سے اہمیت کا حامل ہے اور ہمارے سامنے شعر و سخن کا عام مذاق و معیار اور ادب کی تاریخ میں اس کی قدر و قیمت کا تعین ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کے منطقی ربط وضبط میں اس طرح پیوست ہے کہ قصے کی ساخت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ مثلاً غالبؔ کے معاصرین کا ذکر کرتے ہوئے کرداروں کے درمیان ایک ربط اور تعلق قائم رہتا ہے۔داغؔدہلوی کے عصر کی ادبی چشمکیں، مشاعروں کی تہذیب، ان کے ہم عصروں کی فنی خوبیوں کے علاوہ اُن کی شخصیت کی تہہ داریاں اور نفسیاتی الجھنوں کا بیان بھی اس ناول کی ایک اہم خوبی ہے۔ یوں کہانی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے کہ کہیں دلچسپی اورتجسّس ٹوٹتاہوا دکھائی نہیں دیتا۔
زمانی اعتبار سے کلائمکس کی جانب بڑھتی ہوئی تاریخوں کو احاطۂ تحریر میں لیں تو پہلا موڑ ۲۵؍مئی ۱۸۳۱ء یعنی نواب مرزا (داغؔ) کی پیدائش ہے۔ دوسری اہم تاریخ ۸؍اکتوبر ۱۸۳۵ء ہے جب نواب شمس الدین کو پھانسی دی گئی۔ ۱۱؍اگست ۱۸۴۲ء کو خانم، مرزا تراب علی سے شادی کرلیتی ہیں، ۲۹؍دسمبر ۱۸۴۳ء کو بندیل کھنڈ کے ڈاکومرزا تراب علی کا قتل کردیتے ہیں۔ ۲۴؍جنوری ۱۸۴۵ء کو وزیر خانم فتح الملک مرزا فخرو سے نکاح کرلیتی ہیں لیکن ۱۰؍جولائی ۱۸۵۶ء کو وہ بیوہ ہوجاتی ہیں۔ بے سروسامانی کی حالت میں وہ قلعے معلیٰ کو الوداع کہتی ہیں کہ اگلے سال وہاں قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوتا ہے۔ اس طرح ناول کا منظر نامہ مختصر مگر اس سے منسلک پس منظر طویل عرصہ پر پھیلا ہوا ہے، اس لیے انگریزی دور حکومت اور اُن کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر آنا یقینی ہے۔ یہاں کچھ سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ کیا کوئی ضخیم ناول محض برہنہ حقائق کے سہارے لکھا جا سکتا ہے؟ کیا ناول اور تاریخ میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟ —ظاہر ہے تخلیقی عمل کے لیے حقائق تحریک پیدا کرتے ہیں اگر ان حقائق کے ساتھ تخلیق کار کی ذہنی پرواز شامل نہیں ہوگی تو اُس وقت تک کوئی بھی تخلیق وجود میں نہیں آتی مزید یہ کہ قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے حقائق اورتخیل کے درمیان باہم رشتہ بناتے ہوئے قصہ کا منطقی ربط بر قرار رکھنا بھی ضروری ہے، تب ہی قصہ ناول کی ہیئت (Form)میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناول کا کینوس ناولٹ اور طویل افسانہ سے وسیع ہوتا ہے اور اس میں گوناگوں رنگوں کو بآسانی شامل کیا جاتا ہے۔مزید برآں ناول صرف ذاتی تسکین کا ذریعہ نہیں اُس کا رشتہ قاری سے بھی ہوتا ہے اس لیے مکالمے کا سہارا لینا بھی ضروری ہوتا ہے جو حقائق اور تخیل کی آمیزش سے ایک عمدہ فن پارے کا روپ اختیار کرتا ہے۔ ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ اس کی بھی واضح مثال ہے۔
ادبی تاریخ میں ذکر ہے کہ وزیر خانم، مرزا داغؔ دہلوی کی والدہ ہیں جو حسین و جمیل ہونے کے ساتھ شوخ طبیعت، خوش اخلاق، خوش گفتار خاتون تھیں۔ مصنف نے ان کی فطری خوبیوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خیالی کردار تشکیل دیا، جن سے کردار جُڑتے گئے، واقعات کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ پسِ منظر میں تاریخ، ادب اور معاشرہ کی تفصیل ایک بہترین تخلیق کا ضامن ہوتی ہے۔ واقعات کے انسلاک اور ارتباط سے یہ تاریخی کردار، بڑی حد تک افسانوی کرداربن گیا۔ اور افسانوی فن کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی بڑی تخلیق بننے کے لیے حقیقت کے ساتھ تخیل کی آمیزش ضروری ہے۔ اس طرح مذکورہ ناول میں تاریخی حقائق کے ساتھ تخیل بھی تخلیقی عمل میں شامل رہتا ہے یوں مذکورہ ناول ایک اعلیٰ فن پارہ بن گیا ہے۔
جس طرح ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم، مغلیہ سلطنت کے بتدریج ختم ہوتے ہوئے اقتدار کی علامت بن گیا ہے اسی طرح کہانی بتدریج ارتقاء پذیر ہوتی ہے۔ناول کا وہ حصہ بے حد اہم ہے جس میں ولیم فریزر پر انگریزی حکومت کے جبر،ہٹ دھرمی اورزبردستی کا نقشہ علامت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ناول کو اس نقطۂ نظر سے پڑھیے تووزیر خانم کی اپنی زندگی میں پے در پے شکست،ایک عہد کے زوال کی داستان بن جاتی ہے۔
آغاز قصّہ میں انگریز افسر کیپٹن مارسٹن بلیک کے رشتے سے خانمؔ کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے ۔ پھر نواب شمس الدین خاں والیٔ لوہارو و جھرکہ خانمؔ کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں اور نواب مرزا (داغؔ دہلوی) کی پیدائش ہوتی ہے۔ شمس الدین کوسازشوں کا شکار بناتے ہوئے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔تین بچوں کی ماں، خانم،ؔ آغا مرزا تراب علی سے نکاح کر لیتی ہیں۔ اُس وقت داغؔ گیارہ برس کے تھے۔ رام پور میں بھی قسمت بہت دیر تک ساتھ نہیں دیتی ہے اور وہ دہلی کے لال قلعہ میں مرزا فخرو بہادر کی زوجیت میں داخل ہوکر شوکت محل کہلاتی ہیں۔ ایک بیٹا خورشید عالم پیدا ہوتا ہے۔ ولی عہد ابھی چلنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مرزا فخرو سخت بیمار پڑکر اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔اُن کے انتقال کے چند روز بعد بالواسطہ طور پر دباؤ بڑھایا جاتا ہے اور آخر کار خانمؔ کو اُن کے بچوں کے ساتھ قلعۂ معلّٰی سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔عمر کے اس پڑاؤ میں وہ قدرِ مطمئن تھیں کہ بقیہ زندگی بیوگی میں گذار کر بچوں کی شاہانہ انداز میں پرورش کریں گی مگر ’کوچ‘ کے حکم نے سکون بھری زندگی کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔اِس ذلّت و رسوائی سے وہ بے حد رنجیدہ تھیں مگرقدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں، انھیں پتہ نہیں تھا کہ کاتبِ تقدیراُنھیں بچا رہا ہے۔ وہ اگلے سال برپا ہونے والے خونی کھیل سے محفوظ ہو گئیں جس میں شہزادوں کے سر قلم ہوتے ہیں اور شاہ کو رنگون میں سسکتے ہوئے دم توڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
مصنف نے اِس فن پارے کے تاریخی ناول ہونے سے انکار کیا ہے جس کے معقول دلائل اور جواز ہیں البتہ اس کے بیشتر کردار تاریخی ہیں جو اپنی شناخت اورمقامی حیثیت رکھتے ہیں۔ناول میں اُس وقت رائج مخصوص زبان ، اپنے منصب، اپنے تہذیبی حوالوں، جس میںکرداروں کا اندازِ گفتگو، لب و لہجہ شامل ہیں،کے ذریعہ اپنا تعارف کراتے ہیں۔ یہ لسانی ہلچل بھی فن پارے کی اہم خوبی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے زمانے میں زبان کے بتدریج ارتقاء میں لفظ و آہنگ کی بنیاد پرجو صوتی صورتیں بدلتی ہیں، ناول کی زبان میں وہ تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ بدلتے ہوئے ادبی منظر نامہ کی عکاسی فاروقی کی تحقیقی، تنقیدی اور لسانی صلاحیت کی غماز ہیں۔ اِس طرح ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کے کردار اس زمانے کی زبان، علم و ہنر، منصب اور لیاقت کے ذریعہ اپنی نفسیات اور فطرت کا اظہارکرتے ہیں۔
ناول میں رومان بھی ہے، اسلامی تہذیب کی جھلک بھی ہے، زندگی کے تضادات، خیر و شر کے معرکے، حق و باطل کی جنگ، انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں بھی ہیں۔حقیقی اور تاریخی واقعہ کے ساتھ ضمنی واقعات سے ربط بناتے ہوئے ڈرامائی انداز میں چُست اور برجستہ مکالموں کے ذریعہ کرداروں کو فعال اور جاندار بنانے کی سعی اور کہانی کو مضبوط اور مربوط کرنے کی کاوش بھی ملتی ہے، مجموعی طور پر کہانی کی رفتار میں کہیں بھی جھول نہیں پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی فطری روانی سے چلتی رہتی ہے۔ فکشن کے ناقدین نے اِس جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ فن کار اپنی تخلیقات سے اپنے وجود کو یکسر الگ بھی نہیں رکھ سکتا۔ وہ اپنے کرداروں کے ہر عمل میں کہیں چُھپا بیٹھا رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنے کرداروں کے عمل اور ردّ عمل میں بولتا ہے تو کبھی اپنے افکار کو کرداروں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ وہ سارے عمل میں بحیثیت انسان کبھی بھی لا تعلق نہیں رہ سکتا۔’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘میں شمس الرحمن فاروقی کے کثیر المطالعہ ہونے کا احساس ہر جگہ ہوتا ہے۔ ناول میں انسانی کردار، جذبات اور عمل کا اظہار کچھ ایسے تسلسل اور اعتماد کے ساتھ ملتا ہے کہ باوجود ان زمانی و مکانی حدود کے جن کی پابندی ناول کے ماحول ، پلاٹ اور منفرد اشخاص کو کرنی پڑتی ہے ۔ دورانِ قرأت ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے ان زمانی حدود سے ماوریٰ ناول میں ایک وسیع انسانیت اور جذبات کی ایک نئی بصیرت بھی روشن ہے، جو اس ناول کا خاص امتیازہے۔
مذکورہ ناول میں کہیں کہیں قصہ در قصہ کی بنا پر داستانی رنگ بھی جھلکتا ہے جو بیان اور بیانیہ کی آمیزش کا رہینِ منت ہے۔ ناول نگار نے ادبی و تاریخی تحریکات کے شعور کے ساتھ، واقعات سے زیادہ اُن کے اثرات کا جائزہ داخلی زاویۂ نگاہ سے، تجربات کی روشنی میں لیا ہے۔ اسی لیے تخلیقی سطح پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تخیل کی جدّت، علم و آگہی جب فن کی نادرہ کاری سے ہم آہنگ ہوتی ہے توایسا عمدہ شہ پارہ وجود میں آتا ہے۔’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ میں دو سو سال پہلے کی دلّی کی گلیاں، کوچے، محلے، حویلیاں ، اُس زمانے کے لوگوں کی بود و باش، طرز معاشرت، وضع قطع،رہن سہن، زبان، طرزِ کلام، سفر و حضر، ان کی سواریاں، د شواریاں،زندگی کی دقتیں، الجھنیں بڑی تفصیل اور اہتمام سے اِس ضخیم ناول میں نظر آتی ہیں۔ایسا بیانیہ جس میں سبھی خصوصیات جذب کردی گئی ہوں اُسے کسی ایک قسم کا ناول کہنا مناسب نہیں ہے۔ اتنے وسیع کینوس اور طویل مدّت کومحیط دربدری اور فکروالم کی داستان کی تصویر کشی اور منظر نگاری، مہارت کے ساتھ اس طرح کی گئی ہے کہ پورے ناول میں کہیں بھی نہ تو روانی متاثر ہوئی، نہ زبان لڑکھڑائی ہے۔ ایک محقق اور ناقد تخلیقی کائنات میں اِس شان سے جلوہ گر ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں ایک ایسے ہی بڑے ناول کا انتظار تھا جس میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے معاشرتی کوائف کی بھرپور تصویر کشی ہو۔ ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ہماری اس توقع پر پورا اُترتا ہے۔