ہمارے فاروقی صاحب

سید محمد اشرف

برادرم اشعر نجمی نے لکھا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کی کچھ یادوں اور اپنے تجربات پر مبنی ایک مضمون لکھ دیں۔ کسی گزرے ہوئے شخص کے بارے میں لکھنا آسان ہوتا ہے اگر نیت یہ ہو کہ سب کچھ صحیح نہیں لکھنا ہے۔ میں اِس مختصر سے مضمون کو اپنے لیے مُشکل بنا رَہا ہوں۔
مضمون کی اِبتدا میں ہی یہ حقیقت لکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ فاروقی صاحب نے جتنی مختلف الجہات تحریریں لکھی ہیں، اُردو کے کسی نقّاد کو یہ خوبی ارزانی نہیں ہوئی۔ فاروقی صاحب کے ذوق و شوق کا دائرہ شاعری، ناوِل، اَفسانے، تنقید، تحقیق، لغت، داستان، عروض، تاریخ ادب، تاریخ زبان، اِملا، قواعد اور اِدارت تک پھیلا ہوا تھا۔ اِس کے علاوہ بھی کچھ علاقے ہوں گے جو اس وقت ذہن میں نہیں آرہے۔ فاروقی صاحب کی تحریروں میں سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کوئی نیا نکتہ بیان کرتے تھے اور پھر اپنی خداداد ذِہانت اور مطالعے کی روشنی میں اُسے اس طرح پھیلا دیتے تھے کہ محسوس ہوتا تھا کہ اس سے پہلے اِس طرح کی بات نہیں لکھی گئی ہے۔ وہ اپنی انفرادیت کو بہت عزیز رکھتے تھے اور جب تک کوئی منفرد بات نہ لکھ دیں، ان کی سیری نہیں ہوتی تھی۔ تنقیدی اَدَب میں کمیت و کیفیت دونوں اعتبار سے اُن سے زِیادہ بہتر کام میری ناقص رائے میں کسی اور اَدِیب کا نہیں ہے۔
میں نے مارہرہ شریف سے دَسویں جماعت پاس کی اور پھر ۱۹۷۲ء؁ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں دَاخلہ لیا۔ مارہرہ شریف میں جتنی زِندگی گزاری اس عرصے میں کبھی اُن کا نام نہیں سُنا۔ علی گڑھ میں آتے ہی اُن کا نام سنا اور سب سے پہلے بشیرؔ بدر سے اُن کا نام سنا۔ بشیر ؔبدر (اللہ اُن کو سلامت رکھے) نے ایک بار سے زیادہ یہ بات مجھ سے کہی کہ موجودہ دور میں سب سے بڑا شاعر میں ہوں اور اس بات کو تقریباً تمام ادیب جانتے اور مانتے ہیں لیکن ایک شمس الرحمن فاروقی ہیں کہ گول پوسٹ پر اِسٹک لیے کھڑے ہیں اور مجھے سب سے بڑے شاعر والا گول نہیں کرنے دیتے۔ میں اور میرے ساتھی بشیر بدر کی اُس زمانے کی رومانی شاعری پر فِدا تھے اور ہم لوگوں کو یہ بات اچھی نہیں لگتی تھی کہ شمس الرحمن فاورقی اِس طرح اِسٹک لے کر گول پوسٹ پر کھڑے رہیں اور بشیر بدر کو اس عہد کے سب سے بڑے شاعر کا گول مارنے سے باز رکھنے کی کوشش کریں۔
علی گڑھ آنے سے پہلے قاضی عبد الستار کا ناوِل شب گزیدہ پڑھ چُکا تھا اور اُن کی تحریر پر عاشق ہو چکا تھا۔ علی گڑھ میں قاضی صاحب سے جب مُلاقات ہوئی تو اُنہوں نے بھی فاروقی صاحب کا ذِکر کچھ ایسے اَنداز میں کیا گویا فاروقی صاحب کو قاضی صاحب کا فکشن پسند نہیں ہے۔ در اصل قاضی صاحب کے ناوِل دارا شِکوہ پر عابد سہیل کے رِسالے کتاب (لکھنؤ) میں دَارا شکوہ ناول میں پیش کردہ کئی حقائق پر پروفیسر اقتدار عالم خاں، شعبہ تاریخ اور شمس الرحمن فاروقی میں معرکے کی بحث ہو چکی تھی۔ پروفیسر اِقتدار عالم خاں قاضی صاحب کے موافق تھے اور فاروقی صاحب کے اعتراضات کا جواب تایخی حقائق کی روشنی میں دیتے تھے۔ میں نے وہ بحث اَب تک نہیں پڑھی لیکن دارا شِکوہ کم اَز کم دو بار پڑھ چکا ہوں۔ قاضی صاحب نے ہی بتایا کہ اس معرکے میں اِقتدار عالم خاں کا پلڑا بھاری رَہا۔ قاضی صاحب یہ بھی بتاتے تھے کہ فاروقی صاحب نے قاضی صاحب کے بارے میں لکھا تھا-’’قاضی صاحب پیراڈکس کے بادشاہ ہیں‘‘۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے فاروقی صاحب کا یہ جملہ اپنی آنکھوں سے نہیں پڑھا لیکن قاضی صاحب پر لکھے گئے مضامین میں یہ تواتر کے ساتھ دہرایا گیا ہے اور یہ مضامین فاروقی صاحب کی نظر سے ضرور گزرے ہوں گے۔ اُنہوں نے کبھی اس کا اِنکار نہیں کیا۔ ممکن ہے فاروقی صاحب نے یہ جملہ کتاب میں جارِی دارا شکوہ ناوِل پر بحث کے دوران لکھا ہو۔
اس طرح ایک بڑے نثر نگار قاضی عبد الستار اور عمدہ شاعر بشیر بدر کے بیانات نے میری طبیعت فاروقی صاحب کی طرف سے کھٹّی کردی۔علی گڑھ میں ہی پہلی مرتبہ ’شب خون‘ پڑھا تو اِبتدا میں اُس کے مشمولات بھی دِل کو نہیں بھائے لیکن ایک بات کا اِحساس ہوا کہ یہ رِسالہ باقی رِسالوں سے مختلف ہے۔
میں کہانیاں لکھنا شُروع کر چُکا تھا اور کئی کہانیاں ’’الفاظ‘‘ اور ’’آج کل‘‘ وغیرہ میں شائع ہو چکی تھیں۔ اِس دوران لکھنؤ میں مجاز پر منعقد ایک سمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں سردار جعفری اور شمس الرحمن فاروقی اور کئی نامور ادیب موجود تھے۔ ایک نوجوان اِسکالر کے پرچے پر حسب دلخواہ تأثرات نہیں ملے اور سامعین کشمکش میں تھے تو میں نے ڈائس پر جاکر کہہ دیا کہ ممکن ہے مجاز کی شاعری میں جو خُوبیاں تھیں اُن پر کافی لکھا جا چکا ہو اور مزید کوئی خوبی نہ ہونے کی وجہ سے اس مقالے میں کوئی نئی بات نظر نہ آئی ہو۔ سمینار میں اِس بات پر کُہرام مچ گیا۔ کچھ لوگوں نے میری مخالفت اور کچھ نے موافقت میں اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔ میری موافقت میں بولنے والوں میں ایک فاروقی صاحب بھی تھے۔ سمینار کے بعد میرا ہاتھ تھام کر بولے۔ ’شب خون‘ کے لیے بھی کہانی لکھئے۔میں نے اَزراہِ مزاح کہا کہ اس میں سمجھ میں نہ آنے والی کہانیاں چھپتی ہیں۔ فرمایا آپ سمجھ میں آنے والی کہانی بھیجئے۔ میں چھاپوں گا۔ اُس کے بعد انہوں نے تواتر اور تسلسل کے ساتھ میری کہانیاں چھاپیں۔’ شب خون‘ کے آخری شمارے میں جو ابتدا سے انتہا تک کا انتخاب تھا، میری ایک بہت طویل کہانی شامل کی۔ آخری شمارے میں بھی میری کہانی بہت نمایاں مقام پر شائع کی۔ کہانیوں میں تقریباً سرِ فہرست۔
شب خون کے خطوط کے کالم میں اگر میں اُن کے خلاف بھی لکھتا تو وہ جوں کا توں چھاپ دیتے تھے۔فاروقی صاحب کے افسانے’’ان صحبتوں میں آخر‘‘ کے کچھ حصوں پر میں نے کچھ ناملایم الفاظ لکھ دیے وہ بھی اُنہوں نے بعینہٖ چھاپ دیے۔
لیکن ان تمام باتوں سے پہلے دِلّی کے ایک افسانہ سمینار کے بعد انہوں نے اپنے گھر پر تمام موجود ادیبوں کو ’ہائی ٹی‘ پر بُلایا تھا اور افسانے پر گرما گرم بحث ہوئی تھی۔ فاروقی صاحب کی افسانے سے متعلق باتوں سے مجھے گہرا اِختلاف تھا۔ میں نے وہاں بھی عرض کیا اور پھر اُس کے نوٹس بھی بنائے۔ آج بھی وہ دفتر بے معنی میں کہیں رکھے ہیں۔ فاروقی صاحب جب اَفسانوں پر گفتگو کرتے تھے تو اس وقت اُن کے پیشِ نظر وہ افسانے ہوتے تھے جو وہ شب خون میں چھاپ چُکے تھے۔ ناقابل فہم، گنجلک اور کبھی کبھی بے معنی افسانوں کی حمایت کرتے کرتے فاروقی صاحب کبھی کبھی اس طرح کی باتیں بھی کرتے تھے گویا فکشن کے اُصول مرّتب کر رہے ہوں۔ یہ بات مجھے ناگوار گزرتی تھی۔ در اصل’ شب خون‘ میں چھپنے والے بیشتر افسانوں نے مجھ پر خوش گوار اثر نہیں ڈالا تھا۔ افسانوں کی تنقیدکے سلسلے میں مجھے فاروقی صاحب کی باتوں سے ہمیشہ نااتفاقی سی رہی۔ افسانے کی تنقید کے ضمن میں فاروقی صاحب جو کچھ لکھتے تھے خود اپنا افسانہ لکھتے وقت اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ سوار میں شامل کسی افسانے پر ’جدید افسانے‘ کی پرچھائیں تک نہیں ہے۔ بیانیہ، ماجرا، مکالمہ، علت و معلول کا رشتہ حتی کہ کلائمکس اور انجام تک اُن کے تمام افسانوں میں تقریباً ویسے ہی ہیں جیسے اُردو اور دیگر زبانوں کے عمدہ افسانوں میں ہوتے ہیں۔ قارئین نے اُن کے افسانوں کو پسند بھی کیا۔ میں اُن کے فکشن کا مستقل قاری رہا ہوں اور آج بھی ہوں۔ ’سوار‘ میں شامل افسانے ’سوار‘ اور’ان صحبتوں میں آخر‘ کا نصف اوّل اُردو فکشن کے عمدہ نمونوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ مجھے ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ بھی پسند ہے۔ کچھ حضرات اس کی طوالت اور جزئیات نگاری پر اعتراض کرتے ہیں۔ طوالت کے بارے میں سردست کچھ کہنا غیر معروضی ہو جائے گاصرف ایک جملہ لکھنا چاہتا ہوں کہ ٹھگوں والا واقعہ جس قدر طوالت و تفصیل سے لکھا گیا ، ناوِل میں اتنی طوالت کی ضرورت نہیں تھی۔ البتہ جزئیات نگاری اس ناوِل کا لازمی تقاضہ تھی کیوں کہ فاروقی صاحب صرف ’وزیر خانم‘ نام کی ایک عورت کا قصہ نہیں لکھ رہے تھے وہ اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کی معاشرت، ثقافت، تہذیب، زبان و ادب، نشست و برخاست، لباس و زیورات اور زندگی جینے کے قرینے کو تفصیل سے لکھنا چاہتے تھے کیوں کہ وہ اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہ جان چکے تھے کہ اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کا معاشرہ سیاسی طور پر کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو، تہذیبی طور پر اپنے پچھلے تمام اَدوار سے زیادہ تہذیب یافتہ تھا۔ ایک مکمل تہذیب کا بیان اُس جزئیات نگاری کے بغیر ممکن نہیں تھا جس کے تشکیلی عناصر کے ساز و سامان پر فاروقی صاحب کا قبضہ تو نگروں جیسا تھا۔
بات آگے نکل گئی۔ میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ فاروقی صاحب نے افسانے پر جو تنقید کی خود اُن کے افسانے اس کی شہادت پیش نہیں کرتے۔ کوئی کہہ سکتا ہے قولِ مفتی کو عملِ مفتی پر فوقیت حاصل ہے تو اِس کا آسان سا جواب ہے کہ مذہبی رَسومات اور ادب کے معاملات میں فرق ہوتا ہے۔
فاروقی صاحب اُردو شاعری کے زبردست عاشق تھے۔ اُن کا مطالعہ دَکنی زبان کی شاعری سے لے کر اپنے معاصر بالکل نوجوان شعراء کی شاعری تک پھیلا ہوا تھا۔ اُن کا حافظہ بھی غیر معمولی تھا۔ اِس کے باوجود جب وہ اپنے مضمون یا کہانی میں کوئی شعر پیش کرتے تھے وہ دوسرے درجے کا شعر ہوتا تھا۔ انہیں وہی اشعار بہت زیادہ بھاتے تھے جس میں کسی خاص طرح کے حُسنِ بلاغت کا استادانہ استعمال ہو۔ مجھ کم علم کے لیے شعر کا سب سے بڑا وصف اُس کی کیفیت ہوتی ہے چاہے وہ کسی بہانے سے لائی گئی ہو۔ یہ بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ فاروقی صاحب کیفیت والے عمدہ اَشعار سے ناواقف تھے۔ اگر مقابل بہت عمدہ شعر کا پہلا مصرع پڑھتا تھا تو وہ فوراً مصرعِ ثانی پڑھ کر سنا دیتے تھے۔ میری سمجھ میں آج تک یہ راز نہ آیا کہ اُردو ادب خصوصاً شاعری کا اتنا بڑا نقّاد اپنی تنقیدی یا تخلیقی تحریروں میں عمدہ اَشعار کیوں نہیں پیش کرتا تھا۔ ممکن ہے یہ کوئی نفسیاتی گرہ ہو جسے کھولنے سے میں خود کو معذور پاتا ہوں۔
فاروقی صاحب، برادرِ خردسید محمد افضل اور میں ایک جگہ حاضر تھے۔ ذکر اصغر گونڈویؔ کا ہوا۔ افضل یا میری زبان سے نکل گیا کہ وہ بہت اچھے شاعر تھے۔ فاروقی صاحب نے فرمایا کوئی اچھے وچھے شاعر نہیں تھے۔ اگر اچھے شاعر تھے تو اُن کا کوئی شعر سنائیے۔ میں نے سنایا ؎
مُدّت ہوئی کہ چشمِ تحیّر کو ہے سکوت
اَب جنبشِ نظر میں کوئی داستاں نہیں
کہنے لگے بے کار شعر ہے۔ مجھے بُرا لگا۔ میں نے کہا کہ بے کار کیوں ہے۔ کہنے لگے آپ کو اچھا لگتا ہے تو بتائیے اچھا کیوں ہے۔ میں نے کہا چشم تحیر اور جنبش نظر، سکوت اور داستاں کے الفاظ کے استعمال ہی سے نہیں بلکہ اپنی مجموعی المناک کیفیت کے سبب یہ شعر عمدہ ہے۔ فاروقی صاحب بولے کہ یہ بالکل معمولی شعر ہے۔ اب ہم دونوں بھائیوں کے پاس اِس کے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا کہ خاموش ہو جاتے کیوں کہ کیفیت کوئی ہاتھی گھوڑا تو ہوتی نہیں جِسے ہاتھ کے اشارے سے دِکھایا جاسکے۔
کوئی غیر متعصب لیکن اچھا ادب فہم شخص اگر کوشش کرے تو یہ گرہ کھُل سکتی ہے کہ شمس الرحمن فاروقی جیسے عالم، حافظ، صاحبِ مطالہ دانش ور شاعر اور افسانہ نگار آخر اپنی تنقیدی اور تخلیقی تحریروں میں عمدہ شعر کیوں نہیں پیش کرتے تھے۔
فاروقی صاحب میرے برادرِ بزرگ پروفیسر سید محمد امین اور چھوٹے بھائی سید محمد افضل اور مجھے بہت عزیز رکھتے تھے۔ بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی سے ان کی محبت یکساں تھی لیکن میرے اور اُن کے دَرمیان تعلقات کا گراف اُوپر نیچے ہوتا رہتا تھا۔ کبھی ایسا ہوا کہ قاضی عبد الستار کا ذِکر نکل آیا اور اُن کی زبان سے اُن کے بارے میں کوئی ہلکا لفظ نکل گیا تو میں غصّے میں آجاتا تھا اور بہت دِن تک ناراض رہتا تھا۔ پھر کسی دِن میں ان کو فون کرتا یا وہ اپنی طرف سے فون کرتے اور بات یہاں سے شروع کرتے کہ بھئی آپ کا نمبر اُٹھتا کیوں نہیں ہے۔ میں آپ کوکئی بار فون کر چکا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ انہوں نے مجھے کئی بار فون نہیں کیا ہوگا لیکن یہ اُن کا بڑپّن تھا کہ وہ اس بات کا اِظہار کرتے تھے کہ میں تمہاری ناراضگی یکسر بھول چُکا ہوں۔
’’جشنِ ریختہ‘‘ میں ’’نئی غزل‘‘ کے موضوع پر پروفیسر احمد محفوظ ان کا انٹر ویو لے رہے تھے۔ اُس محفل میں افضل اور میں دونوں موجود تھے۔ ہم لوگوں کو اِنتظار رہا کہ فاروقی صاحب کسی نہ کسی مرحلے پر ہمارے محبوب شاعر عرفان صدیقیؔ کا ذِکر ضرور کریں گے لیکن وہ کچھ خاص شاعروں کا ذِکر کرتے رہے اور عرفان صدیقی کا نام بھی نہیں لیا۔ افضل کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔ وہ آگے بڑھے اور بھرے مجمعے میں علی الاعلان اُنہوں نے شکایت درج کی کہ آپ نے نئی غزل کے حوالے سے ایسے کئی لوگوں کا ذِکر کیا جو عرفان صدیقی سے بالکل بہتر نہیں ہیں۔ میں نے بھی آگے بڑھ کر مختلف اَلفاظ میں اِسی قسم کا اعتراض کیا۔ الفاظ اَب یاد نہیں لیکن وہ ریختہ کے اُس ویڈیو میں ابھی تک محفوظ ہیں جو اَپلوڈ کیا گیا تھا اور اب بھی نیٹ پر مِل جاتا ہے۔
اس واقعے کے بعد فاروقی صاحب سے کچھ عرصے کے لیے دوری پیدا ہو گئی۔ کسی قسم کا رابطہ نہیں رہا۔ ’شب خون‘ بہت پہلے بند کر چکے تھے۔ پھر البرکات میں خلیل الرحمن اعظمی صاحب پر ایک یک روزہ سمینار تھا جس میں فاروقی صاحب کو دعوت دی گئی تھی ۔ وہ اِس بات سے واقف تھے کہ میں میزبان ہوں گا۔ انہوں نے دعوت قبول کی اور علی گڑھ آکر البرکات میں مقیم ہوئے۔ یہاں وہ میرے مہمان تھے تو میں بھی سب بھول بھال کر اُن کے آرام اور خدمت میں لگ گیا۔ ایک بار مہمان خانے کے کمرے میں مجھے تنہا دیکھا تو فرمایا کہ مجھے لگتا ہے اب تلافی ہو گئی۔ میری سمجھ میں اس وقت آیا نہ ابھی تک آیا کہ ہم دونوں میں تلافی کرنے والا کون تھا۔ میں نے بر سرِ عام ریختہ کے جلسے میں بلند آواز کے ساتھ اعتراض کرنے کی تلافی میں انہیں مہمانِ خصوصی کے طور پر بُلایا یا انہوں نے عرفان صدیقی کا ذِکر نہ کرنے کی تلافی میں میری دعوت قبول کی۔ یہ میرے لیے اب تک معمّہ ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی معمّہ نہیں کہ وہ مجھ سے اور میرے خاندان سے بہت محبت کرتے تھے۔ وہ میرے تمام بزرگوں کے ادبی کارناموں سے واقف تھے اور ان کی کتابوں کا نام بنام ذکر کرتے تھے۔
۲۰۰۸ء؁ میں ایک دِن فون آیا کہ ورجینیا یونیورسٹی امریکہ میں اُردو کا ایک جلسہ ہے۔ کہانی پڑھنے آؤ گے۔ وہ حامی بھرنے سے بہت خوش ہوئے۔ جامعہ ملیہ سے پروفیسر احمد محفوظ اور پروفیسر خالد جاوید بھی مدعو تھے۔ مجھے ویزا ملنے میں دُشواری ہوئی کیوں کہ میرے نام میں اسمِ محمد آتا ہے اور اس نام کے انسانوں کو ویزا دینے میں یو۔ایس۔ کے اربابِ حل و عقد اُس شخص کی تین سو ساٹھ ڈِگری تک تفتیش کرتے ہیں۔ جب بالکل وقتِ آخر آگیا تو میں نے اپنا اسباب کھول دیا اور ٹکٹ واپس کر دیے۔ شام کو فاروقی صاحب کا ورجینیا یونیورسٹی سے فون آیا کہ کب چلو گے؟۔ میں نے جواب میں سارا احوال سنایا، کہنے لگے میں یونیورسٹی کے پریسیڈینٹ (وائس چانسلر) سے ابھی بات کرتا ہوں۔ وہ سیاسی رسوخ کا استعمال کر کے تمہیں ویزا دلائیں۔ میں سمجھا میری دلدہی کر رہے ہوں گے۔ اَگلے دِن سِفارت خانے سے فون آیا۔ دوسری طرف سے ایک خاتون نے بتایا کہ آپ کا ویزا تیار ہے۔ آپ آکر لے جائیے میںنے جواب میں کہا کہ کل تو آپ کی تفتیش بھی پوری نہیں ہوئی تھی۔ اس بے چاری نے کہا کہ ضابطے کی تفتیش تو اَب بھی پوری نہیں ہوئی ہے لیکن ہمارے سفارت خانے میں یو۔ایس کی سکریٹری آف اِسٹیٹ کی طرف سے ہدایت آئی ہے کہ سید محمد اشرف کو ویزا دے دیجئے۔ میں نے کہا میں ویزا لینے سِفارت خانے نہیں آؤں گا۔ میں پہلے ہی دو چکّر لگا چکا ہوں۔ خاتون نے کہا اپنے ڈرائیور کو اَتھارٹی لیٹر دے کر بھیج دیجئے۔ میں نے یہی کیا۔ میرا ڈرائیور سفارت خانے سے ویزا لایا۔ یہ فاروقی صاحب ہی کی کوششوں سے ممکن ہوا تھا لیکن اُنہوں نے کبھی اِس کا ذِکر نہیں کیا۔ جب میں نیو یارک اور وہاں سے جہاز پکڑ کر شارلٹ وِل پہنچا تو جلسے کا وقت تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ جب میں جلسہ گاہ پہنچا تو علم ہوا کہ فاروقی صاحب جلسے کا خاتمہ ہونے سے پہلے میرے وہاں پہنچنے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔ مجھے دیکھ کر ایک دَم خوش ہو گئے اور گلے سے لگا لیا۔پھر کہانی سُنی گئی۔ بہت عمدہ جلسہ تھا۔
ایک مرتبہ ’شب خون‘ کے لیے کہانی مانگی۔میں نے ’’لکڑ بگھّا چُپ ہو گیا‘‘ اِرسال کردی۔ کچھ دِن بعد اُن کا پیغام ملا کہ پہلے پیراگراف میں ایک لفظ بالکل ہندی جیسا ہے۔ اُسے نکال کر کوئی اور لفظ لکھ دو۔ میں نے جواب دیا کہ افسانے کے لیے جو زبان استعمال ہوتی ہے اس میں اردو /ہندی سے کیا غرض۔ یہ دیکھئے کہ اَفسانہ کیسا ہے۔ میرا افسانہ واپس کر دیجئے۔ میں نے وہ افسانہ واپس منگالیا اور وہ کہیں اور چھپ گیا۔وہ پیراگراف یوں تھا:
’’اسٹیشن سے گاڑی نکلے ابھی ذرا ہی دیر ہوئی تھی کہ سیکڑوں فولادی قینچیوں پر چلتی ریل گاڑی نے سیٹی بجائی۔ انجن سے گاڑی کے ڈبّے تک تمام ڈبّوں کے بریک چر چرائے اور شروع ہوتی برساتی رات تلے روشن اور نیم روشن کوپے چُپ چاپ کھڑے ہو گئے۔ ریل کے شور میں دَبی مُسافِروں کی آوازیں بلند اور واضح ہو گئی تھیں۔‘‘
فاروقی صاحب کا اعتراض تھا کہ ’’برساتی رات تلے روشن اور نیم روشن کو پے چُپ چاپ کھڑے ہو گئے‘‘ میں ’’تلے‘‘ کا لفظ ہندی ہے۔میرے اجداد میں حضرت سیدشاہ برکت اللہ ’’پیمی‘‘ عہد شاہ جہانی کے نامور ہندی شاعر تھے جن کامجموعہ کلام ’’پیم پرکاس‘‘ عہد اورنگ زیب میں مرتب ہوا۔
اورنگ جیب کے راج میں بھئی گرنتھ کی آس
پیمیؔ ناؤں بچارکے دھریو پیم پرکاس
ماضی قریب کے بزرگوں میں سید سرور عالم سوامیؔ مارہروی ہوئے جن کا مجموعہ کلام ’’سوامی درشن‘‘ کے نام سے چھپا۔ مارہرہ میں مخلوط تہذیب کا اثر دیکھا اور وہاں سے دسویں پاس کر کے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آتے وقت وہی زبان ساتھ لایا جو قصبے کے شرفاء میں بولی جاتی تھی۔ اُس زبان میں ہندی کے میٹھے بولوں کی آمیزش بھی ہوتی تھی۔
فاروقی صاحب کا ذاتی فکشن بیسویں صدی سے پہلے کا ہے۔ وہ اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے زمانے پر لکھتے وقت اِس بات کا خیال رکھتے تھے کہ زبان پر فارسی کا اثر زیادہ نظر آئے تبھی وہ اس زمانے کی غمازی کرسکے گی۔اگر یہ کوئی تھیوری ہے تو میں اِس تھیوری کو صحیح نہیں سمجھتا۔ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے اور طرح طرح کی زُبانوں اور بولیوں سے اس کا خمیر تیار ہوا ہے۔ فکشن کیوں کہ اپنی اصل میں ارضی ہوتا ہے تو اس میں بیان کردہ زبان بھی معرب و مفرس نہیں ہوگی بلکہ وہ ہوگی جو فکشن میں بیان شدہ علاقے کے انسانوں کو ایک ڈور میں باندھ سکے۔ یہ جملہ معترضہ طوالت کی وجہ سے صفحۂ معترضہ بن گیا۔
مسلم یونیورسٹی میں حامد انصاری صاحب کے دور میں کانووکیشن میں ڈاکٹریٹ کی ڈِگری کا معاملہ سامنے آیا۔ افضل اُس وقت یونیورسٹی کے رجسٹرار تھے۔ میں علی گڑھ میں اِنکم ٹیکس کمشنر تھا اور حامد انصاری صاحب کبھی کبھی کسی کسی معاملے میں مجھ سے بھی مشورہ کرتے تھے۔ علی گڑھ میں ایک بہت لائق اُستاد اور عمدہ نقّاد کچھ ذاتی وجوہ کی بنیاد پر نہیں چاہتے تھے کہ شمس الرحمن فاروقی کو ڈاکٹریٹ کی ڈِگری ملے۔ افضل سے میں نے اس بات کا ذِکر کیا۔ افضل نے جواب دیا کہ فاروقی صاحب جیسے معتبر اور مستند ادیب کو ڈاکٹریٹ کی ڈِگری دی جائے تو اُس ڈِگری کی قدر بڑھے گی ورنہ بھلا فاروقی صاحب کو اس ڈِگری کی کیا ضرورت ہے۔ اُن پر معلوم نہیں کتنے اِسکالر ڈاکٹریٹ کر چُکے ہوں گے۔ آپ بے فکر رہیے۔ بس ان کا C.V منگوا دیجئے۔ جس وقت فاورقی صاحب کو ڈِگری دی جارہی تھی اس وقت مجھے ایسی ہی خوشی ہوئی جیسی زمانۂ طالب علمی میں اس وقت ہوئی تھی جب عبد الماجددریابادی اور رشید احمد صدیقی کو ڈِگری دی گئی تھی۔ فاروقی صاحب کی بیگم جمیلہ فاروقی اور بیٹی باراں بھی اس جلسے میں موجود تھے۔
فاروقی صاحب اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے۔ یہ بات دُنیا جانتی ہے۔ اپنی بیوی کی وفات پر فاروقی صاحب نے جو شعر کہے ہیں انہیں پڑھ کر کلیجہ کٹتا ہے۔ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے۔ غالباً لکھنؤ یا اِلہ آباد کی بات ہے۔ وہ، جمیلہ آپا اور میں ایک ہی کار میں تھے۔ فاروقی صاحب یا جمیلہ آپا نے ’شب خون‘ میں چھپنے والے اُن افسانوں کا ذِکر شروع کیا جو عمر شیخ مرزا یا دوسرے ناموں سے لکھے جارہے تھے۔ جمیلہ آپا نے پوچھا۔ اشرف صاحب آپ بتائیے کہ اِن کا اصل مصنف کون ہے۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا اور کہا ’’نیر مسعود‘‘۔ کار میں خاموشی چھا گئی۔ پھر دَبی دَبی سرگوشیوں اور دھیمی دھیمی ہنسی کی آواز آئی۔ میں سمجھ گیا کہ میرا اندازہ غلط تھا۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں بتایا کہ اصلی مصنف کون ہے۔ اللہ جانتا ہے مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اُن افسانوں کے مصنف خود شمس الرحمن فاروقی ہیں۔
کم اَفراد کو اس بات کا علم ہوگا کہ فاروقی صاحب کی ہندی استعداد بہت عمدہ تھی۔ مجھے بھی اس بات کا علم نہیں تھا۔ ایک بار اُن کی ایک ماتحت نے جو خود بھی محکمۂ پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف میں اعلیٰ آفیسر تھیں، مجھے بتایا کہ ایس۔آر۔ فاروقی صاحب کی ہندی اتنی اچھی ہے کہ ہم لوگوں کو اپنی ہندی پر شرم آتی ہے۔فاروقی صاحب کی خوشی اور خفگی پوشیدہ نہیں رہتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ کسی سے ناراض ہیں اور وہ سامنے آگیا تو لپک کر گرم جوشی کے ساتھ بغل گیر ہو گئے۔ وہ ذاتی نشست میں کسی کو بُرا بھَلا کہہ سکتے تھے تو بھری بزم میں بھی اس کو انہیں القاب کے ساتھ یاد کرسکتے تھے۔
اپنے چھوٹوں کے لیے اُن کاظرف بڑا تھا۔ ایک بار ساہتیہ اَکادمی نے میرے لیے ایک مخصوص پروگرام رکھا۔ غالباً ۲۰۰۸ء؁ یا ۲۰۱۰ء؁ کی بات ہے اس پروگرام کا نام تھا ’’Meet The Writer‘‘ ساہتیہ اکادمی والوں نے اُن کو باضابطہ دعوت نہیں دی تھی کہ وہ بہت سینئر ادیب تھے۔ فاروقی صاحب از خود اپنی بیٹی کے ساتھ وہاں تشریف لائے اور پھر ان کا وہ اِکرام ہوا جس کے وہ مستحق تھے۔ وہ وہاں صرف میری دلدہی کے لیے آئے تھے جس کا مجھے اُسی دِن اندازہ ہو گیا تھا۔مارہرہ شریف میں شمس مارہرہ حضرت آلِ احمد اچھے میاں علیہ الرحمہ کے نام پر ایک قطعہ زمین کی چہار دیواری کر کے اس کا نام ’گلشن اچھے میاں‘ رکھا۔ اس کے داخلی دروازے پر شیخ احمد جام کا مشہور شعر پتھر پر کندہ کرا کے لگانا چاہتا تھا۔
کشتگانِ خنجر تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگرست
پروفیسر آل احمد سرور کا نام انہیں بزرگ صوفی حضرت سید آلِ احمد اچھے میاں قدس سرہٗ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ سرور صاحب نے اپنی سوانح ’’خواب باقی ہیں‘‘ کے پہلے پیراگراف میں اس کا اظہار کیا ہے۔ اس شعر کا عمدہ اُردو ترجمہ بھی فاروقی صاحب سے کرا کے پتھر پر کندہ کرانا چاہتا تھا۔ لیکن اسی زمانے میں فاروقی صاحب سے دوری ہو گئی۔ میں نے خود ہی جیسا بن پڑا ترجمہ کر کے کندہ کراکے پتھر لگوا لیا۔ جب تعلقات بَحال ہوئے فاروقی صاحب نے فرمایا کہ جب تم نے کہا تھا میں نے تبھی اُس کا ترجمہ کر لیا تھا۔ میں کیا کہتا ۔ خاموش ہورہا۔
میں نے ان سے کبھی نہیں کہا کہ وہ میرے فکشن پر کچھ لکھیں ’’نمبر دار کا نیلا‘‘ کے فلیپ پر اُن کی جو رائے چھپتی ہے وہ ’’سوغات‘‘ کو لکھے گئے ایک خط سے ماخوذ ہے۔ ایسا نہیں کہ میرا جی نہیں چاہتا ہو کہ وہ مجھ پر کچھ لکھیں لیکن میں اُن سے اِس لیے فرمائش نہیں کرتا تھا کہ اُن کے پاس تبصرہ، فلیپ، تأثر لکھوانے والوں کی ہمیشہ ایک یورش رہتی تھی اور میں فرمائش کر کے انہیں آزمائش میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ اُن کی خِرد نوازی تھی کہ ’شب خون‘ میں اُنہوں نے میری کہانیاں بہت امتیاز کے ساتھ چھاپیں اور آخری شمارے تک چھاپیں۔
پروفیسر شارب ردولوی نے اپنی بیگم پروفیسر شمیم نکہت کے نام سے فکشن پر ایک اعزاز کی طرح ڈالی۔ غالباً ۲۰۱۷ء؁ میں فاروقی صاحب اُس اعزاز کا فیصلہ کرنے والے جیوری میں تھے۔ میں بھی اس جلسے میں بوجوہ موجود تھا۔ جلسے کے بعد میں نے خواہش ظاہر کی کہ چلئے نیر مسعود صاحب کو دیکھ آئیں۔ نیر صاحب عرصے سے صاحبِ فراش تھے۔ بولنا تو ایک طرف رہا، آنکھیں تک نہیں کھولتے تھے۔ فاروقی صاحب اُن کے گھر میں گھر کے فرد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ہم دونوں نیر مسعود صاحب کے پاس بیٹھ گئے۔ اہلِ خانہ بھی وہیں بیٹھے تھے۔ فاروقی صاحب آبدیدہ سے تھے کہ اِتنا عمدہ بولنے والا شخص اس طرح خاموش لیٹا ہے۔ فاروقی صاحب ان کا ہاتھ پکڑتے، کبھی بازو ہلاتے لیکن نیر مسعود صاحب ٹس سے مس نہ ہوتے۔ شدید بے بسی کے عالم میں فاروقی صاحب نے اُن کو جھنجھوڑ دیا۔ نیر مسعود صاحب کے منھ سے بس ایک فقرہ نکلا۔ ’’اُف فوہ‘‘ بس۔ واپسی میں کار میں ہم دونوں مغموم تھے۔ فاروقی صاحب بولے۔ تم کو بُرا لگا ہوگا کہ میں نے انہیں جھنجھوڑ کیوں دیا۔ میں ان کی بھیگی آنکھوں کو دیکھتا رہا۔ بولے انہیں جھنجھوڑنے کا حق میرے علاوہ کم لوگوں کو ہے۔ میں چاہتا تھا کہ وہ کچھ بولیں تو میں ان کی آواز سُن سکوں۔ کچھ ہی دِن بعد نیر مسعود صاحب وہاں چلے گئے جہاں سے کوئی آواز نہیں دیتا۔
عرفان صدیقی اور نیر مسعود- دونوں سے فاروقی صاحب کی گہری دوستی تھی۔ فاروقی صاحب نے ان دونوں فنکاروں کے بارے میں کبھی اس طرح نہیں لکھا کہ محسوس ہو کہ حق اَدا کردیا۔ انیس سو نوّے یا بانوے میں نیر مسعود کے افسانوی مجموعے ’’عطرِ کافور‘‘ کی رسم اجرا لکھنؤ میں اُردو اَکادمی کی عمارت میں ہوئی تھی۔ فاروقی صاحب نے اُس محفل میں بھی نیر مسعود کی افسانہ نگاری پر کوئی سنجیدہ اور قابلِ ذِکر بات نہیں کی۔ عرفان صدیقی پر جب لکھنے کا وقت آتا تھا تو یہ عذر کر دیتے تھے کہ عرفان صدیقی پر لکھنا بہت مشکل کام ہے۔ نیر مسعود اور عرفان صدیقی دونوں کی اَدبی حیثیت اور شہرت میں فاروقی صاحب کی مدد یا سرپرستی کا کوئی دَخل نہیں تھا۔ اِس لیے وہ ان دونوں پر دِل کھول کر نہیں لکھتے تھے۔
قرۃ العین حیدر اور قاضی عبد الستار کے فن کے بارے میں بھی ان کا رویہ کم سخنی کا تھا۔ معاصرین میں ان فنکاروں کے لیے ان کا قلم بہت فیاض تھا جن کی ادبی شہرت میں خود فاروقی صاحب کسی نہ کسی طور سے مدد گار رہے ہوں۔فاروقی صاحب نے اپنے دم قدم سے تخلیق، تنقید اور تحقیق کے میدانوں میں وہ سرمایہ چھوڑا ہے جس کی مثال سے خاصانِ ادب کے خزانے خالی ہیں۔ اُن کے رخصت ہونے کے بعد ان کے نہ ہونے کی تلافی کرنے والا اب کوئی نہیں ہے۔