انٹرویو ۔ پاپولر میرٹھی

از۔ حنا خراسانی رضوی (نمائندہ ورثہ۔سویڈن)

السّلام علیکم و آداب عرض ہے قارئین! اس شمارے میں جو شخصیت ہمارے مہمان ہیں اُن کا تعارف میں اُن کے ہی کلام سے کروانا چاہوں گی۔
ع پاپولر میرا تخلّص ہے یہی اعجاز ہے
میرا جو بھی شعر ہے دنیا میں سرفراز ہے
آپریشن خوب ہی مضمون کے کرتا ہوں میں
ذہن میرا نوکِ نشتر کی طرح ممتاز ہے
ڈاکٹر سید اعجاز الدین شاہ المعروف جناب پاپولر میرٹھی صاحب گو کہ ہندوستان کے طنز و مزاح نگار شاعر اور نثر نگار ہیں لیکن اُن کی مقبولیت کی گونج صرف ہندوستان میں نہیں، پاکستان میں بھی اور دنیا بھر میں جہاں جہاں اُردو بولنے اور سننے والے لوگ بسے ہوئےہیں، سنائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ورثہ میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ وعلیکم السلام حنا صاحبہ اور شکریہ۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب اعجاز الدین شاہ سے پاپولر میرٹھی تک کا جو آپ کا ادبی سفر ہے اس کی بابت بتائیے کہ کہاں سے شروع ہوا؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ میں جب کالج میں پڑھتا تھا میرٹھ میں، یہ ۱۹۷۶، ۷۷ء کی بات ہے تو ہمارے کالج میں مختلف ادبی سرگرمیاں ہوا کرتی تھیں، ڈرامے اور مشاعرے وغیرہ، تو اُس میں میں بھی برابر حصّہ لیتا تھا۔ اُس میں ایک تمثیلی مشاعرہ ہوتا تھا جس میں طلباء کسی بھی پرانے شاعر کا کردار ادا کرتے تھے۔ تو وہ محفلیں رہتی تھیں اور اُس وقت ہمارے شہر میں ایک ادبی ماحول تھا۔ شہر میں بہت سے اساتذہ اور بزرگ شاعر تھے اور ہر طرح کی محفلیں ہوتی تھیں۔ کالج کا بھی یہی ماحول تھا اور گھر میں بھی یہی ماحول تھا۔ سب لٹریچر سے جڑے ہوئے تھے تو بہت اچھا لگتا تھا۔ اس زمانے میں دلاور فگار جو پہلے یہاں رہتے تھے، پاکستان چلے گئے تھے تو اُن کی کمی محسوس کی جارہی تھی اُردو میں۔ اُس وقت یہ ہوا کہ جو تمثیلی مشاعرے ہوتے تھے تو اُس میں ایک کردار میں بھی ادا کرتا تھا اور وہ تھا دلاور فگار کا، تو وہاں سے یہ سلسلہ شروع ہوا۔ پھر یہ ہوا کہ اُس زمانے میں ہمارے ملک میں ایمرجنسی لگی۔ اُس کے ایک دو سال کے بعد ۱۹۷۷ء میں کانگریس کے منظور صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ جب وہ الیکشن جیتے گے تو ایک بڑا مشاعرہ کرائیں گے۔ وہ انڈو پاک مشاعرہ تھا۔ اُس میں پاکستان سے دلاور فگار، احمد فراز، تابش دہلوی اور بہت سے شاعر شریک ہوئے تھے اور ہندوستان کے بھی بہت سے شاعر تھے۔ منظور صاحب نے یہ مشاعرہ ہمارے کالج میں آرگنائز کیا تھا اور میں اس وقت اپنے کالج کی یونین کا صدر تھا اور شاعری بھی کررہا تھا اعجاز کے تخلص سے۔ میں آل انڈیا ریڈیو سے پڑھنے بھی لگا تھا۔ اس میں ایک پروگرام آتا تھا ” نئی نسل نئی روشنی” تو اس میں میں پڑھا کرتا تھا تو لوگ مجھ سے کہتے تھے کہ آپ تو بہت پاپولر ہیں، کل ہی آپ کو ریڈیو پر سنا تو میں نے اپنا تخلص اعجاز پاپولر میرٹھی کردیا۔ میرٹھ سے تعلق بھی تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس وقت اعتراض بھی کیا کہ آپ تو اُردو کے شاعر ہیں اور آپ نے انگریزی کا تخلص اختیار کیا لیکن میں نے کہا کہ ریڈیو سے پروگرام آتے ہیں تو پوری دنیا میں سنے جاتے ہیں۔ اس وقت اُردو سروس کے پروگرام بہت مقبول تھے تو میں نے کہا کہ جب ریڈیو والوں نے اسے مان لیا تو پھر مسئلہ کیا۔ بہرحال پھر تو یہ سلسلہ چل نکلا اور پاپولر میرٹھی کے نام سے ہی میں اپنے شہراور ملک میں مشاعروں وغیرہ میں شرکت کرنے لگا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اور عالمی مشاعرے میں شرکت کب سے ہوئی آپ کی؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔۱۹۸۹ء میں مجھے ایک دعوت نامہ ملا کراچی کے مشاعرے کا۔ اس میں انور مسعود صاحب، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ہر فن لکھنوی، پروفیسر عنایت علی صاحب اور دوسرے بہت سے شعراء تھے۔ پاکستان کے سب ہی شعراء تھے اس میں۔ انڈیا کے بھی بہت سے شاعروں کو دعوت دی گئی تھی لیکن انہیں ویزا نہیں مل پایا۔ میری محبوب ظفر صاحب سے ملاقات تھی اور وہ اس وقت پاکستان ایمبیسی میں تھے۔ میں نے ان کو فون کیا اور بات کی تو انہوں نے کہا کہ کوئی مشکل نہیں ہے آپ تشریف لے آئیں تو میں چلا گیا اور انہوں نے میرا ویزا کرادیا۔ اس وقت پی آئی اے جمعے کو کراچی جاتی تھی تو بہرحال انہوں نے اتوار دو مارچ کی ملیئشین ایئر لائن سے میرا ٹکٹ کرادیا۔ میں کراچی پہنچا اور جم خانہ کلب میں وہ مشاعرہ تھا۔ سب ہی شعراء بہت اچھے تھے اس میں۔ بہت مقبول اور کامیاب مشاعرہ ہوا تھا کراچی کا۔ یو ٹیوب پر بھی موجود ہے۔ انڈیا سے میں اکیلا ہی جا پایا تھا۔ تو یہ ہوا کہ دلاور فگار صاحب کی صدارت تھی اور چونکہ انڈیا سے اکیلا میں ہی تھا تو انہوں نے اپنی ساری محبتیں مجھے ہی دیں۔ وہاں انڈین ایمبیسی میں ہمارے ایک دوست تھے جو ہمارے شہر سے ہی تھے اشوک شرما، انہیں بھی علم ہوا کہ میں وہاں پہنچ رہا ہوں تو پھر وہ بھی مشاعرے میں آگئے تھے۔ اس میں میرے دو قطعے بہت مقبول ہوئے تھے۔ آپ کو سناتا ہوں۔ ایک تو یہ تھا:۔
محبوب وعدہ کر کے بھی آیا نہ دوستو
کیا کیا نہ دیکھو ہم نے کیا اس کے پیار میں
مرغے چرا کے لائے تھے جو چار پاپولر
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
بس اس پر سب ہی نے زبردست داد دی۔ اور دوسرا قطعہ یہ تھا
کب سے پردیس میں ہیں گھر کی نہیں لی سدھ بھی
ایک بچّے کی خبر آج بھی یار آئی ہے
اُن کو پردیس میں قدرت نے یہ بخشی عزت
وہ بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے
اس پر تو زبردست ہنگامہ ہوگیا وہاں مشاعرے میں۔ بہت سے لوگ دبئی میں اور دوسرے ملکوں میں باہر رہتے تھے۔ اُن سب کو بہت پسند آیا۔ بار بار لوگ سنتے رہے تو مشاعرہ بہت کامیاب رہا اور میں بھی بہت کامیاب رہا۔ دوسرے دن نشستوں وغیرہ کا سلسلہ شروع ہوا تو قاسمی صاحب نے کچھ محفلیں اور نشستیں رکھیں۔ اس وقت میں جم خانہ میں رکا ہوا تھا لیکن پھرمیں اپنی بہنوں کے پاس چلا گیا جو کراچی میں ہی رہتی تھیں۔ پہلے دن میں اُن کے پاس یوں نہیں جا پایا کہ میں نے انہیں اطلاع نہیں کی تھی۔ اصل میں میں ڈر رہا تھا کہ اگر کامیاب نہیں ہوا تو کیسے سامنا کروں گا اپنے گھر والوں کا لیکن اللہ نے مجھے بہت عزّت دی اور بہت پسند کیا لوگوں نے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بہنیں تو بہت خوش ہوگئیں ہوں گی آپ کو دیکھ کر؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی ہاں بہت خوش ہوئیں اور پھر اگلے دن وہاں اُن کے یہاں مہمانوں کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہوگیا جو ہمارے ملنے والے تھے کراچی میں۔ اس مشاعرے کے بعد تو بہت سے لوگ آئے مجھ سے ملنے۔ شاعر بھی آتے جاتے رہے۔ قاسمی صاحب برابر آتے رہے۔ اطہر شاہ جیدی بھی اس مشاعرے میں تھے تو اُن سے بھی پھرایک تعلق بنا۔ اُن کی رہائش بھی قریب ہی تھی۔ وہ حسن اسکوائر میں رہتے تھے اور میری بہن گلشنِ اقبال میں۔ میرے بہنوئی وزیر احمد رزاقّی صاحب پریمئر کالج میں کامرس کے پروفیسر تھے۔ اُن کی وجہ سے ہمارا تعلق سحرانصاری صاحب سے بھی ہے کیونکہ ہمارے بہنوئی اسماعیل میرٹھی صاحب کے پوتے ہوتے تھے اور سحر انصاری صاحب کا بھی اسماعیل میرٹھی صاحب سے ایک تعلق تھا۔ بہرحال پھر ہوا یہ کہ اس کے کچھ دنوں کے بعد نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ایک بڑا عالمی مشاعرہ ہوا۔ یہ علی صدیقی صاحب نے کیا تھا تو پوری دنیا کے شعراء اس میں موجود تھے۔ ہندوستان سے بھی بہت سے شعراء تشریف لائے تھے۔ خمار بارہ بنکوی، علی سردار جعفری، وسیم بریلوی، جگن ناتھ آزاد اور کئی نامور شعراء شریک ہوئے تھے۔ مجھے بھی دعوت نامہ ملا کیونکہ میں تو کراچی میں ہی تھا تو سب لوگوں نے کہا کہ آپ بھی تشریف لائیں۔ تو اس میں پروفیسر عنایت علی خان صاحب، دلاور فگار صاحب اور میں تھا جو طنز و مزاح لکھ رہے تھے۔ اس مشاعرے کی صدارت محسن صدیقی نے کی تھی جو اس وقت سینیٹر تھے اور نظامت سحر انصاری صاحب کی تھی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اُس زمانے میں تو دونوں طرف سے خوب آنا جانا رہتا تھا۔ انڈو پاک کے بڑے یادگار مشاعرے ہوئے اور سامعین بھی بڑی تعداد میں اور دلچسپی کے ساتھ سننے آتے تھے۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی ہاں! نیشنل اسٹیڈیم کراچی کے اس مشاعرے میں تقریباً ایک لاکھ لوگ ہوں گے۔ اس میں بھی اللہ نے مجھے بڑی عزّت دی اورمیں بہت کامیاب رہا۔ پھر وہاں الگ الگ جگہوں پر پندرہ مشاعرے ہوئے اور اُن سب ہی میں میں بزرگ شعراء کے ساتھ رہا۔ انڈیا سے جو شعراء آئے تھے وہ ایک ماہ تک وہاں رہے اس کے بعد انڈیا واپسی ہوئی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ پھر یہ آپ کا مشاعروں کا سلسلہ آگے کہاں کہاں جاری رہا؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ پھر۱۹۹۴ء میں مجھے موقع ملا یو ایس اے جانے کا۔ وہ دعوت نامہ مجھے ملا تھا علی گڑھ المنائی ایسوسی ایشن کی طرف سے۔ وہ لوگ علی گڑھ کے تعلیم یافتہ تھے اور جگہ جگہ محفلیں اور مشاعرے آرگنائز کرتے تھے۔ اس کے لیے ڈاکٹر عبداللہ صاحب کا مجھے دعوت نامہ موصول ہوا کہ بھئی آپ کو آنا ہے تو انڈیا سے علی سردار جعفری صاحب، خمار بارہ بنکوی صاحب، میں اور اظہر عنایتی، ہم چار گئے۔ وہ مشاعرے تقریباً دس شہروں میں ہوئے۔ پہلا مشاعرہ نیویارک میں تھا پھر واشنگٹن، نیو جرسی، ڈیلاس، ڈیٹرائٹ، کیلی فورنیا، سان فرانسسکو اور شکاگو میں بھی ہوئے۔ سب ہی مشاعرے میں نے کامیابی سے پڑھے۔ اس کے بعد تو کنیڈا اور یو ایس میرا برابر جانا ہوتا تھا۔ میں تقریباً اٹھارہ بار امریکہ گیا اور پھر دبئی کے تیس چالیس مشاعروں میں جاتا رہا۔ جشن جگن ناتھ آزاد سے وہاں میری شروعات ہوئی تھی۔ وہاں میرا سلیم جعفری صاحب سے ایک اچھا تعلق بن گیا تھا۔ انہوں نے میری ایک کتاب بھی چھپوائی تھی ” ہنس کر گزار دی”۔ انہوں نے بہت سے مشاعرے کیے اور قریب قریب میں سب ہی میں شریک رہا۔ بس پھر اُن کی زندگی نے وفا نہیں کی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ تعلیم آپ نے مکمل میرٹھ سے ہی حاصل کی؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی، میں نے میرٹھ کالج سے ہی بی کام کیا پھر وہیں اُردو ڈیپارٹمنٹ سے ایم اے اُردو میں کیا اور میں نے پی ایچ ڈی بھی کیا۔ اس وقت شعبہ ء اُردو کے صدر بشیر بدر تھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اُسی کالج میں آپ تدریس سے بھی وابستہ رہے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی ہاں، میں میرٹھ کالج کے شعبہ ء اُردو سے منسلک ہو گیا تھا اور تقریباً آٹھ یا دس سال کالج میں ایم اے اُردو بچّوں کو پڑھاتا رہا لیکن پھر میری مشاعروں کی مصروفیات بہت زیادہ بڑھ گئی تھی اور مجھے دو دو مہینے تک باہر رہنا پڑتا تھا۔ آج اگر یو ایس سے آرہے ہیں تو کل دبئی کا مشاعرہ پڑھنے جانا ہے تو کبھی آسٹریلیا جانا ہے۔ جہاں جہاں ادبی محفلیں ہوتی تھیں وہاں سب ہی جگہ جانا ہوتا تھا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ دوران تدریس شاگردوں کے ساتھ کیسا تعلق تھا۔ اُن کو آپ اپنا کلام سناتے تھے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی جی بالکل! میں نے بتایا نا کہ کالج میں تو ہمارے ادبی ماحول تھا۔ اُس زمانے میں تو بے تحاشہ شاعر تھے کیونکہ یہاں ہندوستان میں ایک ماحول تھا۔ جگہ جگہ مشاعرے ہوتے تھے حالانکہ کالجوں میں ایم اے اُردو چند ہی بچّے کرتے تھے۔ بہت کم تعداد میں آتے تھے لیکن کیا ہے کہ کچھ حالات اس طرح کے تھے کہ بچّے اُردو نہیں پڑھتے تھے۔ نظریہ تھا حکومت کا کہ بھئی کوئی اور زبان سیکھو۔ تو یہ بھی ایک پرابلم رہی۔ اس وجہ سے مشاعرے ہمارے یہاں اہم رول ادا کرتے تھے۔ ایک طرح سے مشاعروں کی وجہ سے ہی اُردو زندہ ہے ہندوستان میں۔ اس میں مسلم، غیر مسلم سب ہی لوگ بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں اور بڑی بڑی محفلیں آراستہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہندوستان کے دو مشاعرے بہت مقبول ہیں ، ایک تو کامنہ پرشاد کراتی تھیں ” جشنِ بہار” اور پھر آزادی کے مشاعرے جو لال قلعے میں ہوا کرتے تھے۔ یہ دونوں مشاعرے بہت مقبول ہوئے۔ میں ان میں برابر شریک رہتا تھا۔ یہ نہیں کہ ابھی اس سال گیا ہوں اور دوسرے سال نہیں۔ میں ہر سال ہی شامل رہا۔ اللہ کا کرم ہے کہ سب ہی لوگ ہندوستان کیا پوری دنیا میں مجھے عزّت دیتے ہیں اور بہت محبت کرتے ہیں۔ ابھی، آٹھ دن کا دورہ تھا میرا وینکوویر، کنیڈا کا حالانکہ پنجابیوں نے یہ پروگرام رکھا تھا امر جیت سنگھ جی اور نوین گری ہمارے دوست ہیں کنیڈا میں اُن کا ایک چینل چلتا ہے ” کیوں گھنٹی بجی” اور وہ بہت مقبول چینل ہے تو انہوں نے ایک مشاعرہ رکھا تھا۔ اُس میں سب پنجابی شعراء تھے اُردو کا صرف میں ہی تھا لیکن وہ بہت کامیاب رہا۔ وہاں کے ریڈیو اور ٹی وی سے بھی نشر ہوا۔ رئیس وارثی صاحب بھی ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔ جب میں نیویارک جاتا تھا تو انہی کے پاس میرا قیام رہتا تھا۔ ایک یاسین مراد ابادی بھی تھے جو ان کے پاس ہی رہتے تھے۔ وہ بھی بہت مخلص اور اچھے انسان تھے۔ اُن سے سب کے مراسم تھے۔ یہ پورا گروپ ہے بہت بڑا، وکیل انصاری اور یہ سب لوگ، بہت زمانے کا ساتھ ہے۔ مجھے پچاس سال ہو گئے ہیں، 1977 ء سے مشاعروں میں ہوں جو بڑا طویل عرصہ ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب یہ بتائیے کہ کیا ابتداء ہی سے آپ کا رجحان ظرافت کی جانب رہا اور یہ کہ اس صنف کو چننے کا سبّب کیا تھا؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ شروعات تو سنجیدہ شاعری سے ہی ہوئی تھی۔ ہمارے کالج میں ایک ہیڈ کلرک تھے حفیظ میرٹھی صاحب۔ وہ بڑے شاعر تھے تو ہم اصلاح کے لیے انہیں اپنی غزل دکھایا کرتے تھے لیکن وہ اصلاح کے فن سے واقف نہیں تھے اور وہ پوری غزل کاٹ کے ایک نئی غزل دے دیا کرتے تھے ہمیں۔ اچھا اس وقت میں مزاح میں لکھ تو رہا تھا لیکن اگر میں سیجیدہ پڑھتا بھی تھا تو لوگ ہنستے تھے تو میرے جو اساتذہ تھے جو ہمیں پڑھاتے تھے، انہوں نے مجھے مشورہ دیا اور کہا کہ آپ کیونکہ مزاح میں اچھا لکھتے ہیں اور اچھا پڑھتے بھی ہیں تو کیوں نہ پھر مزاح ہی میں لکھیں۔ دلاور فگار یہاں سے چلے گئے ہیں اور جو شعراء ہیں مزاح کے وہ بھی بزرگ ہیں تو آپ آئیں اس میں تو پھر میں نے یہ چن لیا۔ لوگوں نے بھی مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور میری شاعری کے ساتھ لہجے کو بھی پسند کیا جو کہ بالکل الگ ہے، کسی سے مماثلت نہیں ہے اس کی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بلاشبہ آپ کا لہجہ تو چار چاند لگا دیتا ہے اپ کے کلام کو۔اسی لیے تو لوگ آپ کو بار بار سننا چاہتے ہیں۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی، لوگوں کو میرا اس طرح پڑھنا پسند آتا ہے۔ میں دیکھتا ہوں اگر کوئی مزاح میں لکھتا بھی ہے تو اسے ایک دو بار بلا لیں گے لیکن میرا تو ایک ریکارڈ ہے اگر میں کسی انجمن سے جڑا ہوا ہوں تو وہ مجھے برابر ہی بلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ آتے رہیں آپ کو سب پسند کرتے ہیں۔ بس یہ سب اللہ کا کرم ہے اور اسی کی نظر ہے۔ اس نے بڑی عزتوں سے نوازا ہے مجھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹرصاحب یہ فرمائیے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ طنز و مزاح کے ذریعے معاشرے میں اصلاحی پیغام زیادہ موثر انداز میں پہنچایا جاسکتا ہے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ بالکل، یہ صحیح ہے۔ ہمارا جو طرز ہوتا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ سماج میں اصلاح ہو۔ میں آپ کو کچھ قطعات اور ایک نظم سناتا ہوں۔ دیکھیے کہ آج کل جو ہمارے یہاں نیتا (لیڈر) آتے ہیں تو ہم انہیں طنز و مزاح کے ذریعے کس طرح آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہیں۔ یہ چار مصرعے ہیں کہ طنزومزاح کی بات بھی کہہ رہا ہوں اور ایک اصلاحی پہلو بھی نمایاں ہے۔
عجب نہیں ہے جو تکّا بھی تیر ہو جائے
پھٹے جو دودھ تو پھر وہ پنیر ہو جائے
موالیوں کو نہ دیکھا کرو حقارت سے
نجانے کون سا غنڈہ وزیر ہو جائے
بے رخی کو بھی نوازش کی ادا کہنا پڑا
مصلحت تھی زہر پی کر بھی دوا کہنا پڑا
اور بے وقوفی کے انوکھے کارنامے دیکھ کر
اچھے خاصے لیڈروں کو بھی گدھا کہنا پڑا
اس مرتبہ بھی آئے ہیں نمبر تیرے تو کم
رسوائیوں کا کیا میری دفتر بنے گا تو
بیٹے کے سر پہ دے کے چپت باپ نے کہا
پھر فیل ہو گیا منسٹر بنے گا تو
کتنی دولت ہے نیتا کلّن پر
ان کے جیسے امیر بن جاتے
دستخط تو تمہیں بھی آتے ہیں
ابّا تم بھی وزیر بن جاتے
حنا خراسانی رضوی۔۔۔واہ! کس قدر سادگی سے آپ نے بڑی باتیں کہہ ڈالیں۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے یہاں زبان کا اسلوب کسی قدر مختلف ہوتا ہے، سادہ اور بول چال کی زبان میں ہوتا ہے تو کیا آپ کے سننے والوں کے لیے یہ بہتر ہوتا ہے اور کیا وہ اس انداز کو پسند کرتے ہیں؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ دراصل ہمارے یہاں آج کل زیادہ تر لوگ جو مشاعروں میں آتے ہیں وہ اُردو سے نابلد ہوتے ہیں تو اب ہمارا کام یہ ہے کہ اپنی شاعری کو اُن تک پہنچانا ہے اس لیے اگر بہت اسان الفاظ کا استعمال کیا جائے تو وہ اُن تک چلا جاتا ہے۔ اسی لیے ہم کوشش یہی کرتے ہیں کہ عام فہم زبان میں جسے وہ بولتے ہیں اس میں ہی کہا جائے۔ اور میں تو پڑھتے ہوئے کچھ اشارے بھی دے دیتا ہوں جس سے لوگ سمجھ بھی جاتے ہیں کہ یہ کیا بات کہہ رہے ہیں۔ اب آپ یہ قطعہ دیکھیے
کبھی اسے کبھی اُس پارٹی کو چھوڑ دیتا ہوں
میں سب کے واسطے اپنی خوشی کو چھوڑ دیتا ہوں
جہاں کے لوگ میری اصلیت کو جان جاتے ہیں
قسم اللہ کی میں اس گلی کو چھوڑ دیتا ہوں
ایک نظم بھی میں آپ کو سناتا ہوں۔ اُس کا عنوان ہے “لیڈر”
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ جی ضرور، میں ہمہ تن گوش گوش ہوں۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ اس میں ایک غنڈہ موالی ہے۔ الیکشن ہو رہا ہے اور وہ عوام سے مخاطب ہے کہ اب میں ٹھیک ہو گیا ہوں اور اب میں ہر کسی کے ساتھ محبت سے پیش اؤں گا بس آپ مجھے الیکشن میں جتوا دیجیے:۔
ذرا دیکھ لو کیا سے کیا ہو گیا ہوں۔
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہو گیا ہوں
کروں گا نہ مایوس میں غم زدوں کو
کھلاؤں گا کھانا میں فاقہ کشوں کو
خوشی دوں گا میں بے کسوں بے بسوں کو
دلاؤں گا میں نوکری دوستوں کو
غریبوں کا میں آسرا ہوگیا ہوں
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہوگیا ہوں
کسی کو میں لوٹوں یہ عادت نہیں ہے
کسی سے بھی اب مجھ کو نفرت نہیں ہے
غلط کار لوگوں کی صحبت نہیں ہے
بتاؤ کہاں میری عزّت نہیں ہے
گناہگار تھا پارسا ہوگیا ہوں
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہوگیا ہوں
میری دید ہے آپ کی ایک نظر پر
بلندی کی جانب ہے قسمت سفر پر
ہر ایک لیڈر آتا ہے ہر روز گھر پر
منسٹر کا سایہ بھی ہے میرے سر پر
حریفوں کے حق میں بلا ہوگیا ہوں
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہوگیا ہوں
مجھے کامیابی کا سہرا عطا ہو
مجھے سرخ روئی کا تحفہ عطا ہو
میں قطرہ سہی مجھ کو دریا عطا ہو
محبت کے دامن کا سایہ عطا ہو
تو غلام آپ کا ہوگیا ہوں
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہوگیا ہوں
جدھر تم رہو گےاُدھر میں رہوں گا
تمہاری خاطر جیوں گا مروں گا
تمہارے خلاف اب نہ کچھ سن سکوں گا
خدا کی قسم جو کہو گے کروں گا
میں اب آدمی کام کا ہوگیا ہوں
الیکشن میں میں بھی کھڑا ہوگیا ہوں
حنا خراسانی رضوی۔۔۔واہ بہت عمدہ۔ آپ کی تصانیف کی طرف آتے ہیں۔ غالباً آپ کی سات کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی ہاں، چھ کتابیں منظرِ عام پر آئی ہیں۔ ایک تو ” ہنس کر گزار دی، “نوائے رفتہ”، “روتا ہے کس لیے” اور ایک کتاب ہے “ڈبل رول” پھر ایک “پاپولر کلام” ہے اور ایک کتاب آئی ہے “غالب اور میں” جو ہندی میں آئی ہے۔ ابھی میری ایک اور کتاب آئی ہے انشائیوں پر مبنی ” یادوں کے دریچے” میں اس کا ٹائٹل دکھاتا ہوں آپ کو۔ حال ہی میں اس کا اجراء ہوا ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ آپ کی ایک کتاب ” منشی شیر کہا بوم میرٹھی” کے نام سے بھی ہے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ جی یہ اصل میں ایک شاعر تھے بوم میرٹھی تو اُن کا کلام میں نے یکجا کیا تھا اور اسے کتابی شکل دی تھی۔ وہ بزرگ شاعر تھے اور بہت اچھے شاعر تھے۔ دنیا بھر میں مقبول تھے اور سب ہی انہیں یاد کرتے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ میرٹھی صاحب دنیا بھرمیں اُردو زبان سے جڑے لوگ آپ کی شاعری کو پسند کرتے ہیں اور خوب سراہتے ہیں، یہ بتائیے کہ گھر والوں کی طرف سے کیا حوصلہ افزائی ہوتی ہے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔گھر میں میری وائف ہیں اُن کی وجہ ہی سے میں سفر کر پاتا ہوں۔ مشاعروں میں جاتا ہوں۔ وہ بچّوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں گھر پہ۔ میری تین بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے۔ میری شادی کافی لیٹ ہوئی ۱۹۹۳ء میں ہوئی تھی اور اُس وقت دبئی کے مشاعرے میں میری پہلی انٹری ہوئی تھی۔ وہ مشاعرہ سلیم جعفری صاحب کا تھا۔ اسی دوران میری شادی ہوئی تھی۔ میری وائف کا تعلق سہارنپور سے ہے اور وہ بہت نیک خاتون ہیں۔ میری ایک بڑی بیٹی ادینہ شاہ، سائیکلوجسٹ ہے اور دوسری راحمہ شاہ، ایم بی اے کررہی ہے اور بیٹا، سید احمد شاہ شارٹ فلمیں بناتا ہے۔ شارٹ فلم فیسٹیول میں بہت سی فلمیں وہی بنا رہا ہے۔ آپ سید احمد شاہ کے نام سے نیٹ پر سرچ کریں گی تو مل جائے گا۔ بچّوں کو میرے اشعار تو یاد ہیں، انہیں بس اس حد تک دلچسپی ہے۔ پھر آج کل کے جو حالات چل رہے ہیں تو سب اپنی اپنی پڑھائی میں اور کام میں لگے ہیں اور کامیاب ہیں۔ لیکن انہوں نے مجھے وقت دیا ہوا ہے کہ آپ شاعری کرتے رہیں اور مشاعرے پڑھتے رہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے پی ایچ ڈی کے مقالے کا موضوع بڑا دلچسپ ہے ” بیسویں صدی میں طنزیہ اور مزاحیہ شاعری، ایک نفسیاتی مطالعہ” اس کے بارے میں کچھ بتائیے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ موجودہ دور کے جو بزرگ شعراء ہیں اس میں اُن سبھی کا کلام بھی ہے اور اُن کے بارے میں بھی ہے۔ یہ کتاب منظرِ عام پر آگئی ہے۔ پی ایچ ڈی کیے ہوئے تو مجھے سالوں ہوگئے ہیں لیکن مجھے لوگوں نے تحریک دی کہ آپ لے آئیں کتاب کو تو یوں وہ منظرِ عام پر آگئی۔ ہمارے یہاں حیدراباد میں زبردست مقبول مشاعرہ ہوتا تھا۔ وہاں ۸۴ء سے میرا جانا تھا اور اس میں بڑے انشائیہ نگار مجتبی حسین، فیاض احمد فیضی صاحب اور کئی دوسرے لوگ آتے تھے۔ فیاض صاحب بومبے میں رہتے ہیں اور بہت اچھے انشائیہ نگار ہیں۔ اُن سے دوستی ہے تو انہوں نے مجھے لاک ڈاؤن میں تحریک دی کہ تم اتنا اچھا لکھتے ہو تو لکھا کرو۔ تو اس طرح مختلف جرائد میں میرے انشائیے چھپنے لگے۔ میں کبھی کبھی لکھ دیا کرتا تھا تو انہوں نے کہا کہ کتابی شکل میں بھی اسے سامنے لاؤ۔ بہرحال اب یہ کتاب منظرِ عام پر آگئی ہے۔ دلّی میں اس کا اجراء تھا اور لوگوں نے اسے پسند بھی کیا۔ مختلف ویب سائٹ پر موجود ہے آپ کو مل جائے گی۔ ریختہ پر بھی ہے۔
ابھی حال ہی میں معصوم مراد آبادی صاحب کی ایک کتاب آئی ہے ” نگینے لوگ” اس میں انہوں نے انڈیا کے معتبر اور بڑے شعراء کا ذکر کیا ہے تو انہوں نے مجھے بھی شامل کیا ہے۔ یہ اُن کی بڑی عنایت ہے۔ محبت کرتے ہیں سب۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب آپ کے پرستار تو دنیا میں ہر جگہ ہی ہیں جو آپ کی شاعری کو اور آپ کے انداز کو بے انتہا پسند کرتے ہیں۔ آپ نے جس طرح فنِ ظرافت کو سرشار کیا ہے وہ بڑی خوبی ہے۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ دیکھیےحنا صاحبہ! میرے جو مراسم ہیں اور جو لوگ مجھ تک پہنچتے رہے ہیں، ابھی بھی ملنے آتے ہیں اور بلاتے رہتے ہیں پروگراموں میں۔ ہمارے حیدرآباد سے ایک اُردو چینل تھا ای ٹی وی اُردو، اُس پہ تو روز مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ اب وہ بند ہوگیا ہے۔ پھر یہ کپل شرما شو، اُس میں بھی گیا ہوں میں۔ میں مشاعروں کے ساتھ ساتھ ہندی کے مشاعروں کوی سمیلن میں بھی برابر جاتا رہتا ہوں۔ میں نے بتایا کہ کنیڈا گئے تھے مشاعرے میں تو وہاں سب ہی پنجابی کے شاعر تھے، میں اکیلا اُردو کا شاعر تھا۔ حالانکہ وہ پنجابی ہیں لیکن اُن کو بھی پسند آتی ہے اُردو شاعری اور کیونکہ یہ عام فہم زبان میں ہے تو سمجھ میں بھی آتی ہے۔ میں آپ کو ایک قطعہ سناتا ہوں
وقتِ نکاح ہم بھی تھے دولہا بنے ہوئے
بلوایا عورتوں نے سلامی کے واسطے
ہم رخصتی کے وقت یہی کہہ کے چل پڑے
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب میں آپ سے گزارش کروں گی کہ آپ اپنا کوئی پسندیدہ کلام بھی ہمیں سنائیے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ بالکل! میں آپ کو سناتا ہوں۔ ویسے تو شاعر کو اپنی سب ہی تخلیق پسند ہوتی ہے لیکن میں آپ کو ایک نظم سناتا ہوں جو مجھے پسند ہے۔ دیکھیے کہ:۔
ایک بیوی کئی سالے ہیں خدا خیر کرے
کھال سب کھیچنے والے ہیں خدا خیر کرے
میرا سسرال میں کوئی بھی طرفدار نہیں
اُن کے بھی ہونٹوں پر تالے ہیں خدا خیر کرے
کوچہ ء یار کا طے ہوگا سفر اب کیسے
پاؤں میں چھالے ہی چھالے ہیں خدا خیر کرے
تن کے وہ اجلے نظر آتے ہیں جتنے یاروں
من کے وہ اتنے ہی کالے ہیں خدا کیر کرے
کیا تعجب ہے کسی روز ہمیں بھی ڈس لیں
سانپ کچھ ہم نے بھی پالے ہیں خدا خیر کرے
ایسی تبدیلی تو ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی
اب اندھیرے نہ اجالے ہیں خدا خیر کرے
ہر ورق پر ہے چھپی غیر مہذب تصویر
کتنے بیہودہ رسالے ہیں خدا خیر کرے
پاپولر ہاتھ میں کٹا ہے تو بستے میں ہے بم
بچّے بھی کتنے جیالے ہیں خدا خیر کرے
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ کیا کہنے۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ شکریہ، مزاحیہ شاعر کے ٹاپک تو محدود نہیں ہوتے۔ وہ سب ہی پر کہتا ہے، نیتاؤں پر، سماج پر اور اپنی خانگی زندگی پر۔ ایک نظم میں پیش کرتا ہوں اس کا عنوان ہے ” اب ترا شہر چھوڑ جاؤں گا” ایک حضرت ہیں جو ہزار سال سے سسرال میں رہ رہے ہیں۔ ہوا یہ کہ اب سالے سالیوں سے ان کے جھگڑے ہوتے رہتے ہیں تو وہ سسرال چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں تو شکایتی لہجے میں اپنی بیوی کو بتا رہے ہیں کہ وہ سسرال کیوں چھوڑ کے جانا چاہ رہے ہیں۔
ایک تم ہی ہوتیں جان کی دشمن
پھر مجھے کوئی فکر ہی کیا تھی
سازشیں روز کرتے رہتے ہیں
میری سالی بھی اور سالے بھی
کل سرِ شام ہی کی بات تو ہے
تیرے ابّا نے مجھ کو گالی دی
شاعروں میں ذلیل کرنے کو
مجھ پر پھینکے گئے ٹماٹر بھی
اب ترا شہر چھوڑ جاؤں گا
لوٹ کر پھر کبھی نہ آؤں گا
اے میری گل بدن کی بہری ماں
سن لیا تو نے کیا کہا میں نے
جوتے کھانے کی کوئی حد بھی ہے
پالیا عشق کا صلہ میں نے
تہمتیں ساری کر گیا برداشت
سن لیا سب برا بھلا میں نے
روک سکتا نہیں کوئی مجھ کو
کر لیا ہے یہ فیصلہ میں نے
اب تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا
لوٹ کر پھر کبھی نہ آؤں گا
ہائے میری برادری کے لوگ
دیکھتے ہیں مجھے رقابت سے
میں نے جن کو محبتیں دی ہیں
وہ بھی تکتے ہیں چشمِ نفرت سے
سابقہ مجھ کو پڑتا رہتا ہے
روز ایک دن فتنہ ء قیامت سے
ذلتیں آئے دن کروں برداشت
باز آیا میں ایسی ہمت سے
اب تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا
لوٹ کر پھر کبھی نہ آؤں گا
جس پہ نازاں ہیں تیرے رشتے دار
وہ جہالت کہاں سے لاؤں میں
روز روز اپنے سر کو تڑواؤں
ایسی ہمت کہاں سے لاؤں میں
سب سے میں ایک ساتھ بھڑ جاؤں
وہ شجاعت کہاں سے لاؤں میں
جس کے منہ سے میں گالیاں دلواؤں
ایسی عورت کہاں سے لاؤں میں
اب تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا
لوٹ کر پھر کبھی نہ اؤں گا
کاروبارِ فریب میں گم ہیں
رہبرانِ وطن سے جی گھبرائے
ڈھونڈتے رہتے ہیں بنائے فساد
شیخ اور برہمن سے جی گھبرائے
متاشاعر ہے کون شاعر کون
بحثِ اہلِ سخن سے جی گھبرائے
پاپولر ہوٹلوں میں جاؤں اگر
تو سیاست کے فن سے جی گھبرائے
اب تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا
لوٹ کر پھر کبھی نہ آؤں گا
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ واہ! مزاحیہ شاعری میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کی نمائندگی کم نظر آتی ہے۔ آپ کی نظر میں اس کی کیا وجہ ہے؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ اصل میں کچھ ٹاپک اس میں محدود ہیں عورتوں کے لیے۔ زیادہ تر جو ٹاپک ہے وہ سیاست کے ہوتے ہیں یا پھر گھریلو زندگی پر یا بیوی پر۔ میں آپ کو دکھاؤں کہ کس طرح کے ٹاپک۔
ع چھ مہینے ہی میں یہ حال کیا بیوی نے
سال بھر بعد تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اس طرح رکھتی ہے وہ ہم کو دبا کر گھر میں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ہمارے یہاں حیدرآباد میں ایک شاعرہ تھیں، نانی، وہ بس غزلوں تک ہی رہیں۔ زیادہ مقبول نہیں ہو پائیں۔ البتہ کراچی میں تو ہیں اور نثر میں بھی ہیں جو انشائیہ وغیرہ بھی لکھتی ہیں البتہ اُن کا انداز مختلف ہے لیکن ہاں! شاعری کی طرف نمائندگی کم ہے خواتین کی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ظرافت کا مستقبل آپ کیسا دیکھتے ہیں؟
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ دیکھیے! ظرافت کا مستقبل یہ ہے کہ ہمارے ہندوستان میں جو مزاح میں لکھ رہے ہیں وہ محدود ہی ہیں اور ان کا کلام بھی اس طرح کا ہے کہ وہ ایک دو بار سنے جاتے ہیں۔ تو جس طرح کے شاعر آنے چاہیئے اس طرح کے آ نہیں رہے لیکن اس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ بہت سے لوگ مجھ سے بھی رابطے میں ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہم کیا کریں تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ آپ اس طرف آئیں اور کچھ لکھیں۔ اور لکھ بھی رہے ہیں لیکن مشاعروں کی حد تک۔ آپ بھی مشاعرے دیکھتی ہوں گی۔ طنز و مزاح میں آرہے ہیں نئے نئے لوگ لیکن بس وہ اپنے حساب سے کامیاب ہیں۔ ہاں ہندی میں تو بے شمار ہیں۔ اس میں لطائف اور چٹکلے وغیرہ یہ ساری چیزیں آجاتی ہیں۔ اور پھر وہ لوگ بحر سے جڑے ہوئے بھی نہیں ہوتے۔ لطیفے اور چٹکلے سنائے اور واہ واہ لوٹ لی۔ لیکن اُن میں بھی بہت سے ایسے شاعر ہیں جو ہندی میں وزن میں لکھتے ہیں اور اب اردو کی طرف بھی آنے لگے ہیں۔ تو ملے جلے جو پروگرام ہوتے ہیں کوی سمیلن مشاعرہ اُس میں اس طرح کے شاعر بھی ہوتے ہیں تو اس سے یہ کمی کسی حد تک پوری ہوجاتی ہے۔
ایک بات یہ ہے کہ ہمارے جو سامعین ہیں، مسلم بھی اور غیر مسلم بھی، اُن کا بھی اب اُردو سے جڑاؤ نہیں ہے۔ وہ نابلد ہی ہیں تو اس لیے وہ بھی ہلکا پھلکا سننا چاہتے ہیں۔ تو اب ہمارے مشاعروں میں اسی طرح کے سامعین نظر آتے ہیں۔ آپ سب لوگ باہر رہتے ہیں اور اپنی زبان سے جڑے ہوئے بھی ہیں۔ اسی لیے ہمیں بہت مزہ کراچی میں پڑھنے میں آیا یا پھر باہر امریکہ وغیرہ میں جہاں ہمارے دوست احباب ہیں جنھوں نے انجمنیں قائم کی ہوئی ہیں وہ شاعری کو سمجھتے بھی ہیں اور اس کے لیے کام بھی کررہے ہیں۔ وہاں ہماری محفلیں اور نشستیں ہوتی ہیں اور اب یہ ماحول بڑھتا جارہا ہے۔ آپ تو خود بھی باہر رہتی ہیں، آپ کو بھی علم ہے کہ سب ماشاء اللہ وہاں اپنے وطن کے لیے بھی کام کرتے ہیں اور زبان کے لیے بھی۔
اس سلسلے میں میں مبارکباد دوں گا ورثہ کو۔ ہمارے رئیس صاحب نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔ ہندوستان سے بہت سے نمایاں اور اچھے لوگ ہیں جن سے وہ اور نصیر بھائی کام لے رہے ہیں ماشاء اللہ۔ اُن سے فون پر بھی بات چیت ہوتی رہتی ہے اور میں انہیں مبارکباد دیتا رہتا ہوں کہ بہت اچھا کام کررہے ہیں۔ ہمارے تو بڑے کرم فرما ہیں، محبت کرتے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ جی مجھے علم ہے۔ شکریہ ڈاکٹر صاحب ہمیں وقت دینے کے لیے۔ آپ سے گفتگو کر کے بہت اچھا لگا۔
پاپولر میرٹھی صاحب۔۔۔ مجھے بھی بہت اچھا لگا آپ سے بات کر کے۔
دعا ہے کہ سب حالات بہتر ہوں انشاء اللہ۔ محبتیں ہی قائم رہتی ہیں نفرتیں تو ختم ہوجاتی ہیں۔ اللہ حافظ
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ آمین۔ اللہ حافظ۔