ابنِ صفی بہ زبانِ احمد صفی

از۔ حنا خراسانی رضوی (نمائندہ ورثہ۔سویڈن)

لکھنے کو لکھ رہے ہیں غضب کی کہانیاں
لکھی نہ جاسکی مگر اپنی ہی داستاں (ابنِ صفی)

محترم قارئین! السّلام علیکم و آداب عرض ہے۔
بعد از سلام عرض کروں کہ اس شمارے میں شامل یہ انٹرویو اپنی نوعیت میں مختلف ہے۔ اس میں ہم نے اُردو کے مایہ ناز اور ہر دل عزیز ادیب جناب ابنِ صفی صاحب کے حوالے سے اُن کے فرزند جناب احمد صفی صاحب سے گفتگو کی ہے جو خود بھی ادبی حوالہ رکھتے ہیں اور ادبی حلقوں میں سرگرمِ عمل بھی رہتے ہیں۔
ابنِ صفی صاحب کو اس دنیائے فانی سے گزرے ہوئے اس سال ۲۶ جولائی کو پینتالیس برس ہوگئے مگر کیا کمال کی بات ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والوں میں اور ستاروں میں بدستور مقبول و معروف ہیں۔ حقیقت تو یہی ہے کہ دنیائے اُردو ادب میں سِری ادب یا جاسوسی ادب کی جب بھی بات کی جائے گی تو اُس کا محور ابنِ صفی صاحب کی ذات و تخلیقات ہوں گی۔ بقولِ جناب عبید اللہ بیگ صاحب ” ابنِ صفی نے ایک ایسا کارنامہ انجام دیا جو دوسرے سکّہ بند لکھنے والے بھی انجام نہ دے سکے تھے اور وہ یہ کہ لوگوں کو مطالعے پر مجبور کردیتے تھے۔ انہوں نے لوگوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا کیا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ اتنی بڑی خدمت ہے کہ جس نے ابنِ صفی کو نہ صرف ہمارے دلوں اور ذہنوں میں محفوظ کر رکھا ہے بلکہ ہماری اُردو ادب کی تاریخ میں اُن کا کوئی ہمسر نہیں۔”
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ السلام علیکم احمد صفی صاحب، ورثہ میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ وعلیکم السلام حنا، سب سے پہلے تو آپ کا اور ورثہ کی پوری ٹیم کا شکریہ کہ جنھوں نے موقع دیا کہ میں یہاں پر آؤں اور اپنے ابّو ابنِ صفی صاحب کے بارے میں بات کروں۔
اُن کے بارے میں بہت ساری چیزیں شائع ہوچکی ہیں اور چھپ چکی ہیں جو کچھ بھی ہے وہ عموماً سب کو معلوم ہی ہے۔ کچھ ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن پر سے وقت کی گرد ہٹتی ہے تو کبھی کبھی کوئی نئی چیز برآمد ہو جاتی ہے تو میں بیان کردیتا ہوں۔ ہوسکتا ہے اس انٹرویو کے دوران کچھ ایسی یادوں پر سے گرد چھٹے اور کچھ نئی باتیں پڑھنے والوں کو معلوم ہوجائیں تو اس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بڑی نوازش احمد صاحب، گفتگو کا آغاز ہم اپنے یگانہ اور بے مثال ادیب جناب ابنِ صفی صاحب کی ابتدائی زندگی کے متعلق کچھ جاننے سے کرتے ہیں، تو اس سلسلے میں کچھ عرض کیجئے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی بالکل، سب سے پہلی بات تو یہ کہ ابّو کا اصل نام اَسرار احمد تھا اور وہ الہٰ آباد کے ایک قصبے نارا میں پیدا ہوئے تھے۔ نارا ایک گاؤں تھا اور بہت مشہور تھا اُس زمانے میں بھی کیونکہ داغ دہلوی کے شاگرد اور اُن کے جانشین جناب نوح ناروی صاحب، جو ابّو کے ماموں تھے، وہاں پر رہتےتھے۔ اُن کی وجہ سے پورے ہندوستان میں نارے کی دھوم پہلے ہی مچ چکی تھی۔ نوح ناروی صاحب بڑے بڑے مشاعروں میں جاتے تھے اور داغ کے شاگرد کی حیثیت سے بہت مشہور تھے۔
ابّو ۱۹۲۸ء میں پیدا ہوئے تھے لیکن ۲۶ جولائی اُن کی تاریخِ پیدائش نہیں ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی کہانی ہے جو آپ کے رسالے کے توسّط سے لوگوں تک پہنچ جائے گی۔ ابّو نے کبھی اپنی تاریخِ پیدائش کے اصل ریکارڈ کو محفوظ نہیں کیا۔ جو اُن کی اسناد ہیں اور جو مختلف قسم کے دستاویزات ہیں، اُن سب میں مختلف تاریخِ پیدائش لکھی ہوئی ہے۔ اسکول کی دستاویزات میں ۱۲ مئی بھی نظرآتا ہے اور کچھ میں اپریل بھی ملتا ہے۔ اصل میں ہوا یہ کہ جب ابّو کا انتقال ہوا تو ہم لوگ اپنے غم میں نڈھال تھے تو اُن کے چاہنے والوں نے جاکر، جس کو کہتے ہیں کہ قبر کا ٹیک اوور کرلیا اور فوراً قبر کو پکّا بھی کرادیا۔ اس کی وجہ یہ تھی جو چاہنے والے قریبی تھے وہ یہ بات جانتے تھے کہ ہمارے خاندان میں قبروں کو عموماً پکّا کرانے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ ہمارے دادا کی قبر کا بھی نہیں پتہ اس کا کتبہ بھی بہت عرصے پڑا رہا لیکن اس پہ لگایا نہیں گیا۔ تو پھر یہ ہوا کہ جب ابّو کا انتقال ہوا تو اُن لوگوں نے سوچا کہ یہ گھر والے تو شاید قبر محفوظ نہ رکھیں تو انہوں نے جلد از جلد قبر بنوا دی۔ ہم جب دوسرے دن صبح وہاں پہنچے تو نہ صرف قبر موجود تھی بلکہ اس پہ کتبہ بھی لگا ہوا تھا۔ اب تاریخ کا یہ ہوا کہ اُن لوگوں کو پتہ تھا کہ تاریخِ پیدائش کے سلسلے میں ہم ہی لوگ پریشان ہیں تو انہوں نے کہا کہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۰ء کو انتقال ہوا تو تاریخِ پیدائش ۲۶ جولائی ۱۹۲۸ء لکھوا دی جائے۔ یوں یہ تاریخ ہی چل پڑی۔ اب ہم سے کوئی پوچھے کہ ہم جاکے اُس کتبے کو توڑیں اور کچھ اور لکھوائیں تو یہ ہمیں مناسب نہیں لگا۔ اور دوسرے یہ کہ اصل تاریخ کیا ہے تو ہم سب ٹُک ٹُک دیدم دم نہ کشیدم والی بات، ہمیں پتہ ہی نہیں ہے، نہ ابّو نے محفوظ کیا اور نہ ہمارے بڑوں کو پتہ تھا۔ تو یہ ایک مسئلہ تھا لیکن راشد اشرف جو ایک محقّق ہیں، اُن کی تحقیق سے یہ بات کچھ ثابت ہوتی ہے کہ اپریل کی ۲۸ تاریخ رہی ہوگی البتہ یہ طے ہے کہ ابّو ۲۶ جولائی۱۹۸۰ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اسی لیے اب جو ابن صفی کے چاہنے والے ہیں اس دن کو سالگرہ یا برسی نہیں کہتے بلکہ اُس دن کو “یومِ صفی” کہتے ہیں۔
ابّو نے ابتدائی تعلیم وہیں نارے سے حاصل کی۔ اُن کے والد، ہمارے دادا ملازمت کے سلسلے میں زیادہ تر سفر میں رہتے تھے۔ مختلف جگہوں پر اُن کی پوسٹنگ ہوتی رہتی تھی۔ ابّو جب بڑی کلاسوں میں پہنچے تو ہماری دادی اُن کو لے کے حسن منزل الہٰ آباد میں منتقل ہوگئیں اور پھر ابّو کی اور ہماری پھوپھی کی تعلیم وہیں پر ہوتی رہی۔ ابّو نے وہاں، ڈی اے وی کالج سے ایف اے کا امتحان دیا اور پھر اس کے بعد الہٰ آباد یونیورسٹی میں اُن کا داخلہ ہوگیا لیکن یہ ۱۹۴۷ء کا زمانہ تھا اور ہر طرف بہت زیادہ فسادات ہورہے تھے تو دادا نے رشتے داروں کے کہنے پر ابّو کو یونیورسٹی سے اٹھا لیا۔ بعد میں ابّو نے اپنا بی اے آگرہ یونیورسٹی سے پرائیوٹ طالبعلم کے طور پر مکمل کیا۔ اُس زمانے میں بی اے کے لیے تدریسی تجربے کی ضرورت ہوتی تھی تو اس کے لیے انہوں نے دو سال تک ایک اسکول میں پڑھایا بھی جس کا نام یادگارِ حسین اسکول تھا پھراس کے بعد انہیں ڈگری ملی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب نے ہندوستان سے کب ہجرت کی اور کیا اُن کی شادی ہجرت کے بعد پاکستان میں ہوئی؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ ابّو کی ایک شادی جو تھی وہ وہیں انڈیا میں ہوئی تھی۔ وہ بھی ہماری خالہ ہی تھیں، امّی کی فرسٹ کزن تھیں۔ وہ بہت بیمار تھیں اُن کو ٹی بی ہوگئی تھی اور اس زمانے میں ٹی بی ناقابلِ علاج مرض تھا۔ ہمارے دادا تقسیم سے پہلے پاکستان میں موجود تھے یعنیٰ سمجھیے کہ ایک طرح سے وہ ہجرت کر ہی چکے تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا پاکستان آنے کا۔ ہمارے ابّو، دادی اور پھوپھی، ابّو کی پہلی بیوی کی بیماری کی وجہ سے وہیں پر رکے ہوئے تھے اور پھر کچھ اُن کی تعلیمی سرگرمیاں بھی تھیں۔ اپنی پہلی بیوی کے انتقال کے بعد ابّو نے ۱۹۵۲ء میں ہجرت کی اور پھر۱۹۵۳ء میں ہماری والدہ سے اُن کی راولپنڈی میں شادی ہوئی۔ وہ اُس وقت وہیں رہتی تھیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے خانوادے کی طرف آتے ہیں، آپ لوگ کتنے بہن بھائی ہیں؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ ہم لوگ سات بہن بھائی تھے۔ چار بھائی اور تین بہنیں۔ تھے، میں نے یوں کہا کہ ہمارے بڑے بھائی ڈاکٹر ایثار کا انتقال ۲۰۰۵ء میں ہوا۔ کسی قسم کا وائرس ہسپتال میں ڈیوٹی کے دوران اُن میں سرایت کرگیا تھا جس کے بعد وہ دس دن کوما میں رہ کے رحلت کرگئے تھے۔ یہ کووڈ وغیرہ سے بہت پہلے کی بات ہے۔ اُس وقت لوگوں کو پتہ بھی نہیں تھا کہ کیا بیماری اُن کو لگی ہسپتال میں، بہرحال۔۔۔ اب ہم تین بھائی ہیں۔ سب سے بڑی بہن ہیں نزہت سلمان، اُن سے چھوٹے ڈاکٹر ایثار مرحوم، پھر ابرار احمد ہیں ، اُن کے بعد ثروت اسرار صدیقی ہیں، اُن کے بعد میرا نمبر ہے پھرافتخار صفی ہیں جو سب سے چھوٹے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ایک بیٹے کی نظر سے آپ اپنے والد کو ایک تخلیق کار اور ادیب کی حیثیت میں کیسے دیکھتے ہیں؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ دیکھیے! بیٹے کی نظر سے دیکھوں گا تو بہت جانبداری کی بات ہو جائے گی۔ اس لیے دو نظریں رکھنی پڑتی ہیں، ایک تو یہ کہ میں اُن کا فرزند ہوں اور دوسرے، اُن کا قاری بھی ہوں اور چاہنے والا فین بھی ہوں۔ بیٹے کی نظر سے میں بتاؤں تو ایک فخر کی اور خوشی کی بات ہوتی ہے کہ جب ہم دیکھیں کہ جن کو دنیا چاہتی ہے، جن کے لیے اب تک دعائیں کرتی ہے، اُن کے انتقال کے چوالیس سالوں کے بعد بھی اُن کو یاد کیا جارہا ہے تو اس سے بڑا فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم اُن کی اولادیں ہیں۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے ہمارے لیے۔ اورایک فین کی حیثیت سے دیکھیں تو بڑا مزہ آتا ہے کہ کیا انہوں نے لکھا اور اتنا اچھا لکھا کہ اب تک بڑے بڑے لوگ محفلوں میں کھل کے کہتے ہیں کہ ہم نے لکھنا ابنِ صفی سے سیکھا تو یہ بہت بڑی بات ہے۔
بیٹے کی حیثیت سے ایک اور چیز حنا میں آپ کو بتاؤں کہ اُن کا ایک ہمارے لیے جو بہت بڑا تحفہ ہے وہ یہ کہ اُن کی نصیحتوں کا در نہیں بند ہوا۔ مطلب یہ کہ آج بھی ہم اُن کی کوئی کتاب کھولتے ہیں اور پیشِ لفظ پڑھنا شروع کرتے ہیں تو اُن کا لہجہ کان میں گونجتا ہے۔ لگتا ہے کہ وہ ہم سے مخاطب ہیں اور اُن کی نصیحتیں براہِ راست آرہی ہیں۔ والدین جب گزر جاتے ہیں تو شاید اس طریقے سے اُن کی نصیحتوں کا سلسلہ جاری نہیں رہ پاتا، یادیں رہتی ہیں لیکن یہاں یہ ہے کہ سب اتنا تازہ ہوتا ہے کہ جیسے ہی آپ نے ناول کھولا اور پہلا حصّہ پڑھنا شروع کیا تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ براہِ راست ہم سے مخاطب ہیں اور چیزیں سمجھا رہے ہیں۔ تو یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا تحفہ ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ واہ! گویا آپ لوگ ابھی تک اُن کے حصار میں ہیں؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ بالکل بالکل! اور میں کیا، میں تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا اتنے بڑے بڑے اُن کے قارئین ہیں جو اب تک اُن کو محبت سے یاد رکھتے ہیں۔ اُن میں ایک بڑی تعداد اُن کی ہے جن کو میں حُفّاظِ کرام کہتا ہوں، مطلب وہ حافظ ہیں ابّو کے۔ میں پھنس جاتا ہوں کبھی جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ یہ بات کون سے ناول میں تھی تو پھر میں وہ جو دوست اور بزرگ ہیں اُن کے پاس جاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ بھئی آپ بتائیے کہ یہ کون سے ناول میں تھا۔ وہ ایک منٹ میں بتا دیتے ہیں کہ فلاں ناول میں جاکر دیکھ لو اور وہ صحیح ہوتا ہے۔ لوگ ابّو سے اتنی محبت کرتے ہیں ہم تو پرستاری کا حق بھی ادا نہیں کرپاتے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بلاشبہ اپنے پڑھنے والوں میں مقبولیت کے لحاظ سے تو برصغیر پاک و ہند میں ابنِ صفی صاحب کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ میں خود بھی یہ فخر محسوس کرتی ہوں کہ ہم اُس نسل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے ابنِ صفی صاحب کو پڑھا۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ یقیناً۔۔۔ میں آپ کی بات میں تھوڑا سا اضافہ کروں گا کہ وہ نسلیں اب بھی پڑھ رہی ہیں جنھوں نے ابنِ صفی کو اُس وقت پڑھا جب وہ دنیا میں موجود تھے۔ بس اُس وقت یہ تھا کہ ایک ناول پڑھا اب انتظار کر رہے ہیں کہ دیکھیں اگلے مہینے کیا آتا ہے اور اب یہ ہے کہ سارا خزانہ موجود ہے جہاں سے چاہیں اٹھا کے پڑھ لیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ درست کہا آپ نے۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے ناولوں میں، خواہ وہ جاسوسی دنیا ہو یا عمران سیریز، دونوں میں ہمیں کمال کی مہم جوئی، تجسّس، حیرت انگیزی اور جرم و سزا کی باریکیاں نظر آتی ہیں تو ان سب پر انہوں نے کیسے عبور حاصل کیا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ عمومی طور پر تو میں یہ کہوں گا کہ جب آدمی کوئی چیز لکھتا ہے تو اس میں اس کی دلچسپی شامل ہوتی ہے۔ سِری ادب میں ابّو کی جو دلچسپی تھی وہ پہلے ہی سے تھی۔ بہت ہی گہرا مطالعہ تھا اُن کا انگریزی ادب کا بلکہ انہوں نے فرانسیسی ادیبوں کی بھی ترجمہ شدہ کتابیں جو انگریزی زبان میں تھیں، پڑھ رکھی تھیں اور اُن کا سیرِ حاصل مطالعہ تھا اُن پہ۔ تو جس وقت یہ موقع آیا کہ اُردو پر ایک برا وقت آیا کہ بہت ہی فحش اور بازاری قسم کا لٹریچر کتابوں میں آرہا تھا۔ تو کہا یہ جانے لگا کہ اگر کوئی ناول لکھتا ہے اور اس کے اندر یہ عناصر نہ ہو تو وہ ناول کامیاب نہیں ہوسکتا اور نہ ہی وہ بک سکتا ہے۔ اُس وقت ابّو نے اُسے چیلنج کی طرح لیا اور آج اُن کے پرستار، پچھلی نسل کے لوگ اور اُن کے بعد آنے والے، یہ کہتے ہیں کہ ایک بہت بڑے سیلاب کو ابنِ صفی صاحب نے روک دیا کیونکہ جس چیز کے پیچھے لوگ جارہے تھے اس کے برعکس ابّو کی کتابیں ایسی تھیں جن کو آپ گھر میں لاکر آرام سے پڑھ سکتے تھے۔ اُن میں کوئی ایسی بری چیز نہیں تھی بلکہ انہوں نے اُس میں ایک دلچسپی کا معیار پیدا کیا تو وہ ایک بہت ہی منفرد چیز بن کے لوگوں کے سامنے آئی اور انہوں نے اسے فوراً قبول کیا۔ تو میں یہ کہوں گا کہ جی ہاں! اُن کو مہماتی ادب، مہم جوئی اور سِری ادب سے بے حد دلچسپی تھی تو وہاں سے آیا اُن میں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ابنِ صفی صاحب کو فرانس پسند تھا، تو کیا واقعی ایسا ہی تھا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ خالی فرانس پسند تھا۔ اُن کو دنیا کے بہت سے علاقوں سے دلچسپی تھی۔ جغرافیہ ویسے تو اُن کا مضمون نہیں تھا لیکن اس سے اُن کو بہت زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ مختلف علاقوں کے بارے میں پڑھتے رہتے تھے اور اس کے بعد وہ اس کے اوپر لکھتے تھے۔ ہاں یہ ہے کہ فرانس کا انہوں نے کافی ذکر کیا ہے اپنے ناولوں میں۔ میرا یہ خیال ہے چونکہ وہ نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر رہے اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کو ہمیشہ فرانسیسی نظام نے چیلنج کیا۔ یہ لوگ آپس میں اکثر برسرِ پیکار بھی رہے مگر وہ ایک الگ سیاست تھی تو مجھے لگتا ہے کہ ابُو کے ناولوں میں نوآبادیاتی نظام کو نیچا کرنے کے لیے فرانس کی بڑائی تھوڑی زیادہ نظر آتی ہے کہ عمران فرانسیسی بھی بول سکتا ہے، جیمسن بھی بول سکتا ہے تو اس سے ایک احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ صرف انگریزی کی مار نہیں مار رہے اور اُبّو کو ظاہر ہے کہ اپنے مطالعے کی وجہ سے وہاں کے زمینی حقائق، جس کو آج کل گراؤنڈ ریالیٹی کہا جاتا ہے، کا بھی ادراک تھا اور وہ اُس کو استعمال کرتے تھے ناولوں میں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے ناولوں میں بہت سی جگہیں اُن کی اپنی تخلیق کردہ ہیں سوائے چند کے جیسے کہ ایک ناول میں انہوں نے کومو جھیل کا ذکر کیا، تو یہ بتائیے کہ کیا وہ سیر و سیاحت کے شوقین تھے اور اُن کی تخلیق کردہ جگہوں کی بنیاد کیا اُن کے تجربات کا نتیجہ تھی؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ابّو نے جو بڑا سفر کیا تھا وہ انڈیا سے پاکستان کا تھا۔ پاکستان میں آکے انہوں نے پاکستان کے اندر تو سفر کیا ہے لیکن بیرون ملک کا کوئی سفر نہیں کیا۔ کومو جھیل کا آپ نے نام لیا، ابھی حال ہی میں میرا ایک دوست وہاں گیا اور وہ مجھے وہاں سے تصویریں بھیج رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ انکل نے تو بالکل یہی لکھا تھا کہ یہاں پر لانچیں کھڑی ہوئی ہیں اور فیسٹیول ہورہا ہے۔۔۔ تو میں نے کہا بھائی غلط تو نہیں لکھا تھا انہوں نے۔ اُن کا طریقہ تھا کہ جس علاقے یا جس جگہ کا ذکر کر رہے ہوتے تھے وہاں کی ساری چیزوں کا اچھی طرح مطالعہ کرتے اور پھر لکھتے تھے۔ تو وجہ یہی تھی کہ وہ معلومات اتنی زیادہ راسخ ہوتی تھیں، اس میں اتنے حقائق ہوتے تھے کہ آپ پھر کہانی کے ماحول کو، نقلی، جعلی اور گھڑا ہوا نہیں سمجھ سکتے تھے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔ وہ بہت ساری مختلف کتابیں منگوایا کرتے تھے، سفارت خانوں سے نقشے اور کتابیں لیتے تھے اور پھر اُن کو پڑھ کر اُس علاقے کے بارے میں لکھتے تھے۔ ایک دفعہ تو یوں بھی ہوا کہ میرے امتحان ہونے والے تھے اور ابّو نے مجھ سے اور میرے چھوٹے بھائی افتخار سے کہا کہ یار! یہ فلم دیکھنے چلنا ہے، انگریزی کی ہےشاؤٹ آف دا ڈیول، راجر مور اور لی مارون کی۔ میں نے کہا ابّو کل پیپر ہے۔ کہنے لگے کاہے کا۔ میں نے کہا انگریزی کا تو کہنے لگے اُردو فلم تھوڑی دکھا رہے ہیں ، چلو۔۔۔ تو ہمارے ابّو ایسے تھے۔ والد اور بچّوں کے درمیان اگر آپ اندازہ کرنا چاہیں کہ کس قسم کا تعلق تھا۔ اچھا تو فلم دکھانے لے گئے اور وہاں جاکے پتہ چلا فلم جو تھی وہ زنجبار کے بیک ڈراپ میں تھی۔ جو کہانی چل رہی تھی وہ وہاں کی تھی اور ابّو اُس وقت ایک سیریز لکھ رہے تھے تو فلم دیکھ کے وہ وہاں کے ماحول اور علاقوں کی معلومات اپنے اندر اتار کے جا کے لکھتے تھے اور اس ماحول کو اپنی تحریر میں ظاہر کردیتے تھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ آج کے زمانے میں تو ہر طرح کی معلومات آپ کی انگلیوں پر ہے لیکن ساٹھ ستّر سال پہلے اتنی تحقیق و جستجو کرنا یقیناً انصاف کیا ابنِ صفی صاحب نے اپنے کام کے ساتھ ۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ بالکل! بہت محنت کی انہوں نے۔ میں آپ کو بتاؤں، اُن کی ایک کتاب ” بھیانک جزیرہ” ہے جس میں دو کردار تھے انور اور رشیدہ۔ آپ کو یاد ہوں گے، کرائم رپوٹر انور اور اس کی دوست تھی رشیدہ۔ تو پتہ یہ چلتا ہے کہ رشیدہ کسی جزیرے کی گم شدہ شہزادی تھی اور اس کو پہلے جزیرے والوں نے وہاں سے نکال دیا تھا پھر بعد میں اسے لے آئے تاکہ ملکہ بنا سکیں۔ تو فریدی، حمید اور انور یہ سب لوگ اس جزیرے پر گئے۔ اس جزیرے میں کسی کو باہر سے آنے نہیں دیتے تھے۔ جان سے مار دیتے تھے۔ جہاز میں سوار مسافروں کو ختم کردیتے تھے اور جہاز کو واپس دھکیل دیتے تھے۔ تو یہ ساری چیزیں ابّو نے لکھیں تو میں نے جب پڑھنا شروع کیا ابھی اس دور میں آکے کہ اس جزیرے میں گئے، اُس جزیرے میں گئے اور جب میں نے گوگل میپ میں تلاش کیے وہ جزیرے تو سارے آگئے اور آخر میں جو جگہ انہوں نے لکھی تھی کہ تقریباً یہاں پر وہ بھیانک جزیرہ موجود تھا تو تحقیق میں پتہ یہ چلا کہ وہ وہی علاقہ ہے جو برمودا ٹرائی اینگل کا ہے۔ وہاں آپ کو پتہ ہے کہ جہاز غائب ہوجاتے ہیں، کوئی بچتا نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ ابّو نے یہ ناول ۱۹۵۷ء میں لکھا یا شاید میں بھول رہا ہوں ۱۹۵۳ء میں۔ اور ۱۹۶۴ء میں پہلی دفعہ مغربی دنیا کے ایک رسالے میں ان جزیروں کو برمودا ٹرائی اینگل کا نام دے کے سامنے لایا گیا کہ اس علاقے میں یہ ہوتا ہے۔ تو انہوں نے جب اس چیز کا ادراک کیا تو آپ کے مصنف چند سال پہلے خبروں سے اس کو جان کے اس کے اوپر ناول لکھ کے فارغ ہوچکے تھے۔ انہوں نے فکشن تخلیق کر دیا تھا اور یہ سب ممکن ہوا جغرافیہ اور حالاتِ حاضرہ جاننے سے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ واہ! کیا کمال کی بات ہے۔ ویسے تو ابن صفی صاحب کے ناولوں کے سبھی کردار متاثر کرنے والے رہے ہیں لیکن کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ علی عمران ایک ایسا کردار ہے جس نے آج بھی قارئین کے ذہنوں میں بطور ہیرو خود کو تازہ رکھا ہوا ہے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ وہ بہت منفرد اور سائیکلوجیکل کردار تھا۔ ابّو نے کوئی ماچو مین نہیں دکھایا اس کو۔ کبھی وہ بیواقوفی کرتا نظر آرہا ہے، کبھی ماں سے پٹ رہا ہے اور کبھی باپ سے ڈانٹ کھا رہا ہے۔ یہ نہیں دکھایا کہ وہ بہت ہیرو قسم کی چیز ہے بلکہ وہ بڑا ہی سادہ اور منکسر المزاج ہے اسی لیے ہم سب پڑھنے والے اُس سے جڑ جاتے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اور پھر سنجیدگی ہے تو وہ بھی کمال کی ہے اور بذلہ سنجی و ظرافت ہے تو بھی ایسی کہ آپ اکیلے، خاموش بیٹھے پڑھ رہے ہیں اور بے ساختہ قہقہہ نکل جاتا ہے۔ خاص کر اپنے ملازمین جوزف، سلیمان اور ایکسٹو کی ٹیم کے ممبر تنویر کے ساتھ مکالموں میں۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی بالکل ایسا ہی ہےبلکہ میں تو اس بات پر ایک واقعہ اکثر سناتا ہوں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں امریکہ میں تھا اور رئیس بھائی اس زمانے میں ہم سے قریب بھی تھے نیویارک میں۔ میری بیگم کوثر امید سے تھیں۔ میری پہلی بیٹی امِ ایمن کی پیدائش کا معاملہ تھا۔ کوثر کی طبیعت بہت خراب ہوگئی تھی تو ہسپتال میں داخل کیا۔ ایک چھوٹا سا ہسپتال تھا۔ اس زمانے میں ہم بھی طالب علم تھے۔ ہسپتال والوں نے مجھ سے کہا کہ آپ کو رات کو یہاں مریضہ کے پاس بیٹھنا پڑے گا۔ کوئی ضرورت ہوگی تو آپ ہمیں بتائیے گا۔ اب مجھے رات بھر وہاں بیٹھنا تھا۔ کمرے میں کوثر کے علاوہ ایک بڑی عمر کی خاتون کسی اور عارضے کے لیے پہلے سے وہاں داخل تھیں۔ میں نے سوچا کہ رات بھر جاگنا ہے تو گھر سے اٹھا کر عمران سیریز اور اُردو ڈائجسٹ وغیرہ لے آیا۔ کوثر کی طبیعت کافی خراب تھی، خیر میں نے جاگنے کے چکر میں عمران سیریز کھول لی۔ پڑھتے پڑھتے ایک آدھ مقام پر میرا قہقہہ نکل گیا تو جو برابر والی خاتون تھیں انہوں نے بڑے غصّے سے مجھے گھور کے دیکھا کہ اس کی بیوی
تڑپ رہی ہے اور یہ شخص ہنس رہا ہے بیٹھا ہوا۔ میں نے جب اُس کو دیکھا تو خود شرمندہ ہوا کہ یہ تو گڑبڑ کرادی میں نے۔ پھر میں نے عمران سیریز رکھ کر اُردو ڈائجسٹ اٹھا لیا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ احمد صاحب آپ کے خیال میں ابنِ صفی صاحب کو خود کون سا کردار زیادہ پسند تھا، کرنل فریدی یا عمران؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ دیکھیے، یہ دنیا دو حصّوں میں بٹی ہوئی ہے ایک عمران پسند اور ایک فریدی پسند۔ میں کچھ بولوں گا تو میرے سر پر جو چند بال رہ گئے ہیں عمرہ کرنے کے بعد وہ بھی نہیں رہیں گے۔۔۔۔ ابّو نے خود اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فریدی میرا آئیڈیل ہے۔ انہوں نے ایک جگہ لکھا، وہ میرے پاس محفوظ ہے کہ ” فریدی اقبال کے مردِ مومن کی طرح ہے” ۔ اُس میں ساری وہی خصوصیات ہیں جو شاید نطشے کے سپر مین میں یا اقبال کے مردِ مومن کے اندر موجود تھیں اور اسی طرح سے ابّو نے اُس کو ڈھالا۔ اچھا! پھر عمران کیوں آیا؟ یہ سوال اٹھتا ہے اور بڑے مزے کا سوال ہے۔ خرم علی شفیق جو ایک محقّق ہیں، انہوں نے ابّو کی صنف کو جمہوری ادب کہا ہے جس کو معاشرے کے ہر طبقے میں پسند کیا جاتا ہے۔ خواص میں اور عوام میں یعنیٰ رکشے ٹیکسی والا بھی پڑھ رہا ہے اور بس والا بھی۔ اُداس نسلیں کے لکھاری عبداللہ حسین صاحب نے ایک مضمون میں لکھا کہ ” جہاں بس رکتی تھی بس ڈرائیور گدی کے نیچے سے ابنِ صفی کا جاسوسی ناول نکال کے پڑھنے لگتا تھا۔” تو آپ اندازہ کیجئے کہ وہاں سے لے کر ابوالخیر کشفی صاحب، شمیم حنفی صاحب، مستنصر حسین تاررڑ صاحب ، امجد اسلام امجد صاحب اور دوسرے کئی، سب پڑھتے تھے۔۔۔ اچھا بات یہ ہورہی تھی کہ پھر عمران کیوں پیدا ہوا۔ آپ دیکھیے کہ عمران کی پیدائش ہوئی ہے پاکستان میں۔ کچھ محقّق یہ کہتے ہیں کہ عمران اصل میں پاکستان کی تجسیم ہے۔ کسی کو سمجھ میں نہیں آتا کہ اگلے لمحے کیا کرے گا۔ اہم بھی ہے اور اس کو بیواقوف بھی سمجھا جاتا ہے۔ اُس کو گھاس بھی نہیں ڈالتے اور اُس کے بغیر کام بھی نہیں چلتا۔ جب وہ اٹھ جاتا ہے تو چیزیں اِدھر سے اُدھر ہوجاتی ہیں۔ اور پھر حماقت ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہورہا ہے لیکن ہو بھی رہا ہے۔ اب آپ اُس کو پاکستان پر رکھ کے سوچیے تو یہ ایک عجیب چیز تھی جس کو پیدا ہونا ہی تھا۔ اچھا! فریدی کے لیے ابّو نے لکھا کہ کوئی نہ کوئی مصنف ضرور ایک فریدی پیدا کرتا اُن حالات میں، لیکن عمران کو پاکستان آنے کے بعد ہی پیدا ہونا تھا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ واہ! کافی دلچسپ پہلو ہے یہ ۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی اور میں چاہ رہا ہوں کہ یہ پہلو آپ کے رسالے کے ذریعے آگے آئے۔ اب آپ جب ناول پڑھیں تو عمران کو سامنے رکھیے گا کہ پاکستان اگر کوئی انسان ہوتا تو وہ کیسا ہوتا؟ وہ عمران ہی ہوتا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب نے اپنے ایک ناول کے حرفِ آغاز میں لکھا تھا کہ ” طنز و مزاح میرا فن نہیں بلکہ کمزوری ہے” یہ بتائیے کہ آپ لوگوں کے ساتھ بھی اُن کا طنز و مزاح والا تعلق تھا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ بالکل بالکل! ناظم آباد کا ہمارا چھوٹا سا گھر۔ سات بچے، کچھ بڑے کچھ چھوٹے، اِدھر سے اُدھر ہورہے ہیں۔ ابّو کو لکھنا بھی ہے ، ماحول بھی لانا ہے تو ہماری امّی تھوڑا ڈانٹتی تھی کسی کسی وقت کہ ابّو لکھ رہے ہیں تم لوگ شور کم کرو۔ تو ابّو اُن کو کہتے تھے کہ نہیں روکو کرنے دو، اس سے بھی کبھی کبھی تحریک ہوتی ہے اور بہترے جملے ایسے ہی مل جاتے ہیں۔ تو وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کے باتیں بھی کرتے تھے اور بہن بھائیوں میں جب ایک دوسرے کی کھینچا تانی ہوتی تھی تو ہنسی مذاق بھی کرتے تھے۔ اُن کا مذاق مزے کا ہوتا تھا اور کھل کے کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میری سالگرہ تھی تو میں نے بہنوں کو چھیڑنے کے لیے فریج کے اوپر ایک نوٹ لکھ کر لگا دیا کہ آج میری سالگرہ ہے۔ آپ لوگ تھوڑا سا اہتمام کیجئے۔ جس کو تحفے جمع کرانے ہوں وہ شام سے پہلے جمع کرادیں اورآپ لوگ کچھ پکا دیں گی میرے لیے اور کیک منگوا دیں گی تو خوش ہوکے کھا لوں گا۔۔۔ اب میں جب کالج سے آیا تو میری بہن، ثروت اپّی نے کہا کہ تمہارے لیے نظم لکھی ہے سنو! نظم کچھ یوں تھی، مختصر سنادیتا ہوں کہ
اجّن کی ہے سالگرہ
کیک نہ کاٹو، کاٹو بھینس
شوق سے بھینس کے کوفتے کھائیں
اجّن کی ہے سالگرہ
دوست جو آئیں ہیں ان کے
بول رہے ہیں بن بن کے
پھر بھی اب کیا کیجیے
اجّن کی ہے سالگرہ
اجّن میرا گھر کا نام تھا۔ نظم سن کے اس سے پہلے کہ میرا پارہ چڑھتا مجھے ابّو نظر آئے کہ پیچھے کھڑے مسکرا رہے تھے۔ میں نے اپّی سے کہا کہ آپ لکھ ہی نہیں سکتی اتنے وزن کے ساتھ صرف ابّو ہی لکھ سکتے ہیں تو پھر وہ ہنسے۔ میں نے یہ نظم محفوظ کی ہوئی ہے اور کئی جگہ سنائی بھی ہے۔ جب میری سالگرہ آتی ہے تو کوئی نہ کوئی اسے نیٹ پر پوسٹ کردیتا ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کی شاعری کی طرف آتے ہیں۔ انہوں نے غزل اور نظم کے علاوہ حمد، نعت، منقبت، سلام، قطعات اور مرثیہ، تمام ہی اصناف شاعری میں طبع آزمائی کی لیکن کیا وجہ تھی کہ اُن کا یہ پہلو کم سامنے آیا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ ابّو بحیثیتِ شاعر چونکہ خود زیادہ سامنے نہیں آئے تو یہ اصناف کیا سامنے آتیں۔ انہوں نے سلام اور منقبت کے علاوہ حمد اور نعت بھی لکھی ہیں۔ اُن کی ایک حمد اور ایک نعت ہے جس سے انہوں نے اپنے مجموعہ کلام کا آغاز کیا تھا بلکہ حمد جو تھی وہ امّی کی فرمائش پر انہوں نے لکھی تھی اور انہی کے کہنے پر مجموعے کے شروع میں درج کی تھی۔ تو ایسا نہیں ہے کہ ابّو نے بہت زیادہ اس میں طبع آزمائی کی ہو لیکن یہ ہے کہ اس طرف اُن کا جھکاؤ تھا اور اُن کی شاعری میں یہ نظر بھی آتا ہے۔ اُن کی غزلوں میں بھی آپ کو ایسے شعر مل جائیں گے جو ایک خاص رویّہ رکھتے ہیں، یعنی مذہبی نظریہ آپ کو نظر آئے گا۔ لیکن چونکہ اُن کی شاعری ہی اتنی زیادہ سامنے نہیں آئی تو یہ چیزیں سامنے نہیں آسکیں۔ یہ نہیں تھا کہ انہوں نے خود اُس کو پیچھے ہٹایا ہو یا سامنے نہیں رکھا ہو بس یہ کہ اس صنف میں بہت زیادہ زیادہ طبع آزمائی نہیں کی انہوں نے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو کچھ بھجوا سکوں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کی چند غزلوں کو بہت شہرت حاصل ہوئی اور ادبی حلقوں میں آج بھی انہیں سراہا جاتا ہے خاص کر وہ غزل جسے حبیب ولی محمد صاحب نے گایا تھا ۔
ع راہِ طلب میں کون کسی کا اپنے بھی بیگانے ہیں
چاند سے مکھڑے رشکِ غزالاں سب جانے پہچانے ہیں
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی وہ بہت مشہور ہوئی تھی۔ ایک مرتبہ حبیب ولی محمد صاحب کو نیویارک میں ہم نے ایک کنسرٹ میں بلایا تھا۔ اُن کا انٹرویو کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ ” یہ میں آپ کے سامنے نہیں کہہ رہا ہوں لیکن آپ کے والد کی غزل “راہ طلب میں کون کسی کا” مجھے ذاتی طور پر پسند ہے اور اس کی فرمائش بھی بہت آتی ہے تو میں ضرور گاتا ہوں۔”
اتفاق سے اُسی دن رات میں کنسرٹ تھا اور چونکہ میں منتظمین میں سے تھا تو کام کررہا تھا۔ اسٹیج کی طرف سے ایک صاحب بھاگتے ہوئے میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ محمّد صاحب کہہ رہے ہیں کہ احمد صفی کو بلالو، اب میں اُن کے والد کی غزل گانے جارہا ہوں۔ تو میں وہاں آکر بیٹھا تو انہوں نے وہ غزل سنائی۔ یہ میرے لیے بڑا اعزاز کا موقع تھا۔ ابّو کا مجموعہ کلام ” متاعِ قلب و نظر” کے نام سے ۲۰۱۳ء میں شائع ہوا ہے۔ اس میں اُن کی بہت سی نظمیں اور غزلیں ہیں جو مشہور ہوئیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب نے اپنے ناول پر ایک فلم بھی لکھی تھی دھماکہ کے نام سے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ وہ فلم ناول پہ نہیں تھی بلکہ ہوا یہ تھا کہ انہوں نے اپنے ناول ” بیباکوں کی تلاش” سے صبیحہ کا کردار لیا اور دو کردار انہوں نے فلم کے لیے لکھے ظفرالملک اور جیمسن۔ ظفر الملک کے کردار میں جاوید اقبال کو پہلا موقع ملا جو اب جاوید شیخ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ابّو نے اُن کو متعارف کرایا۔ اور محمّد حسین تالپور صاحب کا فلمی نام مولانا ہپی رکھ کے اُن کو جیمسن کا کردار دیا تھا۔ تو ان دونوں شخصیات کو سامنے رکھ کر ظفرالملک اور جیمسن کے کردار لکھے گئے تھے کیونکہ ابّو نہیں چاہتے تھے کہ عمران کا کردار لے کے اس پہ فلم بنائیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے ۱۲۵ جاسوسی دنیا کے اور ۱۲۱ عمران سیریز کے ناول ہیں تو کبھی کسی اور نے ان پر فلم بنانے کی کوشش کی یا آپ لوگوں سے اس سلسلے میں کبھی بات کی کسی نے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی! کوششیں ہوئیں لیکن میرا خیال ہے کہ اُن کو مشکل ہوئی اس میں۔ اور ایک بات یہ کہ جس سے لوگ شاید مجھ سے اور میرے بہن بھائیوں سے ناراض بھی ہوتے ہیں کہ ہم لوگ کوالٹی کانشس بہت زیادہ ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ فلم کا معیار ایسا ہو کہ جو پڑھنے والا ہے وہ مایوس نہ ہو۔ تو اب یہ ہماری ذمّہ داری ہے کہ اس کو اس طرح سے پروڈیوس کرائیں کہ جو فلم بنانے والا ہے یا جو اُس میں کام کرنے والے ہیں وہ عمران سیریز یا جاسوسی دنیا میں اترے ہوئے ہوں۔ اور اگر ایسا نہیں ہو تو پھر اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں کہ جیسے ایک صاحب نے ایک پائلٹ بنایا اور ہمارے سامنے رکھا۔ اُس میں ایکس ٹو کی ٹیم کو دکھایا ہے کہ سب بیٹھے ہوئے ہیں اور عمران بھی موجود ہے۔ فون کی گھنٹی بجتی ہے اور عمران سب کی موجودگی میں فون اٹھا کر جواب دینا شروع کردیتا ہے۔۔۔۔ اس پر میں نے کہا کہ اس شخص نے کبھی عمران سیریز پڑھی ہی نہیں ہے۔ پھر ایک اور صاحب ایک کہانی لے کر آئے کہ ہم اسے یوں کرکے فلم بنائیں تو میں نے کہا ایک تو یہ ابنِ صفی کی کہانی نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ آپ جو کہانی لائے ہیں اُسے ” رش آور” کے نام سے جیکی چن ریلیز کرچکا ہے۔ آپ کو کسی نے دھوکہ دیا ہے۔ تو اب اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں۔ میرا خیال ہے کوئی چیز اگر سامنے آئے گی تو ابّو کے ناولوں سے ہی خلاصہ لے کر جو ابّو کا فارمولا تھا۔ ایسی چیز ہو تو ٹھیک ہے۔ جس میں ابنِ صفی شامل نہ ہوں پھر تو وہ بیکار ہوگی۔ بہرحال کوششیں جاری ہیں۔ ہم تو امید یہی کریں گے کہ فلمیں بھی اُس معیار کی ہوں جیسے اُن کے ناول تھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بالکل میں تائید کروں گی آپ کی۔ یہ بتائیے کہ کیا ابنِ صفی صاحب کی کتابیں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں سے بہ یک وقت شائع ہوتی تھیں؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی! ہندوستان میں الہٰ آباد سے اور پاکستان میں کراچی سے۔ اَسرار پبلیکیشنز لاہور سے اب بھی کام کررہا ہے۔ ابّو کے ناولوں کے ری پرنٹس جیسے شائع ہوتے تھے ویسے ہی شائع ہورہے ہیں بہتر ٹائیٹل کے ساتھ اور ہم اس کی اغلاط بھی ٹھیک کرتے رہتے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بلاشبہ ہندوستان میں بھی ابنِ صفی صاحب کو پڑھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں تو یقیناً وہاں سے بھی ان کے پرستاروں کے تاثرات آتے ہوں گے آپ کے پاس؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ محبت آتی ہے صرف، دونوں طرف سے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ ایک بڑا فین کلب بنا ہوا ہے، ویسے تو ایک سے زیادہ ہیں فیس بک پہ اور دوسری جگہوں پہ، تو اس فین کلب میں لوگوں نے اپنے آپ کو “صفیانہ” کہنا شروع کردیا ہے۔ اس قدر محبت ہے کہ ایک دوسرے کو ہندوستان کے صفیانے اور پاکستان کے صفیانے کہتے ہیں۔ وہ لوگ گروپ میں ایک ساتھ ہوتے ہیں اور سرگرمیاں بھی ایک ساتھ کرتے ہیں۔ وہاں آپ کو یہ بتانا مشکل ہوجاتا ہے کہ کون پاکستان سے ہے اور کون ہندوستان سے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ کیا بات ہے۔ ادب کے ذریعے رواداری کی بہترین مثال۔
احمد صفی صاحب۔۔۔بالکل! تنازعے کے زمانے میں بھی ابّو نے دونوں کو باندھ کے رکھا ہوا تھا۔ کچھ بات ہوجائے لیکن دونوں طرف کے لوگ اکٹھا رہتے ہیں۔ مضامین وغیرہ لکھتے ہیں ابّو پر۔ ایک مجلہ ہے اُس کا ابنِ صفی نمبر ریلیز ہوا اور اُس کی تقریبِ رونمائی بھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ ایک بڑا دلچسپ سلسلہ انہوں نے کیا تھا وہ قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے یہ کیا کہ اپنے ممبران سے کہا کہ آپ ابنِ صفی کو خط لکھیں اور وہ خط دو طرح سے ہو سکتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ جیسے وہ موجود ہیں اور آپ اُن کو بتا رہے ہیں یا پوچھ رہے ہیں کچھ یا سوال کرنا چاہتے ہیں یا اُن کے کسی ناول پہ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ گزر چکے ہیں اور عالمِ بالا میں ہیں اور آپ ان کو مخاطب کررہے ہیں۔۔۔۔ اس کے جو منتظمین تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ ووٹنگ کے بعد جو بہترین خطوط ہوں گے اُن کا جواب آپ دیجیے گا۔ میں نے اپنے بڑے بھائی ابرار احمد کو بھی شامل کرلیا کہ زیادہ سے زیادہ دس بارہ خطوط آجائیں گے دو چار کے جوابات وہ دے دیں گے اور باقی کے میں دے دوں گا۔ جناب! اڑسٹھ ۶۸خطوط لکھے ابّو کے چاہنے والوں نے۔ اُن میں مشہور لوگ بھی تھے، ادیب بھی تھے، سنجیدہ لوگ بھی تھے، نوجوان اور طالبعلم بھی تھے اور اتنے دلچسپ خطوط تھے کہ میں کیا بتاؤں۔ آپ یقین کریں کہ وہ خطوط پڑھتے ہوئے بعض دفعہ تو ہم آبدیدہ ہوجاتے تھے کہ کتنی محبت سے لکھے گئے ہیں۔ واقعی ایسا لگ رہا تھا کہ ابّو موجود ہیں اور اُن کو خطوط لکھے جارہے ہیں۔ یہ بہت بڑی بات ہے کسی مصنف کے انتقال کے اتنے عرصے کے بعد اُس کو اس طرح مخاطب کرنا اور یاد رکھنا۔ میں نے منتظمین سے کہا کہ ان خطوط کو تو آپ ایک کتاب کی صورت میں شائع کردیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ واقعی بڑا دلچسپ اور انوکھا انداز ہے سراہنے کا۔ اسے تو کتابی شکل میں ضرور ہونا چائیے تاکہ اور لوگ بھی پڑھ کر محظوظ ہوسکیں۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ پی ڈی ایف میں موجود ہے۔ میں آپ کے ساتھ شیئر کردوں گا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ شکریہ، میں منتظر رہوں گی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے ناولوں کے دوسری زبانوں میں ترجمے بھی ہوئے ہیں؟ جناب شمس الرحمان فاروقی صاحب اور بلال تنویر صاحب کا نام اس حوالے سے لیا جاتا ہے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ جی جی ! میں بہت پیچھے سے جا کے بات کرتا ہوں جو آپ بات کررہی ہیں وہ ترجمے اب ہوئے ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی مرحوم نے جاسوسی دنیا کے چار ناولوں کا ترجمہ انگریزی میں کیا تھا جو ڈاکٹر ڈریڈ کی سیریز تھی۔ یہاں پاکستان میں بلال تنویر اور تیمور شاہد نے ترجمے کیے تھے اور وہ بھی چار ناول تھے۔ دونوں انڈیا ہی میں چھپے تھے۔ ڈاکٹر ڈریڈ، بلافٹ اینڈ کرائم بار نے شائع کیے تھے اور دوسرے رینڈم ہاؤس نے شائع کیے تھے جو اب پینگوئن انڈیا کے نام سے موجود ہے۔ ہندی ترجمے بھی ہوئے تھے اور بڑے مختلف انداز میں ایک اور کمیٹی نے شائع کیے تھے وہاں پہ۔ ابّو کی حیات میں بھی مختلف زبانوں میں ترجمے ہوتے رہتے تھے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ایک بات یہ سننے میں آتی ہے کہ مغربی دنیا کی معروف جاسوسی ناول نگار اگاتھا کرسٹی صاحبہ نے ایک مرتبہ رضی اختر شوق صاحب سے ملاقات کے دوران ابنِ صفی صاحب کے بارے میں کہا کہ ” برصغیر میں صرف ایک ہی حقیقی جاسوسی مصنف ہے۔۔۔ ابنِ صفی۔” اس کے بارے میں کچھ وضاحت فرمائیے؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ یہ بہت اہم سوال آپ نے پوچھا ہے کیونکہ اس کی جو وضاحت ہے شاید ایک آدھ جگہ چھپی ہے لیکن اب آپ کے توسّط سے زیادہ دور تک پہنچ جائے گی۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب رضی اختر شوق صاحب بھی حیات تھے اور ابّو بھی حیات تھے۔ ایچ اقبال صاحب مرحوم، جن کا ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے، ان کا رسالہ آتا تھا الف لیلہ ڈائجسٹ اُس میں انہوں نے ایک الگ صفحے پر شائع کیا کہ ” کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے تو وہیں پر رضی اختر شوق صاحب جن کا شاعری میں اور براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں بڑا نام ہے، تشریف لائے اور انہوں نے کہا میں ابھی ایئرپورٹ سے آرہا ہوں اور اگاتھا کرسٹی سے میری ملاقات ہوئی اور انہوں نے یہ کہا کہ برصغیر کے واحد اوریجنل جاسوسی مصنف ابنِ صفی ہیں۔” لوگ مختلف طریقوں سے اُس بات کا حوالہ دیتے رہے۔ جب انڈیا میں بلال تنویر کی ترجمے والی کتاب چھپنے لگی تو رینڈم ہاؤس والوں نے یہ جملہ ٹائٹل پر ڈال دیا تو میں نے عرض کیا کہ دیکھیے تحقیق نہیں ہے اس کی اور تحقیق جب تک نہیں ہو کوئی چیز ایسے ڈالنا ضروری نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ میرا جو پوائنٹ آف ویو تھا کہ ابّو کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ کوئی ان کی تصدیق کرے۔ پھر ہم نے اس کو دیکھنا شروع کیا۔ راشد اشرف صاحب نے اگاتھا کرسٹی صاحبہ کی اسٹیٹ سے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ ان کے پڑپوتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ ہمیں تو علم نہیں ہے کہ وہ کبھی پاکستان گئی ہوں۔ پھر عقیل عباس جعفری صاحب نے اور وقار صاحب جو بی بی سی کے نمائندے ہیں، ان لوگوں نے کہا وہ آئی تھیں پاکستان اور انہوں نے لاہور میں کئی جگہوں پہ دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے ڈان اخبار کی کٹنگز اور ساری خبریں وغیرہ بھی شیئر کیں۔ وقار صاحب نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کے ساتھ اگاتھا کرسٹی صاحبہ سے ملنے بھی گئے تھے۔ وہ اس وقت چھوٹے تھے۔
اس کے بعد ایک خاتون کا مضمون سامنے آیا کہ انہوں نے بھی پاکستان میں کسی تقریب میں شرکت کی تھی جس میں اگاتھا کرسٹی صاحبہ آئی تھیں۔ پھر ایک بہت اہم مضمون ملا مقبول جہانگیر صاحب کا۔ آپ کو یاد ہوگا فیروز سنز کی بہت ساری بچوّں کی کہانیاں وہ لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک واقعہ لکھا کہ اگاتھا کرسٹی لاہور آئی تھیں، وہ اُن سے ملے اور کافی دیر اُن سے برصغیر کے ادیبوں پر بات ہوتی رہی۔ اب ظاہر ہے کہ جب وہ بیٹھے ہوں گے تو سِری ادب پر بھی بات ہوئی ہوگی اور اس میں ابّو کا تذکرہ آیا ہوگا۔ لاہور سے واپس جاتے ہوئے وہ کراچی ایئرپورٹ پر رکی ہوں گی اور رضی اختر شوق صاحب سے وہاں اُن کی ملاقات ہوئی ہوگی۔ اب ہم رضی اختر شوق صاحب کی بات کو مسترد نہیں کرسکتے کہ ہم کہیں کہ وہ ایسے ہی کہہ رہے تھے۔ وہ بہت بڑا نام ہیں۔ تو وہاں سے پھر اس واقعے کی صداقت ثابت ہوئی۔ میں ابھی بھی یہ کہتا ہوں کہ اگاتھا کرسٹی کی تصدیق کی ضرورت نہیں ابّو کو لیکن کم از کم یہ بات طے ہوگئی اور آپ کے توسّط سے یہ واضح کردینا چاہتا ہوں تاکہ قارئین تک پہنچے اور اُن کو صحیح بات کا علم ہوجائے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بجا فرمایا۔۔۔ایک سوال میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ ابنِ صفی صاحب جس پائے کے ادیب تھے اور جس تحقیق اور سوچ بچار کے ساتھ کثیر تعداد میں انہوں نے ناول لکھے یقیناً ایسے کام تب ہی ممکن ہوپاتے ہیں جب شریک حیات سے ہم آہنگی اور گھر کی فضا میں سکون ہو؟ ابن صفی صاحب کی کامیابیوں میں اُن کی شریک حیات کا کردار کیا رہا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ آپ نے درست کہا حنا۔ یہ میرا محبوب موضوع ہے اور میں مقروض ہوں اپنی والدہ کا کہ اُن کی شخصیت پر ایک خاکہ ضرور لکھوں۔ میرے بہن بھائی بھی کہتے ہیں اور دوسرے لوگوں کی بھی فرمائش ہے انشاء اللہ اس کو میں ضبطِ تحریر میں لاؤں گا۔ ہماری والدہ کا ایک بہت اہم کردار تھا ابّو کے ادبی کاموں میں۔ ابّو خود یہ کہتے تھے کہ میری پہلی قاری سلمیٰ، ہماری امّی ہیں کیونکہ وہ اُس وقت پڑھتی تھیں جب ابّو لکھ رہے ہوتے تھے۔ میں نے امّی کو کبھی چھپی ہوئی کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ابّو جیسے جیسے لکھتے رہتے تھے وہ وہاں سے پڑھتی رہتی تھیں اور اُن کو مشورے بھی دیتی تھیں۔ ابّو کی تمام تر ذمّہ داریاں انہوں نے اپنے اوپر لی ہوئی تھیں تاکہ وہ سکون سے لکھ سکیں۔ خاندان میں کوئی تقریب ہو یا دنیاداری کا معاملہ ہو، امّی ہی نمائندگی کرتی تھیں۔ ابّو بہت کم جگہوں پر جاتے تھے۔ وہ مجلسی آدمی تھے بھی نہیں۔ شاید ایک دفعہ وہ میرے کیس میں مجھے لے گئے تھے داخلے کے لیے ایک اسکول سے دوسرے اسکول ورنہ بچّوں کی تعلیم تربیت کے معاملات ہوں یا گھر کے کوئی مسئلے ہوں یا کسی کا کہیں داخلہ ہونا ہو یا کسی کو کہیں جانا ہو، سب امّی ہی دیکھتی تھیں اور دل جمعی کے ساتھ۔ تو بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسا آپ نے کہا کہ اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ حال ہی میں ناظم آباد کراچی میں، جہاں ابنِ صفی صاحب کا گھر تھا وہاں فیملی پارک بنا کے اُن کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں آپ لوگوں کے کیا تاثرات ہیں؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ بظاہر تو خوشی کا معاملہ تھا۔ میں بتاؤں کہ جس سڑک پر ہم رہتے تھے اُس کو وہاں کے لوگوں نے ابنِ صفی اسٹریٹ کا نام دے کے ایک کتبہ نصب کرایا ہوا ہے۔ یہ ابنِ صفی اسٹریٹ گوگل میپ پر بھی ہے۔ اب یہ پارک جو بنا ہے وہ ضلعی کونسل نے اپنے ہاتھ میں لیا کہ علاقے کو خوبصورت بنایا جائے اور بہتر کیا جائے تو ایک فیملی پارک وہاں پہ ٹوٹا پھوٹا خراب حالت میں اجاڑ پڑا تھا اُسی کو انہوں نے تزئین و آرائش کر کے اس کا نام ابنِ صفی فیملی پارک رکھا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ اہلِ محلّہ کی پوری مشاورت سے اس کا نام رکھا گیا کہ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ہی محلّے کے آدمی کو آنر کرتے ہیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ جب اُس کا افتتاح ہوا تو میں عمرے پر تھا اس لیے شامل نہیں ہوسکا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابنِ صفی صاحب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اُن کو خود نمود و نمائش یا سراہے جانے کی خواہش نہیں تھی لیکن جس اعلیٰ پائے کے وہ جاسوسی ادیب تھے تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومتی سطح پر اُن کے حق کو اُن کے مطابق سراہا گیا؟
احمد صفی صاحب۔۔۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ میری رائے تو جانبداری والی ہوجائے گی کہ میں تو اُن کے گھر سے تعلق رکھتا ہوں۔ لیکن یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہم سے کہتے تھے کہ آپ اس کے لیے کوشش کریں اور اپلائی کریں کہ اُن کو کوئی اعزاز ملے یا کوئی تمغہ ملے۔ ہم نے ہمیشہ یہ کہا کہ نہ ہمارے ابّو کبھی کسی کے اعزاز یا حکومتی ایوارڈ یا تمغے کے پیچھے گئے، نہ ہی انہوں نے کبھی خواہش ظاہر کی اور نہ ہی اُن کے گھرانے سے کبھی اس چیز کی درخواست دی جائے گی۔ ہمارے لیے وہی اعزاز ہے جسے ابّو نے اعزاز سمجھا کہ انہوں نے کہا کہ
” میرے ناول پڑھے جاتے ہیں، تکیوں کے نیچے ملتے ہیں۔”
یہ سب سے بڑا اعزاز ہے۔ آج ہم چوالیس سال بعد بیٹھے ہوئے اُن کی گفتگو کررہے ہیں۔ یہ ہمارے لیے اعزاز ہے۔ کتنے لوگوں کو اعزازات ملے حکومتی سطح پر آپ دیکھ لیجئے، اُن میں سے کتنے ہیں جن کو اس طرح سے یاد کیا جاتا ہے اور ہر سال یاد کیا جاتا ہے تو یہ اصل اعزاز ہے۔۔۔۔ حکومتی اعزاز کی خواہش ابّو کو کبھی نہیں رہی۔ ابھی اُن کو ستارہ ء امتیاز دیا گیا ہے حکومتِ پاکستان کی طرف سے۔ حکومتِ سندھ کی طرف سے ۱۹۸۷ یا ۸۸ء میں اُن کو ایک ایوارڈ دیا گیا تھا ” پاکستانی ادب کے معماروں میں” اکادمی ادبیات کی جو ایک سیریز ہے پاکستانی ادب کے معمار اُس میں محمّد فیصل صاحب نے ایک کتاب اُس میں ابّو کی شامل کی ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اُن کے مضامین و نگارشات کی بھی ایک کتاب شائع کی ہے تو گورنمنٹ لیول پہ یہ اعتراف اب آگیا ہے لیکن اس اعتراف کے لیے ہم لوگوں نے کوئی کوشش نہیں کی بلکہ اس اعتراف کے لیے میں کہتا ہوں کہ ایک سفارش تھی جو بہت بڑی تھی، وہ سفارش ضرور چلی اور وہ سفارش تھی اُن کے پڑھنے والوں کی۔ آپ جیسے چاہنے والوں کی۔ آپ لوگوں نے جو عزّت دی جو اعزاز دیا وہ اُن کو کوئی اور نہیں دے سکتا۔ میرا پورا خاندان ابّو کے سارے چاہنے والوں اور پڑھنے والوں پر مشتمل ہے اور اتنا بڑا خاندان شاید ہی کسی ادیب کو حاصل ہوا ہو۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بے شک! آج بھی اُن کے ناول اُن کے پرستاروں کے ہاتھوں اور تکیوں کے نیچے پائے جاتے ہیں۔ بہت شکریہ احمد صاحب ہمیں وقت دینے کا۔ میں آپ سے اجازت چاہوں گی اور دعاگو ہوں کہ ہم سب کے ہردل عزیز ابنِ صفی صاحب کے خانوادے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ خداحافظ۔
احمد صفی صاحب۔۔۔ جزاک اللہ، خداحافظ ۔
کلامِ ابنِ صفی
التجا بحضور باری تعالیٰ
مرے اللہ میں نادم ہوں اپنی بے حیائی پر
میں تیری حمد کرتا ہوں تجھے مالک سمجھتا ہوں
مگر پھر بھی میں نادم ہوں
یہ میری بے حیائی ہے کہ تیری حمد کرتا ہوں مگر احکام
تیرے ماننے سے ہچکچاتا ہوں
مجھے توفیق دے مالک کہ میں تیرے علاوہ اور
کسی جانب نہیں دیکھوں
مجھے توفیق دے یارب
کہ تیری راہ پر چل کر
مدینے تک پہنچ جاؤں
جہاں انسانیت کے نور کی بارش سے دُھل جاؤں
التجا بحضور سرورِ کائناتﷺ
میرے آقا میں کس منہ سے در پر تیرے حاضری دوں
میرے ماتھے پہ اَب تک نشانِ عبادت نہیں
ایک بھی نیک عادت نہیں
میری جھولی گناہوں سے پُر ہے
میرے ہاتھوں کی آلودگی باعث شرم و غیرت بنی
میرے آقا میں کس منہ سے در پر تِرے حاضری دوں
پھر بھی آقا مرے، پھر بھی مولا مرے
تیرے در کے سوا اور جاؤں کہاں
ہو اجازت مجھےحاضری کی عطا
میرے آقا میں نادم ہوں اپنی بدعادات پر

سلام
شاہِ دیں گر چاہتے مکر و ریا کھلنے کے بعد
ہاتھ ہوجاتے قلم ان کی طرف اٹھنے کے بعد
راکب دوش نبیﷺ پر یہ قیامت الاماں
کیسی آنکھیں پھیر لیں سرکار کے اٹھنے کے بعد
علم کے جویا حصولِ علم ہوگا یاد رکھ
بابِ شہرِ علم کی چوکھٹ پہ سر جھکنے کے بعد
یوں نہ گھبرا ساقی کوثر ترا تھامیں گے ہاتھ
کچھ نہ ہوگا نزع کے عالم میں دم گھٹنے کے بعد
تھے زمیں سے آسماں تک نور کے دریا رواں
لاشئہ شبیرؑ تپتی ریت سے اٹھنے کے بعد
وہ شقی کیسے تھے یارب ان کا ہوگا حشر کیا
جو ہنسے تھے دین کی رسوائی کرچکنے کے بعد
در مدح ذوالفقار علیؓ
یہ بجلیوں میں پَلی ہے ملاعنہ ہُشیار
نہ اب رُکے گی چلی ہے ملاعنہ ہُشیار
کب اس کی لائی ٹلی ہے ملاعنہ ہُشیار
یہ ذوالفقار علی ہے ملاعنہ ہُشیار
دو نیم ضربتِ عالی سے اس کی گوہ گراں
یہ مکر کے خس و خاشاک کے لیے طوفان
بچا سکو تو بچا کر دکھاؤ اس کے وار
یہ ذوالفقار علی ہے ملاعنہ ہُشیار
تم اپنے عزم میں شائد ہمالیہ بھی ہو
مگر یہ تاب کہاں اِس کے سامنے ٹہرو
بنو گے سائے میں تم اس کے ریت کی دیوار
یہ ذوالفقار علی ہے ملاعنہ ہُشیار
جو دو رُخے ہو تو سمجھو تمہاری باری ہے
کہ یہ سفیر اَجل تیغ بھی دو دھاری ہے
بنے گا دشمنو ضرب المثل تمہارا فرار
یہ ذوالفقار علی ہے ملاعنہ ہُشیار
یہ لو بساط تمہاری اُلٹ گئی آخر
تمہاری ناک بہر طور کٹ گئی آخر
نہ کام آئے تمہارے، تمہارے اسپ و سوار
یہ ذوالفقار علی ہے ملاعنہ ہُشیار (۱۹۶۵ء)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔