سفید نورکا راز
ڈاکٹر ریاض توحیدیؔ کشمیری
اُس کی بصارت مانوس روشنی کو محسوس کرسکتی تھی۔وہ اس روشنی کے اصل راز کو پانا چاہتا تھا‘ جس کے بارے میں کئی لوگ بے چین ہوتے آئے تھے کہ یہ کہا ں سے پھوٹ پڑی ہے اور کہاں پر سیاہ پڑجائیگی۔اس نے فلسفہ اور سائنس میں یہ راز کھوجنے کی کوشش کی ‘ لیکن وہاں پرصرف استدلال اورتجربے کا ہی چکرویو نظر آیا۔وہ یہ سمجھنے سے بھی قاصر تھا کہ اصلی رازہے کیا ۔۔۔؟ یہ روشنی یا میرا وجو د ۔۔۔۔میرا وجود یا میری روح۔۔۔؟کیونکہ ہر ذی روح کا احساس روشنی کو تومحسوس کرسکتاہے‘تاہم‘ اس راز کو محسوس کرنے کا اپنا ہی ایک خودکار نظام ہے جو حیات کے نقار خانے میںہی سنائی دیتا ہے ‘لیکن صرف محسوس کیا جاسکتا ہے‘چھوا نہیںجاسکتا۔روشنی کے اس احساس کا بھی اپناایک انوکھا سفررہا ہے ۔کبھی یہ نقار خانے کے پرندے کے لئے چند لمحات کا ہی ثابت ہوتا ہے ‘کبھی طلوع آفتاب سے لیکر غروب آفتاب تک محیط ہوتا ہے اور کبھی کسی بدنصیب پرندے کی آنکھوں کے لئے پوشیدہ ہی رہتا ہے ‘ کیونکہ وہ محسوس کرنے کی حس سے عاری ہوتا ہے۔اُس کی بصارت کاطویل سفر اب بصیرت کی جانب بڑھ رہاتھا۔
ایک منزل ایسی بھی آئی جب بصارت کے آئینے میں بصیرت کے احساس کا عکس ابھرنے لگا۔سیال سوچ‘ ٹھوس احساس میں کروٹ لینے لگی۔مشاہدات کو تجربات کی کسوٹی پر پرکھنے کامجاہدہ شروع ہوا ۔وہ سمجھتا تھا کہ ہر شئے کی پہچان متضاد سے ہی ہوسکتی ہے۔سوچ نے اندھیرے میں جست لگائی تاکہ روشنی کی سیال کیفیت ٹھوس پیکر میں سامنے آئے۔آئینے نے اس کے عکس کو مشاہدات کے عالم میں پہنچا دیا۔وہ جب اندھیرے میں بھٹکنے لگا تو فکر کی شمع نے نور کی کرنیں بکھیر دیں۔اس نے ہر طرف نظر یں دوڑائیں۔ہر مقام پر تدبر کے پہاڑ نظر آئے۔ وہ بہت دیرتک تدبر کے پہاڑوں کو حیرانی سے تکتارہا۔مشاہدات کا سلسلہ شروع ہوا۔اس کے قدم آگ والے گروہ کی جانب بڑھ گئے۔آگ کے پہاڑ شعلے برسارہے تھے۔شعلوںکے اردگرد کئی عمر رسیدہ لوگ آنکھیں بند کرکے
گیان کی وادیوں میں کھوئے ہوئے تھے۔وہ بھی آنکھیں بند کرکے کافی دیر تک ادراک کی وادیوں میں بھٹکتا رہا۔
ایک میٹھی آواز سے دماغ جاگ اٹھا:
’’منش کیا ڈھونڈ رہا ہے؟‘‘ایک سفید بالوں والے گیانی کی آواز آئی۔
’’ایک راز کی تلاش۔‘‘اس نے گیانی کے پر سکون چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’کونسا راز ابھی تک پوشیدہ ہے؟‘‘گیانی کی آنکھیں بھی اس کے چہرے کو سوالیہ انداز سے تکنے لگیں۔
’’وہ راز جو خود تو روشن ہے لیکن اپنے روشن ہونے کاراز چھپائے بیٹھا ہے۔‘‘
’’اس کوپانے کے لئے من کی تپسیا کی ضرورت ہے۔‘‘
’’تپسیا کے لئے کون سی مشقت ضروری ہے؟‘‘
’’نفس کشی کی ریاضت۔‘‘
’’اس کا طریقہ کیا ہے؟‘‘
’’فریب کی پہچان۔‘‘
’’فریب کی پہچان کیا ہے؟‘‘
’’مایا جال سے سے مکتی۔‘‘
’’مکتی کا نشان کیا ہے؟‘‘
’’انا کی موت۔‘‘
’’یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘
’’احساس کی موت سے۔‘‘
’’احساس کی موت کے بعد راز کہاں کھلے گا؟‘‘
’’یہ تیرا دھوکہ ہے۔‘‘
’’نہیں یہی حقیقت ہے۔۔۔!‘‘
یہی حقیقت کہتے کہتے گیانی نے دوبارہ آنکھیں بند کردیں اور اپنے گیان میںکھو گیا۔ وہ تھوڑی دیر وہاں گم سم بیٹھا رہا۔اس کی سوچ پر من کی تپسیا‘ نفس کشی‘فریب‘مایا جال‘مکتی ‘ ’انا کا خاتمہ‘ اورا’حساس کی موت ‘جیسے وجودی گیان کی پہلیاں چھائی رہیں ۔وہ حقیقت کا احساس کرکے سوچنے لگا کہ وہ تو راز کی کھوج میںکسی اور راز کے جنگل میں پھنسے جارہا ہے ۔یہ سوچتے سوچتے اس کی نظر دوسرے گروہ پر پڑی ۔ فکر کا گھوڑا اس جانب بڑھنے لگا اورآنکھیں کاغذ قلم سنبھالے چہروں پر جم گیں۔لکھنے والا ہاتھ لگا تار لکھ رہا تھا اور لکھنے والے کی زبان پر کیوں۔۔۔؟‘
کب ‘ کیسے۔۔۔۔؟‘ہاں اور نہیں کے منفی مثبت لفظوں کی گردان جارہی تھی۔وہ یہ دیکھ کر سامنے بیٹھے متفکر چہرے والے آدمی سے پوچھ بیٹھا:
’’یہ کونسا عالم ہے؟‘‘
مفکر کی سماعت سے جب یہ دلچسپ آواز ٹکرائی تو اس کی آنکھوں میں چمک سی عود آئی اور وہ منطقی انداز سے گویا ہوا۔
’’یہ تفکرات کا عالم ہے۔‘‘
’’تفکرات کا عالم۔۔۔۔؟‘‘وہ حیران ہوکر بول پڑا۔’’یہ کس طرح وجود میں آتا ہیـ۔‘‘
’’یہ عقل کے گھوڑے دوڑانے سے وجود میں آتاہے۔‘‘بوڑھے فلسفی نے سر ہلاتے ہوئے کہا
’’کیا یہ ہر راز کی کھوج لگا سکتا ہے؟‘‘
’’اس کا کام ہی کھوج لگانا ہے۔‘‘فلسفی قلم کو دوات میںڈبوتے ہوئے کہنے لگا۔’’تمہیں کس راز کی تلاش ہے۔؟‘‘
’’مجھے سفید راز کی تلاش ہے؟‘‘
’سفید راز کی تلاش؟‘‘فلسفی حیرانی سے پوچھ بیٹھا۔
’’ہاں‘مجھے روشنی کے راز کی تلاش ہے۔‘‘
’’اچھا ‘روشنی کے راز کی تلاش۔۔۔!‘‘فلسفی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بول پڑا۔’’یہ اصل کی نقل ہے۔‘‘
’’اصل کی نقل؟‘‘اُس کے منہ سے نکل پڑا۔’’میں کچھ سمجھا نہیں۔‘‘
’’یہی سے ایک فلسفی اور عام آدمی کی عقل میں فرق واضح ہوجاتا ہے۔‘‘فلسفی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بول پڑا۔’’اصل نور ہے اور یہ روشنی اس کی نقل ہے۔‘‘
’’لیکن اس کا ظہور کیا ہے اور خاتمہ بھی ہے کہ نہیں؟
’’یہ گردش کا سفر ہے جو مسلسل جاری رہتا ہے۔‘‘
’’پھر تو یہ اصل ہے نقل کہاں؟‘‘
’’بس اتنا ہی سمجھو جتنا عقل سمجھاتی ہے۔‘‘
یہ فلسفیانہ مکالمہ ہونے کے بعد وہ تذبذب کے عالم سے یہ کہتے ہوئے نکل پڑا کہ یہ عالم بھی عقل کا ہی اسیر ہے۔ اس لئے یہاں پر بھی شک اور یقین کی رسہ کشی ہی جاری ہے۔اس نے دوبارہ اپنی نظروں کو چہار جانب گھمایا۔کئی اور گروہ بھی عازم سفر نظر آئے لیکن اس کی نظریں سب سے آخری جماعت پر ٹھہر گیں۔ احساس کاپرندہ امیدوبیم کی اڑان بھرتے ہوئے وہاں کی پُرسکون فضا میں پرواز کرنے لگا۔ کچھ لوگ عبادت کرنے میں مشغول تھے اور باقی لوگ ایک نورانی چہرے والے بزرگ کے شگفتہ لفظوں کی تاثیر سے اپنے احساسات کو مہکا رہے تھے۔ روحانی پیام عالم اکبر اور عالم اصغر کے خالق کی خوشبوسے فضا کو خوشگوار کررہا تھا:
’’اُس مالک دو جہاں کا نور ہر جگہ پھیلا ہوا ہے۔ہر شئے میں اسی نور کا ظہور ہے۔ اس دیدہ عالم کی روشنی نادیدہ عالم میں تبدیل ہوجائے گی پھر نا تمام والا نور پھیل جائیگا۔ یہاں کا زمانہ بھی نور ہے اسلئے زمانے سے محبت کرو کیونکہ زمانے کا خالق لازوال نورہے۔‘‘
روحانی پیغام نے مادی اوہام پر غلبہ پا لیا۔ بیقرار وجود میںقرار کی میٹھاس سما گئی۔شک و یقین کی رسہ کشی ختم ہوئی اوروہ آنکھیں بند کرکے اطمینان کی گہرائیوں میں کھو گیا‘ کیونکہ دل نے سفید نور کے ظہور کا راز پا لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://shorturl.fm/4nyXN