عصر حاضر کی غزلوں کے فکری میلانات

ڈاکٹر شبانہ نسرین
ایسوسی ایٹ پروفیسرشعبہ اردو، لیڈی برابورن کالج، کولکاتا

اردو غزل کی جڑیں ہندوستان کی تہذیب وثقافت اور اس کی خوبصورت رواتیوں میں رچی بسی ہوئی ہیں۔ دیگر تمام اصنافِ شعری پر حاوی اس غزل پر مخالفتواعتراضات کے تیر وخنجر بھی چلائے گئے لیکن اس کو مٹانا اتنا آسان نہ تھا۔ حالیؔ اورکلیم الدین احمد کی گردن زنی کے باوجود نہ توغزل کی مقبولیت میںکوئی کمی آئی نہ اس کی فطری سوزوگداز میں… وہ آج بھی اس ایک جملے کی تائید میں کوشاں ہے کہ ’’غزل اردو شاعری کی آبرو ہے‘‘ اورکوئی شک نہیں کہ وہ آج اپنی پوری آبرو اور توانائی، شان وعظمت کے ساتھ جس منارے پر ایستادہ ہے وہ اس کی مسلسل مقبولیت اور ہردلعزیزی کاثبوت ہے۔
آج سائنس کی حیرت انگیز کرشماتی لہروں نے پوری دنیا کوہماری مٹھی میں بندکردیاہے۔ نت نئی ٹکنالوجی، انٹرنیٹ، میڈیا ہمیں پل پل نئے جہانوں کی سیر کراتی رہتی ہے۔ادب ہو یاشاعری وہ اس تغیرات سے آنکھیں نہیں چراسکتی۔ آج غزل نے بھی اسی نئی سوچ، نئے احساسات کے ساتھ اپنی تمام تر معصومیت اورتقدس کومجروح کئے بغیر عصری حسیت کو اس طرح اپنی گرفت میں لے رکھاہے کہ شعر کا ادبی متن بھی اپنی جگہ برقرار رہے اورافق ادب پر سائنس، تکنیک اورانٹرنیٹ جیسے نئے نئے ذرائع و وسائل اور ترسیل وابلاغ کی زبان سے ہم آہنگی پیدا کرکے نئے نئے معرکے بھی سر کرتی رہے۔ آل احمد سرورنے سچ کہا تھا کہ:
’’غزل اپنے طورپر زندگی کی واردات اورکیفیات پیش کرتی رہے گی۔اس کی زبان میںخاموش تبدیلی ہوتی رہے گی مگر اس کی ایمائی صلاحیت اوردروں بینی کی خصوصیت باقی رہے گی۔‘‘ (اردو غزل ص:30اردواکاڈمی‘ دہلی(
اکیسویں صدی کی یہ صدی ہے ایک خوف کی صدی۔ پچھلے دس بارہ سال میںیہ خوف ودہشت اتنی تیزی سے پھیلی کہ فرد کی سطح سے اوپر اٹھ کر قوموں کی سطح تک پھیل گئی۔اگر دیکھاجائے توانفارمیشن ٹکنالوجی اورانٹرنیٹ آدمی کوآدمی سے قریب لانے کے آج اہم ذرائع بن چکے ہیں اوربہت حد تک اس ازلی تنہائیوں کاازالہ بھی جوانسانوں کامقدربن چکی ہیں۔ مگر ایسا کچھ نہیںہوا بلکہ اب اس تنہائی کی جگہ افراد کے درمیان وہ خلا پیدا ہوگیا جوگھر اور سماج کے دائرے تک پہونچ گیا۔ سماج میںنفرت پھیلنے لگی۔ ہر طرف چھیناجھپٹی، تشدد، خوف وربے بسی نے اعلیٰ انسانی اقدار کو کچل کررکھ دیا۔اخلاقی گراوٹ کا وہ عالم کہ تفکرواحساس بے معنی ہوگئے۔ نفرت کی آندھی ایسی تیز چلی کہ اسلحے کے عالمی بیوپاریوں کی دکانیں چمک اٹھیں۔ مرنے اور مارنے کا سلسلہ بڑھنے لگا۔ انسانیت کہیں گم ہوگئی۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
آنکھوں میں نفرتوں کا سمندر لئے ہوئے
خود کو تلاش کرتا ہوں خنجر لئے ہوئے
ایسا منظر تھا کہ آنکھیں دیکھ کر پتھرا گئیں
پھر نہ دیکھا کچھ مگر نیزوں پہ سر دیکھا کئے
(محمدعلوی)
ہمارے عہد کا ہر شخص بے تدبیر ہے شاید
نظر میں دھند ہے پیروں میں بھی زنجیر ہے شاید
میں آدمی ہوں مجھے آدمی نے گھات دیئے
کسی چٹان میں کیسے شگاف ہوتا ہے
(شاہدکلیم)
گھر سے چلو تو چاروں طرف دیکھتے ہوئے
کیا جانے کون پیٹھ میں خنجر اتار دے
(اسلم الہ آبادی)
جینے کو جی رہا ہوں مگر سوچتا ہوں میں
کیوںزندگی کے نام سے ڈرنے لگا ہوں میں
(احمدمحفوظ)
وہ میرا ہوکے بھی شامل ہے قاتلوںمیں مرے
اس انکشاف نے تقسیم کردیا ہے مجھے
تمام وسعت صحرائے تشنگی میری
تمام سلسلۂ دجلہ و فرات مرا
(عشرت ظفر)
لیکن اس نفرت، تشدد اورالائو کے بیچ میںبھی ایک امید کی جوت تھی جسے ہمارے شاعروں نے جگائے رکھا تھا۔ ایسے نامساعد حالات میں بھی غزل گو شعرا خوف، تشدد اور شر کے مقابلے میںسچائی، خوبصورتی،محبت اور امن کاپیغام اپنے شعروں کے ذریعہ ہر اہلِ دل کو پہنچاتے رہے ہیں۔ مثال کے طورپر ظفر گورکھپوری کے یہ اشعار
آندھیوں میں ظلمتوں کی سازشوں کے باوجود
روشنی کم کم سہی لیکن دیا جلتا تو ہے
رات تاریک ہے دل جلاتے چلو
جگنوئوں کے کی طرح جگمگاتے چلو
رات حصہ ہے اپنا مقدر نہیں
آئیںگے اپنے دن بھی کبھو دوستو
(ظفر گورکھپوری)
آج جبکہ امیرخسروؔ، قلی قطب شاہ، ولیؔ دکنی،سراجؔ اورنگ آبادی، میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، مومنؔ، آتشؔ، داغؔ،پھر بیسویں صدی تک آتے اقبالؔ، جگرؔ، فانیؔ، اصغرؔ، حسرتؔ اورپھر بیسویں صدی کی آخری چند دہائی سے لے کر اب تک ندافاضلیؔ، عرفان صدیقی، مظفر حنفی، بشیربدرؔ، وسیم بریلوی،شہریار وغیرہ تک غزل اپنا ایک طویل سفر طے کرتی ہوئی بڑی کامیابی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہی ہے۔آج عصر جدید میںتازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ جدید غزل موضوع سے کہیں زیادہ موضوع کی پیشکش کے نئے انداز کامرہون منت ہے۔ طرز اظہار اوراسلوب بیان کی بدولت آج کی غزل پہلے کی غزل سے یکسر مختلف ہے۔ زبان وبیان کے نئے اور اچھوتے انداز اورالفاظ کے تخلیقی استعمال نے آج کی غزل میںایک خوشگوار تازگی پیدا کردی ہے۔ موضوع،اسلوب اور ڈکشن ہراعتبار سے غزل نے اپنی توسیعیت اورکشادگی کاثبوت فراہم کیاہے۔ آج ہم زمانے کی حیرت انگیز تبدیلیوں سے دوچار ہیں۔سماج بدلا، رسم وروایت بدلے، تیور بدلے، سیاسی منظرنامہ بدلا، جینے کے ڈھنگ بدلے، سماجی اور اقتصادی سطح پر مسئلے مسائل پیدا ہونے لگے۔ اب نئی غزل کے سامنے ایک چیلنج تھا کہ ان تمام بدلتی ہوئی تصویروں کو اپنے کینوس پر اتارنے کیلئے نئے سانچے اورنئے فارم تلاش کرلے۔ ویسے غزل نے ایک صدی قبل ہی قدیم طرز روش کو مکمل طورپر خیرباد کردیاتھا۔ اب نہ گل وبلبل کے قصے ہیںنہ ہجر کے شکوے، نہ وصال کی آرزو، شمع وپروانہ، گیسو و عارض تونہ جانے کب کے اپنی چمک کھوچکے۔گلوبلائزیشن کے اس دورمیںجہاں مادیت پرستی پورے سماج میںجڑ پکڑ چکی ہے، ناسازگار ھالات، خلفشار، کھوکھلی تہذیب، فرقہ واریت، سیاسی بازیگری، اقتصادی آمریت، جنسی تشدد کا پہلوان کے ساتھ ایسے امور بھی ہیں جنہیں ہم لسانی تشدد کابھی نام دے سکتے ہیں جہاںحقوق چھین لئے جاتے ہیں،کمزور اور پسماندہ قوموں کااستحصال کیاجاتاہے۔مذہب اور عقیدے کے نام پر بچوں، عورتوں اوربے گناہ مردوں کاقتلِ عام کیاجاتاہے۔فاشزم نئے نئے روپ دھار کرسامنے آتی ہے اورایسے ادب کی ضرورت ہوتی ہے جو ان تمام مرحلوں کے خلاف کھڑا ہو۔ یہ ادب زندگی کے گمبھیر مسائل اورتغیرات سے عبارت ہوتاہے۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی انسان اورانسانیت کی بقا ان کی آزادی اور فروغ کی ضامن ہوتی ہے۔عصر جدید کی غزلوں میں زندگی کی مثبت قدروں پرایمان، سرشاری، امنگ،مساوات آزادی اوررواداری کی بے پناہ مثالیں ملتی ہیں۔ 2000ء کے بعد غزل کے بے شمار شعرا ادب کے منظر نامے پر نمودارہوئے ہیں۔انہوں نے اپنی صلاحیت، فنی شعوروبصیرت،طرز تحریر، اسلوب نگارش اورپرواز تخیل کی بنیاد پر اپنا ایک مقام بنایاہے۔ان میںکچھ ایسے بھی غزل گوشعرا ہیں جواکیسویں صدی کے قبل ہی سے مسلسل غزل سرائی کاحق ادا کررہے ہیں۔یہ شعراء عصری تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک نئی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملارہے ہیں۔ان میں ندافاضلی، مظفر حنفی، وسیم بریلوی، حامدی کاشمیری، شہپر رسول، راحت اندوری، منوررانا، شین کاف نظام، مخمور سعیدی، عرش صہبائی، ظفرگورکھپوری، شہریار، گلزاردہلوی، فرحت احساس وغیرہ وغیرہ۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلسل غزل لکھ رہے ہیں لیکن ان کے یہاں بھی شعوری طورپر وہ عناصر دیکھے جاسکتے ہیں۔وہ استعارات، علامات، تمثیلات اور اشارے کنائے بھی مل جائیںگے جو کسی نہ کسی طورپر عصری حسیت کی غمازی کرتے ہیں۔ان ماتقدم شعراء میںوہ غزل گوبھی ہیںجو خالص کلاسیکی اورروایتی قدروں کے امین ہیں۔ ان کے یہاں بھی وہ احساسات، جذبات اور تفکرات تلاش کئے جاسکتے ہیں جن کا تعلق آج پوری دنیا میں پیدا شدہ مسائل اور موضوعات سے ہے۔یہ وہ شعراء ہیںجو جمالیاتی فضا کی حدبندیوں میںرہتے ہوئے بڑی گہری باتوں کابھی پتہ دیتے ہیں۔مثال کے طورپر مظفر حنفی کینہ پروری،بغض وحسد اوررنج وغم کوکچھ اس انداز سے غزل کی روح میںاتارتے ہیں۔ شعرملاحظہ فرمائیں
ہم نے جھیلے ہیں زمانے کے نشیب و فراز
پیچ و خم وادیٔ پرخار کے دیکھے ہوئے ہیں
یہ بھی جلتا ہے کسی اور علاقے میں چلیں
یہ مناظر تو کئی بار کے دیکھے ہوئے ہیں
(مظفر حنفی)
جیسا کہ اس مادیت پرستی کے دور میں انسانی قدروں کازوال تیزی کے ساتھ ہورہاہے۔ آج انسانی پیکر کے پیچھے کیسے کیسے گھنائونے چہرے چھپے ہوئے ہیں اس کیفیت کی تصویر فنی چاشنی کے ساتھ عرش صہبائی کے یہاںیوں نظرآتی ہے۔اشعار دیکھیں
آج انسان کی پہچان بڑی مشکل ہے
آج انسان ہے اوڑھے ہوئے کتنے چہرے
ان مناظر سے نگاہیں کبھی مانوس نہ تھیں
عرشؔ آویزاں ہیں اک چہرے پہ کتنے چہرے
ڈاکٹر شباب للت مذہبی تفرقات اور اپنے مفاد کی خاطر کئے جارہے خون خرابہ و قتل وغارت گری کو اور اس سے پیدا شدہ کرب و درد کوغزل کے پیرائے میں بڑی سنجیدگی ومتانت سے یوں بیان کرتے ہیں:
یہ الگ بات ہے میںبفضل خدا‘ زخم کھانے سے ہر بار بچتارہا
دشمنوں کی طرف سے اندھیرے میں گو انگنت تیر مجھ پر چلائے گئے
کیا وہ ایشورکے رحمن کے گھر نہ تھے‘ راہگیرو گاڈاللہ کے مسکن نہ تھے
بادشاہت کی اندھی اناکے لئے وہ عبادت کدے جو گرائے گئے
آج گلوبل ولیج کی بدولت پوری دنیا میں مغربی تہذیب رقص کناں ہے۔ مشرقیت کی تمام اعلیٰ اقدار، اس کی تہذیب و شائستگی اب مغربیت کی چکا چوند روشنی کی لپیٹ میںآچکی ہے۔ اس جدید تہذیب، اس نام نہاد ترقی اورروشن خیالی کی آڑ میںکیسے کیسے اخلاق سوز عناصر پنپ رہے ہیں جو انسانیت کو شرمسار کررہے ہیں۔ فیشن کے نام پر جسموں پر گم ہوتے لباس، جدیدیت کے نام پر تہذیب وشائستگی کی نیلامی، لائف اسٹائل کے نام پر ہائی سوسائٹی کی اندھادھن پیروی، کلچرڈ کے نام پر انسانی قدروں کی بے حرمتی اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل و نتائج کو ہمارے فنکار بخوبی محسوس کررہے ہیں۔ان ہی فنکاروں میںسے عطاعابدی اکیسویں صدی کاایک ابھرتا ہوا نام ہے۔ان کے یہاں احساس وجذبوں کی فروانی کے ساتھ گہرائی و گیرائی کا عمل بھی بخوبی نظرآتاہے۔وہ جب کسی موضوع کو شعری پیراہن عطا کرتے ہیں توفکروسنجیدگی کی ایک وسیع کائنات آباد ہوتی ہے۔ مغربیت کے سردو مشتعل زیریں لہروں کو وہ کس خوبصورتی اورفنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں
نئی تہذیب عریاں ہو رہی ہے
لبادے روشنی کے پھٹ رہے ہیں
نئے موسم کے پروردہ ہیں لمحے
لباس نو برہنہ چہاتے ہیں
عجائب گھر میں تہذیبیں ہیں اور ہم
ہوا کے رخ پہ بہنا چاہتے ہیں
شاہین عباس جدید شاعروں میںایک منفردنام ہے۔وہ اپنی تاریخ، اپنے ادب اور اپنی مٹی سے جڑے ہوئے انسان ہیں۔ انہوں نے غزل کی روایت کے جملہ التزامات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اسے جدیدحسیت سے آشکار کیا۔ ان کے یہاں معاملات محبت کے ساتھ ساتھ معاشرے میںجاری وساری ناانصافی، زوال اور اقدارکی برہمی پر ان کے یہاں شدید لیکن قدرے سنبھلا ہوا رویہ ملتاہے۔ عہد حاضر کاانسان جن نفسیاتی مسائل سے دوچار ہے شاہینؔ کے یہاں ان کاانتہائی مخلصانہ تجزیہ ملتاہے۔ شعرملاحظہ ہوں ؎
اب جو گھرانے پہ گرا ہے تو کھلے ہیں ورنہ
یہ مکیں لگتا نہیں تھا کہ مکاں والے ہیں
شہر کا ماجراہ نہ پوچھ ‘ شہر تو یوں ہوا کہ بس
گھر میں کوئی گلی ہوئی ‘ جیسے گلی میں گھر ہوا
گم شدہ شخص تھا سو میں پایا گیا وہیں کہیں
خواب کی لو جہاں پڑی ‘ خاک کا رخ جدھر ہوا
کلیم قیصر اپنے تجربات ومشاہدات کو شعری پیرائے میںبڑی فنکاری کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔شکست وریخت ہوتی قدریں، مٹتی ہوئی تہذیب اوراقتصادی ومعاشی بحران حتیٰ کہ روزی روٹی کی تگ و دو جیسے پہلوئوں کو بھی غزل کی چاشنی میں لپیٹ کر بڑی جدت وندرت اور آفرینی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔کچھ اشعار دیکھئے
ضرورت اپنے بیٹوں سے وہ بتاتا ہے شرما کر
بہت مجبور ہو کے باپ یہ احسان لیتا ہے
یہی بیٹے جنہیں وہ اپنا نور چشم کہتا تھا
خبر کیا تھی جواں ہو کر یہی آنکھیں دکھائیں گے
خوف و دہشت کی زمیں پر بدگمانی چھوڑکر
اڑ گئے سارے کبوتر دانہ پانی چھوڑ کر
شمس تبریزی کاطرز تحریر نہایت جداگانہ ہے۔ان کی غزلیں معاشرے کی ان سمتوں کی آئینہ دار ہیں جہاں ایک عام ذہن سرسری گزرجاتا ہے۔ نئے سیاسی نظام، تہذیب واقدار کی بدلتی ہوئی روش شمسؔ کی شاعری کے خاص موضوع ہیں۔ ان کے اس فکری رویہ اوراحساس کی شدت ہم درج ذیل اشعار میںدیکھ سکتے ہیں
ہزار حادثے ہر روز ساتھ ہیں ان کے
وہ لوگ چائے کی جو پیالیوں پہ پلتے ہیں
وہ میرا دوست ہے لیکن وہ دردمند نہیں
طلسم ہوشربا تو ہے ہوش مند نہیں
حالانکہ اس کے ہاتھ میں خوشبو کا پھول ہے
پھر بھی عجیب بات ہے چہرہ ملول ہے
مضطر افتخاری کی غزل کے لب ولہجہ میں حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ احتجاج اور مزاحمت بھی جھلکتی ہے۔ یہ جذبۂ صداقت فنکار کے حالات سے ٹکرائو اور ان سے نبرد آزمائی کی صلاحیت کی بھی عکاسی کرتاہے۔کچھ اشعار دیکھیں جن میںعصر حاضر کی سیاسی روش کی غمازیت یوں دکھائی دیتی ہے:
حقیقت کو چھپا یا جا رہا ہے
کمیشن پھر بٹھایا جا رہا ہے
میانِ شہر حج ٹاور بناکر
ہمیں پھر سے منا یا جا رہا ہے
آج کی شاعری میںکئی طرح کی آوازیں ملتی ہیں جن میںمتعینہ قدروں اور متعینہ اصولوں سے انکار کی صورتیں پنہاں ہیں۔ کہیں زندگی کا سارا عذاب جو خود انسانوں کاپیداکردہ ہے‘ انتشار ذات وتحفظ ذات کے مسائل، پاسِ انا اورشکستِ انا کااحساس، بے سمتی وکج روی، بے مقصدی ولاحاصلی، ایک چہرے پہ کئی چہروں کی فریب کاری۔ان نئے موضوعات کے اظہار کا حق ایک ایسی نئی زبان اورنیا اسلوب ہی اداکرسکتاہے جو آج کی حسیت سے ہم آہنگ ہو۔اس حق کوادا کرتے ہوئے نئے شعرا نے اظہار جذبات کاایک نیا انداز، ایک نیا لب ولہجہ ڈھونڈلیاہے۔ مثال کے طورپر شین کاف نظام کے کچھ اشعار دیکھئے جہاں نئے احساس و شعور نے نئے فنی تجربات کوجنم دیاہے۔ان کی شاعری میںایک نئی امیجری ملتی ہے۔کچھ نئے اشارے نظر آتے ہیں۔کچھ نئی علامتوں کا بھی پتہ چلتا ہے۔
ہم سے وہ رت جگوں کی ادا کون لے گیا
کیوں وہ الائو بجھ گئے وہ قصے کیا ہوئے
ممکن ہے کٹ گئے ہوں موسم کے دھار سے
ان پر پھدکتے شوخ پرندے تھے کیا ہوئے
پورے تھے اپنے آپ میں آدھے ادھورے لوگ
جو صبر کی صلیب اٹھاتے تھے کیا ہوئے
حال کی بدحالی، بے چینی، تاریک مستقبل کاشدیداحساس، اقداروروایات کی شکستگی اورموجودہ دورکے بے ہنگم شور کل ملاکر جال کی بے چینی کا استعارہ بن گئی ہے اورآج کی غزل کی رگ وریشے میںسرایت کرگئی ہے۔کچھ اشعار دیکھئے:
یہ کیسے دور کا سقراط ہوکے جینا تھا
بجائے زہر مجھے گالیوں کا پینا تھا
(مظہر امام)
جلے مکانوں میں بھوت بیٹھے بڑی متانت سے سوچتے ہیں
کہ جنگلوں سے نکل کے آنے کی کیا ضرورت تھی آدمی کو
(وہاب دانش)
ہاتھوں میں سورج لے کر کیوں پھرتے ہو؟
اس بستی میں اب دیدہ ور کتنے ہیں
قدروں کی شب ریزی پر حیرانی کیوں؟
ذہنوں میں اب کالے سورج پلتے ہیں
(عنبربہرائچی)
عصرحاضر کی غزلوں کے اس اجمالی جائزہ کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج غزل کی زبان وبیان میںایک متوازی اورسنبھلی ہوئی کیفیت کے ساتھ سہل پیرائے میںرمزیہ انداز سے بھی اس نے رشتہ جوڑے رکھاہے۔غزل رمزوایما کی زبان توشروع سے بولتی رہی ہے۔اب اس کا لہجہ کچھ شخصی اور غیر رسمی بھی ہوگیاہے۔ کیونکہ آج کاشاعر ایک نئی حسیت کے ساتھ ایک ان دیکھی دنیا کی سیر کرتاہے اوردیکھی ہوئی دنیا کو نئے انداز سے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کااظہار اسلوب وپیرایہ بھی نیا ہے اور بدلاہواہے اوریہی نیااور بدلاہوا انداز واسلوب عبارت ہے اس کی کہیں کہیں کھردری، بے تکلف، غیررسمی وغیرآرائش زبان میں تہہ دار معانی کی ترسیل ہے۔ یہی عصر حاضر کی غزلوں کاطرۂ امتیاز ہے۔