صادقہ نواب سحر کے ناول “کہانی کوئی سنائو متاشا”میں مقامی عناصر

پروفیسرڈاکٹر عالیہ کوثر (ریسرچ گائیڈ و صدر شعبۂ اُردو)
راشٹر ماتا اندرا گاندھی کالج،جالنہ

دنیا کی ہر حقیقت وہ مرئی ہو یا غیر مرئی اپنے حسین ترین اظہار کیلئے بیتاب رہتی ہے۔ اور اس وقت تک بیتاب رہے گی جب تک کہ وہ اپنے اظہار کے حسین ترین نقط پر نہ پہنچ جائے۔ ادیب اور شاعر محض ذریعہ نہیں جو اس اظہار کو حسن کی ایک منزل سے دوسری منزل تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں۔ناول ادب کی وہ صنف سخن ہے جس میں زندگی کی کثافتیں اور لطافتیں مجموعی طور پر شامل ہوتی ہیں۔جس میں انسانی زندگی کے تمام رنگ کہانی کی صورت میں پیش کیے جاتے ہیں۔ اس صنف سخن کی خاصیت یہی ہ کہ یہ زیست کے ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے معاشی سماجی، سیاسی ادبی، مقامی نظام میں پیدا شدہ تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے ایسا ادب تخلیق کرتی ہے جو معاشرہ کا آئینہ ہو۔
ادب دراصل زندگی کی تسخیر کی جانب پہلا قدم ہے۔ایک حسن کاری ہے جو ہر بات میں نفاست، ہر چیز میں سلیقہ ہر شئے میں خوبی و خوش نمائی ڈھونڈنے کے علاوہ حقیقت کے چہرے سے نقاب ہٹانے کا کام کرتا ہے۔ایکس وارنر کہتا ہے’’ ناول لکھنا ایک فلسفیانہ مشغلہ ہے‘‘ یہ سچ ہے کہ ادیب کی طبعیت میں موجیں کبھی اس کی اپنی اندرونی شور شوں کے باعث تو کبھی بیرونی تاثرات یا خیالات کے سبب پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ انہی موجوں کو جب وہ لفظوں کے ذریعہ ظاہر کرتا ہے تو کہانی وجود میں آتی ہے۔فن کی تخلیق قدرت کا عطیہ ہے۔ اس میں صنف کی سطح پر تفریق نہیں کی جاسکتی ۔ بلا امتیاز جنس ادب کو دیکھنا اور پر کھنا چاہیے۔ کیونکہ دونوں ہی کے جذبات و خیالات یکساں ہوتے ہیں۔ فرق بس نظریہ کا ہو سکتا ہے۔ کسی کو آنکھ سے بہتا صرف آنسو نظر آئے گا تو کوئی اسے موتی کہے گا۔
اُردو زبان و ادب میں خواتین ادیبوں کے کارنامے ایک پوری صدی پر محیط ہیں۔ انیسویں صدی کے اواخر میں جن ادبی و سماجی تحریکات نے جنم لیا۔ انھوں نے صنف کی تفریق کو بے معنی قرار دیا اور ادب کے افق پر نسائی فکر نے اڑان بھرنی شروع کردی۔مرد اساس معاشرہ کو نسائی ادب کے روپ میں جواب ملا کہ آج تک جسے ناقص العقل اور کمزور سمجھا جاتا رہا ہے وہ دراصل اپنا ایک ٹھو س نظریہ اور وجود رکھتی ہے۔فکشن کے میدان میں خواتین نے صدیوں سے ہورہے جبر واستحصال کے خلاف قلم کو محرک بناکر صفحۂ قرطاس پر اپنی ناآسودہ تشنہ خواہشات کو اتارا۔ اس فہرست میں جن دلیر خواتین کا نام صف اول میں شامل ہے۔ عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر سے عصر حاضر کی ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ یافتہ صادقہ نواب سحر ہیں۔صادقہ نواب سحر نے اپنی ادبی تخلیقات کی بنیاد اپنے حقیقی تجربات و مشاہدات پر رکھی ہے۔ وہ ایک حساس دل رکھتی ہے۔ جو معاشرہ کی بے اعتنائی ، و بے اعتدالی کو قبول نہیں کرتا ۔ جس موضوع کو وہ چھولیتی ہیں۔ اس میں ایک جاوداں کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ انکی نشر پختگی، تیکھے پن، کے علاوہ جادوئی تخلیقی جوہر رکھتی ہے۔ اسلوب غیر معمولی دلکشی لیئے ہوئے ہے۔ وہ ایک بہترین انشاء پرداز بھی ہیں۔ وہ خیالات کی کڑیوں کو ملاکر ایک ایسا مربوط پلاٹ تیار کرتی ہیں جو زندگی کے بعض اہم اور بنیادی مسائل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
میں نے جب ان کا ناول ’’ کہانی کوئی سنائو متاشا ‘‘ پڑھا تو اس کی ہر سطر ہر سطر کا ہر لفظ پُر معنی لگا۔ جو کہاانی کے تسلسل کو ٹوٹنے نہیں دیتا۔ اس کا پلاٹ گھٹا ہوا مربوط ہے۔ ہر ذیلی موضوع جسے مختلف عنوانات کے تحت ٹکڑوں میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ اس ناول کی نئی تکنیک کا ترجمان ہے۔ جو ناظر کوجکڑے رکھتا ہے۔ اس ناول کے تمام کردار ابتداء سے آخر تک کہانی سے بندھے رہتے ہیںہر کردار زندہ جاوید نظر آتا ہے۔ یقینا یہ ناول ادب میں ایک قیمتی اثاثہ بن کر شامل ہوا ہے۔
مرکزی کردار متاشاکی زبانی یہ کہانی سنائی گئی ہے۔ اسکی زندگی کے تمام پہلوئوں کو بڑی خوبی سے تحریر کیا ہے۔ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی کچلی عورت کی داستان حیات ہے جو اپنے لہولہان وجود کو بکھرنے نہیں دیتی اسے سمیٹتی ہے اور پھر اسی ہمت و استقلال کے ساتھ ایک غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرتی ہے۔ انھوں نے اس کردار سے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ایک مثالی کردار بناکر پیش کیا ہے۔صادقہ نواب سحر نے نا صرف کردار بلکہ مقامی عناصر کو پیش کرتے وقت انسانی فطرت ، لب ولہجہ ، انسانی کمزوریاں، مذہبی روایتوں اور علاقائی ، مقامی رنگ کا خاص خیال رکھا ہے۔ناول کو عشقیہ داستان یا تفریحی مشغلہ بنانے سے گریز کرتے ہوئے فکری راہ دکھائی ہے۔ مذکورہ ناول کا کینوس زماں و مکاں کے لحاظ سے بہت وسیع ہے۔ ناول اُڑیسہ سے شروع ہوکرملک کے تقریباً علاقوں کی سیاحت کراتا ہے۔ جس میں ان علاقوں کی بولیاں، مقامی رنگ و روپ ،رسم و رواج کا بیان مصنفہ کی وسعت نظری اور انکی لیاقت کا ترجمان ہے۔
اس کی ابتدائی کچھ اسطرح ہوتی ہے کہ اُڑیسہ کا ایک چھوٹا سا قصبہ جہاں کے شاستری ان کا رہن سہن ، پوجا پاٹ اور برہمن زمینداروں کی زندگی کی عکاسی سے کی گئی ہے۔ یہ دراصل متاشا کے ددھیال اورننھیال سے تعاوف ہے۔ جس میں اس علاقے کے مقامی عناصر کوباریک بینی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
’’میرے پردادا کے پر دادا جگن ناتھ پوری مندر میںشاستری تھے۔ ان کا مقام پجاری سے اوپر تھاپجاری دھوتی پہنتے لیکن، یہ اصلی ہیروں کے بٹن لگا ہوا سلک کاپلین کرتا کندھے پر شال پیروں میں کھڑائوں جس کے انگھوٹھے پر سونے کا کام ہوتا میں سجے ہوتے‘‘ ص۱۲
مصنفہ نے اس دورکے اڑیسہ کے قصبوں میں رہنے والے روایتی برہمنوں کے روزمرہ معمول کو دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ان برہمنوں کا درجہ اتنا بڑھا تھا کہ وہ راجہ کے تخت سے اونچے مقام پر بیٹھتے تھے۔ اور انہیں مہاپاتر کا خطاب دیا جاتا تھا۔
جب ہندوستان پر انگریزی حکمران حاکم ہوئے انھوںنے عیسائی مذہب کی تبلیغ زور شور سے کی سب سے زیادہ اثر کلکتہ میں دیکھنے ملا۔ یہاں کے ہندوئوں کو پیسہ ، تحفظ کا لالچ دیکر عیسائی مذہب میں شامل کیا گیا۔ ان میں متاشا کے نانا بھی تھے۔ وہ برہمن سے عیسائی ہوگئے۔ ہندو سے عیسائی ہونے والے برہمنوں کے گھر شادی میں جب دوسری برادری کے لوگ شامل ہوتے تو وہ اپنا چوڑاگڑ ساتھ لے جاتے وہاں کا کھانا نہیں کھاتے ہاں پھل اور دودھ لے لیتے۔ وہاں ایسا رواج تھا کہ برہمن گو ترکے عیسائی لڑکا لڑکی ڈھونڈ کر ان کی شادی کروائی جاتی۔ مصنفہ نے اس زمانے کے رسم و رواج ، ثقافت کو کلامیہ انداز میں پیش کرتے وقت ثقافتی جہات ، تاریخی و تحقیقی عوامل کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔
متاشا کے دادا کا گھر کٹک میں تھا ۔ کٹک شہر سے متعلق لکھتی ہیں کہ وہاں راجائوںکے بچوں کو پڑھانے پر استاذ کو انعامات سے نوازا جاتا تھا۔جیسے چاندی کے تھال میں ساتھ آٹھ زری کی ساڑیاں ، کچھ ہیرے کے بوندے، زیور کے علاوہ زمین کے ٹکڑے بھی دیے جاتے ، پڑھانے والے کو گروماں کا خطاب دیا جاتا۔کٹک قصبہ کے راجائوں کی تعلیم سے دلچسپی اور برہمن خاندانوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود یہ لوگ دقیانوسی خیالات کے مالک تھے۔ اس کی مثال خود متاشا ہے۔ جس کی پیدائش پر اس کے والد اور والدہ دونوں ہی ناراض ہوتے ہیں۔ یہ ناراضگی اس کی زندگی کا وہ گرہن بن جاتی ہے جو تمام عمر اس کی شخصیت کو داغدار بنائے رکھتی ہے۔ اس کے استحصال کا باعث بنتی ہے۔کٹک کے میلے کا دلکش منظر اس خوبصورتی سے کیا ہے کہ قاری اس میں کھو ساجاتا ہے۔’’ یہ میلہ کا رتک کے مہینے میں لگتا تھا۔ اور دیڑھ مہینے تک جاری رہتا۔ جسے بالی جترا کہا جاتا تھا۔ بالی یعنی ریت ، سمندر کے کنارے لگنے کی وجہ سے بالی جترا کہلاتا‘‘ مصنفہ نے میلے میں موجود تمام اشیاء کھانے،کھلونے، مٹھائیوں کا ذکر نیاضانہ طور پر کیا ہے۔اڑیسہ کے شادی بیاہ، منگنی کے رسومات اور پروسے جانے والوں لوازمات جیسے تلی مچھلی، گوشت ، پلائو، اور مٹھائیوں کے بیان سے ہمیں وہاں کی تہذیب کا اندازہ ہوتا ہے۔ کمال فن کے ساتھ کلکتہ شہر مقامی منظر نامے کو قلم بند کیا ہے۔ یہاں کی چہل پہل، عمارتیں ، وکٹوریہ میمورٹرام، ہاتھ رکشہ ، کالج ، زوم ایڈن گارڈن، ہاوڑااسٹیشن رہن سہن وغیرہ۔
’’ مجھے بڑا ڈر لگتا وکٹوریہ ، سائیکل رکشہ ، آٹو رکشہ، اور بیچ میں پتلی پتلی ٹرکیں پر چلتی تنگ ٹنگ کرتی ٹرامیں‘‘ ص ۴۸۔
تبدیلی مذہب کے باوجود وہاں کے برہمن عیسائی جو بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہتے انکے گھر کی خواتین عیسائی طرز زندگی گذارنے کے بجائے ہندو معاشرتی طرز کی خواتین کی مانند بڑا ساٹیکا لگاتی، مانگ بھر کر سیندور لگاتی اور کلکتہ کی خاص ساڑیاں پہنتی، اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنفہ نے کلکتہ کو بہت قریب سے جانچا اور پرکھا ہے۔جب متاشا کی والدہ شوہر سے بغاوت کرکے اپنے عزت نفس اور خود داری کی خاطر علی گڑھ پہنچتی ہیں وہ یہاں کے مقام رنگ میں رنگ جاتی ہیں ساڑی کی بجائے پنجابی ڈریس پہنتی ہیں۔ لکھنئو کی فضا وہاں کے مسائل جن میں افلاس ، منافقت، مذہبی مسائل کے علاوہ 1980-81 ء کے فسادات کا احوال ہو بہو پیش کیا ہے۔ فسادات کے چلتے وہاں کے اسکول کالج بند کردیے گئے بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی۔ نوکر یاں چلی گئیں۔ لوگ بے روزگار ہوئے اور ان ناساز گار حالات نے مقامی لوگوں کو علی گڑھ سے باہر روزگار کی تلاش پر مجبور کردیا۔ متاشا بھی اس کسمپرسی کے عالم میں علی گڑھ سے بمبئی چلی جاتی ہے۔
بمبئی جہاں زندگی رکتی نہیں شہر کی چکا چوند، عمارتیں ، سمندر ، چوپاٹی ،زبان و بیان، لوکل ٹرینیں، ڈبل ڈیکر بس، پر تھوی ٹھیٹر، وڑا پائو،سے لے کر دھاراوی کی جھگی چھونپڑ پٹیوں تک کا ذکر اس خوبصورتی سے کیا ہے مانو قاری اس شہر میں خود گھوم پھر رہا ہے۔ نوکری کے لئے کی جانے والی تنگ و دود اور اس دوران متاشا کی تکلیفوں اسکے ہمت و استقلال کے امتحان کی روداد مشاقی سے بیان کی ہے۔بمبئی کے علاوہ مہاراشٹر کے مختلف مقامات جن میں لوناولہ، کھنڈالہ، اور پونہ شامل ہیں۔ پونہ مہاراشٹر کا تہذیبی مرکز ہے۔ یہاں کا مہا گندر وامندر، سارس باغ، گاڑگلی جیولر تک کا ذکر اس میں ملتا ہے۔ اس علاقہ میں پر جاپتا برہم کماری سینٹر ہے جہاں ذہنی سکون حاصل کرنے کے لئے لوگ جاتے ہیں۔اس تمام تگ و دود کے دوران متاشا کی ملاقات گوتم جیسے امیرکبیر لیکن عمر رسیدہ اور ۵ بچوں کے باپ سے ہوتی ہے۔ اور دونوں شادی کا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ ایک بے جوڑ شادی ہے جس کا مقصد دونوں خاندانوں کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ یہ شادی آلندی مہاراشٹر کا مشہور مندر ہے وہاں سادگی کے ساتھ کی جاتی ہے۔
اس شادی کے بعد متاشا کے بھائیوں کے حالات بدل جاتے ہیں۔ انکی پریشانیاں کم ہوجاتی ہیں۔ وہیں گوتم کے بچوں کو ماں کی ممتا میسر آتی ہے۔ گوتم کی بیماری ، اور بیو گی کاکرب سوتیلے بیٹے کی ناجائز اور غیر اخلاقی حرکتیں متاشا کی زندگی کو مشکل بنادیتی ہیں۔گوتم کے انتقال کے بعد متاشا سے اسکی نند کے مکالمات پر معنی ہیں جو لوہانہ ویشنوی سماج کے رسم و رواجوں سے متلعق ہیں۔
’’ آج کے دن سفید ساڑی پہن لوگی تو باقی ماندہ زندگی ، سفیدکپڑے ہی پہنا ہوگا۔ سونا نہیں پہنوگی تو کبھی سونا نہیں پہن پائونگی ایسا ہوتا ہے ہمارے یہاں ۔ ص 171
اس سماج سے متعلق یہ گہری اور اہم معلومات جس کے بارے میں عام ہندوستانی شاید نہیںجانتا۔ کیونکہ جب ہندو مذہب کے رسم و رواجوں کی بات ہو اور خاص کر بیوہ عورت سے متعلق ہو تو سب جانتے ہیں کہ اسکو رنگین کپڑوں ز یور ، سنگھار اور شادی بیاہ جیسی رسومات میں شرکت سے منع کیا جاتا ہے۔ اسے منحوس سمجھا جاتا ہے۔ لیکن لوہانہ ویشنوی سماج کے ریت و رواج مختلف ہیں جو بیوہ عورت کو جینے کا حق دیتے ہیں۔ اسکی خوشیوں کو ہر کسی قسم کی پابندی عائد نہیں کرتے۔گہرائی مصنفہ نے اسکے علاوہ پنڈدان اور تیر ہویں کا احوال اس قدر باریک بینی تحقیق کے بعد تحریر کیا مانو وہ ا ن رواجوں میں شریک ہوچکی ہوں۔ یہی خوبی ان کی نگارش کو معراجِ وسعت عطا کرتی ہے۔
’’ تیر ہویں دن گھر پر بھی برہمنوں کو کھلایا گیا یہاں بھی ساتویں دن ہی کی طرح پانچ کلو چاول ، گیہوں، ایک کلو دال وغیرہ ، تیل، گھی، میدہ ، روا، آو، جوتے چپل، لالٹین،لاٹھی، پینٹ، شرٹ ، لنگی ، کرتا، گدّا، سونے کا سواسک اور انگھوٹھی، لاکٹ، سورت میں جائیں اس کے لئے چاندی کی سیڑھی جس میں سات پائیدان تھے ۔ یہ سب چیزیں برہمن مرد و عورتوں کو دان میں دی گئیں۔‘‘ ص۔۔
بیوگی کے بعد بڑے بیٹے کا ناز یبا ، ظالمانہ سلوک متاشا کو مایوس کرتا ہے۔ وہ اولڈ کھنڈالہ کے Jehora Witnessجیہوواوٹنس ادارہ میں جاتی ہے۔ جس کا مطلب ’’خدا گواہ ‘‘ہے یہ دوسرے عیسائی اداروں سے مختلف ہے۔ زیست کے سفر میں جب جب پریشانیاں انسان کو کمزور اور مایوس کردیتی ہیں۔ وہ اس عالم میں اکثر مذہب کی پناہ میں جانا پسند کرتا۔ اس لئے مصنفہ نے بشری فطرت یا نفسیات کو سمجھتے ہوئے متاشا کے سکون کی تلاش میں بلا تفریق مذہب کبھی چرچ تو کبھی مندر جانے کا ذکر کیا ہے۔تروپتی بالاجی مند رکی اہمیت ہندوئوں خاص کر مہاراشٹر کے ہندئوں میں بہت زیادہ ہے۔ اس مندر اور اسکے طریقۂ عبادت کے بابت تفصیل سے بیان کیا ہے۔ وہاں پوجا کا وقت صبح چار بجے کا ہے۔ متاشا یا جو بھی عقیدت مند ہیں وہ نہادھو کر سفید دھوتی کرتا پہن کر مندر میں پوجا کے لئے جاتے ہیں۔ بالاجی کی مورتی کی خوبصورتی اس کا رنگ ،چمکیلی آنکھیں، سفید دانت اور سر پر سجا ہیرے کا تاج روحانی منظر قاری کی نظروں میں اتر آتا ہے۔
ایک مضطرب بے چین بے سکون عورت جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں جسے گھر والے بھی پناہ نہیں دیتے۔ جسے مطلوبہ سکون کسی مذہبی ادارے کسی عبادت گاہ میں میسّر نہیں آتا۔ آخر پریشان ہوکر اپنے بھائی کے پاس منالی جاتی ہے۔ یہاں مصنفہ نے منالی کی ٹھنڈ، برف ، پہاڑوں کی خوبصورتی کا مختصر بیان کیا ہے۔ یہاں سے کیرالا ، ایرنا کولم جائے وہاں کے گھر، غذا، رہن سہن ، تہواروں کا بیان خوبی سے کیا ہے۔ کیرالاکا مشہور تہوار’’ وِسو‘‘ کے بارے میں لکھتی ہے کہ اس تہوار میں وشنو بھگوان کی پوجا کی جاتی ہے صبح اُٹھ کر بھگوان کے بعد پیلے رنگ کے پھول کا دیکھنا مبارک مانا جاتا ہے۔مقامی عناصر اس ناول کی کہانی کے بہائو میں مضبوط سہارا بن کر ابھر تے ہیں ناول میں کہیں بھی جمود نظر نہیں آتا۔ مصنفہ متحرک و فعال اور اپنے فن پر مکمل گرفت رکھتی ہیںاس ناول میں صادقہ نواب سحر نے اپنے نام کی طرح لفظوں کے ذریعہ کہانی میں سحر پھونکا ہے جو قاری کو یکسر مسحور کردیتا ہے۔ آج بھی مصنفہ کا ادبی کارواں تحقیق سے تخلیق،تخلیق سے تصنیف کی کٹھن رہگزروں سے گزرتے ہوئے نئے آفاق کی جستجو میں محوسفر ہے۔