شخصیت نگاری اور خاکہ کشی کا امتزاجی رنگ اور زبیرنبی
ڈاکٹر شبیر احمد قادری( فیصل آباد)
یادیں ‘ رختِ حیات کے طور پر وقت کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں۔ نہ صرف سفر بلکہ ایک فرد کے حضر و قیام کے لمحات بھی یادوں کی گنجینہ کشائی اور عہد رفتہ کے کھجور کے درخت کو ایسا کھودا لگاتے ہیں۔جس سے یادوں کا شیریں رس ٹپکتا رہتا ہے۔ یادیں شیریں ہی نہیں ، تلخ بھی ہوتی ہیں۔ یہ لذتِ گریہ سے مملو ہوتی ہیں اور حصول و ترسیلِ مسرت کا وسیلہ بھی ۔ زندگی میں ایک فرد کو شگفتہ مزاج افراد ملتے ہیں وہاں رمیدہ و رنجیدہ مزاج لوگوں سے بھی واسطہ پڑتا ہے۔ الفتوں کے ساتھ ساتھ کلفتوں کے ذائقے بھی چکھنا پڑتے ہیں۔ نشاط و اہتزاز اس کا مقدر ہیں تو مابہ النزاع امور و معاملات ، روکھے پن اور یبوست سے بھی نبردآزما ہونا پڑتا ہے۔
یادوں کی نوعیت امتزاجی اور ترکیبی ہوتی ہے۔ یاد کبھی اکیلی نہیں آتی ، اپنے دکھ سکھ کے ساتھیوں کو ساتھ لے کر ذہن پر یلغار کرتی ہے۔ یادوں کی آمدورفت کے خاص قرینے ہوتے ہیں۔شعور ، تحت الشعور اور لاشعور کے کاریزیں جدا جدا ہیں۔ ہمارے زبیر نبی نے ان کاریزوںکے آگے اوراق کا بند باندھ دیا ہے اوراس سے وہ صورت سامنے آئی ہے ، جسے ’’یادوں کی آغوش ‘‘کے دلنشیں نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ یادوں کا سرگم ہے جس سے سات ملفوظی و مکتوبی سر ظہور کرتے ہیں۔ اس کتاب کی ترتیب و تشکیل اور ترسیل کے مقاصد و معارب خود نمائی ہرگز نہیں ، نہ اپنے ہمہ جہت تعلقات و مراسم کے چہرے کی نقاب کشائی ہے بلکہ اپنی اب تک کی زندگی کے تجربات و حوادث اور مطالعات و مشاہدات کوسطحِ قرطاس پر منتقل کرنا ہے۔ زبیر نبی یادوں کے کنکوے کی ڈور پلاتے ہیں اور کھینچتے بھی ہیں۔ وہ یادوں کی ڈور کو چرخی پر لپیٹتے ہیں اور اسے ڈھیل بھی دیتے ہیں۔ یوں یادوں کا کنکوا اونچا بہت اونچا اڑنے لگتا ہے اور دیکھنے والا حظ محسوس کرتا ہے۔ زبیر نبی کا کمال یہ ہے کہ وہ جھانگڑا لے کر دوسروں کے افکار کی کٹی پتنگ کے پیچھے نہیں دوڑتے بلکہ اپنی یادوں کی دنیا آپ پیدا کرتے ہیں۔ وہ ساکنانِ کنج ماضی کا خود کھوج لگاتے ہیں ، وہ پرولتاری ہوں یا بورژوا، انہیں تو بس ان کی تصویریں دکھانے کا لپکا ہے اور حلیہ آرائی سے غرض ہے اور بس۔ وہ لفظوں کی تزئین و ترصیع پر خاص توجہ دیتے ہیں اور مہکیلی یادوں کو نذرِ قارئین کر کے فرحت اور راحت محسوس کرتے ہیں۔ زبیر نبی نے ساکنانِ کنجِ ماضی کا بغور مطالعہ کیا ہے اور مشاہدہ بھی۔ بعض اوقات مشاہدہ ، مطالعے سے برتر حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط دیکھنے والی آنکھ ہے۔ جو بصارت کے ساتھ ساتھ بصیرت کی حشمت و دولت سے مالا مال ہو۔ زبیر نبی ان صفات ِجمیلہ سے متصف ہیں۔
حال کو مادی اعتبار سے سے بنانے سنوارنے اور مستقبل سازی کے ایام پُر آلام میں عہدِ گزراں اور اس سے وابستہ افراد و اشخاص کو یاد کرنا اور انہیں قارئین با تمکین سے متعارف کرانا ، فی زمانہ غیر معمولی خدمت ہے۔ مداد تیرہ سے لکھے ہوئے روشن اور منور حروف کے مطالعے کی اپنی ہی ایک کیفیت ہوتی ہے۔ زبیر نبی نے اپنی تحریر کو پرتاثیر بنانے اور اتصالِ مطالب کے لیے کہیں کہیں مبالغہ آرائی کا تڑکا بھی لگایا ہے۔ وفور ِنگارش میں ایسا ہونا قدرتی بات ہے۔ یہی عمل صحافتی تحریر کو ادب کے رنگ میں رنگ کر سامنے لانے کا موثر و معتبروسیلہ ٹھہرتا ہے۔ ” یادوں کی آغوش ” تہذیبی و ثقافتی عناصرکے تناظر میں بہت اہم پیشکش ہے۔ یادوں کی بحالی کی صورت میں یاد نگار نے دیوار ِوقت پر پچی کاری کا جو عمل کیا ہے وہ قارئین و ناظرین کے لئے دلچسپی کا سامان لئے ہوئے ہے۔ انھوں نے پیار ، محبت ، چاہت اور الفت کے قرینے بھی آزمائے ہیں اور اپنی تحریر کی بندوق کی تکنی سے مصنف نے خوب خوب نشانے بھی لگائے ہیں۔ مصنف کی یاد نویسی کا مرکز ان کا آبائی شہر فیصل آباد ہے ۔ یوں یہ کتاب شہر نگاری کی ایک دل پذیر مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر اور ا کیسویں صدی کے ابتدائی دو عشروں کا دورانیہ ، اپنے بیش تر سیاسی ، سماجی ، اقتصادی ‘ادبی اور تہذیبی و ثقافتی امور سمیت ، ان اوراق کی سطور میں مستور ہیں۔
خود نوشت ہو یا یادوں کے انمول خزانوں سے معمور سطور ، یہ سماجی داب پیما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ دل پذیر اور پر مغز یادوں کی جمع آوری صد نالۂ شب گیر کی عطا اور رخشِ عناں تاب پر سوار ہو کر دور بہت دور نکل جانے کا حاصل ہوتی ہیں۔ اس تصنیف کے مصنف نے پاؤں کی زنجیر کی پرواہ کیے بغیر قلم بدوش رقص کیا ہے اور خوب کیا ہے۔ انھیں یادوں کو یاد رکھنے اور احباب کو سنانے میں لطف آتا ہے۔ اور اس ہنر میں یکتا ہیں کہ بار بار سنی ہوئی باتیں سن کر بھی ، سامع محظوظ ہوتا ہے۔ گفتگو اس درجہ دلنشیں اور انداز اتنا دلپذیر کہ مجھے کبھی کبھی یہ گمان گزرتا ہے کہ زبیر نبی کسی پرانے۔۔۔۔۔ بہت پرانے وقتوں کا کوئی داستان گو ہے جو بھولتا بھٹکتا لائلپور کی سرزمین پر پہنچا اور اس کی بو باس اسے ایسی خوش آئی کہ یہیں خیمہ گاڑ لیا ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس داستان گو کو داستان سنانے کا فن بھی خوب آتا ہے۔ قدرت نے اسے دونوں نعمتوں سے سرفراز کیا ہے۔ داستان نویسی بھی اور داستان گوئی بھی۔ یہ دونوں نعمتیں کم لوگوں کا مقدر بنتی ہیں۔ زبیر نبی پر تو قدرت بہت مہربان ہے۔ وہ چاہیں تو آسمان سے ستارے توڑ لائیں یا پاتال میں اتر کر مختلف النوع معدنی اشیا سے سامع اور قاری کا دامن بھر دیں۔ زبیر نبی کی یادداشت ایسی ہے کہ رشک آتا ہے۔ ’’رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے‘‘ والی بات ان پر بجا طور پر صادق آتی ہے۔ وہ باتیں کرنے پر آمادہ و راغب ہوں تو فصلِ سماعت کی کیاریاں رنگ برنگ پھولوں سے سج اور پھب جاتی ہیں اور لکھنے پر آ جائیں تو لفظوں کے موتی رولتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں :
’’نظریات میں شدید اختلاف کے باوجود بھائی جان ظہیر سلیمی کی شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوں۔ بحث و تمحیص کے دوران ان کا جوش ، الفاظ کا چناؤ اور شعروں کا برجستہ اور بر محل استعمال ، اردو ، انگریزی اور پنجابی زبان پر یکساں عبور انہیں مدمقابل پر حاوی کر دیتا ہے۔ وہ مجھے ہمیشہ کاکا جی کے نام سے پکارتے ہیں۔ ان کے لہجے کی اپنائیت مجھے بے حال کر دیتی ہے۔ ان کی صحبت مجھے تسکین فراہم کرتی ہے۔ میں بھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں اور ظہیر سلیمی بھی۔ اس لیے ہم اپنے اکیلے پن کو مدغم کر کے دو ہو جاتے تھے لیکن اب یہ اکیلا پن مجھے تن تنہا کاٹنا پڑے گا کیونکہ اب بھائی جان ظہیر سلیمی اس دنیا میں نہیں رہے۔ کیا باغ و بہار شخصیت تھے۔ “
’’روحانیت کے اس سفر نے ان کی شخصیت کو مہمیز کیا اور دنیا داروں کے علاوہ وہ دین کے شیدائیوں کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ روحانیت کا مسحور کن موضوع ان کا پسندیدہ شعبہ ہے۔ تصوّف کی پیچیدہ گتھیاں سادہ الفاظ میں اس طرح سلجھاتے چلے جاتے ہیںجیسے یہ موضوع ان کے گھر کی لونڈی ہو۔وہ گھنٹوں اس موضوع پر مدلل گفتگو کرنے پر کمال مہارت رکھتے ہیں۔ سامعین سوچتے رہ جاتے ہیں کہ جدید لباس اور وضع قطع کا حامل یہ مقرر کس روانی سے روحانیت جیسے موضوع سے انصاف کر رہا ہوتا ہے۔ وہ جب تصوف پر بات کرتے ہیں تو ان کے چمکدار چہرے کے گرد نورانی کیفیت کا ایک ہالہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔‘‘
’’ایک ایسی شخصیت سے تعارف ہوا جو۔۔۔۔ اب تک نہ صرف ہماری گفتگو کا موضوع ہے بلکہ جب ان کے بارے میں بات نہ بھی ہو رہی ہو تو وہ دماغ میں موجود رہتے ہیں۔‘‘
’’ان کی شخصیت کے بیشمار پہلو تھے اور سب پہلو اپنی اپنی جگہ پر اہم اور نمایاں تھے ایک اچھے ادیب ، اچھے لکھاری ، شاعری پسند کرنے والے ، شاعری کو جاننے والے ، ادب کو پہچاننے والے۔ اس کے علاوہ انھیں انسانی نفسیات پر بہت عبور حاصل تھا۔ حقیقت شناسی اور انسانی رویوں کا عمیق مطالعہ ، ایسے اوصاف ہیں جو انہیں ایک بہت بڑے دانشور کے طور پر سامنے لاتے ہیں لیکن ان کی سادگی دیکھیے کہ خود آنکھیں کھلی رکھتے ہوئے بھی دوسروں کے جال میں آ جاتے ہیں اپنی سادگی کے باوجود اپنے مخاطب کی گفتگو سے اس کی شخصیت کا اندازہ کر لیتے تھے کہ وہ کیا ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو بہت حیران کن ہے ہے کہ وہ لوگوں کی اصلیت جان کر بھی ان سے دھوکہ کھا لیتے تھے۔‘‘
’’وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ دو یا تین دوست کسی اور کے ساتھ لڑائی میں شریک ہوں تو کچھ عرصہ بعد ان میں سے سب سے زیادہ غیر متحرک شخص اس لڑائی کے بارے میں بیان کرتے ہوئے ظاہر کرتا ہے کہ وہ اس لڑائی کا ہیرو تھا۔ مخالف کو لگنے والا ہر مکہ اپنی ذات سے منسوب کرتا ہے اور مخالف کے مکے کی زد میں اپنے ساتھی کو لاتا ہے۔موقع سے بھاگ جانے کی صورت میں اس بزدلی کو اپنی ذہانت پر محمول کرتا ہے۔‘‘
زبیر نبی کے مضامین سے یہ چند اقتباسات ان کی یاد نگاری کا مکمل احاطہ نہیں کرتے ، تاہم ان سے موصوف کے اسلوب کا ضرور علم ہو جاتا ہے۔سادہ لفظ اور شگفتہ و شستہ بیانیہ بہت متاثر کن ہے۔
” یادوں کی آغوش” کے دیباچہ نگار حمید شاکر نے کتاب میں شامل تحریروں کو مصنف کے مزاج اور انداز فکر و عمل کے مماثل قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :
’’مصنف نے جس شخصیت پر بھی قلم اٹھایا ہے اس شخصیت کے بنیادی مزاج، افتاد طبع، اندازِ فکرو عمل اور اْس کی ذات کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرانے میں بخل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے قلم سے ایک ایسا انسان قاری کے سامنے رکھ دیا ہے جس سے آشنا ہونے کے بعدقاری ہمکلام ہونے کے لئے بے تاب ہو جاتاہے۔
بعض نقاد حلیہ نگاری کو خاکہ نگاری کے لئے غیرضروری سمجھتے ہیںلیکن راقم کی دانست میں یہ خاکہ نگاری کا حسن ہے‘ میک اپ ہے بعض اوقات ضرورت سے زیادہ میک اپ کسی بھی شخصیت کو مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔ لہذا حلیہ نگاری کے دوران خاکہ نگار کی ہنرمندی اور چابکدستی شخصیت کو مسخ ہونے سے بچا سکتی ہے اور اسے خاکہ کا حسن بنا سکتی ہے۔ مصنف نے تمام خاکوںمیں اس ہنر کو خوب آزمایا ہے۔ انہوں نے خاکہ کے اجزائے ترکیبی یعنی حلیہ نگاری‘ کردارنگاری، سیرت کی جھلکیاں، واقعہ نگاری،واقعات کی ترتیب، منظرکشی،وحدت تاثر، زبان وبیان کی چاشنی اوربے جا طوالت سے اجتناب کرتے ہوئے اختصار کو مکمل ہنر کاری سے استعمال کیا ہے اور یہی وہ اوصاف ہیں جو پڑھنے والے کو اپنی طرف متوجہ ہی نہیں کرتے بلکہ اپنا اسیر بنالیتے ہیں۔ میں بھی اپنے آپ کوزبیر نبی کے خاکوں اور شخصیوںکی اسیری میں مبتلا پاتا ہوں ۔ ایسی اسیری جواپنے دامن میں دلپذیری کو سجائے ہوئے ہے۔یہ دل پذیری کھیلتے ہوئے معصوم بچے کی طرح ہر کس و ناکس کے دل کے کنول کھلاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر ریاض مجیدنے شگفتہ بیانی کے جوہر کی نشان دہی کرتے ہوئے صد فی صد درست لکھا ہے :
” مزاح اور شگفتگی زبیر کے اسلوب نثر کا خاصہ ہے مگر ایک بات جو انہیں دوسرے خاکہ نگاروں سے مختلف ٹھہراتی ہے وہ یہ کہ ان کی شگفتگی اعلیٰ درجہ کی سنجیدگی سے جنم لیتی ہے وہ زیر نظر شخصیت کا تمسخر نہیں اڑاتے ان کے شگفتہ اسلوب میں بھی بین السطور وقار ، ادب اور احترام کا ایک پہلو نمایاں رہتا ہے۔ ”
خالد شریف نے زبیر نبی کے ان خاکوں کی روشنی میں اپنے گم شدہ لائل پور کے ملنے کی بات کی ہے جبکہ ناصر بشیر نے اس کتاب کو ایک عجائب خانہ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کی یہ رائے بہت اہم ہے کہ مصنف نے اپنے شہر کی گنگ تاریخ کو زبان دی ہے ۔ ڈاکٹر صغریٰ صدف نے اس کتاب کو فیصل آباد کی ادبی ، سماجی ، سیاسی ، صحافتی اور عدالتی شخصیات کا انسائیکلوپیڈیا قرار دیا ہے۔
’’یادوں کی آغوش‘‘ کے مصنف زبیرنبی عبارت کو پرلطف بنانے کے لیے کہیں شعروں کا سہارا لیتے ہیں اور کہیں دوست احباب سے منسوب باتوں کو جزوِ تحریر بناتے ہیں۔ان کی تحریروں میں کئی ذائقے اور لطافتیں توجہ کش ہیں۔ والدین کے حوالے سے ان کے خاکے بہت عمدہ اور محبت کی خوشبو میں بسے ہوئے ہیں۔ میری دانست میں ان کا سب سے عمدہ خاکہ محمد ظہیر قریشی کا ہے ۔ وہ کوئی اور مضمون نہ بھی لکھتے تو مجھے یقین ہے کہ اس مضمون کی بدولت خاکہ نویسی میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ ان کے ہاں خاکہ نگاری اور شخصیت نویسی کے اوصاف و خصائل یک جان ہو گئے ہیں۔ موصوف حلیہ نگاری کے ماہر ہیں اور لفظوں میں پیکر تراش کر رکھتے ہیں۔ ’’یادوں کی آغوش‘‘ ازروئے موضوع بہت اہم اور جداگانہ نوعیت کی کاوش ہے۔ اس کی ترتیب و اشاعت اور پیشکش پر جناب زبیر نبی کی خدمت میں میں گلہائے تبریک پیش کرتا ہوں۔
https://shorturl.fm/vqkvZ
https://shorturl.fm/hSyNO