جتندر دیو لانبہ
برطانیہ
افسانہ نگار
اردو افسانہ نگاری میں جتندر بلو کا نام ان تخلیق کاروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مشرقی اقدار اور مغربی معاشرت کے مابین پنپتے وجودی، تہذیبی اور فکری تصادم کو نہایت فنکارانہ انداز میں بیان کیا۔ وہ کہانی کو محض تخیل کی پرواز نہیں سمجھتے بلکہ اسے زندگی کے جیتے جاگتے لمحات کا عکس بناتے ہیں۔ جتندر بلو کا قلم تارکین وطن کے جذبات، شناخت کے بحران، اور انسانی رشتوں کی ٹوٹتی جوڑتی پرتوں کو جس حساسیت سے چھوتا ہے، وہ انہیں اردو فکشن میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کرتا ہے۔
پیدائش: 18 نومبر 1937، پشاور (موجودہ پاکستان)اصل نام: جتندر دیو لانبہ۔قلمی نام: جتندر بلو۔اردو افسانہ نگاری میں جتندر بلو کا نام ان تخلیق کاروں میں شامل ہے جنہوں نے تجربے کی سچائی، معاشرتی بصیرت اور مہاجرت کی ذہنی کشمکش کو نہایت ہنر مندی سے الفاظ کا روپ دیا۔ ان کی کہانیوں میں نہ صرف مشرقی روایت کی بازگشت سنائی دیتی ہے بلکہ مغربی دنیا کی تہذیبی پیچیدگیاں بھی نمایاں طور پر جلوہ گر ہوتی ہیں۔
جتندر بلو نے 1965 میں دہلی کے معروف رسالے “شمع” میں “جعلی نوٹ” کے عنوان سے اپنی پہلی کہانی شائع کروائی۔ ابتدا میں وہ “بیدل” کے قلمی نام سے لکھتے رہے، لیکن بعد ازاں والدہ کے محبت بھرے لقب “بلو” کو اختیار کیا، اور یوں وہ ادبی دنیا میں “جتندر بلو” کے نام سے پہچانے جانے لگے۔
1973 میں وہ ایک ناول لکھنے کے لیے لندن آئے، جہاں دو سال قیام کے بعد 1975 میں واپس ہندوستان چلے گئے۔ مگر بدلے ہوئے ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو سکے، جس کے نتیجے میں صرف آٹھ ماہ بعد 1976 میں دوبارہ لندن جا بسے — وہی لندن جو بعد میں ان کی بیشتر تحریروں کا منظرنامہ بنا۔جتندر بلو کی تخلیقات موضوعاتی تنوع اور جغرافیائی وسعت لیے ہوئے ہیں۔ مشرقی انسان کا مغربی دنیا میں مقام، شناخت کا بحران، اور سماجی و تہذیبی رویے ان کے بیانیے کا بنیادی محور ہیں:
پرانی دھرتی اپنے لوگ (1977) ناول؛ برطانیہ میں بسنے والے دیسیوں کی کہانی
پہچان کی نوک پر (1983) افسانے؛ ہندوستان اور برطانیہ کے تناظر میں
اپنے دیس میں (1988) افسانے؛ مغربی زندگی اور مشرقی اقدار کا تقابل
مہانگر (1990) ناول؛ ہندوستانی شہری زندگی پر مبنی
جزیرہ (1994) تین طویل کہانیاں؛ برطانوی پس منظر
انجانا کھیل (2001) افسانے؛ داخلی پیچیدگیوں کا عکاس
:نقاد سید عاشور کاظمی کے مطابق
“جتندر بلو کی تحریریں محض ذہنی مشق نہیں بلکہ وہ زندہ معاشرتی کرداروں کا عکاس افسانہ نگار ہے۔ اُس کے ہاں مشرق و مغرب کا تصادم ایک فکری سطح پر ابھرتا ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔”
:سید عاشور کاظمی مزید کہتے ہیں
“یہی بیداری انھیں فکشن کی دنیا کے لمحہ بہ لمحہ بدلتے مزاج سے باخبر رکھتی ہے، اور یہی شعور ان کی تحریر کو تیشہ فرہاد بنا کر خشک زمینوں سے خیالات کی نہریں نکالنے پر قادر بناتا ہے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔