لڈمیلا ویسلیسیوا

روس

اردو کی معروف روسی ماہر لسانیات، ادیبہ

 اردو زبان و ادب کی ممتاز روسی ماہرِ لسانیات، مترجم، محققہ اور صداکارہ لُڈمیلا ویسلیسیوا 23 مئی 1942 کو روس میں پیدا ہوئیں۔ وہ کئی دہائیوں سے اردو زبان، شاعری اور تحقیق کے حوالے سے روس میں سند کی حیثیت رکھتی ہیں اور مشرقی علوم کے معروف ادارے انسٹی ٹیوٹ آف اورینٹل اسٹڈیز، رشین اکیڈمی آف سائنسز ماسکو میں تدریسی و تحقیقی خدمات انجام دے رہی ہیں۔لُڈمیلا ویسلیسیوا نے ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی سے 1965 میں اردو و ہندی ادب میں ایم اے کیا، جبکہ 1987 میں انہوں نے پی ایچ ڈی مکمل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ اردو کے معروف ادیب الطاف حسین حالی کی علمی و ادبی خدمات پر تھا، جسے اردو تنقید میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔

1967 سے 1984 تک، وہ عالمی شہرت یافتہ انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی مترجم و ہم سفر رہیں۔ اس دوران انہوں نے متعدد ممالک کا سفر کیا اور فیض کے ساتھ اردو کے پیغام کو عالمی سطح پر پھیلانے میں کردار ادا کیا۔ اُن کی کتاب “فیض احمد فیض: حیات و خدمات” 2006 میں شائع ہوئی، جو فیض پر پہلی معتبر ادبی سوانح عمری تصور کی جاتی ہے۔

لُڈمیلا نے علامہ اقبال، فیض احمد فیض، مرزا غالب، مجروح سلطانپوری اور دیگر معروف اردو شعرا کی تخلیقات کو روسی زبان میں منتقل کیا ہے۔ ان تراجم نے روسی قارئین کو اردو کی شعری روایت سے متعارف کروایا۔ وہ ماسکو یونیورسٹی اور رشین اسٹیٹ یونیورسٹی آف ہیومینٹیز میں اردو کی تدریس سے وابستہ رہی ہیں اور دہائیوں تک ریڈیو ماسکو کی اردو سروس میں صداکاری و ادبی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتی رہیں۔

:کتب

1۔ پرورشِ لوح و قلم (ترجمہ از روسی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2004) از اسامہ فاروقی اور لڈمیلا ویسلیسیوا

2۔  بچوں کے لیے تحریر کردہ ان کی تین کہانیاں ہمدرد پاکستان کی جانب سے کتابی صورت میں شائع کی گئی ہیں۔

لُڈمیلا ویسلیسیوا کی اردو زبان کے لیے خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔ انہیں متعدد اعزازات سے نوازا گیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔