تضمین نگار

تضمین کے لغوی معنی ہیں شامل کرنا، ملانا، جگہ دینا۔ اصطلاحِ شعراء میں کسی مشہور مضمون یا شعر کو اپنے شعر میں داخل کرنا، چسپاں کرنا، شعر پر مصرع لگانا۔ شاعر جب کسی دوسرے شاعر کے کلام، شعر یا کسی مصرعے سے متاثر ہوتا ہے تو اس پر کچھ اضافہ کرکے اپنا لیتا ہے۔ شعری تخلیق کا یہ عمل تضمین کی صورت اختیار کر لیتا ہےتضمین (Tazmin) ایک ادبی اصطلاح ہے جو شاعری میں استعمال ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی دوسرے شاعر یا ادیب کی مشہور یا معروف عبارت یا شعر کو اپنے شعر میں شامل کرنا۔ عموماً یہ کسی دوسرے شاعر کی تخلیق کے حوالہ دینے یا اس سے متاثر ہو کر تخلیق کی جانے والی عبارت کو کہا جاتا ہے۔ تضمین کا مقصد اصل شعر یا عبارت کو ایک نیا مفہوم دینا یا اس میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔

یہ ایک ادبی تکنیک ہے جس میں دوسرے شعراء کے اشعار کو یا تو لفظی طور پر یا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اپنی تخلیق میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال شاعری میں مختلف قسم کے خیالات کو مزید گہرا اور بھرپور بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔

تضمین کااردو ادب میں پس منظر

اردو ادب میں تضمین کا استعمال بہت قدیم اور روایتی ہے۔ یہ ایک ایسی ادبی تکنیک ہے جس میں کسی دوسرے شاعر یا ادیب کے اشعار، مصرعے یا عبارت کو اپنے اشعار میں شامل کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف ادب کے دیگر رجحانات کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے بلکہ خود شاعری کی تخلیق میں ایک نئے جہت کو شامل کرنا بھی ہوتا ہے۔

تضمین کا آغاز اردو شاعری کے ابتدائی دور سے ہوا تھا۔ اس وقت کے شعراء نے اپنے اشعار میں فارسی اور عربی کے مشہور اشعار کی تقلید یا اس سے متاثر ہو کر تخلیق کی۔ اردو شاعری میں، تضمین کا استعمال نہ صرف اس وقت کے شاعروں کو کلاسیکی ادب سے جوڑتا تھا بلکہ ایک طرح سے اپنے ذاتی خیالات اور موضوعات کو بھی مضبوط کرتا تھا۔

مثال کے طور پر، غالب اور اقبال جیسے عظیم شعراء نے تضمین کا استعمال اپنی شاعری میں کیا، جہاں انہوں نے دوسرے شعراء کے مشہور اشعار کو اپنے مخصوص مضمون یا خیال کے ساتھ جوڑ کر ایک نئی جہت پیدا کی۔ بعض اوقات، شاعری میں تضمین کا مقصد کسی پچھلے شعر یا خیال کی تائید کرنا یا اسے بہتر طریقے سے پیش کرنا بھی ہوتا ہے۔

تضمین اردو ادب میں ایک معتبر اور اہم تکنیک بن چکی ہے، جو نہ صرف شاعری کی تخلیق میں تنوع پیدا کرتی ہے بلکہ ادب کے مختلف رجحانات، اسلوب اور اثرات کو بھی باہم مربوط کرتی ہے۔

اردو  تضمین نگار

اردو ادب میں بہت سے اہم شاعروں اور ادیبوں نے تضمین کو بطور ادبی تکنیک استعمال کیا ہے۔ ان میں سے کچھ مشہور تضمین نگار یہ ہیں:

    میرزا غالب –

 غالب نے بہت ساری نظمیں اور اشعار میں تضمین کا استعمال کیا، خاص طور پر فارسی ادب سے متاثر ہو کر۔

    اقبال –

 اقبال نے بھی تضمین کا استعمال کیا، جہاں انہوں نے کلاسیکی اشعار کو اپنے فلسفیانہ خیالات کے ساتھ جوڑا۔

    میر تقی میر –

 میر نے اپنے اشعار میں تضمین کا استعمال کیا، خاص طور پر روایتی شاعری اور اپنی ذات کی عکاسی کے لیے۔

    فہمیدہ ریاض –

 فہمیدہ ریاض نے اپنی شاعری میں کئی بار دوسرے شاعروں کی اشعار کی تضمین کی۔

    احمد فراز –

 فراز نے کلاسیکی اشعار کو جدید معنوں میں پیش کیا، اور تضمین کا خوبصورتی سے استعمال کیا۔

    جون ایلیا –

 جون ایلیا نے اپنی شاعری میں کلاسیکی اور جدید اشعار کا امتزاج کیا، اور کئی مواقع پر تضمین کا استعمال کیا۔

    شہزاد احمد –

 شہزاد احمد کی شاعری میں بھی تضمین کا استعمال دکھائی دیتا ہے۔

    میرزا دبیر –

دبیر کی شاعری میں بھی تضمین کا بھرپور استعمال ہے۔

    فیض احمد فیض –

فیض نے بھی اردو شاعری میں تضمین کا استعمال کیا اور اسے اپنے منفرد اسلوب میں ڈھالا۔

    رضیہ سجاد ظہیر –

رضیہ سجاد ظہیر نے اردو ادب میں اپنی کہانیوں اور شاعری میں تضمین کا استعمال کیا۔

    یوسف زئی –

 یوسف زئی کی شاعری میں بھی تضمین ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    جگر مراد آبادی –

جگر مراد آبادی نے اپنی غزلوں میں کئی مواقع پر تضمین کا استعمال کیا۔

    خمار بارہ بنکوی –

 خمار بارہ بنکوی نے اپنی شاعری میں تضمین کی تکنیک کو بہتر طریقے سے اپنایا۔

    ظفر اقبال –

ظفر اقبال کی شاعری میں بھی تضمین کا رنگ دکھائی دیتا ہے۔

    غلام محمد قریشی –

 قریشی نے بھی اردو شاعری میں تضمین کا استعمال کیا۔

یہ فہرست بعض اہم تضمین نگاروں کی ہے، جنہوں نے اس ادبی تکنیک کو اردو ادب میں ترقی دی اور اسے اپنے ذاتی اسلوب میں شامل کیا۔

اردو ادب میں تضمین کا استعمال کرنے والے چند مشہور تضمین نگار کی فہرست میں شامل ہیں:

یہ فہرست اردو ادب کے مختلف دوروں کے اہم تضمین نگاروں پر مشتمل ہے، جنہوں نے تضمین کو اپنی تخلیقات میں کامیابی سے استعمال کیا اور اس ادبی تکنیک کو مستحکم کیا۔

اردو ادب میں تضمین کے استعمال میں اور بھی کئی اہم شاعروں اور ادیبوں کا ہاتھ ہے جنہوں نے اس تکنیک کو اپنے انداز میں پیش کیا۔ یہاں کچھ مزید تضمین نگاروں کی فہرست دی جا رہی ہے:

    انیس اور دبیر –

 انیس اور دبیر نے دونوں نے اپنی مثنویوں اور غزلوں میں تضمین کا استعمال کیا۔

    علی سردار جعفری –

 انہوں نے بھی اپنی شاعری میں تضمین کا خوبصورت استعمال کیا۔

    سید محمد نقوی –

سید محمد نقوی نے اپنی غزلوں میں تضمین کے ذریعے کلاسیکی اشعار کو نیا رنگ دیا۔

    فراق گورکھپوری –

 فراق نے بھی اردو شاعری میں تضمین کا استعمال کیا، خاص طور پر غزلوں میں۔

    عباس تابش –

 عباس تابش نے اپنی نظموں اور غزلوں میں تضمین کا استعمال کیا۔

    جگن ناتھ آزاد –

 جگن ناتھ آزاد کی شاعری میں بھی تضمین کا استعمال نظر آتا ہے۔

    آتش دہلوی –

 آتش دہلوی نے بھی اپنے اشعار میں تضمین کا استعمال کیا۔

مظہر جمیل نے اپنی تخلیقات میں تضمین کو نئے انداز میں پیش کیا۔

    شکیب جلالی –

 شکیب جلالی کی شاعری میں بھی تضمین کا عنصر موجود ہے۔

    طاہرہ سلیم –

 طاہرہ سلیم کی شاعری میں بھی تضمین کا خوبصورت استعمال ہوا۔

    محمد حسین آزاد –

 محمد حسین آزاد کی ادبی تخلیقات میں تضمین کا عنصر موجود ہے۔

    اسرار الحق مجاز –

 مجاز نے بھی اپنی شاعری میں کلاسیکی اشعار کو نیا انداز دیا۔

    غلام عباس –

 غلام عباس نے اپنے افسانوں میں تضمین کا استعمال کیا۔

یہ تمام ادیب اور شاعر اردو ادب میں تضمین کے حوالے سے اپنی اہمیت رکھتے ہیں اور انہوں نے اس تکنیک کو اپنے مخصوص انداز میں کامیابی سے استعمال کیا۔

اردو ادب میں تضمین کی تکنیک کا استعمال کرنے والے اور بھی اہم شاعروں اور ادیبوں کی فہرست درج ذیل ہے:

    عزیز احمد –

 عزیز احمد نے اپنی کہانیوں اور تخلیقات میں تضمین کا استعمال کیا۔

    شہزادہ امجد –

 امجد نے اپنی شاعری میں کلاسیکی اشعار کو نیا رنگ دیا۔

    رؤف خالد –

رؤف خالد نے بھی اپنے افسانوں اور کہانیوں میں تضمین کی تکنیک استعمال کی۔

    پروین شاکر –

پروین شاکر نے اپنی شاعری میں بھی کلاسیکی اشعار کی تضمین کی۔

    محسن نقوی –

 محسن نقوی کی غزلوں میں بھی تضمین کا استعمال دکھائی دیتا ہے۔

    منیر نیازی –

 منیر نیازی کی شاعری میں بھی تضمین کا عنصر نمایاں ہے۔

    عبداللہ حسین –

 عبداللہ حسین نے اپنے افسانوں اور کہانیوں میں دیگر شعراء کی تخلیقات کو نیا معنی دیا۔

    لطیف احمد – لطیف احمد کی شاعری میں بھی تضمین کی تکنیک نظر آتی ہے۔

یہ شاعری کے مختلف دوروں سے تعلق رکھنے والے مزید اہم تضمین نگار ہیں جنہوں نے اس ادبی تکنیک کو استعمال کر کے اردو ادب میں نیا رنگ بھرا اور اس کو مزید گہرا اور دلچسپ بنایا۔