داستان امیر حمزہ

“داستان امیر حمزہ” یا “قصۂ حمزہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت امیر حمزہ بن عبدالمطلب کے نام سے منسوب ہے۔ یہ ایک قدیم اور معروف فارسی قصہ ہے جس میں حضرت امیر حمزہ کی بہادری، ایمانداری، اور ان کے عظیم کارناموں کو بیان کیا گیا ہے۔ یہ قصہ عوامی اور ادبی سطح پر بہت مقبول ہوا اور اس پر کئی کتابیں اور شاہکار تخلیقات موجود ہیں، جو ان کی جرات اور قربانیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
داستان امیر حمزہ ایک مشہور رزمیہ داستان ہے جو برصغیر پاک و ہند میں صدیوں سے مقبول رہی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا اہے کہ یہ ا یک بہادر شخص حمزہ بن ازرک کی فرضیہ داستان ہے یہ پرانے اردو داستانوں میں مشہور ترین ہے اس کا تعلق مغل بادشاہ اکبر سے ہے جو داستان سننے کے شوقین تھے- اس داستان میں بیان کردہ واقعات زیادہ تر تخیلاتی اور غیر تاریخی ہیں۔
داستان امیر حمزہ ا۔ داستانِ امیر حمزہ کا شمار اردو ادبِ عالیہ (کلاسیک) میں ہوتا ہے جسے کئی مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا۔ یہ داستان فارسی ادب سے اردو ادب میں منتقل ہوئی لیکن اسے اردو میں کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی
تاریخی پس منظر اور ارتقاء
یہ داستان ایران، عرب اور برصغیر کی ادبی روایات کا امتزاج ہے۔ اس کے ابتدائی نقوش فارسی داستانوں میں ملتے ہیں، لیکن برصغیر میں اسے ایک مکمل رزمیہ شکل دی گئی۔ اردو میں اس داستان کو “داستانِ امیر حمزہ” کے نام سے شائع کیا گیا اور یہ کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔
داستان کے اہم عناصر
امیر حمزہ کی بہادری – امیر حمزہ ایک غیر معمولی بہادر اور نڈر جنگجو ہیں جو دنیا بھر میں ظالم بادشاہوں، دیوؤں، جادوگروں اور سرکش عناصر کے خلاف جہاد کرتے ہیں۔
عنصرِ طلسمات – اس داستان میں جادو، طلسم اور مافوق الفطرت عناصر بھرپور طریقے سے شامل ہیں، جیسے کہ جادوئی مخلوقات، دیو، پریاں، اور طلسماتی قلعے۔
عمرو عیار – عمرو عیار اس داستان کا ایک مشہور اور نہایت ذہین کردار ہے، جو اپنی مکاری، چالاکی اور عیاری کے ذریعے دشمنوں کو شکست دیتا ہے۔
رومانوی پہلو – امیر حمزہ کی محبت، خاص طور پر شہزادیوں اور حسین دوشیزاؤں کے ساتھ، بھی اس داستان کا ایک اہم حصہ ہے۔
معرکہ آرائی اور جنگیں – اس داستان میں جنگی معرکوں، دلاوری، اور حریفوں کے خلاف لڑائیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
داستان کی مقبولیت
یہ داستان کئی نسلوں تک زبانی اور تحریری شکل میں مقبول رہی۔ اس کا سب سے معروف اردو نسخہ نول کشور پریس (لکھنؤ) نے شائع کیا، جسے بعد میں دیگر ناشرین نے بھی پیش کیا۔ اس کی کئی کہانیاں عوام میں مقبول ہونے کی وجہ سے مقامی قصہ گوئی کی محفلوں میں بھی سنائی جاتی رہیں۔
جدید دور میں اہمیت
آج بھی “داستان امیر حمزہ” اردو کلاسیکی ادب کا ایک لازوال شاہکار ہے۔ یہ داستان نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہے بلکہ اس میں بہادری، حوصلے، اور عیاری کی ایسی مثالیں موجود ہیں جو قارئین کو مسحور کر دیتی ہیں۔ جدید ادبی تحقیق میں اسے برصغیر کی داستانوی روایت کا ایک نمایاں نمونہ سمجھا جاتا ہے۔
داستانِ امیر حمزہ – تفصیلی جائزہ
داستانِ امیر حمزہ برصغیر کی داستانوی روایت کا سب سے عظیم شاہکار ہے، جو نہ صرف اپنی طوالت بلکہ اپنے پرجوش واقعات، دلچسپ کرداروں، اور سحر انگیز طلسماتی دنیا کے باعث قارئین کو آج بھی مسحور کیے ہوئے ہے۔ یہ داستان بنیادی طور پر ایک رزمیہ (epic) ہے، جو بہادری، محبت، عیاری، اور طلسمات کا ایک شاندار امتزاج پیش کرتی ہے۔
داستان کی ابتدا اور تاریخی پس منظر
مرکزی موضوع گو کہ داستان امیر حمزہ آٹھ بڑے ضخیم دفتروں پر پھیلی ہوئی ہے لیکن داستان گویوں نے اس کا ایک خاص مرکزی خیال متعین کیا ہے اور پوری داستان میں ایک مخصوص فضا قائم برقرار رکھی ہے۔ چنانچہ داستان کا قاری اثنائے مطالعہ صاف محسوس کرتا ہے کہ یہ پوری داستان ابتدا سے انتہا تک شوکتِ اسلام کے غلبہ، کفار کے مقابلہ پر اہل اسلام کی فتح اور مسلمانوں کے استیلا کے گرد گھومتی ہے۔ اس مرکزی موضوع پر کلام کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں: “داستان کا بنیادی موضوع ‘شوکتِ دینِ حق بیان کرنا ہے’۔ داستان میں اسلام اور خدا پرستی کا ذکر بہت ہے لیکن اس کی تہذیب زیادہ تر غیر اسلامی نہیں تو نامذہبی (Secular) ضرور ہے۔ کہیں کہیں ہندو مذہب کا ذکر داستان میں ہے لیکن ہندو مذہب کو اسلام کے خلاف صف آرا نہیں دکھایا گیا ہے۔ مجموعی حیثیت سے اسلام (خاص کر شیعی اسلام) کو برحق اور باقی ہر مذہب کو باطل ضرور قرار دیا گیا ہے لیکن گیان چند جین کا یہ خیال غلط ہے کہ داستان میں اسلام اور ہندو مذہب کو ایک دوسرے کے مقابل جنگ آزما دکھایا گیا ہے۔ داستان میں ہندو مذہب اور اسلام کی جنگ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داستان میں جگہ جگہ مذہب اسلام کے فروغ اور کہیں کہیں مندروں کے انہدام اور مساجد کے قیام کے ذکر کے باوجود داستان کی فضا مجموعی طور پر غیر مذہبی ہے اور اس کے کسی بھی ‘اسلامی’ ہیرو کو کسی تاریخی اسلامی کردار پر مبنی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ داستان پر ہندو رسم و رواج کا اثر بہت واضح ہے۔ اس کی ایک مثال خودکشی ہے جو اسلام میں حرام ہے لیکن داستان کے بہت سے اہم کردار اپنی ناموس کو بچانے یا غیرت مندی کے باعث خودکشی کر لیتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم خودکشی امیر حمزہ کی عزیز ترین بیوی اور اولین و بہترین معشوقہ اور شاہ قباد کی ماں مہر نگار کی خودکشی ہے۔
یہ داستان دراصل فارسی ادب میں تخلیق ہوئی، جہاں اس کے ابتدائی نقوش حمزہ نامہ کے نام سے ملتے ہیں۔ برصغیر میں اس داستان کو نول کشور پریس نے مرتب کرکے اردو میں شائع کیا، جس کے بعد یہ کئی جلدوں پر مشتمل ہو گئی۔ داستان میں موجود جادوئی عناصر، حیرت انگیز جنگیں، اور تخیلاتی کردار فارسی، عربی، اور ہندی ادب کی روایات کا حسین امتزاج ہیں۔
داستان کے نمایاں کردار
1. امیر حمزہ
یہ داستان کے مرکزی ہیرو ہیں، جو ایک نڈر، بہادر اور غیر معمولی طاقت کے حامل جنگجو ہیں۔ وہ حق و انصاف کے علمبردار ہیں اور باطل کے خلاف مسلسل جنگ لڑتے ہیں۔
2. عمرو عیار
یہ داستان کا سب سے دلچسپ اور یادگار کردار ہے۔ عمرو عیار اپنی چالاکی، مکاری، اور ہوشیاری سے مشکل سے مشکل حالات کو بھی اپنے حق میں موڑ لیتا ہے۔ وہ ایک جادوئی زنبیل (تھیلا) رکھتا ہے، جس میں سے کچھ بھی نکالا جا سکتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
3. قصر طلسم کے جادوگر
یہ داستان کا سب سے حیرت انگیز اور طلسماتی پہلو ہے۔ اس میں مختلف جادوگر، جنات، دیو، اور خوفناک مخلوقات پائی جاتی ہیں، جو امیر حمزہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے طرح طرح کی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
4. شہزادیاں اور رومانوی پہلو
داستان میں کئی حسین شہزادیاں بھی شامل ہیں، جو امیر حمزہ یا ان کے ساتھیوں کی محبت میں گرفتار ہوتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مہ رخ پری اور ملکہ نسترن ہیں۔
داستان کے اہم موضوعات
1. بہادری اور جنگی معرکے
داستان میں امیر حمزہ کی بہادری کے بے شمار واقعات بیان کیے گئے ہیں، جہاں وہ نہ صرف انسانی دشمنوں بلکہ جادوگروں، دیوؤں، اور طلسماتی مخلوقات سے بھی جنگ کرتے ہیں۔
2. طلسماتی دنیا اور جادوئی عناصر
یہ داستان جادوئی اور طلسماتی دنیا سے بھری ہوئی ہے۔ قصر طلسم، عجیب و غریب جادوئی مخلوقات، اور ناقابلِ یقین طاقتوں کے حامل کردار داستان کا لازمی حصہ ہیں۔
3. وفاداری اور دوستی
امیر حمزہ اور عمرو عیار کی دوستی داستان کا ایک اہم پہلو ہے۔ عمرو ہمیشہ حمزہ کے ساتھ رہتا ہے اور اپنی ہوشیاری سے ان کی مدد کرتا ہے۔
4. سازشیں اور دھوکے
داستان میں کئی مقامات پر دشمن امیر حمزہ کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان کے اپنے ہی ساتھی دھوکہ دے جاتے ہیں، لیکن عمرو عیار ہمیشہ ان کی مدد کے لیے موجود ہوتا ہے۔
داستان کی مقبولیت اور اثرات
داستانِ امیر حمزہ کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صدیوں تک زبانی روایات اور تحریری شکل میں عوامی دلچسپی کا مرکز رہی۔ اس نے اردو نثر کے ارتقا میں بھی اہم کردار ادا کیا اور بعد میں آنے والی کئی کہانیوں، ناولوں، اور ڈراموں پر اس کے گہرے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔
جدید دور میں داستان کی اہمیت
اگرچہ آج کے دور میں داستانوی ادب کی مقبولیت میں کمی آئی ہے، لیکن داستانِ امیر حمزہ اپنی طلسماتی کشش، دل چسپ کرداروں، اور شاندار واقعات کی بدولت آج بھی اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے۔
داستانِ امیر حمزہ صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک مکمل دنیا ہے جس میں بہادری، وفاداری، عیاری، محبت، اور طلسماتی عناصر کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اگر آپ کسی ایسی کہانی کی تلاش میں ہیں جو آپ کو ایک حیرت انگیز، سنسنی خیز اور پرجوش دنیا میں لے جائے، تو یہ داستان آپ کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتی ہے۔
میرِ قصہ امیر حمزہ
داستان امیر حمزہ کے مرکزی کردار امیر حمزہ کے متعلق محققین نے مختلف قیاس آرائیاں کی ہیں۔ تاہم اس پر محققین متفق ہیں کہ اس داستان میں مذکور امیر حمزہ عم رسول محمد نہیں ہیں بلکہ یہ کوئی اور حمزہ ہیں۔ ڈاکٹر سلیم اختر نے درست لکھا ہے کہ جب داستان کے تمام واقعات غیر حقیقی ہیں تو اس کا “ہیرو” کیسے حقیقی فرد ہو سکتا ہے۔ اس نوع کی داستانوں میں ناموں کی مشابہت اتفاقی ہوتی ہے، لہذا ان کی بنا پر شخصیات کی حقیقت کا کھوج لگانا بے سود ہے۔ جس طرح الف لیلیٰ کے بغداد اور ہارون الرشید کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، اسی طرح داستان کا امیر حمزہ اور حمزہ بن عبد المطلب بھی ایک نہیں ہیں۔اسی طرح امیر حمزہ کی شخصیت اور اس کے تاریخی وجود پر گفتگو کرتے ہوئے گیان چند جین لکھتے ہیں:
” داستان حمزہ کے ہیرو نہ حضرت حمزہ عم رسول ہیں نہ حضرت علی بلکہ ایک اور حمزہ ہے جس کا ذکر تاریخ سیستان میں ہے۔ ایران کے مشہور شاعر ملک الشعرا محمد تقی بہار کو تاریخ سیستان کا ایک قدیم نسخہ ملا جس کو انھوں نے شائع کر دیا۔ اس تاریخ کے حوالے سے بہار سبک شناسی میں لکھتے ہیں: “خلیفہ ہارون الرشید کے عہد میں ایک شخص حمزہ بن عبد اللہ الشاری الخارجی خارجیوں کا سردار تھا۔ وہ ایک عرصے تک ہارون الرشید کے ساتھ معرکہ آرا رہا۔ ہارون کے انتقال کے بعد وہ اپنے رفقا کے ساتھ سندھ، ہند، سراندیپ، چین، ترکستان اور روم وغیرہ کا سفر کر کے سیستان واپس آیا۔ اس کے معتقدین نے اس کی لڑائیوں اور سیاحتوں کی تفصیل میں کتاب مغازیِ حمزہ لکھی۔ بعد میں غیر خارجی ایرانیوں نے اس کتاب کو عام مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لیے اس میں حمزہ بن عبد المطلب کا نام ڈال دیا اور خلفائے بنی عباس کی جگہ کفار کو حریف قرار دیا۔ تاریخ بیہقی میں اس کا نام حمزہ بن آذوک یا اترک یا ادرک دیا ہے۔ ایرانی مسلمان اپنے مجوسی باپوں کا نام علی العموم عبد اللہ بتاتے ہیں۔” کوئی شک نہيں کہ داستانِ حمزہ کے قصر کی بنیاد کی خِشتِ اول یہی ہے۔
مرزا محمد سعید دہلوی نے اپنی کتاب مذہب اور باطنی تعلیم میں بھی اسی خیال کو ظاہر کیا ہے۔ چنانچہ وہ رقم طراز ہیں:
” شام کا ایک اور اسماعیلی قائد جس کی شہرت نے تاریخ کی سرحد سے گزر کر دنیائے افسانہ کو معمور کر دیا ہے حمزہ تھا۔ یہ حمزہ نزاریہ شام کے قلعوں میں سے ایک کا حاکم تھا۔ شام کی نزاری حکومت کی بھی وہی حکمت عملی تھی جس نے رود بار کی نزاری حکومت کو ایک عرصہ دراز تک اپنے دشمنوں سے محفوظ رکھا تھا یعنی یہ کہ انہوں نے دشوار گزار کوہی مقامات میں مستحکم قلعہ جات تعمیر کر لیے تھے اور ان کی آہنی دیواروں کی پناہ میں ان کی قلیل جمعیت دشمنوں کی کثیر افواج کا بخوبی مقابلہ کر سکتی تھی۔ حمزہ اپنے ان کارہائے نمایاں کی بدولت جو اس نے صلیبی محاربین اور بعد میں سلطان بیبرس کی افواج کے خلاف سرانجام دیے تھے بہت سی داستانوں کا ہیرو بن گیا جو شام اور مصر میں بہت مقبول ہو گئیں اور بعد میں ترکی اور فارسی زبانوں میں بھی رواج پا گئیں۔ ان داستانوں کو حمزہ نامہ کہا جاتا تھا۔ ہمارا خیال ہے کہ داستان امیر حمزہ کی اصل یہی داستانیں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ مابعد میں اس اسماعیلی بطل کو حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا امیر حمزہ سے مخلوط کر دیا گیا اور اس کی داستان امیر حمزہ کی داستان بن گئی۔ اگر یہ قیاس درست ہے تو بوستان خیال کی مانند داستان امیر حمزہ بھی اسماعیلی روایات کی مرہون ہو جاتی ہے
مرکزی کردار
داستان امیر حمزہ جیسی طویل، متنوع اور تخلیقیت سے بھرپور داستان کے کرداروں کا شمار خاصا مشکل ہے۔ داستان میں ہر لمحے نئے کردار اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتے اور اپنی حرکات سے قارئین/سامعین کو ششدر اور محظوظ کرتے ہیں، ایسی صورت میں تمام کرداروں کی مکمل فہرست تیار کرنا بے جا طوالت کا باعث ہے۔ چنانچہ ذیل میں صرف انھی اشخاص کے نام درج فہرست ہیں جنھیں داستان میں مرکزی اہمیت دی گئی ہے یا قصہ میں جن کا کردار اپنے سامعین و قارئین پر غیر معمولی تاثر چھوڑتا ہے۔
ترجمہ یا تصنیف
داستان امیر حمزہ کے متعلق عموماً یہ سوال ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ داستان اردو داستان گویوں کی طبع زاد ہے یا کسی دوسری زبان کی ادبیات سے اخذ کرکے اسے اردو قالب میں ڈھالا گیا۔ داستان کے مجلدات کا دیباچہ یا عرض ناشر پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسے منشی نول کشور نے ان داستان گویوں سے فارسی سے ترجمہ کروا کر شائع کیا تھا۔ نیز خود داستان کے مصنفین بھی (غالباً ناشر کی پیروی میں) تواتر کے ساتھ اسے فارسی سے ترجمہ قرار دیتے رہے۔ لیکن داستانی ادب کے تمام محققین نے اپنی تحقیقات میں بالاتفاق اسے خلاف واقعہ قرار دیا اور اسے اردو کی مستقل بالذات تصنیف سمجھا ہے۔ عابد رضا بیدار مقدمہ طلسم ہوش ربا کے دیباچہ میں لکھتے ہیں: “طلسم ہوش ربا تصنیف ہے ترجمہ نہیں! طلسم ہوش ربا، داستان امیر حمزہ کا ایک حصہ بتایا جاتا رہا ہے اور خود داستان ایک قدیم تر فارسی قصہ داستان امیر حمزہ سے ماخوذ بتائی جاتی رہی ہے۔ جبکہ کوئی ایسی قدیم فارسی داستان امیر حمزہ دستیاب نہیں کہ موجودہ ضخیم داستان امیر حمزہ اردو جس کا ترجمہ قرار دی جا سکے اور کوئی فارسی یا اردو داستان امیر حمزہ ایسی موجود نہیں کہ طلسم ہوش ربا جس کا ترجمہ کہی جا سکے۔ بجز اس کے کہ، داستان امیر حمزہ اردو، اسی نام کی قدیم فارسی داستان کا چربہ ہے یا اسے اپنا سرچشمہ بنایا ہے۔ اور طلسم ہوشربا قدیم داستان یا اردو داستان سے مستفاد ہے تو محض اس حد تک کہ ناموں میں خاصا اشتراک ہے اور کارناموں میں بھی جابجا اشتراک ہے۔ دراصل اردو والوں نے عظیم تر ادبیات فارسی سے ناتا جوڑنے کی کوشش میں یہ کہنے میں فخر محسوس کیا کہ وہ طلسم خود تصنیف نہیں کر رہے، بلکہ داستان کے اسی نام کے ایک حصے کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔ تاہم چونکہ یہ امر خلاف واقع تھا اس لیے ایک ہی سانس میں اسے ترجمہ کے ساتھ تصنیف بھی قرار دیتے رہے۔ اس میں ان طلسم کاروں کے ساتھ مطبع کے کار پردازوں اور مالکوں کو بھی برابر کا یا کچھ زیادہ ہی دخل رہا جنھوں نے اسے بھی اپنے بزنس یا تجارتی گر کا حصہ جانا کہ فارسی والوں سے رشتہ ظاہر کیا جاتا رہے کہ انیسویں صدی کے اواخر تک تنہا اردو میں وہ عظمت نہیں تھی جو فارسی کے نام سے وابستگی میں پیدا ہو جاتی تھی۔۔۔۔۔ تصنیف کو ترجمہ کہہ کر پچھلوں سے رشتہ جوڑنے کی کوشش دراصل اس وقت کی ایک اہم قدر کا شریفانہ اظہار تھی کہ کسی سے کچھ لو تو احسان کا تقاضا ہے اس سے زیادہ بتاؤ جتنا اس کا حق ہے۔ اگر پچھلوں نے کوئی طلسم ہوش ربا لکھی تھی تو وہ اگلوں کے لیے انسپائریشن تو بہرحال بنی۔ اس کے کردار لیے، اس کے عیار لیے اور بھی کچھ باتیں آٹے میں نمک کے طور سے لے لیں۔ اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اصل 25 صفحے کی داستان ترجمے میں نو دس ہزار صفحوں پر پھیل گئی
حوالہ جات
ریختہ: داستان امیز حمزہ اخذ کردہ بتاریخ 2 جولائی 2017ء
ساحری، شاہی، صاحب قرانی: داستان امیر حمزہ کا مطالعہ جلد سوم از شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، طبع اول 2006ء، ص: 186
اردو ادب کی مختصر ترین تاریخ از ڈاکٹر سلیم اختر، ص 277
اردو کی نثری داستانیں از گیان چند جین، اترپردیش اردو اکادمی لکھنؤ 1987ء، صفحہ: 692 – 693
مذہب اور باطنی تعلیم از مرزا محمد سعید دہلوی، مطبوعہ اردو مرکز لاہور، ص: 315 – 316
مقدمۂ طلسم ہوشربا، خدا بخش اوریئنٹل پبلک لائبریری پٹنہ، ص: 4 – 5
ساحری، شاہی، صاحب قرانی: داستان امیر حمزہ کا مطالعہ جلد دوم از شمس الرحمن فاروقی، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، طبع اول 2006ء، ص: 63 تا 77 (داستانوں کے سنہ اشاعت کتاب کی جلد سوم سے ماخوذ ہیں)
نسخوں کے اختلاف سے سنہ اشاعت میں اختلاف کا امکان ہے۔