یادگار غالب
یادگار غالب” مرزا غالب کی سوانح عمری ہے جو معروف ادیب مولانا الطاف حسین حالی نے لکھی۔ یہ کتاب غالب کی زندگی، شخصیت، اور شاعری کا ایک گہرا مطالعہ پیش کرتی ہے۔ مولانا حالی نے اس میں غالب کی ذاتی زندگی، ان کے فنی سفر، اور ان کے معاشرتی و سیاسی حالات کو بھی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اردو ادب کا ایک قیمتی خزانہ ہے، کیونکہ اس میں غالب کی شاعری کے تجزیے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کے تلخ و شیریں تجربات بھی شامل ہیں۔
مولانا حالی نے اس کتاب میں غالب کی شاعری کو نہ صرف ایک فنکارانہ نقطہ نظر سے پیش کیا ہے بلکہ ان کے فکری جہتوں اور انسانی اقدار پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
حالی کا غالب کے کلام سے استفادہ کرنا اور غالب کے کلام کو خود غالب ہی سے سمجھنے کی کوشش کرنا، ان کی بصیرت اور ادب کی گہری سمجھ کو ظاہر کرتا ہے۔ دہلی کا سفر اور غالب کے ساتھ گزارے گئے وقت نے نہ صرف حالی کی شخصیت کو نکھارا، بلکہ اردو ادب کو ایک بہترین نقاد اور شاعر بھی دیا۔
حالی کی یہ خصوصیت کہ وہ علم و ادب کے سچے شیدائی تھے، انھیں غالب جیسے عظیم شاعر کا شاگرد بنانے میں معاون ثابت ہوئی۔ غالب کی شاعری کی گہرائی اور ان کے فلسفے کو سمجھنا اور اس پر تنقیدی نظر ڈالنا واقعی ایک کمال کا کام تھا، اور حالی نے اس میں کامیاب ہو کر اردو ادب کو ایک نیا زاویہ نظر دیا۔
حالی کی بصیرت اور غالب کی شاعری پر ان کی نقدنگاری آج بھی اردو ادب کا ایک اہم جزو سمجھی جاتی ہے۔
غالب کا کلام اپنے زمانے میں مشکل اور پیچیدہ سمجھا جاتا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ غالب کی شاعری پر تنقید اور اس کے معنی پوچھنا ضروری تھا۔ حالی نے غالب سے جو علم و فن حاصل کیا، وہ ان کے ادب اور تنقید کی صلاحیتوں کی نشوونما میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
حالی کا غالب سے یہ تعلق محض استاد شاگرد کا نہیں تھا بلکہ وہ ایک گہرے ادبی رشتہ میں جڑے ہوئے تھے۔ غالب کی شاعری کی پیچیدگیوں کو سمجھنا اور اس میں موجود گہرائیوں تک پہنچنا، حالی کی علمیت اور فنی بصیرت کا غماز ہے۔ شیفتہ کے ساتھ حالی کا وقت گزارنا اور غالب کے کلام پر اصلاح لینا بھی اس بات کا غماز ہے کہ وہ اردو شاعری کی فنی نزاکتوں اور غزل کی گہرائیوں کو بہت سنجیدگی سے سمجھنا چاہتے تھے۔
غالب کی شاعری میں جو تنقیدی اور فلسفیانہ پہلو موجود تھا، وہ حالی کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوا۔ غالب کی وفات کے بعد حالی کی ادبی دنیا میں موجودگی اور ان کے غالب کے کلام سے رشتہ، اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ غالب کی شاعری کو نہ صرف دل سے سمجھتے تھے بلکہ اسے اپنی شاعری اور تنقید کی بنیاد بھی بناتے تھے۔
ان کے لیے غالب کی جدائی ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔ وہ غالب کی موت کو ایک زبردست قومی نقصان تصور کرتے ہیں۔ غالب کی وفات پر جو مرثیہ لکھا ہے اس کے ہر مصرع سے ان کی محبت ،عقیدت و ملال جھلکتا ہے۔ غالب کی موت ان کے نزدیک ایک ادبی دور کا خاتمہ ،ایک تہذیب کی موت تھی۔ اس مرثیہ میں حالی نے غالب کی شاعرانہ عظمت اور شخصیت کو یوں ابھارا ہے کہ ہندوستان کا تہذیبی منظر روشن ہوجاتا ہے۔ بقول ڈاکٹر سید عابد حسین ’’ غالب کی سیرت کا وہ نقشہ کھینچا ہے کہ اس سے بہتر تصویر ہماری نظم و نثر میں نہیں ملتی۔ یونانیوں کے ذہن میں جو تصور انسانیت کا تھا اس کی جھلک غالب کی ذات میں نظر آئی اور اسے انھوں نے شعر کا جامہ پہناکر شہرت دوام بخشی ہے۔‘‘غالب جیسی اہم ادبی شخصیت کے اٹھ جانے سے صحیح معنوں میں بزم شعر سونی ہو گئی ۔ نقدِ معنی کا گنج داں نہ رہا خواں مضمون کا میزباں نہ رہا ہوچکیں حسن و عشق کی باتیں گل و بلبل کا ترجما نہ رہا مرثیہ غالب کے آخری بند میں غالب کی شہرت اور نام آوری ،استادی اور سخن شناسی کی طرف اشارہ ہے ۔ ہند میں نام پائے گا اب کون سکہ اپنا بٹھائے گا اب کون مرگیا قدردان فہم سخن شعر ہم کو سنائے گا اب کون تھا بساط سخن میں شاعر ایک ہم کو چالیں بتائے گا اب کون شعر میں نا تمام ہے حالی غزل اس کی بنائے گا اب کون مرثیہ غالب اردو کے شخصی مرثیوں میں ایک امتیاز رکھتا ہے۔ غالب اور حالی دونوں کے مزاج میں نمایاں فرق تھا۔ حالی سے غالب کا تعلق زیادہ سے زیادہ دس بارہ سال رہا وہ بھی مسلسل نہیں مگر اس قلیل عرصے میں انھیں غالب سے ایک لگاو پیدا ہو گیا ذہنی وابستگی رہی۔ حالی نے غالب سے استفادہ کیا۔ ان کے ادب کمالات کو سمجھنے پرکھنے اور تجزیہ کرنے کی سعی کی اور ادبی تاریخ میں ان کا مقام متعین کیا۔ اگرچہ غالب کے اور بھی شاگرد تھے جیسے مرزا ہر گوپال تفتہ، میر مہدی حسن مجروح وغیرہ لیکن غالب کے کلام پر ان کی حقیقی عظمت کا احساس عام کرنے ان کی مقبولیت میں اضافہ کرنے، ان کے کلام کو عوام تک پہنچانے میں جو کردار ’’یادگار غالب‘‘ نے ادا کیا وہ اردو ادب میں یادگار رہے گا۔ غالب کی حقیقی عظمت پر توجہ سب سے پہلے حالی نے کی۔ ’’یادگار غالب‘‘ غالب کی اولین سوانح عمری ہے۔ سوانح عمری سے بڑھ کر یادگار تنقیدی کارنامہ بھی ہے۔ اس میں غالب کی زندگی اور شخصیت کی کامیاب تصویر کشی ہے۔ ان کی نثر نگاری اور شاعری کا جائزہ لیا گیا۔ سوانح کے اعتبار سے کسی قدر تشنہ ہے۔ کتاب کا صرف چوتھائی حصہ سوانح حیات سے متعلق ہے۔ انھوں نے حالات زندگی تفصیل سے پیش نہیں کی۔ حالی کے دل میں غالب کے لیے جو عقیدت و احترام کا جذبہ کارفرما تھا وہ غالب کی وفات کے بعد بھی برقرار رہا۔ حالی نے زیادہ زور غالب کے کمال فن کو ظاہر کرنے پر صرف کیا ہے۔ کارناموں کے مقابلے میں حیات کو کم اہمیت دی ہے۔ حالی کی ملاقات غالب سے اس وقت ہوئی جبکہ غالب کا عہد شباب گذر چکا تھا۔ چونکہ حالی نے غالب کی جوانی کارنامہ نہیں دیکھا تھا اس لیے ان کی ایام شباب کی کامیاب تصویر کشی نہ کرسکے۔ حالی نے غالب کی سیرت کے اہم نقوش کو ابھارا ہے اس کے ساتھ ان کی کمزوریوں کا بیان بھی کر دیا ہے۔ خانگی معلومات کو بھی پیش کیا ہے۔ حالی نے غالب کے قیام لکھنؤ کا بھی ذکر کیا ہے۔ ایام غدر میں غالب کو جن مصائب سے دوچار ہونا پڑا خصوصیت کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائی مرزا یوسف کی موت کا ان کو جو صدمہ ہوا ان پر یادگار غالب میں روشنی ڈالی ہے ۔ عہد حاضر کی تحقیق نے یادگار غالب کے بہت سے واقعات کی تردید کی ہے۔ ان کی تحقیقی نا ہمواریوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یادگار غالب کے بیشتر بیانات تشنہ معلوم ہوتے ہیں۔ حالی ذاتی طور پر غالب سے قریب تھے۔ غالب کی رفاقت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ جتنی مستند سوانح عمری کی توقع حالی سے کی جا سکتی تھی وہ ’’یادگار غالب‘‘ سے پوری نہیں ہوتی ۔