معروف اردو مرثیہ نگار

اردو ادب میں مرثیہ نگاری ایک اہم صنفِ سخن ہے، جو بالخصوص اہلِ بیت کی قربانیوں، کربلا کے واقعات، اور انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اردو مرثیہ نگاری کی بنیاد دکنی ادب سے رکھی گئی، لیکن اسے عروج لکھنؤ اسکول کے شعرا کے ذریعے حاصل ہوا۔

معروف اردو مرثیہ نگار

    میر انیس

    میر ببر علی انیس اردو مرثیہ نگاری کے بلاشبہ سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے مرثیے فنی لحاظ سے مکمل اور ادبی جمالیات کا شاہکار ہیں۔ انیس نے کربلا کے واقعے کو اس انداز سے پیش کیا کہ ہر کردار زندہ محسوس ہوتا ہے۔

    مرزا دبیر

    میر انیس کے ہم عصر، مرزا سلامت علی دبیر بھی اردو مرثیہ نگاری کے اہم ستون ہیں۔ ان کے مرثیوں میں فکری گہرائی اور جذباتی شدت نمایاں ہے۔ دبیر نے مرثیہ کو وقار اور شان بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    میرزا رفیع سودا

    اگرچہ سودا زیادہ تر غزل کے حوالے سے مشہور ہیں، لیکن ان کے مرثیے بھی ادبی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مرثیہ نگاری میں ابتدائی رہنمائی فراہم کی۔

    نشتر

    نشتر کی شاعری میں مرثیہ نگاری کے کئی پہلو ملتے ہیں۔ ان کے مرثیے عام طور پر درد اور غم کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔

    علامہ شبلی نعمانی

    شبلی کے مرثیے ادبی اور تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ مرثیہ کو فکری گہرائی اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔

مرثیہ کی خصوصیات:

    کردار نگاری: مرثیہ میں ہر کردار کو جاندار اور حقیقی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

    مکالمہ نگاری: کرداروں کے درمیان مکالمات جذباتی شدت اور فکری گہرائی کے حامل ہوتے ہیں۔

    جذبات کی شدت: غم، دکھ، اور قربانی کی کہانی کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

    مناظر نگاری: کربلا کے میدان کی منظرکشی، جنگ کے حالات، اور انسانی جذبات کو تصویری انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

مرثیہ نگاری کا ارتقا:

اردو مرثیہ نگاری نے مختلف ادوار میں ترقی کی۔ دکن میں ابتدائی نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن لکھنؤ اسکول نے اسے عروج تک پہنچایا۔ بعد ازاں یہ صنف جدید دور میں بھی زندہ رہی اور آج بھی مختلف شعرا اس صنف میں کام کر رہے ہیں۔

اٹھارویں صدی سے قبل اردو مرثیہ نگاری میں جن شعرا نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان کا تعلق زیادہ تر دکنی ادب سے تھا۔ دکن میں اردو زبان کی بنیاد مضبوط ہوئی اور ادب کی مختلف اصناف، بشمول مرثیہ نگاری، پروان چڑھیں۔ ان شعرا نے مرثیہ کو ابتدائی شکل دی اور اس صنف کے لیے زمین ہموار کی، جسے بعد میں لکھنؤ اسکول نے عروج تک پہنچایا۔

اہم مرثیہ نگار اور ان کا کام:

    شاہ قلی شاہ شاہی

    اردو اور فارسی کے شاعر، جنہوں نے مرثیہ کو ابتدائی شکل دینے میں کردار ادا کیا۔

    ملک الشعراء نصرتی

    نصرتی نے دکنی ادب میں مرثیہ نگاری کو نیا رنگ دیا۔ ان کے مرثیے جذبات کی شدت اور فنی مہارت کے حامل تھے۔

    کمال خان رستمی

    کمال خان نے اپنے مرثیوں میں واقعات کربلا کو خوبصورتی سے پیش کیا۔

    ملا وجہی

    ملا وجہی کا تعلق دکن سے تھا اور وہ اردو ادب کے ابتدائی شعرا میں شامل ہیں۔ ان کے مرثیے اپنے وقت کے لیے منفرد تھے۔

    غواصی

    غواصی نے اپنے مرثیوں میں داستانوی رنگ شامل کیا اور دکنی ادب کو نمایاں کیا۔

    علی عادل شاہ ثانی شاہی

    عادل شاہ خاندان کے حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ علی عادل شاہ ایک صاحبِ قلم شاعر بھی تھے، جنہوں نے مرثیہ نگاری کو فروغ دیا۔

    ہاشمی

    دکنی مرثیہ نگار، جن کے کلام میں روایتی اور مذہبی موضوعات کی جھلک نمایاں تھی۔

    عبد اللہ قطب شاہ

    قطب شاہی خاندان کے حکمران اور شاعر، جن کے مرثیے کربلا کے واقعات کے علاوہ صوفیانہ فکر کو بھی پیش کرتے ہیں۔

    کاظم خان کاظم

    کاظم خان نے اپنے مرثیوں میں کربلا کے شہدا کی قربانیوں کو بلند شعری اسلوب میں بیان کیا۔

    مرزا بیجا پوری

    مرزا بیجا پوری نے دکن کی ادبی فضا میں مرثیہ نگاری کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

    نوری

    نوری کا کلام مرثیہ نگاری کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی اپنی جگہ رکھتا ہے، لیکن مرثیے ان کی خاص پہچان بنے۔

    ہمت علی خان ہمت

    ان کے مرثیے روایتی انداز کے ساتھ کربلا کے واقعات کی تفصیلات پیش کرتے ہیں۔

    احسان

    احسان کے مرثیے کربلا کے المیہ کو منفرد انداز میں پیش کرتے ہیں۔

دکنی مرثیہ نگاری کی خصوصیات:

    سادہ اور جذباتی انداز: کلام زیادہ تر سادہ زبان میں ہوتا تھا، جو عوام کے دلوں پر اثر کرتا۔

    علاقائی رنگ: دکنی زبان کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔

    مناظر کی عکاسی: واقعات کربلا کی منظرکشی ان شعرا کے مرثیوں کا خاصہ تھی۔

یہ شعرا اردو مرثیہ نگاری کی بنیاد رکھنے والے کہے جا سکتے ہیں۔ ان کا کام نہ صرف دکنی ادب بلکہ اردو مرثیہ نگاری کی ترقی میں بھی سنگِ میل ثابت ہوا۔

اردو مرثیہ نگار

اردو ادب میں مرثیہ نگاری ایک اہم صنفِ سخن ہے، جو بالخصوص اہلِ بیت کی قربانیوں، کربلا کے واقعات، اور انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔ اردو مرثیہ نگاری کی بنیاد دکنی ادب سے رکھی گئی، لیکن اسے عروج لکھنؤ اسکول کے شعرا کے ذریعے حاصل ہوا۔

معروف اردو مرثیہ نگار:

    میر انیس

    میر ببر علی انیس اردو مرثیہ نگاری کے بلاشبہ سب سے بڑے شاعر ہیں۔ ان کے مرثیے فنی لحاظ سے مکمل اور ادبی جمالیات کا شاہکار ہیں۔ انیس نے کربلا کے واقعے کو اس انداز سے پیش کیا کہ ہر کردار زندہ محسوس ہوتا ہے۔

    مرزا دبیر

    میر انیس کے ہم عصر، مرزا سلامت علی دبیر بھی اردو مرثیہ نگاری کے اہم ستون ہیں۔ ان کے مرثیوں میں فکری گہرائی اور جذباتی شدت نمایاں ہے۔ دبیر نے مرثیہ کو وقار اور شان بخشنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    میرزا رفیع سودا

    اگرچہ سودا زیادہ تر غزل کے حوالے سے مشہور ہیں، لیکن ان کے مرثیے بھی ادبی اعتبار سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مرثیہ نگاری میں ابتدائی رہنمائی فراہم کی۔

    نشتر

    نشتر کی شاعری میں مرثیہ نگاری کے کئی پہلو ملتے ہیں۔ ان کے مرثیے عام طور پر درد اور غم کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔

    علامہ شبلی نعمانی

    شبلی کے مرثیے ادبی اور تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ مرثیہ کو فکری گہرائی اور فلسفیانہ انداز میں پیش کرتے ہیں۔

مرثیہ کی خصوصیات:

    کردار نگاری: مرثیہ میں ہر کردار کو جاندار اور حقیقی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

    مکالمہ نگاری: کرداروں کے درمیان مکالمات جذباتی شدت اور فکری گہرائی کے حامل ہوتے ہیں۔

    جذبات کی شدت: غم، دکھ، اور قربانی کی کہانی کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

    مناظر نگاری: کربلا کے میدان کی منظرکشی، جنگ کے حالات، اور انسانی جذبات کو تصویری انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔

مرثیہ نگاری کا ارتقا:

اردو مرثیہ نگاری نے مختلف ادوار میں ترقی کی۔ دکن میں ابتدائی نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن لکھنؤ اسکول نے اسے عروج تک پہنچایا۔ بعد ازاں یہ صنف جدید دور میں بھی زندہ رہی اور آج بھی مختلف شعرا اس صنف میں کام کر رہے ہیں۔

اٹھارویں صدی سے قبلشاہ قلی شاہ شاہی، ملک الشعراء نصرتی، کمال خان رستمی، ملا وجہی، غواصی، علی عادل شاہ ثانی شاہی، نصرتی، ملک خوشنود، ہاشمی، ایاغی، مومن، حسینی، عبد اللہ قطب شاہ، مرزا دبیر، میر محمد صلاح، مرزا بیجا پوری، نوری ،کاظم خان کاظم، ہاشم علی گجراتی، ہمت علی خان ہمت، قلی خان درگاہ، عباس علی خان، احسان، سلطان علی عادل شاہ ثانی ، نصرتی، ملک خوشنود، ہاشمی، ایاغی، مومن، حسینی، مرزا

اٹھارویں صدی سے قبل اردو مرثیہ نگاری میں جن شعرا نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا، ان کا تعلق زیادہ تر دکنی ادب سے تھا۔ دکن میں اردو زبان کی بنیاد مضبوط ہوئی اور ادب کی مختلف اصناف، بشمول مرثیہ نگاری، پروان چڑھیں۔ ان شعرا نے مرثیہ کو ابتدائی شکل دی اور اس صنف کے لیے زمین ہموار کی، جسے بعد میں لکھنؤ اسکول نے عروج تک پہنچایا۔

    شاہ قلی شاہ شاہی

    اردو اور فارسی کے شاعر، جنہوں نے مرثیہ کو ابتدائی شکل دینے میں کردار ادا کیا۔

    ملک الشعراء نصرتی

    نصرتی نے دکنی ادب میں مرثیہ نگاری کو نیا رنگ دیا۔ ان کے مرثیے جذبات کی شدت اور فنی مہارت کے حامل تھے۔

    کمال خان رستمی

    کمال خان نے اپنے مرثیوں میں واقعات کربلا کو خوبصورتی سے پیش کیا۔

    ملا وجہی

    ملا وجہی کا تعلق دکن سے تھا اور وہ اردو ادب کے ابتدائی شعرا میں شامل ہیں۔ ان کے مرثیے اپنے وقت کے لیے منفرد تھے۔

    غواصی

    غواصی نے اپنے مرثیوں میں داستانوی رنگ شامل کیا اور دکنی ادب کو نمایاں کیا۔

    علی عادل شاہ ثانی شاہی

    عادل شاہ خاندان کے حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ علی عادل شاہ ایک صاحبِ قلم شاعر بھی تھے، جنہوں نے مرثیہ نگاری کو فروغ دیا۔

    ہاشمی

    دکنی مرثیہ نگار، جن کے کلام میں روایتی اور مذہبی موضوعات کی جھلک نمایاں تھی۔

    عبد اللہ قطب شاہ

    قطب شاہی خاندان کے حکمران اور شاعر، جن کے مرثیے کربلا کے واقعات کے علاوہ صوفیانہ فکر کو بھی پیش کرتے ہیں۔

    کاظم خان کاظم

    کاظم خان نے اپنے مرثیوں میں کربلا کے شہدا کی قربانیوں کو بلند شعری اسلوب میں بیان کیا۔

    مرزا بیجا پوری

    مرزا بیجا پوری نے دکن کی ادبی فضا میں مرثیہ نگاری کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

    نوری

    نوری کا کلام مرثیہ نگاری کے علاوہ دیگر اصناف میں بھی اپنی جگہ رکھتا ہے، لیکن مرثیے ان کی خاص پہچان بنے۔

    ہمت علی خان ہمت

    ان کے مرثیے روایتی انداز کے ساتھ کربلا کے واقعات کی تفصیلات پیش کرتے ہیں۔

    احسان

    احسان کے مرثیے کربلا کے المیہ کو منفرد انداز میں پیش کرتے ہیں۔

دکنی مرثیہ نگاری کی خصوصیات:

    سادہ اور جذباتی انداز: کلام زیادہ تر سادہ زبان میں ہوتا تھا، جو عوام کے دلوں پر اثر کرتا۔

    علاقائی رنگ: دکنی زبان کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔

    مناظر کی عکاسی: واقعات کربلا کی منظرکشی ان شعرا کے مرثیوں کا خاصہ تھی۔

یہ شعرا اردو مرثیہ نگاری کی بنیاد رکھنے والے کہے جا سکتے ہیں۔ ان کا کام نہ صرف دکنی ادب بلکہ اردو مرثیہ نگاری کی ترقی میں بھی سنگِ میل ثابت ہوا۔

اٹھارویں صدی سے پہلے دکنی ادب میں جن شعرا نے مرثیہ نگاری کو فروغ دیا، ان میں کئی نامور شعرا شامل تھے۔ ان کے کلام میں مذہبی، تاریخی اور سماجی پہلو نمایاں تھے، اور کربلا کے المیہ کو دلکش شعری انداز میں پیش کیا گیا۔ درج ذیل شعرا کا ذکر اہم ہے:

قلی خان درگاہ

قلی خان درگاہ کا کلام زیادہ تر مذہبی موضوعات پر مشتمل تھا۔ ان کے مرثیے واقعات کربلا کی منظرکشی اور جذبات کی شدت میں اہم مقام رکھتے ہیں۔

عباس علی خان

عباس علی خان نے مرثیہ نگاری میں اپنے وقت کے اسلوب کو اپنایا اور کربلا کے واقعے کو دل سوز انداز میں پیش کیا۔

احسان

احسان کا کلام انسانی جذبات اور قربانی کے پہلوؤں کو اجاگر کرتا تھا۔ ان کے مرثیے ادب میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔

سلطان علی عادل شاہ ثانی

بیجاپور کے حکمران سلطان علی عادل شاہ ثانی نے نہ صرف حکمرانی کی بلکہ ادب و شاعری میں بھی دلچسپی لی۔ ان کے مرثیے دکنی ادب کی شاہکار تخلیقات میں شامل ہیں۔

نصرتی

ملک الشعراء نصرتی دکنی ادب کے نمایاں شاعر تھے، جنہوں نے مرثیہ کو فکری گہرائی اور جذباتی رنگ دیا۔ ان کے کلام میں مذہبی اور اخلاقی پہلو نمایاں ہیں۔

ملک خوشنود

ملک خوشنود نے مرثیہ نگاری میں روایت کو برقرار رکھا اور اپنے کلام میں کربلا کے المناک واقعات کو دلکش انداز میں بیان کیا۔

ہاشمی

ہاشمی کا تعلق دکن سے تھا، اور ان کے مرثیے مذہبی اور تاریخی واقعات کی جھلکیاں پیش کرتے تھے۔

ایاغی

ایاغی نے مرثیہ نگاری میں داستانوی انداز اپنایا، جس سے ان کے کلام میں جذباتی شدت کے ساتھ ساتھ فنی مہارت بھی نمایاں ہوئی۔

مومن

مومن نے اپنی شاعری میں مرثیہ کے موضوعات کو منفرد انداز میں پیش کیا اور دکنی ادب کو مالا مال کیا۔

حسینی

حسینی نے واقعاتِ کربلا کو اس انداز میں پیش کیا کہ ان کے مرثیے آج بھی دکنی ادب کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔

مرزا

مرزا کا کلام مرثیہ نگاری میں خاص مقام رکھتا ہے۔ ان کے مرثیے دل کو چھو لینے والے انداز میں کربلا کے المیہ کو بیان کرتے ہیں۔

یہ تمام شعرا دکن میں اردو ادب کے ابتدائی دور کے عظیم ستون تھے، جنہوں نے مرثیہ نگاری کو ابتدائی شکل دی اور اسے ترقی کی راہ دکھائی۔ ان کا کلام اردو ادب کی وراثت کا اہم حصہ ہے۔

اٹھارویں صدی کے اردو مرثیہ گو شعرا نے اس صنف کو مزید تقویت دی اور اسے فنی اور جذباتی پہلوؤں سے آراستہ کیا۔ یہ شعرا زیادہ تر دکن، بیجاپور، اور برہان پور جیسے ادبی مراکز سے تعلق رکھتے تھے اور مرثیہ نگاری کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا۔ ان کے مرثیے نہ صرف کربلا کے واقعات کو بیان کرتے ہیں بلکہ ان میں انسانی جذبات، قربانی اور صبر و استقامت کی تصویر کشی بھی نمایاں ہے۔

قاسم

قاسم ایک اہم مرثیہ گو شاعر تھے، جنہوں نے اٹھارویں صدی میں اردو مرثیہ نگاری کو خوبصورت انداز میں پیش کیا۔ ان کے مرثیے واقعاتِ کربلا کو گہرائی سے بیان کرنے کے لیے مشہور ہیں۔

قیس

قیس اپنے جذباتی اور دلکش انداز کے لیے معروف تھے۔ ان کے مرثیوں میں کربلا کے المیہ کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی اور قربانی کا پیغام موجود ہے۔

درگاہ قلی خان درگاہ

درگاہ قلی خان درگاہ ایک نمایاں مرثیہ گو شاعر تھے، جنہوں نے اپنے کلام میں منظر نگاری اور کردار نگاری کو مہارت کے ساتھ شامل کیا۔ ان کے مرثیے اپنے وقت کی ادبی روایت کا حصہ ہیں۔

ہاشم علی بیجا پوری

ہاشم علی بیجا پوری دکن کے مرثیہ گو شعرا میں سے ایک تھے۔ ان کے مرثیے دل سوزی، فنی خوبصورتی اور واقعاتِ کربلا کی تفصیل کے لیے مشہور ہیں۔

ولی ولوری

ولی ولوری کو اردو شاعری کا باوا آدم کہا جاتا ہے، اور وہ اردو غزل کے بانیوں میں شامل ہیں، لیکن ان کی مرثیہ نگاری بھی ادب میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ ان کے مرثیے ابتدائی مرثیہ نگاری کی جھلک پیش کرتے ہیں۔

علی محمد خان برہان پوری

علی محمد خان برہان پوری کا تعلق برہان پور سے تھا، اور ان کے مرثیے اپنے منفرد انداز اور ادبی رنگ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ان کا کلام کربلا کے المناک واقعات کو روحانی گہرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

اٹھارویں صدی کی مرثیہ نگاری کی خصوصیات:

    مناظر نگاری: میدان کربلا کی منظر کشی، جنگ کے حالات، اور شہدا کی قربانیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔

    سماجی و مذہبی پیغام: مرثیہ کے ذریعے اخلاقی اور مذہبی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی گئی۔

    جذبات کی شدت: اس دور کے مرثیے قاری کے دل کو گہرائی سے متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    لسانی اثرات: دکنی زبان کے ساتھ اردو کے ابتدائی اسلوب کو پروان چڑھایا گیا۔

اٹھارویں صدی کے یہ شعرا اردو مرثیہ نگاری کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، اور ان کے کام نے اس صنف کو آنے والے دور کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔

انیسویں اور بیسویں صدی اردو مرثیہ نگاری کے عروج کا دور مانے جاتے ہیں۔ اس دور میں لکھنؤ، دہلی، اور دیگر مراکز میں مرثیہ نگاری کو اعلیٰ فنی اور جذباتی معیار تک پہنچایا گیا۔ انیسویں صدی کے شعرا نے میر انیس اور مرزا دبیر کی روایت کو آگے بڑھایا، جب کہ بیسویں صدی کے شعرا نے مرثیہ میں عصری مسائل اور جدید رجحانات کو شامل کیا۔

انیسویں صدی کے نمایاں مرثیہ گو:

  1. میر نفیس (1824ء – 1901ء)

میر نفیس نے اپنے مرثیوں میں میر انیس کے اسلوب کی جھلک پیش کی اور جذبات و منظر کشی میں کمال حاصل کیا۔ ان کے مرثیے جذباتی شدت اور کربلا کے واقعات کی تفصیل کے لیے مشہور ہیں۔

  1. میر جلیس

میر جلیس اپنے وقت کے اہم مرثیہ گو تھے۔ ان کے مرثیے زبان کی لطافت اور فنی مہارت کا بہترین نمونہ ہیں۔

  1. صفی امروہوی (1842ء – 1901ء)

صفی امروہوی نے مرثیہ نگاری میں اپنے منفرد انداز سے اہم مقام حاصل کیا۔ ان کے مرثیے جذباتی اثرات کے ساتھ ساتھ ادبی خوبیوں سے بھی مزین ہیں۔

  1. علی میاں کامل لکھنوی (1835ء – 1904ء)

کامل لکھنوی نے مرثیہ نگاری کو کلاسیکی اسلوب میں پیش کیا اور کربلا کے موضوعات کو انتہائی دلکش انداز میں بیان کیا۔

  1. حسین کامل امروہوی (1852ء – 1906ء)

حسین کامل امروہوی کے مرثیوں میں دکنی اور لکھنوی اسلوب کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے مرثیے کربلا کی داستان کو انسانی قربانی اور صبر و استقامت کے زاویے سے پیش کرتے ہیں۔

  1. ماہر لکھنوی (مہدی حسین)

ماہر لکھنوی اپنے مرثیوں میں داستانوی عناصر اور جذباتی شدت شامل کرنے کے لیے معروف تھے۔

  1. زائر زید پوری

زائر زید پوری نے مرثیہ نگاری کو ایک فنی معراج تک پہنچایا۔ ان کے مرثیے منفرد انداز اور شاندار منظر نگاری کے لیے یاد کیے جاتے ہیں۔

  1. اعظم امروہوی

اعظم امروہوی کے مرثیے انیسویں صدی کی مرثیہ نگاری کی کلاسیکی روایت کا تسلسل ہیں۔ ان کے کلام میں کربلا کی عظیم قربانیوں کی جھلک نمایاں ہے۔

بیسویں صدی کے نمایاں مرثیہ گو:

بیسویں صدی میں مرثیہ نگاری نے عصری مسائل اور سماجی موضوعات کو شامل کیا، جس سے مرثیہ ایک زندہ اور موثر صنف بن گیا۔

  1. میر جلیس

بیسویں صدی میں میر جلیس نے مرثیہ نگاری کی روایت کو زندہ رکھا اور اس صنف میں جدیدیت کا رنگ بھرا۔

  1. صفی امروہوی

صفی امروہوی نے نہ صرف انیسویں بلکہ بیسویں صدی میں بھی مرثیہ نگاری کی روایت کو آگے بڑھایا۔

  1. ماہر لکھنوی

ماہر لکھنوی بیسویں صدی کے آغاز میں بھی فعال رہے اور ان کے مرثیے جدید اردو ادب کی خوبصورت مثالیں ہیں۔

  1. زائر زید پوری

زائر زید پوری نے مرثیہ میں سماجی مسائل اور عصری موضوعات کو شامل کیا۔

خصوصیات:

    انیسویں صدی:

        کلاسیکی اسلوب

        جذباتی شدت

        تفصیلی منظر کشی

    بیسویں صدی:

        عصری موضوعات

        جدید زبان کا استعمال

        مرثیہ میں سماجی اور سیاسی پہلوؤں کا اضافہ

یہ شعرا اردو مرثیہ نگاری کے فروغ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا کام ادب کی دنیا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بیسویں صدی میں اردو مرثیہ نگاری نے ایک نئے دور کا آغاز کیا، جہاں شعرا نے روایتی مرثیہ کے ساتھ ساتھ جدید رجحانات اور عصری مسائل کو بھی اپنے کلام میں شامل کیا۔ اس دور کے مرثیہ گو شعرا نے جذبات، منظر کشی، اور فنی مہارت کے ذریعے اس صنف کو بلند مقام پر پہنچایا۔ درج ذیل شعرا نے بیسویں صدی میں مرثیہ نگاری کو نئی جہتیں عطا کیں:

بیسویں صدی کے اہم مرثیہ گو شعرا:

  1. آرزو لکھنوی

آرزو لکھنوی مرثیہ نگاری میں ایک منفرد مقام رکھتے تھے۔ ان کے مرثیے دلکش زبان، جذباتی اثرات، اور فنی مہارت کے اعلیٰ نمونے ہیں۔

  1. آغا سکندر مہدی

آغا سکندر مہدی نے مرثیہ نگاری میں کلاسیکی اور جدید انداز کو یکجا کیا۔ ان کے مرثیے واقعاتِ کربلا کو دل سوز انداز میں بیان کرتے ہیں۔

  1. آغا عزت لکھنوی

آغا عزت لکھنوی اپنے وقت کے ایک نمایاں مرثیہ گو تھے، جنہوں نے مرثیہ کو جذباتی شدت اور فنی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا۔

  1. آغا قیصر بارہوی

آغا قیصر بارہوی نے مرثیہ نگاری میں اپنی منفرد پہچان بنائی۔ ان کے مرثیے انسانی قربانی، صبر، اور حق و باطل کی کشمکش کو نمایاں کرتے ہیں۔

  1. آغا مسعود رضا خاکی

آغا مسعود رضا خاکی کے مرثیوں میں عصری مسائل اور روایتی موضوعات کا امتزاج نمایاں ہے۔ ان کے کلام میں کربلا کے واقعات کو جدید انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

  1. اثر جلیلی

اثر جلیلی کے مرثیے ان کے گہرے جذبات اور ادبی مہارت کا عکاس ہیں۔ ان کا کلام زبان کی نفاست اور منظر نگاری میں نمایاں ہے۔

  1. امید فاضلی

امید فاضلی نے بیسویں صدی میں مرثیہ نگاری کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔ ان کے مرثیے کربلا کے المیے کو عصری مسائل کے تناظر میں پیش کرتے ہیں۔

  1. امیر امام حر

امیر امام حر کے مرثیے جذباتی شدت اور فنی خوبصورتی کے بہترین امتزاج تھے۔ ان کے کلام میں کربلا کے پیغام کو عام کرنے کی بھرپور کوشش نظر آتی ہے۔

خصوصیات:

    زبان و بیان: بیسویں صدی کے مرثیہ گو شعرا نے زبان کی سادگی اور فصاحت پر زور دیا۔

    عصری مسائل: مرثیہ کو سماجی اور سیاسی مسائل سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔

    روایتی اور جدید اسلوب: کلاسیکی انداز کو برقرار رکھتے ہوئے جدیدیت کا رنگ بھرا گیا۔

    روحانیت اور جذبات: مرثیے میں کربلا کے واقعات کو روحانی گہرائی اور انسانی جذبات کے ساتھ پیش کیا گیا۔

یہ شعرا بیسویں صدی میں مرثیہ نگاری کی روایت کو زندہ رکھنے اور اسے نئی جہتوں سے روشناس کرانے میں کامیاب رہے۔ ان کا کلام اردو ادب کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔

یہ نام ان شعراء، ادباء، اور مفکرین کے ہیں جنہوں نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان شخصیات نے اردو مرثیہ، غزل، نظم، تحقیق، تنقید، اور نثر کے میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ ذیل میں ان اہم شخصیات کے مختصر تعارف اور ان کے شعبہ ادب میں کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اہم شخصیات اور ان کی خدمات

بزم آفندی

ایک ادبی حلقہ یا تنظیم جس نے اردو ادب اور مرثیہ نگاری کی ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا۔

پروفیسر کرار حسین، پروفیسر سردار نقوی

اردو تحقیق اور تدریس کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریریں علمی حلقوں میں معتبر سمجھی جاتی ہیں۔

ثمر لکھنوی

مرثیہ نگاری اور شاعری میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کے کلام میں جذباتی شدت اور کلاسیکی رنگ نمایاں ہے۔

جوش ملیح آبادی

“شاعرِ انقلاب” کے طور پر مشہور، جوش نے اردو نظم اور غزل میں بے مثال جدت پیدا کی۔ ان کی شاعری جذبات کی شدت اور زبان کی روانی کا نمونہ ہے۔

حسن عباس زیدی

مرثیہ اور شاعری میں گہری دلچسپی رکھنے والے، جن کے کلام میں روحانی اور تاریخی موضوعات نظر آتے ہیں۔

ڈاکٹر سید وحید اختر، ڈاکٹر صفدر حسین، ڈاکٹر یاور عباس

یہ اسکالرز اردو ادب کے اہم محققین میں شمار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مرثیہ، تنقید، اور تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔

راجا صاحب محمود آباد، رئیس امروہوی

راجا صاحب محمود آباد نے سیاست اور ادب کو یکجا کیا، جب کہ رئیس امروہوی نے مرثیہ اور نثر میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔

زیبا ناروی، سید آلِ رضا، سیف زلفی

یہ شعرا اپنی غزل اور مرثیہ نگاری کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے کلام میں روایتی رنگ کے ساتھ ساتھ جدید موضوعات بھی پائے جاتے ہیں۔

شاہد نقوی (ایڈوکیٹ)، شدید لکھنوی، شمیم امروہوی

ان شعراء نے مرثیہ اور دیگر اصنافِ سخن کو فروغ دیا۔ ان کے کلام میں زبان کی نفاست اور جذبات کی گہرائی نمایاں ہے۔

صابر تھاریانی، صادقین، صبا اکبر آبادی، صفی امروہوی، صہبا اختر

یہ شعرا اپنی منفرد شاعری، خصوصاً غزل اور نظم، کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے کلام میں عصری مسائل اور کلاسیکی جمالیات کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔

ضیا الحسن موسوی

ایک معروف مرثیہ نگار، جنہوں نے مرثیہ کی صنف کو عروج تک پہنچایا۔

عزم جونپوری، علامہ جمیل مظہری، علامہ شفیق حسن ایلیا، علامہ نجم آفندی

یہ شعرا فلسفہ، روحانیت، اور مرثیہ نگاری کے میدان میں ممتاز ہیں۔

فضل فتح پوری، فیض احمد فیض، فیض بھرت پوری

فیض احمد فیض اپنی انقلابی شاعری کے لیے مشہور ہیں، جب کہ فضل فتح پوری اور فیض بھرت پوری نے مرثیہ نگاری کو نئے اسلوب سے روشناس کرایا۔

کرار جونپوری، کوثر الہ آبادی

یہ شعرا اپنی سادگی اور جمالیاتی انداز کے لیے مشہور ہیں۔ ان کے کلام میں زبان کی شفافیت اور موضوعات کی وسعت دیکھی جا سکتی ہے۔

مصطفی زیدی، مہاراجا محمد علی محب

مصطفی زیدی اپنی انقلابی شاعری کے لیے مشہور ہیں، جب کہ مہاراجا محمد علی محب کا کلام روایت اور جدت کا امتزاج ہے۔

نسیم امروہوی، نفیس فتح پوری

مرثیہ نگاری میں نمایاں خدمات انجام دینے والے شعرا، جنہوں نے اس صنف کو وسعت دی۔

وحید الحسن ہاشمی

ادب، تحقیق، اور تدریس میں نمایاں مقام رکھنے والے، جنہوں نے اردو زبان کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا۔

یاور اعظمی

یاور اعظمی کا شمار جدید اردو شاعری کے اہم شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے کلام میں جدت اور روایات کا امتزاج پایا جاتا ہے۔

یہ تمام شخصیات اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف اردو زبان کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوئیں بلکہ مختلف اصنافِ سخن کو بھی وسعت اور جدت فراہم کی۔ ان کا کلام اور تحقیق اردو ادب کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔

اردو ادب میں مرثیہ نگاری اور دیگر اصناف کے حوالے سے دکن، حیدرآباد، گولکنڈہ، دلی، لکھنؤ، اور اودھ کے شعرا نے اپنے اپنے علاقوں کی روایات اور زبان کے تنوع کو شامل کرتے ہوئے اردو شاعری کو عروج بخشا۔ یہ شعرا اپنی انفرادی تخلیقات، زبان کی خوبصورتی، اور موضوعات کی گہرائی کے لیے جانے جاتے ہیں۔

دکن

دکن میں اردو مرثیہ نگاری کی ابتدا ہوئی، اور شاہ قلی شاہ شاہی کو اردو کے پہلے مرثیہ نگار کا درجہ حاصل ہے۔ ان کے علاوہ نصرتی، کمال خان رستمی، ملا وجہی، غواصی، اور دیگر شعرا نے دکنی زبان میں شاعری کرتے ہوئے اردو ادب کی بنیاد رکھی۔ بیجاپور اور گولکنڈہ کے علاقوں میں مرثیہ اور دیگر اصناف کو تقویت ملی۔

    اہم شعرا:

        شاہ قلی شاہ شاہی: اردو کے اولین مرثیہ نگار۔

        ملک الشعراء نصرتی: دکن کی شعری روایت کے ممتاز شاعر۔

        عبد اللہ قطب شاہ: دکنی ادب کے اہم بانیوں میں شامل۔

        کاظم خان کاظم: دکن کے روایتی مرثیہ نگار۔

        ہاشم علی گجراتی: دکنی زبان اور ادب کی ترقی میں نمایاں کردار۔

حیدرآباد اور گولکنڈہ

حیدرآباد اور گولکنڈہ نے دکنی ادب کو مزید وسعت دی۔ یہاں محمد قلی قطب شاہ اور ملا وجہی جیسے شعرا نے اردو شاعری کو مالا مال کیا۔

    اہم شعرا:

        محمد قلی قطب شاہ: اردو کے اولین شاعروں میں شامل، جن کے کلام میں دکن کے رنگ نمایاں ہیں۔

        ملا وجہی: دکنی نثر اور نظم کے اولین مصنفین میں شامل۔

        غواصی: دکنی شاعری میں جذباتی اور تخلیقی پہلو نمایاں کرنے والے۔

        ولی دکنی: اردو شاعری کے پہلے جدید شاعر۔

دلی اور لکھنؤ

دلی اور لکھنؤ اردو ادب کے دو اہم مراکز رہے، جہاں مرثیہ نگاری، غزل، اور دیگر اصناف کو عروج حاصل ہوا۔ میر انیس اور مرزا دبیر مرثیہ نگاری کے عروج کی علامت ہیں، جب کہ غالب، میر تقی میر، اور دیگر شعرا نے غزل کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

    اہم شعرا:

        میر انیس: مرثیہ کے بے تاج بادشاہ۔

        مرزا دبیر: مرثیہ میں نئی تخلیقی جہتوں کے بانی۔

        مرزا غالب: غزل کے شہنشاہ، جن کی شاعری فلسفیانہ اور جذباتی گہرائی سے بھرپور ہے۔

        میر تقی میر: اردو غزل کے معمار۔

        ناسخ: کلاسیکی اردو شاعری کے نمایاں شاعر۔

        یاس یگانہ چنگیزی: اردو ادب میں جدیدیت کے علمبردار۔

        حسرت موہانی: آزادی اور اردو شاعری کے نمائندہ شاعر۔

اودھ

اودھ میں مرثیہ نگاری کو مزید فروغ ملا۔ یہاں کے شعرا نے دلی اور لکھنؤ کی روایات کو اپناتے ہوئے اردو ادب کو مزید تقویت دی۔

    اہم شعرا:

        افسردہ: مرثیہ نگاری میں نمایاں خدمات۔

        گدا: اودھ کے اہم شاعر۔

        ناظم لکھنوی: اردو ادب کے ممتاز شاعر۔

        میر ضاحک: طنز و مزاح کے نمائندہ شاعر۔

        دلگیر: مرثیہ میں جذبات کی گہرائی کے حامل شاعر۔

        میر ضمیر: مرثیہ نگاری کے اہم ستون۔

اردو ادب کے یہ شعرا مختلف ادوار اور علاقوں میں اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو زبان کو ایک مضبوط ادبی روایت میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہے۔ ان کے کلام میں روایت، جدت، اور جذبات کی گہرائی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، جو آج بھی اردو ادب کے قارئین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

اردو ادب کے ارتقا میں مرثیہ نگاری کا تسلسل جاری رہا اور ہر دور میں شعرا نے اس صنف کو اپنی تخلیقی اور جذباتی صلاحیتوں سے مالا مال کیا۔ دکن سے لے کر لکھنؤ اور اودھ تک، مرثیہ نگاری نے مختلف علاقوں کے تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی اثرات کو سمیٹا اور اسے ترقی دی۔

مرثیہ نگاری کے اہم مراکز

دکن

دکن کے شعرا نے مرثیہ کی ابتدائی بنیاد رکھی۔ یہاں کے شعرا نے نہ صرف مذہبی جذبات کو بیان کیا بلکہ اپنے کلام میں مقامی زبان، تشبیہات، اور منظرنگاری کا بھرپور استعمال کیا۔

    اہم خصوصیات:

        دکنی زبان کا استعمال۔

        فطرت اور جنگ کے مناظر کی عکاسی۔

        مذہبی عقیدت کا اظہار۔

لکھنؤ

لکھنؤ مرثیہ نگاری کا سنہری دور کہلاتا ہے۔ یہاں مرثیہ ایک باقاعدہ صنفِ ادب کے طور پر نکھری۔ میر انیس اور مرزا دبیر نے اس صنف کو لازوال عظمت بخشی۔

    اہم خصوصیات:

        منظرنگاری اور کردار نگاری میں کمال۔

        جذبات کی گہرائی اور زبان کی نفاست۔

        مرثیہ میں چھے بند کی ہیئت کو مقبولیت دینا۔

دلی

دلی میں مرثیہ نگاری زیادہ تر ابتدائی دور میں مذہبی عقیدت اور سادگی پر مبنی تھی۔ یہاں کے شعرا نے غزل اور قصیدہ کے اثرات کو مرثیہ میں شامل کیا۔

اودھ

اودھ کے مرثیہ گو شعرا نے لکھنؤ کی روایات کو اپناتے ہوئے مقامی رنگ شامل کیے اور مرثیہ کو نئی جہت دی۔

اہم مرثیہ گو شعرا کی نمایاں خصوصیات

شاہ قلی شاہ شاہی

    اردو کے پہلے مرثیہ نگار۔

    ان کے کلام میں سادگی اور عقیدت نمایاں ہیں۔

ملک الشعراء نصرتی

    دکنی ادب کے نمائندہ شاعر۔

    مرثیہ کو فلسفیانہ گہرائی اور جذباتی وسعت دی۔

میر انیس

    مرثیہ نگاری کو عروج بخشنے والے سب سے بڑے شاعر۔

    منظر نگاری، کردار نگاری، اور جذبات کی عکاسی میں بے مثال۔

مرزا دبیر

    مرثیہ میں تخلیقی جملوں اور علمی انداز کے بانی۔

    لکھنؤ کی مرثیہ نگاری کو استحکام بخشا۔

یاس یگانہ چنگیزی

    جدید مرثیہ نگاری کے علمبردار۔

    ان کے کلام میں سادگی اور سماجی پہلو نمایاں ہیں۔

مرثیہ نگاری کا تسلسل

انیسویں صدی میں میر انیس اور مرزا دبیر کے بعد مرثیہ نگاری کا دائرہ وسیع ہوا، اور بیسویں صدی میں صفی امروہوی، جوش ملیح آبادی، اور رئیس امروہوی جیسے شعرا نے اس صنف کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ ان شعرا نے مرثیہ میں جدید موضوعات، سماجی مسائل، اور فلسفیانہ خیالات کو شامل کیا۔

جدید دور میں مرثیہ نگاری

آج کے دور میں بھی مرثیہ نگاری جاری ہے، اور شعرا اپنے کلام میں عصری موضوعات، امن، محبت، اور انسانیت کے پہلوؤں کو شامل کر رہے ہیں۔ مرثیہ نگاری نہ صرف ایک مذہبی صنف ہے بلکہ یہ اردو ادب کا ایک ایسا خزانہ ہے جو ہر دور میں تازگی اور عظمت کا احساس دلاتا ہے۔

یہ تسلسل اردو ادب کی گہرائی اور وسعت کا آئینہ دار ہے، اور مرثیہ نگاری کا یہ سفر ہمیشہ جاری رہے گا۔

گولکنڈہ اور حیدرآباد، دکن کے شعرا نے مرثیہ نگاری کو ایک نئی جہت دی، خاص طور پر اس دور میں جب دکن پر مغلیہ سلطنت کا تسلط تھا اور پھر آصف جاہی سلطنت نے دکن پر حکمرانی کی۔ اس دور میں مرثیہ نگاری کی روایات کا ایک خاص رنگ تھا جس میں غزل اور قصیدہ کی شکل میں مرثیہ لکھے گئے۔

گولکنڈہ اور حیدرآباد، دکن کے مرثیہ نگار

ان علاقوں کے مرثیہ نگاروں نے غزل اور قصیدہ کے قالب میں مرثیہ کہا اور اس کے ذریعے اپنے جذبات اور مذہبی عقیدت کو بیان کیا۔ اس دوران، شاعر اپنے کلام میں حکومتی تبدیلیوں، جنگوں اور مذہبی عقیدت کے اثرات کو شامل کرتے تھے۔

اہم مرثیہ نگار

    سید شاہ حسن

        دکن کے مرثیہ نگار، جو غزل اور قصیدہ میں مرثیہ کہتے تھے۔ ان کی شاعری میں مذہبی عقیدت اور جذبات کی گہرائی نمایاں تھی۔

    ذوقی

        ایک اہم مرثیہ نگار جو غزل اور قصیدہ کی شکل میں مرثیہ لکھتے تھے۔ ان کے کلام میں جذبات کی شدت اور واقعہ کربلا کی عکاسی کی گئی تھی۔

    سید اشرف شاہ

        مرثیہ گو شاعر جو غزل کے قالب میں حسین ابن علی کی شہادت کو بیان کرتے تھے۔

    شاہ نعیم حسین

        ایک اور مرثیہ نگار جنہوں نے غزل اور قصیدہ میں عاشورہ کے واقعات کو اپنے کلام کا حصہ بنایا۔ ان کے کلام میں جذبات کی شدت اور فلسفیانہ گہرائی تھی۔

    ندیم

        مرثیہ کے اہم شاعر جنہوں نے کربلا کی جنگ اور اس کے اثرات پر اپنی شاعری تخلیق کی۔ ان کا انداز بھی غزل میں مرثیہ کہنا تھا۔

    یتیم احمد

        یتیم احمد نے بھی غزل اور قصیدہ کی شکل میں مرثیہ کہا، اور ان کے کلام میں حزن و ملال کی شدت کو اجاگر کیا گیا تھا۔

دکن کی مرثیہ نگاری کی خصوصیات

    غزل اور قصیدہ کا امتزاج: دکن کے مرثیہ نگاروں نے غزل اور قصیدہ میں مرثیہ گوئی کو باہم ملایا، جس سے مرثیہ کی صنف میں نیا رنگ پیدا ہوا۔

    مذہبی عقیدت: کربلا کے واقعات اور اہل بیت کی قربانیوں کا تذکرہ ایک اہم موضوع تھا۔

    دکن کی ثقافت اور زبان: دکن کے شعرا نے اپنی مقامی زبان اور ثقافت کو اپنے مرثیہ کلام میں شامل کیا۔

    جذبات کی شدت: مرثیہ نگاروں کے کلام میں غم، درد، اور فراق کی شدت واضح طور پر محسوس کی جاتی ہے، جو عاشورہ کے المناک واقعات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

دور کی سیاسی اور ثقافتی تبدیلیوں کا اثر

دکن میں مغلیہ سلطنت کے زوال اور آصف جاہی سلطنت کے آغاز کے دوران، مرثیہ نگاری میں ایک نیا رجحان ابھرا۔ ان تبدیلیوں نے شعرا کو سیاسی اور سماجی مسائل کو اپنے کلام کا حصہ بنانے کی تحریک دی۔

    مغلیہ تسلط کا زوال: اس دوران شعراء نے مغلیہ سلطنت کے زوال اور دکن میں نئی سیاسی حکمرانی کے اثرات کو اپنے مرثیہ میں بیان کیا۔

    آصف جاہی سلطنت کی حکمرانی: اس دور میں آصف جاہی حکمرانوں نے دکن میں ثقافتی اور ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا، جس سے مرثیہ نگاری کو نیا حوصلہ ملا۔

دکن، گولکنڈہ، اور حیدرآباد کے مرثیہ نگاروں کی شاعری اردو ادب کا اہم حصہ رہی ہے، اور ان کے کلام میں نہ صرف مذہبی عقیدت اور جذبات کی شدت ہے بلکہ انہوں نے اس صنف کو اپنے دور کی سیاسی، ثقافتی، اور سماجی حقیقتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

پاکستان میں مرثیہ گوئی کی ایک طویل اور معتبر روایت رہی ہے، جس میں نہ صرف تاریخی اور مذہبی پس منظر کو اہمیت دی گئی ہے بلکہ جدید دور کے شعرا نے بھی اس صنف میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اردو مرثیہ گوئی میں ان شعرا کا کردار اہم ہے جنہوں نے اس صنف کو جدید طریقوں سے مربوط کیا اور اسے نئے رنگ دیے۔

پاکستان کے نامور مرثیہ گو

پاکستان میں مرثیہ گوئی کی متعدد اہم شخصیات نے اس صنف کو نیا آہنگ دیا ہے۔ ان میں سے کچھ معروف شعراء کے نام درج ذیل ہیں:

مشہور مرثیہ نگار:

    جوش ملیح آبادی

        اردو ادب کے ایک عظیم شاعر، جنہوں نے مرثیہ گوئی میں انقلاب لایا۔

    سید آلِ رضا

        مرثیہ گوئی کی ایک اہم شخصیت، جنہوں نے اپنے کلام میں گہرے مذہبی عقیدے اور جذبے کی عکاسی کی۔

    نسیم امروہوی

        ایک اور اہم مرثیہ نگار جو اپنی شاعری میں مذہبی عقیدت اور جذبات کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔

    قمر جلالوی

        مرثیہ نگاری کی روایت کو جدید انداز میں پیش کرنے والے اہم شاعر۔

    راجہ صاحب محمود آباد

        مرثیہ کی شاعری میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں، جنہوں نے اپنے کلام میں فلسفیانہ اور جذباتی گہرائی کو شامل کیا۔

    نجم آفندی

        ایک معتبر مرثیہ نگار جنہوں نے شاعری کے ذریعے کربلا کے واقعات کو بیان کیا۔

    قیصر بارہوی

        مرثیہ گوئی میں اپنی تخلیقات کے ذریعے عوام میں مقبول ہوئے۔

    وحید الحسن ہاشمی

        مرثیہ گوئی میں ایک اہم نام، جنہوں نے اپنے کلام میں واقعہ کربلا کی دردناک تصویر کشی کی۔

    ڈاکٹر مسعود رضا خاکی

        معاصر مرثیہ گو جنہوں نے ادب میں اہم مقام حاصل کیا۔

    ڈاکٹر سید صفدر حسین

        ایک اور اہم مرثیہ نگار جو اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔

    آغا سکندر مہدی

        ان کا کلام بھی مرثیہ گوئی کی دنیا میں ایک معتبر حیثیت رکھتا ہے۔

دیگر اہم مرثیہ نگار:

    امید فاضلی

    پروفیسر سردار نقوی

    اثر جلیلی

    ڈاکٹر یاور عباس

    ساحر لکھنوی

    شاہد نقوی

    صفدر ہمدانی

    ضمیر اختر نقوی

    ہلال نقوی

وہ شعرا جنہوں نے کم مرثیہ کہے

پاکستان کے چند شاعروں نے مرثیہ گوئی میں صرف چند ہی کلام تخلیق کیے ہیں، لیکن ان کے کلام نے اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل کیا ہے:

    فیض احمد فیض

    مصطفی زیدی

    صادقین

    پروفیسر کرار حسین

    علامہ رشید ترابی

    رئیس امروہوی

    صہبا اختر

    عزت لکھنوی

مغرب میں آباد اردو مرثیہ گو

مغرب میں آباد اردو مرثیہ گوؤں نے بھی اس صنف میں اپنی تخلیقات کے ذریعے اہمیت حاصل کی:

    صفدر ہمدانی

    امیر امام حر

    باقر زیدی

    شہاب کاظمی

    عابد جعفری

    عارف امام

پاکستان اور دنیا بھر میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت نے اس صنف کو نہ صرف دینی، مذہبی اور ثقافتی اہمیت دی ہے بلکہ اس کے ذریعے دنیا بھر میں اردو ادب کو نیا رنگ بھی ملا ہے۔ ان مرثیہ نگاروں نے اپنے کلام میں کربلا کے دردناک واقعات اور اہل بیت کی قربانیوں کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔

پاکستان اور دنیا بھر میں اردو مرثیہ گوئی کی روایت نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہے بلکہ اس نے شعری ادب میں کئی منفرد جہات پیدا کی ہیں۔ ان مرثیہ نگاروں کی تخلیقات نے نہ صرف مذہبی اور روحانی تقاضوں کو اجاگر کیا، بلکہ اس صنف میں جذباتی اور فنی گہرائی بھی پیدا کی۔ ان شعرا نے مرثیہ گوئی کے ذریعے اردو ادب کو ایک نئی جہت دی، جس نے اس صنف کو دنیا بھر میں مقبول اور معتبر بنایا۔

پاکستان میں مرثیہ گوئی کی اہمیت

پاکستان میں مرثیہ گوئی کو نہ صرف ایک ادبی صنف کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے بلکہ یہ ایک مذہبی اور روحانی اظہار کا بھی ذریعہ ہے۔ مرثیہ نگاری کے ذریعے شعرا نے نہ صرف کربلا کے واقعے کو زندہ رکھا بلکہ اس میں انسانیت کی قربانیوں اور اخلاقی سبق کو بھی بیان کیا۔ ان مرثیہ نگاروں نے اپنے کلام میں اہل بیت کی قربانیوں کو اس انداز میں پیش کیا کہ یہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک سبق بن گیا۔

پاکستانی مرثیہ نگاروں نے مرثیہ گوئی میں ترقی کرتے ہوئے جدید شاعری کی تکنیکوں کو بھی شامل کیا۔ ان شعرا نے قدیم مرثیہ کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے نئی فکر اور تخلیقی زبان کو بھی اپنایا، جس سے مرثیہ گوئی کا دائرہ وسیع ہوا۔ خاص طور پر بیسویں صدی کے مرثیہ نگاروں نے اس صنف کو نئے انداز میں پیش کیا، جس میں جدید شاعری کی تکنیکیں، مثلاً انسپکشن، تمثیل، اور استعارات کا استعمال بڑھا۔

پاکستان میں اردو مرثیہ گوئی کے نمایاں اثرات

پاکستان میں اردو مرثیہ گوئی نے نہ صرف مذہبی محافل بلکہ ادبی محافل میں بھی اہم مقام حاصل کیا ہے۔ اس کے علاوہ، مرثیہ گوئی کا اثر مختلف دینی اجتماعات میں بھی دیکھا گیا، جہاں اس صنف کو عقیدت اور احترام سے سنا جاتا ہے۔ خاص طور پر محرم الحرام میں مرثیہ خوانی کا سلسلہ عوامی محافل میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں مرثیہ نگار اپنے اشعار کے ذریعے امام حسین علیہ السلام اور کربلا کے شہداء کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

مرثیہ گوئی نے اردو شاعری کی دیگر اصناف جیسے غزل، نظم اور قصیدہ سے بھی متاثر ہو کر اپنی فنی حیثیت کو مزید مستحکم کیا ہے۔ اس صنف کے اہم شعراء نے ان اصناف کو مرثیہ کی فضا میں ڈھال کر ان میں ایک منفرد رنگ بھرا۔

مغرب میں آباد اردو مرثیہ گو

مغرب میں آباد اردو مرثیہ نگاروں نے بھی اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو ادب اور مرثیہ گوئی کو عالمی سطح پر متعارف کرایا۔ ان شعرا نے مغربی معاشروں میں رہ کر اردو کے رنگ اور انداز کو متعارف کروایا، اور مرثیہ گوئی کو ایک عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ ان کی تخلیقات نہ صرف مقامی زبانوں میں ترجمہ ہوئیں بلکہ عالمی ادب کے حلقوں میں بھی ان کی اہمیت تسلیم کی گئی۔

مرثیہ گوئی کے اسلوب

مرثیہ نگاروں کے اسلوب میں عمومی طور پر درد، غم، اور قربانی کا اظہار ہوتا ہے۔ ان شعرا نے اپنی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں، خصوصاً امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو اس شدت سے بیان کیا کہ سننے والے کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں۔ مرثیہ گوئی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس میں عاطفی اور جذباتی توانائی کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ سامع یا قاری کو ایک مخصوص حالت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

مرثیہ میں شعراء کی جانب سے استعمال ہونے والی تشبیہیں اور استعارے اس کی جمالیاتی قدر کو بڑھاتے ہیں۔ ان اشعار میں اسلامی تاریخ اور اخلاقی سبق کی گہری تعلیم ہوتی ہے، جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کے لیے ایک روشن رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

آئندہ کی نسلوں کے لیے ورثہ

اردو مرثیہ گوئی کا ورثہ آئندہ نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔ ہمیں اس صنف کی قدردانی کرنی چاہیے اور اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نوجوان شعرا اور ادب کے طالب علموں کو مرثیہ گوئی کے اس عظیم ورثے سے آگاہ کرنا اور ان کی تخلیقات کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔

اس صنف کے ادب میں ہمیشہ ایک خاص شدت اور حقیقت پسندی رہی ہے، جس نے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنائی ہے۔ اردو مرثیہ گوئی کے شعراء نے اپنے کلام میں انسانی جذبوں کو بڑی مہارت سے اجاگر کیا ہے، اور اس کے ذریعے نہ صرف ادب کی بلکہ روحانیت کی بھی عکاسی کی ہے۔

مرثیہ گو شاعرات کی روایت اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ ان شاعرات نے مرثیہ گوئی کی صنف کو نہ صرف عورتوں کی آواز بنائی بلکہ ان کی شاعری میں احساسات و جذبات کی گہری شدت اور تخلیقی مہارت کا اظہار بھی ہوا۔ بعض مشہور مرثیہ گو شاعرات میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. ملکہ زمانی

ملکہ زمانی ایک اہم مرثیہ گو شاعرہ تھیں جنہوں نے اردو شاعری میں اپنی منفرد آواز پیدا کی۔ ان کی شاعری میں غم و الم اور انسانیت کے موضوعات کو بڑی گہرائی سے بیان کیا گیا۔

  1. سلطان عالیہ

سلطان عالیہ نے مرثیہ گوئی میں اپنی ایک الگ شناخت بنائی۔ ان کی تخلیقات میں کربلا کے واقعات اور اہل بیت کی قربانیوں کا تذکرہ انتہائی مؤثر انداز میں کیا گیا۔

  1. تاجدار لکھنوی

تاجدار لکھنوی نے بھی مرثیہ گوئی کی صنف میں اہم مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں روحانیت اور اخلاقی سبق کی جھلک نظر آتی ہے۔

  1. حاجی لکھنوی (زیب النسا بیگم)

زیب النسا بیگم، جنہیں حاجی لکھنوی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک قابلِ ذکر مرثیہ گو شاعرہ تھیں۔ ان کی شاعری میں کربلا کے عظیم سانحے کی تصویر کشی کی گئی ہے، جس میں جذباتی شدت اور روحانیت کا عنصر غالب رہا۔

  1. سیدہ مدینہ خاتون مدینہ

سیدہ مدینہ خاتون مدینہ نے بھی مرثیہ گوئی کے میدان میں اپنی خدمات پیش کیں۔ ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں اور ان کے حوصلے کا بیان بڑی حساسیت سے کیا گیا ہے۔

  1. دیوی روپ کماری اکبر آبادی

دیوی روپ کماری اکبر آبادی ایک معروف مرثیہ گو شاعرہ تھیں، جنہوں نے اردو ادب میں مرثیہ کی صنف کو نئی جہت دی۔ ان کی تخلیقات میں غم، محبت اور جذبہ قربانی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

  1. نشاط مقبول رضوی

نشاط مقبول رضوی نے مرثیہ گوئی میں جدید عناصر شامل کیے اور اس صنف کی حدود کو وسیع کیا۔ ان کی شاعری میں سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ عاطفی اور روحانی پہلو بھی اجاگر ہوئے ہیں۔

  1. سلطانہ ذاکر ادا

سلطانہ ذاکر ادا نے بھی مرثیہ گوئی میں اہم مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں نسائی جذبات اور کربلا کے واقعات کی تاثیر نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔

یہ شاعرات اردو مرثیہ گوئی کی تاریخ میں اپنی تخلیقات کے ذریعے نہ صرف ایک اہم مقام رکھتی ہیں بلکہ انہوں نے ادب کے میدان میں ایک منفرد پہچان بنائی ہے۔ ان کی شاعری آج بھی مرثیہ گوئی کے شوقین افراد کے دلوں میں زندہ ہے اور انہیں ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے جس میں جذبات، غم اور انسانیت کے پیغام کی گہرائی پائی جاتی ہے۔

مرثیہ گو شاعرات نے اردو ادب کی تاریخ میں ایک خاص مقام حاصل کیا ہے، اور ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں، غم، حزن، اور احساسات کی گہرائی کا شاندار اظہار ہوتا ہے۔ ان شاعرات کا کام نہ صرف مرثیہ گوئی کے فن کو زندہ رکھنے کا سبب بنا بلکہ انہوں نے اس صنف کو مزید تسلیم اور پذیرائی بھی دلائی۔

  1. نشاط مقبول رضوی

نشاط مقبول رضوی ایک معروف مرثیہ گو شاعرہ تھیں جنہوں نے مرثیہ کی شاعری کو نئے افق تک پہنچایا۔ ان کی شاعری میں اسلامی تاریخ اور کربلا کی عظمت کے ساتھ ساتھ عورت کی حیثیت اور اس کے جذباتی و روحانی تجربات کا بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں استعارے اور علامات کی بھرپور موجودگی ہے جو انھیں دیگر شاعرات سے ممتاز کرتی ہے۔

  1. سلطانہ ذاکر ادا

سلطانہ ذاکر ادا کی شاعری میں مرثیہ گوئی کی روح کو بخوبی اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کی تخلیقات میں خواتین کے جذبات اور کربلا کے حالات کا بیان کیا گیا ہے۔ ان کی شاعری میں انسیت اور عزم کی ایک خاص لگان ہے، جو اس صنف کو مزید جاذبِ نظر بناتی ہے۔

  1. تاجدار لکھنوی

تاجدار لکھنوی کا مرثیہ گوئی میں ایک اہم مقام ہے۔ ان کی شاعری میں کربلا کے واقعات کی حقیقت اور اہل بیت کی قربانیوں کا بیان غمگین اور خوبصورت انداز میں کیا گیا۔ ان کی تخلیقات میں حوصلے اور عزم کی ایک گہری بازگشت سنائی دیتی ہے۔

  1. حاجی لکھنوی (زیب النسا بیگم)

زیب النسا بیگم، جو حاجی لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں، نے مرثیہ گوئی کی ایک نئی روشنی دی۔ ان کی شاعری میں ایک خاص روحانیت اور اخلاقی پیغام ملتا ہے، جس میں اہل بیت کی قربانیوں کو جلا دی گئی ہے۔ ان کے اشعار میں غم کی شدت اور قربانی کے جذبے کا خوبصورت بیان کیا گیا۔

  1. سیدہ مدینہ خاتون مدینہ

سیدہ مدینہ خاتون مدینہ نے مرثیہ گوئی میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ، اسلام کی محبت اور حق کی تلاش کا پیغام بھی موجود ہے۔ ان کے اشعار میں انسانی درد، کرب اور عزم کا رنگ ملتا ہے۔

یہ شاعرات نہ صرف مرثیہ گوئی میں اپنے عہد کا حصہ بنی، بلکہ انہوں نے اس صنف کو نئے رنگ اور جہتیں دیں۔ ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب میں اس صنف کی اہمیت اور اثرات کو ثابت کرتی ہیں، اور ان کا کام مرثیہ گوئی کے ادب میں زندہ رہے گا۔

غیر مسلم مرثیہ گو شاعرات و شعراء نے بھی اردو مرثیہ گوئی میں اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی شاعری میں بھی کربلا کے واقعات، اہل بیت کی قربانیاں، اور غم و حزن کے جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان غیر مسلم مرثیہ گو شعراء نے اردو کے مرثیہ ادب کو ایک نیا رنگ دیا اور اپنے جذبات و احساسات کے ذریعے اس صنف کو مزید مقبول بنایا۔

غیر مسلم مرثیہ گو شعراء میں شامل ہیں:

    مہاراجا بلوان سنگھ مہاراجا مہاراجا بلوان سنگھ ایک اہم غیر مسلم مرثیہ گو شاعر تھے جنہوں نے اردو مرثیہ گوئی کی صنف میں اپنی شاعری پیش کی۔ ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں اور کربلا کے واقعات کا بیان کیا گیا۔

    راجا الفت رائے الفت راجا الفت رائے الفت نے مرثیہ گوئی کی صنف میں اہم کام کیا۔ ان کی شاعری میں اسلامی تاریخ اور کربلا کی عظمت کی جھلک نظر آتی ہے۔

    راجا دھنپت رائے محب راجا دھنپت رائے محب بھی مرثیہ گوئی میں معروف ہیں اور ان کی شاعری میں مسلمانوں کے دینی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان کی تخلیقات میں اہل بیت کی قربانیوں اور دین اسلام کی جڑوں کو اجاگر کیا گیا۔

    لالہ چھنو لال دلگیر لالہ چھنو لال دلگیر کا نام بھی مرثیہ گو شاعروں میں آتا ہے۔ ان کی شاعری میں غم، کرب، اور انسانیت کے موضوعات کو بڑی شدت سے بیان کیا گیا ہے۔

    ذہین لکھنوی ذہین لکھنوی کی مرثیہ گوئی بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں کربلا کے واقعات اور اہل بیت کی قربانیوں کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

    فراقی دریابادی فراقی دریابادی نے بھی مرثیہ گوئی کی صنف میں اہم حصہ ڈالا۔ ان کی شاعری میں مسلمانوں کی قربانیاں اور روحانیت کی عکاسی کی گئی ہے۔

    دلو رام کوثری دلو رام کوثری نے اردو مرثیہ گوئی کے میدان میں اہم کام کیا اور ان کی شاعری میں کربلا کے واقعات کو خاص اہمیت دی گئی۔

    پہاراجہ پرشاد شاد پہاراجہ پرشاد شاد نے مرثیہ گوئی کے حوالے سے کچھ اہم تخلیقات پیش کیں، جو آج بھی اردو ادب میں جانی جاتی ہیں۔

    منی لال جوان منی لال جوان نے بھی مرثیہ گوئی میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں کے بارے میں غمگین اور گہرے اشعار شامل ہیں۔

    رام راؤ بیجا سیوا پوری رام راؤ بیجا سیوا پوری کی مرثیہ گوئی میں کربلا کے واقعات اور ان کی پُراثر تشریح ملتی ہے۔

    مکھن داس مکھن داس نے مرثیہ گوئی میں بھی اپنا کردار ادا کیا، اور ان کی شاعری میں جذبات و احساسات کی گہرائی ہے۔

    بالا جی تسمبک تارہ بالا جی تسمبک تارہ نے مرثیہ گوئی میں اہم کام کیا اور ان کی تخلیقات میں اہل بیت کی عظمت اور ان کے کرب کا بیان کیا گیا۔

    سوامی پرشاد اصغر سوامی پرشاد اصغر نے مرثیہ گوئی کی صنف میں اپنی شاعری پیش کی جس میں اسلامی تاریخ اور اہل بیت کی قربانیوں کا بیان تھا۔

    وحید اختر وحید اختر کی شاعری میں بھی مرثیہ گوئی کی ایک خاص تکنیک ملتی ہے، جس میں کربلا کے واقعات کو گہرے انداز میں بیان کیا گیا۔

    دیوی روپ کماری اکبر آبادی دیوی روپ کماری اکبر آبادی ایک اہم غیر مسلم مرثیہ گو شاعرہ تھیں جنہوں نے مرثیہ گوئی میں نئی روشنی ڈالی۔ ان کی شاعری میں اہل بیت کی قربانیوں کے بارے میں ایک منفرد نظر آتی ہے۔

    بیگم شہرت بیگم شہرت بھی غیر مسلم مرثیہ گو شاعرات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں اسلامی تاریخ اور اہل بیت کی قربانیوں کو اجاگر کیا۔

یہ غیر مسلم مرثیہ گو شاعرات و شعراء اردو ادب کی مرثیہ گوئی کی روایت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کی شاعری آج بھی اردو ادب کے کلاسیکی ذخیرے کا حصہ ہے۔

غیر مسلم مرثیہ گو شاعروں نے اپنے تخلیقی کاموں کے ذریعے اردو مرثیہ گوئی کی ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ ان کی شاعری میں کربلا کے واقعات، اہل بیت کی عظمت، اور اسلام کی روحانیت کی جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں، جو نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ اردو کے تمام قارئین کے لیے ایک قیمتی ورثہ ہے۔

ان غیر مسلم مرثیہ گو شعراء کی تخلیقات میں مسلمانوں کی قربانیاں اور دین اسلام کے اصولوں کی قدر و قیمت کو اجاگر کیا گیا ہے، اور اس طرح یہ شاعری بین المذاہب رواداری اور انسانی اقدار کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ شعراء اپنی شاعری کے ذریعے مرثیہ گوئی کی صنف کو ایک نئی جہت دیتے ہیں اور اردو ادب میں اس صنف کو مزید جلا بخشتے ہیں۔ ان کی تخلیقات میں خاص طور پر اہل بیت کی قربانیوں کا ذکر کیا گیا ہے، جسے وہ مختلف انداز میں غم و حزن اور عقیدت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

ان غیر مسلم مرثیہ گو شاعروں کی شاعری کو اردو کے تمام قارئین نے نہ صرف پسند کیا بلکہ ان کے کاموں میں ایک گہری فکری اور روحانی کیفیت بھی موجود ہے، جو ان کے پیغام کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

اہم غیر مسلم مرثیہ گو شاعرات/شعراء:

    مہاراجہ بلوان سنگھ مہاراجا

    راجا الفت رائے الفت

    راجا دھنپت رائے محب

    لالہ چھنو لال دلگیر

    ذہین لکھنوی

    فراقی دریابادی

    دلو رام کوثری

    پہاراجہ پرشاد شاد

    منی لال جوان

    رام راؤ بیجا سیوا پوری

    مکھن داس

    بالا جی تسمبک تارہ

    سوامی پرشاد اصغر

    وحید اختر

    دیوی روپ کماری اکبر آبادی

    بیگم شہرت

ان شاعروں اور شاعرات نے اردو مرثیہ گوئی کے علم کو نہ صرف پاکستان و ہندوستان میں فروغ دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی اس صنف کی اہمیت کو بڑھایا۔ ان کی تخلیقات نے مرثیہ گوئی کو ایک وسیع تر منظر پر پیش کیا، جہاں ہر طبقہ اور ہر مذہب کے لوگ اس ادب کو تسلیم کرتے ہیں۔