اردو فن خطاطی ایک تخلیقی اور جمالیاتی فن ہے جس کے ذریعے اردو زبان کے حروف اور الفاظ کو خوبصورت اور دلکش انداز میں لکھا جاتا ہے۔ یہ فن نہ صرف ایک رسم الخط یا لکھائی کا عمل ہے، بلکہ اس میں ہر حرف، ہر لفظ اور جملے کو جمالیاتی اور معنوی طور پر خوبصورت اور موزوں انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اردو خطاطی میں الفاظ کی شکل، وزن، اور ترتیب کو اس طرح ڈھالا جاتا ہے کہ وہ بصری طور پر دلکش اور متاثر کن ہوں۔
اردو فن خطاطی کی تعریف میں یہ بات شامل ہے کہ یہ ایک دستکاری ہے جس میں قلم، روشنائی اور کاغذ کے ذریعے حروف کو ایک مخصوص انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے تاکہ وہ نہ صرف معلومات منتقل کریں بلکہ دیکھنے والے کے دل و دماغ پر اثر بھی ڈالیں۔ یہ فن اسلامی تہذیب اور اردو ادب کا اہم حصہ ہے، جس میں خطاط اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے اور اسے ایک روحانی، ثقافتی اور جمالیاتی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
اردو خطاطی کی سب سے اہم خصوصیت اس کے نستعلیق رسم الخط کا استعمال ہے، جو اردو ادب، شاعری اور اسلامی فنون میں بے حد مقبول ہے۔ اس کے علاوہ، نسخ، دیووانی اور ثلث جیسے دیگر خطاطی کے اسالیب بھی اردو میں استعمال کیے جاتے ہیں، جو ہر ایک کا اپنا منفرد جمالیاتی اثر رکھتے ہیں۔
یوں، اردو فن خطاطی نہ صرف ایک لکھنے کا عمل ہے بلکہ ایک آہنگی، توازن اور جمالیاتی اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔
اردو فن خطاطی ایک خوبصورت اور منفرد فن ہے جو اسلامی تہذیب اور ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ فن نہ صرف ایک جمالیاتی اظہار کا ذریعہ ہے بلکہ اردو زبان کے حسن اور الفاظ کی روحانی تاثیر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اردو خطاطی کی تاریخ
اردو خطاطی کی بنیاد اسلامی خطاطی سے ہوئی، جس کی جڑیں عربی رسم الخط میں ہیں۔ برصغیر میں مغل دورِ حکومت کے دوران اردو خطاطی نے خاص ترقی کی۔ خطاطی کے مختلف انداز، جیسے نسخ، نستعلیق، ثلث، اور کوفی، اردو خطاطی میں شامل ہوئے اور اسے مزید نکھارا۔
اردو خطاطی کی خصوصیات
نستعلیق رسم الخط: اردو خطاطی کا سب سے مشہور اور دلکش انداز ہے، جو شاعری اور ادب کے لیے خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔
حروف کی ترتیب: اردو خطاطی میں حروف کی ترتیب اور ان کے باہمی تعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، جو متن کو جمالیاتی حسن عطا کرتے ہیں۔
زیبائشی عنصر: اردو خطاطی میں گولائیوں، مڑے ہوئے حروف، اور توازن کے ذریعے ایک منفرد حسن پیدا کیا جاتا ہے۔
اردو خطاطی کے نمایاں خطاط
میر علی تبریزی: نستعلیق رسم الخط کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
عبدالمجید پروین رقم: پاکستان کے مشہور خطاط، جنہوں نے اردو خطاطی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔
صدیقین نقوی: ان کی مصوری اور خطاطی کے امتزاج نے اردو فن خطاطی کو عالمی سطح پر روشناس کروایا۔
جدید دور میں اردو خطاطی
جدید ٹیکنالوجی کے باوجود اردو خطاطی کی مقبولیت برقرار ہے۔ کمپیوٹر سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل ڈیزائن میں نستعلیق فونٹس کی تخلیق نے اردو خطاطی کو نئی نسل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اردو خطاطی کا مستقبل
اردو خطاطی کا مستقبل روشن ہے، لیکن اسے محفوظ رکھنے کے لیے جدید ذرائع کے ساتھ ساتھ روایتی تکنیکوں کی بھی تعلیم و تربیت ضروری ہے۔ یہ فن ہماری ثقافت اور زبان کی پہچان ہے، جسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
اردو خطاطی میں استعمال ہونے والے آلات
اردو خطاطی کے لیے مخصوص آلات اور مواد کا استعمال کیا جاتا ہے، جو اس فن کے حسن کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں:
قلم
روایتی طور پر سرکنڈے یا بانس سے بنے قلم استعمال کیے جاتے ہیں۔
ان قلموں کو مخصوص زاویے پر تراشا جاتا ہے تاکہ ہر حرف کی شکل اور موٹائی درست بنے۔
روشنائی
خطاطی کے لیے ہاتھ سے بنی روشنائی استعمال کی جاتی ہے، جو عام طور پر گیلے کوئلے، انڈے کی زردی، اور مختلف روغنیات سے تیار کی جاتی ہے۔
آج کل مختلف رنگوں کی مصنوعی روشنائی بھی مقبول ہے۔
کاغذ
خطاطی کے لیے مخصوص کاغذ استعمال ہوتا ہے، جس پر میکنگ یا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ روشنائی جذب نہ ہو اور حروف واضح رہیں۔
یہ کاغذ عموماً دستکاری کاغذ یا خاص طور پر تیار شدہ ململ کاغذ ہوتا ہے۔
خط کش
ہموار اور سیدھی لکیریں کھینچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاکہ الفاظ اور حروف یکساں ترتیب میں ہوں۔
اردو خطاطی کے مختلف انداز
اردو خطاطی کئی مختلف اسالیب پر مشتمل ہے، جو مختلف ادوار اور خطاطوں کے تجربات کا نتیجہ ہیں
نستعلیق
اردو زبان کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور معروف رسم الخط ہے۔
اس میں حروف ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں، اور ہر لفظ میں ایک خاص روانی ہوتی ہے۔
شاعری اور ادب کی کتابوں کے لیے زیادہ تر استعمال ہوتا ہے۔
نسخ
زیادہ صاف اور سیدھا رسم الخط ہے، جو قرآن پاک کی طباعت اور بچوں کی کتابوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ثلث
عربی خطاطی کا ایک خوبصورت انداز، جو زیادہ تر اسلامی فنون اور آرائشی کاموں میں استعمال ہوتا ہے۔
اردو میں یہ انداز مساجد کی آرائش یا دیواری خطاطی کے لیے مقبول ہے۔
دیووانی
سلطنت عثمانیہ میں مقبول ہونے والا انداز، جو پیچیدہ اور آرائشی ہے۔
اردو خطاطی کا ثقافتی اور روحانی پہلو
اردو خطاطی کا تعلق صرف جمالیاتی حسن سے نہیں بلکہ یہ اسلامی ثقافت، روحانیت، اور اردو ادب کا بھی گہرا مظہر ہے۔
قرآنی خطاطی
اردو خطاطی اکثر قرآن پاک کی آیات لکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، جو اس فن کی روحانی اہمیت کو بڑھاتی ہے۔
شاعری کی خطاطی
اردو شاعری کی نزاکت اور لطافت کو خطاطی کے ذریعے مزید نکھارا جاتا ہے، جہاں حروف اور الفاظ خود ایک فن پارہ بن جاتے ہیں۔
اردو خطاطی کی بقاء اور ترقی
جدید دور میں اردو خطاطی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن اس کے فروغ کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں
خطاطی کے کورسز
مختلف تعلیمی ادارے اور آرٹ اکیڈمیز اردو خطاطی سکھانے کے لیے کورسز کا انعقاد کر رہے ہیں۔
ڈیجیٹل خطاطی
نستعلیق اور دیگر خطاطی کے انداز کو ڈیجیٹل فونٹس میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جو کتابوں، ویب سائٹس، اور دیگر مواد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
نمائشیں اور مقابلے
اردو خطاطی کی عالمی سطح پر پہچان کے لیے آرٹ گیلریوں اور ثقافتی تنظیموں کے ذریعے نمائشیں اور مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔
اردو فن خطاطی کی اہمیت
اردو فن خطاطی کی اہمیت مختلف پہلوؤں سے جانی جاتی ہے، جو اس کے ثقافتی، تاریخی، اور جمالیاتی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے
ثقافتی ورثہ
اردو خطاطی اسلامی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور برصغیر کی فنون لطیفہ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ فن خاص طور پر مسلمانوں کے مذہبی، ثقافتی، اور ادبی معیارات سے جڑا ہوا ہے۔ خطاطی کی کتابت قرآن پاک، حدیث اور دیگر مذہبی متون میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔
ادبی اور شاعری کا جزو
اردو شاعری کی جمالیات کو خطاطی میں بیان کیا جاتا ہے، جہاں ہر لفظ اور جملہ ایک تصویر کی طرح جچتا ہے۔ معروف اردو شعراء کے اشعار کو خطاطی کی شکل میں پیش کرنا ایک روایت رہی ہے۔ خطاطی کی مدد سے شاعری کی نازکیت اور معنی کو بصری شکل دی جاتی ہے۔
روحانی اور مذہبی پہلو
اردو خطاطی کا ایک خاص روحانی پہلو ہے، کیونکہ اسے قرآن مجید کی آیات، دعاؤں، اور اسلامی عبارات کی خوبصورت پیشکش کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ خطاطی میں موجود نظم اور ترتیب ایک روحانی سکون اور تاثیر پیدا کرتی ہے۔
جمالیاتی اظہار
اردو خطاطی ایک فن ہے جس میں جمالیاتی تخلیق کی بے شمار امکانیں ہوتی ہیں۔ الفاظ کے اشکال، ان کی نوعیت اور ان کے بیچ کی گنجائشیں خطاطی کو بصری طور پر ایک آرٹ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ حروف کی موٹائی، توازن، اور زاویہ ایک منفرد شکل اختیار کرتے ہیں، جو ہر نظر کو مختلف زاویے سے جاذب بناتا ہے۔
اردو فن خطاطی کے مختلف اسالیب
اردو خطاطی کے مختلف اسالیب اور انداز فنون میں تنوع پیدا کرتے ہیں
نستعلیق
اردو میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا اور معروف رسم الخط ہے۔ اس میں حروف ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور خط کی شکل بہت نرم اور خوبصورت ہوتی ہے۔ یہ ادب اور شاعری کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ رسم الخط ہے۔
نسخ
یہ رسم الخط زیادہ سیدھا اور صاف ہوتا ہے اور بچوں کی کتابوں اور عام چھپائی کے کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کو سیدھا اور واضح لکھا جاتا ہے، جس سے پڑھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
دیووانی
دیووانی رسم الخط زیادہ پیچیدہ اور مزین ہوتا ہے، جو مغل دور میں مقبول ہوا۔ اس میں الفاظ میں خوبصورتی اور آرائش کے ساتھ جڑت ہوتی ہے، اور یہ زیادہ تر خط و کتابت اور رسمی دستاویزات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
ثلث
یہ ایک زیادہ مزین اور پیچیدہ انداز ہے، جس کا استعمال مسجدوں، دیواروں، اور اہم مذہبی دستاویزات میں کیا جاتا ہے۔ اس میں حروف کی شکل پیچیدہ اور عمدہ ہوتی ہے۔
اردو خطاطی کا تجزیہ اور اثر
اردو فن خطاطی کا تجزیہ کرتے وقت اس کے اثرات اور نفسیاتی اثرات پر بھی غور کیا جاتا ہے
اردو خطاطی کی خوبصورت شکل انسان کے دماغ اور دل پر ایک خاص اثر ڈالتی ہے۔ حروف کی روانی، ان کی ہم آہنگی اور توازن انسان کو سکون اور سکون کی حالت میں مبتلا کرتے ہیں۔ یہ فن روحانی سکون، محبت اور تخلیقی آزادی کی علامت بن جاتا ہے۔
سماجی اثرات
اردو خطاطی کی نمائش اور فنی حیثیت سے عالمی سطح پر اس کا اہم مقام ہے۔ مختلف نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے اردو خطاطی کو عالمی سطح پر پذیرائی ملتی ہے، جو اس کے فروغ کا سبب بن رہی ہے۔
تخلیقی اظہار
یہ فن نہ صرف ایک سادہ لکھائی ہے بلکہ ایک تخلیقی اظہار کا ذریعہ بھی ہے۔ خطاط اپنے فن میں تخلیقی تجربات کو اجاگر کرتا ہے اور اس میں رنگ، بناوٹ، اور توازن کا خاص خیال رکھتا ہے۔
اردو خطاطی کا مستقبل
اردو فن خطاطی کا مستقبل روشن ہے، خاص طور پر اس کے جدید دور میں۔
ڈیجیٹل خطاطی
جدید ٹیکنالوجی کے اثرات نے اردو خطاطی کو نئی شکل دی ہے۔ آج کل مختلف کمپیوٹر سافٹ ویئر اور فونٹس کی مدد سے نستعلیق اور دیگر خطوط کو ڈیجیٹل انداز میں تخلیق کیا جا رہا ہے۔ اس سے خطاطی کے شوقین افراد کو نئے مواقع ملے ہیں اور خطاطی کا فن مزید پھیل رہا ہے۔
آرٹ کی نمائشیں
مختلف فنون کی نمائشوں میں اردو خطاطی کو ایک آرٹ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف اس فن کی قدرو منزلت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ نوجوان نسل کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
اردو فن خطاطی ایک ایسا فن ہے جو نہ صرف زبان کے جمالیاتی پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ہمارے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ بھی ہے۔ اس کا تقدس اور اہمیت ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اسے زندہ رکھیں اور اگلی نسلوں تک منتقل کریں۔
اردو فن خطاطی کی ابتدا
اردو فن خطاطی کی ابتدا اسلامی خطاطی اور عربی رسم الخط سے جڑی ہوئی ہے، اور اس کا آغاز اس وقت ہوا جب عربوں نے اسلامی عہد میں خطاطی کے فن کو اہمیت دی۔ برصغیر میں اردو خطاطی کی ابتدا بھی اس خطاطی کے اثرات سے ہوئی، اور یہ ایک طویل تاریخی سفر کا نتیجہ ہے۔
ابتدائی دور اور اسلامی اثرات
عربی اور فارسی خطاطی
اردو خطاطی کا آغاز براہ راست عربی اور فارسی خطاطی سے ہوا۔ جب اسلام برصغیر میں آیا، تو عربی خطاطی کو فروغ ملا، خاص طور پر قرآن کی کتابت اور دینی متون کی نقل کے لیے۔ عربی خطاطی کی سب سے اہم اور مشہور شکل کوفی اور نسخ تھی، جنہیں اردو میں بھی استعمال کیا گیا۔
مغلیہ دور
مغل بادشاہوں کی حکمرانی کے دوران اردو خطاطی کی ترقی میں ایک نیا موڑ آیا۔ مغل دربار میں فارسی اور عربی ادب کا اثر تھا، جس کی وجہ سے فارسی خطاطی کے اسالیب جیسے نسخ اور نستعلیق اردو خطاطی میں شامل ہوئے۔ خاص طور پر نستعلیق رسم الخط کو اردو کی کتابت میں ایک خاص مقام حاصل ہوا، جسے آج بھی اردو خطاطی کا اہم جزو سمجھا جاتا ہے۔
اردو خطاطی کی تشکیل
اردو زبان کی پیدائش 12ویں اور 13ویں صدی میں ہوئی جب مختلف زبانوں جیسے فارسی، عربی، ہندی اور ترکی کا امتزاج ہوا۔ اس دوران اردو کے الفاظ اور اسلوب میں ترقی ہوئی، اور ساتھ ہی اس کے لیے ایک مخصوص رسم الخط کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اس دوران اردو خطاطی کا آغاز ہوا، جس میں فارسی اور عربی خطوط کو اردو کے مطابق ڈھالا گیا۔
نستعلیق کی مقبولیت
مغل سلطنت کے دور میں نستعلیق کو اردو خطاطی کا مرکزی رسم الخط قرار دیا گیا۔ اس رسم الخط کا بنیادی مقصد الفاظ اور جملوں کو خوبصورتی سے اور نرمی کے ساتھ لکھنا تھا، تاکہ وہ بصری طور پر دلکش نظر آئیں۔
اردو خطاطی کا سنہری دور
مغلیہ دور میں خطاطی
مغلیہ دور میں خطاطی کو ایک فن کے طور پر تسلیم کیا گیا اور اس کے فنکاروں کو دربار میں اہمیت دی گئی۔ اس دوران میر علی تبریزی جیسے خطاطوں نے نستعلیق کو بہتر بنایا اور اس کی بنیاد رکھی، جس کا اثر آج تک اردو خطاطی میں موجود ہے۔
اردو ادب اور شاعری کا اثر
اردو ادب اور شاعری کے اثرات نے خطاطی کو ایک نئی جہت دی۔ اردو شاعری کو خوبصورتی سے لکھنے کے لیے خطاطوں نے نہ صرف الفاظ کی جمالیات پر توجہ دی بلکہ شاعری کے اسلوب اور معنی کو بھی سمجھا۔ یہ ایک اہم دور تھا جب اردو خطاطی کو ادب کے ساتھ جوڑا گیا۔
اردو خطاطی کی آج کی شکل
آج کل اردو خطاطی کا فن عالمی سطح پر مقبول ہو چکا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت اسے نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل فونٹس، کمپیوٹر سافٹ ویئر، اور آن لائن وسائل نے اردو خطاطی کو مزید آسان اور قابل رسائی بنا دیا ہے۔ تاہم، روایتی قلم اور روشنائی سے لکھا گیا اردو خطاطی کا جمال آج بھی اپنے رنگ، توازن اور فنکارانہ معیار کے لیے بے مثال ہے۔
اردو فن خطاطی کی ابتدا عربی اور فارسی خطاطی کے اثرات سے ہوئی، اور یہ مغل دور میں اپنے عروج پر پہنچی۔ اس کے بعد اردو ادب اور شاعری کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط ہوا، جس سے اس فن کا رنگ اور بھی نکھر گیا۔ آج اردو خطاطی کا فن ایک منفرد ثقافتی ورثہ بن چکا ہے، جو ہماری زبان اور ادب کی شناخت ہے۔
فن خطاطی اردو زبان کے حسن اور الفاظ کی روحانی تاثیر کو اجاگر کرنے کا ایک بے مثال ذریعہ ہے۔ جب الفاظ کو صرف لکھنے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ ان کو ایک جمالیاتی اور روحانی تجربہ بنایا جائے، تو یہ فن تخلیق ہوتا ہے۔ اردو خطاطی کا ہر حرف، ہر لفظ اور ہر جملہ نہ صرف معنی کو منتقل کرتا ہے بلکہ دیکھنے والے کے دل میں ایک خاص اثر بھی چھوڑتا ہے۔
اردو زبان کا جمالیاتی پہلو
اردو زبان کے حروف کو جب خطاطی کے فن میں ڈھالا جاتا ہے، تو وہ محض الفاظ کی شکل نہیں رکھتے، بلکہ ایک فن پارہ بن جاتے ہیں۔ نستعلیق جیسے اسلوب میں حروف کی لچک اور ان کی خوبصورتی، لفظوں کو ایک نیا جسم فراہم کرتی ہے۔ خطاطی کے ذریعے اردو کی نرم اور مہذب آواز کو بصری شکل دی جاتی ہے، جو نہ صرف زبانی طور پر خوشبو پیدا کرتی ہے، بلکہ دیکھنے والے کے ذہن اور دل پر ایک اثر بھی مرتب کرتی ہے۔
روحانی تاثیر
فن خطاطی کا سب سے بڑا جادو اس کی روحانی تاثیر میں پوشیدہ ہے۔ جب کسی آیتِ قرآن، حدیث، یا کسی شاعر کے اشعار کو خوبصورتی سے لکھا جاتا ہے، تو یہ الفاظ کی مجرد حقیقت سے کہیں آگے بڑھ کر ایک روحانی معنی اختیار کر لیتے ہیں۔ خطاطی میں ہر خط کا باقاعدہ اور اہتمام سے استعمال اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ الفاظ کی اصل روح کو نہ صرف سمجھا جائے، بلکہ اس کی گہرائی میں جا کر اس کی تاثیر کو محسوس کیا جائے۔
اسلامی خطاطی میں تاثیر
خاص طور پر اسلامی خطاطی میں قرآن کی آیات اور دینی عبارتوں کو لکھنا نہ صرف ایک فن ہے بلکہ یہ ایک عبادت بھی تصور کی جاتی ہے۔ ان عبارتوں کی خطاطی میں نہ صرف جمالیاتی پہلو اہم ہوتا ہے بلکہ ان کا روحانی اثر بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ جب ایک خطاط قرآن کی آیت کو لکھتا ہے، تو اس کی ہر سطر میں ایک خاص تقدس اور روحانی سکون کا احساس ہوتا ہے۔
شاعری میں اثر
اردو شاعری کی جب خطاطی کی جاتی ہے تو اس میں شاعر کی تخلیقی روح اور الفاظ کی گہرائی دونوں کا امتزاج ہوتا ہے۔ شاعری کے جمالیاتی اور فلسفیانہ پہلو کو خطاطی کے ذریعے ایک بصری شکل دی جاتی ہے جو نہ صرف نظر کو محظوظ کرتی ہے بلکہ دل و دماغ پر ایک گہرا اثر بھی ڈالتی ہے۔
اردو خطاطی کی جمالیات
اردو خطاطی میں فنکارانہ تخلیق کا ایک خاص حصہ حروف کی گولائی، ان کی لچک، اور ان کے درمیان کا توازن ہے۔ ہر حرف کی ہر منحنی شکل کو اس انداز میں ڈھالا جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آئے، اور یہی ہارمونی اردو خطاطی کی جاذبیت اور اس کی روحانیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ الفاظ کی نرمی اور خوبصورتی کا ایک خاص تاثر ہوتا ہے جو بصری طور پر دل کو سکون اور سکون بخشتا ہے۔
اردو فن خطاطی نہ صرف زبان کا جمالیاتی پہلو ہے بلکہ یہ الفاظ کی روحانی تاثیر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ جب الفاظ خوبصورتی سے لکھے جاتے ہیں، تو وہ ایک جادوئی اثر پیدا کرتے ہیں، جو دیکھنے والے کو نہ صرف معنوں کی گہرائی میں لے جاتا ہے بلکہ اسے ایک روحانی سکون اور لطف بھی فراہم کرتا ہے۔