اشتیاق سعید
سچ ہے کہ بعض لوگ اپنی ساری عمر پاپڑ بیلتے ہی میں گنوا دیتے ہیں، خواہ عمر کے کسی دور میں ہوں بس پاپڑ بیلے جاتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ یہی ان کا مقصد بن جاتا ہے۔۔۔۔۔ تُمھارے پاپڑ بیلنے کا آغاز اُس وقت ہو چُکا تھا جب تُم اپنی زندگی کی اٹھارویں بہار سے لُطف اندوز ہورہے تھے اور تُمھارے سر سے والد کا سایہ ہمیشہ کے لیے اُٹھ گیا تھا۔ گھر میں جو کچھ تھا سب اُن کی تجہیز و تکفین نیز دیگر رسوم پر اُٹھ چُکاتھا اور مرحوم نے اپنے پیچھے آمدنی کا ایسا کوئی ذریعہ نہیں چھوڑا تھا سِوائے بیگہ دو بیگہ قطعہ اراضی کے۔۔۔ بُجز اس کے والدہ اور ایک بہن کی کفالت کی ذِمّہ داری تُم پر آن پڑی تھی۔ ایک تو نا پُختہ عمر دوجے تجربات کا فقدان۔۔۔اِنٹر کے امتحانات کی تیاریاں کرنی تھیں اور گھر کے اخراجات کے لیے کچھ نہ کچھ جتن بھی کرنا تھا۔قسمت سے گاؤں ہی میں دو ٹیوشن مِل گئے اور تُم باقاعدہ طور پر ٹیوشن کرنے لگے تھے۔۔۔ آخِر ٹیوشن سے مِلتاکتنا؟ جو کچھ مِلتا وہ سب والدہ کی دواؤں پر اُٹھ جاتا۔ پھرچار و ناچار تُم ٹیوشن کے ساتھ ساتھ گارا ماٹی کا بھی کام کرنے لگے، جبکہ یہ کام بھی کچھ ایسا نہیں تھا کہ روز بروز مِلتا۔ ہفتہ عشرہ کے ناغہ کے بعد دو چار دنو ں کے لیے میسّر آگیا تو الحمدُلِللّہ!۔۔۔۔۔پھر کافی غور و خوض کے بعد تُم نے زمین کا ایک قطعہ رہن رکھکر ایک سائیکل رِکشا خرید لی۔ رِکشا سے قدرے راحت مِلی۔۔۔ صبح صادِق سے تیسرے پہر تک اُسے تُمھارے ہی گاؤں کا منگلی پاسی چلایا کرتا پھر عصر بعد سے تُم اُسے لیکر قصبے چلے جایا کرتے تھے۔ منگلی سے یومیہ دس روپئے کِرائے کے پاجاتے اور قصبے سے بیس پچیس کی دِہاڑی تُم خود کر لیا کرتے تھے۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ تُم نے تعلیم کا سِلسلہ بھی جاری رکھا۔۔۔۔شاعری کا ذوق جو تمھیں درجہ آٹھ ہی سے تھا اُسے بھی پروان چڑھایا۔ یعنی کہ اب تُم باقاعدہ شعر کہنے لگے تھے۔ یہی نہیں بلکہ تمھارے کلام گاہے بہ گاہے مُلک کے موقر رسائل و جرائد میں بھی شائع ہونے لگے تھے۔شُدہ شُدہ قُرب و جوار کے مشاعروں میں مدعو بھی کیے جانے لگے تھے۔ اس سے بھی کچھ آمدنی کی سبیل نِکل آئی تھی۔ لیکن ضروریات تھیں کہ شیطان کی آنت کی ما نِند بڑھتی ہی جاتی تھیں۔۔۔ دریں اثنا تُم نے بی۔ اے کی ڈِگری حاصل کرلی تھی۔۔۔ مزیدتعلیمی مسافت طے کرنے کا یارا نہ تھا لہٰذاقِسمت آزمائی کی خاطِر تُم بمبئی جا پہنچے۔ اُن دنوں بمبئی میں ترقّی پسند تحریک عروج پر تھی۔۔۔۔ تُم تھے تو رجعت پسند بجُزاِس کے مصلحتاًترقّی پسندوں کے ساتھ ہولیے چونکہ اُنھوں نے وقتی طور پر ہی سہی تُمھاری اقامت اور روزگار کا مسئلہ حل کردیا تھا۔ بس کہ حالات سے تُم وہاں بھی جوجھ رہے تھے ہر چند کہ تمھاری شاعرانہ صلاحیتیں عود کر آئی تھیں۔ناقدین تمھاری صلاحیتوں کے معترف ہونے لگے تھے۔ رفتہ رفتہ تمھارا نام شعر وادب کی دُنیا میں مُستند ہو چلا تھا۔۔۔۔اِس دوران تُم دو دفعہ گاؤں آئے تھے۔ پہلی پاری میں اپنی بہن کوچچا زاد سے منسوب کرگئے تھے۔ دوجی مرتبہ خود رشتہئ ازدواج میں بندھ کر لوٹے تھے پھر سال گذرتے گذرتے تُمھیں مالک ِکونین نے اولادِ نرینہ سے بھی نواز دیا تھا۔۔۔۔ اِس نوید سے تُم اسقدر مسرور ہوئے تھے کہ شعر و شاعری پر توجہ ہی کم کردی اور پاپڑ بیلنے کا عمل غالباً دو چند کر دیا تھا چونکہ تُمھیں بیوی کی آشائش نیز اولاد کی بہتر تربیت کی فِکر لا حق ہو گئی تھی اور تُم یہ قطعاً نہیں چاہتے تھے کہ تمھارے بعد تمھاری اولاد کو بھی وہی کچھ بھُگتنا پڑے جو کچھ تُم نے بھُگتا ہے۔ پھر تُم زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کی تگ ودو میں ایسے پڑے کہ خود فراموشی کے شکار ہو بیٹھے۔ حتیٰ کہ تُم نے اپنی تمام فنّی و شعری صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیا۔۔ شعر کہنا تو کُجا ادبی رسائل و جرائد کا مطالعہ تک ترک کردیا۔ اس بابت ساتھیوں نے کئی ایک دفعہ تمھیں سمجھایا بھی۔۔۔ قائل بھی کرنا چاہا، لیکن تُم نے اُن کے کہے پر کان نہ دھرا بس اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔ کیونکہ تمھارے نزدیک ادب کی بہ نِسبت عملی زندگی میں پاپڑ بیلنا زیادہ سود مند تھا۔ حالانکہ تُمھارے ساتھی بھی کوئی آسودہ حال نہ تھے۔ وہ بھی تمھاری ہی طرح حالات سے جوجھنے والوں میں سے تھے، تاہم اپنی ادبی حیثیت ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔
با لآ خِریاروں نے جب یہ محسوس کر لیا کہ تُم شعر وادب کی محفلوں سے کنارہ کشی کے ساتھ ساتھ احباب سے بھی بیگانگی برتنے لگے ہو تو ایک روز سبوں نے مِل کر تمھاری حِصار بندی کردی اور تُم پرطعن وتشنیع کی وہ یلغار کیے کہ الاماں!۔۔۔ تُم اُن کے اِس کاروائی سے کچھ ایسے کبیدہ خاطِر ہوئے کہ راتوں رات وہ محلّہ ہی چھوڑ دیا اور ایک دور اُفتاد محلّے میں جا بسے۔۔۔ نئے محلّے کی رہائش نے تمھیں جلد ہی فیضیاب بھی کیا کہ یہاں تُمھارا ایک دور پار کے رشتہ دار سے تعارف ہوگیا جوکویت ایمبیسی میں ملازم تھا۔۔ اُس کے توسط سے تُم خلیج ممالک میں سے کہیں جانے کا چکّر چلانے لگے اور ماہ دیڑھ ماہ کے عرصہ ہی میں تُم کویت پہنچ گئے۔۔۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمھاری عمر کے کُل اٹھارہ برس کویت نے جذب کرلیے۔ حالانکہ تُم اس دوران ہر تین برس پر ماہ دیڑھ ماہ کے لیے وطن آتے رہے اور پھر چھُٹیاں گذار کر لوٹ جاتے۔ بے شک! تمھیں اپنی اس انتھک محنت کا ثمرہ بھی مِلا۔۔۔ دولت تمھاری ڈیوڑھی کی لونڈی بن گئی۔ مگر افسوس! گھر کی آبرو کسی اور در پہ سر خم کرنے لگی تھی۔ ہاں!۔۔۔ تُمھاری شریک ِ حیات جس کی آسائشوں کی خاطِر تُم نے اپنے ذوق کا خون کیا تھا نیز اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر پرائی دھرتی پر غلامی کے عذاب سے گذرتے رہے تھے،وہ تمھاری عدم موجودی میں، تمھاری ناموسی کا کچھ پاس کیے بغیر تمھارے ہی ایک قریبی رشتہ دار کے دامِ عشق میں اُلجھ گئی تھی۔بیوی کی عاشقی کا قصّہ زبانِ زد ِخاص و عام ہوکر جب تُم تک پہنچا تھا تو تمھارے قدموں تلے سے زمین کھِسک گئی تھی۔۔ تُم عجب مخمصے میں پڑ گئے تھے۔ علاوہ اِس کے آخِر کر ہی کیا سکتے تھے۔ کیونکہ تُم از خود اُسکی اس کجروی کے ذِمّہ دار تھے۔۔۔ تُم حصولِ دولت میں اس قدر غلطاں و پیچاں ہوگئے تھے کہ تمھیں ازدواجی تقاضوں کا ہوش تک نہ رہا تھا۔ دریں صورت اُس کا یو ں بہکنا فطری امر تھا۔ اس لحاظ سے تُم بیوی کو فارغ خطی دینے سے رہے تھے۔ یو ں بھی ایسا کرنا تُمھارے نزدیک تین لاکھ روپؤں کا خسارہ نیز زندگی کی دوڑ میں پانچ برس پچھڑ جانے کے مترادِف تھا۔ لہٰذا تُم کچھ ایسا کر گذرنے کی جستجو میں تھے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے۔ آخرش کافی غور و فِکر کے بعد تُم نے اُس رقیبِ روسیاہ کو ویزا بھجوا کر کویت بُلوا لیا اور مطمئن ہوگئے کہ’’نہ رہے بانس نہ بجے گی بانسری“ شاید تُم یہ بھول بیٹھے تھے کہ جہاں بنسواڑی ہو وہاں ایک بانس کی کیا حقیقت؟ بانسری کو بہر حال بجنا تھی اور وہ پوری لئے کے ساتھ بج رہی تھی۔
پھر جب تُم تیسری مرتبہ تعطیلات پر وطن آئے تھے تب تمھیں گھر کے اطراف کسقدر بنسواڑیاں پھیل چُکی ہیں دِکھائی دیں۔ تُم تردّد میں پڑ گئے تھے کہ اِن بنسواڑیوں کا صفایا کیونکر ممکن ہوسکے گا؟ تُم میں اتنا بُوتاتو تھا نہیں کہ انھیں اُکھاڑ پھینکتے۔اِس کے بر خِلاف تُم خود اِن بانسوں سے خوف زدہ تھے کہ کہیں وہ بانسری کی بجائے لٹھ بن کر تُم پر ہی نہ بجنے لگیں۔ پھر تو تُمھارے وجود میں خوف کی اتنی لہریں پیوست ہوئیں کہ تُم میں اور خوف میں تضاد ہی نہ رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے خوف کی لہریں سیت لہر میں تبدیل ہوگئیں۔۔تُم ٹھٹھرنے لگے تھے۔ دانت ایسے بج رہے تھے جیسے پوس ماگھ کے جاڑوں میں بجتے ہیں گو موسم گرمی کا تھا۔کھڑی دوپہری میں تُم اپنے تاڑوں والے کھیت میں تھے جس میں اوکھ کی پیڑی کھڑی تھی۔ پمپنگ سیٹ کا ڈیزل انجن چل رہا تھا۔۔ ٹھنڈا ٹھنڈا شفّاف پانی پیڑی کو سیراب کر رہے تھے۔ رکھوالے کو کسی کام سے تُم نے بازار بھیج رکھا تھا۔ فی الوقت کھیتوں نیز پمپنگ سیٹ کی نِگرانی تمھارے ذِمّہ تھی۔ بہر صورت تمھیں اس حال میں جو کوئی دیکھ لیتاتو یقینا وہ یہی خیال کرتا کہ تُم پر کسی بزرگ پیر کی سواری ہے یا کہ تُم ہوا بتاش کی زد میں آگئے ہو۔
جِسم کو جھُلسا دینے والی لُو چل رہی تھی اورتُمھاری ٹھٹھرن تھی کہ بڑھتی ہی جارہی تھی۔ جبکہ ذہن مسلسل سوچ رہا تھا کہ سیوان میں ٹھٹھرن کا مداوا کیونکر ہو؟ یہاں اوڑھنا بچھونا تو ہے نہیں کہ اوڑھ لپیٹ کے کہیں پڑ رہیں۔۔یک بہ یک جانے کیسے ایک حکیمی ضابطہ تمھارے ذہن میں کوندا تھا کہ سردی سردی کو مارتی ہے۔پھر تو تُم لمحہ بھر بھی ضائع کیے بِنا پمپنگ سیٹ کے حوض میں جا کودے اور تا دیر خود کو پانی میں ڈُبوئے رکھا۔ جب باہر آئے تھے تو حیرت انگیز طور پر تمھاری ٹھٹھرن جاتی رہی تھی، مگر خوف ذہن پر اب بھی مسلّط تھا اور تُم اسی حکیمی ضابطے کی رُو سے سوچنے لگے تھے کہ جب سردی سردی کو زائل کرسکتی ہے تو کیوں نہ خوف کو خوف سے رفع کیا جائے! اور تُم مارے خوشی کے اُچھل پڑے تھے۔۔۔پھر تو تُمھیں جب بھی موقع مِلتا بیوی کو بنسواڑی میں چُڑ یلوں اور پِچھل پائیوں کی موجودی کے واقعات سُنا سُنا کر ہراساں کرنے لگے تھے۔ نتیجتاً بیوی سہمی سہمی سی رہنے لگی تھی۔۔۔ بانسوں یا بنسواڑی کے آس پاس آنا جاناتو درکناروہ اپنے سائے سے بھی بِدکنے لگی تھی۔۔۔۔۔ تُم اپنے اس تجربے کی کامیابی پر بے حد نازاں تھے تاہم ذہن میں کہیں نہ کہیں خدشہ کی چیونٹیاں بھی رینگتی معلوم ہوتی تھیں۔ اس کے پیش ِ نظر تُم نے بنسواڑی کے اطراف نرکُل کی باڑھ لگوادی تاکہ بیوی اور بنسواڑی کے درمیان حدّفاصِل قائم رہے۔پھرحیرت انگیز طور پر بنسواڑی سے ایک ایک کر بانس کم ہونے لگے۔ حتیٰ کہ چند ہی دِنوں میں بنسواڑی کا وجود عنقا ہوگیا اور تُم نرکُل کی موجودی میں بیوی اور بانسوں سے پوری طرح مطمئن ہوگئے۔۔۔۔ تمھاری چھٹیاں بھی اختتام پر تھیں۔ چنانچہ تُم پورے اطمینان کے ساتھ بیوی اور بیٹے سے جُدا ہو کر اپنے مستقر پر لوٹ گئے۔
تمھیں گئے ابھی ہفتہ بھی نہ گذرا تھا کہ بنسواڑیوں کا وجود بتدریج بحال ہوتا گیا تھا۔ مگر بانس حیران تھے کہ وہ بانسری کیوں نہیں بن پا رہے ہیں۔۔۔۔ جو کسی طرح بانسری بن بھی گئے تھے اُن کا بجنا محال تھا، البتّہ نرکُل علی ا لاعلان پیپیری بن کر بج رہے تھے۔ ٭ ٭ ٭
Ishtiyaque Saeed
B-01, Mira Paradise CHS., Geeta Nagar Phase-II, Balaji Chowk, Mira Road-401107 (Thane)
E-mail: ishtiyaquesaeed@rediffmail.com