گوشہء انٹر ویو
انٹر ویو: محمد احمد شاہ
(صدر آرٹس کونسل کراچی، پاکستان)
حنا خراسانی رضوی
نمائندہ ورثہ، سویڈن
السلام علیکم و آداب عرض ہے
اسکاٹ لینڈ کے مورّخ و فلسفی تھامس کارلائل (۱۷۹۵۔۱۸۸۱) کا ماننا ہے کہ ” انسان کا مقصد عمل ہے، محض سوچ نہیں، خواہ وہ کتنی ہی بلند کیوں نہ ہو” ۔
قارئینِ گرامی! اسی بات کے پیشِ نظر ہم اس شمارے کے اوراق پر آپ کی ملاقات آرٹس کونسل کراچی کے صدر جناب احمد شاہ صاحب سے کروا رہے ہیں جو سطورِ بالا میں بیان کیے گئے تھامس کارلائل کے قول کی عملی تصویر ہیں۔ اور احمد شاہ صاحب کے بارے میں یہ گواہی کسی شخصی اظہار کی محتاج نہیں بلکہ وہ ادارہ خود مصدِّق ہے جو احمد شاہ صاحب کی سرپرستی میں اپنے مقاصد کے حصول کی راہ پر نہایت کامیابی سے رواں دواں ہے۔
احمد شاہ صاحب آرٹس کونسل کراچی کے پہلے باقاعدہ صدر منتخب ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔ آپ نے بطورصدر اپنی صلاحیتوں سے آرٹس کونسل کراچی کو نہ صرف قومی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک منفرد ادبی، فنی اور ثقافتی مرکز کی پہچان دی ہے۔ آپ کی قیادت میں ادارے کے زیرِ انتظام، تھئیٹر، رقص اور موسیقی کے فروغ کے ساتھ ساتھ ادبی محفلیں، اردو کانفرنسیں اور عالمی ثقافتی میلوں کا تسلسل سے انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن کی بدولت ان شعبوں سے منسلک افراد، خصوصاً نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے اور آگے بڑھنے کے بہترین مواقع میّسرآرہے ہیں۔ احمد شاہ صاحب کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارہ امتیاز اور ہلالِ امتیاز جیسے قومی اعزازات اُن کے نام کیے گئے ہیں۔
السلام علیکم احمد شاہ صاحب! ورثہ میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔
احمد شاہ صاحب۔۔۔ وعلیکم السلام اور شکریہ۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ احمد شاہ صاحب، گفتگو کی ابتدا یوں کرتے ہیں کہ آپ طویل عرصے سے آرٹس کونسل میں منصبی ذمہّ داریاں نبھا رہے ہیں لیکن یہ بتائیے کہ شروعات کب اور کیسے ہوئی؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ میں ۱۹۷۹ء میں جب یہاں آیا تھا تو صورتحال اتنی اچھی نہیں تھی۔ انفرا اسٹرکچر بھی نہیں تھا، فنڈ بھی نہیں تھا اور کوئی کام بھی نہیں ہورہا تھا۔ ایک dormant (غیر فعال) سی باڈی تھی، مطلب بند ادارے کی طرح کی سی صورتحال تھی۔ تو ہم بہت سے لوگ جو یونیورسٹی سے پڑھ کے نکلے تھے، ہمارا خیال تھا کہ کراچی ایک عظیم الشان شہر ہے، اس کا اتنا بڑا ایک ثقافتی ورثہ ہے، لوگ یہاں پورے ہندوستان سے ہجرت کر کے آئے ہیں، پاکستان بھر سے بھی بہت بڑے بڑے مصّور، شاعر، ادیب اور فنکار یہاں آئے لیکن کوئی ایک بھی ایسا فعال ادارہ نہیں تھا جو اُن کی نمائندگی کرسکتا۔ تو ضرورت تھی کہ کوئی ایک ادبی ثقافتی مرکز قائم کیا جائے تو اس سلسلے میں آگے آکے ہم نے کام شروع کیا اور بڑی جدوجہد کی۔
آرٹس کونسل کراچی ایک ڈیموکریٹک ادارہ ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے پرانا ثقافتی ادارہ ہے۔ ۱۹۵۴ء میں یہ ادارہ قائم ہوا۔ اس وقت تک پاکستان میں کوئی ثقافتی ادارہ نہیں تھا اور اس کا نام رکھا گیا آرٹس کونسل آف پاکستان۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کراچی اس وقت دارالخلافہ تھا پاکستان کا۔ تو پہلا جو ثقافتی ادارہ بنایا گیا وہ کراچی میں بنایا گیا، پورے پاکستان کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے۔ تو یہ سلسلہ چلتا رہا اور بہت اچھا رہا۔ یہ ادراہ شروع میں بہت عمدہ تھا۔ یہاں کی گورننگ باڈی میں شان الحق شامل ہوئے، صادقین رہے۔ فیض احمد فیض یہاں تین سال تک ، ۱۹۶۶ء سے ۱۹۶۸ء تک نائب صدر رہے۔ بیگم عابدہ سلطان جو بھوپال کی پرنسس تھیں، وہ اس کی پہلی سربراہ تھیں۔ تو بہت اچھا چلتا رہا ضیاء الحق صاحب کے زمانے تک۔ اور جب وہ آئے تو انہوں نے ساری پابندیاں لگا دیں، تھئیٹر پہ، موسیقی پہ اور فلموں پہ۔ اُس وقت کراچی شہر میں سو سے زیادہ اسکول تھے موسیقی کے اور تھئیٹر کے۔ سارے کے سارے بند ہوگئے۔ سنیما بھی بند ہوگئے۔ اس کا اثر آرٹس کونسل پر بھی پڑا۔ تو اس کے بعد جب دوبارہ سے سلسلہ شروع ہوا تو اس سے یہ ادارہ سنبھل نہیں پایا۔ پھر ہم لوگوں نے آکے کوشش کی اور انیسواں سال ہے میرا کہ میں اس ادارے کا سربراہ ہوں۔ تو یہ جتنی آپ عمارتیں، آڈیٹوریم، گیلریاں اور لائبریریاں اور جتنا انفرااسٹرکچر اور جتنی کانفرنسیں، اُردو کانفرنسیں، میوزک فیسٹیول، تھئیٹر فیسٹیول ، ڈانس فیسٹیول، یوتھ فیسٹیول، پاکستان لٹریچر فیسٹیول اور ورلڈ کلچرل فیسٹیول، دیکھ رہی ہیں، میں اس کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کے ایک activism (سرگرمی) میں لے کے آیا۔ اس کوintellectually (فکری ) اور physically (جسمانی) بھی ) upgradeبہتر) کیا۔ یہاں سہولتیں پیدا کیں۔ چار اکیڈمیاں قائم کیں، موسیقی کی، تھئیٹر کی، رقص کی اور مصّوری کی۔ اس وقت ان اکیڈمیوں میں پانچ سو سے زیادہ نوجوان پڑھتے ہیں۔ ہمارے جو نوجوان یہاں سے پاس آؤٹ ہوتے ہیں وہ بہت ہی نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ہمارے مصّور جو یہاں سے نکلتے ہیں، پاکستان میں کسی اسکول میں اس لیول کے کوئی مصّورنہیں ہیں۔ اُن کا کام ملک کی ساری بڑی گیلیریوں میں بھی ملتا ہے اور ملک سے باہر بھی ان کا کام جارہا ہے۔ تو اس طرح ایک معیاری تعلیم بھی شروع کی، فائن آرٹ اور پرفارمنگ آرٹ کی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بہت خوب، شاہ صاحب جب صدارت سنبھالی تو اس وقت کون سا کام سب سے زیادہ آزمائش طلب یا یوں کہیے کہ چیلنج لگا؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ پہلی بات تو یہی کہ میں پہلا صدر ہوں اس ادارے کا۔ اس سے پہلے یہاں صدر نہیں ہوتا تھا اور جو کمشنر ہوتے تھے کراچی کے وہ اپنے بنائے ہوئے عہدے پر صدر ہوتے تھے۔ اس آئین کے تحت جو منتخب آدمی ہوتا تھا، اس کو نائبِ صدر کہتے تھے۔ اس لیے فیض احمد فیض بھی نائبِ صدر رہے۔ تو ہم نے تو پہلے آئین کو تبدیل کیا اور اس میں ہم نے ایک پوسٹ بنائی منتخب صدر کی۔ اس کے بعد جو الیکشن ہوا اس میں، میں پہلا صدر بنا۔ تو اس سے پہلے کوئی صدر نہیں تھا۔ اور جو آپ نے پوچھا نا کہ آزمائش اور چیلینج کا تو چیلینج ویلینج کا تومجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ مجھے تو یہ بہت اچھا لگتا ہے۔ مجھے بالکل بھی زندگی میں جُمود پسند نہیں۔ میں چاہتا ہوں چیلنجز آئیں، مشکلیں آئیں، مسائل ہوں تو پھر میں زیادہ بہتر پرفارم کرتا ہوں۔ جتنے بھی مشکل حالات ہوں تو مجھے اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اور یہ مشکلات ہی تو تھیں کہ کچھ وسائل ہی نہیں تھے، زیرو تھے۔ سال کے دس لاکھ روپے گرانٹ تھی تو ایسے میں آپ کیا کریں گے؟ تو میں نے اعلان کیا کہ اگر ہم جیت گئے تو عالمی اُردو کانفرنس کریں گے۔ تو کردی بغیر پیسوں کے۔ یہ چیلنج تھا لیکن وہ پورا ہوگیا۔ اور وہ کانفرنس صرف پاکستان کی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی اُردو کانفرنس تھی۔ اس کے بعد جتنی کانفرنسیں ہم نے کی ہیں، اتنی بڑی کبھی نہیں ہوئی۔ وہ سات دن کی کانفرنس تھی اور اس میں ہندوستان کے بھی بارہ ٹاپ اسکالر، جتنوں کے بھی آپ نام جانتی ہیں اُردو لٹریچر کے، سب کے سب اُس پہلی کانفرنس میں موجود تھے۔ دنیا بھر سے بھی لوگ سفر کر کے یہاں آئے تھے۔ نامساعد حالات تھے تو ہمارے لوگوں نے اپنے گھروں پہ مہمانوں کو ٹہرایا۔ کچھ لوگ خود ٹکٹ لے کے آئے، کچھ ہمارے دوستوں نے وسائل مہیا کیے تو یہ چیلنج تھا لیکن وہ پورا ہوگیا۔
میں سمجھتا ہوں کہ آپ جب نیک نیتی سے لگن اور جذبے کے ساتھ کام کرتے ہیں نا تو resources (وسائل) اور لوگوں کا ساتھ ، اس عمل میں سب کچھ آپ کے پاس آتا جاتا ہے۔ لیکن ساتھ یہ بھی کہ آپ میں قوّتِ فیصلہ ہوتو۔ اگر پہلے ہی آپ کو اندیشے گھیر لیں کہ میں یہ کروں تو صحیح نہیں ہوگا کہ پیسے ہی نہیں ہیں، میرے پاس تو وسائل ہی نہیں ہیں، پھر تو آپ کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ تو بس! ہم نکلے باہر تو مدد کی لوگوں نے۔ مدد کیا کی، ساتھ دیا۔ اُن کو تھا کہ بھئی یہ ہماری زبان ہے، اس کی ایک تہذیب ہے اور ایک آدمی ایسا آیا ہے جو کچھ کرنا چاہتا ہے تو اس کا ساتھ دیں۔ تو بہت لوگوں نے ساتھ دیا اور ہم نے پہلی اُردو کانفرنس کردی۔ پھر تو ہم پھنّے خان ہوگئے۔ دنیا کی پہلی عالمی اُردو کانفرنس اور اتنی بڑی کہ پوری دنیا میں اس کی گونج ہوئی تو آرٹس کونسل کی بھی شناخت بننی شروع ہوئی اور میری بھی شناخت بننی شروع ہوگئی۔ پھر اُسی سال ہم نے اتنا ہی بڑا ایک انٹرنیشنل میوزک فیسٹیول بھی کردیا۔ اس میں سارا کلاسیکل اور ماڈرن یعنی سارے بڑے لوگ، فتح علی خان صاحب، مبارک علی خان، راحت فتح علی، طاہرہ سیّد اور غلام علی، سب تھے۔ وہ بھی ہوگیا۔ لوگ کہتے تھے کہ پیسے نہیں ہیں تو کیسے کرلیتا ہے، تو ہوجاتا ہے اگر آپ کرنا چاہیں۔ تو ایسی کوئی مشکلیں نہیں تھیں۔ مشکلیں بعد میں آتی رہیں۔ کچھ پولیٹیکلی، جب یہاں پر لسانی بنیاد پر جو سیاست ہورہی تھی۔ اُس زمانے میں کافی مجھے پریشان کیا گیا اور کوشش کی گئی کہ یہاں سے ہمیں نکال دیا جائے، دھونس سے دھمکیوں سے لیکن ہم نے الیکشن لڑے اور الیکشن جیتتے رہے۔ ہم ساری قوتّوں کے خلاف بھی الیکشن جیتے جو بہت طاقتور تھیں اس زمانے میں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ یہ بتائیے کہ آرٹس کونسل کراچی، جو بین الاقومی سطح کے کلچرل فیسٹیول منعقد کررہا ہے، وہ دنیا میں کس حد تک نمایاں پہچان رکھتا ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ یہ تو دنیا کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے جو ابھی ہم نے ختم کیا ہے نومبر دسمبر میں۔ یہ چالیس دن کا فیسٹیول تھا۔ اس میں ۱۴۲ ملکوں کے فنکار آئے ہوئے تھے اور بہ یک وقت پانچ فیسٹیول ایک ساتھ چل رہے تھے۔ اس میں میوزک بھی تھی، تھئیٹر بھی تھا ، فلم بھی رقص بھی اور مصوری بھی۔ تو اگر دیکھا جائے تو ان پانچ فیسٹیول کو میں نے یکجا کردیا۔ تو یہ دوسرا فیسٹیول تھا۔ پچھلے سال جب ۲۰۲۴ء میں ہم نے کیا تھا تو ۴۴ ملکوں نے شرکت کی تھی اور ۲۰۲۵ء کے ہمارے فیسٹیول میں ۱۴۲ ممالک آئے۔ دنیا کے کسی کونے میں اور نہ کسی خطّے میں کہیں اتنا diversified (متنوع) کوئی فیسٹیول ہوا ہے۔ دنیا میں فیسٹیول ہوتے ہیں، وہ یا تو میوزک کا ہورہا ہوتا ہے یا پھرbiennale ہورہا ہوتا ہے فائن آرٹ کا یا کوئی رقص کا فیسٹیول تین دن کا ہورہا ہوتا ہے یا تھئیٹر فیسٹیول ہوتے ہیں، لیکن اتنے طویل دورانیے کا کوئی فیسٹیول نہیں ہوا ہے اور پھر ایک ساتھ پانچ ملا کے ایک فیسٹیول کرنا، یہ تو دنیا کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایسے پروگرام ملک کی ثقافتی شناخت کے لیے ضروری ہیں اور اس کا دائرہ وسیع کرنا چاہیئے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ سمجھتا کیا ہوں، میں تو کرتا ہوں۔ میں تو پیدائشی طور پر یہ بات سمجھ گیا تھا کہ ملک کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو اس کی ثقافت بچا سکتی ہے، اس کا ادّب بچا سکتا ہے، اس کی مصّوری بچا سکتی ہے کیونکہ اس سے ایک گداز پیدا ہوتا ہے۔ اس سے دہشت گردی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ معاشرہ اتنا زیادہ تشّدد کی طرف مائل ہے، اخلاقی قدریں ختم ہوتی جارہی ہیں تو اس کا حل تو ثقافت کے پاس ہے۔ بندوق یا توپ کے پاس تو اس کا حل ہی نہیں ہے۔ اور ہم نے تو یہ ثابت کیا اتنے سالوں میں اور اب سب ماننا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم نے سفر کیے۔ ہم فیسٹیول کو یہاں سے لاہور لے کے گئے، کشمیر لے کے گئے، کوئٹہ لے کر گئے، ملتان لے کے گئے، سکھر لے کے گئے اور وہاں دو بار فیسٹیول کیا۔ تو ہم تو مختلف شہروں میں گئے کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے مختلف صوبوں کی مختلف زبانیں، جو یہاں بولی جاتی ہیں، ان کے جو لوگ ہیں اُن کے لیے کوئی ایک ایسا ادارہ یا کوئی ایسا سرکاری محکمہ نہیں ہے کہ جو اُن کو کسی ایک مرکز پر جوڑتا ہو فیڈریشن کو مضبوط کرنے کے لیے اور ایک پاکستانی بیانیہ تشکیل دینے کے لیے۔ تو ہم نے تو اس پہ بہت کام کیا اور ہم بہت زیادہ کامیاب بھی ہوئے۔ اس کے بعد ہم نے جب یہ انٹرنیشنل فیسٹیول کیا تو پاکستان دنیا کی ثقافت کے نقشے میں تو کہیں پہ ایک ہندسے کی شکل میں بھی نہیں تھا۔ ہمارے اس فیسٹیول سے تو lead (قیادت) کرنا شروع ہوگیا دنیا بھر میں۔ اب Broadway (براڈ وے) پر بھی لوگ اسے جانتے ہیں اور West End (ویسٹ اینڈ) پر بھی۔ یہ ہوا کہ آرٹسٹ یہاں آئے اور پھر جب وہ واپس گئے تو انہوں نے ہماری بہت پبلسٹی کی۔ اور اب تو بے شمار آرٹسٹ ، حکومتیں اور کلچرل ادارے ہم کو خود approach (رابطہ) کررہے ہیں۔ ہمارے بچّے بیٹھے ہوئے رات دن کام کررہے ہیں اس سال کے فیسٹیول کے اوپر۔ یہ پورے سال کا کام ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ یہ تو آپ نے نوجوانوں کو بہترین راہ دکھائی ہے اور ہمارے یہاں ضرورت بھی ہے نوجوان طبقے پر توجّہ دینے کی۔
احمد شاہ صاحب۔۔۔ جی، میں نے تو نوجوانوں کو، بزرگوں کو، بوڑھوں کو، عورتوں کو اور بچّوں کو سبھی کو راہ دکھائی۔ راہ تو ایک ہی ہے، اس کے اوپر جو بھی چلے۔ لیکن میرا خود بھی نوجوانوں کے ساتھ سب سے زیادہ کنکشن ہے، ننانوے فیصد۔ میرے فیسٹیول میں بھی زیادہ وہی شریک ہوتے ہیں اور آگے چونکہ یہ ملک اور دنیا بھی انہی کو ہی چلانی ہے تو ہماری توجّہ بھی انہی پر زیادہ ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اور نوجوان آپ کو کیسا ردِ عمل دیتے ہیں؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ وہی تو دیتے ہیں مجھے رسپانس۔ پورے پاکستان کے نوجوان، میں کہیں بھی چلا جاؤں، گوادر چلا جاؤں، کوئٹہ چلا جاؤں، ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں۔ ہاں! سب سے زیادہ سمجھتے ہی وہی ہیں اور میری امید بھی انہی کے ساتھ وابستہ ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ مستقبل کے لیے آرٹس کونسل کا وِژن کیا ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ آرٹس کونسل کا کوئی ایسا وِژن نہیں ہے کہ روز کوئی ایک SRO، باضابطہ نو ٹیفیکیشن نکالنی ہے۔ Arts Council is a permanent Institution (آرٹس کونسل ایک مستقل ادارہ ہے) اور یہ totality (مکمل اور ہر زاویے) میں ۳۶۰ ڈگری میں کام کرتا ہے۔ آرٹس کونسل خواتین کے حقوق پر بھی کام کرتا ہے، مزدوروں کے حقوق پر بھی کام کرتا ہے، یہاں تک کہ ٹرانس جینڈر کے حقوق کے لیے بھی کام کرتا ہے۔ ہم سماجی مسائل کے اوپر بھی کھل کے بات کرتے ہیں اور آرٹ اور کلچر تو ہماری بنیادی ذمّہ داری ہے۔ تو اس سلسلے میں یہاں پہ بیسیوں، سینکڑوں کتابوں کی تقاریبِ رونمائی ہوتی ہیں، کلاسیکل موسیقی کی محفلیں ہوتی ہیں، مصّوری کی نمائشیں ہوتی ہیں اور یہ یہاں کا طریقہ ہے۔ یہ نہیں کہ جیسے OUP ( آکسفورڈ یونیورسٹی پریس) ایک سال میں ایک، تین دن کا اپنی کتابیں بیچنے کے لیے فیسٹیول کرتا ہے یا جیسے بہت سارے مشروم فیسٹیول جن کی growth (بیشی) ہوئی ہے لیکن اُن کے پیچھے کوئی وژن نہیں ہے۔ بس وہ دیکھا دیکھی کررہے ہیں۔ اس میں کچھ اچھا کام بھی ہورہا ہے لیکن بہت سارا run of the mill (انفرادیت سے محروم) کام ہورہا ہے۔ تو میں تو بانی ہوں اس ملک میں۔ مجھ سے پہلے اس ملک کے کسی شہر میں اس طرح کے کوئی فیسٹیول نہیں ہوتے تھے۔ ہم نئے نئے برانڈز بناتے رہتے ہیں۔ ہم خواتین کی کانفرنس بھی کرتے ہیں۔ اس کی بنیاد بھی ہم نے ڈالی اور ہر سال کرتے ہیں اور وہ بھی ۳۶۰ ڈگری پر۔ خواتین کے صحت کے مسائل ہیں یا ان کے حقوق کے مسائل ہیں یا ان کی ایجوکیشن کے مسائل ہیں یا ان کی equality (برابری) کے مسائل ہیں اس پہ بھی ہم بھرپور کام کرتے ہیں۔ تو ہم اس کو جاری رکھیں گے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ احمد شاہ صاحب کیا آرٹس کونسل میں پیش کیا جانے والا آرٹ اور فن ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ بالکل کرتا ہے۔ اگر آپ اپنے آپ کو مہذب معاشرہ کہلانا چاہتے ہیں تو کرتا ہے اور اگر آپ غاروں میں رہنا چاہتے ہیں، جاہلوں کی طرح تو نہیں کرتا۔ میرے معاشرے کی تو کرتا ہے۔ میں نے پہلے آپ کو بتایا کہ ستّر برس پہلے بھی یہاں میوزک کے اور ڈانس کے اسکول تھے۔ یہاں موہن جو دڑو میں کھدائی ہوئی تو ایک ڈانسنگ گرل نکلی ہے۔ پانچ ہزار سال پہلے بھی یہاں کوئی لڑکی ناچا کرتی تھی اور جس طرح آپ کے خون کی گردش جو ہے، رقص کرتی ہے۔ اسی طرح مجنوں، درویش اور Whirling Dervish (دائرے میں رقص کرنے والے درویش) جو مولانا روم کے مزار پہ رقص کررہے ہوتے ہیں تو اس میں کوئی vulgarity (ناشائستگی) کا پہلو تو نہیں نکلتا۔ یہ تو آپ کو زندگی سے جوڑتا ہے۔ تو یہ تو زندگی ہے آپ کے لیے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کھانا کھاتے ہیں آپ۔۔۔ ہاں! یہ تو آپ کا طرزِ زندگی ہے۔ ہم تو کیا، دنیا کا ہر ذی العقل انسان یہ سمجھتا ہے کہ علم اور ادب یہ چیزیں جو ہیں کسی بھی معاشرے کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہیں ورنہ تو وہ مردہ سوسائٹی ہے۔ فرض کریں آپ سے اگر آپ کی یہ جو ثقافتی شناخت ہے، چھین لی جائے تو آپ کیا ہیں؟ آپ کی identity ، شناخت، کیا بچتی ہے؟ کوئی شناخت ہی نہیں آپ کی۔ شناخت ہی آپ کی ثقافت ہے۔ آپ دنیا میں جہاں بھی چلے جائیں، جیسے آپ کپڑے پہنتے ہیں اور جیسے آپ کھانا کھاتے ہیں، ہر چیز آپ کی ثقافت کا حصّہ ہے۔ ثقافت صرف گانا بجانا تو نہیں۔ آپ کی بود و باش، رہن سہن اور گفتگو کا انداز سب اس کا حصّہ ہےاور ہماری زندگی کا طریقہ ہے۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ تنقید اور اختلافِ رائے کو کیسے دیکھتے ہیں آپ؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ اختلافِ رائے تو ہوتی ہے۔ جو کوئی بھی دنیا میں “نہیں” کرنا سیکھتا ہے، اختلاف وہاں سے شروع ہوجاتا ہے اور اسی نہیں سے ہی یہ سارا سفر شروع ہوتا ہے۔ مجھے تو پرواہ ہی نہیں ہے اس کی۔ جب میں سمجھتا ہوں کہ میں صحیح کررہا ہوں تو اس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے کہ ساری دنیا مجھے تنقید کا نشانہ بنائے لیکن میں بے انتہا مشاورت کرتا ہوں۔ میں کوئی عقلِ کُل تو ہوں نہیں۔ جہاں پہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کوئی اور بہتر رائے آرہی ہے، زیادہ بہتر تو میںcollective consciousness (اجتماعی شعور) کو اپنے فیصلوں میں شامل کرتا ہوں۔ سو فیصد مشاورت ہوتی ہے۔ اور یہ دیکھیے کہ کتنی مضبوط گورننگ باڈی ہے بائیس لوگوں کی جس میں بڑے بڑے لوگ ہیں اور ہر فیصلہ ہم آپس میں بیٹھ کر طَے کرتے ہیں۔ اس کے بعد جتنے سبجیکٹ اسپیشیلسٹ ہیں، اپنے اپنے شعبے کے، اُن کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ یہ سب ایسے تھوڑی کوئی آسمانوں سے اتر کر آرہا ہے ، پورا کمیونسٹ اسٹائل میں کام ہوتا ہے۔ تو تنقید اور اختلافِ رائے کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ کیا آپ بیرونِ ملک مقیم فن و ادب سے وابستہ افراد کی ادارے کی کارکردگی سے متعلق تنقیدی رائے کو اہمیت دیتے ہیں؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ اصل میں دیکھیے، میں تو باہر والوں کو بہت زیادہ لفٹ نہیں کراتا۔ آپ مائنڈ نہیں کیجئے گا۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ جی، یہ تو آپ کی رائے ہے۔
احمد شاہ صاحب۔۔۔ اور اس لیے نہیں کراتا کہ وہ سارے کسی تہذیبی وجہ سے تھوڑی گئے ہیں۔ سارے بہتر روزگار کے لیے اس ملک سے ہجرت کر کے گئے ہوئے ہیں۔ اور ہم تو یہاں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم تکلیفیں بھی برداشت کررہے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر سفر کررہے ہیں۔ یہاں، پانی کبھی آتا ہے اور کبھی نہیں آتا، بجلی کبھی آتی ہے کبھی نہیں آتی لیکن پھر بھی یہاں پہ ہم سب مل کر بہت کوشش کررہے ہیں۔ یہاں اچھا ادب لکھا جارہا ہے۔ باہر تو کہیں بھی اچھا ادب نہیں لکھا جارہا۔ اچھا ادب تو یہیں لکھا جارہا ہے۔ زیادہ تر جو لوگ باہر سے آتے ہیں، معاف کیجئے گا، میرے پاس سب سے زیادہ لوگ باہر سے آتے ہیں لیکن اس میں زیادہ تر شوقیہ قسم کے ادیب ہیں۔ ہاں کچھ ہیں مستند ادیب ، وہ اُس وقت بھی مستند تھے جب وہ گئے تھے اور وہی ابھی بھی مستند ہیں، جیسے عشرت آفرین، شاہدہ حسن، سرمد صبہائی اور فہمیدہ ریاض۔ فہمیدہ تو بہت بڑی تھی۔ اُس کے جیسے تو چار لوگ بھی نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے سماج میں صعوبتیں برداشت کیں۔ تو زیادہ تر لوگ جو ہجرت کر کے گئے ہوئے ہیں وہ کسی تکلیف سے نہیں بلکہ بہتر روزگار اور اپنے معاش کے لیے گئے ہیں۔ اور مجھے کوئی اعتراض تھوڑی ہے ان کے جانے پر۔ لیکن وہ ہمارے بارے میں کیا کہتے ہیں اور کیا نہیں کہتے، مجھے اس کی فکر نہیں ہے۔ ہمارا ڈیجیٹل میڈیا کوئی کھولے تو پتہ چلے گا کہ آرٹس کونسل کراچی صرف پاکستان کا ہی نہیں، دنیا کا سب سے فعال ادارہ ہے۔ دنیا میں جتنے بھی اُردو سے محبت کرنے والے سنجیدہ لوگ ہیں، وہ تو آرٹس کونسل کے ساتھ اس طرح سے جڑے ہوئے ہیں کہ مسجدوں میں بھی جمعے کی نماز میں ایک دوسرے سے اُردو کانفرنس کے بارے میں پوچھتے ہیں اور اپنی چھٹیاں پلان کر کے آتے ہیں یہاں سینکڑوں کی تعداد میں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ ابتدا میں آپ نے کہا کہ آرٹس کونسل میں قائم اکیڈمیوں میں پانچ سو کے قریب نوجوان تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ یہ بتائیے کہ ان اکیڈمیوں میں داخلہ دیتے وقت کن امیدواروں کو فوقیت دی جاتی ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ جی ہاں، پانچ سو کے قریب بچّے ہیں اور اُن میں سے زیادہ تر مفت پڑھتے ہیں۔ ٹوٹی ہوئی چپل والے بچّے، جھونپڑوں میں رہنے والے بچّے اس وقت سپر اسٹار ہوگئے ہیں۔ مغربی دنیا کے لوگ اُن کی پینٹنگ خرید کے لے جارہے ہیں۔ میں تو صرف اُس کلاس کے لیے کام کررہا ہوں۔ میں haves (مراعات یافتہ طبقہ) کے لیے کام نہیں کرتا۔ میں have-nots (محروم طبقہ) کے لیے کام کرتا ہوں۔ میں سوسائٹی کا جو پسا ہوا طبقہ ہے، اُن کے بچّوں کے لیے کام کرتا ہوں کیونکہ جن کے پاس سارے وسائل ہیں وہ تو کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں، کہیں بھی جا سکتے ہیں۔ تو میرا دھیان سماج کے اس طبقے کی طرف ہے جن کو ضرورت ہے ہاتھ پکڑوا کے اوپر لے کے آنے کی اور وہی سب سے زیادہ باصلاحیت ہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ اور اکیڈمی میں داخلے کا طریقہ کار کیا ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ وہ بہت آسان ہے۔ ہم صلاحیت دیکھتے ہیں لیکن صلاحیت سے زیادہ ہم شوق دیکھتے ہیں کیونکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ میں بھوک ہے آگے بڑھنے کی تو صلاحیت تو سب ہی کے اندر ہوتی ہے، اس کو nurture (نکھارنا) کرنا پڑتا ہے۔ تو ہم دیکھتے ہیں کہ جس آدمی کو بہت زیادہ شدّت سے شوق ہے یعنیٰ ایک پاگل پن اور جنون کی حد تک شوق ہے تو اُس کو تو ہم ضرور داخلہ دیتے ہیں۔ آگے تو ہمارا کام ہےاس کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور اس کی پرورش کرنا۔ ہمارے پاس بہت اچھی فیکلٹی ہے اور نوّے سے زیادہ ٹیچر ہیں یہاں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ کیا آرٹس کونسل کراچی، بزرگ فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کی فلاح و بہبود کے لیے خاطر خواہ اقدامات کررہا ہے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ جی بالکل ، بہت سارے تو میری گورننگ باڈی میں رہے ہیں۔ حسینہ معین میری گورننگ باڈی میں تھیں، جب انتقال ہوا، فاطمہ ثریّا بجیا تھیں، شفیع محمد شاہ تھے، عابد علی تھے۔ آج بھی منوّر سعید صاحب میرے وائس پریسیڈنٹ ہیں، ساجد حسن گورننگ باڈی میں ہیں، اقبال لطیف ہیں۔ بڑے بڑے رائٹر اور جرنلسٹ ہیں اس میں۔ تو اس ادارے نے آکر اُن کا ہاتھ پکڑا ہے۔ اپنے بزرگوں کی عزّت کرنی سکھائی ہے۔ چاہے وہ ادیب ہوں، چاہے وہ اداکار ہوں اور چاہے وہ گلوکار ہوں۔ جو بھی ہمارے سماج کے بڑے لوگ ہیں، اُن سب کو ہم نے وہ احترام دیا ہے جس کے وہ حقدار ہیں ۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ احمد شاہ صاحب آپ خود بطورِ صدر ادارے کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ میں تو کبھی زندگی میں مطمئن ہوتا ہی نہیں ہوں۔ میں تو بہت زیادہ کو بھی کم سمجھتا ہوں۔ اس سماج کو ابھی مزید کام کرنے کی بہت ضرورت ہے۔ ہمارے یہاں ایسے کم از کم چار پانچ سو ادارے ہونے چاہیئے تھے مگر بدقسمتی سے ہم اکیلے ہیں یا پھر اکّا دکّا بہت چھوٹی سطح پر کوئی کام کررہا ہے۔ یہاں پاکستان میں تو سرکاری اداروں کو جو کام کرنا چاہیئے وہ نہیں کر رہے۔ آرٹس کونسل کراچی واحد غیر سرکاری آرٹس کونسل ہے پاکستان کی۔ باقی ساری آرٹس کونسلیں حکومت کے زیرِ انتظام ہیں۔ اسی لیے آرٹس کونسل کراچی کام کرتی ہے اور باقی نہیں کرتیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ تو اس صورتحال میں آپ آزادی سے اپنی مرضی کا کام کرپاتے ہیں؟ مشکلیں اور رکاوٹیں حائل نہیں ہوتیں راہ میں؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ ہاں! یہاں لبرٹی ہے نا۔ ہم اپنی مرضی کے مالک ہیں۔ ہم کسی سنسر شپ پر یقین نہیں کرتے۔ ہم resist (مزاحمت) کرتے ہیں اور اسی لیے ہم بولڈ چیزیں بھی کر لیتے ہیں۔ سرکاری افسر تو ڈرا ہوا ہوتا ہے۔ اپنی مرضی سے زِیر زَبر کچھ نہیں کرسکتا۔ اور مشکلیں تو آتی رہتی ہیں۔ مجھے بری نہیں لگتیں بلکہ مجھے مزہ آتا ہے مشکلوں سے لڑنے میں۔ میں رونا نہیں چاہتا۔ میں تو اتنا کامیاب آدمی ہوں کہ حکومتِ پاکستان نے مجھے ” ستارہ امتیاز” اور ” ہلالِ امتیاز” دیا۔ مجھے پورے پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں لوگ جانتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر میں ویسٹ انڈیز کے کسی جزیرے پر بھی چلا جاؤں تو وہاں بھی لوگ مجھے جانتے ہیں۔ تو مجھ جیسے ایک مڈل کلاس کے آدمی کو یہ شہرت میرے کام کی وجہ سے ہی ملی ہے۔ میں کوئی ایکٹر یا سنگر تو ہوں نہیں۔ تو میرا رونا تو بنتا ہی نہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو فیل لوگ ہوتے ہیں نا جو زندگی میں کچھ کرنہیں پاتے، وہ آپ کو مجبوریاں بتاتے ہیں، مشکلیں بتاتے ہیں کہ ارے میں تو یہ کرنا چاہتا تھا، پہاڑ توڑنا چاہتا تھا فرہاد کی طرح مگر مجھے تو تیشہ ہی نہیں ملا۔ تو گلہ ہمیشہ ناکام لوگ کرتے ہیں۔ مجھے تو وہ لوگ بھی پسند نہیں جو گلے کرتے ہیں کہ دیکھیں ہمارے یہاں کیا ہورہا ہے۔ میں تو اُن کو اپنے کمرے میں بھی نہیں آنے دیتا ہوں۔ وہ میرے اوپر ایک negativity (منفی سوچ) سوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو رونے گانے والے آدمی سے میں بہت کم ملتا ہوں۔ وہ آدمی کہ جس کے پیٹ میں روٹی ہے یا نہیں ہے لیکن مسکراہٹ چہرے پر سجائے میرے کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ میری نظر میں وہی آدمی ہے جس کے پاس وقار ہے، عزّتِ نفس اور خود داری ہے۔ جیسی بھی مشکلیں اوررکاوٹٰیں ہوں، اگر آپ پہلے سے ہی سرینڈر کر کے شکست مان کے رونا شروع کردیں تو مجھے یہ پسند نہیں۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ بہت اچھی بات کہی آپ نے۔ ہمارے رسالے “ورثہ ” کے لیے آپ کیا کہیں گے؟
احمد شاہ صاحب۔۔۔ جی ہاں، میں جانتا ہوں اس رسالے کے بارے میں بھی اور رئیس وارثی صاحب سے بھی واقف ہوں۔ بہت اچھا کام کررہے ہیں وہ ۔ اُن کے رسالے کیinauguration (اجراء) آرٹس کونسل کراچی کی عالمی اُردو کانفرنس کے موقع پر ہوئی تھی۔
حنا خراسانی رضوی۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ احمد شاہ صاحب کہ آپ نے ہمیں وقت دیا۔ اجازت چاہتی ہوں، خداحافظ ۔
احمد شاہ صاحب۔۔۔ آپ کا بھی شکریہ، خداحافظ ۔