اداریہ
اردو دنیا کا اولین انٹرنیشنل جرنل سہ ماہی اردو ’ورثہ‘ (شمارہ نمبر 6جلد نمبر 5)اکتوبر تا دسمبر 2025ء اردو مرکز نیویارک امریکہ کے تحت سال نو 2026ء کی پرعزم مسرتوں اور کامرانیوں کے ساتھ جناب رئیس وارثی اور جناب نصیر وارثی بانیان و مریدان صدی کی پروقار اور اولعزم نمائندہ ہمہ جہت علمی وادبی شخصیت شمس الرحمٰن فاروقی کی علمی و ادبی وصحافتی خدمات کے اعتراف کے طور پر شائع کیا جارہا ہے جو یقینا باعثِ فخر وانبساط ہے۔
بین الاقوامی سطح پر اس نوع کا جامع اور مبسوط شمارہ سہ ماہی اردو ورثہ انٹرنیشنل سے قبل کسی دیگر ادارے سے اس سطح پر اب تک شائع نہیں کیا۔جس میں شمس الرحمٰن فاروقی کی سوانحی کوائف،پیدائش و پرداخت ان کی اردو خدمات اور ہمہ جہت شخصیت کا بتدریج ارتقاء کا تمام و کمال احاطہ کیاگیا ہو۔ دانشوران علم و فن اور اہل قلم کی گراں قدر تحریروں کے ذریعے ان کی شخصیت اور فن پر خاطر خواہ بحث کی گئی ہے۔
جناب نصیر وارثی مدیر ’ورثہ‘ کی بے پایاں خدمات ومصروفیات‘نیویارک میں موسم کی سخت گیری اور منفی درجہ حرارت کے باوجود ’ورثہ‘ کی پابندی سے کامیاب اشاعت جوئے شیر لانے کے مصداق ہے۔نیویارک کے علاوہ کراچی اور انڈیا ایڈیشن مسلسل اپنے ادبی و اشاعتی معیار کو قائم رکھتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہے۔
اگر یہ سخت ابتلاء اور سراسیمگی وبے چینی کا دور عالمی منظر نامہ اپنے جغرافیائی حدود تبدیل کرنے کے دہانے پر ہے۔حکومتیں تاخت و تاراج ہورہی ہیں۔سربراہ مقید کیے جارہے ہیں۔جدید ترین تباہ کن اور پرخطر ہتھیاروں کی ایجاد سے سماجی زندگی بے اطمینانی سے نبرد آزما ہے۔لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ ادیب و دانشور پرعزم ہوکر اپنی تحریروں اور صحافتی فن پاروں کے ذریعے ایک پلیٹ فارم پر رہ کر اپنی پوری طاقت وتوانائی کے ساتھ تاریخ مرتب کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔جو یقینا زندگی کی سچائی بھی ہے اور زندہ دلی کی علامت بھی۔تاریخ شاہد ہے کہ زندہ رہنے والی قومیں کبھی شکست قبول نہیں کرتیں اور ہمیشہ سرخرو ہوتی ہیں۔
سہ ماہی اردو ’ورثہ‘ انٹرنیشنل جرنل کا تازہ شمارہ شمس الرحمٰن فاروقی نمبر ایک ایسے ہی ادبی فن کا ر و دانشور کی ادبی خدمات کا کما حقہ‘اعتراف واحتساب ہے جس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ ادب کی خدمت کے لیے مختص کردیا تھا۔اگرچہ عمر کے آخری دور میں اس کی بینائی اور بصارت میں کمی واقع ہوگئی تھی اور قویٰ بھی مضمحل ہوگئے تھے لیکن علم و ادب کی تشنگی موصوف کی زندگی کا مشن ثابت ہوئی۔
اردو مرکز نیویارک ایک ادبی و ثقافتی ادارہ ہے جو عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔شاعروں،سمیناروں،کانفرنسوں کا انعقاد کے علاوہ نئی نسل کے قلم کاروں کی علمی حوصلہ افزائی نیز عالمی شہرت یافتہ دانشوروں کو ایوارڈ (نشان اردو ایوارڈ) سے سرفراز کرنا اس کے دائرہ کار اور بطور خاص مقاصد میں شامل ہے۔اس ایوارڈ کے لیے ادارہ مبارکباد کا مستحق ہے۔اردو مرکز نیویارک امریکہ کے تحت 2023-24ء کا ”نشان اردو“بین الاقوامی اردو ایوارڈ خاکسارکو تفویض کیاگیا جو باعثِ افتخار ہے۔
زیر ِ نظر خصوصی شمارہ کا ایک حصہ فاروقی صاحب کی خانگی زندگی،ذاتی حالات وکوائف پر مشتمل ہے۔اس ضمن میں خاکسار نے فاروقی صاحب کی چھوٹی بیٹی پروفیسر باراں سے ان کے گھر پر الہ آباد جا کر ملاقات کی۔انہوں نے بڑے احترام سے موصوف کی ذاتی لائبریری،ڈرائنگ روم،ایوارڈ گیلری میں چسپاں اہم اسناد و انعامات،قلمی فوٹو گراف،والدین اور فیملی کے ساتھ لی گئی اہم تصاویر،ادیبوں کے نام چند خطوط،ان کے قلم سے (بخط شاعر) لکھے ہوئے اشعار،قطعات و رباعیات اور بھی اہم دستاویزات‘بصدشوق فراہم کرائیں۔اس آرکائیول ریکارڈ کو شمارہ کے آخر میں بطور البم شامل کرلیا گیا ہے۔
’ورثہ‘کے مدیران ومشاورت کمیٹی،وادارتی بورڈ اور خصوصاً نصیر وارثی و رئیس وارثی اور ڈاکٹر صدف نقوی کی مخلصانہ کاوشوں کے نتیجہ میں ورثہ کا شمس الرحمٰن فاروقی نمبر یقینا ایک دستاویزی حیثیت کا حامل قرار پائے گا۔اس عزم و یقین کے ساتھ کہ اردو کے باذوق قارئین اساتذہ و طلبہ اور اردو کے ریسرچ اسکالر ز کے لیے مستند حوالہ ثابت ہوگا۔
پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی
ریذیڈنٹ ایڈیٹر (انڈیا)
شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
علی گڑھ