شمس الرحمٰن فاروقی ،ایک نظریہ ساز نقاد
مصیف الرحمٰن
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
عصر حاضر کے ممتاز ناقدین میں شمس الرحمٰن فاروقی کا نام ایک نظریہ ساز نقاد کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اردو میں جدیدت یعنی حیثیت محرک اول ثابت ہوئی ۔انہوں نے مغربی ادبی نظریات کواردو ادب کے ثقافتی و تاریخی تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی اور مغربی ادبیات سے خوب استفادہ کیا۔انہوں نے اپنے رسالے شب خون کے ذریعہ اردو ادب میں جدیدیت کا تصور پیش کیا۔ اردو تنقید یعنی Modernismکے رحجان کو اردو میں مغربی ادبی تنقید کے مطابق ڈھالنے میں شمس الرحمٰن فاروقی نے Formalist Styleمیں اردو کے کلاسیکی شعرا اور خصوصاًمیرؔ کے کلام کا عمیق مطالعہ کیااور وضاحت کی۔
شمس الرحمٰن فاروقی کا رسالہ ’شب خون‘ جدیدیت کے تصور کا نقش اول ثابت ہوا۔اس رسالہ کے ذریعہ انہوں نے اپنی نئی پہچان بنائی ۔ادب کے مختلف جہتوں کے تجزیہ کے لیے انہوں نے شکایت پسندانہ اسلوب کو ترجیح دی اور Formalist Stylisticsکی بنیاد پر میر ؔ اور غالبؔ کے علاوہ کئی اہم موضوعات کا گہرائی سے تجزیہ کیا۔داستان گوئی کے فن کو نئے انداز سے تازہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔لسانیات ۔Longuistics۔ جمالیات ، Aestheticsاور ثقافتی تاریخ پر دسترس رکھتے تھے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کی تصانیت کی تعداد بھی خاصی ہے۔ ان کی کتابیں ان کے وسیع علم ، گہرے تجزیے اور منفرد اسلوب کی عکاس ہیں۔ شمس الرحمٰن فاروقی کی تصانیف تنقید و تحقیق اور تخلیقی ادب پر مشتمل ہیں لیکن تنقید کے شعبے میں ان کی شہرت اور شناخت سب سے زیادہ ہے۔شاعری کا امکان یہ کتاب 1989میں شایع ہوکر منظر عام پر آئی ۔یہ کتاب ان کے کے تنقیدی نظریات پر مشتمل ہے۔اس میں انہوں نے مغربی ادبی نظریات خاص طور پر شکایت پسندی اور ساختیات کی روشنی میں اردو شاعری اور خاص طور پر غزل کا تجزیہ کیا ہے۔یہ کتاب اردو تنقید میں ایک نئے اسکول آ ف ٹھاٹس تصور کی گئی۔
اس کے علاوہ 1970میں ’اردو غزل کے اہم موڑ ‘ کے عنوان سے شایع ہوئی۔اس کتاب میں فاروقی صاحب نے اردو غزل کی تاریخ کا ایک نیا تناظر پیش کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ غزل کا ارتقا کن مراحل سے گزر کر مختلف ادوار میں اس کے موضوعات اور اسلوب میں کیا تبدیلیاں پیش آئیں۔افسانے کی حمایت میں 1987میں منظر عام پر آئی۔اس مجموعے میں شامل مضامین کے ذریعہ افسانے اور ناول کی تنقید میں نئے مباحث کا آغاز ہوا ۔انہوں نے فکشن کے جمالیاتی پہلوئوں پر زور دیا اور حقیقت نگاری کے واحد معیار کو چیلنج کیا۔
ساخت اور معنی: اس کتاب میں فاروقی صاحب نے ادب پارے کے معنی کے درمیان Structureاور اس کی ساخت کے تعلق کو واضح کیا۔یہ ان کی اہم کتابوں میں شامل ہے۔فاروقی صاحب کی کتاب ’لغت اور اس کے مسائل‘ کے موضوع پر ہے۔لسانیات کے موضوع پر ان کی یہ اہم کتاب ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اردو لغت نگاری یعنی Laxicogreaplyکے مسائل اور زبان کے معیار سے بحث کی ہے۔
شعر شور انگیز :چار جلدوں پر مشتمل ہے۔یہ کتاب فاروقی صاحب کا عظیم تحقیقی و تنقیدی کارنامہ ہے۔ جو میر تقی میرؔ کے مکمل دیوان کی شرح ہے۔میر کے ہر شعر کا ایسا گہرا لسانی و جمالیاتی تجزیہ کیا ہے جو اردو کی شعری تاریخ میں ایک مثال کے طو رپر تصور کیا جاتا ہے۔تنقید کے علاوہ انہوں نے تخلیقی ادب کی سطح پر کئی اہم کام انجام دیے۔فاروقی صاحب کا شہر آفاق ناول 2006ء میں مکمل ہوا۔ یہ ناول 19ویں صدی کے لکھنؤ کی تہذیبی اور تاریخی دستاویز ہے۔ اس ناول کے ذریعہ ان کی ایک مستحکم شناخت فکشن نگار کے طور پر سامنے آئی ۔سبز اندر سبز اور آسمانِ ادب اور دیگر شعری مجموعے فاروقی صاحب ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ ان کے شعری مجموعے ان کی کلاسیکی زبان اور جدید احساسات کا منفرد امتزاج پیش کرتے ہیں۔داستان امیر حمزہ کی تدوین فاروقی صاحب کا ایک بڑا تحقیقی کارنامہ ہے۔داستان امیر حمزہ کی بائیس جلدوں پر مشتمل متن کی تدوین اور اس پر ایک بسیط مقدمہ لکھا جو ایک اہم تحقیقی کارنامہ ہے۔
مذکورہ کتابوں کے علاوہ بھی چند کتابیں اور بھی ہیں جو ان کی فکری و فنی وسعت اور علمی جستجو کی ترجمان ہیں ۔ان میں عبارت‘معنی اور گفتار 2010ء میں شائع ہوئی ۔یہ کتاب ان کے تنقیدی سفر کے آخری دور کے مضامین کا مجموعہ ہے۔اس کتاب میں انہوں نے زبان اور معنی کے درمیان متن کی پیچیدگی پر گہرائی سے غور کیا ہے۔اس کتاب میں ایسے مضامین بھی شامل ہیں جو ادب کے مطالعے کے لیے نئے تناظر فراہم کرتے ہیں۔اس کتاب میں شامل تحریریں قاری کی علمی سطح کو چیلنج کرتی ہے اور اردو ادب کی باریکیوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
’افسانے کی تلاش میں‘ یہ کتاب 1998ء میں چھپی ۔فکشن کے بارے میں فاروقی صاحب کے نظریات کو مزید واضح اور مستحکم کرتی ہے۔اس کتاب میں انہوں نے کردار نگاری ،پلاٹ اور اسلوب پر گفتگو کی ہے۔اردو کے بہترین افسانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے روایتی کہانی اور جدید افسانہ کے فرق کو واضح کیا ہے۔بازیافت فاروقی کی ایک اہم تحقیقی و تنقیدی کتاب ہے۔بازیافت میں انہوں نے اردو ادب کی فرسودہ روایات اور شخصیات کو دوبارہ دریافت کیا ہے اور انہیں تازہ کیا ہے،جنہیں نظرانداز کردیا گیا تھا۔روایت اور انقلاب بھی فاروقی صاحب کی ایک اہم تصنیف ہے۔اس کتاب میں انہوں نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ جدیدیت یعنی Traditionاپنی جڑیں روایت یعنی Modernismہی میں تلاش کرتی ہے۔ایک معیاری اور اچھا ادب اپنی روایت سے کٹ کر وجود میں نہیں آسکتا۔غالب پر چار تحریریں : جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب غالب کی شاعری اور شخصیت پر مرکوز ہے۔چار مضامین پر مشتمل غالب شناسی میں ایک اہم اضافہ ہے۔
تصویرِ جاناں (ترجمہ اور تدوین)
موضوع کی وجہ سے یہ کتاب کافی بحث میں رہی ۔مغربی مصنفین کی 18ویں اور 19ویں صدی کی تحریروں پر مبنی ہے۔اس میں مسلم خواتین اور حرم یعنی زنان خانے کے بارے میں لکھا ہے اور یہ دکھایا ہے کہ کس طرح مغرب نے مسلم ثقافت کو تعصب کی نظر سے دیکھا ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی ایک ہمہ جہت ادیب اور دانشور تھے۔وہ محض ایک نقاد ہی نہیں بلکہ ایک شاعر ،ناول نگار ،مترجم ،ماہر لسانیات ،عملی تنقید یعنی Applied Critisisionان کی انفرادیت تھی۔ثقافتی مورخ کے طور پر بھی ان کی شناخت ہے۔ اردو ادب میں جدیدیت کے معمار کے طور پر بھی ان کا اہم مقام ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی کی تحریریں صرف ان کے فکر و خیال کا اظہار نہیں ہیں بلکہ انہیں ادبی نمونہ کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ان کے منفرد اسلوب کی خوبی اس کی وضاحت قطعیت اور مدبرانہ علمی و تجزیاتی انداز اور دانشورانہ رنگ ہے۔
انگریزی ادبیات کا مطالعہ بہت وسیع تھا ،کثیر اللسان تھے۔عربی ،فارسی ،اردو ،انگریزی اور ہندی ان سبھی زبانوں اور ان زبانوں کی ادیبات پر انہیں ماہرانہ دسترس تھی۔جدیدیت کا تصور وہ اردو میں انگریزی ادبیات کے مطالعہ سے لے کر آئے۔ان کی تحریروں میں بین العلومیت اور مختلف ادبیات کا امتزاج واضح طور پر نظر آتا ہے۔انہوں نے اردو شاعری کا موازنہ اکثر و بیشتر انگریزی اور فرانسیسی شاعری سے کیا ہے ۔جس سے عالمی سطح پر اردو ادب کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔تنقید و تحقیق کے علاوہ ان کی تحریروں میں طنز اور فکر انگیزی کا عنصر بھی شامل ہے۔
فاروقی صاحب نے مختلف موضوعات پر مضامین اور کالم بھی لکھے ۔سماجی اور ثقافتی مسائل پر گہرے طنز بھی کیے۔شمس الرحمٰن فاروقی کی تحریریں اردو ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ان کی تحریریں قاری کے ذہن میں سوال چھوڑ جاتی ہیں اور ایک نئی سمت اور رفتار عطا کرتی ہیں۔فاروقی نے اپنی گراں قدر تحریروں اور تصانیت کے ذریعہ اردو کے ذہنی افق کو نئی سمت و رفتار عطا کی اور اصلاحی طرز کی نثر کی اساس قائم کی۔بحیثیت ادبی صحافی بھی فاروقی صاحب کا مقام اور حیثیت مسلم ہے۔شب خون کی مسلسل اور تواتر سے اشاعت اس کی بہترین مثال ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی کے انتقال سے اردو دنیا میں ایک ایسا ادبی خلا پیدا ہوا ہے جس کی کمی برسوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔
جانے والے کبھی نہیں آتے
جانے والوں کی یاد آتی ہے