شمس الرحمن فاروقی: ادبی تصورات اور
تاریخ ساز شخصیت
ڈاکٹر رضوان الحق
دہلی
کووڈ کی وبا اردو زبان و ادب کے نہ جانے کتنے ماہ و انجم کو ہم سے چھین لے گئی، لیکن اس نے ہم سے ایک شمس بھی چھین لیا، وہ شمس تھا شمس الرحمن فاروقی (۳۰ ستمبر۱۹۳۵ تا ۲۵ دسمبر ۲۰۲۰)۔ شمس محض نام نہیں تھا بلکہ ان کی حیثیت بھی اپنے زمانے میں اردو ادب کے شمس کی طرح ہی ہو گئی تھی۔ پچھلے تقریباً ساٹھ برسوں سے وہ اردو ادب کے مرکز میں تھے۔ اس زمانے میں اردو ادب میں شاید ہی کوئی اہم بحث ہوئی ہو، جس میں شمس الرحمن فاروقی کا کوئی ذکر نہ رہا ہو۔ وہ بحث چاہے کسی بھی ادبی مسئلے پر رہی ہو یا خود فاروقی کی حمایت یا مخالفت میں رہی ہو۔ ان تمام مباحث میں وہ ایک مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ مثال کے طور پر نقاد، مدیر، شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، محقق، مترجم، ماہر لسانیات وغیرہ وغیرہ۔ ادب اور زبان کی تقریباً ہر اہم صنف میں انھوںنے نہ صرف طبع آزمائی کی بلکہ اکثر اصناف میں انھوںنے ایسا کام کیا کہ جس کی گونج دیر تک جاری رہے گی۔ اب ایسے شخص کے بارے میں کیا لکھا جائے؟ اور بات کہاں سے شروع کی جائے؟ ساتھ ہی کیا کہا جائے اور کیا چھوڑا جائے؟ میرے ذہن میں ان کی یادوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ اور یہ یادیں محض شخصی یادیں نہیں ہیں، بلکہ ان سے کہیں قدیم ان کی کتابوں کے مطالعے کی یادوں کا ایک سلسلہ ہے۔
اس سے قبل کہ شمس الرحمن فاروقی کی دانشوری اور تخلیقیت کی بات شروع کی جائے، بہتر ہوگا کہ اس شخصیت کے بارے میں بھی کچھ بنیادی باتیں جان لی جائیں کہ شمس الرحمن فاروقی کون تھے؟ اور کوئی شمس الرحمن فاروقی کیسے بنتا ہے؟ اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ وہ ۱۹۳۵ میں کالا کانکر ہائوس، ضلع پرتاپ گڑھ میں اپنے نانہال میں پیدا ہوئے۔ لیکن ان کے والد اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے، اور ان کی پرورش و ابتدائی تعلیم بھی اعظم گڑھ میں ہی ہوئی۔ ان کے بچپن کے بارے میں کئی لوگوں نے لکھا ہے اور خود فاروقی صاحب نے اعتراف کیا ہے کہ انھوںنے بچپن میں کبھی کوئی کھیل نہیں کھیلا۔ بس ہر وقت لکھتے پڑھتے ہی رہے۔ انھوںنے گھر کے پاس کتابوں کے ایک جلدساز سے دوستی کر لی تھی اور اس کی دکان پر آنے والی تقریباً ہر کتاب کو پڑھ جاتے تھے۔ وہ کتاب چاہے کسی بھی مضمون کی ہو۔ اعظم گڑھ میں جب وہ چھٹے ساتویں درجے میں تھے، تبھی انھوںنے ادبی زندگی کا آغاز کر دیا تھا۔ شاعری کرنے لگے ، اور جلد ہی ایک وال میگزین بھی انھوںنے نکالنی شروع کر دی۔ جس میں زیادہ تر خود ان کی لکھی ہوئی تحریریں ہوتی تھیں، کچھ ان کے خاندان اور دوستوں کی بھی ہوتی تھیں۔ شاعری کی ابتدا ہو چکی تھی لیکن شاعری سے وال میگزین کتنی بھرتی؟ تو مضامین اور افسانے بھی لکھنے شروع کر دیے۔
آٹھویں جماعت تک کی پڑھائی اعظم گڑھ میں کرنے کے بعد ان کے والد کا تبادلہ گورکھپور میں ہو گیا تو وہ بھی گورکھپور چلے گئے۔ انھوںنے ہائی اسکول، سے بی اے تک کی تعلیم گورکھپور سے ہی حاصل کی۔ گورکھپور میں پڑھائی کے زمانے کا ایک واقعہ ان کے بھائی محبوب الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کہ ان دنوں انھیں پڑھنے کا اس قدر جنون تھا کہ وہ اسکول آتے جاتے وقت بھی کتابیں پڑھتے رہتے تھے اور ان کے بھائی یا کوئی دوست ان کے آگے پیچھے چلتے تھے کہ پڑھنے میں محو فاروقی صاحب کسی چیز سے ٹکرا نہ جائیں۔
گورکھپور سے ان کا ایک پرانا رشتہ اور بھی تھا ان کے دادا یہیں کے ایک اسکول میں مدرس تھے اور پریم چند بھی اس زمانے میں اسی اسکول میں مدرس تھے۔ فاروقی صاحب کے والد بھی اسی اسکول میں پڑھے تھے اور وہ بھی پریم چند کے شاگرد رہے تھے۔ گورکھ پور سے بی اے کے دوران ہی گرمیوں کی چھٹیوں میں انھوںنے شیکسپئرکا بہت سنجیدگی سے مطالعہ کیا اور ان پر شیکسپئرکا جو جادو سر چڑھ کر بولا وہ تا حیات کبھی کم نہ ہوا۔ بعد میں کچھ یہی کیفیت میر و غالب کے ساتھ بھی ہوئی۔ بہر حال گورکھپور سے بی۔ اے۔ پاس کرنے کے بعد وہ انگریزی میں ایم۔ اے۔ کرنے کے لیے الہ آباد یونیورسٹی چلے گئے پھر ہمیشہ کے لیے اسی شہر کے ہو کر رہ گئے۔
الہ آباد یونیورسٹی میں پروفیسر دیو صدر شعبہ انگریزی تھے۔ وہ اس وقت ہندستان میں انگریزی ادبیات کے سب سے بڑے دانشوروں میں سے ایک تھے۔ اور اپنے آگے کسی کو گردانتے نہ تھے۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی کی علمیت کو دیکھتے ہوئے انھوںنے فاروقی صاحب کو بے جھجک بات کرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ ایسے حالات میں فاروقی صاحب نے کلاس روم میں ایک آدھ بار پروفیسر دیو سے بحث کر لی۔ اس کے بعد وہ فاروقی صاحب سے بہت ناراض ہو گئے۔ جب فاروقی صاحب ایم۔ اے۔ فائنل کے طالب علم تھے انھیں دنوں ہری ونش رائے بچن بھی انگریزی کے استاد ہو کر وہاں آ گئے۔ انھوںنے بھی فاروقی صاحب کو کچھ عرصے تک پڑھایا۔ فائنل میں پروفیسر دیو نے فاروقی صاحب کو انٹرویو میں بہت خراب نمبر دیے لیکن اس کے باوجود انھوںنے انگریزی میں ٹاپ کیا۔
ایم اے کے بعد وہ الہ آباد یونیورسٹی میں ہی پڑھانا چاہتے تھے، اور اس وقت سبھی ٹاپرز یونیورسٹی کے شعبے میں یا کسی منسلک کالج میں لکچرر ہو جایا کرتے تھے۔ لیکن دیو صاحب کے رہتے فاروقی صاحب لکچرر نہ بن سکے، یہاں تک کہ ساتویں پوزیشن والے تک کا لکچرر کے لیے انتخاب ہو گیا لیکن فاروقی صاحب چکر لگاتے رہ گئے۔ ان سب کے باوجود فاروقی صاحب نے اپنی زندگی کے بہترین اساتذہ کے ذکر میں ہمیشہ دیو صاحب کو یاد کیا ہے۔ الہ آباد یونیورسٹی اس لیے بھی ان کے لیے یادگار رہی کہ ایم اے کے دوران ہی وہ اپنی ایک ہم جماعت جمیلہ خاتون ہاشمی سے یہیں ملے، جو بعد میں ان کی شریک حیات بنیں۔
کافی دنوں کے انتظار کے بعد بھی جب انھیں الہ آباد میں پڑھانے کا موقع نہ مل سکا تو وہ بلیہ کے ایک کالج میں انگریزی پڑھانے چلے گئے، ایک سال بعد شبلی کالج، اعظم گڑھ میں ان کا انتخاب ہو گیا۔ اور وہ وہاں دو سال تک درس و تدریس سے وابستہ رہے۔ شبلی کالج میں درس و تدریس کے دوران ہی وہ اکیس سال کے ہوئے اور سول سروس کا امتحان دیا تو پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہو گئے (ان امتحانوں کے لیے کم از کم عمر)۔ تحریری امتحان میں تو انھوںنے پورے ہندستان میں ٹاپ کیا، لیکن انٹرویو میں انھیں صفر ملا۔ اس لیے آئی۔ اے۔ ایس یا آئی۔ ایف۔ ایس۔ تو نہ مل سکا۔ البتہ آئی۔ پی۔ ایس۔ مل سکتا تھا لیکن اس کے بجائے انھوںنے پوسٹل سروسز کا انتخاب کیا، کیونکہ انھیں لگا کہ شاید آئی پی ایس کی نوکری کے ساتھ پڑھنے لکھنے کا زیادہ موقع نہ مل سکے۔ اسی نوکری سے وہ 1994 میں پوسٹل سروس بورڈ کے ممبر کے طور پر سبک دوش ہوئے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے وہ شاعری کافی کم عمر میں ہی کرنے لگے تھے، شاعری کا یہ سلسلہ تمام عمر جاری رہا اگرچہ شعر کہنا تھوڑا کم زیادہ تو ہوا لیکن بالکل کبھی نہ رکا۔ ان کی شاعری معنی اور ابہام کا ایک گنجینۂ طلسم ہے، اردو والوں نے شمس الرحمن فاروقی کی شاعری کو کبھی اس سنجیدگی سے نہ پڑھا ، جس کی وہ مستحق تھی۔ ۲۰۱۸ میں ان کی شاعری کا کلیات ’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘ بھی شائع ہو گیا تھا، کلیات کی ضخامت سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کی شاعری محض منہ کا ذائقہ بدلنے کی لیے نہیں تھی بلکہ وہ اپنی شاعری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ جس طرح کی شاعری کی وہ حمایت کرتے تھے اس کی بیشتر خوبیاں ان کی شاعری میں موجود ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے سنجیدگی سے پڑھا جائے۔ اب جبکہ وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ہمیں اس شاعری کا مطالعہ پوری غیر جانب داری کے ساتھ خوبیوں و خامیوں کو از سرِ نو تلاش کرنا چاہیے۔
شمس الرحمن فاروقی کا افسانے لکھنے کا سلسلہ بھی وال میگزین سے شروع ہوا تھا جسے انھوںنے بی اے کے بعد تقریباً ترک کر دیا تھا، پھر شب خون کے آغاز کے بعد انھوںنے کئی افسانے فرضی ناموں سے بھی لکھے، لیکن ان افسانوں پر نہ خود فاروقی صاحب نے توجہ دی۔ اور نہ کسی اور نے انھیں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اب ان کی دریافت اور بھی مشکل ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے تعلیمی مراحل سے گذرنے کے بعد جب باقاعدہ ادب میں قدم رکھے تو ان کی بنیادی توجہ تنقید پر رہی اور تنقید سے ہی ان کی شناخت قائم ہوئی۔ مغربی ادب پر ان کی گہری نظر تھی، اردو اور فارسی کی شعری روایت سے بھی وہ اچھی طرح سے واقف تھے۔ یوں تو پوری مغربی تنقید ان کے پیش نظر تھی لیکن اس زمانے میں وہ آئی۔ اے۔ رچرڈس، کولرج اور ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ جیسے جدید نقادوں اور شاعروں سے زیادہ متاثر تھے۔ ساتھ ہی اردو فارسی شاعری کی روایت پر ایک گہری نظر اس وقت بھی رہتی تھی۔ انھیں ادب تھیوری میں سب سے زیادہ دلچسپی تھی۔ ان کی ادبی تھیوری کے کچھ اہم نکات اس طرح سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ ادیب کے بنیادی سروکار ادب سے ہونے چاہیے، کسی سیاسی، سماجی، نفسیاتی تصور سے نہیں۔ ادیب کو آزادی ہونی چاہیے، کہ وہ جو بات محسوس کرتا ہے اور سوچتا ہے اسی کو اپنا موضوع بنائے، اسے کسی باہری قوت کا طابع نہیں ہونا چاہیے، خواہ وہ کتنا ہی خوبصورت تصور کیوں نہ ہو۔ اسے دوسروں کے سروکاروں سے زیادہ اپنے خیال کی آزادی عزیز ہونی چاہیے۔ اسے کسی سیاسی سماجی تنظیم یا پارٹی کا آلۂ کار نہیں بننا چاہیے۔ کسی ادبی متن کے معنی اس کے متن سے اخذ کرنے چاہیے، نہ کہ ادیب کے سیاسی، سماجی، یا ذاتی زندگی سے۔ ادب میں نئے تجربوں کے لیے ہمیشہ جگہ ہونی چاہیے، ممکن ہے کچھ تجربے ناکام بھی ہوں، لیکن اس کے لیے نئے تجربوں کی راہ نہیں بند کرنی چاہیے۔ ادب میں ہیئت کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے، مواد ہی سب کچھ نہیں ہوتا، کئی بار کسی ادب کی بنیادی شناخت اس کی ہیئت سے ہی ہوتی ہے۔ ایہام، تشبیہ، استعارہ اور علامت سے ایک سے زیادہ معنی کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ادب کی تخلیق میں ان سب کی بہت اہمیت ہوتی ہے انھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ کسی متن میں ایک سے زیادہ معنی کی گنجائش رکھنی چاہیے، اس لیے ادب میں ابہام اور مشکل پسندی سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے۔
ادب میں ترسیل کا مسئلہ ادیب کا نہیں ہے قاری کا ہے اس لیے ادیب کو اپنا بہتر سے بہتر لکھنا چاہیے، یہ مسئلہ اس کا نہیں ہے کہ اسے کتنے لوگ سمجھیںگے؟ اگر ادیب ان سوالوں میں گھر گیا تو اس کے ادب میں سطحی پن آ جائے گا، جس سے ادیب کو بچنا چاہیے۔یہی وہ بنیادی تصورات تھے جن کی بنیاد پر شمس الرحمن فاروقی نے اپنی تنقید کی بنیاد رکھی۔فاروقی کا خیال تھا کہ کسی زبان کے ادب کو اس کی ادبی تہذیب کے تناظر میں ہی دیکھا اور پرکھا جا سکتا ہے۔ اردو ادب کو مغربی اصولوں پر نہیں پرکھا جا سکتا ہے البتہ مغرب میں کوئی اچھا تصور ہے جس کے لیے ہماری روایت میں گنجائش ہے تو وہ لیا جا سکتا ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے یہاں مستشرقیت کے اثرات ایڈورڈ سعید کی کتاب ’اورینٹلزم‘ سے پہلے سے تھے لیکن اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد اس کے اثرات اور گہرے نظر آتے ہیں، خاص طور سے عربی، فارسی اور سنسکرت شعریات پر انھوںنے زیادہ توجہ کی۔ اردو میں کلاسیکی شعریات کی بازیافت کے لیے شمس الرحمن فاروقی نے غیر معمولی کام کیا ہے۔ ان کی تنقید میں انگریزوں کے ذریعے قائم کردہ نو آبادیاتی اثرات سے نکلنے کی چھٹ پٹاہٹ بہت واضح نظر آتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں وسعت تو ضرور آئی لیکن ان کے نظریات میں کوئی بنیادی تغیر نہیں ہوا۔
شمس الرحمن فاروقی نے نہ صرف نظریاتی تنقید بلکہ عملی تنقید کے بھی بہترین نمونے پیش کیے۔ انھوںنے اپنے نظریات کی روشنی میں ہم عصر اور کلاسیکی ادب دونوں کا تجزیہ کیا۔ فاروقی کی تنقید کا طریقۂ کار بہت معروضی تھا۔ وہ جہاں ایک طرف صحیح شعریات کا استعمال کرتے تھے، وہیں اس کا بے لاگ تجزیہ بھی کرتے تھے۔ جس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے نظریے کے ساتھ ساتھ دیگر تمام نظریات کو بھی ان کے حوالے اور دلائل کے ساتھ پیش کر دیتے تھے اور اس کے بعد اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے اپنے نظریے یا فیصلے پر پہنچتے تھے۔ وہ اپنے فیصلے میں نہ صرف اس متن کے معنی و مفاہیم بتاتے تھے بلکہ اس کی اہمیت اور معنویت پر بھی بحث کرتے تھے اور آخر میں اس کی ادبی قدر کا تعین کرتے تھے۔ فاروقی کی تنقید کی ایک نمایاں صفت یہ بھی ہے کہ ان کی تنقید میں اعلیٰ پیمانے کی معروضیت پائی جاتی ہے، یہ نہیں ہے کہ ایک ادیب کے لیے دیگر اصول بنا لیے اور دوسرے ادیب کے لیے الگ اصول بنا لیے۔
اردو میں شمس الرحمن فاروقی جدیدیت کے سب سے بڑے علم بردار تو ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ جدیدیت کی شروعات ہی انھوںنے کی ہو۔ سچائی یہ ہے کہ فکشن میں ان سے پہلے قرۃالعین حیدر اور انتظار حسین نے جدیدیت کی شروعات کر دی تھی۔ وہیں شاعری میں ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، سلیم احمد، احمد مشتاق اور ابن انشا وغیرہ نے اپنی شاعری میں جدیدیت کے مختلف پہلوئوں کو شمس الرحمن فاروقی کی تنقید سے پہلے نمایاں کیا تھا۔ تنقید میں بھی آل احمد سرور اور محمد حسن عسکری نے جدیدیت کو شمس الرحمن فاروقی سے پہلے اپنایا تھا۔ لیکن شمس الرحمن فاروقی نے ان تمام شاعروں اور ادیبوں کے درمیان ایک توازن قائم کیا اور سب سے بڑی بات انھوںنے اپنی بات کو حقائق اور دلائل کے ساتھ ثابت کیا کہ جدیدیت آج کے ادب کی ضرورت ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے انھوںنے بار بار کلاسیکی ادب اور خاص طور سے میر و غالب کا سہارا لیا۔ اس کے علاوہ انھوںنے یونانی اور جدید مغربی ادب سے لے کر سنسکرت ادیبوں کا بھی سہارا لیا۔اور ایک ادبی تہذیب کو قائم کیا۔
1966 میں شمس الرحمن فاروقی نے شب خون رسالہ نکالنا شروع کیا، بہت جلد یہ رسالہ تمام جدیدیت پسند اور نئے تجربہ پسند ادیبوں کا مرکز بن گیا۔ یہ رسالہ اپنے نظریے کے ساتھ وجود میں آیا تھا لیکن ایسا نہ تھا کہ اپنے سے مختلف فکر رکھنے والوں کو انھوںنے شائع نہ کیا ہو بلکہ اکثر ترقی پسند ادیب بھی اس میں شائع ہونے لگے۔ لیکن ان کے نزدیک کسی ادب کو اس میں شائع ہونے کے لیے اس کی تخلیقیت ہی پیمانہ ہوتی تھی نہ کہ اس کا سیاسی یا سماجی نظریہ۔ بہت جلد اس رسالے میں کسی شاعر یا ادیب کا شائع ہونا اس کے ادیب ہونے کی سند مانا جانے لگا۔
1969 میں جب مرزا غالب کی پہلی صد سالہ برسی منائی گئی، تو شمس الرحمن فاروقی نے شب خون کے ہر شمارے میں غالب کے ایک ایسے شعر کی تشریح و تفہیم کا سلسلہ شروع کیا، جس شعر کے بارے میں انھیں لگتا وہ کوئی نئی تفہیم دے سکتے ہیں یا پہلے کی تفاہیم میں کچھ اضافہ کر سکتے ہیں، ایسے اشعار کی تفہیم کا سلسلہ انھوںنے شروع کیا۔ ان تفاہیم میں کئی بار ایک ایک شعر کی تفہیم ۷، ۸ صفحے تک پہنچ جاتی تھی، اور تب پہلی بار لوگوں کو معلوم ہوا کہ ایک شعر کی تشریح اس طرح بھی کی جا سکتی ہے، ان تشریحات میں وہ کلاسیکی شعریات خاص طور سے غزل کی شعریات کو از سرِ نو قائم کرنے کی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ بہر حال یہ سلسلہ تقریباً بیس سال تک قائم رہا اور 1989 میں غالب کے اشعار کی تشریحات پر مبنی کتاب ’تفہیم غالب‘ شائع ہوئی، جو آج بھی غالب کی بہترین تفاہیم میں شمار کی جاتی ہے، اور غالب فہمی میں بہت نمایاں مقام رکھتی ہے۔
1973 میں شمس الرحمن فاروقی کی ایک بہت اہم کتاب ’شعر غیر شعر اور نثر‘ شائع ہوئی۔ دیگر مضامین کے ساتھ ساتھ اس کتاب کا بنیادی مضمون ’شعر غیر شعر اور نثر‘ کا غیر معمولی خیر مقدم کیا گیا۔ محمد حسن عسکری نے لکھا اب تمھارا نام لوگ مولانا حالی کے ساتھ لینے لگے ہیں۔ اور سچی بات بھی یہی تھی کہ حالی کے بعد پہلی بار اتنے معروضی طریقے سے شاعری کے اصولوں پر بحث کی گئی تھی اور شاعری کے اصول بیان کیے گئے تھے۔ اگلے تقریباً دس سال تک یہ کتاب اردو تنقید کے مرکز میں رہی، اس کتاب پر بے شمار بحثیں ہوئیں، اس کتاب نے اردو میں جدیدیت کو قائم اور مستحکم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
1982 میں ان کی ایک بہت اہم کتاب ’افسانے کی حمایت میں‘ شائع ہوئی تو اس پر بھی اگلے کئی برسوں تک بہت زیادہ تنازعات رہے۔ اس کتاب میں افسانے پر بہت سے بنیادی سوال اٹھائے گئے۔ اب تک عام طور پر افسانے کی تنقید میں افسانے کی کہانی مختصراً بیان کر دی جاتی تھی یا اس کی سماجی، سیاسی اور نفسیاتی معنویت بیان کر دی جاتی تھی۔ لیکن فاروقی صاحب نے افسانے کے فن اور تکنیک کے بنیادی سوال اٹھائے۔ مثلاً بیانیہ، واقعہ، پلاٹ، کردار اور ان کے باہمی روابط اور خود افسانے کی صنف کی اہمیت پر کئی سوال اٹھائے۔ اکثر لوگوں نے اس کتاب پر اعتراضات بھی کیے اور فاروقی صاحب نے جو سوال اٹھائے تھے ان کے جواب بھی دیے۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ افسانے کے بارے میں اتنے سوال اب تک کسی نے نہیں اٹھائے ہیں جتنے اس ایک کتاب نے۔
1983 میں شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کی ایک اور بہت اہم کتاب ’تنقیدی افکار‘ شائع ہوئی۔ یہ کتاب ادب کے بنیادی سوالوں اور ادب کی جمالیات سے مختلف موضوعات پر بہت گہرائی سے بحث کرتی ہے۔ اسی کتاب پر انھیں 1986 میں ساہتیہ اکادمی انعام سے نوازا گیا۔ اس کتاب کی معنویت آج بھی اسی طرح قائم ہے کیونکہ اس میں ادب کے بنیادی اصولوں اور نظریات پر بحث کی گئی ہے اور اصولوں کو قائم کیا گیا ہے۔ ان دونوں کتابوں کے بعد اگلے تقریباً دس برسوں کی تنقید کے مرکز میں یہی دو کتابیں چھائی رہیں، ان کتابوں میں پیش کی گئی آرا سے آپ اختلاف تو کر سکتے ہیں لیکن انھیں نظر انداز کرنا بہت مشکل ہے۔
اس کے بعد تنقید کی ایک اور معرکت الآرا کتاب شعر شور انگیز 1990 سے 1994 تک چار جلدوں میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب میر تقی میر کی شاعری کے انتخاب اس کی تشریح اور کلاسیکی غزل کی شعریات کی بازیافت کے لیے لکھی گئی تھی اور تقریباً ڈھائی ہزار صفحات پر مبنی ہے۔ یہ کتاب انھوںنے تقریباً بیس سال کے عرصے میں مکمل کی تھی۔ ان چاروں جلدوں میں مقدمہ کے طور پر کئی مضامین لکھے گئے ہیں۔ ان چاروں جلدوں کے یہ مضامین تقریباً 600 صفحات کے ہیں اور ان میں کلاسیکی غزل کی شعریات کی بازیافت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ کتاب کسی کرشمے سے کم نہ تھی، اب تک عام طور پر اردو میں غالب کو سب سے بڑا شاعر مانا جاتا تھا لیکن اس کتاب میں فاروقی صاحب نے میر کو غالب کے برابر عظیم شاعر قرار دیا تھا۔ باتیں اتنے مدلل طریقے سے پیش کی گئی تھیں کہ اردو حلقے میں اس کتاب کے بعد اکثر میر کو غالب کے برابر کا شاعر قرار دیا جانے لگا۔ اگرچہ کچھ لوگ پہلے بھی میر کو غالب کے برابر یا غالب سے بڑا شاعر مانتے تھے لیکن وہ محض تاثرات تھے کسی نے مدلل طریقے سے تنقید میں یہ ثابت کرنے کی کوشش نہ کی تھی کہ میر غالب کے برابر یا ان سے بھی بڑے شاعر ہو سکتے ہیں۔ شعر شور انگیز کے کافی عرصے کے بعد فاروقی صاحب نے کہا کہ وہ شعر شور انگیز کے وقت بھی میر کو پوری طرح سے سمجھ نہ سکے تھے۔ دراصل میر تو غالب سے بھی بڑے شاعر ہیں۔ میر کے یہاں جو رنگا رنگی ہے، اور زندگی کے تجربات میں جو وسعت ہے وہ شیکسپیئر کے علاوہ دنیا میں کسی شاعر کے یہاں نہیں ہے۔ اس اعتبار سے میر در اصل غالب سے بھی بڑے شاعر ہیں۔ شعر شور انگیز کو اس وقت ہندستان کے سب سے بڑے ادبی انعام ’سرسوتی سمان‘ سے نوازا گیا۔ اس کتاب کے بعد اردو حلقے میں یہ بات بھی اٹھنے لگی کہ فاروقی صاحب نہ صرف موجودہ عہد میں بلکہ اردو تنقید کی پوری تاریخ کے سب سے بڑے نقاد ہیں۔
شعرِ شور انگیز کے بعد شمس الرحمن فاروقی نے داستانوں کی شعریات پر کام کرنا شروع کیا اور اس کے لیے انھوںنے داستان امیر حمزہ کا انتخاب کیا۔ یہ داستان چھیالس جلدوں پر مبنی ہے اور ہر جلد تقریباً ایک ہزار صفحات کی ہے۔ سب سے بڑا مرحلہ ان سبھی جلدوں کو حاصل کرنا تھا، جو انیسویں صدی کے آخر میں نول کشور پریس لکھنؤ سے شائع ہوئی تھیں، اور دنیا کے مختلف کتب خانوں میں بکھری ہوئی تھیں۔ انھیں ایک ساتھ جمع کرنا بہت مشکل کام تھا۔ 45 جلدیں تو کسی طرح مل گئیں لیکن چھیالسویں جلد کا کہیں سراغ نہ مل رہا تھا۔ آخر کار وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے کتب خانے میں ملی۔ معلوم ہوا کہ اس کتب خانے میں بھی پینتالیس جلدیں موجود ہیں لیکن جو جلد شمس الرحمن فاروقی کو چاہیے تھی وہ وہاں مل گئی، اور اس کتب خانے کے پاس جو جلد نہ تھی اسے فاروقی صاحب نے فوٹو کاپی کرا کے دے دی، جس سے دنیا کے دو کتب خانوں میں یہ پوری جلدیں مکمل ہو سکیں۔
متن کی مکمل فراہمی کے بعد انھوںنے ’ساحری، شاہی اور صاحب قرانی‘ نام سے کتاب لکھنی شروع کی۔ اس کتاب پر وہ تقریباً آخری عمر تک کام کرتے رہے۔ اس کی پانچوی اور آخری جلد ان کے انتقال سے چند روز قبل شائع ہو سکی تھی۔ داستان امیر حمزہ کی مکمل حصول یابی اور ان سبھی جلدوں کا مطالعہ فرہاد کے پہاڑ کاٹ کر دودھ کی نہر لانے سے کم دشوار کن نہ تھا۔ اس کے بعد اس پر پانچ جلدوں میں کتاب لکھنے کے لیے بھی مجنوں سی دیوانگی درکار تھی، اس مرحلے کو بھی انھوںنے بحسن و خوبی تقریباً 25 سال میں مکمل کیا۔ لیکن انھوںنے اس پر بھی اکتفا نہ کیا اور داستان گوئی کی راویت کی بازیافت کرنے کی ٹھان لی، داستان گوئی کی یہ روایت تقریباً پچہتر سال قبل ختم ہو چکی تھی۔ انھوںنے اپنے بھتیجے محمود فاروقی کو داستان گوئی کے لیے تیار کیا وہ ان دنوں آکسفورڈ یونیورسٹی سے روڈس اسکالر کے طور پر ایم فل مکمل کر کے ہندستان واپس آئے تھے۔ محمد فاروقی کو اس وقت داستان گوئی کے بارے میں کتنا معلوم تھا؟ یہ ایک سوال ہو سکتا ہے، لیکن انھیں اپنے بڑے ابو پر پورا یقین تھا، اس طرح انھوںنے شمس الرحمن فاروقی سے جنون کا ایک حصہ لے کر اس فن کے رموز سیکھنے شروع کیے۔ داستان گوئی کا پہلا مظاہرہ نئی دہلی میں 2005 میں ہوا۔ پھر اس کے بعد داستان گوئی کی تاریخ پوری دنیا کو معلوم ہے اور دنیا کا وہ کون سا اسٹیج ہے جہاں انھوںنے داستان گوئی کے فن کا مظاہرہ نہ کیا ہو۔ اب داستان گوئی کی یہ روایت دور دور تک پھر سے پھیل چکی ہے۔ درجنوں نئے داستان گو بھی اب اس فن میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اور اپنے فن کی داد وصول کر رہے ہیں۔
1999 میں شمس الرحمن فاروقی کی ایک غیر معمولی کتاب ’اردو کا ابتدائی زمانہ‘ (ادبی تہذیب و تاریخ کے پہلو) شائع ہوئی، یہ کتاب بنیادی طور پر تحقیق پر مبنی تھی۔ یہ کتاب اردو زبان کی ابتدا، اردو زبان کا ’اردو‘ نام کیسے پڑا؟ اور اردو ادب کی ابتدا کب اور کیسے ہوئی؟ جیسے مختلف سوالوں کا بہت مدلل انداز میں جواب دیتی ہے۔ اس کتاب نے اردو زبان و ادب کے بارے میں رائج بہت سی غلط فہمیوں کو دور کیا۔ یہ کتاب اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی اور ہندی میں بھی شائع ہوئی اور اردو کے بارے میں ہمارے سماج میں پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ اردو زبان و ادب کا تعلق خاص ہندستان سے ہے بلکہ اردو کا لفظ بطور زبان کے معنی دہلی میں ہی سب سے پہلے وجود میں آیا، اس کا ترکی زبان کے لفظ ’اردو‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے، جس کے معنی ’لشکر‘ کے ہیں۔ اردو لفظ کا تعلق دہلی میں موجود اردو بازار سے ہے اور اس کے معنی اس علاقے کی زبان ہے۔
1997 میں جب مرزا غالب کی 200 ویں یوم پیدائش منائی جا رہی تھی، تو انھوںنے شب خون میں ایک حصہ غالب پر مختص کرنے کا فیصلہ لیا۔ لیکن انھیں جو مقالے موصول ہوئے وہ ان سے مطمئن نہ تھے، ایسے میں انھوںنے خود غالب پر کچھ لکھنے کا فیصلہ کیا لیکن اب تک وہ غالب پر کافی کچھ لکھ چکے تھے اور غالب پر کچھ نیا لکھنے کے لیے ان کے ذہن میں کچھ نہ تھا، ایسے میں غالب پر ایک افسانہ ان کے ذہن میں آیا، جسے انھوںنے ’غالب افسانہ‘ عنوان دیا۔ یہ افسانہ بہت پسند کیا گیا اور اردو کی روایت میں بالکل نئے انداز کا افسانہ تھا۔ جس میں کلاسیکی زمانے کی تہذیب اس کا مرکزی پہلو تھا۔ اس کی پذیرائی امید سے بھی کہیں زیادہ ہوئی تو تحریک پا کر انھوںنے ایک کے بعد ایک پانچ افسانے 2000 تک لکھ دیے۔ اور 2001 میں ان کا افسانوی مجموعہ شائع ہو گیا۔ اب ان کے اندر کا افسانہ نگار بیدار ہو چکا تھا۔ اس میں کچھ افسانے ایسے ہیں جو 100 سے بھی زیادہ صفحات پر مبنی ہیں۔ یہ افسانوی مجموعہ اردو افسانے کی پوری روایت میں ایک مختلف شناخت رکھتا ہے۔ ان افسانوں کی اتنی تعریف ہوئی کہ ان کے اندر فکشن لکھنے کا جذبہ بے دار ہو گیا۔ اس کے بعد ان کا وہ کارنامہ منظر عام پر آیا جسے ہم ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ کے نام سے جانتے اور پہچانتے ہیں۔ اردو ناول کی تاریخ میں یہ ایک عظیم ناول ہے، جسے ہم امرائو جان، گئودان دان، آگ کا دریا اور اداس نسلیں کی صف میں رکھ سکتے ہیں۔ اس ناول کی مرکزی کردار وزیر خانم ہیں، جو داغ دہلوی کی ماں تھیں، یہ ناول انیسویں صدی میں دہلی کی تہذیبی زندگی کو اتنی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ یہ ناول انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب کے بیشتر فنون اور تہذیبی تلازموں کا سب سے بڑا ترجمان بن گیا۔
اس کے بعد انھوںنے ایک اور ناول ’قبض زماں‘ بھی لکھا۔ اس ناول میں وقت کی سرحدوں میں قید انسان کو اس سے آر پار دیکھنے کا تخیل کیا گیا ہے۔ اس کے لیے انھوںنے کئی تکنیکوں کو استعمال کیا ہے۔ یہ ناول انسان کے کئی تعصبات پر بھی از سرِ نو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اس ناول میں انسانی وجود کے مختلف پہلوئوں کو بھی بہت سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے۔ اس کے بعد انھوںنے ایک بہت مختصر ناول یا ناویلہ ’فانی باقی‘ لکھے جو قدیم ہندستانی تہذیب کی بڑی خوبی کے ساتھ بیان کرتا تھا۔ اس کے بعد انھوںنے ایک ناول ’گومتی کا رزمیہ‘ اور لکھنا شروع کیا تھا جس کے محض دس صفحے لکھ سکے تھے اور اس کے بعد انھیں کووڈ نے مہلت نہ دی۔
اکیسویں صدی آتے آتے انھوںنے محسوس کیا کہ اردو میں اب ایک ایسی نسل وجود میں آ چکی ہے، جو زبان و بیان کی ان باریکیوں کو نہیں سمجھتی ہے جو اردو زبان و بیان کا اختصاص ہے، اس لیے انھوںنے زبان و بیان کے کئی پہلوئوں پر کام کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں ان کی دو لغات ’لغات روزمرہ و محاورہ‘ اور ’تضمین اللغات‘ قابل ذکر ہیں۔ ترجمہ شمس الرحمن فاروقی کا ایک نمایاں پہلو تھا، یوں تو وہ عربی، فرانسیسی اور ہندی زبانوں سے بھی اچھی خاصی واقفیت رکھتے تھے لیکن اردو کے علاوہ انگریزی اور فارسی زبان و ادب پر انھیں پوری دسترس تھی اور ان زبانوں سے انھوںنے کئی ترجمے بھی کیے۔ شب خون میں ان کے بے شمار ترجمے شائع ہوئے۔ ارسطو کی ’شعریات‘ ابن صفی کے چار ناولوں کا انگریزی میں ترجمہ، اور خود اپنے نناول کئی چاند تھے سرِ آسمان کا انگریزی میں ترجمہ بہت اہم ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی کے کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے، ان کی تقریباً ساٹھ سالہ ادبی زندگی کے بہت سارے رنگ اور پہلو ہیں، ان سب پر تفصیلی گفتگو ایک مقالہ میں تو کیا ایک کتاب میں بھی ممکن نہیں ہے۔ اور اس مضمون کا مقصد بھی یہ نہیں ہے کہ میں ان کے تمام ادبی کارناموں سے تعارف کرائوں۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ شمس الرحمن فاروقی علمی شخصیت سے الگ ان کو بطور انسان بھی کچھ سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کوئی مصنف بطور انسان کیسا تھا؟ یہ بات انسانیت کے لیے تو ٹھیک ہے، لیکن وہ انسان کیسا تھا؟ اس سے اس کی ادبی قدر و قیمت پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ یہ بات ہمیں فاروقی صاحب نے ہی سکھائی تھی کہ کسی مصنف کی تخلیق اور تصنیف کی قدر کا تعین اس کی شخصیت سے الگ رکھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کی شخصیت کا اس کی تخلیق پر تو اثر پڑ سکتا ہے اور کئی بار نہیں بھی پڑتا ہے لیکن تخلیق کے تعین قدر پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پھر بھی میں شمس الرحمن فاروقی کی شخصیت پر گفتگو کروںگا تو وہ اس لیے کہ ہم مشرق والے صرف اصولوں کے سہارے زندگی نہیں جیتے۔ اس میں اس کے انسان ہونے کے معنی بھی شامل ہوتے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کی شخصیت کے بارے میں اب جو بھی معروضات پیش کروںگا وہ ذاتی تجربات کی بنیاد پر مبنی ہوںگے۔ ہو سکتا ہے میرا تجربہ دوسروں سے کچھ مختلف ہو، ایسے میں ان کو اپنے تجربہ پر قائم رہنے کا حق ہے اور مجھے اپنے تجربے پر۔
میں جانتا ہوں شمس الرحمن فاروقی سے ایک طبقہ ناراض بھی رہتا تھا۔ لیکن اس میں سے بیشتر وہ لوگ تھے جن کو انھوںنے شب خون میں نہیں شائع کیا۔ کیونکہ وہ ان کی توقع پر پورا نہیں اترتا تھا۔ کچھ لوگ ایسے بھی ناراض تھے جن پر انھوںنے نہیں لکھا تھا یا لکھا تو تھا لیکن ان کی اس طرح تعریف نہیں کی تھی جیسی وہ توقع کرتے تھے۔ کیونکہ ایسے ناراض لوگوں کے دلوں میں کہیں نہ کہیں رہتا تھا کہ جب تک فاروقی صاحب تعریف نہ کریں تب تک وہ مستند مصنف نہیں ہو سکتے۔ کچھ لوگ اس لیے بھی ناراض رہتے تھے کہ وہ ان سے اس طرح دوستی نہیں نبھاتے تھے، جس طرح وہ امید کرتے تھے۔ فاروقی صاحب ہمیشہ اپنے کاموں میں مصروف رہنا پسند کرتے تھے، وہ غیر ضروری دوستی میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ اکثر ضرورت کی بات مکمل ہونے پر، ملنے آئے لوگوں سے خدا حافظ کہہ دیتے تھے، کبھی کبھی کچھ لوگوں کو یہ بات غیر اخلاقی بھی لگتی تھی۔
شمس الرحمن فاروقی سیمینار وغیرہ میں بھی بہت کم جاتے تھے، وہ سمجھتے تھے کہ میرا وقت بہت قیمتی ہے، ان سب جگہوں پر جا کر وقت برباد کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہت سے لوگ اس لیے بھی ناراض رہتے تھے کہ وہ ان کے سیمینار میں نہیں گئے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ سیمینار میں بالکل نہ جاتے ہوں، جہاں انھیں لگتا تھا کہ انھیں جانا چاہیے وہ جاتے بھی تھے۔ مجھے لگتا ہے اگر وہ سب جگہ سیمیناروں میں جاتے تو شاید اتنا کام نہ کر پاتے، جتنا انھوں نے کیا ہے۔ میرے سامنے ایسی کئی مثالیں ہیں، جنھوںنے اپنی پوری زندگی سیمیناروں میں وقف کر دی۔ لیکن آج ان کی کتابیں ایسی نہیں ہیں جیسی ہو سکتی تھیں۔ فاروقی صاحب کی زندگی سے ہمیں ایک سبق یہ بھی لینا چاہیے کہ سیمینار کے مقالے کتنے بھی اہم ہوں لیکن اگر ایک موضوع کا انتخاب کر کے اس پر دس بیس سال تک محنت کر کے کوئی کتاب لکھی جائے تو اس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔
میں ذاتی طور پر شمس الرحمن فاروقی کے رابطے میں اس وقت آیا جب میں نے 2000 میں اپنی پہلی کہانی ’کچھ سامان‘ لکھی تھی اور اسے چھپنے کے لیے ’شب خون‘ میں بھیجی تھی۔ جو انھوںنے نہ صرف اپنے رسالے میں شائع کی بلکہ چھپنے سے قبل ہی الہ آباد میں کئی دوستوں سے اس کا ذکر کیا کہ دیکھو جے این یو کے ایک بالکل نئے طالب علم نے ایسی شاندار کہانی لکھی ہے۔ یہیں سے میرا ان سے تعارف ہوا۔ ظاہر ہے میں ان سے اور ان کے کاموں سے کئی برس پہلے سے جانتا تھا، انھوںنے مجھے پہلی بار اسی افسانے سے جانا تھا۔ اس کے بعد جب وہ دہلی آتے تھے تو میں ان سے ملنے کئی بار ان کی بیٹی باراں رحمن کے گھر گیا، دہلی میں عام طور پر وہ باراں کے گھر میں ہی رکتے تھے۔ وہ ان ملاقاتوں میں مجھے بہت ڈانٹتے تھے، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف ڈانٹتے ہوں، مجھے اپنی بات رکھنے کا پورا موقع بھی دیتے تھے لیکن ان کی ڈانٹ جاری رہی۔ ان کی ڈانٹ کی دو اہم وجہیں ہوتی تھیں، اول میں اتنا کم کیوں لکھتا ہوں؟ دوم میری زبان میں وہ روانی نہیں ہے جس کی وہ توقع کرتے تھے۔ سچائی یہ ہے کہ میں ان سے ڈرنے بھی لگا تھا اور جب بہت ضروری ہوتا تبھی ان سے ملنے جاتا، یا فون کرتا۔ لیکن اب جو سوچتا ہوں کہ وہ مجھے کس لیے ڈانٹتے تھے؟ تو لگتا ہے کہیں نہ کہیں انھوںنے میری کہانیوں میں ایک اسپارک دیکھ لیا تھا جسے وہ پھولتے پھلتے دیکھنا چاہتے تھے، جب وہ اپنی زبان کے فکشن کے مستقبل پر سوچتے تھے ان کی نظر مجھ پر جاتی تھی۔ جب تک شب خون نکلتا رہا میرے سارے افسانے اسی ایک رسالے میں شائع ہوئے میں نے کسی دوسرے رسالے کو اپنا کوئی افسانہ نہیں بھیجا۔
چالیس سال تک ’شب خون‘ نکالنے کے بعد 2006 میں انھوںنے اس تاریخی رسالے کو یہ سوچ کر بند کر دیا کہ شاید اب زندگی زیادہ نہیں بچی ہے۔ اس لیے اب کچھ ضروری کام کر لینے چاہیے۔ شب خون میں ان کا بہت وقت نکل جاتا تھا۔ شب خون بند ہونے کے بعد میرا ان سے رابطہ بہت کم ہو گیا۔ یہ میری ہی کوتاہی تھی انھوںنے مجھے کبھی نظر انداز نہیں کیا۔ شب خون بند ہونے کے بعد میرا کہانی لکھنا بھی بہت کم ہو گیا تھا، لیکن پھر بھی میری جب کوئی کہانی چھپتی تو اسے پہلی فرصت میں پڑھتے اور ملاقات ہونے پر یا فون پر اس کا ذکر ضرور کرتے۔ لیکن مجموعی طور پر اب وہ مجھ سے مایوس تھے۔ پچھلے دس برسوں میں میں نے محض تین افسانے لکھے تھے۔ جب کہ شب خون کے زمانے میں چار برسوں میں چار افسانے شائع ہوئے تھے، سبھی شب خون میں۔ بہر حال 2015 میں سات افسانوں پر مبنی جب میرا افسانوی مجموعہ ’بازار میں طالب‘ شائع ہوا تو میں اس سلسلے میں بھوپال سے دہلی گیا ہوا تھا۔ اتفاق سے انھیں دنوں جشن ریختہ چل رہا تھا، تو میں ادھر بھی چلا گیا۔ جشن ریختہ میں اچانک فاروقی صاحب سے ملاقات ہو گئی تو میںنے ڈرتے ڈرتے انھیں اپنا افسانوی مجموعہ پیش کیا، جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے۔ انھیں لگا کہ شاید افسانہ لکھنے کی ایک چنگاری مجھ میں ابھی بھی بچی ہوئی ہے۔ مجھے ابھی دہلی سے بھوپال واپس گئے کچھ ہی عرصہ گذرا تھا کہ ایک دن اچانک ان کا فون آیا اور انھوں نے بتایا کہ ’بازار میں طالب‘ پر تبصرہ کر دیا ہے اور جلد ہی شائع ہو جائے گا۔ دونوں باتیں جن کے لیے وہ مجھے ڈانٹتے تھے اس تبصرے میں بھی شامل تھیں۔ لیکن انھوںنے جس طرح سے میرے افسانوں کی تعریف کی تھی اس سے میرے اندر فکشن لکھنے کا ایک بار پھر سے جوش بھر گیا۔ انھوںنے یہ بھی کہا کہ جدید افسانے پر آج جس طرح کے سوال اٹھائے جا رہے ہیں یہ مجموعہ ان سب سوالوں کا جواب ہے۔
جون 2020 میں ادین واجپٔی کا فون آیا کہ فاروقی صاحب نے ایک ناویلا ’فانی باقی‘ لکھا ہے، جو انھوںنے مجھے بھیجا ہے۔ لیکن وہ میرے پاس کھل نہیں پا رہا ہے، تم ان سے بات کر کے اپنے ای میل پر منگوا لو۔ میں نے کافی عرصے بعد ایک بار پھر ان سے ٹیلی فون پر بات کی اور ناویلا بھیجنے کی درخواست کی، ساتھ ہی میں نے اسے ہندی میں ترجمہ کرنے کی اجازت بھی مانگی، تو انھوںنے مجھے بخوشی ترجمے کی اجازت دے دی۔ اس سے قبل میں ان کے دوسرے ناول ’قبض زماں‘ کا ہندی میں ترجمہ کر چکا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ مجھے کم لکھنے کے لیے ایک بار پھر سے ڈانٹیں، میں نے جلدی سے انھیں یہ اطلاع دی کہ میں نے میر تقی میر پر ایک ڈراما مکمل کر لیا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے۔ پھر میں نے یہ بھی بتایا کہ ایک ناول ’خودکشی نامہ‘ بھی لکھ رہا ہوں بلکہ پہلا ڈرافٹ مکمل ہو گیا ہے۔ انھوںنے کہا دونوں چیزیں مکمل ہوتے ہی مجھے بھیجو، میں دونوں چیزیں پڑھنا چاہوںگا۔ جب تک شب خون چھپتا تھا تب تک تو چھپنے سے پہلے وہ میرے افسانے پڑھتے ہی تھے، کئی بار ضروری مشورہ بھی دیتے تھے لیکن شب خون بند ہونے کے بعد بھی وہ چاہتے تھے کہ یہ سلسلہ جاری رہے۔ 10 جون کو میرے پاس ان کا آخری ای۔ میل آیا جس میں انھوںنے اپنے ناویلا ’فانی باقی‘ کی پی۔ ڈی۔ ایف۔ کاپی بھیجی تھی اور ایک بار پھر یاد دلایا، مجھے تمھارا ڈارما اور ناول پڑھنے کا ذوق ہے۔
جون کے مہینے میں ابھی لاک ڈائون ختم بھی نہیں ہوا تھا، میں نے ادین واجپئی اور سنگیتا گندیچا کو یہ پورا ناویلا تین سٹنگ میں پڑھ کر سنایا۔ یہ چھوٹا سا فکشن اتنا شاندار ہے کہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں اس سے ایک نئے طرح کے فکشن کی شروعات ہو سکتی ہے۔ شروعات نہ بھی ہو تو بھی اردو ہندی فکشن کی پوری تاریخ میں یہ ایک منفرد اور نہایت شاندار فکشن ہے۔ یہ فکشن قدیم ہندستانی تاریخ، تہذیب اور فلسفے کو اس طرح ہم آمیز کرتا ہے کہ اس کی دوسری مثال ملنا مشکل ہے، حقیقت اور وہم کی ایسی شاندار آمیزش میں نے آج تک کسی فکشن میں نہیں دیکھی۔ ادین واجپئی کو اسے ہندی میں چھاپنے کی بڑی جلدی تھی۔ اسی دوران میرا بھوپال سے دہلی تبادلہ ہو گیا تھا، اس لیے میں اس میں الجھا ہوا تھا، کچھ دیگر مصروفیات بھی تھیں۔ اس لیے انھوںنے میری اجازت سے کسی دوسرے سے اسے ہندی میں ترجمہ کروا لیا۔
اگست 2020 میں میرے پہلے ناول ’خودکشی نامہ‘ کے دو باب امروز، علی گڑھ سے شائع ہوئے۔ ابھی امروز کو میرے پاس آئے ہوئے کچھ ہی روز ہوئے تھے کہ ایک دن شمس الرحمن فاروقی کا میرے پاس فون آیا انھوںنے بتایا کہ دونوں باب میں نے پڑھ لیے ہیں مجموعی طور پر تو ناول پڑھنے کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن دونوں باب بہت اچھے ہیں اور صحیح سمت میں جا رہے ہیں۔ تم سے جو دو شکایتیں تھیں کسی حد تک اب دور ہو گئی ہیں۔ بس تم جلدی سے اسے مکمل کر لو۔ میرے ناول پر آنے والا کسی شخص کا یہ پہلا تاثر تھا۔ میرے کئی افسانوں کے بھی وہ پہلے قاری تھے اور میرے افسانوی مجموعے پر پہلا تبصرہ بھی انھوںنے ہی لکھا تھا۔
اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ میرے لیے کس جنم کا پیار تھا جو ایک بالکل نئے مصنف پر اردو کا سب سے بڑا ناقد لٹائے جا رہا تھا۔ وہ مجھ پر اتنا پیار کیوں لٹاتے رہے؟ میں نے ان کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا تھا، ان کی زندگی میں ان پر نہ ایک مضمون لکھا اور نہ ہی ان کی کسی کتاب پر ایک تبصرہ کیا تھا۔ کیا اس کے بعد بھی کچھ کہنے کو رہ جاتا ہے کہ انھوںنے نئے لکھنے والوں کی کس طرح حوصلہ افضائی کی؟ میرے ساتھ کے اور میرے بعد کے بھی کئی نوجوانوں سے وہ ذاتی طور پر رابطے میں تھے۔ نئے لکھنے والوں پر ان کی ہمیشہ نظر رہتی تھی۔
اپنے آخری دنوں میں وہ ایک اور ناول لکھ رہے تھے، ’گومتی کا رزمیہ‘ جو مجھے ان کے انتقال کے بعد ادین واجپئی سے ہندی میں ترجمہ کرنے کے لیے موصول ہوا تھا۔ اردو میں اس کے بارے میں ابھی بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس ناول کا ایک باب مکمل ہو چکا تھا اور دوسرا بس شروع ہی کیا تھا۔ یہ ایک بہت دلچسپ ناول تھا، اس ناول کی راوی خود گومتی ندی ہے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، شمس الرحمن فاروقی زندگی میں کبھی رکے نہیں، کبھی تھمے نہیں۔ لیکن زندگی کو ایک نہ ایک دن رکنا ہی پڑتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب ہے۔ جس کی سب سے بڑی مثال شمس الرحمن فاروقی تھے۔ میں نے اردو میں کسی ایسی شخصیت کو نہیں دیکھا جس کا فلک اتنا وسیع ہو۔ انھوںنے اپنی پوری زندگی اردو کی تہذیبی قدروں کی بازیافت کے لیے وقف کر دی۔