شمس الرحمان فاروقی کے نظام شعر میں ظفرؔ اقبال شناسی کی جہتیں
ڈاکٹر اسحاق وردگ
پشاور
(نئی شاعری کے نمائندہ تخلیق کار ڈاکٹر اسحاق وردگ اکیسویں صدی میں خیبر پختونخوا کی نئی نسل کے پہلے جدید شاعر کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔اگرچہ ان کی شعری تربیت پشاور سے وابستہ نوکلاسیکی لہجے کے شعراء احمد فراز،خاطر غزنوی،محسن احسان اور طہ خان کے زیر سایہ ہوئی۔۔تاہم انھوں نے جلد ہی جدت پسند شعری اسالیب کی روایت کے اثرات قبول کرتے ہوئے جدید حسیات کو اپنی غزل اور نظم کا موضوع بنایا۔ڈاکٹر اسحاق وردگ شعبہء اردو گورنمنٹ سپیرئیر سائنس کالج پشاور سے بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ہیں۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ “شہر میں گاؤں کے پرندے” اپنی منفرد شعری جہات کی وجہ سے جدید اردو غزل کا اہم مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔۔میری دعوت پر انھوں نے “شمس الرحمان فاروقی کی تنقید میں ظفراقبال شناسی کے خدوخال” جیسے تحقیق طلب اور نسبتا” وسیع موضوع پر قلم اٹھایا۔۔اور انتہائی عرق ریزی کے ساتھ فاروقی صاحب کی نمائندہ کتب کے بکھرے اوراق سے مطلوبہ حوالہ جات جمع اور انھیں اپنے تجزیے کے ساتھ ایک جامع،مدلل اور مربوط مقالے میں پیش کیا۔یقینا” ڈاکٹر اسحاق وردگ کی اس کاوش سے بحث اور مکالمے کے نئے دروازے کھلیں گے۔اور طلبائے ادب شمس الرحمان فاروقی کی تنقید کی اہم جہت سے آگاہ ہوں گے۔”ورثہ” کی مجلس ادارت ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شکرگزار ہے کہ انھوں نے کم وقت میں جدید شاعری کے ایک بڑے نقاد مرحوم شمس الرحمان فاروقی اور عہد ساز شاعر جناب ظفرؔ اقبال سے متعلقہ مواد کو یکجا صورت میں پیش کرکے مستقبل کے محققین کے لیے آسانیاں فراہم کیں۔۔نصیر وارثی، مدیر سہ ماہی “ورثہ” نیویارک )
شمس الرحمان فاروقی نے اردو تنقید میں جمہوری مزاج کی تنقید لکھی۔ انہوں نے روایتی تنقیدی نظریات کو نئی سمتوں سے آشنا کیا اور اردو نظام تنقید میں جدیدیت کے مباحث کو علمی بنیادیں فراہم کیں۔ فاروقی صاحب نے ایک عالم اور دانشور نقاد، جدت پسند فکشن نگار اور شاعر کے طور پر اردو شعر و ادب کی جدید تشکیل کے عمل کو روشنی دی۔ ان کا منور ذہن عالمی ادب کی روایت سے بصیرت کشیدنے سے آشنا تھا ۔ اس لیے ان کے تنقیدی تصورات نے اردو تنقید میں نئی روایت اور نئے دبستان کی عمارت کھڑی کی ۔ اس عمارت کی کئی منزلیں ہیں ۔ جن میں لغت و اصنافِ ادب سے اسالیب تک مباحث کے کئی جہان معنی آباد ہیں ۔ فاروقی صاحب نے اپنے نظریۂ ادب کے اظہارات کے لیے نقد و نظر اور تخلیقی شعبہ جات کا انتخاب کیا۔ شعبۂ تنقید میں وہ ایک نئے اجتہاد کی مثال ٹھہرے تو تخلیقی اسالیب میں جدت پسندی کے محرک بنے تھے اور روایت کو درست سمت کا نقشہ دیا۔ اردو ادب کی ایک زرخیز روایت کا آغاز شمس الرحمان فاروقی کی علمی شخصیت سے ہوتا ہے ۔ ان کی شخصیت کے بنیادی رجحانات میں جدیدیت کو مرکزیت حاصل ہے ۔ ان کی جدیدیت روایت اور کلاسیکیت کو رد نہیں کرتی بلکہ ان کی وضاحت نئے زاویوں سے کرتی ہے ۔ وہ کلاسیکی شاعری کی نئی تفہیم کے وضاحت نامے ہوں یا داستان کی بازیافت کی جستجو، فاروقی صاحب نے ادبی نظریہ سازی کو معنویت کا وجود دیا اور بقول ڈاکٹر صفدر رشید ‘‘فاروقی کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ لفظ، معنی اور شرح کو ان کے نظام میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ’’
ڈاکٹر صفدر رشید کی مذکورہ رائے سے اتفاق کرتے ہوئے اتنا اضافہ کروں گا کہ فاروقی صاحب نے لفظ، معنی اور شرح کے نئے معیارات مرتب کیے تاکہ کلاسیکی ادب کے ان اثرات کو روکا جاسکے جن سے شعری روایت جمود کی بند گلی میں قدم رکھتی ہے ۔
در حقیقت فاروقی صاحب کی ذات ایک شخصیت نہیں بلکہ شخصیات کی یکجائی ہے ۔ ان کے تنقیدی اور ادبی رجحانات کو ہم اردو ادب کا ایک ‘‘نظامِ شمسی’’ کہہ سکتے ہیں ۔ جس کی روشنی سے ادب کی کائنات قابل تفہیم دائرے میں اپنے تمام رنگ و روپ کے ساتھ نظر آتی ہے۔
شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید کی ایک اکائی ظفرؔ اقبال شناسی بھی ہے ۔ ظفرؔ اقبال کی شعریات میں لفظ، زبان، معنی، روایت شکنی، روایت سازی، فکری تنوع، لسانی تشکیلات کے جتنے تجربات اور قرینے ہیں ۔ شمس الرحمان فاروقی نے نگاہ بصیرت سے ان کے ظاہر و باطن کو دور تک دیکھا، سمجھا اور پرکھاہے ، چاہے وہ کلاسکیت اور ترقی پسند شعریت کے مقابل ظفرؔ اقبال کی جدید شعریات کے انفرادی خدوخال کی شرح ہو یا غالبؔؔ اور میرؔ کی نئی معنویت کا عمل ہو۔ ظفرؔ اقبال کہیں لفظ زبان اور فکری تنوع کے رجحان ساز کے طور پر زیر بحث آتے ہیں یا اردو شاعری میں جدت پسندی کے معمار تخلیق کے روپ میں، ظفرؔ اقبال شناسی ان کے نظامِ تنقید کے لازمی رویے کے طور پر موجود ہے ، فاروقی کی تنقید میں ذکرِ ظفرؔ اقبال کی تمام صورتوں کو جمع کیا جائے اور انہیں تجزیاتی عمل سے گزارا جائے ، تو پہلا تاثر یہ بنتا ہے کہ شعریاتِ ظفرؔ اقبال دراصل شمس الرحمان فاروقی کی نظریاتی تنقید اور نظریہ سازی کی عملی مثال ہے اور با خبر ناقدین شمس الرحمان فاروقی اور ظفرؔ اقبال کے مذکورہ نظریاتی رشتے کے بامعنی ہونے کے حق میں ہیں۔ یہ رشتہ اتنا عمیق اور متنوع ہے کہ فاروقی اور ظفرؔ اقبال کے شارحین نقاد کے بنیادی مباحث میں روح کے طور پر شامل ہے ۔ اس رشتے کے اثبات کی تصویر کھینچیں تو پہلا تاثر فاروقی اور ظفرؔ اقبال کی پہلی ہم آہنگی روایت شکنی کے رجحان کے طور پر دائرہ ادراک میں نظر آتی ہے ۔ اس تناظر میں نظریہ ساز نقاد ڈاکٹر سعادت سعید کا تجزیہ ملاحظہ ہو
‘‘ ظفرؔ اقبال ‘‘گلافتاب’’ کی بدولت معتوب ہے اور شمس الرحمان فاروقی اس حوالے سے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ ان تمام غزلوں میں ریختہ کا اثر نمایاں ہے ، ریختہ کو انہوں نے کھچڑی زبان کا نام دے کر ظفرؔ اقبال کی کھچڑی کاری کی اہمیت واضح کی ہے اور بتایا ہے کہ اس کے ذریعے زبان کی حدود کی توسیع کی کوشش کی گئی ہے ۔ ان کی بے نظیر قادر الکلامی اور جرأت کی تحسین کرتے ہوئے ان کے آئندہ مجموعوں میں موجود حاکمانہ قدرت کا اعتراف کیا ہے ۔ شمس الرحمان فاروقی ظفرؔ اقبال کے انداز کی بے تکلفی ، لہجے کی صفائی اور شعری روانی کے بھی معتقد نظر آتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ غزل کی شاعری میں جو تکلف اور تمکین کا تقاضا کرتی ہے ‘‘ہنومان’’ کی برہنہ گفتاری، شاعری کی متحمل ہو بھی سکتی ہے یا نہیں ؟ پھر وہ خود ہی جواب دیتے ہیں کہ اس برہنہ گوئی کے پیچھے بڑا نظم و ضبط اور معنی کا بڑا احترام و لحاظ بھی ہے ۔ بہر حال ظفرؔ اقبال کی شاعری میں موجود کلاسیکی مزاج کی تعریف میں کوئی نقاد پیچھے نہیں رہا ’’
(بحوالۂ ‘‘ظفرؔ اقبال ایک عہد، ایک روایت’’ مرتب، ڈاکٹر سید عامر سہیل ص:۵۵)
ڈاکٹر سعادت سعید کی آنکھ سے شمس الرحمان فاروقی کی ظفرؔ اقبال شناسی کو دیکھا جائے ۔ تو ظفرؔ اقبال کے تجربات کی معنویت، محرکات نئی غزل کی لفظیات، شعری لسان اور فکری مزاج کے از سر نو تعین کی تفہیم ہوتی ہے ۔ شعریات ظفرؔ اقبال کے اساسی پہلو سے روایت پر اس کی اثر پذیری تک۔ ان تمام ارتقائی مراحل پر فاروقی کی گہری نظر کا ادراک ہوتا ہے ۔
شاعری میں نئی کروٹوں کا نقشہ کھینچے کے لیے فاروقی کی منطقی نگاہ بارہا ظفرؔ اقبال کی شعریات کی سمت اٹھتی ہے ۔ ان کی عہد ساز کتاب ‘‘شعر شور انگیز’’ کی چار جلدوں میں ظفرؔ اقبال کا ذکر فاروقی کے تصور جدیدیت کی وضاحت کے لیے ملتا ہے ۔ ‘‘شعر شور انگیز’’ میں ظفرؔ اقبال شناسی کے تجزیے سے سے قبل ضروری ہے کہ ‘‘شعر شور انگیز’’ میں شعریات ظفرؔ اقبال کا تذکرہ قارئین کے سامنے رکھا جائے ۔ تاکہ شمس الرحمان فاروقی کی ظفرؔ اقبال شناسی کے بنیادی منطقے دریافت کیے جاسکیں ۔ ‘‘شعر شور انگیز’’ سے مثالیں دیکھیں ۔
۱۔۔ اٹھا لینے یا لے جانے کے مضمون کو ظفرؔ اقبال نے بھی ایک عجب اسرار کے ساتھ باندھا ہے ۔
اٹھا کے لے ہی گئے دن کی روشنی میں اسے
مجھے یہ وہم جو سچ پوچھیے تو رات سے تھا’’
(جلد اول۔ ص ۳۳۳)
۲۔‘‘ظفرؔ اقبال نے بھی لاش اور سونے کی زردی کا پیکر باندھا ہے ۔ اغلب یہ ہے کہ انہوں نے اسے میر ہی سے لیا ہو۔ کیوں کہ یہ مجھے کسی اور شاعر کے ہاں نظر نہیں آیا۔
تا صبح دمکتی رہی سونا سی مری لاش
کس زہر کی زردی تھی ظفر نیشِ نفس میں’’
(جلد اول ۔ ص ۶۱۱)
۳۔ہمارے زمانے میں غالبؔا افتخار جالب نے سب سے پہلے غزل میں ظرافت کی اہمیت کو محسوس کیا اور ظفرؔاقبال کے عہد آفریں مجموعے ‘‘گلافتاب’’ کے دیباچے میں ظفرؔ اقبال کی ظرافت کا بطور خاص ذکر کیا’’
(جلد دوم۔ ص ۱۷۷)
۴۔‘‘زیر بحث غزل میں ایک شگفتگی، انانیت اور بانک پن ہے ۔ اور بیان پر قدرت اور لہجے میں کچھ تمکنت بھی ہے ۔ یہ سب باتیں ظفرؔ اقبال کی انیٹی غزل کے بہترین اشعار میں بھی ملتی ہیں ۔’’
(جلد دوم ، ص ۴۰۱)
۵۔‘‘ہمارے زمانے میں ناصرؔ کاظمی اور ظفرؔ اقبال نے معشوق کے سانولے پن کی روایت کو برقرار رکھا ہے ۔
ظفر وہ سانولا ننھا سا ہاتھ رکھ دل پر
کہ وہ بھی دیکھے سفینہ خطر میں اتنا ہے
ظفرؔ اقبال
ہے یوں تو اس کا سانولا پن سانولا ہی پن
چکھو تو اک مٹھاس بھی اس کے نمک میں ہے
ظفرؔ اقبال
ظفرؔ اقبال کا دوسرا شعر روزمرہ کی برجستگی اور مضمون کی ندرت کے باعث میر کے بھی دیوان میں زیب دیتا’’
(جلد دوم، ص ۴۵۵)
۶۔‘‘۔۔۔ اس سے مشابہ مضمون ظفرؔ اقبال نے یوں باندھا ہے
حاکم شہر نے انصاف کیا میرا بھی
کی بہت اہل محلہ کی حمایت اس نے
ظفرؔ اقبال کے یہاں طنز کی کیفیت ہے لیکن طنز اکہرا ہے ۔ ہاں ‘‘اہل محلہ ’’ کے ذکر سے شعر میں ایک پورے معاشرے کا حوالہ ضرور قائم ہوگیا ہے ۔’’
(جلد سوم، ص ۲۳۵)
۷۔‘‘۔۔۔ اس آخری پہلو کو لے کر ظفرؔ اقبال نے اچھا شعر کہا ہے ۔
دل کا پتہ سرشک مسلسل سے پوچھیے
آخر وہ بے وطن بھی اسی کارواں میں تھا
(جلد سوم، ص ۲۸۷)
۸۔‘‘بعد کے شعراء کے یہاں ‘‘گل و پھول’’ نظر نہیں آیا۔ ہاں ظفرؔ اقبال نے اپنے انٹی غزل والے رنگ میں لکھا ہے ۔
ہو اور تو کیا امید تجھ سے
بارے گل پھول ہی مسلوا
(جلد سوم، ص ۳۵۳)
۹۔‘‘معشوق کے مٹاپے کا مضمون شاید صرف میرؔ نے ہی باندھا ہے ۔ ہمارے زمانے میں ظفرؔ اقبال نے البتہ خوش طبعی اور کھلے لہجے میں لکھا ہے ’’
(جلد سوم، ص ۴۳۸)
۱۰۔‘‘ظفرؔ اقبال کے ظریفانہ شعروں میں کہیں کہیں میر والی بات البتہ جھلک اٹھتی ہے ۔ مثلا آنکھوں کی کمزوری کے مضمون پر ظفرؔ اقبال کا شعر ے ۔
عینک دیجیے اگر بدلوا
روز آئے نظر نیا ہی جلوہ
فرق صرف یہ ہے کہ ظفرؔ اقبال کے یہاں (ایسے شعروں میں ) خود پر طنز کا عنصر کم ہے ۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ظفرؔ اقبال اپنے ہدف کو تلملاتے اور زخم کھا کر بیچارگی سے جھلاتے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ ان کے یہاں طنز اور ظرافت میں ابہام نہیں ہے ۔ صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ کون سے لوگ یا کس طرح کے لوگ ان کے ہدف ہیں ۔ مثلا مندرجہ بالا شعر میں ان لوگوں پر طنز ہے جو زندگی میں رومان اور رنگینی کی تلاش میں رہتے ہیں ۔ جن کا خیالِ خام یہ ہے کہ ہمارے چاروں طرف رومانی ( اور غیر رومانی) کامیابی کے امکانات کی دنیا ہے ۔ یا پھر اس شعر میں ان لوگوں پر طنز ہے جو سمجھتے ہیں کہ دیکھنا بہت آسان ہے ’’
(جلد سوم / ص ۶۷۴، ۶۷۵)
۱۱۔‘‘آکر وہ میری بات سنے اور جواب دے
گر یوں نہیں تو پھر یہ شناسائی ختم ہو
ظفرؔ اقبال
یہ اشعار اور اس طرح کے تمام اشعار، غالبؔؔ کے شعر کو ایک طویل و عریض لیکن فوری سیاق و سباق مہیا کرتے ہیں اور یہ دعویٰ مشکل ہے (اگر ناممکن نہیں) کہ اس طرح کے اشعار کا علم ہمیں غالبؔ کے شعر کے بارے میں کوئی علم نہیں عطا کرتا۔ مثلا ظفرؔ اقبال کا شعر سامنے ہو تو غالبؔ کے یہاں معنی کا ایک نیا امکان نظر آتا ہے ’’
(جلد چہارم، ص ۸۶)
۱۲۔‘‘ہمارے زمانے میں ظفرؔ اقبال نے مضمون کو ذرا گھما کر بہت خوب شعر کہا ہے ۔
لے کے جائیں گے جہاں تک مجھے یہ عیب کبھی
غیر ممکن ہے وہاں میرا ہنر لے جائے
(جلد چہارم، ص ۳۱۳)
۱۳۔دل کا پتہ سرشک مسلسل سے پوچھیے
آخر وہ بے وطن بھی اسی کارواں میں تھا
ظفرؔ اقبال
(جلد چہارم، ص ۴۴۴)
۱۴۔‘‘غالبؔؔ اور ظفرؔ اقبال یاد آتے ہیں ۔ جنہوں نے کائی کا مضمون میر جیسی بے تکلفی سے باندھا ہے ’’
(جلد چہارم، ص ۵۲۸)
۱۵۔‘‘۔۔۔ فانی، فیض وغیرہ بے چارے اتنے خود شناس نہ تھے
ایسی خود شناسی تو ظفرؔ اقبال کو ہی ودیعت ہوئی ہے ’’
(جلد چہارم، ص ۴۸۳)
۱۶۔یوں تو کسی چیز کی کمی ہے
ہر شے لیکن بکھر سی گئی ہے
ظفرؔ اقبال
(جلد چہارم، ص ۶۵۰)
۱۷۔‘‘ظفرؔ اقبال نے کہاوت ‘‘وہ ڈال ڈال تو میں پات پات’’ کو تھوڑا سا بدل کر اورمیر کے شعر کی تھوڑی سی پیروڈی کرکے نئی بات پیدا کی ہے
اگر وہ ہوچکا ہے بوٹا بوٹا
تو میں بھی پتہ پتہ ہوگیا ہوں
پیروڈی بھی خراج عقیدت کی ایک شکل ہے ۔ اور ظفرؔ اقبال کے شعر میں تو پیروڈی کے ساتھ ساتھ معنی کے پہلو بھی ہیں ’’
(جلد چہارم، ص ۶۶۳، ۶۶۴)
‘‘شعر شور انگیز ’’ کی چار جلدوں میں ظفرؔ اقبال کے حوالہ جات فاروقی کی ظفرؔ اقبال شناسی کی جہتوں کے اظہارات ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ شعریات میر کی تفہیم کے دوران میں ظفرؔ اقبال کی شاعری کا تذکرہ کیوں بار بار آیا۔ یہ خالصتاً علمی سوال ہے ۔ اس لیے کہ ظفرؔ اقبال کی شاعری جن مباحث میں حوالہ جات کے طور پر شامل ہوئی ۔ وہ سب مباحث متنوع ہیں اور ان کی وضاحت کے لیے ظفرؔ اقبال کی شعری جہتوں کا ذکر ناگزیر تھا ۔ اور وجہ یہ ہے کہ شمس الرحمان فاروقی کی نظر ان امکانات پر ہے ۔جو ظفرؔ اقبال نے شاعری کے ظاہر و باطن کو بدلنے کے لیے دریافت کیے اور انہیں شعری و جود دیا۔ اسی لیے وہ ظفرؔ اقبال کے ہاں تجربات کی مختلف شکلوں کی تنقیدی بصیرت سے وضاحت کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فاروقی نے ظفرؔ اقبال کے شعر میں ظرافت کے خدوخال کی معنویت کو بھی سراہا ہے۔ اس تناظر میں شمس الرحمان فاروقی کے مندرجہ ذیل تجزیات ظفرؔ اقبال شناسی کی وضاحتیں اور اعترافات ہیں
۱۔‘‘۔۔۔ فانیؔ ، فیضؔ وغیرہ بے چارے اتنے خوش شناس نہ تھے ایسی خود شناسی تو ظفرؔ اقبال کو ودیعت ہوئی ہے ’’
(جلد چہارم ، ص ۴۸۳)
۲۔‘‘ہمارے زمانے میں ظفرؔ اقبال نے مضمون کو ذرا گھما کر بہت خوب شعر کہا ہے ۔ ’’
(جلد چہارم ، ص ۳۱۳)
۳۔‘‘ظفرؔ اقبال کا دوسرا شعر روزمرہ کی برجستگی اور مضمون کی ندرت کے باعث میر کے بھی دیوان میں زیب دیتا ’’
( جلد دوم، ص ۴۵۵)
شمس الرحمان فاروقی کی تنقیدی بصیرت دیکھیے کہ انہوں نے ظفرؔ اقبال کی منفرد خلاقیت کے لیے ‘‘خود شناسی کی بامعنی اور موزوں اصطلاح استعمال کی ہے ۔ ظفرؔ اقبال کی مذکورہ خود شناسی ہی ہے جس نے غزل کی ہیئت کو برقرار رکھتے ہوئے اس کے مضامین، مزاج، لفظیات اور اسلوب کو بدلا اور اسے تازگی دی اور یہی وجہ ہے کہ شمس الرحمان فاروقی نے ‘‘شعر شور انگیز’’ کی جلد دوم کے صفحہ نمبر ۱۷۷ پر ‘‘گلافتاب’’ کو عہد آفریں شعری مجموعہ قرار دیا اور اسی جلد کے صفحہ ۱ا۴۰ پر ظفرؔ اقبال کی غزل کے لئے ‘‘انٹی غزل’’ کی اصطلاح برتتے ہوئے یہ رائے دی ۔
‘‘یہ سب باتیں ظفرؔ اقبال کی انٹی غزل کے بہترین اشعار میں بھی ملتی ہیں ’’
مذکورہ حوالہ جات میں شمس الرحمان فاروقی نے ظفرؔ اقبال کی غزل میں جس صفات کی نشان دہی کی ہے ۔ وہ ملاحظہ ہوں۔
۱۔انانیت
۲۔بیان پر قدرت
۳۔لہجے میں تمکنت
۴۔شگفتگی
۵۔بانک پن
سوال یہ ہے کہ فاروقی صاحب نے کن دلائل کی بنیاد پر ‘‘گلافتاب’’ کو ‘‘عہد آفریں ’’ شعری مجموعہ قرار دیا۔ اس سوال کا جواب تب ہی مل سکتا ہے کہ جب ہم اس سوال کو بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر ظفرؔ اقبال روایتی شاعری کرتے یا ‘‘آب رواں’’ کی انفرادیت ہی کو لے کر آگے چلتے تو کیا ممکن تھا کہ شمس الرحمان فاروقی کے تصور جدیدیت کے مرتب کردہ نظامِ تنقید میں ظفر اقبال شناسی کی اکائی بھی وجود میں آتی؟ گویا یہ دراصل اساس ہے کہ ‘‘گلافتاب’’ سے غزل کی روایت نے نئی اور تازہ کروٹ لی ۔
‘‘گلافتاب’’ کی اشاعت کے حوالے سے شمس الرحمان فاروقی کی یہ رائے بھی سامنے آئی کہ ظفرؔ اقبال مرزا غالبؔؔ سے بڑے شاعر ہیں ۔ کئی عشرے گزرنے کے باوجود بھی اس سوال نے ہندو پاک کے شعری حلقوں کو ‘‘پرو ظفرؔ اقبال’’ اور ‘‘انٹی ظفرؔ اقبال ’’ یعنی دو مکاتب فکر میں تقسیم کیا ہے ۔ خود راقم کی چشم دید گواہی دیکھیے کہ حلقۂ ارباب ذوق پشاور کے فورم پر جب بھی جدید غزل کا سوال آتا تو بحث ظفرؔ اقبال کی شعریات کی سمت مڑ جاتی اور اس بحث میں خاطر غزنوی، محسن احسان اور طہ خان جیسی معتبر شخصیات ظفرؔ اقبال کے اثرات کی قائل نظر آتیں۔
شنید ہے کہ شمس الرحمان فاروقی نے یہ رائے ایک ریڈیو مصاحبے (انٹرویو) میں دی تھی اور اسی انٹرویو کو سننے کے بعد نقاد زینب علی نے صلاح الدین پرویز کے ادبی رسالے ‘‘استعارہ’’ میں مطبوعہ مضمون کا آغاز اس جملے سے کیا کہ
‘‘کیا زمانہ آگیا ہے کہ ظفرؔ اقبال کو غالبؔ سے بڑا شاعر قرار دیا جارہا ہے ’’
تو کیا فاروقی صاحب نے ریڈیو مصاحبے میں دی گئی اپنی رائے سے رجوع کرلیا تھا؟َ یہ سوال اہل تحقیق کے لئے چھوڑ دیتے ہیں تاہم شمس الرحمان فاروقی کی یہ رائے کہ ‘‘گلافتاب’’ عہد آفریں کتاب ہے سمیت ان کے تنقیدی تصورات میں ظفرؔ اقبال کی خلاقیت کا اعتراف اور نئی غزل کی تشکیل میں ظفرؔ اقبال کا بارہا ذکر کی معنویت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ‘‘موازنہ غالبؔ و ظفرؔ اقبال ’’ کا سوال تنقید کے جمہوری مزاج کا حصہ ہے اور اس بحث میں شمس الرحمان فاروقی اور اردو تنقیدی روایت اس نکتے پر متفق ہے کہ ظفرؔ اقبال کا شعری اجتہاد روایت شکنی کی مثال ہے اور دیکھا جائے تو روایت شکنی کا اجتہاد غالبؔ شکنی سے آگے کا عمل ہے ۔ غالبؔ شکنی کی حدود مرزا غالبؔ تک ہیں جبکہ روایت شکنی پوری روایت کو بدلنا ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ شمس الرحمان فاروقی نے ظفرؔ اقبال اور غالبؔ کے مقابلے کا نہیں بلکہ تقابلی مطالعے اور موازنے کا دروازہ کھولا ہے اور جب کبھی ‘‘موازنۂ غالبؔ و ظفرؔ اقبال’’ کا عمل تنقید کے اہم دبستانوں کی روشنی میں ہوگا تو اس میں کئی بنیادی سوالات سامنے آئیں گے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ شعریات غالبؔ سے اگر بیدل کے اثرات نکالے جائیں تو غالبؔ کا اپنا اجتہاد کیا رہ جاتا؟
(کہیں طرز بیدل میں غالبؔ کی ریختہ گوئی کو نکالنے سے اسداللہ خان پر قیامت تو نہیں آئے گی ۔ اسے جملہ معترضہ سمجھا جائے ۔)
اس بحث میں فاروقی نے ایک طرح سے جو وضاحتی رائے دی وہ یوں ہے
‘‘گلافتاب’’ کے بارے میں ایک بار میں نے لکھا تھا کہ دیوان غالبؔ کی اول اشاعت (۱۸۴۱ء ) کے بعد اردو غزل کی تاریخ میں دوسرا انقلابی قدم ‘‘گلافتاب’’ کی اشاعت (۱۹۶۶ء ) تھی ’’ (بحوالۂ مقالہ ‘‘طبع رواں، منظر معنی اور بے شمارامکان ’’ از شمس الرحمان فاروقی )
فاروقی صاحب کی ‘‘گلافتاب’’ پر یہ رائے دیوان غالبؔ کو پس منظر میں رکھ کر کی گئی ہے۔ اس زاویے کی معنی خیزی پر ہندوستان کے نقاد اور ادبی رسالے ‘‘اثبات’’ کے مدیر اشعر نجمی کا تبصرہ ملاحظہ ہو ۔ جو انہوں نے شمس الرحمان فاروقی کے نام اپنے مکتوب میں کیا ہے۔ جناب اشعر نجمی لکھتے ہیں
‘‘آپ نے شاید یہ بات سب سے پہلے ‘‘گلافتاب’’ کے دیباچے میں لکھی تھی ۔ اس بارے میں میرا طالب علمانہ استفسار یہ ہے کہ بے شک آپ نے اپنے اس جملے میں ظفرؔ اقبال کو غالبؔ سے بڑا شاعر قرار نہیں دیا ہے ۔ لیکن اس موازنے نے ظفرؔ اقبال کو غالبؔ کا ہم پلہ قرار تو دے ہی دیا’’
(مکتوب اشعر نجمی بنام شمس الرحمان فاروقی ۵ مارچ ۲۰۱۳ء)
‘‘موازنۂ غالبؔ وظفرؔ اقبال’’ کی بحث کسی اگلے مضمون یا نقاد کے لئے چھوڑتے ہوئے ‘‘شعر شور انگیز’’ کے بعد کی تحریروں اور کتب میں شمس الرحمان فاروقی بطور ظفرؔ اقبال شناس کے تجزیے کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس تناظر میں شمس الرحمان فاروقی کے طویل تنقیدی مضمون کا جائزہ ضروری ہے، یہ مضمون ظفرؔ اقبال کی کلیات ‘‘اب تک ’’ میں بھی شامل ہے ۔ علاوہ ازیں یہ پاک و ہند کے کئی ادبی رسائل کی زینت بن چکا ہے ۔ اس مضمون میں ظفرؔ اقبال کی شعری کائنات کی ارتقائی شکل و صورت کی تحلیل نفسی ملتی ہے ۔ لمحۂ موجود میں راقم کے پیش نظر ڈاکٹر سید عامر سہیل کی مرتب کردہ کتاب ‘‘ظفرؔ اقبال ایک عہد، ایک روایت’’ کا نسخہ ہے ۔ جس میں شامل طویل مضمون میں فاروقی صاحب نے اردو شعری روایت کے تناظر میں ظفرؔ اقبال کی شعریات کی قدروقیمت اور اہمیت کا تعین کیا ہے ۔ اس مضمون سے چند اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں تاکہ شمس الرحمان فاروقی کی ظفرؔ اقبال شناسی کے نئے رخ سامنے آسکیں ۔
۱۔ ‘‘ حسرتؔ موہانی نے غزل کے لیے جن باتوں کو لازم قرار دیا ہے (اور جن کا اتباع اندھا دھند کیا گیا۔ اور جو آج بھی بڑی حد تک جاری ہے ) ان میں سے اکثر باتیں کلاسیکی غزل کی شعریات سے بے خبری، اس کے اکثر تصورات کی ناقدری، اواخیر انیسویں صدی کے بعض تنگ خیال اساتذہ اور حالی کے رائج کردہ شعریات پر مبنی تھیں ۔ ان کے برخلاف، ظفرؔ اقبال کی غزل ‘‘روایتی غزل’’ سے باغی ہے اور غزل کی اصل روایت سے اپنا رشتہ استوار کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ معاصر ذہن او فکر کا اظہار کرتی ہے ’’
۲۔‘‘زبان کے بارے میں اس کا رویہ ہمیں بعض جگہ جارحانہ اور ‘‘غیر شاعرانہ’’ محسوس ہوتا ہو تو اس کی وجہ ہرگز یہ نہیں کہ ظفرؔ اقبال کی غزل پٹڑی سے اتری ہوئی ہے بلکہ یہ کہ ہماری تنقید اور غزل کے بارے میں ہماری فکر کلاسیکی صراط مستقیم سے ہٹ کر ‘‘شاعرانہ زبان’’ ، ‘‘غزل کی زبان’’ اور ‘‘تغزل’’ کی بے معنی وادیوں میں گم کردہ راہی کی منزلیں طے کر رہی ہے ’’
۴۔‘‘پہلی بات تو یہ ہے کہ زبان، مضمون ، لہجہ ، ان میں ظفرؔ اقبال جب بے تکلفی، یا ملنگ پن، یا لفنگے پن یا بلند کوشی اور مہم جوئی کا اظہار کرتے ہیں تو اس کے پیچھے بڑا گہرا ریاض اور اردو غزل کی روایت کا بڑا گہرا عرفان ہوتا ہے ۔’’
۵۔‘‘پھر ظفرؔ اقبال کا مزاح ہے جو مزاح المومنین کی طرح محتاط اور شرمایا ہوا سا نہیں ، بلکہ بے جھجک ، بے جھپک ہے ۔ اس میں شدید طنز سے لے کر ‘‘اپنا مقصد آپ ہی ’’ کا معصوانہ رنگ رکھنے والے ظرافت تک کے انداز موجود ہیں ’’
۶۔‘‘دوسری اور شاید زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ظفرؔ اقبال کے مقلدوں اور معاندوں نے ان کی صرف اینٹی غزل (اگر ہم اس اصطلاح کو آج بھی قائم رکھیں ) کو نظر میں رکھا اور ظفرؔ اقبال نے جو اوردسیوں طرح کی شاعری کی ہے ، اسے پلٹ کر دیکھا تک نہیں ’’
۷۔‘‘ظفرؔ اقبال کے یہاں فلسفیانہ محزونی بھی ہے ۔ فارسی کی نفاست اور لطافت بھی ہے ۔ ٹھیٹ اردو کی بے تکلفی اور پنجابی کا جارحانہ انداز بھی ہے ۔ ذاتی المیہ اور کائناتی احساس بھی ہے اور ٹکسٹالی معیاری اردو بھی ہے ۔ بلکہ فارسی ا ور معیاری اردو کو ظفرؔ اقبال نے جس طرح کامیابی سے برتا ہے۔ اس کی مثال آج ۱۹۹۷ء کے زمانے میں بہ مشکل ہی ملے گی ۔ اس کو بیان کرنے کے لیے صرف اتنا کہنا کافی نہیں ہے کہ ظفرؔ اقبال کو کلاسیکی محاورے پر مکمل قدرت حاصل ہے ۔ یہ بات تو بہت سے اچھے شاعروں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ۔ پھر ظفرؔ اقبال کی تخصیص کیا ہے ۔’’
۸۔‘‘ظفرؔ اقبال کے یہاں ایسے شعر کثرت سے ہیں ، جن کے بارے میں کہنا مشکل ہے کہ متکلم کا لہجہ کیا ہے یہ بھی کہ ان کا متکلم مختلف شعروں میں مختلف معلوم ہوتا ہے ’’
۹۔‘‘ ‘آب رواں’ کی اشاعت کے بعد زیادہ تر لوگوں نے محسوس کیا کہ جدید غزل میں تازہ فکری ، زبان پر قدرت اور عروض و آہنگ میں بے تکلفی کی ایک نئی مثال قائم ہو رہی ہے ۔ ’’
۱۰۔ ‘گلافتاب’ کے بارے میں ایک بار میں نے لکھا تھا کہ ‘دیوان غالبؔ’ کی اول اشاعت (۱۸۴۱ء ) کے بعد اردو غزل کی تاریخ میں دوسرا انقلابی قدم ‘‘گلافتاب’’ کی اشاعت (۱۹۶۶ء ) تھی ’’
۱۱۔‘‘اس میں کوئی شک نہیں کہ ظفرؔ اقبال کی غزل پڑھ کر ایک نامیاتی جوش، ایک تخلیقی آبشار کا احساس ہوتا ہے ۔ اس کی غزل سب سے بڑی (یا سب سے نمایاں) خوبی اس کا وفور، اس کی کثرت، اس کی ہما ہمی اور بھراپرا پن (plenitude) ہے ۔ جس کے باعث ظفرؔ اقبال کا کلام تخلیقی فطرت کی بے لگام قوت کا احساس ہے ’’
۱۲۔‘‘ایسا نہیں ہے کہ ظفرؔ اقبال نے خراب شعر نہیں کہے ہیں ضرور کہے ہیں لیکن انہوں نے (عجز نظم کے باعث یا لا پروائی کے باعث) غلط شعر نہیں کہے ہیں ’’
۱۳۔‘‘ ظفرؔ اقبال کے بہت سے شعر حد اعتدال سے متجاوز معلوم ہوتے ہیں لیکن یہ حد وہ ہے جو حسرتؔ موہانی، اصغرؔ گونڈوی، جگرؔ مراد آبادی، فانیؔ بدایونی اور فراقؔ گورکھ پوری وغیرہ نے مقرر کی تھی ۔ غالبؔؔ ، میرؔ، سوداؔ، انشاءؔ، مصحفیؔ ، ناسخؔ اور جرات نے نہیں ’’
۱۴۔‘‘ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ زبان کے ساتھ جو تشدد ظفرؔ اقبال نے کہیں کہیں روا رکھا ہے ۔ وہ اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ وہ ہمارے زمانے کے سب سے قادرالکلام شاعر ہیں ۔ اور زبان کے روایتی اسالیب و قواعد کو وہ بخوبی برت سکتے ہیں اور اپنے حسب دلخواہ برتتے ہیں بھی ۔ زبان اور محاورے میں تصرف وہی کرسکتا ہے ۔ جو زبان اور محاورے سے پوری طرح واقف ہو ۔ ورنہ بات ہی نہ بنے گی ۔’’ا س میں کوئی شک نہیں کہ ظفرؔ اقبال قدم قدم پر اپنی مہارت اور لیاقت کا ثبوت دیتے ہیں ’’
۱۶۔‘‘اگر وہ ‘‘آبِ رواں’’ کی حدود میں رہتے تو معترفین کو موقع کم ملتا۔ لیکن پھر جدید غزل کی وہ توسیع اور جگہ جگہ سے تعمیر نو بھی نہ ہوتی جو ظفرؔ اقبال کے ہاتھوں انجام پاتی ’’
۱۷۔‘‘ظفرؔ اقبال کی تقلید آسان نہیں ’’
۱۸۔‘‘ظفرؔ اقبال کی غزل دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتی ۔ جو ان کی نقل کرتا ہے منہ کی کھاتا ہے اور پھر ظفرؔ اقبال پر برستا ہے کہ آپ شاعری کو خراب کر رہے ہیں ۔’’
۱۹۔‘‘ظفرؔ اقبال کی زبان کے اتنے چرچے ہیں کہ ہم لوگ اکثر یہ پوچھنا بھول جاتے ہیں کہ ظفرؔ اقبال نے اس زبان کو کن مضامین و موضوعات کے بیان کے لیے استعمال کیا ہے ؟ اس زبان سے انہوں نے کیسے پیکر اور استعارے بنائے ہیں ؟ ان کی استعارہ سازی کی قوت، کس طرح کی ہے اور کس چیز میں ہے ؟’’
۲۰۔‘‘ عام حالات میں تو ‘‘آبِ رواں’’ کے مصنف کو زندگی بھر ان اشعار کی کمائی کھانی چاہیے تھی لیکن ظفرؔ اقبال عام شاعر نہیں اور وہ عام حالات میں یقین بھی نہیں رکھتے ’’
۲۱۔‘‘افتخار جالب نے ‘‘گلافتاب’’ کے بنیادی رنگ حسب ذیل بتائے ہیں۔ زبان، تحریر اور مزاح۔ حقیقت یہ ہے کہ ہلکے ہی سہی ، لیکن یہ سب رنگ ‘‘آب رواں’’ میں صاف نظر آتے ہیں ۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ‘‘آب رواں’’ سے ‘‘گلافتاب’’ تک ایسی طویل جست ہے جسے Quantum Jump ہی کہہ سکتے ہیں ’’
۲۲۔‘‘گلافتاب’’ کی محولہ بالا غزلوں کے ساتھ ساتھ ظفرؔ اقبال کی مملکت سخن میں استحکام اور انتظام و انصرام کی علامت کے طور پر ان کے لہجے میں وہ چیز مکمل ہو کر نظر آتی ہے ۔ جسے میں ‘‘حاکمانہ قدرت’’ کا نام دیتا ہوں ’’
۲۳۔‘‘ظفرؔ اقبال کے لئے استعارہ ہمیشہ مکاشفہ اور توسیع ء معنی کے لیے آتا ہے ’’
۲۴۔‘‘استعاروں کی یہ لطافت ‘‘عیب و ہنر’’ کے اشعار میں قدم قدم پر ملتی ہے ’’
۲۵۔‘‘۔۔۔ گویا ظفرؔ اقبال کا کلیات ایک عظیم الشان سٹیج ہو۔ جس پر دنیا روپ بدل بدل کر سامنے آرہی ہو’’۔
۲۶۔‘‘ظفرؔ اقبال بھی کوئی چالیس برس سے اردو غزل میں ایک نئی تھرتھری پھیلا رہے ہیں ۔ اور یہ ابھی تو رکتی ہوئی نہیں معلوم ہوتی’’
ان اقتباسات کو سامنے رکھیں تو شمس الرحمان فاروقی کی عمیق تنقیدی صلاحیت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے ظفرؔ اقبال شناس کے طور پر جدید غزل کی ناگزیر تنقیدی بصیرت مرتب کی اور یوں جدید غزل کی روایت کو تنقید کے مختلف اور منفرد زاویوں سے پرکھا اور ایک اہم علمی و تنقیدی ضرورت کو پورا کیا۔ گویا ظفرؔ اقبال شناسی جدید غزل میں ہر نوع کے تجربات کی تفہیم کے تنقیدی اصول کی شکل ہے ۔ فاروقی کی تنقید کا مزاج مدلل اور منطقی ہے ۔ ان کی نگاہِ بصیرت تاریخی شعور اور روایت سازی کے تقاضوں کا ادراک رکھتی ہے۔ اس لیے انہوں نے ظفرؔ اقبال کے شعریات کی وضاحت ہی نہیں کی بلکہ اس کے کلی وجود کا اور جزیات کا مرحلہ وار مطالعہ پیش کیا۔ اس مطالعے میں ان استفسارات اور اعتراضات کے مدلل جوابات بھی ملتے ہیں۔ جن کے باعث شعریات ظفرؔ اقبال کو روایتی ذہن نے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ سے کام لیا ۔ ظفرؔ اقبال شناسی کی تنقیدی روایت صرف شمس الرحمان فاروقی تک ہی محدود نہیں ۔ اس روایت کی تشکیل میں پاک و ہند کے اہم ناقدین کی حصہ داری بھی ملتی ے ۔ جن میں ڈاکٹر گورپی چند نارنگ، سلیم احمد ، شمیم حنفی، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، ڈاکٹر گوہر نوشاہی، ڈاکٹر طارق ہاشمی، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر تبسم کاشمیری، ڈاکٹر انیس ناگی، ڈاکٹر سعادت سعید، حمیدہ شاہین، حسین مجروح ، غنی غیور، ڈاکٹر ضیاء الحسن سمیت کئی شعری شخصیات کا غور و فکر بھی شامل ہے۔ ان تمام ناقدین اور ادباء و شعراء نے ظفرؔ اقبال کے شعریات کی اپنے اپنے نظریۂ شعر اور تنقیدی بصیرت کی روشنی میں تفہیم کی ہے۔ ان تمام نکات میں ایک ارتقائی مراحل اور کثیر الجہتی تنقید کے رویے ملتے ہیں۔ شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید ظفرؔ اقبال شناسی ایک مستقل موضوع کے طور پر موجود ہے ۔
اور اسی کا فیض ہے کہ ظفرؔ اقبال کے شعر کو موضوع بناتے ہوئے کئی ناقدین نے فاروقی صاحب کے تنقیدی تصورات سے روشنی لی ہے ۔مثال کے طور پر ڈاکٹر سرور الہدی اپنی کتاب ‘‘نئی اردو غزل’’ میں ظفرؔ اقبال کی شعر گوئی پر تجزیہ کرتے ہوئے فاروقی کی تنقید سے یہ نتائج اخذ کرتے ہیں :۔
‘‘شمس الرحمان فاروقی نے ظفرؔ اقبال کی غزل کے بارے میں تین باتیں کہی ہیں اور ان باتوں سے ظفرؔ اقبال کی غزل کا مکمل تعارف ہوجاتا ہے۔ روایتی غزل سے باغٰی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ظفرؔ اقبال غیر ضروری طور پر روایت کی پیروی نہیں کرتا اور ظاہر ہے اس میں فکر اور زبان دونوں شامل ہیں۔ غزل کی اصل روایت سے رشتہ استوار کرنے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ غزل ہر دور میں خود کو تبدیل کرتی رہی ہے اور دوسرے یہ کہ ہر بڑا شاعر غزل میں زبان و اظہار کے معاملے میں فراخ دلی اور جرأت مندی سے کام لیتا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ ظفرؔ اقبال معاصر ذہن اور فکر کا اظہار کرتے ہیں ۔’’
(‘‘نئی اردو غزل’’ از ڈاکٹر سرور الہدی پاکستانی ایڈیشن)
شعبۂ اردو جامعہ اسلامیہ ہندوستان سے وابستہ ڈاکٹر سرور الہدی کے اس تجزیے کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اب ناقدین ظفرؔ اقبال کے لسانی تشکیلات کے ساتھ ساتھ ان کی غزل کی فکریات کو بھی جدید غزل کی اہم قدر سمجھتے ہوئے ان کی غزل کی اہم بنیاد گزاری کو سامنے لا رہے ہیں ۔ اس تناظر میں ڈاکٹر صفدر رشید کی کتاب ‘‘شعر ، شعریات اور فکشن’’ کا ذکر بھی ضروری ہے ۔ (یہ کتاب شمس الرحمان فاروقی کی تنقید کا مطالعہ ہے ۔ جس میں ظفرؔ اقبال کی غزل پر فاروقی کے انتقادی جائز ے کو بھی شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے ۔) کتاب کے صفحہ ۳۲۵ سے یہ ٹکڑا ملاحظہ ہو۔
‘‘جب فاروقی نے ظفرؔ اقبال کے فن پر لکھا تو کافی شور مچا۔ ایسا ہونا کچھ تو فطری تھا اور کچھ یہ بھی ہوا کہ ان کے ایک آدھ جملے کا مفہوم غلط سمجھا گیا۔ مثلا وہ زبان کے خّلاقانہ اور غیر روایتی استعمال پر ظفرؔ اقبال کو غالبؔ کے بعد اہم شاعر قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے ان کے پاس اپنے دلائل ہیں ۔ ۱۹۹۷ء میں فاروقی نے مضمون ‘‘ظفرؔ اقبال، طبع رواں، منظر، معنی اور بے شمار امکانات’’ تحریر کیا جس میں نہ صرف ظفرؔ اقبال کے تجربات کا دفاع کیا بلکہ ان کی شعری بوطیقا بھی دریافت کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک مثالی صورت حال ہے کہ اگر ایک شاعر مروجہ اصول و ضوابط سے گرفت میں نہیں آرہا تو اس کی شاعری کے پاتال میں اتر کر اس کے ماخذ وبوطیقا دریافت کی جائے ’’
(‘‘شعر، شعریات اور فکشن’’ از صفدر رشید)
شمس الرحمان فاروقی جہاں کلاسیکی اور جدید غزل کی فکریات ور اسلوبیات کی بحث چھیڑتے ہیں وہاں تقابلی مطالعے سے بھی اپنے تصورِ جدیدیت کی وضاحت کے لیے ظفرؔ اقبال کے شعر کا حوالہ ضرور دیتے ہیں ۔ یہ سلسلہ صرف ان کی تنقیدی تحریروں کا ہی موضوع نہیں بلکہ ان کے مکالمات اور مکتوبات میں بھی شعریات ظفرؔ اقبال کا ذکر تواتر سے ملتا ہے ۔ یہ تنقیدی نقوش ظفرؔ اقبال کی غزل میں لفظ کے خّلاقانہ استعمال سے لے کر فکر و حسیات کے تنوع تک تفہیمِ ظفر اقبال کا روپ ہیں۔ ان اقتباسات کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ شمس الرحمان فاروقی کی ظفرؔ اقبال شناسی در حقیقت جدید غزل کی بوطیقا کا دوسرا نام ہے۔ فاروقی صاحب نے شعریاتِ ظفرؔ اقبال کی تفہیم کے اصول مرتب کیے اور ان اصولوں سے غزل کی نئی نفسیات اور نئی پوشاک کو اعتبار ملا۔ گویا فاروقی صاحب کی ظفرؔ اقبال شناسی جدید غزل کی روایت کا تصدیق نامہ ہے۔ ظفرؔ اقبال کی شعریات کسی ایک اسلوب کا نام نہیں ہے بلکہ اسالیب کا سلسلہ ہے ۔ جس میں لفظ، تلفظ، اردو میں مقامی الفاظ کے استعمال کی مثال ، خدا، انسان اور کائنات کے نئے رشتوں کے مفاہیم، فکری تنوع اور کلاسیکی شعریات پر مصر ذہنی جمود کو توڑنے کے تجربات کا جلوۂ صد رنگ شامل ہے۔ شعریات ظفرؔ اقبال میں ان خدوخال کی دریافت کی بنیادیں شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید کی دین ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس نظام تنقید نے نئے ناقدین کی تربیت کا اہتمام کیا تاکہ وہ روایت سازی کے نئے تقاضوں کی تکمیل میں جدید شعراء کے جوہرکا ادراک کرسکیں ۔ اور شاعری کے نئے اور بدلتے معیارات کو تہذیبی عمل سمجھیں ۔ ان کے نزدیک شعری روایت جامد شے نہیں ہے ۔ فاروقی صاحب کے خیال میں جدیدیت ہرگز روایت کو رد کرنے کا نظریۂ ادب نہیں ۔ شعریات ظفرؔ اقبال کے انتقادے جائزے بھی مذکورہ فکر کے اظہاریے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے شعریات ظفرؔ اقبال کی جدت پسندی کے عناصر کا کلاسیکیت سے موازنہ کیا ۔ یعنی ان کے نزدیک ظفرؔ اقبال کی نئی غزل کا وجود روایت سازی ہی کا تسلسل ہے اور ظفرؔ اقبال کا تخلیقی ذہن روایت کے انفراد سے کامل طور پر آگاہ ہے ۔ اور ان کے لسانی تجربات دراصل قادر الکلامی ہی کی ایک شکل ہیں۔ ظفرؔ اقبال شناسی کے جو خدوخال شمس الرحمان فاروقی کے تنقیدی تصورات سے بنتے ہیں ۔ ان میں ظفرؔ اقبال کے تصور شعر کے رنگ بھی شامل ہیں اور غزل میں نئی کروڑوں کا ادراک بھی شمس الرحمان فاروقی کے نظام اور تنقید ظفرؔ اقبال کے نظام شعر کی ہم آہنگی صرف جدید تصور شعر تک محدود نہیں بلکہ یہ کلاسیکیت کی ان اقدار پر بھی ہم خیال ہیں ۔ جن کا جمال اردو شعر کی آفاقی صفات کا جوہر ہے ۔ یہ بحث ظفرؔ اقبال کے اسلوبیاتی مطالعے کا حصہ ہے ۔ فاروقی نے ظفرؔ اقبال کی لسانی تشکیلات کے پہلو بہ پہلو ان کے شعری اسلوب میں فارسیت کا جمال بھی سراہا ہے۔ فاروقی کی کتاب ‘‘اثبات و نفی ’’ میں شامل مضمون ‘‘ناصر کاظمی ‘‘برگ نے ’’ کے بعد ’’ کا یہ ٹکڑا دیکھیے۔ جس میں وہ ناصر کاظمی کے شعری اسلوب میں فارسیت کا جمال زیرِ بحث لاتے ہوئے ظفرؔ اقبال کے اسلوب میں مذکورہ صفت کی تعریف میں لکھتے ہیں !
‘‘ ہم عصروں میں صرف ظفرؔ اقبال ہی ان سے زیادہ فارسیت کی صفت سے متصف نظر آتے ہیں ’’
(‘‘ اثبات و نفی ’’ از شمس الرحمان فاروقی ص ۱۵۰)
(ممکن ہے ظفرؔ اقبال کو صرف ‘‘زبان کی توڑ پھوڑ’’ کے حوالے سے جاننے والے نقاد اس جہت پر حیران رہ جائیں )
‘‘فاروقی کی تنقید نگاری کا غالبؔ حصہ شاعری کے مطالعے کے لیے مختص ہے ۔ چاہے کلاسیکی شعریات کا تجزیہ ہو یا جدت پسند رجحانات کی روشنی میں جدید شعریات کی معیار بندی ہو، فاروقی ظفرا قبال کے شعری متون کو تجزیے کی مرکزی حدود میں ضرور رکھتے ہیں ۔ فاروقی کی کتب ‘‘شعر، غیر شعر اور نثر’’ اور ‘‘اثبات و نفی’’ میں بھی ظفرؔ اقبال شناسی کے تنقیدی رویے جدید شعریات کے سلسلۂ تفہیم کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ ‘‘اثبات ونفی ’’ میں بانیؔؔ اور ظفرؔ اقبال کے تقابلی مطالعے میں فاروقی کا نتیجۂ فکر دیکھیے
‘‘یہی وجہ ہے کہ گہری مشابہت کے باوجود دونوں الگ الگ شاعر نظر آتے ہیں ’’
(‘‘اثبات و نفی’’ ص ۲۰۰)
مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر ۱۹۸ پر فاروقی نے بانیؔ کی کامیابی میں دو عناصر کا ذکر کیا ہے ۔ ایک بانیؔ کا اپنا تخلیقی شعور اور دوسرا عنصر ظفرؔ اقبال کا اثر ہے ۔ اسی کتاب میں عشق کے تجربے کے بحث میں فاروقی نے ظفرؔ اقبال کے اس شعر کی معنی خیزی کو سراہا ہے ۔
آیا تھا گھر سے ایک جھلک دیکھنے تری
میں کھو کے رہ گیا ترے بچوں کے شور میں
‘‘اثبات و نفی’’ میں فاروقی نے اپنے تصور شعر کی وضاحت بھی کی ہے ۔ گویا یہ ایک طرح سے جدید شعریات کی حمایت کا جواز بھی ہے ۔ فاروقی لکھتے ہیں
‘‘پچھلے سو برسوں میں غزل نے ایک بڑا نقصان یہ اٹھایا کہ اسے یا تو حالیؔ کے زیر مائل انحطاط ذہن کی پیداوار کہا گیا یا پھر امداد امام اثر اور حسرتؔ موہانی کے زیر اثر عشق کے سادہ معاملات کو سادہ طور پر بیان کرنے کا نام فرض کر لیا گیا۔’’
(‘‘اثبات و نفی’’ ص ۱۷۸، ۱۷۹)
فاروقی نے نئی غزل میں محبوب کی شخصیت کے سوال پر بھی ظفرؔ اقبال کے انفراد کو نمایاں کیا ہے ۔ ان کے الفاظ دیکھیے:
‘‘ظفرؔ اقبال اس نکتہ سے آشنا ہیں ۔ اسی لیے ان کے مطلع میں محبوب کی شخصیت دوئی کا استحکام کرنے کے بجائے ا س کی نفی کرتی ہے ۔
یہاں کسی کو بھی کچھ حسبِ آرزو نہ ملا
کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا
(‘‘اثبات و نفی’’ ص ۱۴۴)
‘‘شعر، غیر شعر اور نثر’’ کے مباحث میں ‘‘قدیم و جدید غزل ، نظم کے نئے آفاق، افسانے اور ناول کے رویے، میزان تنقید میں رکھتے ہوئے فاروقی نے شعریاتِ ظفرؔاقبال کو بھی ایک مثالیے کے طور پر لیا ہے ۔
مثال کے طور پر مضمون ‘‘نظم اور غزل کا امتیاز’’ میں غزل کے مصرعے چھوٹے بڑے کرنے کی کوشش میں ظفرؔ اقبال کے تجربے کو بھی شمار کیا ہے ۔ اسی مضمون میں جدید شعراء کے ہاں مسلسل غزل گوئی میں ظفرؔ اقبال کا نام بھی قدیم رجحان کو آگے بڑھانے والے شعراء میں شامل ہے ۔
مضمون ‘‘شعر، غیر شعر اور نثر’’ میں اردو زبان میں ثقیل الفاظ کے صوتی آہنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس بحث فاروقی میں غزل کی زبان کے تجزیے میں لکھتے ہیں ۔
‘‘اس کلیہ کا سب سے اچھا امتحان غزل کی زبان میں ہوسکتا ہے ۔ سب سے پہلی غور طلب بات یہ ہے کہ تمام اردو و غزل میں (انشا اور ظفرؔ اقبال وغیرہ کی اینٹی غزل کے علاوہ) وہ تمام آوازیں نا مقبول رہی ہیں جو ہندی الاصل ہیں یا عربی سے مختص ہیں ’’
(‘‘شعر، غیر اور نثرصفحہ ۱۹۶)
فاروقی نے نظم اور غزل کے امتیازات کے تعین میں نظم گو شاعر عباس اطہر کی نظم اور ظفرؔ اقبال کے ایک شعر کی موضوعاتی ہم خیالی کا موازنہ بھی کیا ہے ۔ اس موازنے میں انہوں نے شعری تجربے میں شاعر بطور فرد، تجربے یا رد عمل کی نفسیات اور شعری زبان میں استعارے کے کردار کا تجزیہ پیش کیا ہے ۔ فاروقی عباس اطہر کی نظم کے سامنے ظفرؔ اقبال کا شعر رکھتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
‘‘۔۔۔ اس کے برخلاف ظفرؔ اقبال کا شعر دیکھیے
وہ خوف خرابی ہے کہ اتنا نہیں کوئی
اخبار میں جو قتل عزیزاں کی خبر دے
یہاں وہی تجربہ بیان ہوا ہے جو عباس اطہر کا ہے ۔ لیکن اس کی تخلیقی منزل میں واقفیت سے لبریز بیان (لوٹ کھسوٹ، ایک دوسرے کو روندنا، ایک دوسرے کے خون سے بھیگا ہونا، سر پیٹنا، چیخنا چلانا، لیکن آواز نہ دینا، کا مقام آتا ہی نہیں ۔ شاعر بہ حیثیت رکن معاشرہ، تجربہ ، استعارہ یہ اس شعر کی تخلیقی منازل ہیں ۔ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ واقفیت سے صرفِ نظر کرنے کی وجہ سے ہی استعارہ ہی استعارہ رہ جاتا ہے ۔ جو خود پھیل کر اپنے حوالے تلاش کر لیتا ہے ۔’’
(صفحہ ۲۰۱)
اس اقتباس میں نئی غزل اور نئی نظم کی بحث میں نئے سماج کے عکس کو (ظفرؔ اقبال کے شعر کے وسیلے سے ) غزل میں دیکھنے اور دکھانے کی کاوش کی گئی ہے ۔ گویا یہ اس سوال کا جواب ہے کہ کیا غزل نئے سماج کی پیچیدگیوں کی مظہر بن سکتی ہے ؟َ
ایک اور مضمون ‘‘مطالعۂ اسلوب کا ایک سبق’’ ( سوداؔ، میرؔ، غالبؔ) میں بھی شعریات ظفرؔ اقبال کو تقابلی مطالعے میں جگہ دی گئی ہے ۔ مضمون کے آغاز میں بحث کی بنیاد اس زاویے پر رکھی گئی ہے کہ کسی شاعر کی انفرادیت کی پہچان اور پرکھ کا معیار کیا ہوگا؟ سوال کا جواب دیتے ہوئے فاروقی نے شاعر کے اسلوب کو انفرادیت کا پیمانہ قرار دیا ہے ۔ اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے فاروقی لکھتے ہیں :
‘‘مثلاً ہمارے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ غالبؔ یا ظفرؔ اقبال یا میر انیس کے اسلوب کا مطالعہ کرتے وقت اس بات کو بالکل نظر انداز کردیں کہ ان کے اسالیب ان کے ہم عصروں ، پیش رؤں (اور اگر شاعر ماضی کا ہے تو اس کے بعد آنے والوں ) کے سامنے کیا رنگ اختیار کرتے ہیں ۔۔۔ اگر کوئی انگریزی دان شخص اردو پڑھے اور صرف غالبؔ کو پڑھے۔ پھر غالبؔ پر تنقید لکھے تو وہ تنقید نہایت پست درجے کی ہوگی۔ کیونکہ وہ انگریزی دان شخص میرؔ، سوداؔ، انیسؔ اقبال، ظفرؔ اقبال سے ناواقف ہوگا۔ لہذا وہ غالبؔ سے بھی ناواقف ہوگا’’
(‘‘شعر، غیر شعر اور نثرصفحہ ۲۱۱، ۲۱۲)
یہ خاصے کا مضمون ہے اور اردو تنقید میں اسلوبیات اور تقابلی مطالعے کے اصول سازی کے تناظر میں فاروقی کے تنقیدی مزاج کی تفہیم میں کافی معاون بھی ہے ۔ اس اقتباس میں بھی انہوں نے زمانی ترتیب سے اردو شاعری کے بدلتے اسالیب کے ذکر میں اسلوب ظفرؔ اقبال کو ایک پڑاؤ کے درجے پر فائز کیا ہے ۔
اسلوب شناسی کی بحث کو مدلل انداز سے آگے بڑھاتے ہوئے فاروقی نے اسلوب سازی میں لفظیات کی اہمیت کا سوال بھی اٹھایا ہے ۔ وہ اس تناظر میں لکھتے ہیں
‘‘اسلوب شناسی کا ایک بنیادی طریقہ یہ ہے کہ ان الفاظ کا کھوج لگایا جائے جو کسی شاعر کے کلام میں بار بار استعمال ہوتے ہیں ’’۔ اسلوب شناسی میں الفاظ اور اضافت در اضافت کے کردار کے ضمن میں فاروقی ظفرؔ اقبال کے اسلوب کے حوالے سے لکھتے ہیں
‘‘ہمارے عہد میں صرف ظفرؔ اقبال نے اس کی طرف توجہ کی ہے ’’
(‘‘شعر، غیر شعر اور نثرصفحہ ۲۲۴)
(ظفرؔ اقبال کے اشعار سے تراکیب کی مثالیں بھی درج کی گئی ہیں ) زیر بحث طویل مضمون میں ایک اور مقام پر قدیم و جدید فارسی غزل اور اردو قدیم و جدید غزل کے موازے میں غالبؔ، داغؔ، حسرتؔ سے جدید عہد کے شعراء میں فیضؔ، ناصرؔ کاظمی، خلیل الرحمان اعظمیؔ کے ساتھ ساتھ ظفرؔ اقبال کی روایت سازی بھی بحث کا حصہ ہے ۔
مضمون ‘‘جدید ادب کا تنہا آدمی، نئے معاشرے کے ویرانے میں ’’ کا موضوع تنہائی کی گہری حسیات کا شعری اظہار ہے ۔ فاروقی کے نزدیک ذات کی پیچیدگیوں میں تنہائی کے اظہارات روایتی ذہن کے لیے اجنبیت کی مثال ہیں ۔ فاروقی نے جن قدیم و جدید اشعار کو موضوع کی وضاحت کے لیے منتخب کیا ہے ۔ ان میں ظفرؔ اقبال کا یہ شعر بھی شامل ہے ۔
لوگ ہی آن کے یک جا مجھے کرتے ہیں کہ میں
ریت کی طرح بکھر جاتا ہوں تنہائی میں
ظفرؔ اقبال کے درج بالا شعر کی وضاحت فاروقی نے بحث پھیلاتے ہوئے ان الفاظ میں کی ہے :
‘‘اگر ظفرؔ اقبال ریت کی طرح بکھر جانے کا ذکر کرتے ہیں ۔ تو مراد صرف یہ ہے کہ تنہائی میں شاعر کو اپنی ذات پر اعتماد و اعتقاد نہیں رہ جاتا ۔ یہ ایک صورت حال ہے جسے انتہائی زبان میں پیش کیا گیا ہے ۔ شعر کی زبان اسی لیے پیکر اور استعارے سے مملو ہوتی ہے کہ وہ تجربہ کو انتہائی شکل دے کر اسے ممتاز، منفرد اور آسانی سے پہچان میں آنے کے قابل بناتی ہے ۔ شعر کی زبان اگر نہ کرے تو اس کے وجود کا جواز ختم ہوجاتا ہے ’’ (صفحہ ۲۹۹)
فاروقی کے تصورِ شعر کی تفہیم کے لیے یہ مضمون اپنے علمی طرز استدلال کے باعث نئی شعریات کا مقدمہ عمدہ اسلوب میں پیش کرتا ہے ۔ شمس الرحمان فاروقی کی علمی بصیرت نے شاعری کے قدیم و جدید علوم و تکنیک کی روشنی میں بھی شعری روایت کو پرکھا ہے ۔ روشنی کے اس دائرے میں شعر اء کے ہاں ترصیع کی صفت کا ذکر کرتے ہوئے فاروقی ظفرؔ اقبال کے شعر کی تعریف میں لکھتے ہیں :
‘‘میرا خیال ہے کہ غالبؔ کے علاوہ کسی نے ترصیع کو اس کثرت سے استعمال نہیں کیا۔ صرف ہمارے عہد میں آکر ظفرؔ اقبال نے اسے خوب خوب برتا ہے ۔’’ ( صفحہ ۴۲۴)
بحث کو سمیٹتے ہوئے شمس الرحمان فاروقی کی تنقیدی تحریروں میں شعریات ظفرؔ اقبال کے انتقادی جائزوں کو دیکھا جائے۔ تو فاروقی کے تنقیدی زاویوں میں ظفرؔ اقبال کی شعریات کی لفظی، معنوی جہات کی مکمل تصویریں سامنے آتی ہیں ۔ فاروقی نے ایک عالم نقاد کی حیثیت سے ظفرؔ اقبال کی شعریات کے انفرادی نقوش کی وضاحت کی ہے ۔ اور جدید شعری روایت میں شعریاتِ ظفرؔ اقبال کی ہنر مندی کو اپنے کلی وجود میں ان لاعلم یا روایت پرست ناقدین کے لیے قابل فہم بنایا ہے ۔ جن کے نزدیک شاعری کے کلاسیکی معیارات پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا ۔
ان ناقدین کی صف میں وہ نقاد بھی شامل ہیں ۔ جنہوں نے ظفرؔ اقبال کے لسانی تشکیلات ہی کو ظفرؔ اقبال کا کل جوہر سمجھا اور ظفرؔ اقبال کی شعریات میں اسالیب اور فکریات اور حسیات کے تنوع سے کوئی علاقہ نہیں رکھا۔ شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید میں ظفرؔ اقبال صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک پوری جدید شعری روایت اور جدت پسند شاعری کی تحریک کے بنیاد ساز بھی ہیں ۔ اور اس روپ میں بقول ڈاکٹر تبسم کاشمیری ظفرؔ اقبال بیسویں صدی کا ادبی مرتد ہے ۔
یہ طے ہے کہ ظفرؔ اقبال نے ایک ایسے مشکل عہد میں غزل کی روایت کو جدت پسند لفظیات، اسالیب، تجربات، فکر و احساس کی روشنی دی۔ جب غزل جاگیردارانہ عہد کی ‘‘باقیات’’ کے الزام کی زد پر تھی ۔ اور نئی نظم تحریک کے بہاؤ میں ڈوب رہی تھی۔ ظفرؔ اقبال بھی جدید غزل کے ان معماروں میں شامل ہیں ۔ جنہوں نے غزل کو نئی معنویت اور شناخت دی ۔ یقینا شعریاتِ ظفرؔ اقبال کے کسی ایک رخ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم شعریاتِ ظفرؔ اقبال کی ہمہ گیر جہتوں اور ان کے بیسویں صدی اور اکیسویں صدی کی شعری روایت پر اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے کہ ظفرؔ اقبال شناسی سے اختلاف رائے کے لیے ضروری ہے کہ شمس الرحمان فاروقی کے نظام تنقید میں ظفرؔ اقبال شناسی کی جہتوں کا علم و حکمت کے ساتھ مطالعہ کیا جائے ۔ جب جب روایت شکنی اور روایت سازی کے خمیر سے بنی ہوئی شعریات ظفرؔاقبال ادبی فتوی گری’’ کی زد میں رہتی ہے ۔ تو اس تناظر میں شمس الرحمان فاروقی کا یہ تجزیہ کتنا بر محل لگتا ہے :
‘‘ظفرؔ اقبال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اپنی شاعری کو، بلکہ بہت سے دوسرے شاعروں کو حتیٰ کہ پوری جدید شاعری کو گم راہ کیا۔ اگر یہ صحیح ہے تو یہ بہت بڑا اعزاز ہے ۔ کیونکہ ایک پوری جدید شاعری کو گم راہ کرنے کا مطلب ہے ۔ شاعری کا پورا رخ بدل دینا۔’’
(‘‘اثبات و نفی’’ از شمس الرحمان فاروقی صفحہ ۱۹۸)