شعر شور انگیز: ایک تجزیاتی مطالعہ

پروفیسر مرزا حفیظ اوجؔ
(معاون مدیر: سہ ماہی ورثہ نیو یارک)
صدر شعبہ علوم اسلامیہ، پیسفک گروپ آف کالجز ملتان

شمس الرحمٰن فاروقی کی شہرہ آفاق تنقیدی کتاب “شعر شور انگیز” اردو تنقید میں ایک انقلابی حیثیت رکھتی ہے۔ “شعر شور انگیز” بلاشبہ اردو کی تنقیدی تاریخ میں نقطۂ آغازکی حیثیت رکھتی ہے جہاں سے جدید تنقید، لسانیات، اور ساختیات کا تعامل اردو غزل کے ساتھ جوڑا گیاہےساتھ ہی اس کتاب میں روایت، تشکیل معنی، اسلوب، صنفِ سخن، لسانیاتی تجزیہ اور بین المتونی آہنگ جیسے جدید تنقیدی اصطلاحات کو اردو تنقید میں شامل کیا۔ہر جلد میں شمس الرحمن فاروقی نے نہ صرف شعری روایت پر گہرائی سے روشنی ڈالی بلکہ قاری کو اپنی فکر میں شریک کیا۔ یہ ایک عہد ساز کتاب ہے۔ اس نے اردو میں جدید تنقیدی زاویے متعارف کروائے، قاری کو دیوانی تفہیم کی نئی جہتوں سے روشناس کروایا، اور شاعری کی زبان، اسلوب اور معنی پر نظریاتی اور تجرباتی سطح پر غوروخوض کیا۔اس کتاب کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہاں اشعار کو محض تاریخی یا اخلاقی پیمانوں پر پرکھنے کے بجائے، انہیں ادبی، لسانی اور جمالیاتی سطح پر سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ کتاب اردو ادب کے ہر سنجیدہ قاری، محقق اور ادیب کے لیے لازمی مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔
جلد اول:غالب کی غزلوں کا تجزیاتی مطالعہ
فاروقی نے غالب کے کلام کے معنیاتی ڈھانچے کو نئی بنیادوں پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ اس جلد میں غالب کے شعر کی ساخت، مضمون آفرینی، جمالیاتی معاملات اور زبان کی جدت کا مفصل تجزیہ کیا گیا ہے۔اس جلد کے اہم نکات میں غالب کے شعر کی کثافتِ معنی کا مطالعہ،قاری کی شرکت کو معنی آفرینی کا ایک ذریعہ قرار دینا، شعر میں موجود لسانی رمزیت (linguistic symbolism)کو سمجھنے کی کوشش اور غالب کی شاعری میں فلسفہ، تصوف، شخصیت اور لسانی جدت پر گفتگو شامل ہیں۔ اس ضمن میں شمس الرحمن فاروقی پہلی جلد میں لکھتے ہیں:
“غالب کے ہاں شعر، ایک مکالمہ ہے کبھی خود سے، کبھی کائنات سے، اور کبھی قاری سے”۔ (1)
“شعر شور انگیز” کی جلد اول کی بنیاد اس نظریے پر رکھی گئی ہے کہ اردو شعر، بالخصوص غزل، محض الفاظ کا جمالیاتی کھیل یا رومان کے اظہار کی زبان نہیں بلکہ ایک پیچیدہ، تہہ دار، اور فکری طور پر زرخیز صنف ہے، جو اپنی دنیا اور منطق خود خلق کرتی ہے۔شمس الرحمن فاروقی کا سب سے اہم تنقیدی تصور “معنی آفرینی” ہے، یعنی شعر محض ایک “مطلب” نہیں دیتا بلکہ معانی کا امکاناتی دائرہ کھولتا ہے۔جیسا کہ مصنف نے لکھا:
“غالب کا شعر دراصل قاری کو اپنی معنویت میں شریک کر لینے والا کلام ہے۔ وہ معنی کو مکمل نہیں کرتا، بلکہ اس میں قاری کے لیے ایک راہ چھوڑ دیتا ہے کہ وہ خود معنی کو مکمل کرے۔ یہی عظمتِ شعر ہے۔”(2)
یہ اقتباس ظاہر کرتا ہے کہ غالب کا کلام جامد اور حتمی معنی نہیں دیتا، بلکہ قاری کو متحرک کرتا ہے کہ وہ اپنی تعبیر پیدا کرے۔شمس الرحمن فاروقی نے وضاحت کی ہے کہ غالب کی زبان سطحی طور پر مشکل ضرور ہے، مگر مقصد صرف زبان کی بازی گری نہیں، بلکہ اس پیچیدگی کے پیچھے فلسفیانہ اور داخلی کرب کی تصویریں موجود ہیں۔
“غالب کے اشعار میں جو دشواری ہے، وہ معنی کی تہہ داری سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ محض الفاظ کی غیربیانی مہارت سے۔”(3)
یہ بات اسی تصور کا اعادہ ہے کہ مشکل پسندی غالب کی مجبوری یا نمائشی انداز نہیں بلکہ گہری فکری سطح پر ایک جائز شاعرانہ روش ہے۔شمس الرحمن فاروقی اس بحث میں بھی داخل ہوتے ہیں کہ آیا غالب کا کلام زیادہ جذبے پر مبنی ہے یا عقل پر؟ اور بتاتے ہیں کہ غالب کے ہاں دونوں پہلو امتزاج میں آتے ہیں، یعنی جذباتی صداقت کو فکری عمق کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔یہی نکتہ غالب کو دیگر شعراء سے ممتاز کرتا ہے، کہ اس کے ہاں جذبہ اور فکر کی ہم آہنگی نظر آتی ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے غالب کی شاعری کو روایتی صوفیانہ تنقید سے نکال کر ایک زیادہ نفسیاتی اور فلسفیانہ بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔جیسا کہ انہوں نے لکھا:
“غالب کا تصوف وہی ہے جو ایک حساس، شعور یافتہ، داخلی تنہائی سے آشنا انسان کا ہو سکتا ہے، نہ کہ کسی پیرِ کامل کا۔”(4)
غالب کا عرفان معروضی حقیقت سے زیادہ داخلی تجربے سے وابستہ ہے۔شمس الرحمن فاروقی واضح کرتے ہیں کہ غالب صرف مضامین نہیں برتتے بلکہ شعر کے اندر ایک ساختی تعادل (Structural Harmony) پیدا کرتے ہیں جو قاری کو شعری کائنات میں داخل کرتا ہے۔یہ تصور جدید ادبی تنقید کے اصولوں کے مطابق غالب کے اشعار کو ایک خودمختار ٹیکسٹ کے طور پر دیکھنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کی تنقید روایتی تشریحی اسلوب سے مختلف ہے۔ وہ غالب کو صرف ایک شاعری کی روحانی یا جمالیاتی سطح پر نہیں بلکہ لسانی، جمالیاتی، فکری، اور تہذیبی حوالوں سے دیکھتے ہیں۔اس ضمن میں معروف نقاد شمیم حنفی نے شمس الرحمن فاروقی کے حوالے سے نقل کیا:
“شمس الرحمن فاروقی نے شعر شور انگیزکے ذریعے اردو تنقید کو ایک نئی معروضیت، فلسفیانہ گہرائی اور بین الاقوامی وقار عطا کیا۔”(5)
جلد دوم:میر تقی میرکی شاعری کا تنقیدی مطالعہ
میر کی شاعری کی لطافت، سادگی، اور داخلی کرب کو جدید شعری تنقید کے پیمانے سے پرکھا گیا ہے۔ اس جلد میں میر کے **تخلیقی شعور، نسوانیت، جذباتی وارفتگی اور غم کی ثقافت کو موضوع بنایا گیا ہے۔اس جلد کے اہم نکات میں میر کی شخصیت اور اس کا ظہور شاعری میں، سہل ممتنع روایت ، عشق، صوفیانہ رجحانات اور ثقافتی غم کا جمالیاتی تجزیہ اور میر کے شعری اسلوب میں موجود بیان کی غیر معمولی خود مختاری شامل ہیں۔جیسا کہ مصنف نے لکھا:
“میر کے ہاں جو غم ہے، وہ ذاتی ہو کر بھی اجتماعی معلوم ہوتا ہے، گویا وہ ہر دل کا غمگو ہے”۔ (6)
“شعر شور انگیز” کی جلد دوم میںشمس الرحمن فاروقی نے اردو غزل کے “بزرگ شاعر” میر تقی میر کو زیرِ بحث لا کر ایک تاریخی، لسانی، اور جمالیاتی مکالمہ قائم کیا ہے۔ فاروقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ میر کو اکثر محض ایک سنجیدہ، رنجیدہ اور عاشق صادق شاعر سمجھا گیا، جبکہ ان کی شاعری میں ایک “مکمل جمالیاتی نظام” پوشیدہ ہے۔شمس الرحمن فاروقی اس غلط عمومی تصور کی تردید کرتے ہیں کہ میر کی شاعری صرف آہ و زاری اور غم و الم کا بیان ہے۔ وہ میر کو ایک فکری، تخلیقی اور شعوری شاعر قرار دیتے ہیں۔جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
“میر کا غم، صرف عشقیہ احساس نہیں، بلکہ تہذیبی شعور اور داخلی جمالیات کی ایک پختہ تصویر ہے۔”(7)
میر کی شاعری کو اس زاویے سے دیکھنا اُن کے تخلیقی مقام کو پہلے سے بلند کرتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے اس پر زور دیا ہے کہ میر کی سادہ زبان دراصل سہل ممتنع کی اعلیٰ مثال ہے۔ سادہ نظر آنے والی زبان میں بھی ایک پیچیدہ جمالیاتی ساخت کام کر رہی ہوتی ہے۔جس کا اظہار کرتے ہوئے فاروقی صاحب لکھتے ہیں:
“میر کی سادگی محض سہل گوئی نہیں، بلکہ فن کا وہ کمال ہے جو قاری کو محسوس ہونے کے باوجود توضیح کے تقاضے سے دور رکھتی ہے۔”(8)
یعنی میر کی زبان میں چھپے “لازبانی اظہار” کو فاروقی نے بین السطور محسوس کیا ہے۔شمس الرحمن فاروقی کے مطابق میر کا غم شخصی نہیں بلکہ اجتماعی اور تہذیبی لاشعور کا حصہ ہے، اس لیے انہوں نے میر کے غم کو صرف “عاشقانہ” زاویے سے نہ دیکھنے کی تلقین کی۔اسی طرح فاروقی نے روایتی تنقید سے ہٹ کر معشوق کو بھی ایک استعاراتی وجود کے طور پر دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میر کا عاشق صرف “محبت کا مارا” نہیں، بلکہ ایک ایسے سماج سے شاکی ہے جہاں قدرِ انسانیت مٹ رہی ہے۔فاروقی میر کے ہر شعر کو ایک مکمل تخلیقی اکائی سمجھتے ہیں، جس میں صرف جذبات ہی نہیں بلکہ ایک “لسانی نظام” اور فنی ساخت کی وحدت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ وہ خود اس ضمن میں لکھتے ہیں:
“میر کا ایک شعر بھی مکمل ساخت رکھتا ہے، جسے اس کے وجدان، روایت اور اظہار کے مشترکہ تفاعل سے سمجھا جا سکتا ہے۔”(9)
یعنی ہر شعر کو سیاق و سباق، لسانی اشاریت، اور ثقافتی شعور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔فاروقی کی تنقید نے اردو شعری روایت کو صرف ماضی کا بوجھ نہیں سمجھا بلکہ اسے فعال روایت (active tradition) قرار دیا۔ میر بھی ان کے نزدیک ایک “زندہ روایت” ہیں، جس کی تہیں وقت کے ساتھ کھولی جا سکتی ہیں۔”شعر شور انگیز (جلد دوم)” شمس الرحمن فاروقی کا وہ کارنامہ ہے جس میں میر تقی میر کو ایک ایسے نئے تنقیدی سانچے میں پیش کیا گیا ہے جو انہیں محض دکھی شاعر نہیں دکھاتا بلکہ ایک جمالیاتی مفکّر، تہذیبی راوی، اور لسانی فنکار کے طور پر منواتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے میر کی عشقیہ شاعری میں معنی کی گہری تہہ داری، لسانی ساخت، انسانی تجزیہ اور تاریخی شعور کو نمایاں کیا ہے۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ نے شمس الرحمن فاروقی کے حوالے سے یوں لکھا:
“شمس الرحمن فاروقی نے میر جیسےسادہ گوشاعر کو اس کی فکری گہرائیوں اور جمالیاتی جہات کے ساتھ متعارف کرایا۔”(10)
ڈاکٹر وزیر آغا کے مطابق:
“شمس الرحمن فاروقی کی نظر میں میر ایک جمالیاتی رویہ ہے، نہ صرف ایک شخصیت۔ یہی ان کی اصل کامیابی ہے۔”(11)
جلد سوم: اردو غزل کی عمومی ساخت، مختلف شعرا کا تقابلی مطالعہ
اس جلد میں فاروقی نے میر و غالب کے مابین تقابل کو مزید وسعت دی، اور ساتھ ہی دوسرے شعرا جیسے مصری، سحر، ناسخ، آتش وغیرہ کے کلام کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ شعر شور انگیز کی اس جلد کے مندرجات میں غزل کی صنف میں روایت اور تجربے کا باہمی ربط،غزل کے اندرونِ نظمیات کا تجزیہ، مختلف شعرا کے اندازِ بیاں کا موازنہ اورتشکیلِ معنی اور اسلوب کے فرق پر بحث پربحث موجود ہے۔ اس حوالے سے شمس الرحمن فاروقی نے لکھا:
“شعر صرف ایک پیغام نہیں، بلکہ ایک تجربہ ہے، اور اس کی تفہیم فقط لغوی مفہوم سے ممکن نہیں”۔(12)
فاروقی کی کتاب “شعر شور انگیز” کے ابتدائی دو جلدوں میں غالب اور میر کی تخلیقی شخصیات کے انفرادی مطالعے پیش کیے گئے ہیں جبکہ تیسری جلد میں فاروقی صاحب نے غزل کی صنف کو بحیثیت مجموعی، اور میر و غالب سے وابستہ مختلف فکری و فنی رجحانات کو وسیع پیمانے پر پرکھا ہے۔ اس جلد کی انفرادیت یہ ہے کہ یہاں اردو غزل کی لسانیات، ساخت، شعری روایت، اور حسن کی تفہیم کے پہلوؤں پر منظم اور گہرائی سے بحث کی گئی ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے اس مسئلے کا تجزیہ کیا ہے کہ آیا غزل کا اسلوب اور مضمون ایک روایتی قاعدہ بند انداز ہے، یا غزل ایک تخلیقی تجربہ ہے جس کا ہر شعر اپنی الگ شناخت رکھتا ہے؟ان کا مؤقف ہے کہ غزل کی روایت جمود نہیں، بلکہ ایک متحرک اور جاندار روایت ہے، جو بدلتے زمانے، قاری اور سیاق کے ساتھ نئے معانی کو جنم دیتی ہے۔جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا:
“غزل کی روایت ایک زنجیر نہیں، بلکہ ایک دریا ہے، جس میں شاعر اپنے شعور، زبان اور جمال کی مٹی گھول کر اسے نیا رخ دیتا ہے۔”(13)
فاروقی نے تیسرے جلد میں میر اور غالب کے اسلوب، فکر، اور لسانی شعور کا نہایت دلچسپ اور نکتہ رس تقابلی تجزیہ پیش کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ:”میر کا کلام جذباتی صداقت اور نفس انسانی کی داخلیت سے جڑا ہوا ہے”۔اور غالب کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ”غالب کا شعر تفکر، تعقل اور معنی آفرینی کا مظہر ہے”۔یہ تقابلی تجزیہ ہمیں دونوں شعرا کی فکری سمتوں کو واضح طور پر الگ شناخت دیتا ہے۔شمس الرحمن فاروقی قاری کو اب صرف ایک “پیغام وصول کرنے والا” نہیں سمجھتے، بلکہ وہ قاری کو معنی پیدا کرنے والا فعال عنصر (active agent) باور کراتے ہیں۔ وہ شعر کو ایک کھلا نظام مانتے ہیں جہاں قاری کی بصیرت اور شعور اشعار کی نئی پرتیں دریافت کرتا ہے۔اسی ضمن میں شعر شور انگیز میں شمس الرحمن فاروقی نے لکھا:
“شعر محض کہنے والے کا بیان نہیں، سننے والا بھی اسے اپنی فکری اور نفسی حالت سے ایک نئی صورت دے سکتا ہے۔”(14)
یہ جدید لسانیاتی تنقید (جیسے رولان بارت، ڈریدا، اور ریڈر رسپانس تھیوری) سے متاثر ایک زاویہ ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے اردو شعر کو ایک ساختی نظام (structural system) کے طور پر پڑھا ہے، جس میں معنی ایک مخصوص ثقافتی، تاریخی اور ادبی سیاق میں پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے میر و غالب کے ساتھ ساتھ ناسخ، مصحفی، آتش، فائز اور دبیر وغیرہ کے اشعار میں بین المتونیت کے مظاہر کی نشاندہی کی ہے۔فاروقی نے اس جلد میں غزل کو محض ذاتی اظہار کا ذریعہ سمجھنے کی بجائے، ایک تہذیبی، سماجی اور جمالیاتی رویہ قرار دیا ہے۔ وہ میر و غالب کے کلام اور دیگر شعرا کی مثالوں کے ذریعے یہ واضح کرتے ہیں کہ اردو غزل شخصی اور اجتماعی شعور کی روایت ہے۔جیسا کہ وہ رقمطراز ہیں:
“اردو غزل، تہذیب کی ایک جمالیاتی صورت ہے۔ اس میں فرد اور معاشرہ، عقل اور جذبہ، کوشش اور قواعد سب ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں۔”(15)
شمس الرحمن فاروقی کا کمال یہ ہے کہ وہ غیر ضروری اصطلاحات، مغربی تھیوریز کا اندھا اتبّاع یا محض الفاظ کی بازی گری سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اس قدر عالمانہ مہارت رکھتے ہیں کہ جدید نظریات کو اردو تہذیب و شاعری کی روح میں جذب کر کے پیش کرتے ہیں۔مثلاً رولان بارت کے “مصنف کی موت” (Death of the Author) والے نظریے کو فاروقی اردو غزل میں بھی نافذ کرتے ہیں، مگر اس انداز سے کہ اردو قاری کو اجنبیت کا احساس نہ ہو۔”شعر شور انگیز جلد سوم” اردو غزل کے فنی، فکری اور لسانیاتی تجزیے کا نادر نمونہ ہے۔ فاروقی نے غزل کو محض عشقیہ شاعری نہیں بلکہ ایک جمالیاتی تہذیب اور فکری زبان کے طور پر پیش کیا۔اس جلد کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ یہاں تنقید ادب کی خدمت کرتی ہے، نہ کہ اس پر راج کرتی ہے۔یہ جلد اردو کے سنجیدہ طالب علم، محقق، ناقد اور شاعر سب کے لیے ضروری مطالعہ کی حیثیت رکھتی ہے۔شعر شور انگیز کے جلد سوم کے حوالے سے ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے اپنی کتاب “اردو غزل اور تہذیبی رویے” میں لکھا:
“اردو غزل پر اس سطح کا تنقیدی کام صرف فاروقی ہی کر سکتے تھے، کیونکہ ان کے پاس بدلتے متن کو پڑھنے کی آنکھ اور ذہن ہے۔”(16)
پروفیسر ظفر اللہ باقر لکھتے ہیں:
“شمس الرحمن فاروقی نے شعر شور انگیز کی تیسری جلد میں اردو غزل کو تاریخ، فلسفہ، نفسیات اور جمالیات کے سنگم پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔”(17)
جلد چہارم :کلی تنقیدی مباحث اردو غزل کی روایت کا فلسفیانہ اور ساختیاتی جائزہ
اس جلد میں اردو غزل کے فلسفہ، ساختیات، اور معنی آفرینی پر تفصیلی مباحث ہیں۔ اشعار کا معنوی مطالعہ اب ایک نظریاتی فریم ورک کے تحت پیش کیا گیا ہے۔شعر شور انگیز کی جلد چہارم میں ساختیات (Structuralism)، پس ساختیات (Post-structuralism) اور اردو غزل، فاروقی کے نظریہ “معنی آفرینی” کی تفصیل، قاری، شاعر اور متن کے درمیان تفاعل (interaction) کی نوعیت اور اردو غزل کے جمالیاتی اصول کو خوصیت کےسا تھ زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ جیسا کہ
“شعر کی پہچان اس سے نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے، بلکہ اس سے ہے کہ وہ کیسے کہتا ہے”۔(18)
“شعر شور انگیز” کی پہلی تین جلدیں غالب، میر اور دیگر شعرا کے شعری تجزیات پر مرکوز تھیں۔ لیکن جلد چہارم ایک فکری اور نظریاتی “مجموعہ نتائج” ہے۔ یہ جلد اردو غزل کی مفہوم سازی (Meaning-making)، لسانیات (Linguistics) اور جمالیاتی تنقید (Aesthetics) پر نہایت بلند سطح کے مباحث پر مبنی ہے۔یہ جلد گویاشمس الرحمن فاروقی کا وہ “نظریاتی اعلامیہ” ہے جو اردو تنقید کے ڈسکورس کو ایک بین الاقوامی فکری نظام سے ہم آہنگ کرتا ہے، مگر مکمل طور پر ظہور اردو شعریات میں کرتا ہے۔فاروقی کے مطابق شعر کی اصل خوبی اس کی معنی آفرینی (Meaning Generation) میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ یہ تصور مستعار لیتے ہیں کہ شعر کوئی ایک “جامد معنی” نہیں دیتا بلکہ قاری، سیاق، زبان، اور ثقافت کے باہمی تعامل سے نئے معانی تخلیق کرتا ہے۔جیسا کہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا:
“معنی پہلے سے موجود نہیں ہوتا؛ وہ قاری اور شعر کے مابین تفاعل سے جنم لیتا ہے۔”(19)
یہ تصور فاروقی کی پوری تنقیدی فکر کا مرکز ہے، جس نے اردو شعر فہمی کو نئی سمت عطا کی۔اس جلد میں اردو غزل کی فنی ساخت کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا گیا ہے۔ فاروقی اسے ایک مخصوص ساختی نظام (Structural System) قرار دیتے ہیں جو صدیوں کی روایت، زبان، صنف، اور قاری کی توقعات سے بندھ کر مکمل ہوتا ہے۔
“غزل ایک ایسا ساختی نظام ہے جس میں ہر شعر بذاتِ خود ایک خودمختار اکائی ہے، مگر وہ اپنی صنفی روایت سے جدا نہیں۔”(20)
شمس الرحمن فاروقی کے نزدیک غزل کی تکثیریت اس کی سب سے بڑی فنی و جمالیاتی خوبی ہے۔فاروقی نے یہاں صفاتی انداز میں بتایا کہ شعر محض “خیالات کا اظہار” نہیں بلکہ ایک لسانی واقعہ ہے، جو لفظ، ساخت اور رمزیت کی مدد سے اپنا اثر پیدا کرتا ہے۔اس میں لسانیات اور ساختیات کے ان تصورات کو فاروقی اردو غزل پر مکمل ثقافتی سیاق کے ساتھ منطبق کرتے ہیں۔جدید نظریات کے مطابق، خاص طور پر Reader-Response Criticism کے متاثر کن پیرائے میں، فاروقی نے قاری کو شعر کی تفہیم میں مرکزی حیثیت دی ہے۔وہ کہتے ہیں:
“شعر کو پڑھنا صرف پڑھنا نہیں بلکہ نئے معنوں کو زندہ کرنا ہے۔ قاری ایک خالق کی طرح شعر کے عمل میں شریک ہوتا ہے۔”(21)
اس جلد میں شمس الرحمن فاروقی نے اردو تنقید پر شدید نکتہ چینی بھی کی ہے کہ اس نے غزل کو صرف “عشق و عاشقی” کی پابند صنف سمجھا، اور اس کے لسانی، فنی اور فکری پہلوؤں کو نظر انداز کیا۔یہی وہ بات ہے جس نے فاروقی کی تنقید کو ایک نظریاتی افق عطا کیا۔اسی ضمن میں انہوں نے لکھا:
“اردو تنقید نے غزل سے یا تو صرف جذباتی سچائی مانگی، یا تاریخ نویسی کی کوشش کی؛ کسی نے یہ نہیں دیکھا کہ غزل ایک فنی نظام بھی ہے جو خود میں عقل و عشق کی جمالیات رکھتا ہے۔”(22)
“شعر شور انگیز جلد چہارم” شمس الرحمٰن فاروقی کی علمی و فکری کاوشوں کا نقطۂ عروج ہے۔ یہ نہ صرف اردو شاعری کی تفہیم میں ایک نظریاتی انقلاب ہے بلکہ اردو تنقید کو عالمی ادبی مکالمے کا حصہ بنانے کی سنجیدہ کوشش بھی ہے۔یہ جلد واضح کرتی ہے کہ غزل صرف عشق و رنج کی روداد نہیں بلکہ ایک لسانی اظہار، فکری تجربہ اور جمالیاتی مثالیت ہے، جو زمان و مکان سے بلند ہو کر خود ایک فنّی تہذیب بن چکی ہے۔ڈاکٹر گوپی چند نارنگ رقم طراز ہیں:
“فاروقی کی چوتھی جلد جیسے اردو غزل کا فلسفیانہ کُل ہے جس میں لفظ سے لے کر احساس تک ہر چیز کی تشریح اپنی گہرائیوں کے ساتھ کی گئی ہے۔”(23)
پروفیسر شمیم حنفی کے بقول:
“جلد چہارم دراصل اردو تنقید کے فکری بحران کا حل ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ شعر صرف زبان کا نمونہ نہیں، فہم کا تجربہ بھی ہے۔”(24)
“شعر شور انگیز” اردو تنقید میں ایک عہد کا نام ہے۔یہ صرف شمس الرحمٰن فاروقی کا علمی کارنامہ نہیں بلکہ اردو ادب کا وہ نظریاتی سنگ میل ہے جس سے گزر کر اردو قاری شعر کو صرف “پڑھتا” نہیں بلکہ سمجھتا، برتتا اور نئے معانی میں تخلیق کرتا ہے۔یہ چاروں کتب اس بات کا اظہار ہیں کہ شعر صرف جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ ایک فکری سرگرمی، لسانی تخلیق، اور جمالیاتی تجربہ بھی ہے اور تنقید اس تجربے کی تعبیر، تسلیم اور تشریح ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی کی چار جلدوں پر مشتمل تصنیف “شعر شور انگیز” اردو تنقید کا ایسا شاہکار ہے جس نے نہ صرف اردو غزل کی تفہیم کا زاویہ بدلا بلکہ خود اردو تنقید کو ایک نیا نظریاتی، لسانی، اور جمالیاتی آہنگ عطا کیا۔یہ کتب تنقید کو محض تعارف یا تاریخی پس منظر تک محدود رکھنے کے بجائے اسے شعری متن کے اندرون میں اترنے کا ایک طریقۂ کار (methodology) بناتی ہیں۔ ان جلدوں میں فاروقی قاری کی توجہ شاعر کے تہذیبی شعور، زبان، ساخت، اور فکری نظام کی طرف مبذول کراتے ہیں۔ان کتب کے مطالعہ کے بعد مجموعی طور پر شعر شور انگیز کا کو تاثر سامنے آتا ہے اس میں شمس الرحمن فاروقی نے اردو تنقید کو روایتی بیانیہ سے نکال کر نظریاتی بنیادوں پر استوار کیا۔ غزل کے شعری نظام کو مکمل تہذیبی و فکری تناظر میں بیان کیا ۔ اردو شعر میں معنی کے تغیر و تنوع کو قبول کیا اور جدید اردو تنقید میں ایک نئی راہ پیدا کی، جس پر بعد کے نقادوں نے کام کیا ۔
حواشی
1۔شمس الرحمٰن فاروقی، شعر شور انگیز، جلد اول، مکتبہ جدید، دہلی، 1991، ص 45
2۔ایضاً،جلد اول،ص72
3۔ایضاً،جلد اول، ص88
4۔ایضاً، جلد اول، ص121
5۔شمیم حنفی، جدید اردو تنقید کی روایت، مکتبہ جامعہ، دہلی، 2005،ص210
6۔ شعر شور انگیز، جلد دوم، ص 132
7۔ ایضاً، جلد دوم، ص 21
8۔ایضاً، ص74
9۔ایضاً، ص205
10۔گوپی چند نارنگ، اردو غزل اور تہذیبی رویے، دہلی، 2004، ص244
11۔ڈاکٹر وزیر آغا، ادب اور نیا شعور، لاہور: سنگ میل پبلیکیشنز، 1993، ص187
12۔ شعر شور انگیز، جلد سوم،ص 88
13۔ ایضاً، جلد سوم، ص 35
14۔ایضاً، جلد سوم،ص154
15۔ایضاً، جلد سوم، ص213
16۔گوپی چند نارنگ، اردو غزل اور تہذیبی رویے، دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، 2004، ص 241
17۔ظفر اللہ باقر، تنقیدی رفعتیں، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 2002، ص 119
18۔شعر شور انگیز، جلد چہارم،ص190
19۔ایضاً، جلد چہارم، ص 63
20۔ایضاً، جلد چہارم، 117
21۔ایضاً، جلد چہارم، ص199
22۔ایضاً، جلد چہارم، ص223
23۔اردو غزل اور تہذیبی رویے، ص 248
24۔جدید اردو تنقید کی روایت، ص 213