شب خون: ایک مطالعہ

پروفیسر عابد حسین حیدری
(صدر شعبہ اردو ایم جی پوسٹ گریجویٹ کالج، سنبھل)

راقم الحروف نے جب شعوری آنکھیں کھولیں تو شب خون ادبی دنیا پر شب خون مارکر اردو دنیا کا ایک مقبول رسالہ بن چکا تھا اور وہ صرف اس لیے کہ ہندوپاک کے کسی رسالے کے پاس شمس الرحمن فاروقی جیسا جینیس نہیں تھا، جو موصوف کی طرح رسالے میں شائع ہونے والے مضامین پروقت صرف کرسکے۔ یہی وجہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی کی شخصیت اور علمیت کے ساتھ ان کی تحریریں، ساتھ ہی رسالے میں موجودمضامین اورمنظومات قارئین کی توجہ کامرکز بنتے رہے۔ راقم الحروف کو ۱۹۸۶ء میں لکھنؤ یونیورسٹی کا طالب علم بننے کے بعد اس رسالے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا کیونکہ میرے دو اساتذہ پروفیسر نیرمسعودرضوی اور پروفیسر انیس اشفاق ’’شب خون‘‘ کے قلم کاروں میں شامل تھے۔ اکثر وبیشترنیرمسعود سرہمیں رسالہ دیتے اور کہتے کہ فلاں مضمون یا فلاں افسانہ یا اس غزل کو غور سے پڑھیے گا۔ اس طرح اکثر شب خون کے شمارے آسانی سے ہماری دسترس میں ہوتے۔اس طرح شمس الرحمن فاروقی کی علمی وجاہت ان کے ہر مضمون اور ہر تحریر سے مزید ہم پر آشکار ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی دنیامیں ان کا رعب اور ان کی علمیت کی دھاک اس طرح بیٹھی ہوئی تھی کہ کسی چھوٹے موٹے شاعر ادیب اورنقاد کا تو ا ن کے دربارمیں گزرتک نہیںہوتا تھا اور ان کے سامنے منہ کھولنے کی ہمت ہی نہیں ہوتی۔ شمس الرحمن فاروقی کی عالمانہ نظراتنی گہری تھی کہ وہ ادب کے کسی بھی موضوع پر بے تکان گفتگو کرتے اور اپنی مدلل تحریروں سے قاری یا سامع کو رام کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ کثیرالجہات شخصی اور تخلیقی خوبیوں کے مالک فاروقی نے شاعری،فکشن،تحقیق و تنقید سمیت دنیائے ادب کے بہت سے گوشوں میں اپنی علمیت،بوقلمونی اوردانشوری کے درخشاں وتابندہ نقوش چھوڑے ہیں۔ اردو کی ادبی صحافت کونئے رنگ وآہنگ سے آشنا کرانے والے شمس الرحمن فاروقی نے اپنی تحریروں، تبصروں،اداریوں اوردیگر ادبی وتحقیقی مضامین سے ادبی دنیا میں اپنے وجود کو راسخ کیا اور اس عہد کے ادبی جمودکو توڑنے کی کوشش کی۔ ان کے اس علمی سفرمیں ’’شب خون‘‘ آپ کا ایک بڑاحوالہ ہے۔ اسی شب خون میں پہلے پہل فاروقی کی تنقید کے جوہر کھلے اور ان کی تحریروںنے شب خون کو اعلیٰ معیاربخشا لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انھوںنے بہت سے خشک مضامین، نظمیں،غزلیں اورافسانے چھاپ کر قاری کو الجھن میں بھی مبتلا کردیا تھا اسی لیے اردو کے عام قاری کا یہ تاثر ہوتا تھا کہ یہ رسالہ پڑھے لکھے شاعروں اور ادیبوں ہی کے لیے مخصوص ہے لیکن یہ سچائی بھی ہے کہ شب خون اردو کی ادبی دنیا کا وہ معرکۃ الآراء رجحان ساز اور تاریخ ساز رسالہ ہے جسے جدیدیت کا پیش رو قرار دیاجاسکتا ہے۔ فاروقی نے اس کااجرا جون ۱۹۶۶ء میں کیا تھا۔ شب خون کے وسیلے سے فاروقی نے اردو میں ادب کے متعلق نئے خیالات اوربرصغیر و دوسرے ممالک کے اعلیٰ ادب کی نہ صرف ترویج کی، قلمکاروں کو نئی فکر،نئے رجحان واحساس سے نہ صرف روشناس کرایابلکہ نئے لکھنے والوں کی فکری وتخلیقی تربیت بھی کی۔ اس طرح ۳۹ برس تک مسلسل پابندی کے ساتھ شائع ہونے والے شب خون نے اردو قلم کاروں کی دو نسلوں کی تربیت کی۔شمس الرحمن فاروقی نے سرکاری ملازمت کی ذمہ داریوں کونبھاتے ہوئے شب خون جیسا عہد ساز اور طاقتور رسالہ جاری کیا جس کے ذریعہ انھوںنے جدیدیت کی اس شدت سے تبلیغ کی کہ پورے ایک دور کو بدل کررکھ دیا۔ فاروق ارگلی نے اس صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا:
’’شمس الرحمن فاروقی کے برپاکردہ انقلاب نے تخلیق وتصنیف کے دھارے موڑ دئیے۔ انھوں نے سرمایہ ومحنت کی کشمکش کے اشتراکی رجحان کے خلاف آواز بلند کی جس کی مادیت اورنظریات جبر نے ان کے خیال میں تخلیقی ادب کو خطابت اورصحافت بنادیا تھا۔ انھوں نے اردو میں علامتی، ایمائی اور تجدیدی تخلیقی رجحان کو فروغ دیا جس میں غزل چیستاں بن گئی اور افسانے سے کہانی غائب ہوگئی۔ اس کے لیے شمس الرحمن فاروقی پر ایک مخصوص نظریاتی طبقہ توڑپھوڑ او رادبی تخریب کاری کا الزام بھی عائد کرتا ہے لیکن اگر یہ الزام صحیح بھی ہے تو بھی فاروقی کی جدیدیت پسندی اور شب خون کی اہمیت پر حرف نہیں آتا بلکہ یہ اس تخریب کے بعد ایک نئی تعمیر کے آغاز میں ان کے قائدانہ کردار کی تاریخی علامت ہے۔‘‘۱؎
موافقت اورمخالفت کی کشمکش سے نبردآزما ہوتے ہوئے شب خون ادبی صحافت کا ایسا صحیفہ بناکہ اس جریدے کے بند ہوجانے کے بعد بھی اس کی دھمک باقی ہے۔ آج ہندوستان میں کئی درجن ادبی رسائل شائع ہورہے ہیں لیکن ان رسائل میں چھپنے والے مضامین، اداریے، تبصرے پڑھ کر ہی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ وہ کس نوعیت کے ہیں۔ اساتذہ کے پرموشن اور ریسرچ اسکالر کے لیے یوجی سی گائڈلائن نے اسے کاروباری رنگ عطاکردیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان دنوں اردو رسائل کی ایک ہوڑ جاری ہے۔ ہر مدیر یا تومالی منفعت یا جلدسے جلد شہرت حاصل کرنا چاہتا ہے اورایک دوسرے پرسبقت لے جانے کی دوڑ میں بہت سے مدیروں کی صلاحیت بھی سامنے آجاتی ہے۔ اس لیے کہ صرف رسالہ نکالنا ہی بڑے ادیب اورشاعر ہونے کی دلیل نہیں ہے۔نیازفتح پوری، سیدسلیمان ندوی، علی جواد زیدی، سیدخورشیداحمد، صباح الدین عبدالرحمن، صباح الدین عمر جیسے ادبی رسائل کے مدیرکسی بھی مضمون کو شائع کرنے سے پہلے اس پر بہت زیادہ محنت کرتے تھے۔ موجودہ عہد میں جہاں کتابوں، شعری مجموعوں کی ایک بھیڑ ہے لیکن ان کتابوں اور مجموعوں کے پڑھنے والوں کی تعداد روز برورز گھٹتی جارہی ہے اس ماحول میں ہر مدیر کے پاس تبصرے کے لیے درجنوں کتابیں آتی ہیں اور وہ ان پر چھوٹے موٹے مضامین اور تبصرے لکھ کر نقادوں کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے اورکسی موضوع یا فیلڈ میں تشخص نہ ہوتے ہوئے بھی ہر موضوع پر تبصرہ یا مضمون لکھ مارتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تبصرہ نہ ہوکر قصیدہ بن جاتا ہے جبکہ کسی ادبی رسالے کے ایڈیٹر کو اتنی معلومات ہونا چاہیے کہ وہ کسی کے ادبی مقام ومرتبہ کو سمجھنے کے لیے ادبی رجحان کے ساتھ ساتھ عالمی ادب پر بھی اس کی گہری نظر ہو، اردو زبان کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب میں کیا کچھ لکھاجارہا ہے اورکیسا لکھاجارہا ہے اسے اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے تاکہ ادبی تسامح سے اپنے رسالے کومحفوظ رکھ سکے۔
اردو کے رسائل میں شب خون کو یہ امتیازرہا کہ اسے شمس الرحمن فاروقی جیسا صاحب نظربالواسطہ یا بلاواسطہ مدیر ملا جس نے شب خون میں عالمی ادب سے متعلق مضامین اور دیگر تحریریں شائع کیں اور فاروقی کے اداریے، مضامین اورمخصوص ادیبوں اورشاعروں پر گوشوں کی اشاعت اس کے گواہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چھٹی دہائی میں ماہنامہ شب خون ادبی امنگوں اورحوصلوں کی ایک نئی اڑان بن کر سامنے آیا۔نوجوان قلم کاروں کا جوش اورتجربہ کار بزرگوں کی رہنمائی نے بہت جلد اس رسالے کو ادبی افق پر ثبت کردیا۔ جون ۱۹۶۶ء میں پہلا شمارہ ڈاکٹر اعجازحسین کی ادارت میں شائع ہوا اورنائب مدیر کی حیثیت سے جعفررضا بھی شامل رہے۔ مجلس عاملہ میں شمس الرحمن فاروقی، جمیلہ فاروقی (بیگم شمس الرحمن فاروقی) پروفیسر سید احتشام حسین اور حامدحسین حامد وغیرہ شامل تھے۔ اس کے اداریے میں ڈاکٹر اعجاز حسین نے رسالے کے معرض وجودمیں لانے کی غرض وغایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا:
’’ہندوستان میں علمی وادبی رسالوں کی تعداد بہت کم ہوتی جارہی ہے۔ گنتی کے چند ایسے جریدے رہ گئے ہیں جو چراغ راہ بن کر راہ ادب کو روشن کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر تعداد کی کمی اور روشنی کا فقدان ان دونوں وجوہ سے بھی بہت ناکافی ہے۔ اس کی ذمہ داری صرف ان ہی لوگوں پرنہیں جو اردو زبان سے بیگانگی برتنے میں فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں پر بھی ہے جو اپنے کو اردو دوست سمجھتے اور کہتے ہیں۔ اس لیے کہ کوئی ادبی تنظیم ایسی نہیں جو تمام بکھرے ہوئے دانوں کو ایک رشتہ میں پرودے، مختلف ومتعدد اہل فکر کے افکار ومحسوسات کو ایک اچھی صورت میں منظرعام پر لاسکے، پرانے لکھنے والوں کی اچھی تخلیقات چھاپے اورنئے لکھنے والوں کی ہمت افزائی کرے۔‘‘۲؎
ڈاکٹر اعجاز حسین اس زمانے کی ادبی فضا میں جمود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’انسان ہو یا ادب و زبان کسمپرسی کے ہاتھوں ہر ایک کا پراگندہ و خستہ حال ہونا ناگزیر عمل ہے۔عمل و ردعمل کا یہ سلسلہ،نظام قدرت کا دستور ہے۔ کتنا ہی تندرست وتوانا آدمی ہو، کیساہی عظیم ادبی سرمایہ ہو، بغیرقوت نمو کے سرسبز ہونا محال نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ چنانچہ مثال کے لیے اردو زبان کو لے لیجیے باوجود اس کے کہ وہ ہندوستانی زبانوں میں اپنے سرمایہ کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں۔ اس دور انحطاط میں بھی اچھے شاعر، افسانہ نویس، ادیب ونقاد کسی دوسری زبان کے اہل قلم سے کم تر نہیں ہیں۔ مگر ناقدری وکمپرسی کے ماحول میں اردو ادب پژمردہ نظر آتا ہے۔ بغیرغوروفکر کے بھی نظر آتا ہے کہ اس کی ترقی کی رفتار مدھم ہوگئی ہے۔ پڑھنے اورلکھنے والوں میں آہستہ آہستہ کم حوصلگی کا زہر سرایت کررہا ہے۔ اس لیے کہ حوصلہ افزائی کے راستے مسدود ہورہے ہیں۔‘‘۳؎
درج بالا میں ’’شب خون‘‘ کے پہلے شمارے کے اقتباسات پیش کیے گئے ہیںجس سے اس رسالے کے وجودمیں آنے کی غرض وغایت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بزرگ وخورد ادیبوں و شاعروں کے سنگم سے سجاسجایا سنگم کے تٹ پر ابھرنے والے اس رسالے کے پہلے شمارے میں چار کالم مختص کیے گئے جس میں ’’فروغ فکر‘‘ کے تحت سیداحتشام حسین (نئے تیشے نئے کوہ کن) مسیح الزماں(فن ڈراما کا فرہاد)، ڈاکٹر سیتاورسرن (ہندستانی سنگیت شاستر کی کچھ بنیادی خامیاں)، شمس الرحمن فاروقی بیرن رچرڈ فان کرافت کے مضمون کے ترجمے (مرضیات جنسی کی نفسیات) کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔
’’صہبائے آبگینہ گداز‘‘ کے تحت عمیق حنفی، فراق گورکھپوری،حبیب احمدصدیقی، راہی معصوم رضا، خلیل الرحمن اعظمی، جمیلہ فاروقی، فضیل جعفری، سلیمان اریب، منظورالامین، صباجائسی، حمدون عثمان، چندرپرکاش جوہر بجنوری، حامدحسین حامد، عثمان عارفی، بشرنواز کی منظومات شامل ہیں۔ جبکہ ’’زمانہ بڑے شوق سے سن رہا ہے‘‘ کے عنوان سے اپندرناتھ اشک، شہرزاد، جوالاچندر جوشی، رام لعل، اصغرزیدی کی تخلیقات کے علاوہ آنتون چی خوف کی تخلیقات کے ترجمے کے ساتھ امینہ عکس کو پیش کیا گیاہے۔
’’قصۂ جدید قدیم‘‘ کے تحت ڈاکٹر اعجاز حسین نے شعرائے الہ آباد میںمصیب الہ آبادی کا تعارف کرایا ہے وہیں ڈاکٹر سیدمحمدعقیل رضوی ’’نئی آوازیں‘‘ کے ساتھ بحیثیت مبصرموجود ہیں۔
درج بالا میں شب خون کے پہلے شمارے کے مندرجات کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قاری پر واضح ہوجائے کہ شمس الرحمن فاروقی یا ڈاکٹر اعجاز حسین نے جن قلم کاروں کو پیش کیا ہے ان میں جہاں اردو کے مایہ ناز ادیب وشاعر ہیں وہیں نئے قلم کاروں کو بھی خاطرخواہ جگہ دی گئی ہے۔ قدیم وجدید قلم کاروں کے امتزاجی پیش کش نے امید سے زیادہ اس رسالے کو کامیابی سے ہم کنار کیا جس کا اعتراف مدیر محترم کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
’’بہرحال تاریک فضا میں ایک جگنو نظر آیا۔ شب خون منظرعام پر آگیا… ظاہر ہے یہ ہمت افزائی اوردلچسپی ان قنوطیوں کے دعوؤں کا ابطال کرتی ہے جن کے خیال کے مطابق آج کی ادبی فضا اس قدر مسموم ہوچکی ہے کہ اس میں کسی سنجیدہ اردو ادبی پرچہ کا سانس لینا ممکن نہیں۔‘‘۴؎
’’شب خون‘‘ کے پہلے ہی شمارے میں ’’ادب واحتساب‘‘ کے عنوان کے تحت ایک صفحے کی تحریر ہے جس میں ادب او رادیب کی طرف روسی حکومت کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے لکھاگیا ہے کہ ’’ہم ہندوستانی ادیبوں کا فرض ہے کہ انسان اور ادب کے بنیادی حقوق پر اس بے وجہ استبداد او راحتساب کے خلاف آواز اٹھائیں۔‘‘ اس طرح رسالے نے ابتدا ہی سے اپنے باغیانہ تیور دکھانا شروع کیے لیکن ابتدا میں رسالے نے ترقی پسند رنگ وآہنگ اختیار کیا اورترقی پسندوں کو خاطرخواہ جگہ بھی دی لیکن ان سب کے باوجود شب خون کا ابتدا ہی سے ایک غیراعلانیہ مقصد اور ادبی مسلک بھی تھا۔ شمس الرحمن فاروقی شب خون کے سہار ے جدیدیت کے فکروفلسفہ کو ایک پلیٹ فارم دینا چاہتے تھے۔ جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لئیق رضوی رقم طراز ہیں:
’’ڈاکٹراعجاز حسین کی قیادت میں شروع ہوا یہ سفر اول اول ترقی پسند ادبی نہج پر ہی نکلا۔ ابتدائی شماروں میں لکھنے والوںمیں بیشتر ترقی پسند قبیل کے ہی ہیں لیکن جلد ہی ’شب خون‘ اپنے اصلی رنگ وتیور میں آگیا۔ یہاں جدیدیت پر کھل کرباتیں ہونے لگیں۔پہلے تو ’ادب برائے ادب‘ یا ’فن برائے فن‘ کا نعرہ بلند ہوا اور پھر قلمکار کی فکری وتخلیقی آزادی کی وکالت بھی شروع ہوگئی۔ سیاسی وسماجی وابستگی، اصول وقوانین کی پابندیاں فضول بتاکر پوری طرح آزاد رہ کر اپنے مافی الضمیر کے اظہار پر زور بڑھا۔ ظاہر ہے کہ اس بدلے ہوئے رنگ نے ترقی پسندوں کو چونکایا۔ اندیشے اور سوالات کھڑے ہونے لگے۔‘‘۵؎
شب خون نے ابتدا ہی سے غیرجانب دارانہ صحافت کا اعلان کیا لیکن دراصل وہ جدیدیت کا فکری نقیب اور عملی استعارہ تھا۔ یہاں جدیدیت کے لیے ذہن سازی بھی کی گئی اور جدیدیت نواز نظریاتی مباحث کی شروعات بھی شب خون کے صفحات ہی پر ہوئی جس نے جدیدیت کے لیے راہ ہموار کی۔ ترقی پسندوں سے الگ ایک ادبی گروہ کی تشکیل ہوئی اور اس طرح شب خون کے ذریعے شمس الرحمن فاروقی کا تشخص قائم ہوا۔ جدیدیت کے ضمن میں شب خون کے ادبی مباحثوں کو فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔ اس ضمن میں سیداحتشام حسین او رعمیق حنفی کے درمیان ہوئے فکرانگیز طویل مباحثے خاصے کی چیز ہیں جس کی گونج ادبی حلقوں میں تادیر قائم رہی، جس کا اعتراف وحیداختر نے بھی کیا ہے:
’’شب خون کے صفحات پر ساتویں دہائی کے وسط میں ادب کے متعلق ایک نئی بحث چھڑی جس کے فریق تھے احتشام حسین اور عمیق حنفی۔ ۱۹۶۰ء کے بعد جو انتہا پسندانہ جدیدمیلانات مقبول ہوئے ان کی تشہیر میں شب خون کو خاص اہمیت حاصل ہے… شمس الرحمن فاروقی نے شب خون کے ذریعے اپنی اہمیت منوائی۔ ان کے تبصروں میں جو بے باکی، معروضیت، بے مروتی اور صاف گوئی ہے اس نے اردومیں رسمی تبصروں کے برخلاف ایک صحت مند روایت کو آگے بڑھایا۔‘‘۶؎
ڈاکٹراعجاز حسین نے اپنے ابتدائی اداریے ہی میں غیرجانب دار صحافت کی ضرورت اور اس ضرورت کے تحت شب خون کی اشاعت کی توضیح بیا ن کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’ادارے کو یہ محسوس ہورہاتھاکہ مختلف دقتیں جن سے اردو ادب میں جمود آگیا ہے، بے ستون پہاڑ کی طرح راہ ترقی میںحائل ہیں۔ ان کو راستے سے ہٹانے کے لیے ایک تیشے کی ضرورت ہے۔ یا جو نیند کاروان ادب پر طاری ہے اس سے چھٹکارا حاصل کرنے اور لوگوں کو بیدار کرنے کا حربہ ادبی شب خون ہے جو دلوں کو گرمادے، حوصلوں کو عمل سے ہم کنار کردے اور یہ رسالہ کارواں کے لیے بانگ درا بن جائے۔‘‘ انھوںنے رسالے کو دوسرے ادبی رسالوں سے منفرد بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’رسالہ مجموعی حیثیت سے عام علمی وادبی رسالوں سے منفرد نظر آئے چنانچہ ایسے موضوعات بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ہندوستان اور مغربی زبانوں میں نئے فکری رجحانات کی ترجمانی کرتے ہیں مگر اردو ادب میں ابھی ان کی جگہ نہ ہونے کے برابر ہے،مثلاً بھیانک افسانے،عملی تنقید کے نمونے، ہندوستانی اورمغربی زبانوں کے براہ راست ترجمے وغیرہ۔ داخلی پہلو کو سنوارنے کے علاوہ خارجی خدوخال کو جاذب نظر بنانا اور دلکش اندازمیں پیش کرنا بھی اس ادارے کے پیش نظر ہے۔‘‘
شب خون کے پہلے شمارے نے ادبی صحافت کا خوبصورت نمونہ پیش کیا۔ اس سلسلے کا سب سے اہم مضمون ترقی پسند نقاد سیداحتشام حسین کا ’نئے تیشے، نئے کوہ کن‘ ہے۔ اس مضمون میں سید احتشام حسین نے ترقی پسند ادب کا دفاع کیا اورجدید شعرا کی ابہام پسندی پر تنقید کی ہے:
’’حقیقت یہ ہے کہ اعلیٰ فن میں خارجیت اور داخلیت کی میکانکی تقسیم بے معنی ہے۔ قومی زندگی کے تقاضوں، علم اورشعور سے پیداہونے والی بصیرتوں اور دوسروں کے فنی تجربوںمیں شریک ہونے کی خواہشوں سے خیال، جذبہ، اظہار اور ذرائع اظہار کے رشتے اور تناسبات بدلتے رہتے ہیں… صرف کچھ ترقی پسند شاعروں نے خارجیت اور داخلیت کے اندرونی ربط کو سمجھا اورحقائق کے اظہار میں دونوں کا توازن برقرار رکھا۔ اس سے فن کے تقاضے بھی پورے ہوئے اور زندگی کے بھی، اس سے انکشاف ذات بھی ہوا او رانکشاف کائنات بھی۔ یہ بات نہ تو ہر ترقی پسند شاعر کے لیے درست ہے اورنہ اس کی ہر تخلیق کے لیے تاہم یہ صحیح ہے کہ اس سے فن اور زندگی میں ایک متوازن رشتہ قائم ہونے کی صورت ضرورنکلی… آج صورت حال بہت مختلف ہے بہت سے جدید نظم نگار چند مبہم، ناتراشیدہ فنی مفروضات کے نام پر ایسی راہوں پر چل پڑے ہیں جوصرف انہیں نظر آتی ہیں وہ کسی کواپنے ساتھ لینا نہیں چاہتے… انفرادیت اوراپنی ذات کی جستجو میں وہ شعوری طور پر لاشعوری علامتیں تلاش کرنے میںمنہمک ہیں۔‘‘ ۷؎
شب خون کا تیسراشمارہ منظرعام پر آیا تو ایک نئے عنوان’’کہتی ہے خلق خدا‘‘ کے اضافے کے ساتھ آیا۔ اس میں پہلے شمارے کے مشمولات ومندرجات پر قارئین کا ردعمل ہے۔ اس سلسلے کا سب سے جارحانہ ردعمل وہ ہے جو احتشام حسین کے مضمون ’’نئے تیشے نئے کوہ کن‘‘ پر عمیق حنفی کے قلم سے ہے جسے احتشام صاحب کاجواب الجواب کہاجاسکتا ہے۔ اس حصے میں قارئین کے عمومی تاثرات کے لیے ’’نقطے اورروشنیاں‘‘ کا عنوان قائم کیا گیا، جس میںمولاناامتیاز علی خاں عرشی، رام لعل اور شہریار وغیرہ کے تاثرات ہیں۔ لیکن ’’کہتی ہے خلق خدا‘‘ میں عمیق حنفی نے جس انداز سے احتشام صاحب کا جواب دیا اس نے ترقی پسندوں کے خلاف شب خون کے نقطۂ نظر کو واضح کردیا۔ عمیق حنفی نے جہاں احتشام صاحب کی خارجیت اور داخلیت کی میکانکی تقسیم کے بے معنی ہونے کو تسلیم کیا ہے وہیں جدید نظم نگاروں کے یہاں ابہام، اشکال کی تشخیص کو غیرضروری بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’حقیقت یہ ہے کہ لاشعوری، داخلی، ذاتی اوررویائی علامتوں کے تجربات کرنے والے جدید شاعر بہت کم ہیں۔‘‘۸؎
عمیق حنفی نے لکھا کہ:
’’ذاتی طور پر اظہار کے ترسیلی امکانات کو جان بوجھ کر تنگ اور کند کرنا پسند نہیں کرتا… لیکن اظہار کی ترسیلی صلاحیت بڑھانے کے لیے کسی نظام فکر، تصور حیات یا منشور کی اطاعت تجویز کرنا شاعر کی فنی دیانت داری اور اس کی فکری وسیع النظری کے حق میں نہیں ہے۔ اگر شاعربصیرت، تجربے کی وسعت اور گہرائی، فکر کی رفعت اور گیرائی، تیکھا شعور اور دیانت دار انسانی احساس رکھتا ہے توحیات وکائنات اس کے سامنے افشا ہوجاتے ہیں۔ جب حیات اور شاعر کی ذات میں کوئی حجاب، کوئی پردہ، کوئی دیوار اور کوئی غیریت نہ ہو تو کسی مخصوص تصور حیات سے وابستگی کا کوئی جواز پیش نہیں کیاجاسکتا۔ جدید شاعر تخلیقی عوامل سے گزرتے ہوئے اپنے ذہن کو غیرمشروط رکھتا ہے۔‘‘ ۹؎
ظاہر ہے شب خون کے صفحات پر عمیق حنفی کے درج بالاخیالات کا شائع ہونا شمس الرحمن فاروقی کے نظریات کی ترسیل تھی جو اس بات کا اشاریہ تھا کہ ترقی پسند فکر قابل قبول نہیں ہے، اسی لیے آخرآخر عمیق حنفی نے فیصلہ کن انداز میں لکھا:
’’جدید شاعری ہی آج شاعری ہے باقی سب تقلید، نقالی، بٹھائی، دھنڈھورچی پن، اشتہار بازی، منافقت، مجاوری،مصلحت کوشی اور دنیاداری ہے، بازی گری اور شعبدہ بازی ہے، غیرادبی مقاصد کے حصول کی بیساکھی ہے۔‘‘ ۱۰؎
شب خون کے اسی شمارے میں احتشام صاحب کا نقطۂ نظر قارئین تک پہنچانے میں جس دیانت داری کا ثبوت شمس الرحمن فاروقی نے پیش کیا ہے وہ شب خون کو اعلیٰ ادبی صحافت کا معیار عطاکرتا ہے۔ عمیق حنفی کے جواب میں احتشام صاحب کا جواب بہت ہی سلجھا اورمعیاری ہے جو ان کی علمی ژرف نگاہی کا ثبوت ہے۔ انھوں نے عمیق حنفی کے ہراعتراض کا مدلل اور واضح نقطۂ نظر کے ساتھ جواب دیا لیکن ان کی فراخدلی اور انکساری جگہ جگہ ظاہر ہوتی ہے۔ اس جواب الجواب کے آخری پیراگراف کے کچھ اجزاملاحظہ فرمائیں جس سے احتشام صاحب کے نقطۂ نظر کی وضاحت قارئین پر واضح ہوجائے۔
’’یہ درحقیقت عمیق حنفی صاحب کے اعتراض کا جواب نہیں ہے، صرف ایک ایسے قاری کی طرف سے صفائی ہے جو اپنی نارسائی ذہن کا اعتراف کرتا ہے، جو اپنی بصیرت اور مسرت میں اضافہ کرنے کے لیے ہر جدید اور جدید تر شاعر کو پڑھنے اورسمجھنے کی کوشش میں دن رات لگارہتا ہے اورجب گرہیں کھولتے کھولتے اس کے ناخن دکھ جاتے ہیں تو اپنے دل سے سوال کرتا ہے، کیا شاعروں کو اسی لیے پڑھنا چاہیے … زندگی بخش خوبصورت، خیال انگیز اورنورباب ادب چاہتا ہوں محض گھروندے، کھلونے،معمے، ڈھکوسلے، پہیلیاں اور چٹکلے نہیں… اچھی شاعری جس شاعر کے یہاں ملے گی میرے دل ودماغ میں جگہ پائے گی۔‘‘۱۱؎
شمس الرحمن فاروقی کے رسالہ شب خون میں ترقی پسندی کے بعد کے ادب کی باتیں زیادہ واضح نقطۂ نظر کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ ظاہر ہے یہ رسالہ جدیدیت کے ترجمان کے طور پر ابھرکر ادبی دنیا پر چھاگیا وجہ صرف یہ تھی کہ اس میں جدیدادب اور جدید نثرنگاروں، شاعروں کی نگارشات کو زیادہ اہمیت دی جارہی تھی۔ فاروقی نے اداریے کی جگہ مغربی ادیبوں کے نثرپاروں سے انتخاب شائع کیا جس سے فاروقی پر یہ بھی الزام لگا کہ وہ مغربی ادب کو مشرقی ادب پرترجیح دیتے ہیں اور ترقی پسندوں کو نظرانداز کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فاروقی نے اس میں ترقی پسند ادیبوں اور ان کی اشاعت کو بھی کافی جگہ دی ہے۔ انھوںنے کارل مارکس کو اپنے ادارتی اقتباس میں جگہ دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ شب خون کی اعلیٰ اورمعیاری تحریریں کسی خاص تحریک یا مہم سے مبرا ہیں لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ بھی سچائی ہے کہ شب خون نے جدیدیت کی سمت ورخ طے کرنے میں اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔
جدیدیت اور شب خون آگے چل کر ایک سکے کے دورخ بن گئے اورشمس الرحمن فاروقی جدیدیت کے علمبردار کے روپ میں اردودنیا کی شناخت بنے۔وہ جدیدیت کے پیروکاررہے اورآخرعمر تک اس کاظہار کرتے رہے۔ انھوں نے جدیدیت کی تحریک جو ابتدا سے آخر تک موضوع بحث رہی اور جس کے بارے میں جدیدیت کے حامی بھی ابہام کے شکاررہے اس کی وضاحت جہاں وارث علوی جیسے جدید نقادوں نے جارحانہ انداز سے کیا وہیں فاروقی نے بہت ہی مدلل اور سلجھے ہوئے انداز سے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی۔ وارث علوی نے اپنے مضمون ’’جدیدیت کے بڑے بھائی لوگ‘‘ میںجدید نقادوں کے فکری انتشار کوبھی تسلیم کیا ہے:
’’جدیدیت کے متعلق خودجدیدیت کے حامیوں میں اتنا زبردست فکری انتشار ہے کہ ان کی تنقید کی روشنی میں یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ جدیدیت کیا ہے اورجدیدیت کے متعلق ان میں سے ہر ایک کے تصورات کیا ہیں اور ان تصورات میں کون سی قدریں مشترک ہیں اور کن باتوں میں اختلافات ہیں۔‘‘۱۲؎
اسی مضمون میں وارث علوی نے اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کی:
’’جدیدیت فی نفسہ نہ کسی کو شاعر بناتی ہے نہ نقاد۔ جدید نقاد یا جدیدیت کا علم بردار نقاد کوئی قیمت نہیں رکھتا تاوقتیکہ وہ بنیادی نقادنہ ہو۔‘‘۱۳؎
’’جدیدیت کے بڑے بھائی لوگ‘‘ دراصل جدیدیت پرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہونے والے سمینار میں پڑھے گئے مقالات جسے بعدمیں ’’جدیدیت اور ادب‘‘ کے عنوان سے کتابی شکل دی گئی۔ اس پرناقدانہ نظر ہے جسے فاروقی نے شب خون میں مئی ۱۹۷۲ء میں شائع کیا تھا۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر فاروقی نے جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء کے شمارے میں بھی مذکورہ تحریر کو جگہ دی ہے۔ اس مضمون میں وارث علوی جگہ جگہ افراط وتفریط کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ رام لعل کے مضمون ’’افسانہ اور قاری‘‘ کے تعلق سے لکھتے ہیں کہ ’’اس مضمون کے فکری انتشار کا یہ عالم ہے کہ اس میں افسانہ اور قاری کے رشتہ پر دو جملے بھی ایسے نظر نہیں آتے جو بصیرت افروز ہوں۔‘‘ وارث کرمانی کے مضمون ’’جدید شعری تنقید‘‘ کے تعلق سے لکھا کہ ’’ان مضامین کا تعلق ان کے عنوانات سے اتنا ہی ہے جتنا مثلاً کیمسٹری کی کسی کتاب کا خدا سے ہوتا ہے۔‘‘ کرشن چندر کے تعلق سے رقم طراز ہیں کہ ’’ایک ادیب اور فن کار کے طورپر اب کرشن چندر پر بات چیت ممکن ہی نہیں رہی۔‘‘ ڈاکٹرمحمدحسن کی تنقید پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’محمدحسن کو فن کار کے طریقۂ کار او رادب اور آرٹ کی جمالیات کا علم سرے سے ہے ہی نہیں۔‘‘ قمررئیس کے تعلق سے رقم طراز ہیںکہ ’’ڈاکٹر قمررئیس کا مضمون ’’جدید اردو ناول‘‘ کامقابلہ آپ ڈاکٹر محمدحسن کے مضمون سے کریں گے تو آپ کو بہت سی خصوصیات مشترک نظر آئیں گی۔ دونوں میں تجزیاتی مطالعے کی کمی ہے ناقدانہ بصیرت کا دونوں میں شدید فقدان ہے۔‘‘ وارث علوی، بلراج کومل اور گوپی چند نارنگ کے مداح ہیں، وہ ان کے مضامین میں سوچتے ہوئے ذہن کی کارفرمائیاں محسوس کرتے ہیں۔ موصوف ’’آگ کا دریا‘‘ سے لے کر ’’تیزہوا میں تنہاپھول‘‘ تک نئے لکھنے والوں نے جس جس طرح اپنی جڑوں کو پانے کی کوشش کی ہے اسے ایک مثبت رویہ تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’’آپ فن کی طرف اپنا رویہ درست کیجیے،ملک، قوم، سماج کی طرف آپ کا رویہ خودبخودٹھکانے پر آجائے گا۔فن کو آپ انکشاف حقیقت کا ذریعہ بنائیے تو حقیقت بھی آپ کے ہاتھ آئے گی۔ وارث علوی احتشام حسین، ممتازحسین، ظ انصاری ، سردارجعفری، سجادظہیر، محمدحسن کی تنقیدوں کو سرے سے تنقید ہی نہیں مانتے اور آخر میں ترقی پسندوں پر کاری وار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ہمارے بڑے بھائی لوگ یہ چاہتے ہیں کہ سائنس، ٹکنالوجی اور صنعتی نظام کی آسائشوں سے بھی فیض یاب ہوتے رہیں اورروحانی نجات کے راستے بھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائیں۔‘‘ وہیں جدیدیت سے منسلک شاعروں کادفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’جدید شاعر صنعتی نظام سے نالاں ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ صنعتی نظام نے آدمی کو مرکزی بناکر اسے سماج کی مرکزی تہذیب روایت سے بے بہرہ کرکے روحانی اور تہذیبی طور پربانجھ کردیا ہے۔‘‘
درج بالا پیراگراف سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ شب خون نے آزادی فکر اور آزادی تحریر پر جہاں ابتدا میں زور دیا ہے اسے بھی اس نے ایک مشن کی طرح برابر جاری رکھا۔ اس میں بہت سے ادبی مباحث اٹھائے گئے اورموافق و مخالف دونوں نقطۂ نظر کو آزادی کے ساتھ آنے کاموقع دیا۔ ادبی مسائل پر نئے انداز سے سوچنے اورلکھنے کی دعوت دی۔ اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ میں بہت سے رسالوں نے طویل عمریں پائیں لیکن شب خون کا یہ امتیاز رہا کہ اس نے ایک ادبی رجحان اورتحریک کا درجہ حاصل کیا۔ جدید ادب اورجدید تنقید کی نمائندگی کے باوجود شب خون نے کلاسیکی ادب کی تفہیم وتعبیر کا سلسلہ بھی قائم رکھا۔ میر، غالب،اقبال اوراکبر کے فکروفن پر مسلسل مضامین شائع کیے۔ ادب وشاعری کے علاوہ موسیقی ومصوری کے ساتھ ساتھ تہذیبی وفکری موضوعات پر مفید اور کارآمد تحریریں پیش کیں۔ تبصروں میں معیار کا خیال رکھاگیا۔ یہ الگ بات ہے کہ شب خون اور فاروقی پر ایک نسل کو گمراہ کرنے کا الزام بھی لگا، جس کا احساس فاروقی کو خود بھی تھا۔ اس الزام کا جواب فاروقی نے اورینٹل کالج لاہور کی ایک تقریر جو ۳۰؍اپریل ۲۰۰۴ء کو جدیدیت کے عنوان پرکی تھی، بخوبی دیا ہے۔ اس تقریر کا عنوان ’’جدیدیت کل اور آج‘‘ تھا۔ فاروقی نے اس تقریر کو شب خون کے مارچ ۲۰۰۵ء کے شمارے میں شائع بھی کیا،جس میں جدیدیت کے آغاز وارتقا اور اس وقت کی صورتِ حال کا کماحقہ محاکمہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’جدیدیت کے بارے میں عام طور پر اورمجھ ہیچ بندۂ غریب کے بارے میں خاص طور پر یہ کہاگیا کہ صاحب! اس آدمی نے بڑا گمراہ کیا ہے۔ممکن ہے کہ آپ بھی اس سے گمراہ ہوچکے ہوں یا ہونے والے ہوں… نئی شاعری اور پرانی شاعری میں کوئی فرق نہیں ہے، اس لیے کہ دونوں ہی شاعری ہیں۔ تو جو سب سے پہلا اصول بنتا ہے جدیدیت کا وہ یہ ہے کہ شعر کو ادب کو سمجھنے سمجھانے، اس کو قائم کرنے، اپنے ذہن میں اس کو پیداکرنے اورزندہ رکھنے کے لیے پہلا معیار یہ ہونا چاہیے کہ شعر کی ادبی حیثیت کیا ہے، ادبی طورپر وہ شعر کے تقاضے پورا کرتا ہے یا نہیں؟ فن کے جو تقاضے ہیں وہ ادبی طور پر پورے ہوں، اس طرح نہیں کہ سیاسی طور پر، ذہنی طور پر، فلسفے کے طورپر، کسی سماجی پروگرام کے طورپر یا کسی اور طرح سے… اس لیے پہلا اصول یہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ شعر یا فن یا ادب، یہ انسان کے باطن کا اظہار ہے اور اس کے کچھ معیارات ہیں جو پہلے تو ادبی اصولوں کے تحت ہوں گے جن کی روشنی میں آپ یہ طے کریں گے کہ کوئی چیز ادب ہے کہ نہیں… جدیدیت نے جو گویا حملہ کیا، قلعہ سر کیا، وہ یہ کہ بھائی ادب کو ادبی معیار سے دیکھو، شعر اور فن کو اس کے شعری اور فنی معیار سے دیکھو… جدیدیت یہ کہتی ہے کہ ادیب کو کسی مفروضے،کسی نظریے کا پابند مت قرار دو۔ اس کو یہ مت کہو تم کو یہ کام کرنا چاہیے۔‘‘۱۴؎
اردو کے ادبی رسائل میں شب خون کا کیا مقام و مرتبہ ہے اس کی وضاحت کے لیے ایک دفتر درکار ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ نثرونظم کے حوالے سے جتنا وافر اوراہم ذخیرہ شب خون کے صفحات پر محفوظ ہے، اس کے لیے متعددمقالات یا ریسرچ بھی ناکافی ہیں۔ شب خون ان معدودے چند رسالوں میں سے ایک ہے جس نے ۳۹ سال مکمل کرنے کے بعد اپنی معدومیت کا اعلان کیا اور لکھا’’شمارہ (۲۹۲) شب خون کے انتالیسویں سال کا آخری شمارہ ہے۔ اگلا شمارہ شب خون کے چالیسویں برس کا پہلا اور شب خون کی زندگی کا آخری شمارہ ہوگا۔‘‘
شمس الرحمن فاروقی نے شب خون کے آخری شمارے کے اداریے کو ’’ماہم نشان آبلۂ پاگذاشتیم‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ شمس الرحمن فارقی اپنی اس کوشش سے خوش اورمطمئن ہیں کہ شب خون نے ادبی جمودکوتوڑا اورقلم کار اور قاری کے درمیان مثبت رابطہ کا کام کیا۔ انھوںنے لکھا:
’’شب خون گذشتہ کئی دہائیوں سے اردو کے جدید ادبی شعور کا حصہ بن گیا تھا۔ اس کی مخالفت بھی ہوئی اورآخری چندبرسوں میں بعض بااثرحلقوں کی طرف سے اس کی تحریری مخالفت نہیں تو اس کا زور توڑنے کی متنوع کوششیں بھی ہوئیں۔یہ تو عام طور پر کہاگیا کہ جدیدیت اب نمٹ چکی اور اب بھلا شب خون کا معاصر ادبی منظرنامے میں کیا کردار ہوسکتا ہے، لیکن اس سب کے باوجود شب خون کو پڑھنا ہم سب کی ضرورت بنارہا۔‘‘ ۱۵؎
چالیس برس کی ادبی صحافت پرمحیط شب خون اپنے آپ میں ایک عہدہی نہیں ، ایک عہد کا بولتا ہوا آئینہ ہے۔ ۲۰۰۵ء تک پوری آب وتاب سے نکلنے والے شماروں میں آخری شمارہ دو ضخیم جلدوں میں شائع ہوا۔ پہلی جلد عام شماروں کی آخری کڑی ہے۔ اس میں دوسرے مشمولات کے ساتھ شب خون کے تمام ۲۹۹ شماروں کا گوشوارہ بھی شامل ہے جبکہ دوسری جلد میں جسے ’’سرمایۂ بہاراں‘‘ کا نام دیا گیا ہے، چالیس برس کے شب خون کا انتخاب شامل ہے۔ اس طرح جدیدیت کے زیریں وجودیت، علامت نگاری، تجریدیت، ساختیات پس ساختیات اور فنی جمالیات پر جو مباحث معرض وجود آئے ہیں وہ بھی شب خون میں محفوظ ہیں۔ منظومات کا حصہ بھی شب خون میں گراں مایہ ہے۔ فرد کی ذات اور اس کے تجربات کے اردگرد گھومتی جدید شاعری جوبعض مقامات پر علامت، رمز، کنایہ اور تمثال کے بیجا اوربے تحاشہ استعمال کے ذریعہ بوجھل معلوم ہوتی تھی اورمتعدد جدید شعراء کا کلام لفظی شعبدہ بازی کا نمونہ معلوم ہوتا تھا، شب خون نے ان شعرا کو جگہ بھی دی اور ان نئے لکھنے والوں کی ذہن سازی اور قلمی تربیت کے ساتھ ا ن کی کوتاہیوں کی نشاندہی بھی کی اور ان شعرا پر بے دریغ تنقیدکرنے والوں کے لیے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادبی صحافت کے اقدار کی پاسداری بھی کی ہے۔ اس طرح شمس الرحمن فاروقی نے نئی طرح سے سوچنے اورلکھنے والوں کو ایک بڑااور معتبر پلیٹ فارم دیا۔
شب خون نے نہ صرف یہ کہ جدیدیت کے رجحان کو آگے بڑھایا بلکہ اس کے مخالفین کے سوالوں کے جواب بھی دیے، اسی لیے شب خون کو جدیدیت کے نمائندہ رسالے کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سلسلے میں فاروقی صاحب نے جدیدیت کے بنیادی سروکار اور اس کی امتیازی خصوصیات پر تفصیل سے لکھا اور دلائل کے ساتھ جدیدیت پر ہونے والے اعتراضات کو غلط ٹھہرادیا۔ شب خون کی اہمیت وافادیت کے تعلق سے احمدمحفوظ رقم طراز ہیں:
’’تقریباً ۳۰۰ شماروں پرمشتمل شب خون کا مکمل ذخیرہ ایساخزانہ ہے جس میں جدید اردو ادب کی تاریخ کا نہ صرف بڑاحصہ جمع ہے بلکہ اس میں مشرق و مغرب کی قدیم اورجدید روایات، افکاروخیالات اور ان کی عملی صورتیں بھی آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہیں۔ اس رسالے نے اردو دنیا کی دوتین نسلوں کی جس طرح ذہنی وفکری تربیت کی ہے اورشعروادب کی شاہراہ میں جونئی نئی راہیں نکالی ہیں انھیں کبھی نظراندازنہ کیاجاسکے گا۔‘‘ ۱۶؎
آج جب کہ اردو دنیا اردو صحافت کا دوسو سالہ جشن منارہی ہے ہم خوش قسمت ہیں کہ اس دوران ہم نے اس عہد میں سانسیں لی ہیں جس میں شب خون شائع ہوتا تھا۔ جس نے ہم جیسے نوجوانوں کی تربیت کی۔ بہت سی باتیں سمجھی بھی گئیں اور بہت سی باتیں فاروقی کے علمی دبدبے نے نہ سمجھنے دیا۔ بہت سی گمراہ کرنے والی تحریریں بھی پڑھیں اور بہت سی تحریریں ذہنی سکون کا سبب بھی بنیں۔ نظریاتی اختلاف بھی سامنے آئے لیکن فاروقی کی علمی وجاہت اورشب خون کی علمی وادبی پیشکش نے ہم سب کومتاثر کیا اور آج ہم کہنے پرمجبو رہیں کہ ادبی دنیا پر شب خون مارنے والے شمس الرحمن فاروقی نے جہاں شاعری، فکشن، تنقید وتحقیق میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ میں بھی ان کا نام زریں حروف میںمحفوظ رہے گا اور آج بھی شب خون اپنے اوراق کے مطالعے کی دعوت دے رہا ہے کہ ادبی جمود ادب کی موت ہے۔
فاروقی کا اختصاص یہ ہے کہ انھوںنے ادبی جمود کو توڑتے ہوئے ایک پوری نسل کو متوجہ بھی کیا اس لیے شب خون اور فاروقی دونوں کو فراموش نہیں کیاجاسکتا۔
استدراک
(۱)فاروقی ارگلی،مضمون: شمس الرحمن فاروقی، روزنامہ راشٹریہ سہارا، ۳۰؍ستمبر ۲۰۰۸ء،ص:۲
(۲)کچھ باتیں، شب خون، جون ۱۹۶۶ء، ص:۳
(۳)ایضاً
(۴)ایضاً
(۵)لئیق رضوی، مضمون ’’شب خون جدیدیت کا علمبردار،مشمولہ نقش نو سالانہ عالمی اردو جریدہ، ۲۰۲۰ء-۲۰۲۱، شعبۂ اردو حمیدیہ گرلس ڈگری کالج، پریاگ راج، الہ آباد یوپی، انڈیا -ISSN2320-3781 ، ص:۹۲-۹۱
(۶)وحید اختر، نظری تنقید، اردو ادب آزادی کے بعد، شعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۱۹۷۳ء، ص:۴۶-۴۵
(۷)سیداحتشام حسین، مضمون ’’نئے تیشے نئے کوہ کن‘‘، مشمولہ شب خون ، جلد۱، شمارہ ۱، جون ۱۹۶۶ء،ص:۸-۷
(۸)عمیق حنفی، کہتی ہے خلق خدا،مشمولہ شب خون، اگست ۱۹۶۶ء،ص:۷۳
(۹)ایضاً
(۱۰)ایضاً،ص:۷۴
(۱۱)سیداحتشام حسین، کہتی ہے خلق خدا،مشمولہ شب خون، اگست ۱۹۶۶ء،ص:۷۶
(۱۲)وراث علوی،جدیدیت کے بڑے بھائی لوگ، شب خون، جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء،ص: ۱۹۳۴
(۱۳)ایضاً
(۱۴)شمس الرحمن فاروقی، جدیدیت کل اور آج، شب خون، مارچ ۲۰۰۵ء،ص:۴۸-۴۵
(۱۵)ماہم نشان آبلۂ پا گذاشتیم، شب خون (حصہ اول)، جون تادسمبر ۲۰۰۵ء
(۱۶)احمدمحفوظ، نقارۂ خدا (حصہ دوم) مشمولہ شب خون، جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء،ص:۶۰۵