“ان صحبتوں میں آخر”شمس الرحمٰن فاروقی کا شاہکار

اکمل نعیم صدیقی
جودھپور،راجستھان، انڈیا

شمسُ الرحمٰن فاروقی اردو ادب کے ممتاز نقّاد، محقق، ادیب اور ناول نگار تھے، جنہوں نے اردو تنقید کو جدیدیت اور ساختیات کے نظری مباحث سے جوڑ کر ایک نئی جہت عطا کی۔ وہ جدید اردو تنقید کے اہم ترین ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔انہوں نے اردو ادب کے لئے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔انہوں نے رسالہ” شب خون” کی ادارت کے ذریعے اردو میں جدیدیت کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ ان کی اہم تصانیف میں شعر شور انگیز، تفہیمِ غالب، اردو کا ابتدائی زمانہ اور افسانے کی حمایت میں شامل ہیں، جبکہ ان کا ناول” کئی چاند تھے سرِ آسماں”کو عالمی سطح پر بے حد سراہا گیا۔ فاروقی صاحب کو ان کی علمی و ادبی خدمات پر” پدم شری” اور” ساہتیہ اکادمی ایوارڈ” سمیت کئی اعزازات سے نوازا گیا۔
افسانے کے تعلق سے اگر بات کی جائے تو شمس الرحمٰن فاروقی کے نزدیک یہ محض کسی واقعے کا بیان نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور فنی تجربہ ہے جو اپنی ساخت، بیانیہ تکنیک اور لسانی تنظیم سے پہچانا جاتا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ افسانے کا مقصد زندگی کی نقل پیش کرنا نہیں بلکہ حقیقت کو ایک نئے معنوی تناظر میں تخلیقی طور پر مرتب کرنا ہے۔ فاروقی صاحب افسانے کو کسی اخلاقی یا نظریاتی مقصدیت کے تابع کرنے کے خلاف تھے اور اسے مکمل طور پر فن کے اصولوں کا پابند سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق افسانے کی اصل قوت اس کے اندازِ بیان، زبان کی تہہ داری، اور کم لفظوں میں زیادہ معنی پیدا کرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے، جبکہ جدید افسانہ علامت، تجرید اور ابہام کے ذریعے انسانی داخلی تجربات کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کر سکتا ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کے افسانے ’’ان صحبتوں میں آخر‘‘ کو ان کی افسانہ نگاری کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ فاروقی محض کہانی بیان کرنے والے افسانہ نگار نہیں بلکہ تہذیبی شعور، نفسیاتی پیچیدگی، علامت نگاری اور جمالیاتی حقیقت نگاری کے ایسے فنکار ہیں جو ہر جملے میں ایک پورا جہان آباد کرتے ہیں۔ اس افسانے کی ابتدا ہی ذہنی اور تہذیبی زوال کے ایک ایسے منظر سے ہوتی ہے جسے فاروقی نے شکستہ مکان کے ذریعہ انتہائی فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ راوی جب اس پرانے مکان میں داخل ہوتا ہے تو وہ صرف ایک عمارت نہیں دیکھ رہا ہوتا بلکہ ایک پوری تہذیب کے زوال کی تصویر اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ جیسا کہ وہ بیان کرتا ہے: “مکان کی شکستہ دیواریں یوں لگتی تھیں جیسے ایک پرانی تہذیب میرے سامنے اپنے زخم کھولے کھڑی ہو۔” یہ جملہ اس بات کا اعلان ہے کہ فاروقی کے یہاں فضا نگاری محض منظر آرائی نہیں بلکہ تہذیبی تنقید کا ایک لطیف طریقہ ہے۔اسی مکان کا ادھ کھلا دروازہ افسانے میں ایک اہم علامت بن کر ابھرتا ہے۔ وہ دروازہ جسے نہ مکمل بند کیا گیا ہے نہ پوری طرح کھولا گیا ہے، کرداروں کی داخلی کیفیت، ادھورے تعلقات اور ناتمام خواہشات کی علامت ہے۔ راوی کہتا ہے: “دروازہ آدھا کھلا تھا جیسے کوئی انتظار سے تنگ آکر یوں ہی چھوڑ گیا ہو۔” یہ آدھا کھلا دروازہ دراصل اس ذہنی اور جذباتی خلا کا استعارہ بھی ہے جو کردار اپنی یادوں اور حقیقت کے درمیان محسوس کرتا ہے۔ دروازہ اسی ادھورے پن کا نشان ہے جو اُس کی پوری شخصیت میں سرایت کیے ہوئے ہے۔
افسانے میں ملاقات کا بیان بھی اسی طرح مبہم اور دھندلا ہے جیسے یادیں خود انسان کے شعور میں ابھرتی اور ڈوبتی رہتی ہیں۔ راوی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ملاقات واقعی ہوئی بھی تھی یا نہیں۔ اس کا یہ جملہ فاروقی کی جدیدیت پسند فکشن کا نہایت گہرا اظہار ہے: “وہ ملی تھی، شاید نہیں بھی ملی تھی۔ میں فیصلہ کبھی نہیں کر پایا۔” اس ایک سطر میں حقیقت اور تخیل کی سرحدیں ٹوٹ جاتی ہیں اور قاری کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ افسانہ بیرونی واقعات سے زیادہ اندرونی دنیا کا بیان ہے۔ یہ ملاقات صرف خارجی واقعہ نہیں بلکہ ایک داخلی تجربہ، ایک نفسیاتی مکالمہ اور ایک جذباتی گونج بھی ہے۔فاروقی نے افسانے میں مکالمے کو جان بوجھ کر مختصر اور ادھورا رکھا ہے۔ یہ خاموشی دراصل زیادہ طاقتور اظہار ہے۔ کرداروں کے درمیان گفتگو کم ہے مگر جو کچھ نہیں کہا جا سکا، وہی افسانے کی اصل معنویت ہے۔ راوی اعتراف کرتا ہے: “کہنے کو بہت سی باتیں تھیں، مگر کوئی ایک بھی پوری طرح کہی نہ جا سکی۔” یہ ادھورا پن اس تہذیبی آہنگ کی نمائندگی کرتا ہے جس میں جذبات کا اظہار بلند آواز میں نہیں بلکہ خاموشی کے پردے میں ہوتا ہے۔
افسانے میں یادداشت کا دھندلا پن سب سے نمایاں ہے۔ فاروقی نے یادوں کو حقیقت کی طرح نہیں بلکہ ایک تخلیقی عنصر کے طور پر پیش کیا ہے۔ یادیں کبھی واضح ہوتی ہیں، کبھی مبہم، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان نے خود ہی انہیں تراش لیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ راوی کہتا ہے: “کچھ باتیں مجھے یاد تھیں، کچھ شاید میں نے خود بنا لی ہوں۔ یادیں بھی دھوکا دے جاتی ہیں۔” یہاں یادداشت ذہنی انتشار، نفسیاتی گریز اور حقیقت کے ساتھ عدم مطابقت کی علامت بن جاتی ہے۔ یہ ابہام جدید افسانے کی بنیادی تکنیکوں میں سے ایک ہے اور فاروقی اسے پورے کمال کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔مرکزی کردار کی داخلی کشمکش پورے افسانے میں جاری رہتی ہے۔ وہ خود سے مسلسل سوال کرتا ہے، اپنی ہی یادوں پر شک کرتا ہے اور حقیقت کے کسی ایک نقطے پر ٹھہر نہیں پاتا۔ وہ کہتا ہے: “جو ملا بھی تھا اور شاید نہیں بھی ملا تھا، وہ میرے اندر کہیں بیٹھا رہتا تھا، جیسے کوئی سایہ ہو جسے ہٹایا نہیں جا سکتا۔” اس سائے کا وجود دراصل اس کے لاشعور میں جما ہوا وہ احساس ہے جس نے زندگی بھر اسے بےقراری میں رکھا ہے۔ یہ وجودی تنہائی، جدید انسان کے ذہنی اور جذباتی بحران کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔افسانے کا اختتام بھی اسی طرح مبہم، کھلا ہوا اور غیر قطعی ہے۔ نہ کوئی فیصلہ، نہ کوئی انجام بس ایک گونج جو راوی کے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ وہ کہتا ہے: “میں لوٹ آیا مگر مجھے یقین نہ تھا کہ کچھ نیا پا لیا ہے یا بس وہی پرانی گونج اپنے ساتھ لئے چل رہا ہوں۔” یہ گونج دراصل پوری کہانی کا مرکزی استعارہ ہے۔ وہ گونج جو ماضی سے حال تک سفر کرتی ہے، جو یادوں کے دھند سے جنم لیتی ہے، اور جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ فاروقی کے نزدیک اختتام وہ جگہ نہیں جہاں کہانی رک جائے، بلکہ جہاں ایک نئی معنویت جنم لینے لگتی ہے۔
یہ افسانہ اردو افسانہ نگاری میں غیر خطی بیانیے کے بہترین نمونوں میں شمار کیا جا سکتا ہے، جس میں کہانی کسی سیدھی زمانی ترتیب کی پابند نہیں رہتی بلکہ ماضی، حال اور داخلی کیفیتوں کے ٹوٹے ہوئے سلسلوں کے ذریعے ایک ایسی فضا بناتی ہے جس میں وقت، یاد اور شخصیت کی سرحدیں دھندلی ہو جاتی ہیں۔ اس افسانے میں واقعات کی لکیری ترتیب موجود نہیں؛ راوی کبھی حال کے تنہا لمحوں میں سانس لیتا ہے، پھر اچانک کسی گزرے ہوئے دن، کسی چہرے، یا کسی مبہم “صحبت” کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ ان یادوں کی کوئی مخصوص زمانی ترتیب نہیں بلکہ یہ ذہن کے بہاؤ (stream of consciousness) کے تحت اُبھرتی اور بیٹھتی ہیں۔ ایک مقام پر راوی کسی یاد کے بارے میں کہتا ہے کہ”شاید یہ بات یوں نہیں تھی… یا شاید میں اسے کسی اور دن سے ملاـ بیٹھا ہوں”ـیہ جملہ پورے افسانے کی اس ذہنی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جس میں یادیں ٹھوس حقیقت کے بجائے دھندلی اور بدلتی ہوئی تصویریں بن جاتی ہیں۔ فاروقی نے بیانیے کو اسی غیر یقینی اور انتشار پذیر یادداشت پر قائم کیا ہے، جو جدید افسانے کی بنیادی پہچان ہے۔افسانے کی ساخت میں بار بار وہ لمحے آتے ہیں جہاں راوی کسی خیال کے درمیان ہی اچانک ماضی کے کسی اور دوراہے پر پہنچ جاتا ہے؛ کبھی کوئی چہرہ، کبھی کوئی مکالمہ، کبھی کوئی شعراور یوں بیانیہ جذباتی، نفسیاتی اور جمالیاتی ترتیب پر چلتا ہے، نہ کہ زمانی ڈھانچے پر۔ یہی وجہ ہے کہ پورا افسانہ ایک ایسی “داخلی گردش” محسوس ہوتا ہے جس میں راوی اپنی یادوں کی حقیقت پر بھی شک کرتا ہے اور خود کو ان میں تلاش بھی کرتا ہے۔ اس غیر خطی اسلوب کو فاروقی نے علامتی عناصر کے ساتھ مزید مضبوط کیا ہے، مثلاً دروازے کا آدھا کھلا ہونا، سایے کا پیچھے چلنا، یا خاموشی کا غلبہ ۔یہ سب یاد کے غیر مربوط بہاؤ اور شخصیت کی ٹوٹ پھوٹ کی علامتیں بن کر سامنے آتے ہیں۔ افسانے میں شامل اشعار بھی اسی غیر خطی ساخت کا حصہ ہیں؛ وہ کہیں منطقی ترتیب سے نہیں آتے بلکہ جذبات کے کسی اچانک ابھرنے والے دھارے کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔ مثلاً جب غالب کا شعر “ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے” اچانک بیانیے میں داخل ہوتا ہے تو یہ شعوری طور پر نہیں بلکہ ذہن کی موجِ خیال کے تحت آتا ہے۔ اسی طرح میر کا شعر “پھر یوں ہوا کہ چشمِ تماشہ نہ رہی” کسی واقعے کا منطقی تجزیہ نہیں بلکہ ذہنی کیفیت کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ اشعار کا یہی غیر متوقع ورود بیانیے کی ساخت میں ایک اور سطح کی غیر خطیت شامل کر دیتا ہے۔
شمس الرحمٰن فاروقی کی افسانہ نگاری میں زبان کا کردار نہایت اہم ہے۔ ان کی تحریروں میں ہر لفظ اور ہر فقرہ صرف بیان کے لیے نہیں بلکہ ایک فنی اور جمالیاتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ افسانہ ’’ان صحبتوں میں آخر’’ اس بات کی بہترین مثال ہے جہاں زبان کی فنی تراش خراش اور کلاسیکی لطافت دونوں نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتی ہیں۔ فاروقی کی زبان نہ صرف شستہ اور صاف ہے بلکہ ہر جملے میں ایک موسیقیت اور تہذیبی آہنگ بھی موجود ہے۔فاروقی نے اپنے افسانے میں الفاظ کے استعمال کو اتنی باریکی سے تراشا ہے کہ ہر فقرہ کردار کے اندرونی جذبات، یادوں کے دھندلے پن اور فضا کی خاموشی کو مؤثر انداز میں ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ لکھتے ہیں: “میں نے اسے دیکھا، مگر جیسے وہ صرف میری یادوں کی تخلیق ہو، حقیقت میں کبھی موجود نہ رہی ہو۔” یہ جملہ کردار کے نفسیاتی ابہام اور داخلی کشمکش کو نہایت باریکی سے بیان کرتا ہے۔ اسی طرح، “خاموش کمرے میں ہوا کی ہلکی سرسراہٹ بھی جیسے پرانی باتوں کی گونج لے کر آ رہی ہو” میں فاروقی نے ماحول کو ایک علامتی اور نفسیاتی کیفیت میں بدل دیا ہے۔ یہاں نہ صرف کمرے کی فضا محسوس ہوتی ہے بلکہ یادوں اور پرانی صحبتوں کا اثر بھی زبان کی لطافت کے ذریعے جیوگرام کی طرح واضح ہو جاتا ہے۔فاروقی کی زبان کی کلاسیکی لطافت بھی قابل ذکر ہے۔ وہ لفظوں کو اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ جملے کی ساخت میں ایک قدیم ادبی حسن اور موسیقیت پیدا ہو جاتی ہے۔ جیسے وہ بیان کرتے ہیں: “رات کی خاموشی میں سب کچھ تھم سا گیا، اور لمحے کے سکوت میں پرانی باتیں چپ چاپ سامنے آ گئیں۔” اس جملے میں نہ صرف وقت اور فضا کی نرمی محسوس ہوتی ہے بلکہ کلاسیکی ادبی حسن بھی جھلکتا ہے، جہاں جملے کی روانی اور وزن قاری کے ذہن میں ایک مخصوص جمالیاتی تجربہ پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح، “یادیں میرے اندر دھند کی مانند گھل رہی تھیں، ہر لمحہ ایک نیا سایہ لے کر آتا” میں لفظوں کی باریکی اور موسیقیت واضح طور پر نظر آتی ہے۔فاروقی کی فنی تراش خراش اور کلاسیکی لطافت کا امتزاج قاری کو محض کہانی پڑھنے سے آگے لے جاتا ہے۔ ہر جملہ، ہر تشبیہ اور ہر منظر ایک تہذیبی اور جمالیاتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ افسانے میں زبان کی یہ خوبصورتی کردار کی داخلی کیفیت، یادوں کے ابہام اور تہذیبی فضا کو جاندار بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’ان صحبتوں میں آخر’’ نہ صرف ایک افسانہ ہے بلکہ اردو ادب میں زبان کے حسن اور فنی تراش خراش کا ایک روشن نمونہ بھی ہے۔
منظر نگاری کی بات کی جائے تو یہ کہنا کافی ہوگا کہ افسانہ پڑھتے وقت کئی مرتبہ آپ کو یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید آپ کوئی پرانا کلاسکل سنیما دیکھ رہے ہیں۔ہر ایک منظر اور ہر ایک چیز کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنف کا مطالعہ بہت وسیع ہے ورنہ اٹھارہویں صدی کے رہن سہن، ساج سنگار، رسم رواج اورروزمرہ کے استعمال کی اشیا ء وغیرہ کا اتنا مفصل اور موثر بیان ممکن ہی نہیں ہے۔مثال کے طور پر نورالستادۃ میر سے ملنے کے لئے جس کمرے میں آتی ہے، فاروقی صاحب نے اس کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ دیکھ لینا کافی ہوگا۔ ” کمرے میں دیوار تا دیوار قالین تھا۔ ہلکے سبز کنول روشن تھے، اور لونگ کے عطر کی لطیف خوشبو ہوا میں تھی۔ کمرے کے پرلے سرے پر قالین ہی کی طرز و قماش کا بھاری پردہ تھا۔ دیوار سے ملا کر ترکی طرز کا دیوان بچھا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ہی، اس سے مختلف ، لیکن خدا جانے کیوں بالکل مناسب لگتی ہوئی دو کرسیاں تھیں۔ میر کو بعد میں معلوم ہوا کہ وہ چینی ترکستانی طرز کی تھیں۔ بیچ میں ایک نیچی سی میز پر کسی اجنبی اسلوب کے نقش و نگار والا میز پوش تھا۔میز پر اور دو طاقوں میں گلدان ، گلدانوں میں تازہ پھول۔ ایک طرف نیچی سی چوکی ، جس پر ہاتھی دانت کے پتلے ورق کی بنی ہوئی شطرنج کی بساط، اور ہاتھی دانت ہی کے مہرے۔ ترکی دیوان کے ایک سرے پر دو کتابیں ۔لیکن دونوں ہی بند۔ ان کی خوب صورت جلد بندی سے معلوم ہوتا تھا کہ نہایت قیمتی اور محبت سے رکھی پڑھی جانے والی کتابیں ہیں۔”
افسانے میں مکالمہ نگاری کا کردار نہایت اہم ہے۔ فاروقی نے مکالمات کو صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں کردار کی داخلی کشمکش، یادوں کے دھندلے پن اور حقیقت کے غیر یقینی پن کو ظاہر کرنے کے لیے تراشا ہے۔ مکالمے اکثر مختصر، ادھورے اور خاموشی کے ساتھ بھرپور ہیں۔ مثال کے طور پر، راوی لکھتا ہے: “کہنے کو بہت سی باتیں تھیں، مگر کوئی ایک بھی پوری طرح کہی نہ جا سکی۔” یہ جملہ نہ صرف مکالمے کی ادھوری حیثیت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ کردار کی نفسیاتی پیچیدگی اور تعلقات کی ناتمام نوعیت کو بھی واضح کرتا ہے۔ اسی طرح، “تم سمجھو یا نہ سمجھو، یہ سب کچھ یوں ہی رہ گیا ہے، بس یادیں باقی رہ گئی ہیں۔” مکالمے میں حقیقت اور یادوں کے درمیان غیر یقینی پن جھلکتا ہے، جبکہ ایک اور جملہ “میں نے تمہیں دیکھا، شاید نہیں بھی دیکھا۔ فیصلہ کرنے کی طاقت میرے پاس نہیں تھی۔” حقیقت اور وہم کی سرحد کو واضح کرتا ہے اور کردار کی داخلی کشمکش کو مؤثر انداز میں پیش کرتا ہے۔فاروقی نے مکالمے میں خاموشی اور غیر کہے گئے جذبات کو بھی شامل کیا ہے، جو کردار کے اندرونی شعور اور جذباتی دباؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ جیسے “اور پھر کچھ نہ کہا گیا، بس چپ چاپ لمحے گزر گئے۔” اور “کیا تم نے کبھی سوچا کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا؟ میں بھی جواب نہیں جانتا۔” یہاں مکالمہ نہ صرف واقعے کو آگے بڑھاتا ہے بلکہ کردار کی نفسیاتی گہرائی اور زندگی کی غیر یقینی کیفیت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔مکالمہ نگاری، منظر نگاری اور زبان کی تراش خراش کا یہ امتزاج قاری کو ایک جامع ادبی اور نفسیاتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔ مکالمے کردار کی داخلی کشمکش اور یادوں کی دھندلی تصویر پیش کرتے ہیں، منظر نگاری ماحول اور وقت کی فلسفیانہ کیفیت کو نمایاں کرتی ہے، اور زبان کی لطافت اور فنی تراش خراش ان تمام عناصر کو ایک خوبصورت ادبی فریم میں پرو دیتی ہے۔ اسی وجہ سے افسانہ ’’ان صحبتوں میں آخر’’ نہ صرف ایک داستان ہے بلکہ انسانی شعور، یاد، وقت اور جذبات کا ایک مکمل ادبی عکس بھی ہے۔
’’ان صحبتوں میں آخر‘‘ کے تناظر میں اگر فاروقی کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کے افسانے کی بنیاد تہذیبی شعور، علامتی فضا، داخلی مکالمہ، نفسیاتی گہرائی، یادداشت کے ابہام، غیر خطی بیانیے، زبان کی لطافت اور تعلقات کی تہذیبی پیچیدگی پر ہے۔ فاروقی کے افسانے محض واقعات نہیں بلکہ تہذیب، نفسیات اور جمالیات کا ایک ایسا تجربہ ہیں جو قاری کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہتا ہے۔ ان کی افسانہ نگاری کا حسن یہ ہے کہ وہ کہانی کو ایک ایسا آئینہ بنا دیتے ہیں جس میں فرد، سماج، تہذیب، یادیں اور جذبات سب اپنی اپنی شکلوں میں نمودار ہوتے ہیں، مگر کبھی پوری طرح واضح نہیں ہوتے، بلکہ ہمیشہ ایک لطیف پردے میں رہتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے زندگی خود ہے۔