شمس الرّحمٰن فارُوقی اور اردو ادب میں جدیدیت: ایک تنقیدی مطالعہ

ڈاکٹررابعہ نسیم مُغل
(محکمہ تعلیم، حکومت جموں و کشمیر)

شمسُ الرّحمٰن فاروقی (1935–2020) اردو ادب کے اُن چند بڑے ناموں میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے بیسویں صدی کے آخری نصف میں اردو تنقید، شاعری اور فکشن کو ایک نئے فکری و جمالیاتی زاویے سے دیکھا۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز نقاد تھے بلکہ ایک کہانی نویس، شاعر، ماہرِ عروض، اور نظریہ ادب کے موجد بھی تھے۔ فاروقی کا نام اردو میں جدیدیت (Modernism) کے بانیوں اور اس کے سب سے بڑے مفکرین میں لیا جاتا ہے۔ انہوں نے اردو ادب کو مغربی تنقید کے جدید رجحانات سے روشناس کرایا، مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اردو ادب کی اپنی ایک داخلی روایت (indigenous tradition) ہے جسے کسی مغربی فریم ورک میں مکمل طور پر سمونا ممکن نہیں۔اردو ادب میں جدیدیت کے مباحث کا جب بھی ذکر آتا ہے تو شمسُ الرحمٰن فاروقی کا نام ناگزیر طور پر سامنے آتا ہے۔انہوں نے نہ صرف جدیدیت کو اردو تنقید میں نظریاتی بنیاد فراہم کی بلکہ اسے روایت، زبان، اور تہذیب کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔
شخصی و فکری پس منظر
فاروقی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا، لیکن بہت جلد ان کی توجہ تنقید اور نظریہ سازی کی طرف مبذول ہوئی۔ وہ مغرب کی ادبی تحریکوں، خصوصاً نیو کریٹیسزم (New Criticism)، ساختیات (Structuralism) اور جدیدیت (Modernism) سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ تاہم ان کی فکر کا اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ان نظریات کو اردو کے تاریخی، تہذیبی اور لسانی تناظر میں ڈھالتے تھے۔ ان کے نزدیک اردو ادب کی شناخت صرف ماضی کی روایت میں نہیں بلکہ اس کی تخلیقی تجدید میں پوشیدہ ہے۔
اردو ادب میں جدیدیت کا فروغ
فاروقی نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اردو میں جدیدیت کو ایک باقاعدہ ادبی تحریک کی صورت میں پیش کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ اردو ادب کو محض سماجی حقیقت نگاری (Social Realism) تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے انسانی تجربے کی پیچیدگی، داخلی کیفیات، اور زبان کی جمالیات کو بھی موضوع بنانا چاہیے۔ان کے نزدیک جدیدیت محض مغربی تقلید نہیں، بلکہ ایک ذہنی رویہ (mental attitude) ہے ۔ایک ایسا طرزِ فکر جو روایت کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے نئے معنی میں زندہ کرتا ہے۔
روایت اور جدیدیت کا تعلق
فاروقی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے روایت اور جدیدیت کے درمیان کوئی تضاد نہیں مانا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اردو کی کلاسیکی روایت (مثلاً میر، غالب، میر حسن، انشا وغیرہ) میں وہ تمام جمالیاتی اصول پہلے سے موجود ہیں جنہیں جدید ادب اپنے اظہار کا حصہ بناتا ہے۔ان کے نزدیک:ـ’’جدیدیت روایت سے انکار نہیں بلکہ روایت کی تخلیقی تجدید ہے۔‘‘فاروقی نے اردو تنقید میں ’’روایت سے بغاوت ‘‘کے بجائے ’’روایت سے گفتوشنید ‘‘کا تصور پیش کیا۔ان کے نزدیک اردو ادب کی اصل طاقت اس کی تخلیقی روایت میں مضمر ہے، جو ہر نئے عہد میں نئے معنی پیدا کرتی ہے۔اس نقطِ نظر کے تحت فاروقی نے غالب، میر، فراق، ن م راشد، اور انتظار حسین جیسے شعرا و ادبا کی تحریروں کو نئے زاویے سے پڑھا۔ ان کے نزدیک یہ سب اپنی زبان، اسلوب اور خیال کے ذریعے روایت کے اندر رہتے ہوئے جدید معنویت پیدا کرتے ہیں اور ان کی تخلیقات روایت کے خلاف نہیں بلکہ روایت کے ساتھ ایک تخلیقی مکالمہ ہیں۔’’روایت جامد شے نہیں بلکہ مسلسل زندہ رہنے والا عمل ہے جو ہر عہد میں نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔‘‘ (فاروقی، تنقیدی افکار، ص: 112)۔فاروقی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اردو جدیدیت کو صرف ’’مغربی جدیدیت ‘‘کے پیرایے میں سمجھنا غلط ہوگا۔ان کے نزدیک جدیدیت ایک ذہنی رویہ ہے جو ماضی سے انکار نہیں کرتا بلکہ اس کی ازسرِنو تفہیم کرتا ہے۔اسی لیے وہ روایت کو ’قید‘ نہیں سمجھتے بلکہ ایک ’فکری سرمایہ ‘مانتے ہیں جس سے گفتوشنید (dialogue) ادب کو تازگی اور معنویت عطا کرتی ہے۔فاروقی کی یہ سوچ مغربی مفکر T.S. Eliot کے مضمون‘‘Tradition and the Individual Talent’’سے قریب تر ہے، مگر فاروقی نے اس تصور کو اردو کے تہذیبی اور شعری تناظر میں برتا۔ایلیٹ نے کہا تھا کہ ’’روایت ایک زندہ عمل ہے جسے ہر نئی تخلیق ازسرِنو معنی دیتی ہے ‘‘فاروقی نے اس نظریے کو اردو شاعری کے مزاج میں جذب کر کے‘‘جدید روایت’’کا نیا مفہوم پیش کیا۔
ان کی تنقید روایت اور جدیدیت کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایک ایسا پُل جو اردو ادب کی تاریخی تسلسل کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور اس میں جدید فکری جہتیں بھی شامل کرتا ہے۔یوں فاروقی کی شخصیت اردو تنقید میں ایک انتقالی اور ترکیبی کردار (transitional and synthetic role) ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اردو ادب کو نہ صرف مغربی نظریہِ ادب کے ساتھ ہم آہنگ کیا بلکہ اردو کی اپنی فکری روایت کو مرکزیت بھی بخشی۔ ان کی تنقید کا مقصد ادب کو فکری سطح پر بیدار کرنا اور جمالیاتی سطح پر گہرا بنانا تھا۔ یہی ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، جو اردو تنقید کو نئی فکری سمت دیتا ہے۔
جدیدیت کا مفہوم اور اردو ادب (Modernism and Urdu Literature)
۱۔جدیدیت کا نظری و فکری مفہوم
جدیدیت (Modernism) بنیادی طور پر ایک فکری، جمالیاتی اور ثقافتی تحریک ہے جو انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ میں ابھری۔ اس تحریک نے فن، ادب، فلسفہ اور تہذیب کے تمام تصورات کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دی۔لفظ ”جدیدیت” دراصل ”modernus” (لاطینی) سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ”نیا”، ”عصری” یا ”موجودہ زمانے سے تعلق رکھنے والا”۔ تاہم، محض نیا ہونا جدیدیت کا اصل مفہوم نہیں ۔ جدیدیت ایک ذہنی اور تخلیقی رویہ ہے جو روایت سے بغاوت کرتے ہوئے انسانی شعور، انفرادی تجربے، اور زبان کی تخلیقی ساخت پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ادب میں جدیدیت کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مصنف یا شاعر حقیقت کو براہِ راست نہیں بلکہ اس کی باطنی اور نفسیاتی جہتوں کے ذریعے پیش کرے۔یہ تحریک صنعتی انقلاب، عالمی جنگوں، اور سماجی تبدیلیوں کے پس منظر میں پیدا ہوئی، جس نے انسان کے وجود، اقدار اور شعور کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھائے۔چنانچہ جدیدیت نے حقیقت نگاری (Realism) کی سیدھی سادہ پیشکش کو رد کرتے ہوئے علامت، تجرید، ابہام، اور داخلی خودکلامی (stream of consciousness) جیسے اسالیب اختیار کیے۔
۲۔ اردو ادب میں جدیدیت کا تاریخی پس منظر
اردو ادب میں جدیدیت کا باقاعدہ آغاز 1950 کی دہائی میں ہوا۔ اس سے قبل اردو ادب دو بڑی تحریکوں کے زیرِ اثر رہا:
ا۔رومانوی تحریک (Romantic Movement) جس میں جذبات، عشق، اور حسنِ فطرت کو مرکزی اہمیت حاصل تھی؛
۲۔ترقی پسند تحریProgressive Writers Movement)’) جو ادب کو سماجی اصلاح اور طبقاتی جدوجہد کا آ لہ سمجھتی تھی۔
ان دونوں تحریکوں کے بعد اردو ادب میں ایک ایسا فکری خلا محسوس ہوا جس میں تخلیقی اظہار محدود اور نظریاتی ہو چکا تھا۔اسی پس منظر میں جدیدیت نے جنم لیا۔یہ تحریک ترقی پسندی کے ردِعمل میں نہیں بلکہ تخلیقی آزادی اور انفرادی تجربے کی بازیافت کے طور پر سامنے آئی۔جدید ادیبوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ ادب کو کسی سیاسی یا سماجی مقصد کا تابع نہیں ہونا چاہیے؛ بلکہ ادب کا اصل کام انسانی شعور کی پیچیدگیوں اور زبان کی جمالیات کو دریافت کرنا ہے۔
۳۔ اردو جدیدیت کے نمایاں رجحانات
اردو میں جدیدیت نے مختلف جہات میں اپنی شناخت قائم کی۔اس کے نمایاں ادبی رجحانات درج ذیل ہیں:
انفرادیت کا احساس (Individualism): شاعر یا ادیب کی ذات بطور تخلیقی مرکز نمایاں ہوئی۔
تجرباتی اظہار (Experimental Expression): علامتی، تجریدی اور ابہام پر مبنی اسلوب کو فروغ ملا۔
لسانی آگہی (Linguistic Awareness): زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ تخلیقِ معنی کا ذریعہ سمجھا گیا۔
وجودی احساس (Existential Sensibility): انسان کی تنہائی، بے معنویت اور داخلی اضطراب کو موضوع بنایا گیا۔
روایت کی نئی قرأت (Reinterpretation of Tradition): روایت کو جامد نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ سمجھ کر نئے معانی میں برتا گیا۔
یہ رجحانات اردو شاعری اور افسانے میں بیک وقت ظاہر ہوئے۔ن۔م۔ راشد، میراجی، انور سجاد، انتظار حسین، انیس ناگی، اور بعد میں شمسُ الرحمٰن فاروقی نے ان رجحانات کو فکری اور تنقیدی سطح پر مستحکم کیا۔
۴۔ شمسُ الرحمٰن فاروقی اور اردو جدیدیت
شمسُ الرحمٰن فاروقی اردو جدیدیت کے سب سے نمایاں نظریہ ساز (chief theoretician) مانے جاتے ہیں۔انہوں نے جدیدیت کو محض مغربی تقلید کے طور پر نہیں بلکہ اردو ادبی روایت کے تخلیقی تسلسل کے طور پر متعارف کرایا۔فاروقی نے‘‘شب خون’’(1966–2005) کے ذریعے جدید ادبی فکر کو منظم تحریک کی شکل دی۔ اس رسالے نے اردو ادب میں نئے مباحث، نئے اسالیب اور نئے تنقیدی زاویوں کو فروغ دیا۔فاروقی کے نزدیک جدیدیت ایک تحقیقی اور تفسیری عمل ہے۔ ’’ادب کو نئے زاویے سے پڑھنے، معنی کی نئی سطحوں کو دریافت کرنے، اور زبان کی جمالیاتی قوت کو پہچاننے کا نام جدیدیت ہے۔‘‘ (فاروقی، ساختیات، علامتیت اور اردو تنقید، ص: 22)انہوں نے اردو ادب کی روایت پسندی (traditionalism) کو چیلنج کیا اور اس بات پر زور دیا کہ روایت کو تنقیدی شعور کے ساتھ دوبارہ پڑھا جانا چاہیے۔ان کے نزدیک غالب، میر، اور فراق جیسے شعرا اپنی تخلیقات میں پہلے ہی جدید حسیت کے حامل تھے، لہٰذا اردو جدیدیت کسی بیرونی درآمد نہیں بلکہ داخلی فکری ارتقا کا نتیجہ ہے۔
۵۔ جدیدیت اور روایت: ایک نیا تنقیدی فریم ورک
فاروقی نے اردو جدیدیت کے لیے جو فریم ورک پیش کیا، وہ روایت کی نفی نہیں بلکہ اس کی ازسرِنو تعبیر (reinterpretation) ہے۔انہوں نے اپنے مضامین میں واضح کیا کہ اردو تنقید کو مغرب کے اثر سے انکار نہیں کرنا چاہیے، مگر اسے اپنی ثقافتی تاریخ کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔یہی وہ فریم ورک ہے جس نے اردو ادب میں نئے تنقیدی مباحث کو جنم دیا، جیسے کہ:
ساختیات (Structuralism) اور پسِ ساختیات (Post- Structuralism) کے اصولوں کا اطلاق؛ ادب اور معنی کے باہمی تعلق کی ازسرِنو تعبیر؛ روایت کی بازیافت بحیثیت تخلیقی قوت؛ نئے قاری (new reader) کے تصور کا فروغ اور متنی خودمختاری (textual autonomy) کا اصول۔
یہ تمام تصورات اردو ادب میں تنقید کی نئی سمت متعین کرتے ہیں — جہاں ادب کو کسی نظریاتی یا خارجی مقصد سے ہٹا کر متنی سطح (textual level) پر پرکھا جاتا ہے۔
اردو ادب میں جدیدیت محض مغربی رجحان نہیں بلکہ ایک فکری و جمالیاتی تحریک ہے جس نے اردو کے تخلیقی شعور کو نئے انداز میں تشکیل دیا۔اس نے ادب کو سماجی یا نظریاتی دائرے سے نکال کر انسانی تجربے، زبان اور شعور کی سطح پر لا کھڑا کیا۔شمسُ الرحمٰن فاروقی نے اس تحریک کو ایک علمی اور تنقیدی ڈھانچے میں ترتیب دیا، جس نے اردو ادب کو نہ صرف عالمی ادبی مکالمے سے جوڑا بلکہ اسے اپنی ثقافتی اساس پر استوار بھی کیا۔یوں جدیدیت اردو ادب میں روایت کی نفی نہیں بلکہ روایت کی تخلیقی تجدید کا استعارہ بن کر سامنے آتی ہے اور یہی فاروقی کے تنقیدی کارنامے کی اصل روح ہے۔
شمسُ الرحمٰن فاروقی کا تنقیدی ماڈل (Shams-Ur-Rehman Faruqi’s Critical Model)
شمسُ الرحمٰن فاروقی اردو ادب کے ان چند نقادوں میں سے ہیں جنہوں نے اردو تنقید کو محض تاثر یا تبصرے کے درجے سے نکال کر ایک علمی اور نظریاتی فریم ورک میں منظم کیا۔ان کا تنقیدی ماڈل (Critical Model) اردو ادب کی تہذیبی روایت، لسانی ساخت، اور جمالیاتی شعور کے باہمی رشتے پر مبنی ہے۔فاروقی کے نزدیک ادب ایک ایسا نظام ہے جس میں زبان، ثقافت، تاریخ اور انسانی تجربہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ان کا مقصد اردو ادب کے لیے ایسا منہجی اور خودمختار تنقیدی ماڈل پیش کرنا تھا جو نہ صرف مغربی نظریات سے استفادہ کرے بلکہ اپنی مقامی روایت سے بھی رشتہ برقرار رکھے۔
۱۔ ادب اور زبان کا تعلق (The Relationship between Literature and Language)
فاروقی کے نزدیک ادب اور زبان کا تعلق محض اظہار (expression) کا نہیں بلکہ تخلیقِ معنی (creation of meaning) کا ہے۔ان کے نزدیک زبان، ادب کا’مادہ ‘ نہیں بلکہ ’جوہر‘ہے۔ یعنی زبان ہی وہ عنصر ہے جو تخلیق کو معنی عطا کرتا ہے۔انہوں نے مغربی مفکر رولاں بارتھ (Roland Barthes) اور رومن یاکبسن (Roman Jakobson) کے لسانی نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے اردو ادب میں زبان کی عملی کارکردگی (performance) پر زور دیا۔’’زبان صرف ذریعہ نہیں بلکہ ادب کا خالق عنصر ہے۔ شاعر زبان کے اندر معنی نہیں ڈھونڈتا، وہ زبان کے ذریعے معنی پیدا کرتا ہے۔‘‘(فاروقی، ساختیات، علامتیت اور اردو تنقید، ص: 47) فاروقی نے یہ واضح کیا کہ اردو ادب کو صرف‘‘زبان کا کھیل’’سمجھنا ایک مغالطہ ہے، کیونکہ اردو زبان ایک تہذیبی اور تاریخی تجربے سے گزری ہے۔ان کے مطابق اردو زبان کے اندر ہندوستانی تہذیب، اسلامی جمالیات، فارسی لسانی روایت اور مقامی ثقافتی شعور کی پرتیں موجود ہیں۔لہٰذا اردو ادب کی قرأت ان تمام تہذیبی پرتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہی ممکن ہے۔ اسی نقطِ نظر سے فاروقی نے ’’اندازِ گفتگو کیا ہے؟‘‘ میں اردو نثر کی ساخت اور اسلوب کا مطالعہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ اردو نثر صرف اظہارِ خیال نہیں بلکہ ’تہذیبی گفتگو ‘ہے۔ جس میں بولنے والے، سننے والے، اور ثقافتی ماحول تینوں کی شمولیت ہوتی ہے۔یہی تصور بعد میں اردو فکشن اور غزل کی تنقید میں بھی ان کے ماڈل کی بنیاد بنا۔ان کے نزدیک زبان محض اظہار یا ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ تخلیقی معنیات (creative semantics) کی اصل بنیاد ہے۔وہ ادب کو‘‘زبان کی تشکیلِ نو’’سمجھتے ہیں یعنی ادیب یا شاعر صرف الفاظ نہیں برتتا بلکہ زبان کے اندر چھپے ہوئے ثقافتی اور جمالیاتی نظاموں کو ازسرِنو ترتیب دیتا ہے۔’’زبان وہ مقام ہے جہاں معنی پیدا ہوتے ہیں، جہاں روایت، قاری، اور ثقافت ایک دوسرے میں مدغم ہوتے ہیں۔‘‘(فاروقی، ساختیات، علامتیت اور اردو تنقید، ص: 73) فاروقی نے مغربی ساختیات (Structuralism) اور پسِ ساختیات (Post-Structuralism) سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اردو ادب میں معنی جامد نہیں بلکہ متحرک ہوتے ہیں۔ان کے مطابق ہر متن کئی ممکنہ معانی رکھتا ہے اور قاری ان میں سے کسی ایک معنی کو اپنی ثقافتی پس منظر کے مطابق فعال کرتا ہے۔یہ تصور انہیں روایتی تاثرّی تنقید سے ممتاز کرتا ہے، جو معنی کو مصنف کی نیت یا الفاظ کے ظاہری مفہوم تک محدود سمجھتی تھی۔ فاروقی کے نزدیک معنی ایک حرکی عمل (dynamic process) ہے جو قاری، متن، اور زبان کی ساخت کے درمیان جنم لیتا ہے۔اسی حوالے سے وہ اردو غزل کی مثال دیتے ہیں کہ غزل میں ہر شعر ایک ’’خودمختار اکائی ‘‘ہونے کے باوجود پورے نظامِ معنی سے مربوط ہوتا ہے۔یعنی غزل کا حسن اس کی ’ساختی وحدت ‘میں نہیں بلکہ ’معنی کی کثیرالجہتی ‘میں ہے۔ یہی تصور جدیدیت کے اس بنیادی اصول سے ہم آہنگ ہے کہ ادب سوال اٹھاتا ہے، جواب نہیں دیتا۔ فاروقی نے اپنی تنقید میں یہی بتایا کہ ادب کو پڑھنے کا عمل دراصل ’سوال کرنے ‘کا عمل ہے اور یہی سوال معنی کو تازہ رکھتا ہے۔
۲۔ روایت اور جدیدیت کا میل (Synthesis of Tradition and Modernity)
فاروقی کا ایک بنیادی نظریاتی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے روایت اور جدیدیت کے تضاد کو ختم کر کے دونوں کے درمیان تخلیقی ہم آہنگی (creative synthesis) قائم کی۔ان کے نزدیک اردو ادب میں جدیدیت محض مغرب سے درآمد شدہ نظریہ نہیں بلکہ اردو روایت کا داخلی ارتقا ہے۔’’اردو ادب میں جدیدیت، روایت سے انقطاع نہیں بلکہ اس کی نئی قرأت ہے ۔روایت خود جدیدیت کا پیش خیمہ ہے۔‘‘ (فاروقی، شب خون، شمارہ 82) فاروقی کے نزدیک اردو شاعری خصوصاً غزل کی روایت میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو جدید ادب کی پہچان ہیں، مثلاً:
معنوی ابہام (ambiguity)
علامتی اظہار (symbolism)
انفرادی شعور (individual consciousness)
داخلی مکالمہ (inner dialogue)
انہوں نے میر اور غالب کی شاعری میں ان ہی خصوصیات کو نشان زد کرتے ہوئے ثابت کیا کہ یہ شاعر اپنے عہد کے روایتی سانچوں میں رہتے ہوئے بھی جدید حسیت رکھتے تھے۔
فاروقی کا یہ ماڈل اردو تنقید میں غیر مغربی جدیدیت(Non Western Modernism) کی ایک مثال بن گیا۔انہوں نے کہا کہ اردو ادب کی جدیدیت کو یورپی تحریکوں (مثلاً Eliot یا Pound) کے معیار سے ناپنا غلط ہے، کیونکہ اردو کی تہذیبی روایت مختلف بنیادوں پر قائم ہے۔ان کے نزدیک اردو ادب کی جدیدیت، روایت کے ساتھ تخلیقی گفتوشنید (dialogue) کا نام ہے نہ کہ اس کی نفی۔
۳۔ ادبی اجزاء کا تنقیدی مطالعہ (Critical Study of Literary Components)
فاروقی کا تنقیدی ماڈل ادب کو ایک جامع نظام (total system) کے طور پر دیکھتا ہے، جس میں تمام اصناف — شاعری، غزل، نثر، داستان، ناول، زبان، بلاغت ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔انہوں نے اردو ادب کے تقریباً ہر صنفی (generic) پہلو پر تحقیقی اور تنقیدی کام کیا۔
(الف) شاعری اور غزل
فاروقی نے شاعری، خاص طور پر غزل کو اردو ادب کی مرکزی صنف قرار دیا۔انہوں نے ’’غزل: معنی کی تلاش‘‘ اور ’’شعر، غیر شعر اور نثر‘‘ میں وضاحت کی کہ غزل ایک ’نظامِ معنی‘ہے جو روایت، قاری، اور زبان کے تعلق سے اپنی معنویت قائم کرتی ہے۔ان کے مطابق غزل کے اشعار کو الگ الگ اکائیوں کے بجائے متنی کُل (textual totality) کے طور پر دیکھنا چاہیے۔یعنی ہر شعر اپنے اندر ایک خودمختار مگر ربط دار نظامِ معنی رکھتا ہے۔
(ب) نثر اور ناول
فاروقی کی کتاب ’’اندازِ گفتگو کیا ہے؟‘‘ اردو نثر کے اسلوبیاتی مطالعے کی بہترین مثال ہے۔یہ کتاب نثر کے اندر ’’تہذیبی گفتگو‘‘کے تصور کو سامنے لاتی ہے، جہاں جملوں کی ساخت، طرزِ بیان، اور اسلوب سب ثقافتی اظہار کا حصہ بن جاتے ہیں۔فاروقی نے اردو نثر میں محض بیانیہ (narrative) نہیں بلکہ ’’زبان کی تہذیبی حرکت ‘‘کو موضوع بنایا۔
(ج) داستان اور روایت
فاروقی نے اردو کی کلاسیکی صنف داستان پر بھی تحقیقی کام کیا، خاص طور پر اپنی کتاب‘‘Early Urdu Literary Culture and History’’میں۔انہوں نے ثابت کیا کہ داستان محض تفریحی بیانیہ نہیں بلکہ ثقافتی شناخت اور ادبی خودآگاہی کی علامت ہے۔فاروقی کے نزدیک داستان اردو تہذیب کی اجتماعی یادداشت ہے، جو جدید فکشن میں نئی صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔فاروقی کی تنقید محض جمالیاتی سطح تک محدود نہیں بلکہ تہذیبی اور تاریخی شعور میں جڑی ہوئی ہے۔ان کے نزدیک ادب اپنی تخلیقی خودمختاری کے باوجود معاشرتی اور تاریخی پس منظر سے الگ نہیں ہو سکتا۔انہوں نے اپنی تنقید میں اردو ادب کی تہذیبی جڑوں کی تلاش کی، خصوصاً 18ویں اور 19ویں صدی کے کلاسیکی ادب کے تناظر میں۔ان کے نزدیک میر تقی میر کی شاعری صرف ذاتی دکھ یا غم کا اظہار نہیں بلکہ عہدِ زوال کے شعور کی علامت ہے۔اسی طرح، انہوں نے اردو داستانوں (خصوصاً داستانِ امیر حمزہ اور فسانِ آزاد) کو اردو ثقافت کے ’اجتماعی تخیل ‘کی نمائندہ صنف قرار دیا۔’’ادب محض تخیل کی سرگرمی نہیں، یہ تہذیبی حافظے (cultural memory) کا استعارہ ہے۔‘‘(فاروقی، Early Urdu Literary Culture and History, p. 5)فاروقی کا یہ نقطہ نظر جدیدیت کے اس اصول سے ہم آہنگ ہے کہ ادب کو زمان و مکان کے تاریخی شعور کے ساتھ پڑھا جائے۔ان کے مطابق، جدیدیت کا مطلب ماضی سے فرار نہیں بلکہ ماضی کی بازخوانی (re-reading) ہے یعنی روایت کو نئے سماجی و فکری تناظر میں سمجھنا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید میں’جدیدیت ‘کسی مغربی پیراڈائم کی نقل نہیں بلکہ ثقافتی خودآگاہی (cultural self-awareness) کا مظہر ہے۔
(د) بلاغت اور زبانیات
فاروقی نے اردو بلاغت (علمِ بیان) اورلسانیات (linguistics) کے تناظر میں یہ واضح کیا کہ اردو کی ادبی روایت اپنی داخلی منطق رکھتی ہے۔انہوں نے ’’ساختیات، علامتیت اور اردو تنقید‘‘میں بتایا کہ اردو میں معنی کی تشکیل کے طریقے عربی-فارسی روایات سے مختلف مگر ان سے مربوط ہیں۔یوں انہوں نے اردو زبان کے لیے ایک مقامی ساختیاتی فریم ورک (indigenous structuralist framework) وضع کیا۔
۴۔ تنقیدی آزادی (Critical Autonomy)
فاروقی کے نزدیک ناقد کا کردار محض ادب پر تبصرہ کرنا نہیں بلکہ اسے نئے زاویے سے دریافت کرنا ہے۔انہوں نے اردو تنقید میں ــ ـ تنقیدی آزادی(Critical Autonomy) کے تصور کو فروغ دیا۔ان کے نزدیک ناقد محض کسی نظریے کا ترجمان نہیں بلکہ ایک سوال اٹھانے والا ذہن ہے جو متن کو مسلسل کئی بار پڑھتا(Re-Read) اور اس کے نئے معانی کھولتا ہے۔ ’’ناقد ادب کی تفسیر نہیں کرتا، بلکہ ادب سے سوال کرتا ہے اور یہی سوال ادب کو زندہ رکھتا ہے۔‘‘ (فاروقی، شب خون، شمارہ 105) فاروقی کا ماننا تھا کہ اردو تنقید کو کسی مسلک یا تحریک کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔ترقی پسند تحریک کے برعکس، انہوں نے ادب کو ’’اخلاقی یا سماجی خدمت ‘‘کے بجائے ایک جمالیاتی سرگرمی (aesthetic activity) سمجھا۔ان کے نزدیک حقیقی تنقید وہ ہے جو ادب کی داخلی ساخت، لسانی نظام، اور جمالیاتی تناؤ (aesthetic tension) کو سمجھے۔ان کا یہ رویہ اردو میں نظریاتی تنقید (theoretical criticism) کی بنیاد بنا۔اس ماڈل کے تحت ناقد ادب کو کسی پیشگی نظریے کے تابع نہیں کرتا بلکہ خود متن سے اس کے اصول اخذ کرتا ہے۔
۵۔ فاروقی کا تنقیدی ماڈل: ساخت اور اہم خصوصیات
فاروقی کے تنقیدی ماڈل کو درج ذیل نکات میں سمیٹا جا سکتا ہے:
ا۔ادب کی خودمختاری: ادب کسی نظریے، سیاست یا اخلاقیات کا آلہ نہیں بلکہ ایک خودمختار نظامِ معنی ہے۔
ب۔زبان کا تخلیقی کردار: زبان معنی پیدا کرتی ہے؛ شاعر یا ادیب اس کے اندر تخلیق کرتا ہے۔
ج۔قاری کی شمولیت: معنی قاری اور متن کے باہمی تعلق سے جنم لیتا ہے۔
د۔روایت کی تجدید: روایت جامد نہیں؛ ہر عہد میں نئے معانی کے ساتھ زندہ رہتی ہے۔
ہ۔جدیدیت بطور داخلی ارتقا: اردو ادب کی جدیدیت مغربی نقل نہیں بلکہ اس کی داخلی تہذیبی حرکت ہے۔
و۔تنقید بطور سوال: ناقد کا کام ادب سے نئے سوال اٹھانا اور اس کے امکانات تلاش کرنا ہے۔
ز۔ساختیاتی آگہی: ادب کو اس کے متنی ڈھانچے اور داخلی ساخت کی بنیاد پر سمجھنا ضروری ہے۔
یہ نکات مل کر فاروقی کے تنقیدی ماڈل کو ایک جامع اور علمی نظریہ بناتے ہیں، جو اردو ادب کو بین الاقوامی ادبی مکالمے میں معتبر مقام دیتے ہیں۔
فاروقی کے تنقیدی ماڈل پر متعدد ناقدین نے سوالات بھی اٹھائے۔بعض ناقدین، خصوصاً ترقی پسند فکر سے وابستہ مفکرین، نے ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے اردو ادب پر مغربی نظریات (خصوصاً ساختیات اور جدیدیت) کو مصنوعی طور پر مسلط کیا۔ان کے مطابق فاروقی نے اردو ادب کی ’مقامی تنقیدی روایت ‘کو کمزور کر کے مغربی فکر کو فوقیت دی۔مثلاً، سید سبطِ حسن اور احمد ندیم قاسمی جیسے ناقدین کا خیال تھا کہ فاروقی کا جدیدیت کا تصور اردو ادب کی سماجی اساس سے کٹا ہوا ہے۔ان کے مطابق فاروقی نے ادب کو اتنا ’خودمختار‘بنا دیا کہ اس کے سماجی و طبقاتی کردار کو نظر انداز کر دیا۔تاہم فاروقی نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد مغرب کی نقالی نہیں بلکہ اردو ادب کی داخلی جدیدیت کو اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا: ’’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مغرب سے درآمد شدہ جدیدیت اردو کے لیے کافی ہے، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اردو ادب اپنی داخلی حرکیات کو پہچانے۔‘‘ (فاروقی، شب خون، شمارہ 99) فاروقی کے نزدیک اردو ادب میں جدیدیت کی جڑیں داخلی فکری تحریک میں پیوست ہیں۔ انہوں نے میر، غالب، اور راشد جیسے شعرا کی مثال دے کر دکھایا کہ اردو ادب ہمیشہ سے ایک خود سوال کرنے والا ادب رہا ہے۔ یہی خودسوالی (Self-Questioning) جدیدیت کی اصل روح ہے۔دوسرا تضاد جس کی طرف فاروقی نے خود اشارہ کیا، وہ یہ تھا کہ جدیدیت اور روایت کے درمیان تعلق ہمیشہ تناؤ (tension) کی حالت میں رہتا ہے۔ایک طرف جدیدیت آزادی کا مطالبہ کرتی ہے، دوسری طرف روایت حدود قائم کرتی ہے ،فاروقی کے مطابق، ادب کی اصل تخلیقی قوت اسی کشاکشی میں پیدا ہوتی ہے۔ان کے نزدیک یہ کشمکش ادب کو زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔
فاروقی کا تنقیدی ماڈل اردو ادب میں ایک نئے فکری اور علمی شعور کی نمائندگی کرتا ہے۔انہوں نے اردو تنقید کو محض تاثراتی اور جذباتی سطح سے نکال کر فلسفیانہ اور نظریاتی بنیاد پر استوار کیا۔ان کے نزدیک ادب زبان، تاریخ، اور تہذیب کے باہمی تعلق سے جنم لینے والا متن ہے، جسے ہر دور میں نئے معنی دیے جا سکتے ہیں۔فاروقی کی تنقید میں‘‘روایت’’ایک زندہ مظہر بن جاتی ہے اور ’’جدیدیت ‘‘اس روایت کی نئی قرأت۔انہوں نے اردو ادب کو ایک خودمختار فکری کائنات کے طور پر دیکھا، جو مغرب سے مکالمہ کرتی ہے مگر اپنی ثقافتی شناخت سے دستبردار نہیں ہوتی۔یوں شمسُ الرحمٰن فاروقی کا تنقیدی ماڈل اردو تنقید میں ایک جامع نظریاتی فریم ورک بن کر ابھرتا ہے،جس میں ادب کو’’زبان، ثقافت، روایت، اور قاری ‘‘کے امتزاج سے سمجھا جاتا ہے اور یہی فریم ورک اردو ادب کو عالمی جدیدیت کے تناظر میں ایک منفرد حیثیت عطا کرتا ہے۔فاروقی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو تنقید کو ایک نئے فکری موڑ پر لا کھڑا کیا۔ جہاں روایت اور جدیدیت کا تعلق تضاد پر نہیں بلکہ گفتوشنید (dialogue) پر قائم ہوتا ہے۔جدیدیت ان کے نزدیک محض نئے اسلوب یا اظہار کا نام نہیں بلکہ ایک علمی و جمالیاتی شعور (aesthetic consciousness) ہے جو ادب کو مسلسل سوال کرنے، اپنی حدود ازسرِنو طے کرنے، اور معنی کے نئے امکانات دریافت کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔فاروقی کی تنقید کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اردو ادب میں جدیدیت کے تصور کو ایک فلسفیانہ، تنقیدی، اور جمالیاتی تحریک میں بدل دیا۔ان کے نزدیک جدیدیت محض اسلوبی یا فنی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نظریاتی موڑ (theoretical turn) ہے،جو ادب کو اس کی روایت، زبان، اور قاری کے تناظر میں نئے معنی دینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے اردو ادب کے لیے ایک ایسا ماڈل پیش کیا جس میں روایت جامد نہیں بلکہ متحرک ہے؛جہاں قاری محض سامع نہیں بلکہ شریکِ معنی ہے؛جہاں زبان اظہار نہیں بلکہ تخلیقِ حقیقت کا وسیلہ ہے؛اور جہاں ادب سماجی حقیقت کے ساتھ ساتھ فکری خودآگاہی کا اظہار بھی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ فاروقی نے اردو ادب میں جدیدیت کو ایک ثقافتی اور فکری شعور کی صورت میں متعارف کرایا ،ایک ایسا شعور جو روایت سے بات کرتا ہے، اس سے بغاوت نہیں کرتا؛جو معنی کو محدود نہیں بلکہ وسعت دیتا ہے؛اور جو اردو ادب کو عالمی فکری مکالمے میں ایک خودمختار اور زندہ روایت کے طور پر پیش کرتا ہے۔