شمسُ الرحمٰن فاروقی کے ہاں مذہبی و صوفیانہ شعور
(ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

نصیر وارثی
مدیر:سہ ماہی ورثہ نیو یارک

اردو ادب کی فکری اور تہذیبی تشکیل میں مذہب اور تصوف کو بنیادی حیثیت حاصل رہی ہے۔ صوفیانہ فکر نے نہ صرف اردو شاعری اور نثر کو روحانی گہرائی عطا کی بلکہ انسانی وجود، اخلاق، کائنات اور باطن کے سوالات کو بھی ادبی اظہار کا حصہ بنایا۔ خواجہ بندہ نواز، گیسو دراز، شاہ ولی اللہ، میر، غالب اور اقبال تک، اردو ادب کا بڑا حصہ مذہبی اور صوفیانہ شعور کی مختلف صورتوں سے ہم کنار نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ادب میں تنقید بھی ان فکری اور روحانی عناصر کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔
شمسُ الرحمٰن فاروقی کا شمار اردو کے اُن عظیم نقادوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید تنقیدی شعور کو کلاسیکی روایت کے ساتھ ہم آہنگ کر کے ایک مضبوط فکری نظام تشکیل دیا۔ اگرچہ فاروقی صاحب کو عموماً جدیدیت، شعریات، اسلوبیات اور ساختیاتی تنقید کے حوالے سے جانا جاتا ہے، لیکن ان کے فکری نظام کا ایک نہایت اہم اور کم زیرِ بحث آنے والا پہلو ان کا مذہبی اور صوفیانہ شعور بھی ہے۔ فاروقی کے ہاں مذہب محض عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی، اخلاقی اور معنوی نظام کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے، جبکہ تصوف ان کے نزدیک محض وجدانی کیفیت نہیں بلکہ انسانی وجود کے باطنی ادراک اور روحانی تطہیر کا ذریعہ ہے۔
فاروقی صاحب نے کلاسیکی شاعری کی تعبیر میں جس گہرے فہم کے ساتھ میر، ولی، درد اور غالب کے داخلی کرب، فنا، بقا، عشقِ حقیقی اور وحدتِ وجود جیسے تصورات کو واضح کیا، وہاں ان کے صوفیانہ شعور کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ان کی تنقید میں مذہبی استعارہ، روحانی علامت، اور باطنی تجربہ محض فنی عناصر نہیں بلکہ ایک گہرے تہذیبی اور فکری نظام سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ان کے ناول “کئی چاند تھے سرِ آسماں” میں بھی اخلاقی اقدار، تقدیر، صبر، رضا اور روحانی کشمکش کی فضا ایک خاموش مگر مضبوط مذہبی و صوفیانہ پس منظر قائم کرتی ہے۔
زیرِ نظر مقالہ شمسُ الرحمٰن فاروقی کے فکری نظام میں موجود مذہبی اور صوفیانہ شعور کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ لینے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے گا کہ فاروقی کس طرح جدید تنقید، کلاسیکی روایت اور روحانی فکر کے درمیان ایک فکری توازن قائم کرتے ہیں، اور ان کا یہ پہلو اردو تنقید میں کس قدر اہم اور بامعنی حیثیت رکھتا ہے۔
1۔ مذہبی شعور کا فکری مفہوم
فاروقی صاحب کے نزدیک مذہب کوئی جامد عقیداتی ڈھانچہ نہیں بلکہ انسان کے باطنی، اخلاقی اور فکری ارتقا کا سرچشمہ ہے۔ وہ مذہبی شعور کو تین سطحوں پر دیکھتے ہیں
اعتقادی سطح اخلاقی سطح تہذیبی سطح
فاروقی صاحب کے نزدیک اسلام نے برصغیر کی تہذیب، زبان اور ادب کو گہری معنویت عطا کی۔ وہ اردو ادب کو اسلامی تہذیبی شعور سے الگ کر کے دیکھنے کے قائل نہیں۔
2۔ فاروقی اور تصوف کا تصور
فاروقی کے ہاں تصوف کسی مخصوص خانقاہی رسم یا وجدانی کیفیت کا نام نہیں بلکہ
خودی کی تطہیر باطنی شعور کی بیداری
وجودی سوالات کی گہرائی انسان اور کائنات کے باہمی ربط
ان کی تنقید میں تصوف، جمالیات اور معنی کی گہرائی سے جڑا ہوا نظر آتا ہے۔
3۔ کلاسیکی شعرا میں صوفیانہ شعور کی تعبیر
فاروقی صاحب نے میر، غالب، ولی، درد اور دیگر شعرا کی تعبیر میں صوفیانہ فکر کو مرکزی حیثیت دی۔ وہ میر کے ہاں
فنا بقا دردِ وجود احوالِ باطن
کو محض عشقیہ کیفیات نہیں بلکہ صوفیانہ تجربے کے استعارے قرار دیتے ہیں۔
4شمس الرحمن فاروقی کے فکری نظام میں وحدت الوجود کا تصور
فاروقی صاحب کی تنقید میں وحدت الوجود کا تصور بطور فلسفیانہ مسئلہ براہِ راست تو کم آتا ہے، مگر ان کا تصورِ معنی، وجود اور جمالیات دراصل وحدانی شعور سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔ وہ کثرت میں وحدت اور وحدت میں کثرت کے صوفیانہ تصور کو فنی سطح پر قبول کرتے ہیں۔
5شمس الر حمن فاروقی کا فکشن اور مذہبی و صوفیانہ شعور
ناول “کئی چاند تھے سرِ آسماں” میں
تقدیر اخلاق روحانی کرب صبر و رضا
تہذیبی شعور
صوفیانہ فہم کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ اگرچہ یہ ناول براہِ راست تصوف کا بیان نہیں، مگر کرداروں کی نفسیات اور وجودی کشمکش ایک باطنی اور روحانی فضا قائم رکھتی ہے۔
6شمس الرحمن فاروقی اور شریعت و طریقت کا توازن
فاروقی صاحب کے ہاں شریعت اور طریقت میں کوئی تضاد نہیں بلکہ توازن نظر آتا ہے۔ وہ مذہب کو عقل، اخلاق اور تہذیب کے دائرے میں دیکھتے ہیں، جبکہ تصوف کو اسی مذہبی نظام کی باطنی توسیع قرار دیتے ہیں۔
7۔ جدیدیت اور صوفیانہ شعور کا امتزاج
فاروقی صاحب جدیدیت کے قائل ہوتے ہوئے بھی روحانیت کے منکر نہیں۔ ان کے نزدیک
جدید انسان مادی اعتبار سے ترقی یافتہ
مگر روحانی اعتبار سے بحران کا شکار ہے
اس لیے فاروقی صاحب کے فکری نظام میں جدیدیت اور تصوف ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کے تکمیلی پہلو ہیں۔
8شمس الرحمن فاروقی کی تنقید میں مذہبی اسلوبیات
فاروقی صاحب مذہبی متون (قرآن، حدیث، صوفی متون) کی
علامتی ساخت بیانیاتی قوت صوتی حسن
معنوی تہ داری
کو بطور اسلوبیاتی نمونہ دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہبی متون محض عقائد نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کی لسانی و ادبی جمالیات رکھتے ہیں۔
یہ بات تحقیق سے واضح ہوتی ہے کہ شمسُ الرحمٰن فاروقی کے فکری نظام میں مذہبی اور صوفیانہ شعور کوئی ثانوی یا ضمنی عنصر نہیں بلکہ ایک نہایت اہم اور بنیادی سطح پر موجود حقیقت ہے۔ انہوں نے مذہب کو محض عقیدت کے دائرے سے نکال کر فکری، جمالیاتی اور تہذیبی نظامِ معنی کے طور پر پیش کیا اور تصوف کو محض وجدانی کیفیت کے بجائے انسان کے وجودی اور اخلاقی شعور سے وابستہ کر کے دیکھا۔
فاروقی نے جدید تنقید اور کلاسیکی روایت کے امتزاج کے ساتھ ساتھ مذہبی و صوفیانہ فکر کو بھی ایک متوازن، سنجیدہ اور علمی سطح پر برتا۔ اسی لیے ان کی تنقید نہ صرف فکری گہرائی رکھتی ہے بلکہ روحانی معنویت سے بھی ہم کنار نظر آتی ہے۔ یوں فاروقی اردو ادب کے ان معدودے چند نقادوں میں شامل ہیں جنہوں نے عقل، جمال، مذہب اور تصوف کے درمیان ایک ہم آہنگ رشتہ قائم کیا۔
فاروقی اقتباسات کی روشنی میں
“اسلام نے برصغیر کی تہذیب، زبان اور ادب کو گہری معنویت عطا کی”
شمسُ الرحمٰن فاروقی کے نزدیک اسلام محض ایک مذہبی نظام نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی، لسانی اور ادبی تشکیل کا ایک مرکزی فکری سرچشمہ ہے۔ وہ اردو ادب کو اسلامی تہذیبی پس منظر سے الگ کرکے سمجھنے کے سخت مخالف ہیں۔ اپنی معروف کتاب “تنقیدی افکار” میں وہ واضح طور پر لکھتے ہیں
“اردو ادب کی روح کو اگر اس کے اسلامی اور صوفیانہ مزاج سے الگ کر دیا جائے تو وہ محض الفاظ کا کھیل بن کر رہ جائے گا، اس کی معنوی گہرائی باقی نہیں رہے گی۔”
(تنقیدی افکار، شمسُ الرحمٰن فاروقی)
اسی طرح وہ اردو زبان کی تہذیبی ساخت پر گفتگو کرتے ہوئے “اندازِ نظر” میں لکھتے ہیں
“اردو کی تشکیل میں فارسی اور عربی کے ذریعے جو اسلامی تہذیبی سرمایہ شامل ہوا، اس نے اس زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی شعور کی زبان بنا دیا۔”
(اندازِ نظر)
فاروقی کے نزدیک اردو شاعری میں عشق، تقدیر، صبر، رضا، فنا، بقا اور وحدت جیسے تصورات محض تخیلی موضوعات نہیں بلکہ ایک مربوط اسلامی و صوفیانہ فکری نظام کے مظاہر ہیں۔ اسی تناظر میں وہ “شعر شور انگیز” میں میر کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں
“میر کے ہاں جو باطنی کرب اور وجودی اضطراب ہے، اس کی جڑیں اسلامی تصورِ حیات اور صوفیانہ فکر میں پیوست ہیں، محض رومانوی ناکامی میں نہیں۔”
(شعر شور انگیز)
فاروقی اردو ادب کے تہذیبی تشخص پر زور دیتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ اسلام نے برصغیر کی تہذیب کو جو اخلاقی وقار بخشا، وہ ادب میں بھی پوری قوت کے ساتھ منتقل ہوا
“اسلامی تہذیب نے برصغیر کے ادب کو اخلاق، ضبط، وقار اور معنویت کا وہ شعور دیا جو محض جمالیاتی احساس تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ اقدار کی تشکیل کرتا ہے۔”
(مختلف مضامین، بحوالہ تنقیدی افکار)
اس تحقیقی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ شمسُ الرحمٰن فاروقی کے فکری نظام میں مذہبی اور صوفیانہ شعور کوئی ثانوی یا بالواسطہ عنصر نہیں بلکہ ایک گہری، مربوط اور معنویت سے بھرپور اساس کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ فاروقی کو عموماً جدید تنقیدی شعور، اسلوبیات اور شعریات کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، تاہم ان کے تنقیدی ذہن کی تہہ میں مذہب اور تصوف کا وہ روشن دھارا بہتا ہوا نظر آتا ہے جو اردو کی کلاسیکی روایت سے جڑا ہوا ہے۔فاروقی نے مذہب کو محض عقیدت یا رسم و رواج تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک اخلاقی، تہذیبی اور فکری نظامِ حیات کے طور پر برتا۔ اسی طرح تصوف کو انہوں نے وجد، حال اور جذب کی سطح سے نکال کر وجودی شعور، باطنی آگہی اور انسانی تجربے کی گہرائی کے تناظر میں سمجھا۔ ان کی تنقید میں وحدتِ وجود، فنا و بقا، عشقِ حقیقی، دردِ باطن اور اخلاقی تطہیر جیسے تصورات تخلیقی انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں، جو ان کے صوفیانہ شعور کی پختگی کی دلیل ہیں۔
کلاسیکی شعرا کی تعبیر میں فاروقی کا یہ مذہبی و صوفیانہ زاویۂ نظر نہایت واضح ہے۔ انہوں نے میر، درد، ولی اور غالب کے ہاں باطن کی جو قرأت پیش کی، وہ محض نفسیاتی یا جمالیاتی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک گہرا روحانی اور تہذیبی شعور کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اسی طرح “کئی چاند تھے سرِ آسماں” میں بھی تقدیر، اخلاقی کشمکش، صبر، رضا اور روحانی اضطراب کی فضا اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ فاروقی کا فکشن بھی اس مذہبی و صوفیانہ شعور سے خالی نہیں۔یوں یہ کہنا بجا ہوگا کہ شمسُ الرحمٰن فاروقی نے اردو تنقید میں عقل، جمال، روایت، جدیدیت، مذہب اور تصوف کے درمیان ایک ایسا متوازن رشتہ قائم کیا جو نہ صرف فکری وسعت کا مظہر ہے بلکہ اردو ادب کو روحانی معنویت سے بھی ہم کنار کرتا ہے۔ ان کا مذہبی و صوفیانہ شعور اردو تنقید کو محض فنی اور ساختی سطح تک محدود نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے انسان کے وجودی، اخلاقی اور روحانی سوالات سے جوڑ دیتا ہے۔ یہی پہلو فاروقی کی فکری عظمت اور انفرادیت کا سب سے روشن ثبوت ہے۔
کتابیات
1۔شمسُ الرحمٰن فاروقی ،شعر شور انگیز 2۔شمسُ الرحمٰن فاروقی ،اندازِ نظر
3۔شمسُ الرحمٰن فاروقی ، تنقیدی افکار 4۔شمسُ الرحمٰن فاروقی ، کئی چاند تھے سرِ آسماں
5۔ابو عبداللہ انصاری ، کشف المحجوب (ترجمہ اردو)
6۔محمد حسن عسکری ،تصوف اور ادب 7۔ڈاکٹر وزیر آغا ،اردو ادب میں تصوف کا تصور
8۔گوپی چند نارنگ ، اردو تنقید اور تہذیبی شعور