خطوطِ جسم کا شاعر : شمس الرحمن فاروقی

ڈاکٹر محمد مستمر

شمس الرحمن فاروقی اُردو زبان و ادب کا ایسا مستند و معتبر نام ہے جس پر یقیناََ ہماری آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کرتی رہیں گی ۔ فاروقی صاحب بلا شبہ کئی جہتوں کے مالک تھے ۔ انھوں نے جہاں میدانِ تنقید میں مستند اور اعلیٰ پائے کے ستون قائم کئے تو وہیں میدانِ تنقید سے ہٹ کر انھوں نے ناول، مضمون نگاری اور شاعری کے مر غ زار میں بھی اپنی صلاحیتوں اور ذہانت و فطانت کے گل بوٹے کھلائے ۔ حالانکہ زیادہ تراربابِ فن فاروقی صاحب کے تعلق سے یہی کہتے ہیں کہ وہ شاعری ،منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کرتے تھے ۔ بہرِنوع اس جملے یا نظریے سے قطع نظر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ انھوں نے میدانِ شاعری میں اپنے شعور وجدان و عرفان کو کن تلازمات و لوازمات کے ساتھ برتا ہے ۔
فاروقی صاحب نے بطور یاد گار چار شعری مجموعے چھوڑے ہیں ، ۱۔ گنج سوختہ ، ۲۔ سبز اندر سبز، ۳۔چار سمت کا دریا( رباعیات) ، ۴۔ آسماں محراب ۔ ان چاروں مجموعوں کو فاروقی صاحب کی حیات میں ہی محترمہ شہناز نبی صاحبہ اور مسٹر نوشاد کامران نے ترتیب و تدوین کا کام انجام دے کر ’’ مجلسِ آفاق میں پروانہ ساں‘‘ (کلیاتِ نظم ) کے نام سے ایم آر پبلی کیشن سے شائع کرایا ۔ ترتیب میں دونوں مذکور ادبی کارندوں نے ایک کام یہ بھی کیا ہے کہ چاروں مجموعوں کے تعلق سے غزلیں ، نظمیں ، بچوں کی نظمیں ، ترجمہ شدہ نظمیں اور رباعیات کو الگ الگ شامل کر دیا ہے جو ترتیب و تدوین کا خوب صورت طریقہ ہے ۔ لیکن دوسری جانب ایک سوال یہ بھی کھڑا ہو جاتا ہے کہ کلیات کے ساتھ جو بریکٹ میں ’ کلیاتِ نظم ‘ لکھا ہے ، اس سے ایک دم قاری کا ذہن اِ س پہلو کی طرف منتقل ہوتا ہے کہ اس میںخالص اور خالص نظمیں شامل ہیں ۔ کیا شمس الرحمن فاروقی ، شہناز نبی اور نوشاد کامران یہ بتانا چاہتے ہیں کہ غزل الگ چیز ہے اور نظم الگ ۔ جب دونوں چیز الگ الگ ہیں تو پھر کلیاتِ نظم لکھنے کی کیا ضرورت تھی ۔ اس پہلو سے اگر کوئی نقاب کشائی کر دے تو کیا بات ہو ۔ فاروقی صاحب تو چلیے رخصت ہو گئے مگر شہناز نبی صاحبہ اور نوشاد کامران بقیدِ حیات ہیں ۔ وہی اس نکتے کی وضاحت کر دیں ۔ جب ہر طرح کی اصنافِ سخن کلیات میں شامل ہیں تو کوئی مطلب ہی نہیں بنتا کہ اِس پر ’کلیاتِ نظم‘ لکھا جائے ۔ فاروقی صاحب کلیات کے صفحہ نمبر 665پر ’ اختتامیہ ‘ میں یوں لکھتے ہیں 
’’جب میں نے کلیات کی ترتیب و تدوین کا کام نوشاد کامران کے سپرد کیا تو مجھے بالکل یہ خیال نہ تھا کہ یہاں تو مصحفی کے مشہور مقطعے جیسا حال ہو جائے گا کہ ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم، لیکن یہاں تو بہت کام رفو کا نکلا ۔ مجھے یہ اقبال کرنے میں کوئی باک نہیں کہ اگر میاں نوشاد نہ ہوتے تو یہ بیل کبھی منڈھے نہ چڑھتی ۔ جس صبر ، توجہ بلکہ جاں فشانی سے یہ کام نوشاد کامران نے انجام دیا ہے وہ انھیں کا حصہ ہے ، اور کسی کے بس کی بات نہ تھی ۔ خدا انھیں خیر الجزا ء سے سرفراز کرے، وہ میرے شاگرد نہیں ہیں لیکن انھوں نے دوستوں سے بڑھ کر شاگردی کا حق ادا کیا ہے ۔ ‘‘
اس اقتباس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کام فاروقی صاحب کی نگرانی میں مکمل ہُوا ہے ۔ یہ لا پرواہی کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی اس کو سہو پر محمول کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے ایک ہی پہلو بر آمد ہوتا ہے کہ کبھی کبھی زعم میں بھی آدمی ڈوب جاتا ہے ۔ نیز احساسِ برتری ہی احساسِ کم تری کی علامت ہے ۔ اس اعتبار سے یہ نظریہ فاروقی صاحب پر صادق آتا ہے۔
اب ہم شمس الرحمان فاروقی کی غزل گوئی اور بعد ازاںکچھ نظم نگاری پر بھی گفتگو کریں گے ۔حالانکہ یہاں میرا اصل ارتکاز موصوف کی غزل گوئی پرہی ہے۔ فاروقی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ’ گنج سوختہ ‘ 1969ء میں شب خون کتاب گھر الہٰ آباد سے شائع ہوا تھا۔ یہ 104 ؍صفحات پر مشتمل ہے ۔ جس میں 27؍ غزلیں، 13؍ نظمیں اور 5؍ رباعیاں شامل ہیں ۔ دوسرا مجموعہ 1974میں شب خون کتاب گھر سے ہی شائع ہو کر منظرِ عام پر آیا ۔ یہ مجموعہ 28؍ غزلوں ، 16؍ نظموں، 22؍ رباعیوں اور 9؍ بچوں سے متعلق نظموں پر مبنی ہے ۔ تیسرا مجموعہ ’ چار سمت کا دریا‘ 1977ء میں کتاب گھر لکھنؤ سے شائع ہوا ۔ اس میں75 ؍ رباعیاں حروفِ تہجی کے اعتبار سے شامل ہیں ۔ چوتھا اور آخری مجموعہ’ آسماں محراب ‘ 1996 میں شب خون کتاب گھر سے اشاعت کے مرحلے سے گزرا۔ جس میں 43؍ غزلیں ، 17؍ نظمیں ، 20 ؍ تراجم ، 35؍ رباعیات اور چار نظمیں بچوں کے لئے ، شامل ہیں ۔
فاروقی صاحب کی غزلوں کے غائر مطالعے سے یہ اندازہ بہ خوبی ہو تا ہے کہ فاروقی صاحب کلاسیکی شعراء میر اور غالب سے حد درجے متأثر ہیں ۔ ان کے لئے غالب اور میر بے حد عزیز ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ میر اور غالب کی زمینوں میں غزلیں کہتے ہیں ۔ ان غزلوں میں وہی روایتی موضوع اور اندازِ بیان قائم رہتا ہے ۔ جس باعث مزید موضوع کا تنوع ابھر کر سامنے نہیں آتا ہے ۔ میرو غالب کے ساتھ ہی وہ مصحفی وغیرہ سے بھی متأثر دکھائی دیتے ہیں ۔ انھوں نے شاعری کا کسبِ فیض یا عرق کشی انہی شاعروں سے حاصل کی ہے ۔ اردو شعراء کے ساتھ وہ فارسی شعرا کا بھی اتباع کرتے نظرآتے ہیں ۔ طبع زاد نظموں اور ترجمہ شدہ نظموں میں وہ اکبر الہ آبادی ، فیض ، شیخ سعدی، فیضی ، میر ، مولاناروم، خاقانی، اقبال ، ناسخ اور انگریزی شعراء شکسپئیر وغیرہ کے خیالات کو بھی وہ اپنے مصرعوں میں اور شعرا ء کے مصرعوں کو تھوڑی بہت تحریف کے ساتھ ضم کر لیتے ہیں ۔ جس کا ذکر فاروقی صاحب حواشی میں کرتے بھی ہیں ۔
فاروقی صاحب کی غزلوں ، نظموں اور ترجمہ شدہ نظموں سے یہ اندازہ بہ خوبی ہوتا ہے کہ انھیں لفظیات پر بے پناہ عبور حاصل ہے ۔ الفاظ ان کی جنبشِ قلم سے پھسلتے نہیں بلکہ خود بہ خود نوکِ قلم کے نیچے چلے آتے ہیں ۔ لفظوں کا حسن ، تراکیب کی چستی اور بندش صرف قاری کو اپنی گرفت میں ہی نہیں لیتی بلکہ دل و دماغ پر سحر انگیزی اور اثر آفرینی بھی قائم کرتی ہے —اور اسی اثر آفرینی و سحر انگیزی میں جہانِ معانی بھی پوشیدہ رہتا ہے جسے سمجھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔نیز یہ جہانِ معانی قرأت کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔ ایک قرأت کا نہیں بلکہ کئی قرأت کا ۔ تبھی کہیں جا کر قاری شعر کی لفظیات اور جہانِ معانی کے رازِ سر بستہ کو سمجھ پاتا ہے ۔یہ ایسا جہانِ معانی ہو تا ہے جس میں فاروقی صاحب کا فہم و ادراک ، زندگی کا ٹھوس تجربہ و مشاہدہ اور احساس کے مختلف زاویے شامل رہتے ہیں ۔
فاروقی صاحب کی کائناتِ غزل کا دائرہ زیادہ وسیع نہیں ہے مگر ان کی ہر غزل میں زیادہ تر شعر ایسے ہوتے ہیں جو جہانِ معانی کو جنم دیتے ہیں اور بعض دفعہ معنویت کا یہ سفر کئی جہتوں میں اپنا سفرطے کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ نیز یہ جہتیں اساطیری بھی ہو جاتی ہیں ، مذہبی بھی ، اخلاقی بھی ، سماجی بھی، ماورائی بھی اور کبھی کبھی سیاسی بھی ۔ مگر ان سب جہتوں میں فاروقی صاحب کا ذاتی وجدان و عرفان اور نفسیاتی گرہیں برابر موجزن رہتی ہیں ۔ اس لئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی غزلوں کے اختصاص اور شعوری رجحان کو بھی سمجھیں ، غوطہ لگائیں اور ان کی تہوں میں بیٹھے یا چھپے ہوئے جوہر پاروں کو بروئے کار لائیں ۔راقم الحروف نے شروع میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے کہ ان کے یہاں تنوعِ موضوع کا دائرۂ کار طویل نہیں ہے ۔ وہ زیادہ تر جو غزلیں کہتے ہیں ، میر و غالب و مصحفی وغیرہ کی زمینوں میں کہتے ہیں جس باعث ان کی غزلوں کا لب و لہجہ آزاد رویہ اختیار نہیں کر پاتا ۔چنانچہ غزلوں کا صوتی آہنگ اور نظامِ اسلوب غیر مانوس ، پرایا اور غریبی الوطن ہو جاتا ہے ۔نیز فاروقی صاحب کی اپنی شناخت اور ان کا ذاتی تشخص کہیں گم ہو جاتا ہے ۔ گو ذہنی اُپج تو ہوتی ہے اور اس ذہنی اُپج میں جہانِ معانی برابر کار فرما رہتا ہے جس کا ذکر ہم اوپر بھی کر چکے ہیں ۔ مگر ذاتی تفکرات و خیالات کے اوصاف نمایاں نہیں ہو پاتے ۔ ایسی کیفیت ان ہی غزلوں میں کار فرما رہتی ہے جو مختلف شعراء کی زمینوںمیں کہی گئی ہیں ۔ان کی غزلوں کی ہمہ رنگی میں ہم کہیں میر کے رنگ میں گم ہو جاتے ہیں اور کہیں غالب کی فکر میں ڈوب جاتے ہیں اور کہیں مصحفی کے آہنگ میں محو ہو جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے ڈکشن کا زور اور لفظیات کی چستی و بندش نیز تراکیب بندی ہمیں’ فاروقیت‘ کے قریب بھی کرتی ہے اور ’ فاروقیت ‘ سے رو شناس بھی کراتی ہے ۔ فاروقی کی کائناتِ غزل میں پایا جانے والالفظی نظام یقینی طور پر فاروقی کے تشخص اور ذات کو نمایا ں کرتا ہے ۔ حالانکہ لفظیات سے ہی اسلوب بھی جنم لیتا ہے لیکن اسلوبِ فاروقی، میر و غالب کے رنگ و فکر کی دبیز چادر میں دب جاتا ہے ۔ گو ’ اسلوبِ فاروقی ‘ کی مہینیت کا ہی احساس ہو تا ہے۔ علاوہ ازیں وہ غزلیں بھی ہیں جن میں فاروقی صاحب کی خود ساختہ ردیف ا ور قافیوں میں غزلیں کہیں گئی ہیں جو آورد کی بجائے ، آمد کے بھی بہت قریب ہیں ۔اِ س قبیل کے کچھ شعر یہاں بطور نمونہ پیش کئے جاتے ہیں جو انھوں نے میر و غالب کی زمینوں میں کہنے کی کوشش کی ہے ؎
مسل کر پھینک دوں آنکھیں تو کچھ تنویر ہو پیدا
جو دل کا خون کر ڈالوں تو پھر تاثیر ہو پیدا
مجھ سے صد رنگ کو دنیا نہ سمجھ پائی کہ میں
حرفِ تکفیر بھی تھا، نعرۂ تکبیر بھی تھا
برگ افسردۂ گل رنگ نمو کا نکلا
سرخ اور زرد میں فرق اک سرِ مو کا نکلا
اپنی ہی شکل پہ ظالم نے بنایا ہے مجھے
یعنی صد رنگ علامت میں چھپایا ہے مجھے
اپنی رائے بند کروں گا تجھ کو راہ پہ لاؤں گا
جب میں دنیا چھوڑچکوں گاتب تو تجھے یاد آؤں گا
حاصل نہ جس سے کچھ ہو ایسا سفر نہ دیکھا
ہو عافیت سے خالی ایسا بھی گھر نہ دیکھا
لیکن یہاں یہ پہلو اور نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ انہی زمینوں میں بعض ایسے اشعار بھی ضرور نکل آتے ہیں جس میں’ فاروقیت‘ یا فاروقی صاحب کے اپنے خیالات و جذبات و احساسات ضم رہتے ہیں یا انہی کے درمیان سے ان کا اپنا اندازِ بیان اور اسلوب بھی اُبھر آتا ہے ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ درج ذیل دو شعر کے تعلق سے میر و غالب کے اسلوب کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ جبکہ دونوں نے ایک ہی مضمون باندھا ہے مگراسلوب کے معاملے میں غالبؔ، میر ؔپر غالب آ جاتے ہیں ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
ہوتا ہے یاں جہاں میںہر روز تماشا
دیکھو جو خوب تو ہے دنیا عجب تماشا( میر)
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے( غالب)
یہ ضروری نہیں ہے کہ خوش بیانی یا طرزِ ندرت صرف مخصوص لوگوں میں ہی جنم لے سکتی ہے ۔ یہ کہیں بھی ، کسے کے بھی توسل سے وجود میں آسکتی ہے یا اس کا ظہور ہو سکتا ہے ۔ چنانچہ ایسے اشعار میں فاروقی صاحب کی اپنی فہم ، شعری وژن ، شعوری رو اور ایک تخلیقی توانائی اور ذہنی رچاؤ نظر آتا ہے ۔ انہی غزلوں میں سے کچھ ایسے اشعار بھی ملاحظہ فرمائیں جہاںخالص فاروقی کی فاروقیت ،شمیمیت اور ذہنیت کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔
اب ریت ہو چلی ہے پچھلے برس کی بارش
بادل نے راہ بدلی پھر گھوم کر نہ دیکھا
اک لمحۂ بے حسی پہ ساری عمر
چیونٹی سی چبھن سزا تو ہوگی ہی
سب صحیفوں میں صدا خانۂ زنجیر کی تھی
سب کتابوں میں بس اک لفظ لہو کا نکلا
پتھر کی بھوری اوٹ میں لالہ کھلا تھا کل
آج اس کو توڑ لے گئیں دو بچیاں جناب
ہر ہر شجر امید تھا، ہر ہر شجر تھا پاس
ہر ہر شجر کے سائے میں اک شہر بن گیا
میں ان خالی مناظر کی لکیروں میں نہ الجھوں تو
خطوطِ جسم سے ملتی کوئی تصویر ہو پیدا
سرسوں کے پیلے کھیت پہ نیلا فلک کا رنگ
گویا شراب زرد تھی مینا کبود تھا
یہ اور اسی طرح کے اور بھی اشعار ہیں جو ان کے تینوں شعری مجموعوں میں مل جائیں گے ۔ ایسے اشعار میں یقیناََ آپ کو ’ فاروقیت ‘ بھی دکھائی دے گی اور خالص فاروقی رنگ و آہنگ بھی اور جدید موضوع کے ساتھ غزل کی نئی رنگین بیانی بھی ۔ مذکورہ درج بالا شعروں میں ندرت و جدت کی قوس وقزح بھی ہے اور خیال آفرینی ، معنی خیزی کے ساتھ حسنِ تغزل اور جمالیاتی حس بھی ہے ۔ ویسے تو حسنِ تغزل اور جمالیاتی حِس تو اُن اشعار میں بھی قائم و دائم رہتی ہے جو مختلف شعراء کی زمینوں کو بنیا د بنا کر خلق کئے گئے ہیں ۔ نیز ان کے شعری تخلیق اور نظامِ غزل میں یہ بات صداقت پر محمول ہے کہ ان کے یہاں جہانِ معانی اور ابعادِ مفاہیم جنم لیتے ہیں ۔ فاروقی صاحب جس مضمون کو بھی شعری پیراہن عطا کرتے ہیں اس میں ابعادِ ثلاثہ بھی پیوست ہوتا ہے اور مختلف شعری زاویے بھی ۔
شمس الرحمن فاروقی کی غزلوں کا ایک پہلو وہ بھی ہے جس میں محبوب سے ان کا لہجۂ تخاطب تانیثی رہتا ہے ۔ جس کے لئے کسی زمانے میں خواجہ الطاف حسین حالی نے بھی کہا تھا کہ اردو شاعری کا محبوب ’ مرد ‘ہوتا تھا۔ اور ایک زمانے تک اس فارمولے پر عمل بھی کیا جاتا رہا مگر بعد میں کچھ شاعر ایسے بھی آئے جنھوں نے اِس ڈگر سے ہٹ کر بھی غزل کے پیچ و خم سنوارے ۔ فاروقی صاحب بھی اپنی غزلوں میں براہِ راست عورت سے مخاطب رہتے ہیں ۔ شاید وہ اسی بات کے قائل ہیں کہ غزل کے جو لغوی معنی ہیں اُس پر عمل کیا جائے ۔ ایسی غزلوں میں فاروقی کی ’ فاروقیت ‘ کچھ الگ ہی رنگ و آہنگ اور نئے تلازموں، استعاروں، تشبیہوں اور کنایوں کے ساتھ شعری افق پر نمودار ہوتی ہے ۔ اس ضمن میں کچھ شعر حاضرِ خدمت ہیں ؎
نہریں ہیں رواں جن کے نیچے تم ان باغوں میں گھومتی ہو
اے کاش ایسی بھی سبیل ہو میں وہاں ہر دم پہرے دار ہوں
مری کیا وہ خطا تھی کہ جس پہ خفا ہوئیں تم اتنی ، گھر چھوڑ دیا
مجھے خواب میں آکے بتا دو میں توبہ استغفار کروں
تم تھیں بیماری کا بستر صبر و شکر کی سانسیں تھیں
پچھتاوے کے اندھیرے میں کس سے فریاد کروں، روؤں
کتنا تم کو روکنا چاہا پھر بھی رُک نہ سکیں تم ہائے
یک دو نفس کی خاطر ہم نے کیا کیا فیل مچائے
ما تقدم شعروں پر غور کیجئے کہ کیسے فاروقی صاحب نے ایک نئی شعری کائنات بسانے کی کوشش کی ہے ۔ پہلے شعر میں نہریں رواں ،باغوں میں گھومتی، سبیل ، پہرے دار ہونا ، گھر چھوڑنا ۔ استغفار کرنا، صبر و شکر کی سانسیں ، پچھتاوے کا اندھیرا، فیل مچانا ، یہ سب ایسے الفاظ ، محاورے ، استعارے ، علامتیں، افعال اور کنایے ہیں جو جدید بھی ہیں، انوکھے بھی اور سرمست بھی۔ بلکہ یہ تمام شعری حسن و اوصاف ایک نیا شعری منظر نامہ بھی تخلیق کرتے ہیں ۔ان اشعار کے بعض لفظوں میں افسانوی رنگ بھی متشکل ہو گیا ہے اور محبوب کی شوخی و طنازی بھی۔ یہ’’ افسانویت اور شعریت‘‘ فاروقی کا اختصاص نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ شعری حسن وہی پیدا کر سکتا ہے کہ جس نے شعر فہمی میں شعر شور انگیز اور فکشن میں ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘جیسی کتابیں تحریر کی ہوں۔اس طرح کے اور بھی شعر ہیں جو احساس کراتے ہیں کہ جہاں وہ بزرگ اور کلاسیکی شاعروں کی زمینوں میں شعر کہتے ہیں تو وہیں جدیدشعری خیمہ بھی تیار کرتے ہیں جس میں ان کی جفا کشی ، ان کی اپنی کاوش، اپنی ذہنی ورزش اور تفکر و تدبر شامل رہتا ہے ۔ نیز اسی تفکر و تدبر اور ذہنی ورزش میں ان کی انفرادیت بھی ہوتی ہے ، فاروقیت بھی ابھرتی ہے اور ان کا تشخص بھی نمایاں ہوتا ہے ۔
یہاں فاروقی صاحب کی نظم گوئی اور نظموں کے تعلق سے مفصل گفتگو نہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر راقم اتنا ہی کہنا چاہے گا کہ ان کی تمام تر نظمیں عمیق شعور و وجدان ، فہم و ادراک اور معنویت کی مظہر ہیں ۔ خواہ وہ ترجمہ شدہ نظمیں ہوں یا پھر ان کی طبع زاد نظمیں ہوں ۔ ان کی نظموں میں فاروقی کا گہرا مشاہدہ و مطالعہ ، علمیت اور پختہ تجربہ لفظوں کے بطون میں رواں دواں رہتا ہے ۔ یہ نظمیں فاروقی صاحب کی ذہانت کی بھی غماز ہیں اور یہ بھی اعلان کرتی ہیں کہ فاروقی کا وژن اور ان کی اپروچ یعنی ذہنی فکرِ رسا کا دائرہ محدود نہیں بلکہ اس میں بیکرانیت بھی ہے ، ابعادِ فن بھی ہے اور شعری مثلث بھی قائم ہے ۔ڈکشن اتنا مضبوط ، توانا ، شگفتہ ، شائستہ ، نفیس ، سنجیدہ ، متین اور چست کہ ’فاروقیت‘ اور فاروقی اختصاص کا مرید ہونا پڑتا ہے ۔ چنانچہ وہ اپنی نظموں میں ایک جہاں دیدہ فنکار ، تجربہ کار آدمی اور شعری بصیرت کے پیشوا نظر آتے ہیں ۔ جب کہ اس طرح کے شعری اوصاف غزلوں میں زیادہ دکھائی نہیں دیتے ۔ اگر چہ یہ نظمیں آزاد اور نثری فارم میں لکھی گئی ہیں مگر فاروقی صاحب نے زندگی اور زندگی سے متعلق تمام زاویوں اور پہلوؤں کو اپنے قوتِ مشاہدے ، احساسِ تناسب اور شعوری توازن کے ساتھ پیش کر دیا ہے ۔ فاروقی صاحب کی نظموں اور نظم نگاری کے فن کو مزید سمجھنے کے لئے قار کو کلیات سے رجوع کرنا ہی ہوگا ۔ لہٰذا جب قارئین ان کی نظموں کا غائر مطالعہ کریں گے تو میری کہی ہوئی باتوں پر ضرور ایمان لائیں گے کہ اصل ’ فاروقیت ‘ ان کی نظموں میں ہی ضم ہے جس کو تلاش کرنے کے لئے گہرے مطالعے اور آگہی کی ضرورت ہے ۔