اُردوادب میں’جدیدیت‘ اور ’مابعدجدیدیت‘
کا تصور
ڈاکٹر عمررضا
شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی،علی گڑھ
اُنیس سو پچاس کے بعد اردوادب میں جس نوع کی تبدیلیاںرونماہوئیں، اسے اگرچہ ہمارے ناقدین’ جدیدیت(Modernism) سے تعبیر کرتے ہیں،لیکن اس عہد کے ادب میں درآنے والی خصوصیات مثلاً تنہائی،گمشدگی اور کسی بھی نظریے سے انحراف کو تو ’مابعد جدیدیت‘ (Post Modernism) سے بھی تعبیر کیاجاتا ہے۔ایسی صورت میںقارئین کے ذہن میں اس سوال کا پیدا ہونا لازمی ہے کہ پچاس کے بعد وجودمیں آئے ادبی رجحان کو’ جدیدیت‘ سے تعبیر کیاجائے یاپھر ’مابعدجدیدیت‘سے؟
اردو ادب میں ’جدیدیت‘ اور ’مابعدجدیدیت‘کا تصور چونکہ مغربی ادب کے زیراثر وجود میں آیا، اس لیے اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں مغرب میں وجودپذیرادبی تحریکات ورجحانات اور پھر اردوادب پراس کے اثرات،نیز ان دونوں کے مابین مماثلت یا مغائرت پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اٹھارہویں صدی کے اخیر اور انیسویں صدی کے اوائل ہی سے برصغیر پر مغرب کے اثرات غالب ہونا شروع ہوگئے تھے۔
’جدیدیت‘ سے مراد کسی بھی شے یا خیال کو منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر آگے بڑھنے سے لیاجاتاہے۔ یہ وہ خیال یا فلسفہ ہے جس کے نقوش مغرب میں سترہویں صدی سے ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔اس حوالے سے رینے ڈیکارٹ(René Descartes:1596-1650) کا ذکر کیاجاسکتا ہے جس نے کہا تھا کہ کسی اتھارٹی نے کوئی بات کہہ دی تواس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ وہ بات صد فی صد درست ہی ہو۔اس لیے اسے قبول کرنے سے پہلے اس پر ہمیں غوروفکر کرناچاہیے اور منطقی طور پر وہ بات درست ہو ،تب ہی اسے قبول کر نا چاہیے1۔اس فلسفے نے مغرب میںانیسویں صدی کے نصف اخیر میںایک تحریک کی شکل اختیار کرلی تھی اور 1950تک آتے آتے یہ فلسفہ وہاں زوال آمادہ بھی ہوگیا تھا۔کیونکہ لوگوں نے دیکھا کہ تمام تر منطقیت اور عقلیت کے باوجود انسان تنہا،پریشان اور بدحال ہے۔ ہر طرف جنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
اس عہد میںہمارے یہاںبھی کچھ اسی نوع کے حالات پیداہونے لگے تھے۔ یہاں بھی انیسویں صدی کے نصف اخیر میں’علی گڑھ تحریک‘ اور’تحریک انجمن پنجاب‘ کی شکل میں’جدیدیت‘ نے اپنے برگ و بار پھیلانے شروع کردیے تھے جس کی آخری شکل بیسویں صدی کے نصف اول میں سرگرم ’انجمن ترقی پسند مصنفین‘ کی تحریک ہے۔یہی وہ زمانہ ہے جس میں ’حلقۂ ارباب ذوق‘ نے مغرب کے بعض فلسفوں اور نظریوںمثلاً ’علامت نگاری‘ اور ’تحلیل نفسی‘ کے زیراثر شعرو ادب کو اشاراتی، علاماتی اور نفسیاتی اندازواسلوب میں پیش کرنا شروع کردیا تھا۔جس طرح1950تک آتے آتے مغرب میں نظریاتی ادعائیت اور نت نئی ادبی پابندیوں سے انحراف کاتصورابھرنے لگا تھا، ہمارے یہاں بھی اس نے کم ازکم تقسیم ہند (1947)کے بعدتوغلبہ حاصل کرناشروع کردیاتھا۔ خلیل الرحمن اعظمی (1927-1978) اور حسن نعیم (1927-1991) جیسے ادبااس نئے میلان کو فروغ دینے لگے تھے۔یہی نہیں، ’انجمن ترقی پسند مصنفین‘ سے وابستہ خالص نظم گو شعرا مثلاً پرویز شاہدی (1910-1968)، غلام ربانی تاباں (1914-1993) اور سلیمان اریب (1922-1970) وغیرہ بھی انسانی زندگی کے تضادات، تذبذب، اس کی بے یقینی اور تنہائی کو پیش کرنے لگے تھے۔یہ وہ ادبی رجحان ہے جسے مغرب کی تقلید میں تو ’مابعدجدیدیت‘سے تعبیر کیاجانا چاہیے تھا،لیکن اردو کے ناقدین اسے ’جدیدیت‘سے تعبیر کرتے نظرآتے ہیں۔مثلاًڈاکٹرمحمد ذاکر (B:1932) نے اپنے تحقیقی مقالے ’آزادی کے بعد ہندستان کا اردو ادب‘میں لکھا ہے
’’۔۔۔تشکیک کا جذبہ اور بے لگام صنعتی ترقی کے بڑھتے ہوئے اثر کے خوف سے تنہائی کا احساس اتنا بڑھتا گیا کہ انکشافِ کائنات سے زیادہ انکشاف ِذات میں دلچسپی لی جانے لگی اور ایسے ادبی بالخصوص شعری کارنامے سامنے آئے جن میں ادبی روایت شکنی اور جمالیاتی انفرادیت پسندی کے واضح رجحان تھے اور انھیں’ جدیدیت ‘کے نام سے تعبیر کیا گیا۔‘‘2
اردو میں اس ادبی رجحان کومستحکم کرنے میں ’وجودیت‘ اور ’تجریدیت‘ جیسے فلسفوںاور نظریوںنے ایک خاص رول ادا کیا جو مغرب میں انیسویں صدی کے اخیراور بیسویں صدی کے اوائل میں ادب کا حصہ بننے لگے تھے۔ اس حوالے سے سورین کیرکیگارڈ،دستووسکی، کارل جیسپر، پال تلیچ، آندرے ژند،گبریل مارسل ،مارٹن ہیڈیگر، ژاں پال سارتر،سیمون دی بووا اور البیرکامیو جیسے مغربی فلسفیوںکے ماسوا کافکا ، ایذرا پاؤنڈ اور ٹی ایس ایلیٹ جیسے شاعروں اور ادیبوں کا ذکرکیاجاسکتا ہے۔
یہ وہ فلسفی، شاعر اور ادیب ہیں جن کے مابین تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجودسائنسیت، منطقیت، فردیت، تنہائی اور بے گانگی جیسی خصوصیات مشترکہ طور پر پائی جاتی ہیں۔ مثلاًان کے مطابق سائنس کی اہمیت، اس کی افادیت میں ہے؛عقل کی مدد سے حقیقت تک رسائی ممکن نہیں؛فرد کی اہمیت جماعت پر مقدم ہے؛ انسان عدم میں ہستی کا ظہور اور آزاد ہے؛وجودیت کا فلسفہ تنہائی اور بیگانگی یا غیریت کا فلسفہ ہے؛ طبقات یا گروہ ’فرد‘ کی حیثیت اور آزادی کے دشمن ہوتے ہیں، کیونکہ طبقات اور گروہ فردکو ہرطرح کی ذمہ داری سے آزاد کردیتے ہیں۔ ہر فردآزاد اور اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے۔ انتخاب کی اس آزادی اور ذمہ داری ہی سے ہر فرد ذہنی اضطراب کاشکار ہوجاتا ہے اور اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹتے چلے جاتے ہیں۔ اس آزادیِ انتخاب کے باجود فرد اپنے انجام کو نہیں جانتا۔ اس کا عمل زمان و مکان کے دائرے میں محدود و مقید ہوتا ہے۔ بعض اوقات اپنے عمل کے نتیجے میں اسے تباہی اور موت کابھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیشترمفکرین موت کی المناکی کوبحث کا موضوع بناتے ہیں۔مثلاً مارٹن ہیڈیگر(Martin Heidegger: 1889-1976) کے نزدیک موت کی مستقل آگہی سے اصل زندگی ترتیب پاتی ہے۔ موت جس آسانی سے زندگی اور وجود کا خاتمہ کرتی ہے، اس سے زندگی کی لایعنیت اور کھوکھلا پن ظاہر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ژاں پال سارتر(Jean Paul Charles Aymard Sartre: 1905-1980)کہتا ہے کہ ہمارا وجود بغیر کسی سبب و معقولیت اورضرورت کے ،دنیا میں نظرآتا ہے۔ تمام زندہ افراد بغیر کسی وجہ کے دنیا میں آتے ہیں۔ مجبوریوں اور کمزوریوں کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیںاور ایک دن حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بعض مفکرین نے انسان کی تنہائی پر خصوصی توجہ دی۔ ان کا خیال ہے کہ خواہ کیسا ہی معاشرتی اور سیاسی نظام قائم ہو جائے، انسان کی تنہائی اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ ان کے نزدیک انسان تنہا اور نامعقول واقع ہوا ہے اور زندگی کی نامعقولیت کو کسی نظام سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ بعض کا خیال ہے کہ وجودی تصورات ہماری فکری قوتوں کو مہمیزکرتے ہیں، انسانی وجود کے مسائل پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیںاور انسانی ذہن و خیال کے ارتقامیں ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔
مغرب میںجس نوع کے خیالات کا اظہار کیاگیا، یا جس طرح کے اسلوب و انداز کو رائج کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے نقوش ہمارے یہاںبیسویں صدی کے اوائل سے ملنا شروع ہوجاتے ہیں۔ خصوصاً ’حلقۂ ارباب ذوق‘ سے وابستہ شعرا و ادبا کی تخلیقات میںاس کے بعض اثرات کو بخوبی دیکھاجاسکتا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ تقسیم ہند کے بعدان خصوصیات نے اردو کے شعرا و ادبا کوبڑی تیزی سے اپنی گرفت میں لینا شروع کردیا تھاجن کی حوصلہ افزائی اس زمانے میں شائع ہونے والے بعض ادبی رسائل نے بھی کرنا شروع کردی تھی۔اس حوالے سے ’سوغات‘(مدیر:محمودایاز،سنہ اجرا و مقام:1959 اور بنگلور) اور’شب خون‘ کا ذکرکیاجاسکتا ہے۔ آخرالذکر رسالہ نے، جس کا اجرا1966 میں ہواتھا، اس نئے ادبی رجحان کو فروغ دینے میں نمایاں رول ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین اس کے سنہ اجراکو ’جدیدیت‘ کا آغاز اور شمس الرحمن فاروقی (1935-2020) کو’جدیدیت‘ کا میرکارواں تسلیم کرتے ہیں۔ مثلاً وہاب اشرفی (1936-2012) نے ایک جگہ لکھا ہے
’’مغرب کی جدیدیت ہی کو لیجیے، اگرRoger Fowlerکے تعین تاریخ کو مان لیا جائے تو اس کا سلسلہ 1890سے شروع ہوتا ہے اور1930پر ختم ہوجاتا ہے۔۔۔لیکن غورطلب بات یہ ہے کہ 1890تا1930کا عہد تو ترقی پسندی کا عہد بھی نہیں ہے، چہ جائیکہ جدیدیت کا دور۔اگر حسن عسکری، خلیل الرحمن اعظمی کی بعض تحریریں اور ’سوغات‘ کی مطبوعہ بعض نگارشات کو منہا کرلیا جائے تو جدیدیت کی تاریخ ’شب خون‘ کے ارتقائی سفر کی تاریخ ہے اور بلاشبہ یہ کہاجاسکتا ہے کہ اس کے میرکارواں آج تک شمس الرحمن فاروقی ہیں۔‘‘3
وہاب اشرفی نے اپنے اس اقتباس میں سب سے پہلے تو روگر فاؤلر(Roger Fowler: 1938- 1999) کے حوالے سے مغرب میں ’جدیدیت‘ کے َدور کو1890 تا 1930 قراردیا ہے۔نیز اردو میں’ترقی پسندی‘ اور ’جدیدیت‘کو ایک’ عہد‘ یا’ دور‘ سے تعبیر کیاہے۔’جدیدیت‘ کو ایک’دور‘ یا ’عہد‘ سے تعبیر کیاجانا تو درست ہے، لیکن’ ترقی پسندی‘ کو کسی ایک دور میں محصور کرنا، درست نہیں۔کیونکہ ’ترقی پسندی ‘ سے مرادہر وہ عمل ہے جو انسانی معاشرے کو ترقی کی جانب گامزن کرے۔ ظاہر ہے شعروادب بھی ایک انسانی عمل ہے اور اس کا استعمال معاشرے کی مثبت تعمیروتشکیل کے لیے کیاجائے تو وہ یقینا ’ترقی پسند‘ ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ ہردور کا ادب اپنے زمانے میں ترقی پسند رہا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے مزید فروغ دینے کے لیے بعض اوقات شعراوادبا شعوری طور پر اپنی تمام تر قوتیں صرف کرتے ہیں۔ہمارے یہاںبھی 1935-36میں ’انجمن ترقی پسند مصنفین‘ کے ذریعے اسے فروغ دیا گیاجس کے بعد ہمارا شعروادب یقینا’ترقی پسندی‘ کے نت نئے منازل طے کرنے لگا تھا۔خیر! عرض یہ کررہاتھاکہ تقسیم ہند کے بعداردومیں جس نوع کا ادبی رجحان وجود میں آیا، اسے ’جدیدیت‘ سے کچھ یوں تعبیر کیاجانے لگا کہ اس زمانے میں اس پر باقاعدہ بحث ومباحثے ہونے لگے تھے۔یہی نہیں،سیمناروں کابھی انعقاد کیاجانے لگا تھا۔مثلاًشعبۂ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے1967میں’ جدیدیت اور ادب‘ کے موضوع پرایک سیمینار کا انعقاد کیا۔اس میںآل احمد سرور (1911-2002)،رام لعل(1923-1996)،محمد حسن (1926-2010)، خلیل الرحمن اعظمی، وارث کرمانی (1927-2012)، بلراج کومل (1928-2013)،قمر رئیس (1932-2009)، قاضی عبدالستار (1933-2018)، وحید اختر (1934-1996)،شمس الرحمن فاروقی،شہریار (1936-2012) اور یٰسین صدیقی (1944-2020) کے ماسوادیگربہت سے شعرا و ادبا نے حصہ لیا تھا۔ ان حضرات نے اپنے مقالات اور تاثرات کے ذریعے اس عہد میں پروان پارہے ادبی رجحان کے تمام تر پہلوؤںکو واضح کرنے کی کوشش کی۔مثلاًوحید اختر نے اپنے مقالے میںلکھا کہ
’’۔۔۔فنی اور جمالیاتی اقدار کو ادب میں اولیت حاصل ہونی چاہیے۔ اگر کوئی ادب پارہ فنی تکمیل اور اقدار کی شرائط پر پورا اترتا ہے تو پھر اس کا سیاسی،مذہبی یا اخلاقی کردار بھی قابل قبول ہے، لیکن اگر ان شرائط کی تکمیل نہیں ہوتی تو پھر اعلیٰ سے اعلیٰ مقاصد بھی ادب کو ادب کا درجہ نہیں دلوا سکتے۔جدیدیت، ادب کے اس عرفان کے ساتھ یقینا ترقی پسندوں سے اگلا قدم ہے کیونکہ یہ اس کے یک رخے پن سے انحراف کرکے اس کی صحت مند روایت کی توسیع کرتی ہے۔ترقی پسندی نے فرد پر سماج کو اور انفرادی احساس پر اجتماعی شعور کو اس قدر غالب کردیا تھا کہ ادب میں اس کے خلاف رد عمل ہونا ضروری اور فطری تھا۔ جدیدیت اسی ردعمل کے اظہار سے ہمارے ادب کا نیا رجحان بن کر سامنے آئی۔ لیکن اگر یہ ردعمل محض منفی رہتا ہے تو پھر وہ ادب کی بہترین روایات سے اپنا ناطہ توڑ لیتا ہے اور خود اس کی ادبی وقعت مشتبہ ہوجاتی ہے۔ جدیدیت نہ صرف ترقی پسندی کی بہترین نگہ دار بھی ہے بلکہ تمام کلاسیکی ادب کی زندہ روایات کی وارث بھی ہے۔‘‘4
وحیداخترنے اس عہد میں پروان پارہے ادبی رجحان کو، جسے وہ ’جدیدیت‘ سے تعبیر کرتے نظرآرہے ہیں،’ ترقی پسندی‘ کی ایک ترقی یافتہ شکل قراردیا ہے، کیونکہ یہ رجحان ان کے مطابق یک رخے پن سے انحراف کرکے ترقی پسندی کی صحت مند روایت کی توسیع کرتی ہے۔ انھوںنے ’انجمن ترقی پسند مصنفین‘ سے وابستہ شعراوادباکے لیے جس طرح ’ترقی پسندوں‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے،وہ بھی سوال کے گھیرے میں ہے۔اس سے اس سوال کا پیدا ہونالازمی ہے کہ کیا انجمن سے باہر والے ترقی پسند نہیں ہیں؟
’ انجمن‘ سے وابستہ شعراوادبانے بلاشبہ ادب کے بنیادی عنصر’ترقی پسندی‘ پر سب سے زیادہ توجہ دی،اور وہ یقینا’ترقی پسند‘ ہیں، لیکن اس کامطلب یہ ہرگزنہیں کہ اس سے قبل یا اس کے بعد وجود پذیرادبی تحریکات ورجحانات سے وابستہ شعراوادبا’ترقی پسند‘ نہیںہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ’ترقی پسند‘ ایک وسیع اصطلاح ہے جس کا اطلاق ہر زمانے کے تخلیقی ادب یا ادیب پرکیاجانا چاہیے۔ کسی ایک تحریک یا رجحان سے وابستہ ادب/ ادیب کو ’ترقی پسند‘ کہیںگے تو یہ اصطلاح محدود ہوجائے گی۔ مناسب یہ ہے کہ ’انجمن‘ سے وابستہ ادیبوں کو ’مارکسی‘ یا’اشتراکی‘ ادیب کے طور پرمخاطب کیاجائے۔خیر!یہ تو جملۂ معترضہ تھا۔کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اس زمانے کے بیشتر ناقدین نے1950کے بعدوجودپذیرادبی رجحان کو’جدیدیت‘ سے تعبیر کرنا شروع کردیاتھا۔بعض شعراوادبا اس کے نام پراپنی تخلیقات میں موت، تنہائی، مایوسی، گمشدگی،اعصاب زدگی اور دیگر منفی باتوں کو چونکہ کچھ زیادہ ہی پیش کرنے لگے تھے ، اس لیے ناقدین کا ایک طبقہ انھیں’تنہائی پسند‘بھی کہنے لگا تھا۔مثلاًسید محمد عقیل(1930-2022) نے لکھاہے
’’۔۔۔مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے جدید شاعر بالقصد اس جذبے کی طرف کھنچ رہے ہیں یا کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت،لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس میںمعصوم روحیں زیادہ گرفتار ہورہی ہیں۔کچھ صرف رسالوں میں اپنے کلام کی اشاعت کی لالچ میں،کچھ محض تفریحاً اور کچھ اس محاذ کو توڑنے کے لیے جو انتہاپسند ترقی پسندوں نے بنا رکھا تھا اور جس میں کسی اپنے ’گروپ‘ سے باہر کے آدمی کو شامل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔اس حصار کو توڑ کر ایک نئی جہت کی تلاش بھی اس طرز گفتار میںشامل ہے۔ترقی پسندوںنے جس تحکمانہ رویے کو اپنا رکھا تھا ،اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا۔ ادب میں Dictation کبھی بھی بارآور نہیں ہوا۔ کچھ دنوں کے لیے ضرور اس کا اثر ہوسکتا ہے،تنہائی پسند ہوں یا ترقی پسند۔
تنہائی پسندوں کا جدیدسے جدید تر حلقہ اپنی فکرونظر کی تفہیم و ترسیل سے بھی عاری ہوگیا ہے اور سال ہی دو سال میں ان کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے ہیں۔ایک جو موت،تنہائی، خوف،اور خلا کی ان روایتوں کا حامی ہے جو میراجی،یوسف ظفروغیرہ سے انھیں ملی ہیں اور دوسرا بالکل نیا ہے۔‘‘5
لیکن آل احمد سرور جیسے ناقدین نے اس عہد میں پروان پارہے ادبی رجحان میں موجود انسانی عظمت اور انسان دوستی کے جذبوں کی بھی، جسے ’علمائے ادب‘عام طور پر’ترقی پسندی‘ سے تعبیر کرتے ہیں،نشاندہی کی اور لکھا کہ
’’جدیدیت صرف انسان کی تنہائی ،مایوسی ، اس کی اعصاب زدگی کی داستان نہیں ہے۔ اس میں انسانیت کی عظمت کے ترانے بھی ہیں۔ اس میں فرد اور سماج کے رشتے کو بھی خوبی سے بیان کیا گیا ہے، اس میں انسان دوستی کا جذبہ بھی ہے،مگر جدیدیت کا نمایاں روپ آج آئیڈیا لوجی سے بیزاری ،فرد پر توجہ،اس کی نفسیات کی تحقیق، ذات کے عرفان ،اس کی تنہائی اور اس کی موت کے تصور سے خاص دلچسپی ہے، اس کے لیے اسے شعرو ادب کی پرانی روایت کو بدلنا پڑا ہے،اسے نیا رنگ و آہنگ دینا پڑا ہے، اس کے اظہار کے لیے اسے علامتوں کا زیادہ سہارا لینا پڑا ہے۔‘‘6
آل احمد سرورنے اگرچہ تنہائی،مایوسی، اس کی اعصاب زدگی کے ساتھ ساتھ اس میں موجودانسان اور انسان دوستی کے جذبے کو نشان زد کیا ہے، لیکن آئیڈیا لوجی سے بیزاری ،فرد پر توجہ،اس کی تنہائی، موت کے تصور، نفسیات کی تحقیق اور ذات کے عرفان کو’جدیدیت‘ کے نمایاں روپ کے طور پرپیش کیاہے۔اسی طرح خلیل الرحمن اعظمی بھی کسی نوع کی فارمولہ بازی یا کسی ایک نظریے کی پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ نومبر 1972 میں نظموں کا ایک انتخاب’نئی نظم کا سفر‘کے عنوان سے شائع کیاتواس کے ابتدائیہ میںانھوں نے واضح طور پر لکھا کہ
’’1955کے لگ بھگ اردو نظم نگاروں کی ایک اور نئی نسل سامنے آتی ہے۔ یہ نسل ان نوجوانوں کی تھی جنھوںنے آزادی اور تقسیم کی فضا میں آنکھ کھولی تھی۔یہ دور بر صغیر ہندوپاک میں تہذیبی، سیاسی، اخلاقی اور سماجی اقدار کی شکست اور پامالی کا دور ہے۔ نظریہ،عقیدہ، نصب العین،آدرش،خوش آئند مستقبل کا خواب،جماعتی وابستگی اور اجتماعی تحریکوں پر یقین کا طلسم ایک ایک کرکے بکھرنے لگا۔ مینی فیسٹو، اعلان نامے ،طے شدہ راستوں پر چلنے اور چل کر اپنی منزل مراد تک پہنچنے کے دعوے بے معنی اور بے سود نظر آنے لگے ۔ نیکی اور بدی، جھوٹ اور سچائی،محبت اور نفرت، خلوص اور عدم خلوص کے بنے بنائے پیمانے بیکار نظر آنے لگے ۔۔۔اس کیفیت نے اردو نظم کو بھی متاثر کیا ۔۔۔طے شدہ موضوعات،طے شدہ نتائج تک پہنچنے کی پابندی ،طے شدہ فنی طریقوں یا اسالیب سے وفاداری ، ان سب کی نفی اور ان سے انحراف و انقطاع کا عمل اس دور میں تیزہوا۔یہ عمل’ ترقی پسند تحریک‘ اور’ حلقۂ ارباب ذوق‘ والوں کے یہاں انفرادی طور پر بعض شعرا کے یہاں پہلے بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا، لیکن اب اس نے اپنے دَور کے غالب مَیلان اور رویے کی شکل اختیار کرلی ہے۔۔۔’ترقی پسند تحریک‘ اور’ حلقۂ ارباب ذوق‘ دونوں گروہوں کے متعلق یہ ردعمل ظاہر کیا گیا کہ دونوں کے یہاں کسی نہ کسی طور کی فارمولابازی اور شاعری سے متعلق کچھ طے شدہ طریقوں کا استعمال ملتا ہے۔ اگر ترقی پسندموضوع اور مواد کو ترجیح دیتے ہیں تو حلقے والے ہیئت اور اسلوب کو۔ اگر اول الذکر اجتماعی زندگی اور اجتماعی مسائل کا ایک الگ خانہ بناتے ہیں تومؤخرالذکر انفرادی اور داخلی احساس اور تجربے کو اجتماعی زندگی سے منقطع کرکے انفرادیت پسندی یا داخلیت پرستی کا ایک حصار بنائے ہوئے ہیں۔نئے شاعروں نے ان دونوں طریقوں کو مصنوعی اور فرضی قرار دیا اور شعری عمل میں مواد اور ہیئت کے ناگزیر اور نامیاتی تعلق اور وحدت کو تسلیم کیا۔‘‘7
اردو شعروادب میںرائج اس نئے رجحان کو لے کر ناقدین ادب کے مابین اس زمانے میں خوب بحثیں ہوئیں۔ باقر مہدی(1927-2006) نے کہا’ہم کمیونسٹوں سے بھی لڑیںگے اور اینٹی کمیونسٹوںسے بھی۔‘ وارث علوی (1928-2014)کے مطابق’صنعتی دور کا آدمی کٹا پھٹا زمین سے اکھڑا ہوا معاشرے سے ٹوٹا ہوا،تخلیقی طور پر بانجھ اور رومانی طور پر کھوکھلا آدمی ہے۔بڑے صنعتی شہروں میں آدمی سے آدمی دور ہوتا گیا، پورا معاشرہ آہستہ آہستہ Alienate ہوتا گیا۔‘8’ترقی پسندتحریک‘ سے وابستہ نقاد پروفیسر محمد حسن نے بھی اس زمانے میں ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ہندستان گو بڑا ملک سہی مگر ایشیا کے ممالک میں جاپان کے بعد صنعتی طور پر سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے اور صنعتی طور پر سارا تشنج،اعصاب شکنی،تنہائی یہاں آنا لازمی ہے۔‘9کمارپاشی(1935-1992) کے مطابق’ سیاسی مسائل ادب کا موضوع بن سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے کسی بندھے ٹکے سیاسی فارمولے کی وکالت ادیب کو اس کے منصب سے گراسکتی ہے۔‘ جبکہ بشیر بدر(B: 1935)کا کہنا تھا کہ:
’’جدیدیت میں عصری احساسات،بدلتی ہوئی زندگی کاادبی اظہار،جدید گومگو،داخلی تشکیک،نئی روش اور نئے اسلوب کی تلاش،احساس تنہائی،اندیشہ، خوف بھی شامل ہے۔ جدیدیت محدود فارمولا اس وقت بن جاتی ہے جیسے میں اصرار کروں کہ داخلی تشکیک ہی جدیدیت کی پہچان ہے۔‘‘10
مظہر امام1928-2012) (نے ٹوٹتے بکھرتے رشتوں کے درمیان اپنے وجود کی تلاش و دریافت کو ’جدیدیت ‘سے تعبیر کیا ، لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ
’’جدیدیت کا کوئی قطعی مفہوم متعین کرنا نہ ممکن ہے نہ مناسب۔کسی اصطلاح کی تعریف ضروری ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ عصری زندگی کی پیچیدگیوںکے شعور کا نام جدیدیت ہے۔اب اس کی تعبیرو تشریح جس طرح بھی کی جائے، یہ رجحان نئے انسان کی مضطرب روح کا تقاضہ ہے۔ٹوٹتے رشتوں اور منہدم ہوتی ہوئی قدروں کی کشاکش میں آج کا انسان اپنے آپ کو بے بس اور لاچار محسوس کرتے ہوئے بھی کسی نہ کسی شکل میں جیے جارہا ہے۔جدید ادب آج کے زخم خوردہ انسان کے آشوب سفر کی داستان ہے۔‘‘11
اس عہد کے شعروادب میں جس طرح بے یقینی،مایوسی،اداسی، نراجیت، بے چارگی اور بے سروسامانی کو پیش کیاجانے لگا تھا ، اس کے خلاف بعض ناقدین نے آواز بھی بلند کرنا شروع کردی تھی۔انھوں نے اسے منفی اور فراری رویہ قرار دیاتواس کے زیراثر تخلیقات پیش کرنے والوں میں بہت جلد مثبت تبدیلی آنے لگی تھی۔نتیجتاً ایک خاص عرصے کے بعدان کی تخلیقات میں انفرادیت، تجریدیت اور تشکیک کے ساتھ ساتھ اشتراکی اور جمہوری ا قدارہم آہنگ ہونے لگے تھے۔ اس سلسلے میںلطف الرحمن(1941-2013) کی یہ باتیں قابل توجہ ہیں
’’ترقی پسندتنظیم کے دور زوال میں وجودیت اور تجریدیت کے رجحان و میلان نے اپنی جگہ بنانی شروع کی۔یہاںتک کہ1960کے آس پاس ایک نئی ادبی تحریک سامنے آئی جسے جدیدیت سے موسوم کیا گیا۔اس نئی تحریک کا خمیروجودیت اور تجریدیت کے مرکب سے تیار ہوا تھا۔ ابتدا ئی چند برسوںتک تجریدیت ہی حاوی رہی، لیکن آہستہ آہستہ وجودی طرز احساس حاوی ہوتا گیااور اسی کو جدیدیت کی سنگ بنیاد کی حیثیت حاصل ہوئی۔حالانکہ وجودیت وتجریدیت دو مختلف تحریکیں ہیں اور وجودیت میں تجریدیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، لیکن تحریک جدیدیت نے ان دونوں کے مرکب سے اپنا خمیر تیار کیااور اشتراکیت اور جمہوریت کی انسانی قدروں اور نفسیاتی اصولوں کی ہم آہنگی سے ایک نئی جمالیات کو جنم دیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک پوری نسل کو اپنا ہم نوا بنا لیا۔جدیدیت ایک ادبی تحریک کی حیثیت سے وجودیت،تجریدیت، اشتراکیت،جمہوریت اور نفسیات کے مثبت قدروں اور اصولوںکا ایک حسین امتزاج ہے اور عہد حاضر کے صحرائے بے آب و گیاہ میںشجر سایہ دار کی حیثیت رکھتی ہے۔‘‘12
لطف الرحمن بھی بھیڑ کا حصہ بن کر اس زمانے میں رائج ادبی رجحان کو جدیدیت سے تعبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی نہیں، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ’وجودیت‘ اور’تجریدیت‘ کے رجحان نے ترقی پسند تنظیم کے دورزوال میں اپنی جگہ بنانا شروع کی جبکہ 1939میں حلقۂ ارباب ذوق کی تشکیل عمل میں آچکی تھی اور اس نے اس رجحان کو شدومد کے ساتھ فروغ دینا شروع کردیا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کے خمیر سے جس ادبی تحریک یا رجحان نے جنم لیا،کیا اسے ’جدیدیت‘ سے تعبیر کیاجانا، درست ہے؟کیونکہ اس میں تنہائی، مایوسی اور گمشدگی ہی نہیں بلکہ کسی بھی نظریے سے انحراف کا تصور بھی ابھررہا تھا۔نیزآفاقی قدروں کوبھی چیلنج کیاجانے لگا تھاجسے اسّی کی دہائی میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر آئی نت نئی تبدیلیوں نے مزید پختہ کردیا تھا،کیونکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں’اطلاعاتی ٹکنالوجی‘ (Information Technology) کو فروغ ملنے لگاتھا۔ دنیا ایک ’عالمی گاؤں ‘(Global Village) میں تبدیل ہونے لگی تھی۔’صارفیت‘ (Consumerism)، ’عالمی ثقافت‘ (Global Culture)، ’سیاسی جبر‘ (Political Atrocities)، سرمایہ کاری کے نئے ـضابطوں اور ’نیوکلیائی اسلحوں ‘(Nuclear Weapons) کے خطرات و خدشات بڑھنے لگے تھے۔فرڈیننڈسوسیر، جارج لوکاچ،والٹربنجامن،رومن جیکب سن، برتھولڈبریخت،ژاک لاکاں،تھیوڈورایڈورنو،لیوی اسٹراس، رولاں بارتھ، التھیوسے، لیزلی فیڈلر،لیوتار،مشل فوکو،اِہاب حبیب حسن،نوم چومسکی، دریدا، ایڈورڈسعید، پیرے ماشیرے،پیری اینڈرسن،جولیاکرسٹیوا اور ٹیری ایگل ٹن جیسے مفکرین کی ’ساختیات‘ (Structuralism)،’مابعد/ پس ساختیات‘ (Post- Structuralism) یا ’ردّ تشکیل‘ (Deconstruction)،’مظہریت‘ (Phenomenology)، ’تانیثیت‘ (Feminism)، ’نوفرائیڈیت‘(Neo-Freudism)، ’نوتاریخیت‘(New Historicism) اور’نومارکسیت‘ (Neo-Marxism)جیسے افکارو نظریات اس عہد کے شعرو ادب کاحصہ بننے لگے تھے۔
ژین فرینکوئس لیوتار (Jean François Lyotard:1924-1998)نے1979میں شائع شدہ اپنی تحریرThe Postmodern Condition: A Report on Knowledgeمیںلکھا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعدٹکنالوجی کے باعث لوگوں نےMetanarratives (فرانسیسی: Métarécits) کے لیے اپنی ضروریات کو بڑھا دیا ہے۔اس کے مطابق سائنس اور ثقافت کو درست ثابت کرنے کے لیے جس نوع کا بیانیہ پیش کیاجاتا ہے، وہ غیر منصفانہ ہے۔یہی وہ کتاب ہے جس میں اس نے سب سے پہلے ’مابعد جدید‘ کی اصطلاح استعمال کی۔یہی وجہ ہے کہ لیوتار کو بعض ناقدین بابائے ‘مابعدجدیدیت‘ (Father of Postmodernism) کے طور پرپیش کرتے ہیں۔
1988میںشائع شدہ اپنی کتابThe Inhuman میںلیوتارایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتاہے جہاں ٹکنالوجی نے قبضہ کر لیا ہے۔اس کتاب میںاس نے کانٹ (Immanuel Kant: 1724-1804)، ہیڈیگر، ایڈورنو(Theodor W. Adorno:1903-1969) اور دریدا (Jacques Derrida: 1930-2004) کے ساتھ ساتھ پال سیزانے (Paul Cézanne: 1839-1906)، کلاؤڈ ڈیبوسی (Claude Debussy: 1862-1918) اور پیئربولزے (Pierre Louis Joseph Boulez: 1925-2016)کے کاموں کو پیش کیا ہے۔وقت اور یادداشت، شاندار اور Avant-Garde ، جمالیات اور سیاسیات کے درمیان موجودتعلق؛نیزعلم اورٹکنالوجی کو لیوتار نے جس طرح ایک طاقت کے طور پر پیش کیا ہے،اس سے دنیاکے سیاسی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی محسوس کی جانے لگی تھی۔ بقول گوپی چند نارنگ:
’’لیوتار کا کہنا ہے کہ آئندہ بین ملکی طاقت کے کھیل میں کمپیوٹرزائیدہ علم کابڑا حصہ ہوگا اور ممکن ہے کہ قوموں اور ملکوں کی آئندہ رقابتیں اور دشمنیاں برقیاتی علم کے ذخیروں پر قادر ہونے کے لیے ہوںگی۔ یعنی ’علم گیری‘ ملک گیری کی طرح عالمی سطح پر ہوس کا درجہ اختیار کرلے گی۔۔۔۔ہر شے کا مدار چونکہ ٹکنالوجی پر ہوگا، اس لیے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معاشروں کے درمیان فاصلہ گھٹے گا نہیں، بلکہ اور بڑھے گا۔۔۔۔طاقت اور علم ایک ہی سکے کے دو رخ ہوںگے۔۔۔۔کمپیوٹر معاشرے میںTo speak is to fightیعنی’ بولنا لڑائی لڑنا ہے‘ عام اصول ہوگا؟آئندہ لڑائیاں کمپیوٹر زبان کی چالوں سے لڑی جائیںگی۔کس منزل پر کون سی چال کارگر ہوگی، اس کا فیصلہ ذہن انسانی نہیں، کمپیوٹر کرے گا۔‘‘13
فرانسیسی فلسفی اورادبی نظریہ سازپال مشل فوکو (Paul-Michel Foucault: 1926-1984) نے ’ساختیاتی‘(Structural) انداز فکر کے بجائے’ پسِ ساختیات‘ (Post-structuralism) سے خودکو وابستہ کیا۔اس نے اس حقیقت کی جانب متوجہ کیا کہ محض متن پر انحصار کرنا، درست نہیں بلکہ متن کے ڈسکورس (Discourse) پر اپنی توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔ وہ اسے ذہنِ انسانی کی مرکزی سرگرمی اور معنی خیزی کے ایک وسیع سمندر کے طور پر دیکھتا ہے۔اس کا استدلال ہے کہ قوت کا حصول ’ڈسکورس‘ ہی کا مرہون منت ہے۔ وہ تخلیق کاروں کویہ مشورہ دیتاہے کہ وہ توازن، اعتدال اور انصاف کو شعار بنائیں۔فوکو کے مطابق تہذیب کی تمام اقسام، ’ڈسکورس‘ کی جملہ صورتوںکویکساں طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ’ڈسکورس‘ کا دائرۂ کار لا محدود ہے۔اس کے ذریعے گلدستۂ معانی کو نئے ڈھنگ اور ایک پھول کے مضمون کو سو رنگ سے باندھاجاسکتا ہے۔ خزاں کے مسموم ماحول میں بھی ایک طاقتور ’ڈسکورس‘ بہار کے ہزارہا جلووں سے فیض یاب کرسکتا ہے۔اسی کے زیر اثر انسانی افکار، جذبات، احساسات اور ذہنی کیفیات میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ہونے والے حالات، واقعات، نشیب و فرازاور الم و انبساط کو محض حادثاتی ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ سب کسی نہ کسی ایک نظام کے تابع ہیں۔ ’ڈسکورس‘ ہی ہے جو سماجی اور معاشرتی زندگی کی اجتماعی کیفیات کے بارے میں حقیقی منظر نامہ سامنے لاتا ہے۔
فوکو کے مطابق کسی تخلیق کار کی تفہیم اس کے عہد میں ممکن نہ ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں۔عین ممکن ہے کہ زمانۂ آئندہ میں اس کے تصورات کو حقیقی تناظر میں دیکھا جاسکے اوراس کی شخصیت کے محدود زاویوں کے بجائے اس کے منتخب’ ڈسکورس‘ کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے آئیں۔کیونکہ کہنے والا تو عدم کی بے کراں وادیوں کی جانب سدھا ر جاتا ہے، لیکن اس کا’ ڈسکورس‘ باقی رہ جاتا ہے جو اپنی جاذبیت اور دل میں اُتر جانے والی اثر آفرینی سے تخلیق کارکودوام بخشتاہے۔
کورانہ تقلید کا مخالف اورپاسبانِ عقل کو دل کے ساتھ رکھنے پر اصرارکرنے والے فوکوکا خیال تھا کہ تاریخی شعور سے فکرِ انسانی کوایسی لائقِ صد رشک تابانیاں نصیب ہوتی ہیں جن کی بدولت اقوامِ عالم کی سماجی اور معاشرتی زندگی کی اقدار و روایات کی تفہیم میں بہت مدد ملتی ہے۔ ایک ایسے دور میں جبکہ سائنس اور ٹکنالوجی کے ذریعے انسانی زندگی نت نئی آسائشوں سے مزین ہونے لگی ہے، طرح طرح کے لاینحل مسائل سے بھی گھرنے لگی ہے۔’فرد‘ جس نوع کی ’بے چہرگی‘ اور ’عدم شناخت‘ سے دوچار ہے، اس کے تدارک کے لیے ’علم‘،’ ادب‘،’ فلسفہ‘ اور’ سائنس‘ کے بارے میں مثبت شعورو آگہی کو پروان چڑھانا،بے حد ضروری ہے۔فوکو کے مطابق تاریخ ہی ہے جو افراد کو معاشرتی زندگی میں درپیش مسائل کے بارے میں سنجیدہ اور حقیقت پسندانہ اندازِ فکر اپنانے پر آمادہ کرتی ہے۔ فوکو اس بات سے اکثر نالاں نظر آتا ہے کہ معاشرے کے با اثر طبقے نے معاشرتی زندگی کو درپیش مسائل اور ان کے پسِ پردہ کارفرما عوامل کے بارے میں کوئی واضح، ٹھوس اور قابلِ تقلید لائحۂ عمل مرتب کرنے کے بجائے کمزور، ثانوی اور ناگوارطریقۂ کار اپنا کر حقائق سے چشم پوشی کو اپناوتیرہ بنا لیا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ تمام تر مشکلات کے باوجودزبان کو دل کا رفیق ہونا چاہیے۔کسی بھی طرح کے انجام کی پروا کیے بغیر سچ ہی لکھنا چاہیے۔ حق گوئی اور بے باکی ہی جواں ہمت افراد کا امتیازی وصف ہوتا ہے۔ زندگی میں سچ کا بو ل بالا کرنے کے لیے ایسا ’ڈسکورس‘ منتخب کیا جائے جس میں صداقت رچ بس جائے۔
اِہاب حبیب حسن (Ihab Habib Hassan:1925-2015) نے سب سے پہلے’ مابعد انسان دوستی‘ (Post Humanism)کی اصطلاح وضع کی جس میں اسطوری رموز پوشیدہ ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ’کلاسیکی انسان دوستی‘(Classical Humanism) ،’مابعدجدیدیت‘(Post Modernism) سے علاحدہ تصور ہے۔ انسان کا کام چونکہ بہت سی مخلوقات کو تحفظ دینا ہے، اس لیے اسے کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ فطرت کو تباہ کرے۔ اِہاب حسن نے ’مابعد جدیدیت‘ کو ’ٹکنالوجی کی آئیڈلوجی‘ قراردیاہے جومستقبل میں ’ماورائی انسانیت‘ کے ’ مابعدبشر‘ کا عندیہ بھی ہے۔ یہ ایک ارتقائی صورت حال ہے جو’ روشن خیالی‘(The Enlightenment) کا سبب بنتی ہے اور اصلاً’کلاسیکل لبرل ازم‘ (Classical Liberalism)ہے۔
1971میں شائع شدہ اپنی کتاب The Dismemberment of Orpheus toward a Postmodern Literature میں اِہاب حسن نے ’جدیدیت‘ اور ’مابعد جدیدیت‘ کے تقابل کی غرض سے ایک جدول(Chart)پیش کیا جس میں ’جدیدیت‘ کو ہیئتی، بامقصد، آرائشی، درجہ بند، ماہرانہ، فنکارانہ تکمیلیت، فاصلہ،تخلیق، طریقۂ نتیجہ، موجودگی، منصوبہ، مرکزیت، اقسام و حدود،وضاحت/فصاحت، تصریف، قابلِ مطالعہ، یقین، گہرائی، تاریخ اور غلبہ وغیرہ، جبکہ ’مابعد جدیدیت ‘کوہیئت مخالف(آزاد)،تمثیلی، موقع، بے مقصد، خاموش، طریقۂ کار / عمل یاکسی چیز کا نہ ہونا، شمولیت، ردتشکیل/ بے سمت، لاموجود، انتشار، متن/بین المتن، بلاغت، غیر یقینی اور تاریخِ معمولی وغیرہ کے طور پر متعارف کرایا ہے۔
اِہاب حسن نے ’جدیدیت‘ اور ’مابعدجدیدیت‘ کے درمیان جس نوع کے فرق کو بیان کیا ہے، اس سے قارئین بخوبی واقف ہوجاتے ہیںکہ ان دونوں اصطلاحات کا استعمال ایک خاص عہد کی خصوصیات کو بیان کرنے کے لیے کیاگیا ہے اور ان دونوں میں بنیادی فرق منطقی اور غیرمنطقی کا ہونا ہے۔’جدیدیت‘ اکثر مہابیانیہ (Metanarrative/grand narrative/ mater narrative)سے خود کو الگ کرتی ہے اور ترقی، قطعیت اور آفاقی سچائیوں کے حصول کے امکانات میں یقین رکھتی ہے۔یہ فلسفہ خالص پن، سادگی اور وضاحت پر اپنی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ جبکہ ’مابعدجدیدیت‘ معروضی صداقت اور کسی ایک نظریے پر یقین نہیں رکھتا۔ مہابیانیہ سے خود کومنسلک کرتا ہے۔یعنی’ مابعد جدیدیت‘ محض منطقیت اور قطعیت کانام نہیں، بلکہ یہ وہ رویہ یا رجحان ہے جو چیزوں کو اس کے برعکس بھی دیکھنے میں یقین رکھتا ہے۔ چنانچہ ’جدیدیت‘ اور ’مابعدجدیدیت‘ کی تشریح و تعبیر کرتے وقت اردو کے ناقدین کو ان باتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم(1939-45) کے بعد مغرب میں جس نوع کے خیالات پروان پانے لگے تھے اورجن کی عکاسی اس عہد کے شعروادب میں کی جانے لگی تھی، اس کے اثرات اردوشعروادب پر بھی مرتب ہوئے۔’حلقۂ ارباب ذوق‘ نے تقسیم ہند سے قبل ہی اسے فروغ دینا شروع کردیا تھا۔تقسیم ہندکے بعد’انجمن ترقی پسندمصنفین‘ نے بھی اس جانب اپنی توجہ مرکوز کردی تھی۔ لیکن اردو کے بعض ناقدین اسے’جدیدیت‘سے تعبیر کرتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ادبی رجحان کے لیے ’مابعد جدیدیت‘ (Post Modernism) کی اصطلاح کا استعمال ہمارے بعض ناقدین نے 1980 کے بعد کیا۔ مثلاً گوپی چند نارنگ (1931-2022)نے یہ کہنا شروع کیاکہ
’’ہمارے یہاں جدیدیت بہت کچھ Enlightenment Project(روشن خیالی)کا حصہ تھی اور مارکسیت اور ہیومنزم سے الگ نہیں تھی۔مغرب میں جدیدیت کا زمانہ پہلی جنگ عظیم سے دوسری جنگ عظیم تک کا ہے۔جبکہ ہمارے یہاں اس کا زمانہ1960کے بعد کی دو ڈھائی دہائیوں کا ہے۔مغرب کا روشن خیالی پروجیکٹ انسان کی تاریخی اور سائنسی ترقی کے خواب سے عبارت تھا۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خواب پاش پاش ہوگیا۔انسان نے تاریخی اور سائنسی ڈسکورس سے جو توقعات وابستہ کی تھیں، اس نے اتنے مسائل حل نہیں کیے، جتنے پیدا کردیے۔چنانچہ بعد کے دور کو’گمشدگی‘ یا ’بدعقیدگی‘کا دور کہاجاتا ہے۔سب سے اہم مسئلہ تو وہی تھا ۔۔۔کہ صدیوں سے چلاآرہا شعور انسانی کا تصور بے دخل ہوگیا، دوسرے لفظوں میں جو تصور عقلیت پسند تحریکوں اور ہر طرح کی آئیڈیولوجی کی جان تھا، اس کی بنیادیں ہل گئیں۔مظہر یاتی دجودیت نے اتنی گنجائش توبہرحال رکھی تھی کہ انسان اگر خود آگہی سے متصف ہے اور اپنے فیصلے کے حق کا استعمال کرتا ہے تواپنے تشخص کو پالینے میں قاد رہے ،لیکن بعد کے فلسفیوں نے یہ ڈوری بھی کاٹ دی ۔ ان کی رُوسے شعور انسانی ایک مفروضہ محض ہے جسے بوجوہ مان لیا گیا ہے ۔ اِسی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ سائنسی ترقی سے انسانی مسرت کاخواب پورا نہیںہوا، بلکہ ترقیاتی اور تکنیکی تبدیلیوں سے معاشرہ دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا سوسائٹی یا تماشا سوسائٹی Spectacles Society میں بدل گیا اور نئے تجارتی طور طریقوں نے کنزیومرازم[صارفیت] کی ایسی شکلوں کو پیدا کر دیا جن کا تصور بھی پہلے نہیں کیا جاسکتا تھا۔اسی طرح کمپیوٹر ذہن نے علم کی نوعیت اور ضرورت کو بدل کر رکھ دیا اور علم کی ذخیرہ اندوزی اور بازیافت کے یکسر نئے مسائل پیدا کردیے۔ ان جملہ تبدیلیوں اور نئی کلچر ل فضا کا اگرکوئی اصطلاح احاطہ کرسکتی ہے تو یہ ’مابعد جدیدیت ‘ہی ہے۔‘‘14
نارنگ نے مغرب میں جدیدیت کا زمانہ پہلی جنگ عظیم سے دوسری جنگ عظیم تک مانا ہے اور یہاں یعنی اردو میں ان کے مطابق’جدیدیت‘بہت کچھ’مارکسیت‘ اور’ ہیومنزم‘ سے الگ نہیں تھی۔یعنی نارنگ کی نظرمیں’جدیدیت‘ اور ’ترقی پسندی‘ میں کوئی فرق نہیں۔لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا زمانہ ساٹھ کے بعد کی دو ڈھائی دہائیوں کو محیط ہے۔نیز یہ کہ مغرب میں دوسری جنگ عظیم کے بعد انسان نے سائنسی ترقی کے جو خواب دیکھے تھے، وہ پاش پاش ہوگئے۔انسان نے تاریخی اور سائنسی ڈسکورس سے جو توقعات وابستہ کی تھیں، اس نے اتنے مسائل حل نہیں کیے، جتنے پیدا کردیے۔یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور کو’گمشدگی‘ یا ’بدعقیدگی‘کا دور کہاجاتا ہے۔گویانارنگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغرب میں گمشدگی یا بدعقیدگی غالب ہوگئی تھی اوروہ تصورات جو عقلیت پسند تحریکوں اور آئیڈیولوجی کی جان ہوا کرتے تھے، اس کی بنیادیںاب ہلنے لگی تھیں۔ظاہر ہے ہمارے یہاں بھی دوسری جنگ عظیم اوربالخصوص سانحۂ تقسیم ہند(1947) کے بعد گمشدگی ، بے گانگی اور کسی بھی قسم کے نظریے سے انحراف کا تصورابھرنے لگا تھا۔ مغرب کی تقلید میں تو اس صورتحال کو’مابعدجدیدیت‘ سے تعبیر کیاجانا چاہیے تھا، لیکن خود نارنگ بھی اسے ’جدیدیت‘ سے تعبیر کرتے نظرآتے ہیں۔ البتہ 1970کے بعد قومی اور بین الاقوامی سطح پر آئی تبدیلیوں کا ذکر کرکے اس عہد کے ادب کو وہ ’مابعدجدید‘ادب کے طور پر پیش کرتے ہیں۔یعنی نارنگ کی نظرمیں1980سے قبل تک اردو ادب میں’جدیدیت‘ یا ’ترقی پسندی‘کا رجحان غالب تھا اور1980کے بعد یہ رجحان تبدیل ہوکر’مابعدجدید‘ ہوگیا۔
سب سے پہلے تو ہمیں یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ تقسیم ہند سے قبل تک برصغیر، مغرب یعنی برطانیہ کا ایک حصہ تھا۔اس پر مغرب کی بعض مثبت اور منفی سرگرمیوں کے اثرات بھی مرتب ہورہے تھے۔ خصوصاً انیسویں صدی کے اوائل سے اس میں شدت آنے لگی تھی۔ سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی، مذہبی، ادبی، تہذیبی اور ثقافتی طور پر ہمارے یہاں مغرب کی کسی نہ کسی شکل میں پیروی کی جانے لگی تھی۔ پہلی جنگ عظیم ہو یا دوسری جنگ عظیم، ان سب کے اثرات برصغیر پر کسی نہ کسی شکل میں ضرور مرتب ہوئے۔اس لیے یہ کہنا کہ مغرب کی اور یہاں یعنی برصغیر کی ’جدیدت‘ میں فرق ہے، درست نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تقسیم ہند کے بعد برصغیر میں جس نوع کا ادبی رجحان وجود میں آیا، اس میں اور مغرب میں پروان پارہے ادبی رجحان میں بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔بلکہ 1939میں حلقۂ ارباب ذوق کی تشکیل مغرب سے اثرپذیری کا نتیجہ ہے۔دوسری سب سے اہم بات جس کی جانب ہمارے ناقدین بالکل توجہ نہیں دیتے، وہ یہ کہ مغرب میں ’جدیدیت‘ سے مرادجیسا کہ مضمون کے آغاز ہی میں واضح کیاجاچکا ہے کہ کسی بھی شے یا خیال کو منطق کی کسوٹی پر پرکھ کر آگے بڑھنے سے لیاجاتا ہے۔ یہ وہ خیال یا فلسفہ ہے جس کے نقوش مغرب میں سترہویں صدی سے ملنا شروع ہوجاتے ہیں،اس نے انیسویں صدی کے نصف اخیر میںوہاںایک تحریک کی شکل اختیار کرلی تھی اور 1950تک آتے آتے یہ فلسفہ وہاں زوال آمادہ بھی ہوگیا تھا۔کیونکہ لوگوں نے دیکھا کہ تمام تر منطقیت اور عقلیت کے باوجود انسان تنہا،پریشان اور بدحال ہے۔ ہر طرف جنگ اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔ مغرب کی اس صورتحال کا موازنہ ہم اگر اس عہد کے برصغیرسے کریں تو پائیںگے کہ یہاں کے عوام میں منطقیت اورعقلیت پر مبنی باتوںکو 1857کے بعد ، خصوصاً ’سرسید تحریک/ علی گڑھ تحریک‘ سے فروغ ملنے لگاتھا ۔اسی تحریک کا نتیجہ ہے کہ زندگی کے تمام تر شعبوںمیںعقلیت اور منطقیت کو اہمیت دی جانے لگی تھی جسے بلاشبہ’جدیدیت‘ کے آغاز سے موسوم کیاجاسکتا ہے۔ہمارے یہاں بھی یہ رویہ یا رجحان مختلف نشیب و فراز کے ساتھ 1950تک حاوی رہا اور جس طرح ساٹھ اور ستر کی دہائی میں مغرب میں منطق یعنی Reason پر سوالات قائم کیے جانے لگے، اسی نوع کے سوالات یہاں بھی قائم کیے جانے لگے تھے۔ کیونکہ ذہن انسانی اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا تھا کہ زندگی کے بہت سے معاملات منطق سے بالاتر ہیں؛ اصول و ضوابط اور نظریات ایک خاص زمانے میں کارگر تو ہوتے ہیں،لیکن صورتحال بدلتے ہی ان کے ناکارہ ہوجانے کا بھی امکان رہتا ہے، بلکہ بعض دفعہ معاملات اس کے برخلاف ہونے لگتے ہیں۔ایسی صورت میں مغرب میں’مابعدجدیدیت‘ کی اصطلاح وجود میںآئی جس کے متعلق یہ خیال ظاہر کیاگیا کہ تاحال جاری ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ’جدیدیت‘ منطق (Reason)پر مبنی ایک مغربی فلسفہ ہے جس کے اثرات برصغیر پر انیسویں صدی کے اوائل سے مرتب ہونے لگے تھے۔خصوصاً1857 سے 1950 کے درمیان ہمارے یہاں وجود پذیرادبی تحریکات و رجحانات نہ صرف یہ کہ مغرب کی ’جدیدیت‘ سے متاثر تھے بلکہ بیشترکا تعلق کسی نہ کسی نظریے سے بھی تھا جسے بلاشبہ ’جدیدیت‘ کے دور سے تعبیر کیاجاناچاہیے۔اسی طرح’مابعد جدیدیت ‘ منطق اور استدلال سے ماورا (Beyond the reason) فلسفہ ہے جو عقلیت کے شکوک و شبہات سے پیدا ہوا۔یہ وہ فلسفہ ہے جس نے مغرب میں ساٹھ کی دہائی میں آفاقی یقین اورسچائیوں کو چیلنج کرنا شروع کردیا تھاجس کی پیروی اسی زمانے میںہمارے یہاں بھی کی جانے لگی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی زمانے میں ہمارے یہاں کسی بھی قسم کے نظریات سے انحراف کا بھی تصورابھراجسے مغرب کی تقلید میںتو’ مابعدجدیدیت‘ سے تعبیر کیا جانا چاہیے تھا،لیکن نہ جانے کیوں اسے ’جدیدیت‘ سے تعبیر کیاجاتا ہے؟؟
حوالے و حواشی
1۔رینی ڈیکارٹ،طریق اور تفکرات(مترجم مولوی عبدالباری)، حیدرآباد:دارالطبع جامعہ عثمانیہ،1932۔
2۔ محمدذاکر ،آزادی کے بعد ہندستان کا اردو ادب (1947تا 1962 )،نئی دہلی:مکتبہ جامعہ، 1981، ص14۔
3۔وہاب اشرفی،مابعدجدیدیت،مشمولہ’ اردو مابعد جدیدیت پر مکالمہ‘(مرتبہ گوپی چند نارنگ)، دہلی: دہلی اردو اکادمی،1998،ص ص95-96۔
4۔وحید اختر،جدیدیت کے بنیادی تصورات ،مشمولہ’جدیدیت اور ادب‘(مرتبہ آل احمدسرور)، علی گڑھ: شعبہ اردو ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، 1969، ص ص49-70 ۔
5۔ سیدمحمد عقیل، نئی شاعری کا منفی کردار ،مشمولہ’تنقید اور عصری آگہی‘(مرتبہ سید محمد عقیل)،الہ آباد: انجمن تہذیب نوپبلی کیشنز،1976 ،ص99۔
6۔ آل احمدسرور، ادب میں جدیدیت کا مفہوم ،مشمولہ ’جدیدیت اور ادب‘(مرتبہ آل احمد سرور)، ص94۔
7۔خلیل الرحمن اعظمی،ابتدا ئیہ،مشمولہ’نئی نظم کاسفر‘( مرتبہ خلیل الرحمن اعظمی)،نئی دہلی: مکتبہ جامعہ، 1976 ، ص ص28-30۔
8۔وارث علوی،ادب اور آدرشی وابستگی،مشمولہ’شب خون‘(الہ آباد)،جلد:6،شمارہ:66(نومبر 1971)، ص21۔
9۔ محمد حسن ،جدید ادب کا تنہا آدمی نئے معاشرے کے ویرانے میں ،مشمولہ’شب خون‘ (الہ آباد)، جلد:3، شمارہ :30 (نومبر 1968)،ص ص12-13۔
10۔ بشیر بدر،آزدی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ ،نئی دہلی:انجمن ترقی اردو، 1981،ص237۔
11۔مظہر امام، آتی جاتی لہریں،نئی دہلی:ایم آر آفسیٹ پرنٹرز، 2000، ص25 ۔
12۔ لطف الرحمن ،جدیدیت کی جمالیات ، بِھوَنڈی(ممبئی):صائمہ پبلی کیشن،1993،ص ص34-35۔
13۔ گوپی چند نارنگ،’ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘،نئی دہلی:قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،2004،ص530۔
14۔گوپی چند نارنگ ،مابعد جدیدیت کیا ہے ؟،مشمولہ’ تنقیدی تصورات‘(مرتبہ پروفیسر عبدالحق)، دہلی: عاکف بک ڈپو، 1994،ص ص42 41-۔