اردو ادب میں شمس الرحمٰن کا مقام

ڈاکٹر نثار احمد ڈار
اسسٹنٹ پروفیسر (کنٹریکچول) کرگل کمپس یونیورسٹی آف لداخ

اردو ادب کی تاریخ میں کچھ ایسے نام ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے عہد پر بلکہ آنے والے زمانوں پر بھی گہرے اثرات چھوڑے۔ انہی میں ایک عظیم نام شمس الرحمن فاروقی کا ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی خود اپنے آپ میں ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے تھے،وہ ایک جلیل القدر ادبی مفکر، ناقد اور محقق،،افسانہ نگار،ناول نگار،شاعر،مترجم،ماہر لغت و عروض اور عظیم استاد بھی تھے۔شمس الرحمٰن فاروقی ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ء کو اعظم گڑھ (اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق علمی و ادبی ذوق رکھنے والے گھرانے سے تھا۔ فاروقی صاحب نے ابتدائی تعلیم گورکھپور میں حاصل کی، اور بعد ازاں الہ آباد یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔انگریزی زبان و ادب سے گہری وابستگی نے ان کے اندر ایک تحقیقی اور تنقیدی شعور پیدا کیا۔ یہی مغربی ادبی فکر بعد میں ان کی اردو تنقید کا ایک مضبوط حوالہ بنی۔شمس الرحمان فاروقی نے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز محکمہ ڈاک میں کیا، مگر ان کی اصل دلچسپی ادب اور زبان کے مطالعے میں تھی۔شمس الرحمان فاروقی نے اپنے علم، فکر اور قلم کے ذریعے اردو تنقید اور تخلیق دونوں کو نئی جہتیں عطا کیں۔ان کی شخصیت اردو ادب میں اس حیثیت سے ممتاز ہے کہ انہوں نے روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک فکری اور جمالیاتی رشتہ قائم کیا، جس نے اردو ادب کو ایک نئی فکری توانائی بخشی۔۱۹۶۶ء میں انہوں نے اپنا مشہور ادبی رسالہ ’’شب خون‘‘ جاری کیا، جو اردو ادب میں ایک تحریک بن گیا۔ شب خون کے ذریعے انہوں نے جدیدیت (جدید رجحانات) کو فروغ دیا اور اردو ادب کو اس کے روایتی سانچوں سے نکال کر ایک نئی فکری سمت دی۔یہ رسالہ نہ صرف نئی نسل کے ادیبوں کے لیے ایک پلیٹ فارم بنا بلکہ اس نے ادب میں تخلیقی آزادی، تنوع اور فکری جرأت کو بھی فروغ دیا۔فاروقی صاحب نے اردو تنقید کو ایک نیا فکری اور نظریاتی ڈھانچہ دیا۔ان کے نزدیک ادب کو محض تفریح یا جذباتی اظہار نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ یہ انسانی تجربے اور شعور کی ایک فکری تشکیل ہے۔انہوں نے مغربی تنقیدی نظریات۔جیسے ساختیات، علامتیت، اور مابعد جدیدیت، کو اردو تنقید کے تناظر میں اس خوبی سے برتا کہ ایک نیا فکری اسلوب وجود میں آیا۔
شمس الرحمٰن فاروقی کی شہر آفاق تصنیف ’’شعر، غالب اور غالبیت‘‘ اردو تنقید کا سنگِ میل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے غالب کی شاعری کو صرف ادبی نہیں بلکہ فکری و تہذیبی تناظر میں پرکھا۔ ان کا خیال تھا کہ غالب صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک نظری مفکر بھی تھے جنہوں نے زبان اور خیال دونوں کو وسعت دی۔فاروقی صاحب نے یہ ثابت کیا کہ اردو شاعری کی جڑیں ہماری تہذیبی روایت میں ہیں، اس لیے اسے مغربی پیمانوں پر پرکھنا غلط ہوگا۔فاروقی صاحب کی تخلیقی قوت ان کے فکشن اور شاعری میں بھی جھلکتی ہے۔
فاروقی صاحب کا اصل اختصاص داستان اور افسانے کے فن میں تھا۔ اس حقیقت کا احساس اس وقت ہوا جب اُنہوں نے ’’داستانِ امیر حمزہ‘‘ پر تحقیقی و تنقیدی کام کا آغاز کیا۔ اُنہوں نے اس عظیم داستان کی تقریباً پچاس جلدوں کا ایک ایک لفظ غور سے مطالعہ کیا، جس کے بعد اُن کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ساحری، شاہی، صاحب قرآنی: داستانِ امیر حمزہ کا مطالعہ‘‘ منظرِ عام پر آئی۔ فاروقی صاحب کے بعض تنقیدی نظریات اگرچہ بحث و اختلاف کا موضوع بن سکتے ہیں، تاہم اُن کے پیش کردہ ادبی و فکری نکات میں گہرائی، وزن اور استدلال پایا جاتا ہے۔ اُن کی آراء ایک سنجیدہ، تجربہ کار اور صاحبِ بصیرت ذہن کی پیداوار ہیں۔ وہ اپنے خیالات نہایت متوازن، شائستہ اور پُراعتماد اندازمیں پیش کرتے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی ان ناقدین کے نظریے سے اختلاف کرتے ہیں جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ ناول ایک ترقی یافتہ صنفِ ادب ہے جبکہ داستان غیر ترقی یافتہ۔ فاروقی کے مطابق یہ تصور درست نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تک جو ادبی روایت چلی آرہی ہے وہ قصہ سنانے کی روایت ہے، جب کہ ناول کی روایت قصہ لکھنے سے جڑی ہے۔ قصہ سنانے اور لکھنے میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے، کیونکہ دونوں کی حرکیات، انداز اور تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان دونوں اصناف کو ایک دوسرے سے الگ سمجھنا چاہیے اور یہ گمان ترک کرنا چاہیے کہ داستان پس ماندہ صنف ہے اور ناول جدید یا ترقی یافتہ۔شمس الرحمٰن فاروقی ناول کی شعریات پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ ناول دراصل روشن خیالی کے عہد کی پیداوار ہے، اور چونکہ روشن خیالی کی بنیاد سوال اُٹھانے پر ہے، جیسے — انسان کی اندرونی ضرورتیں کیا ہیں؟ نفسیات کسے کہا جاتا ہے؟ کردار کسی چیز سے محبت یا نفرت کیوں کرتا ہے؟ — اس لیے ناول میں کرداروں کو صرف ظاہری طور پر پیش کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے باطن، ان کے احساسات اور ذہنی کیفیات کو بھی دریافت کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ ناول نگار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ زندگی کی تہوں میں اُتر کر اس کے معنی تلاش کرے۔
فاروقی کے نزدیک ہم پریم چند کے ناول اس لیے نہیں پڑھتے کہ ہمیں کسانوں یا غریبوں کی حالتِ زار کا علم ہو — کیونکہ وہ باتیں تو تاریخ سے بھی معلوم کی جا سکتی ہیں —بلکہ ہم ان ناولوں کو اس لیے پڑھتے ہیں کہ اُس زمانے کے انسان کی داخلی کیفیت، اس کے احساسات، جذبات اور زندگی کے ساتھ اس کے رشتے کو سمجھ سکیں۔ یہی خوبی ایک سچے ناول نگار کے فن کو نمایاں کرتی ہے۔مزید فاروقی کا کہنا ہے کہ مغربی ناول نگار اور ناقدین کو کئی فکری و فنی مسائل درپیش ہیں۔ وہ اکثر اپنی گفتگو میں مغربی ناول اور تنقید کے حوالے دیتے ہیں، کیونکہ ناول بنیادی طور پر مغرب کی دین ہے، اس لیے اردو ناول کی شعریات پر بھی وہی اصول اور مباحث کسی نہ کسی حد تک لاگو ہوتے ہیں۔فاروقی کے مطابق مغربی ناول نگار اور نقاد تین بڑے مسائل سے نبردآزما ہیں
(i)اخلاقی مسئلہ: ناول میں کیا پیش کیا جائے؟ کیا یہ فرد کا اظہار ہے یا معاشرے کا؟ کیا ناول خیر و شر کے سوال سے متعلق ہے یا محض زندگی کی معنویت و لاحاصل پن سے؟
(ii)فلسفیانہ مسئلہ: کیا ناول نگار وابستگی یا یقین میں ایمان رکھتا ہے؟ اگر رکھتا ہے تو کس حد تک؟
(iii)فنی مسئلہ: ناول اپنے فنی قیود سے کیسے آزاد ہوسکتا ہے اور وہ قیود دراصل کیا ہیں۔
شمس الرحمٰن فاروقی کی تاریخی ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ اردو فکشن کی شاہکار تخلیق ہے۔یہ ناول انیسویں صدی کی دہلی کی تہذیب، زبان، موسیقی اور سماجی زندگی کا آئینہ دار ہے۔فاروقی صاحب نے اس میں ایک ایسے عہد کو زندہ کیا ہے جو ماضی کی روشنی اور زوال دونوں کا مظہر ہے۔اس ناول کا انگریزی ترجمہ The Mirror of Beauty کے نام سے شائع ہوا، جس نے عالمی سطح پر اردو ادب کو نمایاں کیا۔انہوں نے افسانے، تنقیدی مضامین اور شاعری بھی لکھی، جو زبان کے حسن، فکر کی گہرائی اور تہذیبی شعور کی مثال ہیں۔
شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ خارجی ہئیت ہمارے فن پارے کے عام معنوی حدود کو متعین کر دیتی ہے۔ لیکن یہ فن پارے کے اصل معنی کی طرف رہنمائی نہیں کرتی ہے۔ اس کے برعکس داخلی ہئیت ہمیں اصل معنی کی طرف لے جاتی ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔
’’خارجی ہیئت ہمارے فن پارے کے عام معنوی یا تاثراتی حدود کو متعین کردیتی ہے۔ اور ایک طرح ہمیں پہلے سے آگاہ کر دیتی ہے کہ فن پارے کا مطالعہ کس سطح پر اور کس نقطہ نطر سے کریں۔ لیکن خارجی ہیئت فن پارے کی اصل معنی کا انکشاف نہیں کرتی۔ داخلی ہئیت ہمیں اصل معنی کی طرف لے جاتی ہے۔ داخلی ہیئت سے میں وہ مسئلہ یا مباحثہ مرادلیتا ہوں جو فن پارے کے جسم میں روح کی طرح پنہاں رہتا ہے اور جو الفاظ کے ذریعہ اپنی شکل ظاہر کرتا ہے اور مختلف منازل اور سد راہ سے گزرتا ہوا آخر میں کسی منظم ترکیب Synthesis یا حل Solution تک پہنچتا ہے۔ داخلی ہئیت فن پارے کی اس مکمل معنوی شکل کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ فن کار اپنے تجربہ کو ظاہر کرتا ہے۔ لہٰذا داخلی ہئیت فن پارے کے موضوع اور شکل و صورت میں کوئی فرق نہیں کرتی۔ موضوع تجربہ ہے اور فن پارہ محصل موضوع یعنی تجربہ کا جو حصہ نظم یا کسی فن پارے کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اس محصل موضوع اور تجربہ کے درمیان ٹکنیک یا خارجی ہئیت ایک باہمی رشتہ یا پل کا کام کرتی ہے۔ موضوع وہی ہے جو ہئیت بن کر ظاہر ہوا اور ہئیت وہی کچھ ہے جو فن کار نے محسوس کیاتھا۔
(لفظ و معنی شعر کی داخلی ہئیت (شمس الرحمن فاروقی)، ہئیتی تنقید: محمد حسن، صفحہ: ۳)
شمس الرحمٰن فاروقی نے زبان، ادب، اور ثقافتی مطالعہ پر متعدد کتابوں لکھی ہیں جن میں’اثبات و نفی‘ اردو غزل کے اہم موڑ، اردو کا ابتدائی زمانہ،ادبی تہذیب وتاریخ کے پہلو،افسانے کی حمایت میں،انداز گفتگو کیا ہے،تعبیر کی شرح،تفہیم غالب،شعر شور انگیز(چار جلدوں میں)،شعر غیر شعر اور نثر،خورشید کا سامان سفر،صورت و معنی سخن،غالب پر چار تحریریں،گنج سوختہ،لغات روزمرہ،تضمین اللغات،ہمارے لئے منٹو صاحب،لفظ و معنی،نئے نام،نغمات حریت،عروض و آہنگ اوربیان، سوار اوردوسرے افسانے(افسانہ)،کئی چاند تھے سر آسماں(ناول)اور آسماں محراب(شاعری)شامل ہیں۔شمس الرحمٰن فاروقی پر لکھی گئی کتابوں میں’جدید اردو تنقید کا تجزیاتی مطالعہ
‘(شمس الرحمٰن فاروقی کے خصوصی حوالے سے)ازڈاکٹر نشاط فاطمہ، شمس الرحمٰن فاروقی کی تنقید نگاری۔ازمحمد منصور عالم،شمس الرحمٰن فاروقی حیات نامہ۔ازنظم فضلی، شمس الرحمٰن فاروقی (شعر غیر شعراور نثر) کی روشنی میں۔ازمحمد سالم،شمس الرحمٰن فاروقی محو گفتگو۔ اس کے علاوہ کئی رسائل نے فاروقی صاحب کے فن اور شخصیت پر نمبر بھی جاری کئے۔فاروقی صاحب کی شخصیت اور گرا ں قدر خدمات پر ساحتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم شری (بھارت کا چوتھا بڑا شہری اعزاز)، اور دیگر کئی ادبی اداروں کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز شامل ہیں۔
شمس الرحمٰن فاروقی کی کتابوں کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہوئے، اور انہیں عالمی سطح پر اردو ادب کے ترجمان کی حیثیت حاصل ہوئی۔فاروقی صاحب کی فکر کا سب سے نمایاں پہلو ان کی وسعتِ نظر اور اعتدال ہے۔انہوں نے اردو ادب کو یہ سکھایا کہ جدیدیت کا مطلب روایت سے بغاوت نہیں بلکہ اس کی نئی تعبیر ہے۔ان کے نزدیک اچھا ادب وہ ہے جو اپنے تہذیبی شعور سے جڑا رہے مگر زمانے کے بدلتے تقاضوں کو بھی اپنائے۔ان کے شاگرد اور معتقد آج بھی ان کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
شمس الرحمنٰ فاروقی کی وفات ۲۵ دسمبر ۲۰۲۰ء کو ہوئی، لیکن ان کا علمی ورثہ ہمیشہ اردو ادب کو روشنی فراہم کرتا رہے گا۔شمس الرحمان فاروقی اردو ادب کے وہ معمار ہیں جنہوں نے تنقید کو علم، تہذیب اور شعور کا نیا درجہ دیا۔انہوں نے اردو زبان کو عالمی فکری دھاروں سے جوڑ کر اسے وقار اور گہرائی بخشی۔ان کی شخصیت اس بات کی علامت ہے کہ ادب صرف اظہار نہیں بلکہ ایک فکری ذمہ داری ہے۔فاروقی صاحب کا نام ہمیشہ اردو ادب کی تاریخ میں عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا ۔کیونکہ انہوں نے ثابت کیا کہ زبان، جب شعور اور عشق کے ساتھ جڑی ہو، تو وہ صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔