“سوار اور دوسرے افسانے”
ڈاکٹر شبیر احمد قادری
رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد، پاکستان
تنقید،شاعری اور ناول نگاری کے مانند شمس الرحمن فاروقی نے افسانہ نویسی میں بھی اپنے لیے جداگانہ راہوں کا انتخاب کیا۔ ان کے تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے رنگ بہت دِکش اور نظرخیرہ کن ہیں۔ فکشن اور شاعری کے قدیم رنگ اور مابعد ادوار میں ان کے بدلتے ہوئے میلانات سے وہ پوری طرح آگاہ تھے، اِس آگاہی کو اُنھوں نے اپنی متعدد تحریروں کے ذریعے نذرِ قارئین کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ افسانہ سے متعلق ان کا نقطۂ نظر’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ میں شامِل پانچویں افسانہ ’’لاہور کا ایک واقعہ‘‘ کی اس آخری سطر سے ہوتا ہے جو ایک کردار کے اس اعتراض کے جواب میں سامنے آیا ہے’’چلواب مان بھی جائو کہ تم نے اپنی خودنوشت میں ایک افسانہ بھی ڈال دیا ہے۔‘‘ اس کے جواب میں بیان کرنے والا کہتا ہے’’سب افسانے سچے ہوتے ہیں! سب افسانے سچے ہوتے ہیں۔‘‘ (سوار اور دوسرے افسانے، ص ۳۵۱)۔ شمس الرحمن فاروقی کوتاریخ اور جغرافیہ سے بہت اُنس تھا۔ تہذیبی، ثقافتی اور تمدنی تناظرات اُن کے افسانوں میں جابجا موجود ہیں۔ وہ تاریخی اور نیم تاریخی افسانے لکھنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ وہ یہ کہتے ہیں’’لفظ واقعہ کے معنی حقیقت بھی ہیں اور خواب بھی اور موت بھی۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص ۳۵۱)۔ شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری پر اس بات کا انکشاف ہوتا ہے کہ انھوں نے واقعہ کو واقعہ کے طورپر ہی نہیں لیا۔ اسے حقیقت کے ساتھ خواب بنا کر بھی پیش کیا ہے۔ افسانہ نگاری کی دُنیا میں یہ راستہ ہے بہت کٹھن، پیچیدہ اور ناہموار ہوتاہے۔ ہم فاروقی کو کٹھن راہوں کو آسان، اُلجھائو کو سلجھائو اور ناہموار رستوں کو ہموار کرنا خوب آتا ہے۔ ان کے افسانوں میں مذہب، تصوف، شعروادب، سیاسیات، سماجیات، اِقتصادیات، جمالیات اس طور ہم آمیز ہو گئے کہ قاری رشک کرنے لگتا ہے۔’’شوار اور دوسرے افسانے‘‘ ۳۵۱صفحات پر مبنی کتاب ہے جس میں صرف پانچ افسانے ہیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان افسانوں کی نوعیت صراحتی اور وضاحتی ہے۔ طوالت افسانے کی خامی نہیں ہوتی۔ یہ افسانہ نگار کی اپنی موضوع سے کمال کی آگاہی اور اسلوب پر منحصر ہے کہ وہ اپنے قاری کے ذوق کی کیسے تسکین اور تربیت کرتا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی کے موضوعات اس درجہ مانوس اور اسلوب اس قدر دلکش ہے کہ طول بیانی کے باوجود قاری پر اپنی گرفت برقرار رکھتے ہیں۔ کامران جبرائیلی(ایران) نے اپنے پس ورق میں بتایا ہے’’شمس الرحمن فاروقی کی بنیادی شہرت اُردو کے ایک ممتاز تنقیدنگار اور کلاسیکی متون کے شارح کی ہے لیکن ۱۹۹۷ء سے ۲۰۰۰ء تک کے عرصے میں اُنھوں نے پانچ افسانے تحریر کیے جنھوں نے اپنے منفرد اسلوب اور طرزِبیان کی بدولت اُردو کی ادبی دُنیا کی توجہ حاصل کر لی۔ یہ افسانے ماہنامہ ’’شب خون‘‘ الٰہ آباد اور سہ ماہی ’’آج‘‘ کراچی میں بینی مادھو رسوا اور عمرشیخ مرزا کے قلمی ناموں سے شائع ہوئے۔۔۔‘‘(پس ورق، سوار اور دوسرے افسانے)، کتاب میں درج ذیل پانچ افسانے شامِل ہیں
’’غالب افسانہ‘‘(ص۳۱تا۶۲)
’’سوار‘‘،(ص۶۵تا۱۱۱)
’’ان صحبتوں میں آخر۔۔۔‘‘(ص۱۱۵تا۲۳۱)
’’آفتاب زمیں‘‘(ص: ۲۳۵تا۳۳۲)
’’لاہور کا ایک واقعہ‘‘(ص۳۳۵تا ۳۵۱)
شمس الرحمن فاروقی نے دیباچے میں ان افسانوں کی پہلی اشاعت کے وقت فرضی بنام اختیار کرنے کی توجیہ اور توضیح کی ہے۔ انھوں نے تنقید اور شاعری کے ساتھ افسانہ لکھنے کے اسباب بیان کرتے ہوئے ایچ سی مصرا کی بنائی ہوئی غالب کی تصویر، ۱۹۹۷ء میں دو سو سالہ جشنِ ولادتِ غالب کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات کو اپنے افسانے ’’غالب افسانہ‘‘ کا فوری محرک قرار دیا اور لکھا’’اچانک مجھے خیال آیا کہ غالب کے بارے میں افسانے اور حقیقت پر بنی ایک بیانیہ کیوں نہ لکھوں جس میں کچھ غالب سے متعلق ادب کے معاملات، کچھ اُس زمانے کی ادبی تاریخ اور کچھ تاریخ، سب حل ہو کر یکجان ہو جائیں۔۔۔ جب ’’غالب افسانہ‘‘ میں نے لکھ لیا تو خود مجھے لگا کہ یہ تو کوئی بہت کامیاب متن بن گیا ہے۔۔۔ ایچ سی مصرا کی بنائی ہوئی شبیہ غالب’’غالب افسانہ‘‘ دونوں بہت کامیاب ثابت ہوئے لیکن مجھے اب بھی یہ خیال نہ تھا کہ میرے اندر سویا ہوا، افسانہ نگار جاگ اُٹھا ہے اور باہر آنے کے لیے دستکیں دے رہا ہے۔ اب یہ بالکل اتفاق ہی تھا کہ انھیں دنوں میں نے ایک خواب دیکھا اور جب میں جاگا تو وہ خواب غیرمعمولی طور پر پوری تفصیل کے ساتھ میرے حافظے میں موجود تھا۔ میرے بے ساختہ جی میں آئی کہ اس کو افسانہ بنادوں۔‘‘(دیباچہ، سوار اور دوسرے افسانے، ص ۲۰۔۲۲۔۲۳)، یعنی شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں میں افسانہ اور حقیقت کے ساتھ تیسرا عنصر خواب شامِل ہو گیا اور یوں وہ شہ پارے معرضِ شہود پر آئے جنھیں بعدازاں ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ کے زیرِعنوان یک جا جمع کر دیا گیا۔ اس مجموعے میں شامِل افسانے فاروقی کی اس میدان میں پہلی پہلی کاوشیں نہیں تھیں۔ ان پانچ افسانوں سے پہلے بھی وہ اس شعبہ میں طبع آزمائی کر چکے تھے۔ شاعری سے ادبی زندگی کی اِبتدا کرنے والے شمس الرحمن فاروقی نے ’’گلستان‘‘ کے نام سے ایک قلمی ماہنامہ کا اِجرا کیا۔ فاروقی کے مطابق’’گلستان‘‘ کا پیٹ بھرنے کی خاطر میں نے افسانہ نگاری شروع کی۔۔۔ میرا پہلا افسانہ شاید ۱۹۴۸ء؍۱۹۴۹ء ہی میں یعنی جس سال میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا۔ اب نہ افسانے کا نام یاد ہے نہ اُس بھاگوان پرچے کا لیکن اسکول کے زمانے سے میں چار چھ مہینے میں ایک آدھ ٹوٹاپھوٹا افسانہ میں چھپوا لینے میں کامیاب ہونے لگا۔۔۔ (دیباچہ:سوار اور دوسرے افسانے، ص ۱۳) انھوں نے اپنے ایک طویل افسانے ’’دلدل سے باہر‘‘ (جسے وہ ناولٹ کہتے تھے) یہ افسانہ ’’معیار‘‘ میرٹھ کے چار شماروں میں قسطوں میں شائع ہوا۔ سال تھا ۱۹۵۰ء یا ۱۹۵۱ء اس کے بعد ایک افسانہ ’’سرخ آندھی‘‘ لکھا جو الٰہ آباد یونیورسٹی کے میگزین میں ۱۹۵۴ء۔۱۹۵۵ء میں شائع ہوا۔ یہ افسانہ انگریزی ترجمے ’’The Scarlet Tempes‘‘ کے زیرِعنوان زیورِطباعت سے آراستہ ہوا۔ ’’شب خون‘‘ کے جون ۱۹۶۶ء میں اِجرا کے بعد شمس الرحمن فاروقی شہرزاد اور جاوید جمیل کے فرضی ناموں سے افسانہ نگاری اور تنقید لکھتے رہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اُردو افسانے کو نئے رنگوں سے رنگااورنئی بلندیوں تک پہنچایا۔ افسانہ، حقیقت اور خواب (خیال؍تخیل؟) کی یک جائی کی اساس پر انھوں نے جو بھی لکھا۔ اسے قبول عام کا منصب مِلا اور بقائے دوام کی مسند پر رونق افروزی ان کا مقدر قرار پائی۔ انھوں نے اپنے ہر افسانے کے شروع میں کوئی شعر یا انگریزی اقتباس بھی درج کیا ہے۔ اس سے اُس افسانے کی معنویت نئے رنگ و آہنگ سے ظہور کرتی ہے۔ ’’غالب افسانہ‘‘ سے پہلے ایک صفحہ پر مرزا غالب کا ایک فارسی شعر مع حوالہ درج کیا ہے
گفتن سخن ازپایۂ غالب نہ زہوش است
امروز کہ مستم خبرے خواہم ازوداد
(غالب کا یہ شعردوسرے افسانے کی اِبتدا سے پہلے اے ای ہائوس مین (A. E. Hiousman)کا یہ انگریزی اِقتباس درج کیا ہے
He would not stay for me; and can wonder?
He would not stay for me to stand and gaze.
I shook his hand tore my heart asunder
And went with half my life about my ways.
’’ان صحبتوں میں آخر۔۔۔‘‘ میں چونکہ عمدۃ الملک، رائے کشن چند اخلاص اور میر تقی میر کو موضوع بنایا گیا ہے۔ لبیبہ خانم اور نورالسعادۃ کی اس افسانے کے اہم کردار ہیں۔ افسانے میں کلامِ میر کے اقتباسات بھی شامِل کیے گئے ہیں۔ اِس تناظر میں افسانے سے پہلے ایک صفحہ پر میرتقی میر کے دیوانِ اوّل سے یہ شعر نقل کیا ہے افسانے کا نام بھی مصرع اُولیٰ سے لیا گیا ہے
ان صحبتوں میں آخر جانیں ہی جاتیاں ہیں
نَے عشق کو ہے صرفہ نَے حُسن کو محابا
چوتھے افسانہ ’’آفتابِ زمیں‘‘ لکھنؤ کے کلاسیکی اور تابندہ و رخشاں عہد اور مشاہیر کے گرد بُنا گیا ہے۔ اس تناظر میں افسانے سے پہلے غلام ہمدانی مصحفی کا ایک شعر پورے صفحے پر جگمگا رہا ہے۔ فاروقی نے اس افسانے کا عنوان بھی اسی شعر سے اخذ کیا ہے، شعر ملاحظہ ہو
آفتابِ زمیں ہوں میں لیکن
مجھ سے روشن ہے آسمانِ سخن
آخری افسانہ ’’لاہور کا ایک واقعہ‘‘ علامہ اقبال سے ایک خیالی ملاقات پر مبنی ہے۔ افسانے سے پہلے ایک صفحہ پر Yuri Tynyanovکی یہ انگریزی رائے درج ہے
“A writer can never invent anything more beautiful and powerful than the truth.”
یہی نہیں اپنے چوتھے افسانے ’’آفتابِ زمیں‘‘ کے اختتام کے بعد ’’عرضِ مرتب‘‘ کے زیرِعنوان یہ وضاحتی عبارت بھی لکھ دی ہے:’’مندرجہ بالا بیانیہ درباری مل وفا کی یادداشتوں اور اُس کے خاندا نی کاغذات، اور خودمصحفی کے کلام نظم و نثر کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے، لیکن مصحفی کے بارے میں کوئی تحریرنورالحسن نقوی کے کام سے اِستفادہ کیے بغیر معتبر نہیں ہو سکتی، چنانچہ پروفیسر نورالحسن نقوی کی تحریریں بھی پیشِ نظر رہی ہیں۔ یہ بات مصنف و مرتب کے اظہارِتشکر کے طور پر عرض کی جا رہی ہے۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص۳۳۲)، بات اظہارِتشکر کی ضرور ہے تاہم اس سے یہ امور مترشح ہوتے ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی نے افسانوں کے نام پر جو کچھ بھی لکھا ہے وہ متعلقہ افراد اور شعرا کے متون کے بغورمطالعہ کے بعد زیب ِقرطاس کیا ہے۔ یہ کہ ان متنی اور ملفوظاتی حقائق داستانوی پیرائے میں پیش کیے۔ خیال و خواب باہم دِگر مِل کر ایک داستان ہی تو مرتب کرتے ہیں۔ ان تحریروں پر داستان، ناول، ناولٹ کے اثرات بڑے روشن اور واضح ہیں۔ مصنف نے افسانوں کی صورت میں ادبی تاریخ رقم کی ہے جس میں جغرافیہ بھی اپنی چھب دِکھلاتا ہے۔ ’’غالب افسانہ‘‘ کی ابتدائی حصہ ملاحظہ ہو
’’میں نسلاً راجپوت اور مولداً نظام آباد، ضلع اعظم گڑھ کا ہوں۔ اعلیٰ حضرت ُخلد آشیانی کے وقتوں میں بلیا اور اس کے اطراف کے بھومی ہاروں نے کچھ شورش کی تو ان کی سرکوبی کے لیے افواج شاہی علاقہ پٹیالہ، جے پور اور جھنجھنو سے بھیجی گئیں۔ ان میں بہت سے راجپوت، پٹھان اور سیّد بھی تھے۔ شورش تو بہت جلدفرو ہو گئی، لیکن فوج کے سواروں، نفروں اور بعض رسالداروں کو بھی پورب کے یہ علاقے اتنے پسند آئے کہ اکثر ہم یہیں بس رہے۔ سراے رانی، سنجرپور، خراسان(جسے اب خراسوں کہتے ہیں)، سراے میر۔۔۔ یہ مواضعات اُسی زمانے میں آباد ہوئے۔ نظام آباد البتہ قدیم الایام سے موجود تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جیوش اکبری کے ساتھ آنے والوں میں کچھ میرے بھی اجداد تھے جنھوں نے نظام آباد میں سکونت اختیار کی لیکن ہمارے گھرانے کو اصل فروغ تب ملا جب شہنشاہ ہندوستان و دکن، اعلیٰ حضرت محی السنت والدین، فردوس مکانی اورنگ زیب عالم گیر کے مبارک دور دورئہ سلطانی میں اعظم خاں اور عظمت خان دو بھائیوں کو دستک شاہی کے ذریعے ان اطراف کی جاگیر وطنی تفویض ہوئی۔ اعظم خان نے اعظم گڑھ آباد کیا اور عظمت خان نے اعظم گڈھ سے کوئی دس کوس شمال مغرب میں عظمت گڈھ۔۔۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص۳۱)، ’’اِن صحبتوں میں آخر۔۔۔‘‘ سے ان سطور سے بھی افسانہ نگار کا تاریخی شعور کا ظہور ہوتاہے’’سترہویں صدی کے اختتام پذیر ہوتے ہوتے عثمانیوں کی طاقت مشرقی یورپ میں کمزور پڑنے لگی۔ حکومت اگرچہ اب بھی اُن کے ہاتھ میں تھی لیکن اب ان کا وہ دبدبہ نہ رہا تھا۔ شمالی یورپ اور برطانیہ تک پھیلے ہوئے مسلمان ترک خاندان ایک ایک کر کے ممالک محروسۂ دولت ِعثمانیہ کے چتر تلے و اپس آنے لگے تھے۔ وی آنا کے ترکی محاصرے(۱۶۸۳ء، مرتب) کی ناکامی نے اقوامِ یورپ کے دل سے ترکوں کا خوف کچھ کم کر دیا تھا۔ محاصرے کی ناکامی کی یادگار کے طور پر ہلالی شکل کا جو کلچہ اہلِ وی آنا نے ایجاد کیا تھا اور جس کا نام سارے یورپ میں Croissant(ہلال، مرتب) ہی مشہور ہو یا تھا، اہلِ یورپ کو ہر صبح ناشتے پر عثمانیوں کی ہزیمت پذیری کی یاد تازہ کراتا تھا۔۔۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص ۱۱۶۔۱۱۷)، شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کا بیانیہ علمی نوعیت کا ہے۔ یہ بیانیہ مکالمے کا رُوپ دھارتا ہے اور وہاں بھی مصنف اپنے انفرادی جوہر کو منوانے میں کامیاب رہتے ہیں۔ موضوع شعروسخن سے متعلق ہو تو مکالمہ نویسی کا لطف اُن کے ہاں دوبالا ہو جاتا ہے۔ یہاں ایک مکالمہ نقل کیا جاتا ہے جس میں کشن چند اخلاص اعتمادالدولہ بہادر کی جانب سے ایک گائیکہ لبیبہ خانم کو شادی میں شریک ہونے کی دعوت دینے جاتے ہیں۔ ایک ہزار اشرفیاں اور چند جوڑے نذر کیے جاتے ہیں
’’لبیبہ خانم نے نیم قدہو کر سلام کیا‘‘ نصرت جنگ بہادر کو رب العزت مزیدنصرتیں عطا کرے۔ ان کی دریادلی نے میرے سیاہ خانے کو گہرہائے شب چراغ سے بھر دیا ہے۔ میں اُن کی ممنون ہوں۔‘‘
’’توپھر رخت ِسفر بار کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟‘‘ اخلاص کے لب و لہجہ ہی نہیں، سارے بدن سے خوشی ٹوٹی پڑ رہی تھی۔
’’لبیبہ خانم پہلی بار کھل کر مسکرائی ’’اتنی جلدی نہیں۔ مجھے سوچنے کے لیے موقع درکار ہے۔ میں پرسوں اپنا فیصلہ بتائوں گی۔‘‘
رائے کشن چند کا چہرہ اُتر سا گیا۔ وہ اجازت کے لیے اُٹھنے ہی والا تھا کہ اس کا رنگ پژمردہ ہوتے دیکھ کر خانم بزرگ نے کہا:
’’آپ نے کچھ قہوہ عطر وغیرہ ملاحظہ نہ کیا۔ تشریف رکھیں، آپ کی قیام گاہ بہت دُور تو نہیں۔‘‘
’’بندہ پروری ہے بندگانِ حضور کی۔‘‘اخلاص نے کہا’’میں آپ کے حکم کا غلام ہوں۔ جا کہاں سکتا ہوں۔‘‘
اِس بات میں شوق اور آرزو کے کتنے ناشگفتہ غنچے پوشیدہ تھے۔اس کا اندازہ خانم بزرگ کو بھی تھا، لیکن وہ صاف پہلو بچا گئی۔ اس اثنا میں خواص نے قہوے کا نیا فنجان لا کر اخلاص کے سامنے رکھ دیا اور پرانا فنجان، جس کا قہوہ رکھا رکھا ٹھنڈا ہو گیا تھا، سامنے سے ہٹا لے گئی۔ اخلاص بھی فنجان اُٹھا ہی رہا تھا کہ خانم بزرگ نے کہا’’رائے کشن چند، یہ لفظ اخلاص آپ کے نام کا جز ہے، یا آپ کو شعرگوئی سے بھی کچھ لگائو ہے، اور یہ جناب والا کا تخلص ہے؟‘‘
لبیبہ خانم کے منھ سے اپنا نام سن کر کشن چند اخلاص کو عجب فرحت اور لطف کا احساس ہوا، جیسے اُس نے نام نہ لیا ہو، اُس کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ اُس پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ فنجان کو منھ تک نہ لے جا سکا۔‘‘
’’اس ذرہ بے علم کا تخلص اخلاص ہے۔ حضرت مرزا غنی بیگ قبول کشمیری مدت فیوضہم کا شاگرد ہوں۔‘‘
’’جی، شاگردی کے کیا معنی؟علم موسیقی کی تعلیم البتہ استاد سے حاصل کی جاتی ہے۔ شاعر تو تلامیذالرحمن ہوتے ہیں۔‘‘
’’بجا اور درست لیکن گزشتہ چارپانچ دہائیوں سے اُردوئے معلاے سلطانی میں ریختہ کی شاعری کا چلن ہوا ہے۔ اس اسلوب میں شعرگوئی پہلے متداول نہ تھی۔ لہٰذا حدیقۂ شعروسخن کے طیورنو پر کو ضرورت پڑی کہ کوئی مردزیرک و دانا انھیں ریختہ کی شاعری کے آسمان میں اُڑنے کے طور سکھائے۔ یہ بات بہت مقبول ہوئی اور دو ہی چار برس گئے تھے کہ کئی مرتبہ اُستادوں نے اچھے اچھے شاگردبہم کیے۔ ان کی دیکھادیکھی فارسی گویوں نے بھی خیال کیا کہ ہم بھی کیوں نہ کسی استاد کا دامن تھام لیکن جس سے ہمیں فیوض و برکات حاصل ہوں۔‘‘
’’خوب لیکن استاد سے فیض اُٹھاتے کس طرح ہیں؟‘‘
’’بسااوقات استاد کوئی لفظ بدل کر زیادہ بامعنی یا مناسب تر لفظ رکھ دیتا ہے۔ کبھی کبھی پورا مصرع نیا کہہ دیتا ہے۔ محاورے کے سقم اگر کوئی ہوں تو اُنھیں دور کرنے کا مشورہ دیتا ہے، یا خود ہی درست کر دیتا ہے۔ بندش اگر سُست ہو تو اُسے چُست کر دیتا ہے۔‘‘
’’تقصیر معاف ہو، لیکن یہ آخری بات سمجھی نہیں۔ بندش کی سُستی اور چُستی سے کیا مرادہے؟‘‘
رائے کشن چند کچھ سوچ میں پڑ گیا کہ بندش کی ستی کو پہچاننا آسان ہے، بیان کرنا مشکل۔ سنبھل سنبھل کر بولا’’جی، مثال کے طور پر کوئی لفظ مصرعے میں بیکار ہے، یا کم کارگر ہے، یا شعر میں کوئی کُھلا ہوا عیب نہیں، لیکن اس میں کوئی شگفتگی نہیں، نہ ترکیب کی، نہ قافیے کی، نہ محاورے کی۔ یہ سب باتیں بندش کی سُستی کی ضمن میں آتی ہیں۔‘‘
’’اِن باتوں کے لیے کچھ قاعدے بھی ہیں، یا محض اُستاد کی فہمیدگی پر اِنحصار ہے؟‘‘
’’قاعدے ہیں بھی اور نہیں بھی، لیکن سب سے بڑھ کر وہ چیز اہم ہے جسے شاعر کی وہبی حس کہہ سکتے ہیں، پھر مشق و مزاولت کو یہاں بڑی اہمیت ہے۔‘‘
’’اور علمِ شعر؟‘‘
’’جی درست فرمایا گیا۔ یہ بات تو بدیہی ہے کہ اُستاد کو شعر، اور علمِ شعر دونوں میں شاگرد پر تفوق ہوتا ہے۔‘‘
’’خوب، تو کیا آپ مجھے اپنے کلامِ بلاغت التیام سے کچھ حظ اندوزی کا موقع عطا فرمائیں گے؟‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص ۱۴۳،۔۱۴۵)
درج بالا اقتباس بظاہر طویل ضرور ہے تاہم بباطن اُس دور کے بہت سے قرینے اس میں ملاحظہ کیے جا سکتے۔ ان میں پہلا قرینہ تو زبان کی پیش کش ہے۔ دوسری محفل کے ادب آداب، تیسرا قرینہ مہمان نوازی کا ہے، چوتھا مصطلحات شاعری اور پانچواں قرینہ اصلاحِ سخن کی روایت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مکالمہ لبیبہ خانم اور کشن چند اخلاص کے مابین ضرور ہے تاہم یہ حقیقت ِمعلومہ ہے کہ یہ مصنف کے اپنے افکار ہیں جنھیں برنگ ِدیگر زینت ِقرطاس اور جزوِ افسانہ بنایا گیا ہے۔ اس نوع کے دلپذیر مکالمے ہر افسانے میں موجود ہیں جو موضوعی افسانے کو معروضیت کے حصارِ بے دیوار میں لے آتے ہیں اور اسے نئی لطافتوں سے ہم کنار کرتے ہیں۔ حسب ِموقع فارسی اُردو مصرعوں اور شعروں سے مزین ان افسانوں کی رنگینی دیکھنے پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ کرداروں کی حلیہ نگاری میں بھی مصنف ید ِطولیٰ رکھتے ہیں۔ افسانہ ’’سوار‘‘ صیغۂ واحد متکلم اپنا اور فریق ثانی کا حلیہ یون بیان کرتا ہے
’’میرا قد کوئی نووجب(تقریباً چھ فٹ، مرتب) ہے، اور اس لحاظ سے میں اپنے ہم چشموں میں خاصا ممتاز تھا لیکن یہ جوان مجھ سے بھی ایک دو انگل نکلتا ہوا تھا۔ کوئی بائیس چوبیس کی عمر، کھلتا ہوا گورارنگ، ترکی یا مغل وضع کی خوب صورت ترشی ہوئی نوک دار ڈاڑھی، بلندپیشانی، نیلگونی مائل سبز آنکھیں، پکھراج کی طرح جگمگاتی ہوئی۔۔۔سر پرریشمی زرد ہرا چیرئہ بلدار۔ لمبی بلند گردن میں زبرجد کی مالا، کانوں میں گوہریں مرکیاں۔ بدن پر بہت ہلکے جامہ دار کی ہلکے سبزرنگ کی نیمہ آستین،یاخفقان، جس کا سینہ آج کی جدید وضع کے موافق بائیں طرف کھلا ہوا۔ اس کے نیچے باریک کپڑے کا انگرکھا، اتنا باریک کہ اس کے نیچے کرتہ نہ ہونے کی وجہ سے چھاتی کے شیرانہ پٹھے صاف جھلکتے تھے۔ انگرکھے کی آستین خوب تنگ اور چُنی ہوئی۔ کسے ہوئے ڈنڈ، چوڑی کلائیاں۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے؛ ص ۸۴) ،اسی افسانے میں میرزاصاحب (میرزامظہر) کے حلیہ کا جزئیاتی رنگ ِتحریر ملاحظہ ہو۔۔۔’’بہت گورا رنگ، دبلاڈیل، کشیدہ قامت، سفیدڈاڑھی کچھ نوک دار۔ نفسات سے ترشی ہوئی۔ لبیں کتری ہوئی لیکن بہت ہلکی نہیں۔ بہت لطیف، سبز، ڈھاکے کی ململ کے انگرکھے کے نیچے سفید براق شبنم کا کُرتا، اتنا سفید کہ ململ کی سبزی معلوم ہی نہ ہوتی تھی۔ انگرکھے پر کوئی عبایاچُغہ نہ تھا لیکن پاس ہی نہایت سلیقے سے تہہ کی ہوئی کاغذی جامہ دار کی عبا، خفیف سبز و زرد دھاریوں والا مشروع کا ڈھیلا پاجامہ۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں؛ جن میں شب بیداری کی کچھ کچھ سرخی۔ سرپر چوگوشیہ کڑھی ہوئی ٹوپی جس کے نیچے سے سفید بالوں کی ایک لٹ کان کے پاس کاکل کی صورت ایک منظم اندازِبے پروائی سے جھانک رہی تھی۔ میں نے اس قدر خوبصورت اور اس قدر پُررُعب شخص کبھی نہ دیکھا تھا۔۔۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے،ص۸۸)۔’’ان صحبتوں میں آخر۔۔۔‘‘میں کشن چند اخلاص اور میرتقی میر کی پیکرتراشی بھی خوب کی ہے۔ میرؔ کا حلیہ ملاحظہ ہو جب وہ بائیس تئیس سال کے نوجوان تھے’’کشیدہ قامت، دُبلا بدن، لیکن چوڑی کلائیاں، خمارآلود تیز آنکھیں جو کچھ خاص بڑی تو نہ تھیں، لیکن اُن میں غضب کی زندگی اور چمک تھی۔ ہلکی ڈاڑھی، ٹھوڑی پر اور بھی ہلکی، لیکن گھنی، چڑھی ہوئی مونچھوں کے باعث چہرہ بھرا بھرا لگتا تھا۔ ٹوپی یا چیرہ وغیرہ سے بے نیاز سر کے بال گھنے اور ٹپے دار، بیچ میں مانگ کی روشن لکیر۔ ورنہ سارے بال سر کی پشت پر اس طرح پڑے ہوئے تھے گویا انھیں کھینچ کھینچ کر سیدھا کیا گیا ہو۔ گلے میں ہلکی بانات کا انگرکھا، اس کے نیچے اُونی کرتا۔ بدن پر موٹے مشروع کا جامہ،پائوں میں گھیتلی جوتی۔ کمر میں تیلیارنگ کا دوپٹہ، جس سے کٹار آویزاں تھی۔ اس وقت اس کا چہرہ غالباً بے خوابی اور تھکن سے ستا ہوا سا تھا۔۔‘‘(سوار اور دوسرے افسانے، ص ۱۵۹)، یہ اور اس نوع کی کئی نادرودلآویز امثال و نظائر سے یہ افسانے آراستہ ہیں۔ بہت سے چہرے جو وقت کے دُھندلکوں میں کہیں کھو چکے ہیں۔۔۔ گم ہو گئے ہیں ان افسانوں میں انھیں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ وہ چہرے ہیں اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جو اپنے عہد میں بہت جانے پہچانے اور معروف تھے مگر اَب وہ گم نام ہیں۔ ان شعرواُمرا کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ان افسانوں میں وہ چہرے بھی موجود ہیں جو صدیاں گزرنے کے باوصف روشن اور تابناک ہیں۔ ان کے اقوال اور ان کے اشعار آج بھی شائقین علم و ادب کے دلوں پر نقش اور فروزاں ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے جس ہنرمندی سے اُن کے عکس کاغذ( کے کینوس) اُتارے ہیں۔ اس کی تحسین نہ کرنا بخیلی ہو گی۔ وہ بلاشبہ جداگانہ طرزِنگارش کے حامِل افسانہ نگار ہیں۔ یہ افسانے ان کی عہد ِرفتہ وگزشتہ سے ارفع و اعلیٰ نوع کی واقفیت کے مظہر ہیں۔ انھوں نے تاریخ سے مدد ضرور لی ہے مگر یہ حقیقت نفس الامری ہے کہ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ محض تاریخ نویسی کا عمل نہیں ہے۔ شمس الرحمن فاروقی افسانہ نگار اور ناول نویس پہلے ہیں۔ تاریخ کے تربیت یافتہ قاری بعد میں ہیں۔ ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ تاریخی حقائق و شواہد سے ان کی آگاہی نے ان کے افسانوں کو نئے ذائقوں کے ساتھ سامنے لانے میں معاونت کی ہے۔