پروفیسرشمس الرحمٰن فاروقی اردو ادب کا
آفتاب لازوال
ڈاکٹر نیلوفر حفیظ
اسسٹنٹ پروفیسر(فارسی) شعبہ عربی وفارسی، الٰہ آباد یونیورسٹی
دنیا کی ادبی تاریخ میںہزارہا ایسے افراد نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے کسی نہ کسی شعبہ میں شہرت ،عظمت اورناموری حاصل کی اور اپنی غیر معمولی قابلیت وذہانت کی بنا پر ناقابل فراموش علمی کارنامے انجام دے کر حیات جاویدانی حاصل کر لی ،بظاہر تو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کے آفاقی کارناموں کے سبب ان کا نام ہمیشہ زندہ وتابندہ رہا، ایسی ہی عظیم اور قد آور شخصیات میں سے ایک نام مرحوم شمس الرحمٰن فاروقی کابھی ہے ان کی شخصیت عالی وبزرگ، اردو زبان ادب کی کہکشاں کا وہ تابندہ ودرخشندہ آفتاب ہے جس کی آب وتاب نے عرصہ دراز سے اردو زبان وادب سے تعلق رکھنے والے ہر ادنیٰ واعلیٰ دانشور کے ذہن وقلب کوجلا بخشنے میں نمایاں کرداراداکیاہے وہ کثیرالجہات شخصیت کے مالک تھے ان کے بیشتر علمی کارناموں کی روشنی میں یہ کہا جا سکتاہے کہ انھوں نے اپنے عالمگیر شہرت کے حامل علمی وادبی کارناموں کے سبب جریدئہ عالم پر اپنا نقش دوام ثبت کر دیاہے بقول حافظ
ہرگز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدئہ عالم دوام ما
وہ انسان ہر گز بھی نہیں مرتاہے جس کا دل عشق کے سبب زندہ ہو گیا ہو اس جریدئہ عالم پر ہمارا دائمی نقش توثبت ہو چکاہے ۔
شمس الرحمٰن فاروقی ہمارے ملک اورقوم کے ان عظیم دانشوروں میں سر فہرست ہیں جن کی ذات گرامی میں کاتب ازل نے گوناگوں صفات وکمالات کو ودیعت کر دیا تھا وہ بیک وقت نقاد اعظم، شاعر بزرگ، مترجم عالی، مدیر بے مثل،ماہر عروض، خطیب یگانہ ،دانشورعالی اوراس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھے مگر افسوس کہ جس آفتاب کی درخشندگی وتابندگی بڑے بڑے دانشوروں کی نگاہوں کو خیرہ کیے رہتی تھی موت کے ظالم پنجوں نے اسے ہم سے جدا کور دیا اورآج اس شخصیت باوقار کی تحریروں اور تقریروں سے ہم جیسے کم علم ہمیشہ کے لیے محروم ہو گئے ہیں ، عصر حاضر کی ہمہ ترقیات اور متحیر ومتعجب کر دینے والے انکشافات واختراعات کے باوجودبھی ،موت کے سامنے ہم انسان آج بھی اتنے ہی مجبور، بے بس اورلاچار ہیں جتنا کہ اب سے صدیوں پہلے تھے موت کے ظالم پنجوں سے کوئی جاندار اپنا دامن نہیںبچا سکاہے لیکن بڑے محترم ،خوش قسمت اور لائق تعظیم ہیں وہ لوگ جنھوں نے بغیر کسی شخصی طمع اور ذاتی مفاد کے اپنی عمرعزیز کو علم وادب کی خدمات کے لیے وقف کردیا اور تمام عمر ان کو یہ ہی فکر دامن گیر رہی کہ کس طرح اپنے ادبی وعلمی سرمایہ کو افزوں کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کواپنی زبان اور ادب کے حوالے سے کسی کے سامنے پشیمان یا شرمندہ نہ ہونا پڑے یہ ہی وہ ذی وقاراورعالی شخصیات ہیں جو اس مادی وجود کو چھوڑ دینے کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اورگذرتا ہوا وقت ان کی عظمت اوراہمیت کومسلسل افزوں کرتا چلا جاتاہے یہ عظیم شخصیات نہ صرف یہ کہ اپنے معاصرین کے لیے درست شاہراہیں استواراورہموار کرتی ہیں بلکہ برائے آئندگان بھی قیمتی سرمایہ فکر چھوڑ جاتی ہیں، اپنی زبان وادب سے حقیقی محبت کرنے والوں کو اپنی منازل حاصل کرنے کے لیے کبھی کسی سہارے یامدد کے لیے منتظر نہیں ہونا پڑتابلکہ وہ اپنی جہد مسلسل اور فکر پیہم سے اپنی راہیں خود متعین کرتے ہوئے بڑی خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں
جس میں خود آپ چمکنے کی قدرت ہو
وہ ذرہ منتظر فیض آفتاب نہیں
شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی ولادت با سعادت ۳۰ ستمبر ۱۹۳۵ میں بمقام کالا کانکر ہائوس پرتاپ گڑھ میں ہوئی تھی، ایام طفلی سے ہی غیر معمولی ذہین اور حساس فکرکے مالک تھے۔ ان کی تعلیم کی باقاعدہ شروعات اعظم گڑھ کے ایک اسکول سے ہوئی اس کے بعدانھوں نے گورنمنٹ جبلی ہائی اسکول گورکھپور سے، ہائی اسکول ،میاں جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھپورسے انٹر میڈیٹ ، مہارانہ پرتاپ کالج گورکھ پور سے گریجویشن کی پڑھائی مکمل کی اوراس کے بعد دنیا بھر میں آکسفورڈ آف دی ایسٹ کے نام سے مشہور یعنی دانش گاہ الہٰ آباد میں داخلہ لیا، اس یونورسٹی سے انھوں نے انگریزی زبان میں ایم اے کی ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی ، عمر کے ابتدائی زمانے سے ہی بہت ذہین ، دوربین اورحساس قسم کے انسان تھے لہٰذا اپنی غیر معمولی ذہانت کی بنا پرانھوں نے بہت جلد اردو، ہندی، فارسی، انگریزی ، عربی اور فرانسیسی زبانوں پر دسترس حاصل کر لی تھی ایم۔اے کی تعلیم مکمل ہو جانے کے بعد مقابلے کے امتحانات کی تیاری بھی شروع کر دی اسی زمانے میں انھیں ستیش چند ڈگری کالج بلیا اورشبلی کالج اعظم گڑھ میں بحیثیت لکچرر کے پڑھانے کے مواقع بھی حاصل ہوئے، دوران درس و تدریس بھی وہ مقابلے کے امتحانات کی تیاری سے غافل نہیں ہوئے اور مسلسل محنت وکوشش کرتے رہے یہ ان کی بے پناہ ذہانت اور محنت ہی کا ثمرہ تھا۱۹۵۸ میں انڈین پوسٹل سروس کے لیے ان کا انتخاب کرلیا گیا جہاں انھوں نے ایک طویل مدت تک اپنے منصبی فرائض کو باحسن وخوبی انجام دیا اور ۱۹۹۴ میں حکومت ہند کے پوسٹل سروسز بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہوئے، ملازمت کے دوران انھیں ملک کے الگ الگ شہروں میں پوسٹنگ ملی جس کی وجہ سے ان کو اپنے وطن عزیز کے گوناگوں علاقوں اور طرح طرح کے لوگوں کو قریب سے دیکھنے کے مواقع ملے، اس کے علاوہ انھوں نے بیرونی ممالک کے متعدد سفربھی اختیار کیے اور زندگی کے بہت سے تجربات اور مشاہدات حاصل کیے ۱۹۶۶ میں انھوں نے ایک ادبی مجلے’’شب خون‘‘ کی بنیاد رکھی جو بیدون کسی شک وتردد کے، ادبی صحافت کی دنیا میں ان کا ایک ایسا آفاقی کارنامہ کہاجا سکتا ہے جس کی مثال شاذ ونادر ہی کہیں اور نظر آتی ہے، اس رسالے نے اردو زبان سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ قلم کاروں کی دو نسلوں کی ذہنی تربیت کی اور ان کی فکر وفہم کو ایک نئی سمت عطا کی، مختلف شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ اردو ادب کی ترویج وپیشرفت میںاس مجلہ کا بڑا اہم اور اساسی کردار رہاہے، یہ رسالہ ۳۹ برس تک اپنے پورے طمطراق اور باقاعدگی کے ساتھ نکلتا رہا جون ۲۰۰۵ میں اس کا آخری شمارہ دو جلدوں میں شائع ہوا جو ہر اعتبار سے بہترین اورلاجواب تھا ۔
پروفیسرشمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی متنوع ، عبقری اور ہمہ گیر شخصیت کے علمی وادبی کارناموں کے متعلق کچھ بھی تحریر کرنا مجھ جیسی کوتاہ علم کے احاطہ گمان سے باہر ہے ، اس عظیم علمی شخصیت کی شان میں، میں صرف اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ اردو زبان وادب کے ایسے، پرستار، دلدادہ اور شیدائی اب شایدبہت مشکل ہی سے اردو کی دنیا میں پید اہوں سکیں گے جنھوں نے بغیر کسی صلے وستائش کی پرواہ کیے اپنی عمر عزیز کا ایک بڑا حصہ اس ادب کی بے لوث اوربے غرض خدمت کرنے میں گزار دیا انھوں نے اردو زبان وادب کے چمن کی آبیاری کے لیے جو بھی مساعی جمیلہ اختیار کیں ان کو دل محسوس تو کر سکتا ہے لیکن زبان، بیان کرنے سے قاصر وعاجز ہے ، اس نابغہ روزگار اور یگانہ عصر ادبی شخصیت نے جو کچھ بھی تحریر کیاہے اس سے ہزاروں اذہان کو جلا حاصل ہوئی ہے ، اوران کے ان ادبی وعلمی کارناموںسے ہزارہا تشنگان علم نے سیرابی حاصل کی ہے
میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیا
بلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں
تاحال آقائے فاروقی کے انتقادی مضامین کے متعدد مجموعے شائع ہو کر منظر عام پرآچکے ہیں جن میں نئے نام ، لفظ ومعنی، فاروقی کے تبصرے، شعر غیر شعر اور نثر، عروض، آہنگ اور بیان، تنقیدی افکار، اثبات ونفی وغیر ہ شامل ہیں ، اس کے علاوہ مرزا غالب پر چار تحریریں، اردو غزل کے اہم موڑ ، خورشید کا سامان سفر، ہمارے لیے منٹو صاحب، اردو کا ابتدائی زمانہ اور تعبیر کی شرح وغیرہ کے نام خصوصی اہمیت کے حامل ہیں، جنھوں نے ادبی حلقوں میں خوب شہرت اور ناموری حاصل کی۔ یہ یگانہ عصر شخصیت اردوادب کی ان مایہ ناز اور عظیم محققین میں سے ایک ہیں جن کی بیشتر تحریروں کو ان کی حیات میں ہی ، دانشوران ادب کی جانب سے مستند ومعیاری قرار دیا جاتارہاہے آپ نے اپنی غیر معمولی فہم وفراست کی مدد سے تحقیق کے بڑے بڑے عقدوں کی گرہ کشائی کی ہے اور نئی نئی معلومات بہم پہنچائیں ہیں، یہ ہی سبب ہے کہ دنیائے ادب میں آپ ایک محقق اور مفکر کی حیثیت سے عالمی شہرت ومقبولیت کے حامل ہیں ،تحقیق کے وسیع وعریض سمندر میں شناوری کرنے کے بعد آپ نے جو در نایاب حاصل کیے ہیں وہ عصر حاضر کے کسی دوسرے ادیب یا محقق کے دامن میں شاذ ونادر ہی نظر آتے ہیں، تحقیقی وتنقیدی خدمات کے اعتراف کے لیے ان کو بے شمار اعزازات وانعامات سے بھی نوازا گیاتھاان کابیشتر تحقیقی سرمایہ مقدار اور معیار دونوں ہی اعتبار سے خاصا وقیع اورپرارزش ہے ان کے بیشتر تحقیقی مضا مین میں بڑاتنوع ، ہمہ گیری اور رنگا رنگی پائی جاتی ہے آپ نے تحقیق کے موضوع پرجوکچھ بھی لکھا ہے وہ ان کی سچی کاوشوں وکوششوں اور مخلصانہ غور وفکر کا مظہر ہے یہ ان کے بے پناہ افادی تحقیقی کارناموں کی بے پناہ وقعت وقیمت ہی تھی جس کے سبب اردو تحقیق کا معیاربلندسے بلند تر ہوامرحوم نے تحقیق وتنقید کے میدان میں جو کارہائے گراں قدر انجام دیئے ہیں وہ اکثرمواقع پر حرف آخر ثابت ہوئے ہیں اور اس کامیابی اور عالمگیر شہرت کی سب سے بڑی وجہ ان کی بے پناہ غوروفکر کی صلاحیت اوربر موقع اسناد واستدلال کا بروئے کالانا تھا جس کے سبب بڑے بڑے دانشوروں کو بھی اس کی استعداد نہیں تھی کہ وہ اس محترم شخصیت کی تحریروں پر ایراد واعتراض کر سکیں یا ان میں کچھ ترمیم وتحریف کے متعلق ہی کچھ سوچ سکیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ فاروقی صاحب جو کچھ بھی تحریر کرتے تھے وہ ان کی فکر پیہم، جہد مسلسل اورکاوش زیادکا نتیجہ تھاجس پر کسی قسم کا اعتراض کرنا ہرکس وناکس کے اختیارسے باہر تھا آپ کی تحریروں کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر رحیل صدیقی صاحب لکھتے ہیں
’’ فاروقی صاحب اپنے خیالات کے سلسلے میں جن نتائج تک پہنچے ہیں وہ سرسری غور وفکر کانتیجہ نہیں ہیں بلکہ انھوں نے کسی بھی مسلے پر بہت گہرائی اور گیرائی کے ساتھ سوچاہے اور اس سے متعلق تمام امور کو پیش نظر رکھاہے اس لیے ان کے نتائج عموماً ایسے نہیں ہوتے کہ ان میں وقتاًفوقتاً تبدیلی یا ترمیم کی ضرورت پڑے‘‘ ؎۱
شمس الرحمٰن نے تحقیق کے بعدجس میدان میں گرانقدر کارنامے انجام دیے وہ ادبی تنقیدہے اس میدان میں بھی انھوں نے لازوال اور عالمگیری شہرت کے حامل علمی وادبی کارنامے قلم وقرطاس کے سپرد کیے ہیں اوریہاں بھی انھوں نے اپنا انفرادی اور جداگانہ رنگ وآہنگ کواس طمطراق کے ساتھ برقراررکھاہے جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے، ان کے انتقادی آثار اردو زبان وادب سے تعلق رکھنے والے ہر شخص کی توجہ کا مرکزومنبع رہے ہیں اور نہ صرف ہندوستان بلکہ ہر وہ ملک جہاں اردو زبان ، سمجھی ، بولی اورپڑھی جاتی ہے وہاں کے تمام علمی وادبی مراکز نے آپ کی علمی بصیرت کو سراہاہے اورہمیشہ پر زور اندازمیں اس حقیقت کا اعتراف کیاہے کہ ان عظیم وعالی شخصیت اردو ادبی انتقاد کی دنیا میں باعث فخروافتخارہے یہ انھیں کی انتھک محنتوں کا نتیجہ تھاجس نے اردو تنقید کو بام عروج پر پہنچانے میں نمایاں کردار اداکیااور ساتھ ہی ساتھ گذرتے وقت اور حالات کے ساتھ اس میں بڑی ندرتیں اور جدتیں بھی پیدا کیںجو عصر حاضر کے شائد کسی اور اردو دانشورکے یہاں نظر نہیں آتی ہیں اس سلسلے میں آقائے احمد محفوظ کہتے ہیں
’’انھوں نے اردو تنقید کو اس کااصل منصب عطا کیا انھوں نے ہمیں اس حقیقت سے روشناس کیاکہ تنقید کا منصب سب سے پہلے فن یا غیر فن کی پہچان سے آگاہ کرنا ہے ‘‘ ؎۲
تنقید کے میدان میں پروفیسر فاروقی کا سب سے اہم ، بڑا اور لافانی کارنامہ ’’شعر شور انگیز‘‘ہے جس نے منظر عام پر آنے کے بعد ادبی حلقوں میں ایک مثبت ہلچل اور خوشگوار تبدیلی پیداکی یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اہمیت وافادئیت کے اعتراف کے لیے ان کو ۱۹۹۶ میں سرسوتی سمان ادبی ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا،اس کے علاوہ انھوں نے ارسطو کی شہرئہ آفاق تصنیف ’’بوطیقا‘‘کاازسرنومطالعہ کیا اوراس کاترجمہ بھی تحریر کیا اوراس میں کچھ ایسے نکات وجہات کی طرف اشارہ بھی کیا جس کو دیکھ کر بڑے بڑے اردو داں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکے ان کی جولانگاہ فکرونظر صرف تنقید وتحقیق کے میدانوں تک ہی محدود یا محصورنہیں تھی بلکہ ایک شاعر عالی کی حیثیت سے بھی انھوں نے اردوادب میںگران قدر اور ناقابل فراموش کارنامے انجام دئیے ہیں ان کے مشہور ومعروف شعری مجموعوں میں گنج سوختہ، سبز اندر سبز، چار سمت کا دریااور آسمان محراب وغیرہ کوادب کی دنیامیں خصوصی شہرت اور مقبولیت حاص ہوئی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری کا بیشتر حصہ کلیات کی شکل میں بنام ’’مجلس آفاق میں پروانہ ساں ‘‘ سے شائع ہوکر منظر عام پر بھی آچکا ہے ۔ یہ دانشور بزرگ ایک شاعر کی حیثیت سے بھی بلند وعالی مقام پر نظر آتے ہیںان کے کلام میں قدیم اورجدید شعری روایات کا ایک حسین امتزاج اور متوازن مزاج کو دیکھنے کوملتاہے ان کی شاعری میں معانی ومفہوم کی ایک وسیع دنیا آباد رہتی ہے اور ان کی شاعری کی تہہ داری ہے جو ان کو معاصرین شعراء کے جم غفیر میںایک بلند وانفرادی مقام عطا کرتی ہے انھیں لغت نویسی سے بھی دلچسپی تھی اور اس طرف بھی اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھی ان کی لغات روز مرہ کے کئی ایڈیشن شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں جن کو عوام وخواص میں خصوصی قدروقیمت حاصل ہوئی ہے۔
داستان اور افسانہ ان کی توجہ اور شیفتگی کا خصوصی میدان تھا اس دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انھوں نے داستان امیر حمزہ کی تقریباً پچاس جلدیں حرف بہ حرف پڑھی تھیںاور اس کے بعد ان کی کئی کتابیں یک بعد دیگرے شائع ہوکر منظر عام پر آئیں مثلاًساحری، شاہی، صاحب قرانی، داستان امیر حمزہ کا مطالعہ اس کے علاوہ انھوں نے فرضی ناموں سے بھی اپنے کئی مشہو افسانے تحریرکر کے شائع کرائے۔ اس مفکر اعظم کو اپنے اسلاف کے کارناموں سے بھی بے انتہا لگائو بلکہ عشق تھاا وراپنے ملک وقوم کی تاریخ سے بھی خصوصی دل بستگی تھی، مغلیہ حکومت کے پس منظر میں انھوں نے ناول لکھا جس کا عنوان تھا’’کئی چاند تھے سر آسمان‘‘ یہ ۲۰۰۶ میں پہلی بارپاکستان سے شائع ہوا اور اس کے بعد ہندوستان میں بھی اس کی طباعت ہوئی، اپنے موضوع اور طرز بیان کے سبب ان کی اس کاوش کو ایسی غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل ہوئی کہ جس کو دیکھ کر بڑے بڑے اہل علم کو بھی متحیر ومتعجب ہو جاناپڑا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ایک ایسا شخص جو پیشے کے اعتبار سے عرصہ دراز تک اعلیٰ سرکاری منصب پر فائض رہا اوراردو زبان کو کبھی بھی پیشہ کے طور پر اختیار نہیں کیاہو،کیونکر ایسے لازوال اور آفاقی کارنامے اس زبان میں انجام دے سکتاہے جو کہ برسہا برس اس زبان میں درس وتدریس کرنے کے باوجود بھی لوگ انجام نہیں دے پاتے ہیںکو ان کواردو زبان وادب سے قلبی محبت بلکہ عشق تھا حالانکہ وہ پیشہ سے ایک اعلی سرکاری منصب پر فائض تھے انھوں نے اس زبان کو کبھی بھی پیشہ کے طورپر اختیار نہیں کیالیکن پھر بھی اس شیرین ولطیف زبان کے لیے وہ کر گئے جو بڑے بڑے دانشوروں کے لیے بھی بہت آسان نہیں ہوتا فاروقی صاحب کی یکسوئی اور خاموشی سے، بیگانہ سود وزیاں ہو کر ہمہ وقت علمی کاموں کی انجام دہی کی عادت تھی جس نے ان کو محبوب خلائق بنا دیاتھاگوناگوں شاہد کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی شخصیت اور گفتگو میں ایسی سحر انگیزی تھی کہ اکثر لوگ ان کی باتوں کی گہرائی اور گیرائی میں کھو کر دنیا وما فیہاسے بیگانے ہو جاتے تھے، اردو زبان وادب کی مشہور ومعروف مفکر پروفیسر غضنفر اپنے ذاتی تجربات ومشاہدات کی بنا پر اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں
’’اس کے پاس کوئی ایسی شے ہے جو روح کو تازگی،ذہن کو بالیدگی اورحواس کو آسودگی بخشتی ہے یقیناً اس شخص کے پاس بھی ایسا کچھ ضرورہے جو اس کی نازک مزاجی اور افسر شاہی طبیعت کے باوجود لوگ اس کے پاس جانااور اس کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ہیں،دراصل اس کے پاس وہ شے ہے جو تشنگان علم کی پیاس بجھاتی ہے، مضطرب ذہنوںکو مطمئن کرتی ہے لا ینحل سوالوں کا جواب فراہم کرتی ہے ،پیچیدہ مسلوں کا حل پیش کرتی ہے ، ترسیل وابلاغ کی الجھنوں کو سلجھاتی ہے، ابہام سے پردے اٹھاتی ہے ، افہام وتفہیم کے نئے دریچے وا کرتی ہے ،بیان وبدیع کی باریکیا بتاتی ہے ، صوت کی صورت گری کرتی ہے،آہنگ کو شکل دیتی ہے‘‘ ؎۳
ان کی بے پناہ علمی اور ادبی خدمات کے پیش نظر انھیں۲۰۰۹ میں انڈین حکومت نے پدم شری اعزاز سے بھی سرفراز کیا گیا جبکہ ۲۰۱۰ میں حکومت پاکستان نے ان کو صدارتی ازازبرائے حسن کارکردگی عطا کیا ،ان کو علیگڑھ مسلم یونیورسٹی نے ان کے علمی وادبی کارناموں کے عوض ’’ڈی لٹ‘‘ کی اعزازی دگری بھی تفویض کی گئی تھی،ا انھیںا پنی ایک کتاب بنام ’’تنقیدی افکار‘‘پر ساہتیہ اکیڈمی کا ایوارڈ بھی نوازا گیا تھا، ان کی تحقیقی، انتقادی، شعری اورادبی صلاحیتوں کا لوہا بڑے بڑے دانشوران ادب نے ماناہے اور ان کی عظمت وسربلندی کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔اس شمس کی درخشندگی اور تابندگی کے اعتراف واعزاز کے سلسلے میں بھی کئی رسالوں کے فاروقی نمبر شائع ہوکر منظرعام پر آچکے ہیں مثلاًاردو چینل ممبئی، چہار سو راولپنڈی پاکستان، کاروان ادب بھوپال، روشنائی کراچی،اردو ادب نئی دہلی وغیرہ جیسے اور بھی بہت سے مجلے اور میگزین ہیں جنھوں نے ان کی علمی وادبی خدمات کی قدر شناسی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے۔
پروفیسر فاروقی صاحب کی تمام نگارشات میں ان کاطرز تحریر بہت صاف ، سہل اور سادہ ہے موشگافی اور پیچیدگی سے دانستہ اغماض برتا گیا ہے آپ کا فطری سلیس اور سہل طرز تحریر آپ کی شخصیت کی صداقت وحقیقت اوردیانت و خلوص کی عکاسی کرتاہے اس وصف میں آپ سب میں شامل ہو کر بھی سب سے منفرد صاحب نظرآتے ہیں آپ نے تخیلات اورفکری نظریات کے اظہار کے لیے روز مرہ کی اردو زبان کو وسیلہ بنایا انھوں نے روائتی محققین ، منتقدین یا شعراء کی طرح اپنی قابلیت کا رعب قائم کرنے یا محض ادبی حلقوں کو متاثر کرنے کے لیے مشکل ،پیچیدہ اور غیرمانوس اصطلاحات استعمال کرتے ہیںجس کے سبب ایک عام فہم قاری کی رسائی مفہوم کی جانب نہیں ہو پاتی لیکن فاروقی صاحب کے ساتھ ایسا ہر گز بھی نہیں ہے ان کی ہر بات از دل خیزد بر دل ریزدکی مصداق ہوتی ہے وہ سیدھے اور عام فہم زبان میں بڑے سے بڑے ،مفاہیم و مطالب کو بیان کر دیتے ہیں کسی قسم کا الجھائو، ایہام یا پیچیدگی ان کے یہاں نہیں ہے ان کا طرز بیان استدالالی، مدلل اورجامع رہا جب بھی انھوں نے کوئی بات کہی اس کو دلائل دے کر مضبوط اور محکم بنادیا وہ اپنی ہر بات بڑی وضاحت ، قطعیت اور حتمی طورپر کہنے کے عادی تھے جس کے سبب اکثر وبیشتر ان کی منظوم ومنثور تحریروںکو رد کرپانامشکل بلکہ ناممکن ہو جاتاہے ان کے قلب حساس اورذہن دوراندیش نے جس بات کوجس اندازمیں محسوس کیا اس کو بیدون کم وکاست کے اسی طرح صفحات پر رقم کر دیاہے جس کے سبب آپ کے یہاں بڑی واقعیت اور حقیقت نظر آتی ہے لیکن ان کی یہ صفت بعض اوقات کچھ با ذوق حضرات کے کام ودہن کوگراں بھی گزرتی ہے لیکن یہاں اس حقیقت کااعتراف کرنے میں کوئی مضایقہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ہمارے عہد کے گنے چنے ایسے دانشوروں میں سے ایک تھے جس نے منافقت یا گروہ بندی کو اپنا وطیرہ بنانے سے حتی الامکان پرہیز کیا ہے ڈاکٹر رحیل صدیقی نے ان کے لیے کہا ہے
’’فاروقی صاحب نے اپنی تحریر اور تقریر میں ہمیشہ ان خیالات کا اظہار کیا جو یا تو بالکل نئے تھے یا ان خیالات سے پہلے سے موجود عقائد اور تصورات پر ضرب پڑتی تھی انھوں نے اکثر ایسے بے بنیاد تصورات کی نشاندہی کی جن کی ایک زمانے تک تاریخ ادب میں شہرت رہی لیکن جب اصل صرت حال سامنے آئی تو لوگوں نے فاروقی صاحب کے خیال کی نہ صرف اہمیت سمجھی بلکہ ان کے علمی مرتبے کا بھرپور اعتراف کیا‘‘ ؎۴
؎ انھوں نے جس میدان میں بھی قدم رکھا اس کو بام عروج تک پہنچانے میں کسی قسم کاکوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اوریہ ہی سبب ہے کہ ان کے قلم سے نکلی ہوئی ہر تحریر خواہ وہ کسی بھی موضوع کا احاطہ کیے ہوئے کیوں نہ ہو اس کا حق ادا کر نے کی پوری کوشش کی ہے حیات وکائنات کے مطالعے اور فکرو شعور کی تربیت نے انھیں ایک ایسے انفرادی اور جداگانہ انداز نظر کامالک بنا دیا تھا جس کے بغیر کھرے کھوٹے کی پرکھ ممکن نہیں ہے اس سلسلے میں پروفیسر غضنفر صاحب بالکل درست فرماتے ہیں
’’زبان کا وہ ایسا پکا کہ اس نے جس کے ساتھ بھی پیمان باندھا، پوراکیا،زبان سے، بیان سے ،بدیع سے،معانی سے، عروض سے، داستان سے،ناول سے، افسانے سے،غزل سے، نظم سے، رباعی سے،تنقید سے، تحقیق سے، تقریظ سے، تشریح سے،تجزیے سے،تبصرے سے، تدوین سے تاریخ سے تہذیب سے فرہنگ سے،میر سے غالب سے،اقبال سے،داغ سے ، فیض سے، فراق سے، خلیل سے، شہریارسے یا جس سے بھی وعدہ کیا ،نبھایا‘‘ ؎۵
یہ ان کے فکروفن کی کرشمہ سازی ہے جو گہرے سمندر سے گوہر نایاب ڈھونڈنکالتی ہے ان کی علمی سرگرمیاں ہم جیسے کم فہم لوگوںکے لیے مینارئہ نورکی اہمیت رکھتی ہیںجس سے ہمیں ہمیشہ روشنی اور تحقیقی کا م کو آگے بڑھاتے رہنے کا جذبہ ملتا رہے گااس عظیم اورنابغہ روزگار کا کا اس طرح ہم سب سے رخصت ہو جاناہماری زبان وادب کا ایک بڑا خسارہ ہے ان کی ہمہ علمی خدمات اردو ادب کا وہ گرانقدر اور بیش قیمت سرمایہ ہیں جس پر کتنا ہی ناز وافتخار کیا جائے وہ کم ہے بارگاہ الٰہی میں دست بدعا ہوں کہ پروردگار عالم پروفیسر شمس مرحوم کی روح کو ہمیشہ شاد رکھے اور ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرجمیل عطاکرے ان کے سانحہ ارتحال پرمیں ان کے عزیز واقارب کو تعزیت پیش کرتے ہوئے، خواہاں ہوکہ اس جبل علم کے نام سے ملک کے الگ الگ حصوں میںتحقیقی ادارے قائم کیے جائیں ،ان کے نام سے دانش گاہوں میں خطبات کاسلسلہ شروع کیا جائے اور سنجیدہ ریسرچ اسکالرز کوایسے عنوانات تفویض کیے جائیں جن میں مرحوم کی علمی خدمات کا درست تعین ہو اور ان کی قدروقیمت مذید اجاگر ہوکر منظر عام پر آسکے اورمیں سمجھتی ہوں کہ یہ ہی ان کے لیے سب سے دیرپا اور بہتر ین خراج عقیدت ہوگاانھوں نے اردو ادب کے لیے جو ہمہ جہت خدمات انجام دیں ہیں ان کی ان خدمات اورکارناموں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گاان کا اس سرائے فانی کو الوداع کہہ جانا ایک ایسا صدمہ جانکاہ ہے جس کو اردو قاری، اردو اسکالرز اور اردو طالب علم مدتوں یاد رکھیں گے
شمس در خارج اگرچہ ہست نور
می توان ہم مثل او تصویر کرد
در تصور ذات او را گنج کو
تا در آید در تصور مثل او
سورج اگرچہ خارج میں ایک ہی ہے اس دنیا میں بھی تصور کیا جا سکتاہے،لیکن وہ سورج جس سے عالم بالا مست ہے اس کی ذہن اور خارج میں کوئی مثال نہیں ہے تصور میں اس کی ذات کی گنجایش کہاں ہے کہ خیال کی دنیا میں اس کی مثال آسکے۔
ماخذ
۱۔ فاروقی محو گفتگو، مرتب ڈاکٹر رحیل صدیقی، جید پریس، بلی ماران دہلی ، صفحہ ۱۰
۲۔ شمس الرحمٰن فاروقی شخصیت اور ادبی خدمات، احمدمحفوظ،لبرٹی آرٹ پریس نئی دہلی ۱۹۹۴، صفحہ ۷
۳۔ اردو ادب سہ ماہی،انجمن ترقی اردو نئی دہلی، شمارہ ۲۴۳جلد ۶۱، جولائی ، اگست، ستمبر ۲۰۱۷۔صفحہ ۳۷
۴۔ فاروقی محو گفتگو، مرتب ڈاکٹر رحیل صدیقی، جید پریس، بلی ماران دہلی ، صفحہ ۱۰
۵۔ اردو ادب سہ ماہی،انجمن ترقی اردو نئی دہلی، شمارہ ۲۴۳جلد ۶۱، جولائی ، اگست، ستمبر ۲۰۱۷۔صفحہ ۴۰