شمس الرّحمٰن فاروقی اور بحرِمیرؔ

عارف حسن خاں

:میرؔ کے تقریباً ہر انتخاب میں ان کی یہ غزل ضرور شامل ہے ،جس کا مطلع ہے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماریِ دل نے آخر کام تمام کیا
یہ بحرِ متقارب کے وزن اثرم مقبوض محذوف/مقصور سولہ رکنی میں ہے۔
کلیّاتِ میرؔ کے قومی کونسل براے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی کے دوسرے تصحیح و اضافہ شدہ ایڈیشن (۲۰۰۳ء) میں اس وزن میں ایک سو چوراسی (۱۸۴) غزلیات ہیں، جو ان کی اس وزن سے غیر معمولی دلچسپی کا ثبوت ہیں۔ جناب شمس الرّحمٰن فاروقی ، جو اس بحر کو بحرِ میرؔ کے نام سے پکارتے ہیں، ’’درسِ بلاغت ‘‘(ترقی اردو بیورو، نئی دہلی، ۱۹۸۱ء پہلا ایڈیشن) کے بابِ ششم ’’بحریں اور زحافات‘‘کے تحت بحرِ متقارب کے وزن’’ فعلُ فعولن فعلن فع‘‘ کے ضمن میں یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ:
’’ یہ بحرِ میرؔ کا بنیادی وزن ہے۔ لیکن میرؔ نے اسے مضاعف یعنی شانزدہ رکنی استعمال کیا ہے۔‘‘ (۱)
آگے فرماتے ہیں :
’’ اس وزن کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ اس کے ارکان کی ترتیب مقرر نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے مستقل نمونے بھی مقرر نہیں ہو سکتے۔موزونیت کا انحصار ماتراؤں کی تعداد اور ہم آہنگی پر ہے۔‘‘ (۲)
فاروقی صاحب کی علمیت کے بھرپور اعتراف کے باوجود مجھے اُن کے مندرجہ بالا بیانات کے بعض اجزا سے اختلاف ہے۔( اس سلسلے میں اپنے ایک مضمون مشمولہ ہفت روزہ ’’ہماری زبان‘‘، دہلی، جلد ۴۷، شمارہ ۴۷، بابت ۱۵ دسمبر ۱۹۸۸ء میں اظہارِ خیال کر چکا ہوں ، یہاں قدرے ترمیم کے ساتھ مختصراً اسی کا اعادہ کر رہا ہوں)۔
میرے اعتراضات مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ بحرِ میرؔ کا بنیادی وزن ’’فعلُ فعولن فعْلن فع‘‘ نہیں، بلکہ’’فعلُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ ُ فعولُ فعولُ فَعَلْ/ فعولْ‘‘ ہے۔اس کی تفصیل آئندہ سطور میں آئے گی۔
۲۔ بحرِ میرؔ میں ارکان کے استعمال کی بے حد آزادی کے باوجود اس کے نمونے مقرر کیے جا سکتے ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مقرر ہیں۔ اس کی تفصیل بھی آئندہ سطور میں آئے گی۔
۳۔ موزونیت کا انحصار ماتراؤں کی تعداد پر ہرگز نہیں۔ ایسا کہہ کر ہم بہت بڑی مشکل میں مبتلا ہو جائیں گے،کیوں کہ ہماری کئی کئی بحور اور کئی کئی اوزان ماتراؤں کی تعداد کے لحاظ سے برابر ہیں۔
آئیے اب ان میں سے ہر ایک نکتے پر قدرے تفصیل کے ساتھ غور کر لیا جائے۔
پہلے ابتدائی دو نکات کو لیجیے:
یہ درست ہے کہ متقارب اثرم مقبوض محذوف/مقصور سولہ رکنی( یعنی بقول فاروقی صاحب بحرِ میر) میں ارکان کے استعمال کی بے حد آزادی ہے۔ اس میں ارکان کی جگہیں اس طرح مقرر نہیں ہیں جیسی کہ (عام طور پر) دوسری بحور میں ہوتی ہیں۔تاہم اس کے چند متعیّن نمونے ممکن ہیں۔ ہر شعر (یا مصرع) ان میں سے کسی نہ کسی نمونے کے مطابق ضرور ہوگا اور اگر ایسا نہیں ہے، تو اس کی موزونیت مشکوک ہو جائے گی۔
ان نمونوں کی تفصیل پیش کرنے سے پہلے ایک بار پھر یہ عرض کر دوں کہ اس بحر کا بنیادی وزن ’’فعلُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فَعَلْ‘‘ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاروقی صاحب کے پیش کیے ہوئے وزن ’’فعلُ فعولن فعْلن فع‘‘ کے مقابلے میں اس وزن کی ترجیح کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب بالکل صاف ہے ۔ اس وزن پر زحاف تخنیق کے عمل سے وہ تمام شکلیں بر آمد کی جا سکتی ہیں، جن میں سے کسی نہ کسی شکل کے ذریعے اس بحر کے تمام اشعار کی تقطیع ممکن ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے تخنیق کا عمل بھی سمجھ لیجیے:
’’اگر کسی مزاحف رکن کے آخر میں کوئی متحرک حرف ہو، جو بعد میں آنے والے رکن کے وتد مجموع کے دو ابتدائی حروف کے ساتھ مل کر تین متحرک حروف کا تسلسل پیدا کرتاہو، تو ایسی صورت میں اس وتد مجموع کے پہلے حرف کو ساکن کرنا تخنیق کہلاتا ہے اور مزاحف کو مخنق کہتے ہیں۔ جیسے ’’مفعولُ مفاعیلن‘‘میں مفعولُ (اخرب) کا آخری متحرک ’’ل‘‘ اور مفاعیلن کے وتد مجموع کے ابتدائی دونوں متحرک ’’م‘‘ اور ’’ف‘‘ مل کر تین مسلسل متحرک حاصل ہوتے ہیں۔ ان میں سے درمیانی متحرک یعنی وتد مجموع کا پہلاحرف متحرک ’’م‘‘ ساکن کیا، تو حاصل ہوا:
مفعولُ+مفاعیلن (تسکین م)—–مفعولُ +مْ +فاعیلن
ظاہر ہے کہ یہ ساکن رکن کے شروع میں نہیں رہ سکتا کیوں کہ ہماری زبان کی ساخت ایسی نہیں ہے کہ اس کا کوئی لفظ حرفِ ساکن سے شروع ہو۔ چنانچہ اس ساکن ’’م‘‘ کو اس سے پہلے کے حرف متحرک کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور حاصل ہوتا ہے:
مفعولُ+مْ+ فاعیلن—–مفعولم +فاعیلن
اسے مفعولن مفعولن سے بدل لیا جاتا ہے۔ یہی عمل تخنیق ہے اور یہ ارکان یعنی مفعولن مفعولن ہر گز اخرم نہیں ہیں جیسا کہ غلطی سے اکثر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ اخرب اور سالم مخنّق ہیں۔‘‘ (۳)
بالکل یہی صورت اس وزن میں بھی ہوتی ہے کیوں کہ اس میں ایک نہیں، دو نہیں ، بلکہ سات ایسے مقام ہیں جہاں تین متحرک حروف کا تسلسل قائم ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
فعلُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فعولُ فَعَلْ/فَعولْ
اثرم مقبوض مقبوض مقبوض مقبوض مقبوض مقبوض محذوف/مقصور
ان مقامات میں سے کسی بھی ایک یا ایک سے زیادہ جگہوں پر تخنیق کے عمل کی گنجائش ہے۔چناں چہ اس کے عمل سے اس وزن کی مختلف دو سو چھپّن شکلیں ممکن ہیں، جو ایک دوسرے کی متبادل ہیں۔ (۴) یعنی ان دو سو چھپّن شکلوں میں سے کوئی بھی شکل شاعر اپنی غزل کے کسی مصرع میں استعمال کر سکتا ہے اوراسی طرح دوسرے مصرع میں ان میں سے کوئی بھی دوسری شکل لا سکتا ہے۔
ان دو سو چھپن ترتیبوں کو یاد رکھنا یقینا مشکل کام ہے۔ لیکن اگر آپ مندر جہ ذیل چند نکات کو ذہن نشیں کرلیں تو اس وزن میں آپ سے چوک نہیں ہوگی۔
(۱)صدر و ابتدا میں ہمیشہ فعْلن یا فعلُ ہی آئے گا۔
(۲)عروض و ضرب میں ہمیشہ فَعَلْ، فَعولْ، فع یا فاع میں سے کوئی آئے گا۔
(۳)فَعَلْ، فعولْ، فع اور فاع عروض و ضرب کے علاوہ کہیں اور نہیں آئیں گے۔
(۴)حشو میں فعْلن، فعلُ، فعولُ اور فعولن میں سے ہی کوئی آئے گا۔
(۵)حشو میں فعْلن کے بعد ہمیشہ یا تو دوبارہ فعْلن ہی آئے گا یا پھر فعلُ آئے گا۔
(۶)حشو میں فعلُ کے بعد ہمیشہ فعولُ یا فعولن میں سے کوئی آئے گا۔
(۷)حشو میں فعولُ کے بعد یا تو دوبارہ فعولُ آئے گا یا پھر فعولن آئے گا۔
(۸)حشو میں فعولن کے بعد ہمیشہ فعْلن یا فعلُ میں سے کوئی آئے گا۔
(۹)عروض و ضرب میں اگر فَعَلْ یا فَعولْ میں سے کوئی ہے، تو اس سے پہلے کے حشو میں ہمیشہ فعلُ یا فعولُ میں سے کوئی ہوگا، فعْلن یا فعولن کبھی نہیں ہوگا۔
(۱۰)عروض و ضرب میں اگر فع یا فاع میں سے کوئی ہے، تو اس سے پہلے کے حشو میں ہمیشہ فعْلن یا فعولن میں سے کوئی ہوگا، فعلُ یا فعولُ کبھی نہیں ہوگا۔
اب تیسرے نکتے پر آئیے۔
اس جائزے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بحرِ میرؔ کے اشعار کی تقطیع کے لیے اوزان کے نمونے مقرر کیے جا سکتے ہیں اور موزونیت کا انحصار ماتراؤں کے بجاے انھیں پر ہے۔ یوں بھی کم از کم اردو عروض میں موزونیت کا انحصار ماتراؤں کی تعداد پر ہرگز نہیں ہے۔ موزونیت کی جانچ ماتراؤں کی بنیاد پر کرنا ایک زبردست غلطی ہوگی، کیوں کہ ہمارے یہاں کئی کئی ارکان اور کئی کئی بحور ماتراؤں کی تعداد کے لحاظ سے ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ مثلاً فعلن اور فعول برابر ہیں، فاعلن اور فعولن برابر ہیں، مفاعیلن، فاعلاتن اور مستفعلن برابر ہیں، مفعولن اور مفاعلن برابر ہیں اور اسی طرح دیگر ارکان اور ان کی فروع کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔ ایک دائرے سے نکلنے والی سبھی بحروں کی ماترائیں (جس صورت میں وہ دائرے سے برآمد ہوتی ہیں) برابر ہوں گی۔ مثلاً ہزج، رجز اور رمل ایک دائرے کی بحریں ہیں۔ دیکھیے ان کی سالم شکلیں:
ہزج مثمن سالم: ایک مصرعے کا وزن:
مفا عی لن مفا عی لن مفا عی لن مفا عی لن
۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ( کُل ۲۸ ماترائیں)
رجز مثمن سالم: ایک مصرعے کا وزن:
مس تف علن مس تف علن مس تف علن مس تف علن
۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ( کُل ۲۸ ماترائیں)
رمل مثمن سالم: ایک مصرعے کا وزن:
فا علا تن فا علا تن فا علا تن فا علا تن
۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ۲ ۳ ۲ ( کُل ۲۸ ماترائیں)
ماتراؤں کی تعداد کے لحاظ سے ان تینوں اوزان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اسی طرح بحرِ متدارک اور بحرِ متقارب مثمن سالم کو دیکھیے:
متدارک مثمن سالم: ایک مصرعے کا وزن:
فا علن فا علن فا علن فا علن
۲ ۳ ۲ ۳ ۲ ۳ ۲ ۳ ( کُل ۲۰ ماترائیں)
متقارب مثمن سالم: ایک مصرعے کا وزن:
فعو لن فعو لن فعو لن فعو لن
۳ ۲ ۳ ۲ ۳ ۲ ۳ ۲ ( کُل ۲۰ ماترائیں)
ان دونوں بحروں میں بھی ماتراؤں کی تعداد برابر ہے۔
اوپر کی مثالوں میں جو بحریں پیش کی گئی ہیں وہ تو خیر ایک ہی دائرے سے متعلق ہیں، اب ذرا ان بحور و اوزان کی مثال بھی ملاحظہ کیجیے جن کا ایک دوسرے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
ہزج مثمن اخرب مکفوف مکفوف محذوف( ایک مصرعے کا وزن):
مفعولُ مفاعیلُ مفاعیلُ فعولن
۲ ۲ ۱ ۳ ۲ ۱ ۳ ۲ ۱ ۳ ۲ (کل ۲۲ ماترائیں)
مضارع مثمن اخرب مکفوف مکفوف محذوف (ایک مصرعے کا وزن):
مفعولُ فاع لاتُ مفاعیلُ فاع لن
۲ ۲ ۱ ۲ ۱ ۲ ۱ ۳ ۲ ۱ ۲ ۱ ۲ (کل ۲۲ ماترائیں)
دونوں اوزان ماتراؤں کے لحاظ سے برابر ہیں۔
اسی طرح:
متقارب مثمن سالم سالم سالم محذوف(ایک مصرعے کا وزن):
فعولن فعولن فعولن فَعَلْ
۳ ۲ ۳ ۲ ۳ ۲ ۳ (کل ۱۸ ماترائیں)
خفیف مسدّس سالم مخبون مخبون مقصور (ایک مصرعے کا وزن):
فاعلاتن مفاع لن فَعِلان
۲ ۳ ۲ ۳ ۱ ۲ ۱ ۱ ۳ (کل ۱۸ ماترائیں)
یہاں بھی دونوں اوزان ماتراؤں کی تعدادکے لحاظ سے برابر ہیں۔
ایسی صورت میں فاروقی صاحب کی اس بات کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ’’موزونیت کا انحصار ماتراؤں کی تعداد اور ہم آہنگی پر ہے۔ ‘‘ماتراؤں کی تعداد تو کسی بھی صورت میں موزونیت کا معیار بن ہی نہیں سکتی۔
حواشی
(۱) درسِ بلاغت (۱۹۸۱ء پہلا ایڈیشن۔) شمس الرّحمٰن فاروقی۔ ص ۱۰۹
(۲)درسِ بلاغت (۱۹۸۱ء پہلا ایڈیشن)۔ شمس الرّحمٰن فاروقی۔ ص ۱۱۰
(۳) ان دو سو چھپّن شکلوں کی تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:معراج العروض(اشاعتِ سوم:۲۰۱۸ء)۔ عارف حسن خاں۔ص۵۸تا۵۹
(۴) معراج العروض(اشاعتِ سوم:۲۰۱۸ء)۔ عارف حسن خاں۔ص۱۳۳تا۱۵۸