شمس الرحمن فاروقی کا خاندانی پس منظر
پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی
 مرکز مطالعات اردو ثقافت ،مانو حیدر آباد 
 یونان ہند اعظم گڑھ عظمت و رفعت، دلکشی و دلکشائی،معارف پروری و کشادہ ظرفی میں اپنی مثال آپ ہے یہ علاقہ عہد مغلیہ 1665میں اعظم گڑھ کے نام سے موسوم ہوا اور فرنگی حکومت نے 18، ستمبر 1832میں اسے ایک ضلع کی حیثیت سے تسلیم کیا اس سے قبل یہ مردم خیز علاقہ شیراز ہند جونپور کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا جبکہ اعظم گڑھ کے علاقے ہی علمی و ادبی حیثیت سے نہ صرف شیراز ہند کی شناخت تھے بلکہ روح رواں تھے جس دن سے یہ روح جدا ہو گئی شیراز ہند کا شیرازہ  بھی بکھر گیا۔اعظم گڑھ علمی و ادبی ، مذہبی و تاریخی اعتبار سے انتہائی قدیم بھی اور اہم بھی ہے ہندں کے قدیم گرنتھوں ،شاستروں، ویدوں اور دھارمک رچناں میں اس دھرتی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے جس طرح آسمانی صحیفوں میں عرب، مصر، فلسطین , یمن اور شام کے علاقوں کی داستان اور قصص الانبیاملتے ہیں اسی طرح پرانوں کے مطالعہ سے اس علاقے کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہوتا ہے یہ سرزمین عہد قدیم سے ہی بڑی پاک ، پوتراور پرنور رہی ہے اسکو ساھدں، سنتوں، رشیوں، منیوں،تیاگیوں، اور بیراگیوں کی عبادت گاہ اور دیوی دیوتاوں کا مسکن ہونے کا شرف حاصل ہے ہندں کی قدیم دھارمک کتابوں ، پرانوں اور تاریخوں کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ کاشی راج اور کوشل راج کے درمیان جو ٹونس ندی ہے وہ عہد قدیم میں تمسا ندی کے نام سے مشہور تھی اور یہی اعظم گڑھ کی سرحد تھی جسکو مقدس ندی نے اپنے دامن میں سمیٹ رکھا تھا جسکی وجہ سے یہاں صرف سرسبزی اور شادابی ہی نہیں تھی بلکہ گھنے جنگلات کی بھی کثرت تھی جہاں تارک الدنیا، جوگیوں، فقیروں، سادھوں ، سنتوں اور سنیاسیوں کے لئے یہی جنگلات تپو بھومی تھے۔
 اعظم گڑھ کے قدیم حالات کے مطالعہ سے یہ پتا چلتا ہے کہ یہاں سب سے پہلے آریوں نے دستک دی اور یہاں کے اصل باشندے آریہ نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے مشہور قبیلے اور ذاتیں گھوسی، سیوری، راج بھر، چیرو، را ٹھور، راوت، چھتریہ، قابل ذکر ہیں چھتریوں میں بسین، سورج بنسی اور سوم بنسی کی تعداد کثیر تھی جبکہ راج بھر ، چیرو، گھوسی اور راوت قوم بھی مسلسل اپنی طاقت میں اضافہ کر رہی تھیں جب اس تپو بھومی پر سیاست، تجارت، حکومت اور ملکیت کی ہوڑ لگی تو ہر قوم نے خود کو مسلح اور مستعد کرنا شروع کیا جسکے نتیجہ میں اعظم گڑھ کے علاقے میں چار قومیں حکمراں ہوئیں سیوری، راج بھر، گھوسی، اور چیرو ان کا اس علاقہ پر دبدبہ رہا اور ان کا علاقہ بہت ہی طویل و عریض تھا جسکو چار حصوں میں منقسم کرکے ان راجاں نے اپنے اپنے اقتدار میں لیا یہ علاقے تھے ماہل، کوڑیا، نظام آباد اور سگڑی ہے ۔ ماہل کا راجہ اسیل دیو ، کوڑیا کا اجودھیا رائے نظام آباد کا پری چھات اور گرگ دیو سکڑی کا اس سگڑی کا ذکر تاریخ فرشتہ، نزہ الخواطر اور آئین اکبری میں بار بار شاہ گڑھی کے نام سے آتا ہے یعنی سگڑی شاہ گھڑی کی بگڑی ہوئی شکل ہے جسکا راجہ گرگ دیو راج بھر تھا اور اس علاقے میں ان کی کثیر تعداد تھی اور آج بھی ہے ان کا غلبہ فیض آباد سے گھوسی تک تھا عہد قدیم میں انکا دھرم ایک اور مسلک چار تھے ۔ ویدک ، پورانک، پنتھی، نایک پنتھی، جسکو آریہ دھرم کی مختلف شاخیں کہہ سکتے ہیں ان کی زبان سنسکرت(آریوں)، پالی(گوتم بدھ)، اور پراکرت (جین دھرم) تھی پالی درباری سنسکرت مذہبی اور پراکرت عوامی زبان تھی جبکہ ابتدامیں تینوں مذہبی زبان تھیں ایک آریوں کی دوسری بودھوں کی اور تیسری جینوں کی اور تینوں کی بگڑی ہوئی شکل میتھلی اودھی اور بھوجپوری تھی جو مزدوروں ، مجبوروں اور محکوموں کی زبان تھی جو زبان بھی نہیںبلکہ بولی تھی اس علاقے کے متعلق عمیرالصدیق ندوی شبلی میگزین اعظم گڑھ 2007کے صفحہ 35پر رقم طراز ہیں کہ :
“مورخین کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ قدیم زمانے میں بنارس اور اجودھیا کے درمیان جنگلوں پر مشتمل تھا ان میں تارک الدنیا، سنیاسی، اور جوگی فقیر اپنے طور پر عبادت و ریاضت کرتے تھے بعد میں انہیں جنگلوں میں ندیوں کے کنارے انسانوں نے اپنا مسکن بنایا گھوسی اور چریاکوٹ جیسے علاقے اپنے نام سے آباد کرنے والوں یعنی یعنی گھوسی اور چیرو قوم کی یاد دلاتے ہیں حضرت عیسی سے پانچ چھ سو سال پہلے کوشل سلطنت کے ذکر میں اگر غازی پور کا نام آتا ہے یا اس سرزمین پر مہاتما گوتم بدھ اشوک کے قدموں کے نشان ملتے ہیں یا پھر گپت عہد کی نشانیاں ملتی ہیں یا پھر مشہور سیاح ہیون سانگ کے سفر نامے میں بنارس غازی پور اور بلیا کا ذکر ملتا ہے تو ظاہر ہے اعظم گڑھ کی زمین کو اس سے الگ نہیں کیا جا سکتا ہے یہ ناممکن ہے کہ ان کا روانوں کی آوازوں سے اس خطہ اعظم گڑھ کی فضائیں مانوس نہ ہوئی ہوں “۔
ہری شنکر ترپاٹھی ضلع سوچنا ادھیکاری اعظم گڑھ نے اعظم گڑھ پوستک کے صفحہ 6پر لکھتے ہیں:
“عہد قدیم میں یہ علاقہ سوریہ ونشی راجاں کی حکمرانی میں تھا اس کے بعد چندر ونشی راجہ پروروا راجہ نہیش راجہ پایاتی نے سوریہ ونشی کو شکست دیکر اسکو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا ۔راجہ نہیش نے گھوسی کے پاس اپنا مٹی کا قلعہ بنوایا جسکے آثار آج بھی باقی ہیں بعد میں یہ علاقہ کاشی اور کوشل مہا جنپدوں میں شامل رہا پھر مگدھ کا حصہ ہو گیا جس پر موکھاری، گپت ونش ،شنگ ونش اور موریہ ونش کے راجہ حکمرانی کرتے رہے”۔
اعظم گڑھ کے علمااکرام پرجو تذکرے لکھے گئے اس میں چند اہم تذکرہ مشائخ بنارس(1961) تذکرہ علمائے اعظم گڑھ (1976) تذکرہ علمائے مبارک پور (1974) گلشن قلندریہ (1999) اعظم گڑھ کا علمی ، ادبی اور تاریخی پس منظر (2004) بہت تحقیق کے بعد لکھی گئی۔ تذکرہ علمائے مبارک پور مولانا قاضی اطہر مبارک پور ی کی تحریر کردہ ہے اور آپ ہی کا مقدمہ تذکرہ علمائے اعظم گڑھ میں مرقوم ہے جو مولانا حبیب الرحمان قاسمی کی تصنیف ہے۔ چنانچہ کتاب کے صفحہ پر مولانا اطہر مبارکپوری لکھتے ہیں۔ 
”موجودہ ضلع اعظم گڑھ کا علاقہ قدی زمانے میں بنارس اور اجودھیا کے درمیان جنگلوں پر مشتمل تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس خطہ میں تارک الدنیا سنیاسی اور فقیر اپنے طور پر عبادت اور ریاضت کرتے تھے۔ یہ علاقہ چھٹی صدی میں باقاعدہ اسلامی قلمرو میں شامل ہوا۔ سلطان شہاب الدین غواری اور اس کے غلام قطب الدین ایبک نے اس دیار کو فتح کرکے دہلی سے وابسطہ کیا اور اسی زمانے سے ارباب علم و فن کا مرجع بننے لگا۔ ضامن طور سے آٹھویں صدی میں جب سلطان فیروز شاہ تغلق نے (772ھ) میں جون پور آباد کیا تو دیار پورب اسلامی علوم علمائے اسلام حسنات و برکات کا گلشن سدا بہار بن گیا اور اس کے چند ہی سالوں بعد سلاطین شرقیہ کا دور (802۔883ھ) آیا اور جونپور دارالعلوم اور دہلی ثانی بنا اور یہ پورا علاقہ علمی روحانی قدروں اور خاندانوں سے معمور ہو گیا۔ سلاطین شرقیہ کے بعد لودھی خاندان ( 932ھ) تک قائم رہا مگر یہاں کے علماو فضلاکی محفلیں جمی رہیں حتی کہ تیموری سلاطین آے۔ (932ھ) میں بابر نے سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر سلطنت کی بنیاد رکھی اور شاہ جہاں یہاں کی علمی و دینی رونق اور علماو فضلاکی کثرت دیکھ کر بے ساختہ پکارا تھا، مملکت پورب شیراز است۔”
جب 1193 میں غوری نے جئے چند کو شکست دی تو قنوج کا یہ علاقہ اس کے حصے میں آ گیااور اعظم گڑھ غوری حکومت کا حصہ بن گیا جبکہ سلطان التمش نے جب اس علاقہ کو اپنے قبضے میں لیا تو 1226 میں قنوج کے ساتھ یہ علاقہ بھی دلی سلطنت کا حصہ بن گیا 1394 میں فیروز تغلق نے اپنے بیٹے ظفر کو جونپور کا سردار بنا یا تو اعظم گڑھ اس صوبہ کا حصہ بن گیا۔ 1399 میں جب شرقی حکومت قائم ہوئی تب سے 1474تک یہ علاقہ جونپور کا حصہ رہا اس کے بعد جب لودی خاندان نے اس حکومت کا خاتمہ کیا تو یہ دلی سلطنت میں شامل ہو گیا ۔اعظم گڑھ کی تاریخ میں جو علمی اعتبار سے مشہور گاوں ہیں ان میں چریا کوٹ ، قاضی کی سراے  اور کوریا پار انتہایی اہمیت کے حامل ہیں، اس میں کوریا پار سر فہرست ہے، جس میں بیشمار علما ، ادبا ، مورخین اور منتظمین پیدا ہوے۔
قصص الجمیل فی سوانح الخلیل ۔یہ حیات سابق اور کوریا پار کا انساکلوپیڈیا ہے جس کا سر ورق اس طرح ہے، حیات سابق از مولوی عبدالقادر بنارسی مع احوال و آثار ملا سابق از غفور احمد فاروقی ،قصص الجمیل فی سوانح الخلیل ،از مولوی محمد خلیل الرحمان فاروقی ،ہر دو مع اضافات جدیدہ ،از نجم الرحما ن فاروقی، شب خون الہ آباد درج ہے۔ اس کے بعد صفحہ نمبر 1 پر ، حیات سابق از مولوی عبدالقادر بنارسی 1864 تا 1946 ، طباعت اول ، بنارس 1905، طباعت دوم مع احوال آثار ملا سابق ، جونپور 1989 طباعت سوم مع اضافات جدیدہ ،الہ آباد 2006، قصص الجمیل فی سوانح الخلیل از مولوی محمد خلیل الرحمان فارقی 1910 تا 1972، طباعت اول ،الہ آباد 1973، طباعت دوم مع اضافات جدیدہ ، الہ آباد سے2006 اضافات جدیدہ نجم الرحمان فارقی ،کمپیوٹر کتابر ، محمد مجتبی حیدر قدر۔ مطبع بھارگو پریس الہ آباد ،مہتمم کتاب امین اختر فاروقی، سر ورق ، گستاد کلمٹ (Gustav limit) کی تصویر the park پر شاداب مسیح الزماں کا عمل ۔ 
شمس الرحمان فارقی کا شجرہ ،حضرت عمر سے ملتا ہے۔ جو اس طرح ہے، مہر افشاں فارقی ، بارہ رحمان فاروقی بنت شمس الرحمان فارقی ولد خلیل الرحمان فاروقی ولد حکیم مولی محمد اصغر فاروقی ، شیخ محمد اکرام، شیخ پیغمبر بخش، شیخ غلام مصطفی ، شیخ غلام اعظم ، شیخ شمیم ، خان تاج الدین، خان علاوالدین، اسمعیل خان، شیخ محمد اعظم خاں ، جمال الدین، نظام الدین، بایزید، حبیب اللہ، شیخ محمد ، عبدالرحمان ، برہان الدین، شمس الدین، کمال الدین، برہان الدین، نظام الدین، تاج الدین، بہاالدین، سراج الدین، حضرت امیر حسن، حضرت عبداللہ بن عمر، امیر المومنین حضرت عمر۔
محبوب الرحمان فاروقی نے اپنے قلمی شجرہ کی مدد سے جو تلخیص ترتیب دی ہے قصص الجمیل فی سوانح خلیل کے صفحہ 741 پر جواس  درج ہے۔ وہ شیخ محمد اصغر تک ہے۔ اس میں مہر افشاں فاروقی، باراں رحمان فاروقی، شمس الرحمان فاروقی، خلیل الرحمان فاروقی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کی تصدیق زہرہ فاروقی نے کی ہے ڈاکٹر زھرہ فاروقی رضوان اللہ فاروقی کی صاحبزادی ہیں اور شعبہ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں فارسی کی استاد ہیں۔اسی طرح سے ملا عمر بنارسی کا شجرہ نسب بھی عمر فاروق سے ملتا ہے جو اس طرح سے ہے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق، حضرت عبداللہ بن عمر، شیخ عثمان، شیخ محمد ، شیخ عظیم اللہ، شیخ غیاث الدین الفوت، شیخ شرف الدین بخاری، شیخ ابو الفضل گلبار، خواجہ محمد کبیر، قاضی مجھلی قاضی الہ داد، قاضی ابراہیم ، قاضی اسد اللہ۔ قاضی سلیمان ، قاضی معروف،قاضی عبدالکریم، قاضی نور محمد، قاضی سعید، قاضی غوث محمد، قاضی عبداللہ مشتہری بہ ملا محمد عمر، مولوی عنایت علی، مولوی خادم حسین، مولوی عبدالقادر۔یہ شجرہ قصص الجمیل فی سوانح کے صفحہ نمبر 150 پر درج ہے۔ 
”کوریا پار کا جو شجرہ موجود ہے اس میں کوریا پار کے آس پاس کا علاقوں کا مختصرا ذکر ہے جس میں محمدآباد ،گھوسی، ولید پورکا ذکر بھی ہے جس میں کوریا پار کے بارے میں قصص الجمیل فی سوانح خلیل کے صفحہ 155 پر درج یہ درج ہے، یہ فاروقی شیوخ ولید پوری کے شیخوں سے علاقہ رکھتے ہیں ۔ وہ دس گیارہ نسبت سے کوریا پار میں بود باش رکھتی ہیں اور ان کے مورث کا نام اعظم خاں تھا۔ ایک شخص اسی خاندان کے محمدآباد میں جا بسے ہیں۔ گدائے خان جو اعظم خان سے تین پشت بعد ہوا بسبب رہنے کلا فیضی کے وہاں اقامت اختیار کی تھی اور اس کی اولادں میں وہ مرتبہ رہا کوریا پار کے شیخوں کے پاس تین چار گاوں ہیں گو بڑے امیر نہیں مگر آسودہ حال ہیں ۔( قلمی شجرہ صفحہ 2)”
اعظم گڑھ کے علمی ادبی و مذہبی اعتبار سے معروف گاں میں سب سے مشہور گاں کوریاپار ہے انکے آبااجداد بعہد تغلق عرب سے دہلی آئے اور فیروز شاہ تغلق کے عہد میں انہیں کوریاپار کے اطراف کی جاگیریں دی گئیں ان لوگوں کا سلسلہ نسب عمر فاروق سے ملتا ہے .
اس گاں کے نام کے متعلق نہ صرف لوگوں میں بلکہ خود اس خاندان کے دانشوروں میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔کوریاپار کے متعلق ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ یہاں ایک بزرگ کوڑیا شاہ رہا کرتے تھے انہی کے نام پر یہ موضع کوریا پار مشہور ہوا جسکے متعلق نجم الرحمن فاروقی قصص الجمیل فی سوانح خلیل کے صفحہ 145پر لکھتے ہیں کہ یہ بات مشہور کہ ایک بزرگ جنکا نام کوڑیا شاہ تھا جب یہ خطہ غیر آباد تھایہاں رہتے تھے اور انہیں کے نام پر یہ موضع کوریا پار مشہور ہوا چودھویں صدی کے آخری میں یعنی1388 میں جب فیروز شاہ تغلق کا انتقال ہوا تو دہلی کے مشائخ اور علمابے دین بادشاہوں سے دور رہنے کی وجہ سے دہلی چھوڑنے لگے فیروز شاہ تغلق بزرگوں اور مشائخ کا بڑا قدر دان اور معتقد تھا معلوم ہوتا ہے کہ دہلی کا کوئی بزرگ شخص ابراہیم لودی کے زمانہ میں کوریا پار آکر آباد ہو گیا میرے بہت بچپن میں ایک بزرگ کا مزار جولاہوری اینٹوں سے بنا تھا ایک تالاب کے کنارے جسکا نام رسڑا تالاب ہے موجود تھا اس وقت یہ مزار بہت ٹوٹی پھوٹی حالت میں تھا اب اسکا نام و نشان تک نہیں ہے۔
کوریا پار کے متعلق نجم الرحمن فاروقی کے چچا رضوان اللہ فاروقی جنہوں نے تیس پیتیس سال تک کلکتہ میں صحافت کے فرائض انجام دئے اور بعد میں امریکن ایمبیسی دہلی میں خدمات انجام دے رہے تھے،موصوف اپنی غیر مطبوعہ سوانح میں گاں کے نام کی وجہ تسمیہ حضرت کوڑیا شاہ سے اتفاق نہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:۔
”ہماری طرف کاشت کاری کے پیشہ سے وابستہ ایک قوم کوئیری کہلاتی تھی سبزی ترکاری کی کاشت اور فروخت انکا خاص پیشہ ہے یہ بی العموم غیر مسلم کاشت کار ہوتے ہیں لیکن محمد آباد سے آگے بڑھکر ولید پور گھاٹ پر ٹونس ندی کو پار کرنے کے بعد دریا کے کنارے ایک چھوٹا سا گاں ہے بھاتکول ، بھاتکول میں مسلم کوئیری آباد ہیں جو سبزیوں کی کاشت کرتے ہیں انکی معاشرت مقامی معاشرتوں میں کسی قدر مختلف ہے یہ لوگ زیادہ مزہبی ہیں شادی بیاہ کے رشتہ بی العموم آپس میں کرتے ہیں کوئیریا پار میں جمع اور سوموار کو ہفتہ میں دو دن بازار لگنے کا دستور ہے ۔ اسمیں بھاتکول کے کوئیری بھی اپنا مال لاتے ہیں عصر اور مغرب کے وقت دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ اپنا مال ڈھانپ کر نماز پڑھنیچلے جاتے ہیں یہ بات عرب روایت سے میل کھاتی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اول اول عرب جب ہندوستان آئے تو ان میں کچھ کاشتکار پیشہ لوگ بھی تھے جو حکام یا تجار کے ساتھ ساتھ بڑھتے ہوئے مشرقی یو پی تک آ گئے انہیں میں سے چند ایک اس دریا کے کنارے آباد ہو گئے بھاتکول سے آگے بڑھنے پہ قابل ذکر گاں ہمارا ہی ہے چنانچہ قیاس ہے کہ کوئیریوں کی آبادی کے بعد جو بستی ملی ہوگی اسکو کوریاپار کا نام دیا گیا ہو وللہ علم بی الصواب۔”
خلیل الرحمان کے والد گاوں سبھا کے سرپنج بھی تھے اور گاوں کے تمام نظام بخوبی انجام دیتے تھے اور گاوں سے باہر کبھی جانا پسند نہیں کرتے تھے اس لئے ہمیشہ گاوں کے لوگ ان سے رابطہ میں رہتے تھے۔ ان کی تاریخ پیدائش جنوری 1870 لکھی ہوئی ہے، 15 جنوری 1925 کو 55 برس پورے کر کے وہ ریٹائر ہوئے پینشن صرف 21 روپئے 3 آنے تھی۔ سرکاری ملازمت انکی 30سال تک نہیں تھی 20 برس تک انھوں نے ایک ہی جگہ ملازمت کی۔ان کے متعلق خلیل الرحمان لکھتے ہیں کہ وہ  میرے والد مرحوم و مغفور کا نام محمد اصغر بن شیخ محمد اکرام بن شیخ پیغمبر بخش تھا۔ میں نے اپنے بچپن سے 36 برس کی عمر تک دیکھا۔ ہمیشہ میں نے ا ن کو ایک شکل و صورت کا پایا۔ دبلے پتلے ہلکے پھلکے نہایت سادہ مزاج اور صفائی پسند تھے۔ ہمیشہ بواسیر کے مریض رہے۔ غذائیں اسی وجہ سے ہمیشہ پرہیزی کھاتے تھے۔ حکیم حاذق تھے ،نہایت سستے نسخے لکھتے تھے۔ اللہ تعالی نے انہیں دست شفا بخشا تھا لوگ دور دور سے آتے تیھے اور نسخے لکھواتے تے۔کوریا پار ایک چھوٹا سا گاوں ہے۔ یہاں مسلمان زمیندار تھے۔ میرے والد مرحوم صاحب ایک چھوٹے زمیندر تھے۔ آبائی زمین صرف چودہ بیگہ تھی۔ اپنی کمائی اور کوشش سے اور اپنے اوپر سخت تکلیف اٹھا کر تقریبا آٹھ بیگہ زمین اور خریدی تھی۔ کچھ تخمی آموں کے اور ایک نیا باغ قلمی کا انھوں نے ہم لوگوں کے لئے چھوڑا تھا۔ گورمنٹ نارمل اسکول گورکھپور( جو اب جے،ٹی،سی گورمنٹ کالج ہو گیا ہے)میں بیس برس تک تعلیم دیتے رہے اور وہیں سے 15 جنوری 1935 میں پنشن لی۔( بحوالہ پیوستہ از قصص الجمیل صفحہ 159) 
شمس الرحمن فاروقی کے والد محمد خلیل الرحمن فاروقی کی شادی مولوی محمد نظیر صاحب کی دوسری صاحبزادی خاتون بی بی (جنکی پیدائیش 1914 میں ہوئی تھی)خان بہادر محمد نظیر صاحب پرتاب گڑھ میں1929 کورٹ آف وارڈس کے منیجر تھے ۔ خلیل الرحمن فاروقی انتہائی درجہ کے عبادت گزار خدا ترس ایماندار اور حسن سیرت و صورت کا ایسا مجموعہ تھے جسکی مثال  نادر الوجودہے۔ موصوف کثیر الاولاد بھی تھے انکی تمام اولادیں ذہین وفطین اور لائق و فائق ہوئیں اس خاندان کا ہر فرد اپنے آپ میں ایک دبستان کی حیثیت رکھتا ہے۔خلیل الرحمان کی شادی اور انکی لیاقت وصلاحیت کے متعلق قصص الجمیل فی سوانح خلیل کے صفحہ 96 اور 97 اس طرح درج ہے۔ 
”مولوی محمد نظیر کی دوسری بیٹی خاتون بی بی (پیدائش 1914) کی شادی 1929 میں موضع کوریا پار ضلع اعظم گڑھ کے ایک مولوی اور صوفی خاندان میں ہوئی۔ خاتون بی بی کے شوہر مولوی محمد خلیل الرحمان کے والد حکیم مولوی محمد اصغر (1870،1946) کا خاندان موضع کوریا پار میں فیروزشاہ تغلق کے وقت سے آباد ہے۔ محمد خلیل الرحمان (1910،1972) حسن صورت اور حسن سیرت کا ایسا مجموعہ تھے کہ جس کی مثالاب نادر کمیاب ہے۔ انتہا درجے کے عبادت گزار ،خدا ترس اور ایماندار ، اعلی انگریزی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود میں بھی انگریزیت کی بو نا تھی۔ ڈپٹی انسپکٹر اسکول کے عہدے سے سبکدوش ہو کر الہ آباد میں سکونت اختیار کر لی اور وہیں محو خواب ہیں۔”
محمد خلیل الرحمان کی پاک دامنی جانفشانی اور بی بی کی اعلی تربیت کے باعث ان کی تمام اولادیں نہ صرف لائق فائق اور ذہین و فطین ہوئیں بلکہ ییہں سے ایک  دبستان کا جنم بھی ہوتا ہے۔ جسے ادبی دنیا دبستان شمس کے نام سے یاد کرے گی۔ خلیل الرحمن کی سب سے پہلی اولاد جمیل الرحمان پیدا ہوئی جو چند دنوں کے بعد ہی اللہ کو پیاری ہو گئی۔ جس کے متعلق خلیل الرحمان لکھتے ہیں کہ سب سے پہلا لڑکا جنوری 1932 میں غازی پور میں پیدا ہوا نہایت خوبصورت جیسے گلاب پھول کچھ دنو ں کے بعد وہ اللہ کو پیارا ہو گیا۔ میں نے اس کا نام ذہن میں جمیل الرحمان رکھا تھا اور اسی نام پر وہ مدفون ہوا میں نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور غازی پور ہی میں دفن کیا۔ انشااللہ اپنے والدین کے لئے بروئے حدیث قیامت کے دن باعث سفارش ہوگا۔ خلیل الرحمن کی پہلی لڑکی زہرہ کی پیدایش دسمبر 1932 میں غازی پور ہویی تھی جن کی شادی خلیل الرحمن کے بڑے بھایی مولوی محمد فضل الرحمن صاحب کے بیٹیمحمد عزیز سے1952 میں ہوئی تھی۔ کیی سال مشرقی پاکستان میں رہنے کے بعد یہ لوگ کراچی چلے گیے تھے۔ ان کا بڑا بیٹا ضیا الرحمن نیوی میں اعلی عہدہ پر تھا۔ ان کی شادی خاتون بی بی کی چھوٹی بہن جمال آرا کی بیٹی شمع سے ہویی تھی۔ دوسرے بیٹے مصطفی کمال بینک میں اعلی عہدے پر تھے۔ تیسرے اور چوتھے ریاض اور ذکی بھی اعلی تعلیم سییافتہ تھے۔ ایک بیٹی تھی جس کا نام نیشاط تھا ان کی شادی غازی پور کے ایک مشہور خاندان کے چشم و چراغ شاہد سے ہویی تھی۔ محمد عزیز خود بھی کراچی میں محکمہ کسٹم میں اعلی عہدے پر فایز تھے۔
خلیل الرحمن کی تیسری اولاد شمیمہ فاطمہ (1934) ان کی شادی محمد خلیل الرحمن کے بڑے بھائی مولوی محمد حبیب الرحمن کے بڑے صاحب زادے وجیہہ الرحمن سے گورکھپور میں 1953 میں ہوئی تھی۔ شمیمہ فاطمہ اور و جیہہ الرحمن کی تین بیٹیاں مہر افروز اور صبوحی  اور تیسری بیٹی دیبا تمثیل  بھی  تعلیم سے آراستہ تھیں۔ وجیہہ الرحمن اپنی خدا ترسی اور اقربا نوازی اور محمد عزیزاپنی سخاوت اور غریب پروری کے لئے سارے خاندان میں مشہور ہیں۔
اس سلسلے کی چوتھی اولاد اور سب سے بڑا بیٹا شمس الرحمن فاروقی عرف بچے میاں (پیدائش (1935) میں ہوئی  جن کی شادی 1955 میں جمیلہ ہاشمی سے ہویی ،جمیلہ ہاشمی نے الہ آباد میں ایک گرلس کالج کی پرنسپل تھیں انھوں نے لڑکیوں کے کیی تعلیمی ادارے قایم کیے۔ شمس الرحمن فاروقی  ایک مکمل داستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن کا ذکر تفصیل سے آخر میں آئے گا۔
محمد خلیل الرحمن کی پانچویں اولاد ام کلثوم (پیدائش1936) محمد خلیل الرحمن کے بڑے بھائی مولانا محمد عزیز الرحمن کے صاحب زادے خلیق الرحمن سے بیاہی گئی تھیں۔ خلیق الرحمن لاہور میں محکمہ ڈاک میں ہیڈ کلرک تھے۔ ان کا بڑا بیٹا عقیل الرحمن انجینئرنگ کی اعلی ڈگری فرسٹ ڈویژن میں حاصل کرکے لاہور ہی میں اچھے عہدے فائز تھے۔ 
محمد خلیل الرحمن کی چھٹی اولاد رقیہ ریحانہ (پیدائش1938)کی شادی گورکھ پور کے محمد انیس صاحب کے بیٹے نفیس احمد سے ہوئی تھی۔ان کی بڑی بیٹی نورالسحر عرف حمیدہ گورکھ پور ہی میں بیاہی تھی۔ جڑواں بیٹے حبیب اور حسیب  اعلی تعلیم سے آراستہ تھے۔محمد خلیل الرحمن کی ساتویں اولادنجم الرحمن نہایت صائب الرائے ، متین اور خلیق ہیں ۔ اپنے والد محمد خلیل الرحمن کی طرح انگریزی ،اردو، ہندی تینوں زبانوں پر مہارت تھی۔  پرتاب گڈھ اودھ میں(جہاں مولوی محمد نظیر بھی بڑی شان سے ڈپٹی کلکٹری کر چکے ہیں)ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کی شادی الہ آباد کے محمد داود صاحب کی بیٹی شکیلہ فاطمہ سے 1967 میں ہوئی تھی۔ ان کا بڑا بیٹا نور الرحمن الہ آباد یونیورسٹی سے اعلی تعلیم سے آراستہ تھے۔ بیٹیاں حنا اور زیبا پرتاپ گڈھ سے تعلیم حاصل کی تھی۔
محمد خلیل الرحمن کی آٹھویں اولاد محمد احمد ہیں(پیدائش 1941)۔ ان کا نام محمد خلیل الرحمن نے اپنے ایک دوست اور پرتاپ گڈھ کے ایک مشہور زمانہ صوفی بزرگ حضرت مولانا محمد احمد صاحب قبلہ کے نام نامی پر رکھا تھا۔
خلیل الرحمن کی نویں اولاد ابو القاسم (پیدائش1944) بھی ڈپٹی کلکٹری اور اے ڈی ایم کے عہدوں پر نہایت نیک نام رہے۔ان کی شادی 1971 میں محمودالحسن صدیقی جج غازی پور کی بیٹی طلعت سے ہوئی تھی۔ ان کی اولاد میں سب لڑکیاں ہیں۔ نائلہ،راحیلہ، صبیحہ اور سمن تھی۔جن کے متعلق قصص الجمیل فی سوانح الخلیل کے باب ہشتم صفحہ 291 پر درج ہیکہ ابو القاسم (پیدائش 1944) نے الہ آباد یونیورسٹی سے 1946 میں تاریخ میں ایم۔ اے کیا ۔ کچھ دن ٹیچر رہ کر 1969 میں پی۔سی۔ایس میں داخل ہوئے۔ دوران ملازمت مختلف ممتاز عہدوں مثلا کلکٹر جھانسی، ڈائرکٹر اقلیتی فلاح و بہبود، سکریٹری ہائر ایجوکیشن پر کام کیا۔ کمشنر الہ آباد ڈویژن کے عہدے سے31 جولائی 2004 کو وظیفہ یاب ہوئے۔ اپنی فرض شناسی اور دیانت داری کی وجہ سے آئی ۔اے۔ ایس افسروں میں ممتاز رہے۔ یہ ہمیشہ سب سے پہلے دفتر پہنچتے تھے اور اس معاملہ میں والد مرحوم کی سنت ادا کرتے رہے۔ 
خلیل الرحمن دسویں اولاد عائشہ طیبہ (پیدائش 1946)نے الہ آباد یونیورسٹی سے بی ۔ اے کیا تھا۔ اس کی شادی 1968 میں سیتا پور حال مقیم لکھنو جناب محمد ادریس سہروردی کے بیٹے اظہر حسین سے ہوئی تھی۔ ان کے ایک بیٹا فیض الرحمن تھے۔
خلیل الرحمن کی اگیارہویں اور بارہویں اولاد یں جڑواں نعیم الرحمن عرف شاہد اور شمیم الرحمن ہیں۔ (پیدائش 1949) نعیم الرحمن نے امریکہ کی میڈیسن و کانسن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ،ڈگری تاریخ میں حاصل کی تھی۔ آئی۔ ایس کے امتحان میں تین بار کامیاب ہویے لیکن ہر بار یونیورسٹی کی ملازمت ان کے انتخاب میں رکاوٹ رہی الہ آباد یونیورسٹی میں 1991 میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ہوے اور ستمبر 2001 میں صدر شعبہ تاریخ کے عہدے پر کام کر چکے ہیں۔ ،آخر میں الہ آباد یونیورسٹی کے انچارج و وایس چانسلر ہو کر سبکدوش ہویے۔ ان کی شادی خاتون بی بی کی چھوٹی بہن جمال آرا کی بڑی بیٹی نیلوفر سلطانہ سے(1967)میں ہوئی تھی۔دو بیٹے توصیف الرحمن اور سیف الرحمن ہیں۔ شمیم الرحمن نے عربی اور اردو میں ایم اے کیا تھا۔ ان کی شادی گورکھپور کے محمد نسیم مرحوم کی صاحب زادی شاہینہ سے ہوئی تھی، دو بیٹیاں ، راضیہ اور رابعہ اور ایک بیٹا احتشام الرحمن ہیں۔
خلیل الرحمن کی تیرہویں اولاد کلیم الرحمن (پیدائش 1952) کی شادی الہ آباد کے سید ثروت حسین صاحب کی بیٹی رعنا سے 1980 میں ہوئی تھی۔ کلیم الرحمن اکاونٹنٹ جنرل الہ آباد کے دفتر میں اعلی عہدے پر فایض تھے۔ایک بیٹا خسرو اور بیٹی غزل ہیں۔خلیل الرحمن کی آخری اولاد نجم السحر (پیدائش 1954)نے الہ آباد سے بی۔اے کیا۔ان کی شادی گونڈہ کے سلیم اللہ صدیقی سے 1975 میں ہوئی تھی۔ان کے دو بیٹے شاداب اور یوسف ہیں۔دو بیٹیاں نوشین اور نورین ہیں۔
خلیل الرحمن کے سب سے ذہین و فطین صاحب زادے شمس الرحمن فاروقی صاحب تھے۔جن کی پیدائش 30 ستمبر 1935 کالا کانکر ہاو س پرتاپ گڑھ میں ہوئی جہاں ان کے نانا خان بہادر محمد نظیر صاحب ان دنوں اسپشل منیجر کورٹ آف وارڈس کی حیثیت سے مہاراجہ پرتاپ گڑھ کی کوتھی میں مقیم تھے ۔شمس الرحمن فاروقی کی ابتادئی تعلیم ویسلی انٹر کالج اعظم گڑھ سے(1943۔1948) ہوئی تھی ۔ گورمنٹ جوبلی ہائی اسکول گورکھپور (1948۔1949)میں(ہائی اسکول کیا)۔ میاں جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھپور (1949۔1951)میں (انٹر میڈیٹ کیا)۔مہارانا پرتاپ کالج گورکھپور (1951۔1953)سے ( بی،اے کیا)۔الہ آباد یونیورسٹی (1953۔ 1955) (ایم۔ اے انگریزی)کیاتھا۔شادی، 1955 میں جمیلہ خاتون ہاشمی سے ہوئی تھی۔ان کے اساتذہ میں قابل ذکر نام، غلام مصطفی خان، ٹھاکر رام ادھار سنگھ، پروفیسر ایس ۔سی دیب، پروفیسر پی۔ ای۔ دستور، ڈاکٹر ہربنس رائے بچن، پروفیسر پی۔سی۔گپت وغیرہ تھے۔1954۔1955میں ستیش چند ڈگری کالج میں انگلش کے لیکچرر ہوئے۔1956۔ 1958 تک شبلی کالج میں انگلش کے لیکچرر تھے۔ اس کے بعد انڈین پوسٹل سروس کی ملازمت ستمبر 1958 میں اختیار کی اور حکومت ہند کے پوسٹل سروسز بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے جنوری 1994 میں سبکدوش ہوئے تھے۔بیشتر بیرونی ممالک کا سفر بھی کیاتھا۔ محکمہ ڈاک کے مختلف اعلی ترین عہدے پر کمال کامیابی و مقبولیت کے ساتھ کام کرتے ہوئے اکتوبر 1994 میں ممبر پوسٹل سروسز بورڈ نئی دہلی کے عہدہ سے رٹائر ہوئے۔ جن عہدوں پر آپ نے کام کیا تھا ۔ ڈائرکٹر پوسٹل سروسز، ڈائرکٹر پوسٹل ریسرچ اور پلاننگ، وائس چیرمین نیشنل کونسل فار پرموشن آف اردو زبان(NCPUL ) حکومت ہند، ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل پوسٹ اینڈ ٹیلی گراف بورڈ، جوائنٹ سکریٹری حکومت ہند، منسٹر آف انرجی، پوسٹ ماسٹر جنرل، ڈپٹی ڈائرکٹر جنرل، پرسنل پوسٹل سروسز بورڈ، نئی دہلی، چیف پوسٹ ماسٹر جنرل اتر پردیش قابل ذکر ہیں۔ملازمت کے ساتھ آپ کا تصنیفی و تالیفی سفر بھی چلتا رہا اور اب تک آپ کی بحمد اللہ چالیس سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ آپ کی کتاب شعر شور انگیز (94۔1990) جو آپ نے دوران ملازمت ہی تحریر فرمائی، ڈھائی ہزار صفحات پر مشتمل چار جلدوں میں ہے۔ بر صغیر کا سب سے بڑا انعام سرسوتی سمان (پانچ لاکھ روپئے) 1996 میں دیا گیا۔ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن 1997 میں شائع ہوا۔ اس کا ایک جلد ہندی میں ترجمہ ہوا ہے۔مختلف زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوئے ہیں۔کئی چاند تھے سر آسماں، شعر ، غیر شعر اور نثر،تفہیم غالب، تنقیدی افکار، شعریات، عروض و آہنگ، اردو کا ابتدائی زمانہ، افسانے کی حمایت میں،درس و بلاغت ، انتخاب اردو کلیات غالب ، گنج سوختہ،سبز اندر سبز، چار سمت کا دریا، آسماں محراب، اردو تنقیدی مضامین کا مجموعہ ، انگریزی تنقیدی مضامین کا مجموعہ ، مجلس آفاق میں پروانہ ساں، رسالہ شب خون،شمس الرحمن فاروقی کے یہ وہ  لاثانی و لا فانی خدمات ہیں جو رہتی دنیا تک زندہ و تابندہ رہنگی پاکستان نے بھی انہیں اعلی اعزاز سے نوازا ہے۔حکومت ہند نے انہیں متعدد اعزازت سے نوازا ہے جس میں یوپی اردو اکیڈمی ایوارڈ (1972)، آل انڈیا میر اکیڈمی ایوارڈ (1975)، ساہتہ اکیڈمی ایوارڈ (1986)،آل انڈیا میر اکیڈمی ایوارڈ (1992)، شہر بالٹی مور (امریکہ) کی اعزازی شہریت ( 1986)، پنسلوانیا یونیورسٹی (فلاڈفیا امریکہ) سرسوتی سمان، پدم شری اوارڈ اور بہادر شاہ ظفر ایوارڈ قابل ذکر ہے۔
آپ کی دو بیٹیاں ہیں ۔بڑی بیٹی مہر افشاں فاروقی (پیدائش 19 اکتوبر 1957) ہائی اسکول سے ایم۔اے تک فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئیں اور الہ آباد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر بسلسلہ ملازمت امریکہ کے یونیورسٹی آف ورجینیا میں اردو اینڈساوتھ ایشین لیٹریچر کی ایسوسیٹ پروفیسر ہیں۔ انتہایی  صلاحیتوں والی ہیں اور کئی کتابیں لکھ چکی ہیں ۔ افشاں کی شادی ساجد سعید سے 9فروری 1979 کو الہ آباد میں ہوئی۔ آپ کے دو بیٹوں میں بڑے طسین فاروقی (پیدائش 15 نومبر 1980) اور چھوٹے ساحل فاروقی ( 4 ستمبر 1984) امریکہ سے ہی تعلیم یافتہ ہیں۔ آپ کی چھوٹی بیٹی باراں رحمن بھی ذہانت میں بالکل والد پر گیی ہیں۔ ہائی اسکول سے بی۔ایس۔سی تک فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوئیں۔ اس کے بعد انگریزی سے ایم اے میں داخلہ لیا اور فرسٹ کلاس پاس ہوئیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کر کے اسی میں بطور انگریزی پروفیسر کے ساتھ ساتھ گرلس ہاسٹل کے وارڈن کی بھی  خدمات انجام دے رہی تھیں۔
باراں کی شادی 21 نومبر 1986 کو ہوئی۔باراں کے دو بچیاں نیساں صدیقی (15 ستمبر 1989) اور تضمین صدیقی 18 اکتوبر 1993 کو پیدا ہوئی تھی۔
شمس الرحمن فاروقی کے خاندان کے افراد ابتدائی زمانے سے ملازمت کے سلسے میں بنارس ،الہ آباد،مرزا پور ،غازی پور،کلکتہ ، گورکھپور، سیتا پور میں مقیم تھے جبکہ اب بیشتر افراد دلی میں خیمہ زن ہیں ۔ شمس الرحمن نے اپنا ایک مکان الہ آباد میں بنایا جس کا نام” بیت الشمس ” ہے جس کی بنیاد ان کے والد محترم نے رکھی تھی۔ جس کے متعلق ان کے والد خلیل الرحمن قصص الجمیل فی سوانح الخلیل کے صفحہ 282 پر لکھتے ہیں کہ شمس الرحمن سلمہ آج کل اپنی کوٹھی مکمل کرانے کے لئے جس پر مع قیمت زمین کے تقریبا ایک لاکھ روپئے لگ چکے ہیں وہ دو ماہ کے رخصت پر ہیں۔اس کی بنیاد اس نادار مسکین نے ڈالی تھی۔ انھوں نے اس کوٹھی کی تکمیل فارسی کی ایک نظم کے آخر ی مصرع سے نکالی ہے۔ میں نے اس کوٹھی کا نام بیت الشمس رکھا ہے۔ قارئین کرام کے لئے یہ نظم دل چسپی سے خالی نہ ہوگی۔ اس لئے میں اس کے چند اشعار یہاں لکھے دیتا ہوں۔
خالق من کرد بخشش  قبلہ  را
شش ز سنبل ہفت از سرو جمیل
چھہ لڑکیاں سات لڑکے
ہر یکے در روز روشن گفتہ  است
حرف حق  سر  خدا   چو  جبرئیل
من  یکے   ہاشم   کہ   از   بہر   بقا
می نہم ایں یک  دو خشت بے مثیل
قبلہ من  گفت  بیت الشمس گو
کز خدا شد  ایں  نشیمن  بے  عدیل
گفت    ہاتف   زود   تاریخش   بگو
تو کہ  باشی  ذو  فنون  زیرک عقیل
گفتمش  برجستہ  ایں مصرع  چست
دیدہ    باید    بست   گلزار    خلیل
1390 ہجری
شمس الرحمن فاروقی کی طبیعت گذشتہ کئی ماہ سے ناسازتھی۔وہ  دلی میں نیو فرینڈس کالونی میں اپنی بیٹی  پروفیسر باراں رحمن فاروقی کے یہاں قیام پذیر  تھے ، اسکارٹ ہاسپٹل، جولینا، دہلی میں زیر علاج تھے، طبیعت رو بہ صحت ہویی تو الہ آباد جانے کو بضد ہوئے ۔گر چہ کرونا  کی ریپورٹ نگیٹو تھی لیکن سرٹیفیکیٹ ملنے میں تاخیر ہو رہی تھی ۔مہر افشاں فاروقی بھی امریکہ سے والد کی عیادت اور خدمت کے لییدہلی  آ چکی تھیں۔ 25 دسمبر 2020 ،بروز جمعہ شمس الرحمن فاروقی علل صبح محمود فاروقی اور مہر افشاں فاروقی کیہمراہ بذریعہ ایر ایمبولنس  دہلی سے الہ آباد کے لیے روانہ ہوئے۔ تقریبا 10 بجے یہ ایر ایمبولنس الہ آباد پہنچی. 11 بج کے 14 منٹ پر شمس الرحمن فاروقی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔مولوی شمس الرحمن، محمود فاروقی ،امین اختر فاروقی اور شمس الرحمن فاروقی کے بھائی کے پوتی کے شوہر اور دو قریبی عزیزوں نے میت کو ساڑھے 3 بجے غسل دیا ،انہیں لوگوں نے تکفین بھی کی، میت آخری دیدار کے لیے”  بیت الشمس “کے صحن میں رکھی گئی ،نماز جنازہ   الہ آباد کے مشہور عالم دین “مولوی شمس الرحمن” کی امامت میں تقریبا 6 بجے بعد نمازمغرب بیت الشمس کے صحن میں ادا کی گئی۔ تقریبا شام7 بجے نوادہ قبرستان، آشوک نگر میں اپنی اہلیہ جمیلہ فاروقی کے قبر سے متصل سپرد خاک کیے گیے، کتبہ قبر الہ آباد اور شب خون کے مشہور کاتب جناب ریاض صاحب نے لکھا ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون