شمس الرحمٰن فاروقی

پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی
شعبہ اردو ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

فاروقی صاحب کی ابتدائی زندگی کا کچھ حصہ بڑی جدوجہد میں گزرا ۔ان کی خواہش تھی کہ وہ الٰہ آباد یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں درس وتدریس سے وابستہ ہوجائیں ۔چارآسامیاں بھی تھیں لیکن انہیں کسی ایک آسامی پر بھی جگہ نہیں ملی ۔الٰہ آباد یونیورسٹی میں ان کا تقرر نہ ہوسکا۔کچھ عرصہ شبلی کالج اعظم گڑھ میں بھی درس و تدریس کے فرائض انجام دئیے لیکن وہاں بھی وہ کامیاب نہ ہوسکے۔
فاروقی صاحب نے ایک ملاقات کے دوران مجھے بتایا کہ اسی اثنا میں IASکے امتحان کے لیے فارم آئے۔سبھی دوست احباب جوان کی صلاحیتوں سے واقف تھے انہوں نے فاروقی صاحب سے کہا کہ ہم سب IASکے لیے فارم جمع کررہے ہیں ۔آپ بھی فارم بھر کر جمع کردیجئے امتحان میں Appear ہوئے اور IASکے امتحان میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی اور انہوں نے Post & Telegraphکے محکمہ کو منتخب کیا۔فاروقی صاحب تیسرے گریٹ کے Allied Servicesکے IASتھے۔ وہ تاحیات بڑے شہروں میںتعینات رہے اور اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔
ملازمت کے آخری برسوں میں وہ دہلی کے ڈاک بھون میں General Post Masterتھے۔میری اکثر ان سے ملاقاتیں رہیں۔ان دنوں میں جامعہ اسلامیہ نئی دہلی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم تھا۔فاروق صاحب حضرت نظام الدین کے قریب کا کا نگر میں واقع سرکاری بنگلہ میں ان کی رہائش تھی۔میں اکثر اتوار کے دن ان سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جایا کرتا تھا۔بہت علمی گفتگو ہوا کرتی تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب حکیم عبدالحمید کی قائم کردہ غالب اکیڈمی میں ادبی پروگرام ’مشاعرے‘سیمینار اور لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا تھا۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی ،حسن ثانی نظامی،خلیق انجم ،صدیق الرحمٰن قدوائی،گلزار دہلوی، مالک رام،قمر رئیس،کنورمہندر سنگھ بیدی سحر،آلِ احمد سرور،شہریار وغیرہ کا بھی دہلی کی محفلوں میں شرکت کا سلسلہ قائم تھا۔ممبئی سے مشتاق مومن وغیرہ بھی تشریف لاتے تھے۔ذہین نقوی غالب اکیڈمی کے سکریٹری تھے۔فاروقی صاحب اس زمانے میں پائپ پیا کرتے تھے ۔یہ وہی زمانہ تھا جب علی صدیقی نے عالمی اردو کانفرنس منعقد کی تھی اور عالمی سطح پر ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی تھی۔اس زمانے میں فاروقی صاحب کا علمی دبدبہ تھا۔اسٹیج پر کھڑے ہوکر جب وہ تقریر کرتے تو اچھے اچھوں کے حواس باختہ ہوجاتے تھے ۔فاروقی صاحب پر قلم اٹھائیے تو لکھتے ہی چلے جائیے۔انہیں عربی ،فارسی،اردو،انگریزی اور ہندی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ایسی ہشت پہلو شخصیت جن میں محقق ،نقاد،تخلیق کار ،ناول نگار ،افسانہ نگار،شاعر،ماہر لسانیات اورصحافی جیسی بے شمار فنکارانہ جہتیں پوشیدہ تھیں۔انہیں عالمی سطح پر بڑے بڑے انعامات و اعزازات سے بھی نوازا گیا۔موصوف کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگی میں کیاگیا۔آخری ایوارڈ مدھیہ پردیش میں اقبال سمان سے سرفراز کیاگیا۔میری خوش بختی کہ میں اس ایوارڈ کمیٹی کا جیوری کا ممبر تھا اور میں نے میٹنگ شروع ہونے پر سب سے پہلے فاروقی صاحب کا نام پیش کیااور سبھی ممبران نے متفقہ طور پر اسے قبول کرلیا اور فوراً ہی اس کی منظوری دے دی گئی۔فاروقی صاحب کو جب اس ایوارڈ کی اطلاع ملی تو انہوں نے فون پر انکسار کے ساتھ شکریہ ادا کیا۔میں نے فاروقی صاحب سے صرف اتنا ہی کہا کہ آپ کی عظیم شخصیت اور ادبی خدمات کے سامنے یہ ایوارڈ بہت چھوٹا ہے۔
2019ء میں ہم لوگوں نے فاروقی صاحب کو شعبۂ اردو علی گڑھ میں آنے کی دعوت دی۔ مرحوم پروفیسر ظفر احمد صدیقی صدر شعبہ تھے ۔فاروقی صاحب نے غزل کے استعارے پر ایک عالمانہ خطبہ دیا۔شعبے میں فاروقی صاحب کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس پروگرام میں شعبہ کے سبھی اساتذہ موجود تھے۔سید محمد اشرف کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔فاروقی صاحب کا لکچر ختم ہونے کے بعد صدر شعبہ اور دیگر اساتذہ نے ان کے عالمانہ لکچر پر سیر حاصل گفتگو کی ۔سید محمد اشرف نے حوالہ کے طور پر میر کا یہ شعر پڑھا:
شام ہی سے بجھا سا رہتا ہے
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
فاروقی صاحب نے شعر کی تصحیح کرتے ہوئے اس طرح پڑھا۔
شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوں
دل ہوا ہے چراغ مفلس کا
کلیات میر کے دیوان اول میں یہ شعر موجود ہے۔
فاروقی صاحب نے شاہانہ زندگی گزاری ۔اعلیٰ درجہ کی ملازمت کی۔انتہائی اعلیٰ ادبی ذوق کے علاوہ ان کی ذاتی پسند و ناپسند اور مختلف قسم کے شوق بھی ان کی شاہانہ زندگی میں شامل رہتے۔الٰہ آباد میں ان کے بنگلے کے باغیچہ (Lawn) میں نہایت ہی عمدہ قسم کے گلاب اور دیگر قسم کے پھول موجود تھے۔اعلیٰ نسل کے کتے گھر پر رکھنا ہمیشہ فاروقی صاحب کی کمزوری رہی۔دم آخر تک ان کے یہاں اعلیٰ نسل کے کتے پلے ہوئے تھے۔پرندوں کو پالنے کا بھی انہیں بے حد شوق تھا۔گھر کے وسیع وعریض آنگن کے ایک حصے میں بڑے بڑے پنجرے بنوائے تھے۔پہلے ان پنجروں میں موربھی ہوتے تھے۔لیکن بعد میں حکومت کی جانب سے مور پالنے پر پابندی ہونے کے باعث موروں کو ہٹا دیا گیا۔بہرحال چڑیاں ہمیشہ رہیں ۔جن میں مختلف قسم کی دیسی بدیسی چڑیاں شامل تھیں۔ان تمام پرندوں اور جانوروں کی نگہداشت فاروقی صاحب ذاتی طور پر دلچسپی لیتے تھے ۔ان کے کھانے پینے ،سردی گرمی سے حفاظت اور پنجروں کی صاف صفائی محض ملازموں کے ہاتھوں تک محدود نہ تھی۔وہ خود بھی اس کا خیال رکھتے تھے۔بارش کے موسم میں خود ان کے پنجروں پر برساتی ڈھکتے تھے۔ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے اسے لائبریری میں تبدیل کردیاتھا۔ان کا زیادہ تر وقت یہیں گزرتا تھا۔یہیں بیٹھ کر وہ مطالعہ بھی کرتے تھے اور مہمانوں سے گفتگو بھی کرتے تھے۔
30ستمبر 1924ء کو ان کی پیدائش ہوئی ۔1951ء میں IASکا امتحان پاس کیا۔اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ۔1994ء میں پوسٹ آفس بورڈ کے ممبر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔1926ء میں شب خوں الٰہ آباد سے شائع کیا۔2005ء میں بند ہوگیا۔جامعہ ملیہ نئی دہلی میں خان عبدالغفار خاں میموریل چیئر پر بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دیں ۔1991ء میں university of pennsylvania philadelphiaمیں Adjunct پروفیسر رہے۔
تصانیف میں لفظ و معنی ،شعر غیر شعرا اور نثر ،عروض آہنگ اور بیان شعریات ،تنقیدی افکار،تفہیم غالب ،شعر شور انگیزفانی باقی ،داستان امیر حمزہ،زبانی بیانیہ ،بیان کنندہ اور سامعین ،داستان امیر حمزہ کا مطالعہ ،جدیدیت کل اور آج اردو کا ابتدائی زمانہ فاروقی صاحب کے چار شعری مجموعے شائع ہوئے۔ان کی منتخب شاعری یعنی کلام انگریزی ترجمہ The Color of Black Flowerکے نام سے شائع ہوا۔فاروقی صاحب کی فارسی شاعری کے انگریزی تراجم کا مجموعہ The Shadow of Birds in Flightکے نام سے شائع ہوا۔ 1996ء میں انہیں شعر شور انگیز پر سرسوتی سمان دیا گیا۔2009ء میں انہیں اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے نوازا گیااور آخری ایوارڈ 2019ء میں اقبال سمان مدھیہ سے نوازا گیا۔
اردو کا ابتدائی زمانہ،ادبی تہذیب و تاریخ کا پہلو
شمس الرحمٰن فاروقی کا یہ مضمون /مقالہ شکاگو یونیورسٹی میں ایک ادارہ National Endormenf Fortiumanitiesکے تعاون سے عالمی سطح پر ’’ہندوستان کی بڑی زبانوں کی ادبی تہذیب و ثقافت اور تاریخ سے متعلق رشتوں اور باہمی ‘‘روابط کے موضوع پر ایک کانفرنس کا انعقاد پروفیسر شیلڈن پالک کی نگرانی میں منعقد کیا گیا تھا۔Early Urduکے موضوع پر فاروقی صاحب کو انگریزی میں مقالہ لکھنے کے لیے کہا گیا تھا۔ بعدازاں تین چار برس کے عرصہ میں یہ مقالہ ایک پوری کتاب بن گیا۔اصل کتاب انگریزی میں ہے جو آکسفورڈ یونیورسٹی پر یس نئی دہلی میں ہے۔اردو کا ابتدائی زمانہ اردو ترجمہ ہے۔اس کتاب میں فاروقی صاحب نے اصلاح زبان کی مہم ،ہندی اور ہندوی ،فارسی کا عروج و زوال،ایہام گوئی کی تحریک،استادی اور شاگردی کا ادارہ دہلی کے علاوہ کیوں قائم نہیں ہوں اور اس کی وجہ،اساتذہ فن کی زبان دانی ،اصلاحات کے علاوہ بس دہلی اور اور لکھنؤ اسکول تک گفتگو کی ہے۔پرانے زمانے میں اردو نام کی کوئی زبان ہی نہیں تھی۔قدیم اردو کی اصطلاح بالکل غلط ہے۔اردو نوعمر لفظ ہے،البتہ لفظ ہندی زمانہ ٔ قدیم ہی سے موجود ہے۔آج ہم جس زبان کو اردو کہتے ہیں ۔پرانے زمانے میں اسی کو ہندوی،ہندی ،گجری،دکنی او رپھر ریختہ کہا گیا۔اور یہ نام اسی ترتیب سے سامنے آئے ہیں۔سترہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے تقریباًوسط تک اردو زبان کا وہ روپ دکن میں بولا جاتا ہے۔دکنی کہلایا۔اور شمال میں ایک عرصہ تک ریختہ اور ہندی دونوں ہی ساتھ ساتھ استعمال ہوئے۔یہ حالت اٹھارویں صدی تک رہی۔
انگریزوں نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لحاظ سے اندوستانی ،اندوستان وغیرہ کے لفظ استعمال کیے۔اٹھارویں صدی میں ریختہ کو بے تکلف استعمال کیا جانے لگا۔میر نے یہ کہا
گفتگو ریختے میں ہم سے نہ کر
یہ ہماری زبان ہے پیارے
انیسویں صدی میں ہندی اور اردو دونوں زبانیں استعمال ہونے لگیں۔بیسویں صدی کے اوائل میں ہندی کو اردو کے معنی میں استعمال کیا گیا۔زبان کے نام کے حیثیت سے لفظ اردو 1780ء میں پہلی بار استعمال ہوا۔ایک خیال یہ بھی ہے کہ لفظ اردو سے شاہجہاں آباد شہر مراد ہو۔محمود شیرانی نے اپنے ایک مضمون ’اردو زبان اور اس کے مختلف نام‘ سے مفصل بحث کی ہے او رمصحفی کا ایک شعر نقل کیا ہے۔
خدا رکھے زبان ہم نے سنی ہے میرو مرزا کی
کہیں کس منھ سے ہم اے مصحفی اردو ہماری ہے
لفظ اردو کا استعمال اٹھارویں صدی کے اواخر سے قبل نہیں ملتا۔مغل خاندان کے چند افراد ،اور سلاطین اور شاہان مغلیہ ہندی یعنی آج کی اردو سے بخوبی واقف تھے۔ہندی وہی زبان ہے جسے ہمارے فاضل مصنفین ہندوستانی کہتے ہیں۔فاروقی صاحب کا خیال ہے کہ :
1750ء کے آس پاس اشرافیہ طبقہ میں’ اردوئے معلی‘سے وہ زبان ہرگز مراد نہ تھی جسے ہم آج اردو کہتے ہیں ۔البتہ لفظ ہندوستانی فارسی کے کسی لغت میں نہیں ملتا۔
یہ زبان سب سے پہلے ادبی حیثیت سے گجرات میں قائم ہوئی ،دکن میں نہیں۔یہ بات سراسر غلط ہے کہ یہ زبان مغل فاتحوں کے لشکر کی زبان تھی۔انگریزوں کی نظر میں ہندوستانی اور ہندی دو الگ الگ زبانیں ہیں جس کا نام بعد میں اردو ہوا اور انگریزوں نے ہندوستانی کہہ کر پکارا۔ہندی ،ہندوی اور ہندوستانی ایک ہی زبان ہے۔وہ گلکرسٹ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتے کہ ہندوی سے ہندوئوں کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔اس لیے’ ہندوستانی ‘لفظ استعمال کیا جائے۔شہاہجہاں آباد کے لوگ اسے اردو معلی کہتے تھے۔خان آرزو نے 1750ء کے آس پاس فارسی کو زبان اردوئے معلی کہا ہے۔میرامن کہتے ہیں کہ میں نے باغ و بہار اردوئے معلی کی زبان میں لکھی ہے۔گلکرسٹ نے ایک جگہ اردو کو ملواں زبان (Mixed Language) کہا ہے۔ژول بلاک کا خیال ہے کہ 1850ء کے بعد ہندی آہستہ آہستہ ہندوئوں کی لنگوافر انکا کی شکل میں نمودار ہوئی۔بھارتیندو ںنے یہ اعلان کیا تھا کہ ان کی اور ان کی قوم کی عورتوں کی زبان اردو ہے۔(1871ء)
1871ء ۔ 1884ء Plats Dictnoraryانیسویں صدی کی نویں دہائی تک لفظ اردو بطور اسم رائج ہوگیا اور انگریزوں نے لفظ ہندوستانی ترک کردیا۔انگریز یہی چاہتے تھے کہ اردو کو مسلمانوں کی زبان کے طور پر جانا جائے۔اس کے بعد رسم الخط کا مسئلہ شروع ہوا۔راجا جے کشن داس اور سر سید کے معاملات رسم الخط کے حوالے سے انگریزوں نے بہرحال ہندوستانی فوجی اردو کے لیے رومن رسم خط جاری کیا تھا لیکن رومن رسم الخط اردو کی بہت سی آوازیں تلفظ یا ادا نہیں کرسکتا۔گارساں دتاسی اس کے خلاف تھے۔گراہم بیلی کا خیال ہے کہ’’اردو کی پیدائش 1027ء لاہور،کھڑی بولی اس کی سوتیلی ماں ہے۔زبان کا نام اردو سات سو برس بعد میں ظہور پذیرا ہوا۔اتفاق نہیں کیا جاسکتاالبتہ ہندی مسلمانوں کا دیا ہوا نام ہے۔ہندی لفظ قرون وسطیٰ میں یوں بھی استعمال ہوا ہے کہ اس سے کوئی بھی زبان مراد ے لی جائے۔البیرونی نے اسے معنی سنسکرت کے لکھا ہے۔ہندوی زبانوں کی بہت سی اقسام بھی بتائی ہیں۔مسعود سعد سلیمان نے ہندوی زبانوں کی بہت سی اقسام بھی بتائی ہیں ۔خسرو سے لے کر بہاالدین باجن کدم رائو پدم رائو فخر دین نظامی افضل اورخسرو کے حوالے سے کلام میں ’روانی ‘ سے مفصل بحث کی ہے۔اصلاحات کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔
خُوب چشتی(1539-1614ء)
گجری کے سب سے بڑے شاعر تھے۔مثنوی کی ہیت کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔اردو شعریات کے اولین نظریہ ساز تھے۔متصوفانہ ارادت سے بھی شاعری کو فروغ ملاوجہی کی یوسف زلیخا کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔فاروقی صاحب لکھتے ہیں کہ قصہ مہر افروزو دلبر کے مصنف عیسویں خاں کا ذکر نہیں ملتا۔شمالی ہند میں ہندوی کی قدیم ترین یادگار افضل کی بکٹ کہانی ہے۔شمالی ہند میں اردو ادب کا پہلا غیرصوفی نام محمد افضل کا ہے۔
ہندوی کیا ہے ،اس کی وضاحت کہیں پر نہیں ملتی۔
رام بابو سکسینہ نے 1927ء میں اردو ادب کی تاریخ لکھی۔محمد عسکری نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ولی کے 65نسخوں کی نشان دہی کی ہے۔ولی کہاں پیدا ہوئے کوئی تاریخ نہیں ،شاہ گلشن سے ولی کی گہری وابستگی تھی۔یہ بھی ایک سوال ہے کہ ولی کے اجداد شمالی ہند سے تعلق رکھتے تھے۔البتہ ولی نے یہ ثابت کردیا کہ گجری اور دکنی کی طرح ہندی/ریختہ میں ہی بڑی شاعری کی صلاحیت ہے۔دہلی والے ریختہ اور غزل کو الگ سمجھتے رہے او رریختہ کو غزل سے کم تر گردانتے رہے۔ان کے نزدیک فارسی میں شعر کہنا آسان تھا ۔’’استادی اور شاگردی کا سہرا‘‘۔ محض دہلی کی ادبی تہذیب کے سر ہے۔یہ سلسلہ دکنی ، فارسی یا گجری وغیرہ میں نہیں تھا۔یہ سلسلہ فن شعر میں ’پیر و مرشد ‘اور موسیقی کی استادی اور شاگردی سے شروع ہوا۔فارسی کو پہلا بڑا دھکا انگریزوں سے شمالی مشرق میں لگا ۔جہاں انہوں نے 1831ء میں بنگال میں بنگالی اور دیگر ریاستوں میں لوکل زبانیں رائج کیں۔نہرو کی شاعری کا دعوت نامہ 1916ء میں فارسی اور انگریزی میں تھا۔لسان کی قوت (Language)زبان یعنی Paroleسے بہت زیادہ ہے۔اساتذہ کی بولی ہوئی لفظیات کوہی شاگرد مستند مانتے ہیں۔مضمون اور معنی کے استعمال پر بھی فاروقی صاحب نے سیر حاصل گفتگو کی ہے۔شعر کی قواعد پر بھی خاطر خواہ تبصرہ کیا ہے۔شمس الرحمٰن فاروقی کی علمی و ادبی خدمات اردو زبان و ادب کے سرمایہ میں قابل ذکر اضافہ تسلیم کی جاتی ہیں۔