گوشہء انٹرویو


ملیے اس سے کہ جو آدم ہووے
(شمس الرحمن فاروقی سے طویل گفتگو)

پروفیسر محمدنعمان خاں

30 جولائی 2018ء کو بھوپال میں ہندی کی ایک فعال تنظیم ’’سماس‘‘ نے اردو ادب کی معتبر اور مستند شخصیت شمس الرحمن فاروقی کو میرؔ و غالبؔ پر خصوصی خطبات کے لیے مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر میرے ذریعے ان سے لیا گیا اہم انٹرویو پیش ہے۔ اس انٹرویو کے دوران برادرم ڈاکٹر مختار شمیم، محمود ملک اور آصف سعید نے موجود رہ کر اس کی رکارڈنگ میں معاونت کی۔
محمدنعمان : یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آپ نے اردو ادب کی مختلف اصناف میں جو تاریخ ساز کام کیا ہے اس کی بنا پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتنا بڑا ناقد ، ادیب، مفکر اور تخلیق کار فی الحال نظر نہیں آتا۔ حالانکہ آپ کی تعلیم انگلش میڈیم میں ہوئی پھر آپ اردو ادب کی طرف کس طرح متوجہ ہوئے۔
فاروقی صاحب: آپ نے اردو والوں کا انداز برقرار رکھتے ہوئے میری تعریف میں مبالغے سے کام لیتے ہوئے جو کچھ فرمایا اس کے لیے میں آپ کا ممنون ہوں۔ بھائی … میں اتنا بڑا آدمی نہیں ہوں . جو بھی میں نے کام کیا سمجھئے کہ اللہ نے مجھ سے کام لے لیا۔ میں بہت چھوٹا آدمی ہوں۔ میں ادب کا کوئی تاریخ ساز شخص نہیں ہوں۔
بہر حال جو آپ نے پوچھا تو میں کہوں گا کہ اول تو ادب اور مذہب میں کوئی بیر نہیںہے۔ ہم مسلمانوں کے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ چاہے وہ یہاں کے ہوں یا مدراس کے یا پنجاب کے۔ اس زمانے میں ہر گھرانے میں اردو اور فارسی کا تھوڑا بہت ذوق رہتا ہی تھا۔ اللہ کی مہربانیاں اور آپ دوستوں کی محبتیں شامل ہیں۔ ہمارے یہاں یہ عام بات تھی کہ لوگوں کو شعر بہت یاد تھے۔ ابّا مرحوم مجھے شعر بہت یاد کرایا کرتے تھے۔ کسی محفل میں کئی بزرگ بیٹھے ہیں کوئی اردو کا شعر پڑھ رہا ہے کوئی فارسی کا شعر پڑھ رہا ہے۔ یہ بالکل ایمان کی بات ہے کہ مجھے کہیں سے یہ ترغیب نہیں ملی کہ میں ادیب بنوں یا آج کی زبان میں کہوں تو لکھاری‘‘ بنوں۔ کیا بے ہودہ لفظ ہے لکھاری ! ارے بھئی مصنف موجود ہے، ادیب موجود ہے۔ قلم کار اچھا لفظ نہیں ہے پھر بھی لکھاری سے بہر حال اچھا ہی ہے۔ مگر میرے دل میں یہ بات تھی کہ میں اردو میں لکھنے والا بنوں۔ میرے والد اردو، فارسی جانتے تھے۔ انگریزی اچھی جانتے تھے تو مجھے ترغیب دیتے تھے کہ اگر تمہاری انگریزی اچھی نہیں ہے تو اس کے بغیر گزارا نہ ہوگا۔ وغیرہ۔
تو سب نوکر پیشہ لوگ تھے۔ ہمارے نانیہال میں بہت دور جا کر کے کچھ شاعر ہوئے ہیں مگر داد یہال میں تو صرف عالم اور مولوی لوگ تھے۔ تو خاندان میں اسکول ماسٹر، لیکچرر ، تحصیلدار وغیرہ اس قسم کے لوگ تھے۔ کہیں سے ترغیب ان لوگوں سے مجھے نہیں ملی۔ بس دل میں ایک جذبہ تھا کہ یہ اردو اپنی زبان ہے اور اچھی لگتی ہے پڑھنے، بولنے میں، تو میں نے سوچا کہ میں اردو میں لکھوں گا۔ جب میں آٹھ سال کا تھا تو کچھ کا غذ لیکر اس کی جلد بندی کر کے ایک رسالہ بنالیا اور اس کا نام ’’گلستان‘‘ رکھ دیا۔ میری بڑی بہن تھیں جو پاکستان چلی گئیں۔ زہرا نام تھا۔ وہ افسانے لکھ لیتی تھیں۔ میں بھی افسانے لکھا کرتا تھا۔ کچھ شعر لکھ لیے کچھ اقبال وغیرہ کی نظمیں لکھ لیں تو اس طرح یہ گلستان ہمارا کوئی چار پانچ برس نکلا۔ تو آپ اس کو بنیاد مان لیجئے شمس الرحمن فاروقی کے پرچہ نکالنے کی۔ ہمارے جیسے مسلمان کو جو آزادی سے پہلے کا متوسط طبقے کا ہے، مذہبی ہے۔ ڈاکٹر بننا اس کے بس میں ہے نہیں۔ اتنا پیسہ نہیں ہے اس کے پاس۔ انجینئر بننا آسان نہیں تھا۔ اب تو محلے محلے میں مل جاتے ہیں۔ اس زمانے میں یوپی میں خاص طور سے بس یہ تھا کہ عالم فاضل بن جاؤ یا کسی کالج میں لیکچرر ہو جاؤ یا زیادہ سے زیادہ انگریزی پڑھ لکھ کر چھوٹے موٹے افسر یا انسپیکٹر۔ آگے بڑھنے کا کوئی شوق ہی نہیں تھا۔ مزاج میں ایک سکون طلبی تھی (اسے میں برا نہیں سمجھتا ہوں ) اس زمانے میں ملک کے جو حالات تھے، شور غل تھا آزادی کا، تقسیم کا۔ مولانا آزاد، سید سلیمان ندوی، نہرو جی، گاندھی جی گھر کے لوگ تھے۔ ان کے بارے میں روز ہی باتیں ہوتی تھیں۔ آج مولانا نے یہ کہا…!
نانیہال میں مسلم لیگ کے لوگ آیا کرتے تھے تو کبھی کسی کے دل میں یہ خیال نہ آتا تھا کہ ہم ڈاکٹر بنیں… انجینئر بنیں… کلکٹر بنیں یا سول سروسیز میں جائیں۔ یہ کسی کی توقع اور مزاج میں تھا ہی نہیں۔ یا کہنے کی ہمت نہیں تھی۔ میرے مرحوم باپ یہ کہا کرتے تھے کہ انگریزی اچھی ہونی چاہیے۔ اچھی انگریزی پڑھو گے تو اچھی نوکری پاؤ گے۔ گاندھی جی کے بہت معتقد تھے اور کہا کرتے تھے کہ گاندھی جی کتنی اچھی انگریزی بولتے ہیں۔ تم نہیں بولتے اچھی انگریزی۔ تمہارا خط ہی اچھا نہیں ہے۔ اعظم گڑھ میں ہمارے گھر کے پاس ایک مدرس تھے۔ خط ان کا بہت اچھا تھا۔ والد صاحب نے مجھے وہاں ان کے پاس بھیجا کہا کہ جاؤ وہاں جا کر سیکھو۔ تو مہینوں میں نے ان کے پاس جا کر سیکھا کہ شوشہ کیا ہوتا ہے، کرسی اسے کہتے ہیں، دائرہ اسے کہتے ہیں تو یہ سب مولانا نے سکھایا تو دل میں جو ایک امنگ تھی۔ شعر گوئی کا ماحول موجود تھا شعر کہو، افسانہ لکھو، نظم لکھو شروع شروع میں شعر بھی کہے۔ سات سال کی عمر میں ایک شعر کہا جس کا مصرعہ ہے:
معلوم کیا کسی کو میرا حال زار ہے
تو ایک فطری راستہ چل رہا تھا۔ اب سات سال کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔ اکیلے تو ہم تھے نہیں او پر دو بڑی بہنیں۔ پیچھے پانچ سات بھائی۔ تنگی کا زمانہ تھا کسی کو کھانے کو کیا ملے کسی کو پہننے کو کیا ملے۔ والد ہمارے بہت ایماندار۔ اسکول میں ڈپٹی انسپکٹر تھے۔ بہت خوش پوش رہنے والے تھے۔ جن کپڑوں کو وہ دھوبی کو دھلنے کو دیا کرتے تھے انہیں دیکھ کر میں کہتا تھا کہ یہ کپڑے تو بالکل صاف ہیں، انہیں تو میں سات آٹھ دن پہن سکتا ہوں۔ بڑے خوبصورت آدمی تھے۔ شیروانی ، ٹوپی پہنتے تھے۔ ہم لوگ معمولی کپڑے پہنتے تھے۔ امّاں بے چاری کی یہ حالت ایک بچہ پیٹ میں ہے۔ ایک کو دودھ پلا رہی ہیں ایک کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھا رہی ہیں۔ تواس زمانے میں یہ مصرعہ کہا کہ :
معلوم کیا کسی کو میرا حال زار ہے
تو اس طرح دل کے حال کا بیان کیا۔ اسی طرح پڑھتے رہے لکھتے رہے۔ کچھ جماعت اسلامی کے لوگوں سے ربط ہو گیا۔ کمیونسٹ پارٹی سے نفرت تھی مجھے۔ ہمارے والد کے دوست تھے حسن سعید صاحب۔ بڑی حسین داڑھی بہت خوبصورت آدمی تھے۔ وہ کمیونسٹ تھے۔ کسٹم میں تھے وہ۔ ایک دن میں نے ہمت کر کے پوچھا کہ یہ آپ نے کمیونسٹ پارٹی کیوں چھوڑی؟ تو انھوں نے کہا۔ ان کا جملہ مجھے آج تک یاد ہے۔ انھوں نے کہا وہ لوگ بداخلاق بہت ہیں اور مجھے لگا کہ بداخلاقی دنیا میں چلے گی نہیں اس لیے میں پارٹی سے الگ ہو گیا۔ جماعت اسلامی سے ہماری بنی نہیں۔ جماعت اسلامی میں بھی وہ ہی پابندیاں تھیں جو ترقی پسندوں کے یہاں تھیں۔ پروگرام پر پروگرام۔ بارش ہو رہی ہو تو بھی پروگرام، اصلاح پرستی کو قائم رکھو۔ تو ہم نے کہا کہ بھئی یہ ہم سے نہ ہوگا ،تو کچھ دن ان کے ساتھ اٹھے بیٹھے۔
ناولٹ بھی لکھا میں نے لڑکپن میں۔ جی … شمس الرحمن ہیں کوئی کم تھوڑے ہی ہیں(ہنستے ہوئے)۔ 1950-51 کی بات ہے گیارہویں جماعت کی لیکن وہ بچکانا چیز تھی بالکل 14-15 سال کے لڑکے کی عقل ہی کتنی ہوتی کمبخت کی۔ حفیظ میرٹھی صاحب نے چھاپا اسے چار قسطوں میں۔ بہر حال کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شروع سے ہی میرا مزاج عاشقانہ تھا۔ اس میں کوئی تضادنہیں۔ ہم نے اس عمر میں ہی سب معمّے حل کر لیے۔ گناہ بھی… ثواب بھی… !
محمد نعمان :آپ پہلے شاعری کی طرف متوجہ ہوئے یا فکشن کی طرف؟
فاروقی صاحب : پہلے میں نے شعر لکھے بعد میں شعر لکھنا چھوڑ دیا اور افسانے لکھے۔ کئی افسانے لکھے اور وہ چھپے بھی۔ ایک مزے کی بات یہ ہے کہ ایک بار میں نے ایک افسانہ کہیں بھیجا۔ کئی دن ہوگئے جواب نہیں آیا۔ ان دنوں کوئی جواب دیتا نہیں تھا۔ میں تو بچوں سے اکثر کہتا ہوں کہ کم بختوں میں تو یہ ظاہر کرتا تھا کہ مدیر یہ لکھ کر ہی بھیج دے کہ یہ افسانہ نہیں چھپے گا کیوں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کم سے کم افسانہ پہنچ تو گیا۔ تو خیر ایک بارامّاں نے پنساری کے یہاں سے سامان لانے کے لیے بازار بھیجا تو جس کاغذ میں اس نے سامان باندھ کر دیا اس میں میرا افسانہ چھپا تھا۔ آج تو بھائی صاحب! معاف کیجئے پیسہ موافق ہے اردو کے بازار میں۔ ہر آدمی شاعر بن جائے دومنٹ میں۔ ہر آدمی چار دن میں افسانہ نگار بن جائے۔ اگلے دن اس کو مقالہ نگار مل جائے۔ ابھی آپ کی کتاب چھی بھی نہیں ہے (انٹرنیٹ کا کمال)۔ کتاب آپ کے پاس حاضر ہے۔ اب تو یہ زمانہ آگیا ہے کہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ میرے ووٹ سے تو پرائم منسٹر بنتے ہیں تو پھر میں اپنے آپ کو غالبؔ کیوں نہ کہوں ، میرؔ کیوں نہ کہوں ؟
محمد نعمان : آپ کی کتاب ’’افسانے کی حمایت میں‘‘ کے نام سے تو لگتا ہے کہ افسانے کی حمایت میں ہے… مگر ہے نہیں…؟
فاروقی صاحب : حمایت میں ہے…! حمایت میں اس لیے ہے کہ جس گھوڑے کو تمہیں دوڑانا ہے ریس میں اسے تم بیل گاڑی بنا کر لاد ر ہے ہو۔ یہ کیا کر رہے ہو بھائی۔ یہ تو شارٹ چیزہے نا ! اس میں باریک باتیں، چھوٹی باتیں کہی جاتی ہیں۔ یہ ایک لطیف صنف سخن ہے۔ انسان کی نفسیات کی باریکیوں، گہرائیوں کو آپ بیان کر سکتے ہیں۔ فکشن میں، افسانے میں وہ شاعری میں نہیں کر سکتے۔ چنانچہ لوگوں نے ہمت بھی کی اور شاعری میں بھی ناول لکھا۔ آپ کے زمانے میںوکرم سیٹھ نے منظوم ناول لکھا، Golden Death پشکر صاحب نے منظوم ناول لکھا۔
افسانہ نگاروں نے بھی کوشش کی کہ شاعری کی طرف جائیں لیکن یہ دیکھتے ہوئے کہ افسانے کی خوبی یہ ہے کہ یہ زندگی کی باریکیوں کو جتنا اچھا افسانہ بیان کر سکتا ہے وہ شاعری نہیں کر سکتی، یہ ایک خوبی ہے۔ لیکن اب آپ نے چھکڑا بنا دیا۔ ایسا معلوم ہورہا ہے کہ سب سماجی سدھار اسی سے ہو رہا ہے۔ ہر آدمی کی اصلاح اسی سے ہورہی ہے۔ ہر آدمی مسلمان اسی کو پڑھ کر ہو رہا ہے۔ یہ کیا بات ہے بھائی؟ تو میں نے اس میں لکھا کہ پلاٹ کسے کہتے ہیں، کردار نگاری کس کا نام ہے۔ پریم چند کس طرح ناک پکڑ پکڑ کر گھماتے رہتے ہیں…
افسانہ نگار کو چاہیے کہ وہ چھوڑ دے اپنے قاری کے اوپر کہ نتیجہ تم نکالو نہ کہ یہ کہ مار مار کے اسے بتا رہے ہیں کہ میں نے یہ لکھا ہے ! اس کا مطلب یہ نکلتا ہے۔ پریم چند نے لکھا ہے کہ جب تک کوئی نفسیاتی نکتہ یا کوئی اخلاقی سبق میرے سمجھ میں نہ آئے تب تک میں افسانہ نہیں لکھتا۔ مطلب یہ کہ بچے کو ڈنڈا مار مار کے پڑھا رہے ہیں کہ پڑھ بے… ! تو یہ ہم نے کہا کہ افسانے کو افسانہ رہنے دو بھائی۔ اس لیے میں نے کہا کہ آپ حمایت کی جو بات کہہ رہے ہیں وہ یوں ہے۔ یہ آپ اس سے وہ کام لیجئے کہ جس کے لیے اس کو بنایا گیا ہے۔
محمد نعمان : ہمارے یہاں تاریخی ناول کی وقیع روایت رہی ہے۔ آپ کا جو ناول ہے ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ ظاہر ہے اس کی نوعیت علیحدہ ہے۔ یہ وسیع تر تناظر میں ہے۔ اس میں تاریخی، سیاسی، سماجی پس منظر سب سمٹ آیا ہے۔ عینی آپا کے یہاں بھی یہ پس منظر ملتا ہے۔ تو آپ کیا محسوس کرتے ہیں کہ اس کے اضافی پہلو کیا ہیں۔ جو اس سے پہلے ہمارے تاریخی ناولوں میں نہیں آسکے۔
فاروقی صاحب : جناب پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اس کا منکر ہوں کہ یہ تاریخی ناول ہے۔ اگر آپ اس کو تاریخی ناول کہتے بھی ہیں توکہیے آپ کی مرضی۔ کتاب جو ہے وہ پڑھنے والے کی ہوتی ہے۔ فنکار تو ٹوٹا پھوٹا اپنی بات کہہ کر نکل گیا اب مال تو آپ کا ہے۔ آپ اسے تاریخی کہیں تو ٹھیک ہے۔ آپ اسے جغرافیہ کی کتاب کہیں تو ٹھیک ہے۔ لیکن میں نے اپنے خیال میں تاریخی ناول نہیں لکھا ہے۔ کچھ باتیں اس میں ایسی ہیں کہ پیش آئی ہیں۔ اگر یہی شرط ہے تاریخی ناول کے لیے۔
محمد نعمان : خیر وہ تاریخی ناول نہیں کہلائے گا کیوں کہ اس میں 1857ء کا ذکرنہیں ہے۔
فاروقی صاحب: ٹھیک ہے 1857ء کا نہیں آئے گا تو 1957ء کا آجائے گا۔ ہم پوری ر سرچ کریں گے ان کے بارے میں…
اچھا بھائی اس میں تاریخ کے کسی اہم کردار یا کسی اہم پہلوکو واضح کیا گیا ہو یا جس میں واقعات کے سلسلے اخذکئے گئے ہوں یا اس کی مضمرات کو بیان کیا گیا ہو یا اس کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائی گئی ہو کہ ایسا کیوں تھا یہ آدمی۔ یا کیوں نہیں تھا وغیرہ وغیرہ۔ وہ تاریخی ناول کہلائے گا۔ جس کی تاریخ میں کوئی اہمیت ہو۔ آپ سب مسلمان بھائی ہیں۔ ایمان والے لوگ ہیں۔ سیدھی بات ہے کہ آپ لوگوں نے اس ناول سے پہلے وزیر خاناں کا نام سنا تھا۔ تاریخی ناول ہوگا تو سکندر اعظم کے بارے میں ہوگا، چنگیز خاں کے بارے میں ہوگا ، بابر یا اکبر کے بارے میں ہوگا نہ کہ میرے بارے میں ہوگا۔ تاریخی ناول کسی بہت بڑے، اہم واقعہ یا بہت اہم کردار یا واقعات کے سلسلے بیان کرتا ہے اور پھر اس میں سے معنی اخذ کرتا ہے کہ میرے خیال میں یہ یوں ہے یوں ہے۔ یوں ہوگا یوں ہوگا۔ یہ اگر اس میں نہیں ہے صرف اس لیے کہ جو اس میں چند لوگ آگئے ہیں ٹوٹے پھوٹے جو کبھی زندہ بھی کسی زمانے میں تھے تو اس کو تاریخی ناول نہیں کہیں گے۔
محمد نعمان : تو پھر آپ اس کو کیا مانیں گے؟
فاروقی صاحب : جناب میں اس کو کہتا ہوں ’’تہذیبی بازیافت‘‘ اور اگر آپ کو مزید جواب چاہیے تو آپ بتائیں جتنے زیور میں نے اس میں لکھے ہیں آپ کا بھوپال جو مسلمانوں کا مرکز رہا ہے اور شرفا کا مرکز رہا ہے یہاں ایک سے ایک زیور پہننے والیاں ، بنوانے والیاں رہ چکی ہیں۔ جاؤ پوچھ آؤ ان سے جتنے زیور میں نے اس میں لکھے ہیں کیا ان کو معلوم ہیں۔ کیسے لوگ نشست و برخواست کرتے تھے معلوم ہے۔ جس طرح میں نے لکھا ہے۔ لوگ کیسے محبت کرتے تھے، کیسے نفرت کرتے تھے۔ کیسے لڑتے تھے لڑنے کی بنا کیا ہوتی تھی۔ شعر کہنے کی بنا کیا ہوتی تھی شعر کیوں کہتے تھے۔ وہ سب باتیں کہ جن کو ہم بھلا چکے ہیں ان کا ذکر ہے۔
محمد نعمان : کیا یہ سب آپ کے مطالعے میں تھا یا آپ کے مشاہدے کا حصّہ ہے ؟
فاروقی صاحب : بہت سا حصہ میرے مشاہدے میں تھا۔ مجھ کو ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ باپ کا گھر میرا دیو بندی پکّا۔ وہاں بھی میلا د نہیں ہوتا تھا۔ کبھی محرّم کا حصہ نہیں بٹتا تھا۔ جہاں ٹخنے سے اونچا پائجامہ پہنا جاتا تھا۔ اماں کے یہاں کا ماحول ایک دم بریلوی۔ جس میں محرم بے انتہا شامل۔ جہاں رونا بھی ہے، ماتم بھی ہے مجلس بھی ہے، سوز بھی…! بیوی ہماری سنّی مگر وہ آدھی شیعہ کیوں کہ وہ شیعہ محلے میں پیدا ہوئی تھیں۔ رانی منڈی جو محلہ ہے الہ آباد کا وہ شیعاؤں کا محلہ ہے۔ شروع سے وہ سوز بہت اچھا پڑھتی تھیں۔ میرے پاس اس کا ریکارڈ بھی ہے۔ اللہ نے انہیں اچھی آواز دی تھی۔ تو مجھے یہ فائدہ تھا کہ ایک طرف تو پوری طرح سے بریلوی طرز کے بزرگوں کے یہاں آنا جانا۔ فاتحہ خوانی اور عرس وغیرہ یہ چیزیں چلتی رہتی تھیں۔ ہماری نانی جو تھیں وہ حضرت چراغ ہند ان کی بیٹی تھیں۔ جونپور کے پاس ان کا مزار ہے۔ تو یہ لوگ تھے ان کا علم الگ تھا۔ پھر اس کے بعد بیگم صاحبہ سے بھی جو کچھ حاصل کیا۔ تو یہ سب بہت ساری چیزیں ہم نے ان لوگوں سے سیکھیں۔ لباس بھی دیکھے ان لوگوں کے۔ بہت کچھ مجھے یاد رہا۔ کیسے کپڑے پہنتے ہیں، کس طرح باتیں کرتے ہیں۔ شادی میں کیسے بات ہوتی ہے۔ کب کیا کہا جاتا ہے تو یہ سب یاد رہا۔ اللہ میاں نے مجھے عمر بھی دی ہے۔ وہ چیزیں میں نے دیکھیں ظاہر بات ہے جو آپ لوگوں نے نہیں دیکھیں۔ پڑھا بھی میں نے بہت۔ خاص طور سے شاعری کو 18 ویں صدی کی شاعری کو جہاں تک ہو سکا میں پی کے بیٹھ گیا۔ میرؔاکیلئے نہیں ہیں۔ میرؔ کو تو خیر میں نے پڑھا ہی ہے۔ سراجؔ اورنگ آبادی سے شروع کر کے۔ میں نے جو وہ غزل ہے سراج کے رنگ میں کہی ہے اور ایسی کہی ہے کہ مجال ہے کوئی فرق کر کے بتادے۔ داغؔ کے رنگ میں کہی ہیں۔ وہ بندے کی لکھی ہوئی ہے جو وزیر خاناں کے نام سے مشہور ہے۔
ہمارا جو المیہ ہے مختار شیم اور تم سب لوگ سن لو۔ تم سب لوگ عمر میں مجھ سے چھوٹے ہو مجھے کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ہماری بہت بدنصیب قوم ہے۔ تم لوگوں کی بہت زندگی گزرگئی ہماری بہت کم باقی ہے۔ ہم نے الہ آباد میں لڑکوں لڑکیوں سے جو مجھ سے کچھ پوچھنے آتے ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ کم بختوں ہزار برس میں تم سے بدتر اور مظلوم کوئی قوم نہیں ہے۔ تم کو کسی نے بتایا نہیں کہ میرا نیسؔ بڑے شاعر ہیں۔ کیوں ہیں؟ کہا گیا کہ صاحب ما تم بہت اچھا ہوتا ہے ان کے کلام میں۔ میر ؔبڑے شاعر کیوں ہیں صاحب۔ وہ بڑا روتے دھوتے ہیں، غم کرتے ہیں ٹھیک…نظیر اکبر آبادی کے یہاں برسات کی بہاریں بہت نظر آتی ہیں۔ اس کے آگے تمہیں کچھ بتایا نہیں۔ تہذیب تمہاری کیا؟ تاریخ تمہاری کیا؟ ثقافت تمہاری کیا؟ تمہارے اٹھنے بیٹھنے کے انداز کیا؟ ہندو مسلم کے تعلقات کیسے ؟کیا پتہ ؟ ان کو میں نے حافظ کی کتاب سے فال نکالنے کا طریقہ دکھایا ہے۔ ایک پرانی بیاض میں کئی طریقے دئے ہوئے ہیں فال نکالنے کے۔ ان میں سے ایک یہ میںنے نکالا ورنہ اور بھی طریقے ہیں فال نکالنے کے۔ ہمارے یہاں فال نکالنے والے لوگ موجود تھے۔ ہماری اماں کے ایک بھائی تھے چوہے ماموں کہلاتے تھے۔ تھے تو وہ پیر مرید مگر شکل کچھ چوہے سے ملتی جلتی تھی تو انہیں چوہے ماموں کہتے تھے۔ تعویز بہت لکھتے تھے اور فال نکالتے تھے۔ میں بہت چھوٹا ، بہت منہ لگا ہوا تھا۔ ان سے کہتا تھا کہ پاکستان کیا بنایا تم لوگوں نے وہاں کے مسلمانوں کو غرقاب کر دیا۔ پاکستان بنا کر انگریزوں نے سیکڑوں برس کی تہذیب کو سمندر میں ڈال دیا اور ہم سب کو جاہل بنا کر رکھ دیا۔ نہ ہم مسلمان رہے نہ ہم ہندو ر ہے۔ ہم کہیں کے نہیں رہے۔ ایک بار ہم نے چوہے ماموں سے پوچھا کیا لکھا ہے تعویز میں آپ نے ؟ بولے کچھ نہیں ، یہ تعویز لے جاؤ چار جوتا مارو اور گلے میں باندھ دینا اسے۔ ہم نے کہا نہیں ہم پڑھیںگے کیا لکھا ہے تعویز میں۔ انھوں نے منہ بنا کر کہا چلو پڑھ لو۔ اس میں لکھا تھا ’’نمرود۔ مردود ‘‘، ’’فرعون۔ بے عون‘‘، ’’شدّاد۔ بے داد‘‘، ’’امان بے ایمان‘‘ چار خانوں میں یہ چار لفظ لکھے ہوئے تھے۔ کہا کہ اس کی چار تہہ کرو، چار جوتے مارو اور باندھ دو۔ بخار اتر جائے گا۔ یہ کہاں سے بتاؤ گے آپ، کس کتاب میں لکھا۔ میں نے اگرچہ اس ناول میں نہیں کسی اور ناول میں ڈال دوں گا۔ تو میرا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا اور تھی بالکل الگ۔ میں خوش نصیب ہوں کہ میں اس دنیا کے آخری کنارے میں پیدا ہو گیا۔ میں سن 1935ء میں پیدا ہوا اور 1947ء میرا دیکھا ہوا ہے۔ میرے سامنے کا ہے۔ لوگوں کا جانا دیکھا میں نے۔ لوگوں کا مرنا کٹنا دیکھا میں نے۔ مہاتما گاندھی کی شہادت دیکھی۔ جناح کو کینسر تھا،ان کو خبر ہی نہیں تھی۔ وہ وہاں چلے گئے اور وہاں جاکر جلد ہی انتقال کرگئے۔ سب دیکھا اور اس سے پہلے انگریزوں کی جو رعونت تھی جو دبدبا رہا تھا دیکھا۔ مجھے سب یاد ہے۔ سن 1947ء دیکھا اور گھر میں دیکھا اور جونہیں دیکھا وہ کتاب میں دیکھا۔ تو بھائی یہ کلچرل ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ یہ تہذیبی بازیافت ہے۔ اس تہذیب کو ہم جانتے ہی نہیں۔ میں نام نہیں لونگا۔ قسم خدا کی میرؔ کے ایک بہت بڑے اسکالر نے کہا کہ میرؔ بڑے شاعر نہیں ہیں۔ کل کے لیکچر میں، میں نے نام لیکر کہا۔ فضیل جعفری ہمارے دوست تھے، خود بہت اچھے شاعر تھے مگر وہ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ بھائی غزل کی دنیا میں بھی آدمی بڑا شاعر ہوسکتا ہے۔ مضمون پڑھ لو ان کا لکھا ہے ،دو سو ڈھائی سو اشعار ہونگے، میرؔ کے یہاں اور کیا ہوگا۔ رونا دھونا ہے شوں شاں ہے… عشقیہ شاعری ہے۔
کوئی بتانے والا ہی نہیں ہے اس بچّے کو جس نے پہلا قدم رکھا ہے ندی کے کنارے اندر۔ کسی نے کہا نہیں کہ کنڈ ہے آگے تُو گر پڑے گا اس میں۔ دیکھو ہم کتنے بہادر ہیں ہم وہاں تک گئے اور باہر نکل آئے۔
بچپن میں ایک بار ایسا ہی ہوا کہ ہمارے ایک کزن تھے اللہ بخشے انھوں نے کہا کہ چلو ندی میں نہا کر آتے ہیں۔ ہم نے سوچا باپ رے باپ ہم ندی میں نہائیں گے۔ ہماری اماں کو جانتے نہیں کھال بھینچ دیں گی میری۔ خیر صاحب میں گیا۔ میں بہت چھوٹا تھا۔ 8-9 سال کا تھا۔ کپڑے اتارے میں نے ،گھاٹ پر ایک پیر رکھا پھر دوسرا بس پانی میں اتنا گیا کہ ڈوبا نہیں پھر بھاگ آیا۔ تو معلوم ہوا بس اتنی ہی ندی ہوتی ہے اور اتنی ہی ندی دکھائی دیتی ہے لوگوں کو۔ کیا نثار احمد فاروقی ، کیا فضیل جعفری کیا آل احمد سرور کیا گیان چند جین سب نے ندی کو بس اتنا ہی دیکھا۔ پانی کتنا گہرا ہے کسی کو کیا معلوم۔ احمد مشتاق نے کہا ہے:
یہ پانی خاموشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
اس کو کہنے کے لیے وہ تجربہ چاہیے کہ جو کوئی بتائے یہ کون شاعر ہے یہ کیا کہہ رہا ہے۔
مجلس آفاق میں پروانہ ساں
میرؔ بھی شام اپنی سحر کر گیا
دن بھر یہی شعر پڑھتے رہو تو پیٹ نہیں بھرے گا۔ زندگی پوری اس میں موجود ہے اور ہم سے کہا جا رہا ہے کہ میر بڑے شاعر نہیں ہیں۔ دلّی کا وہ تھرڈ کلاس شاعر بڑا شاعر ہو گیا۔ میں نے کہا بھی ہے اور میں قبول بھی کرتا ہوں کہ بیس برس لگے مجھے اس بات کو سمجھنے میں کہ ہمارے یہاں بڑی شاعری الگ سے ہو سکتی ہے۔ ہم کو انگریزی اور یونانی کی ضرورت نہیں۔ بیس برس لگے اس کو سمجھنے میں۔ میں بھی اسی رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ ایک دن پوچھا میں نے اپنے سے یقین کیجئے بات میں سے بات نکل آئی۔ لڑکپن میں ڈرامہ پڑھنے کا بہت شوق تھا مجھے۔
محمد نعمان : ڈراما مگر لکھا نہیں آپ نے ؟
فاروقی صاحب : وہ بھی لکھوالو آپ لوگ (قہقہہ)
تو میں نے کہا اپنے آپ سے کہ دیکھو کہ اگر یہ فنّی اصول آفاقی نہ ہوتے تو ڈھائی تین ہزار برس پہلے کا ڈراما نگار مجھ سے کیسے بولتا ہے اور کیوں بولتا ہے۔ اس کا مطلب یہی ہوا نہ کہ وہ آفاقی اصول تھے پھر میں نے سوچا کہ یہ مجھ سے کس نے کہا کہ وہ بہت بڑا ڈراما نگار تھا یونان کا۔ کیا وہ مجھ سے کہنے کے لیے آیا تھا ؟ کیا مجھے الہام ہوا تھا؟ کتاب میں لکھا دیکھا میں نے جب کہ کتاب کھولی تو بتایا گیا کہ صاحب یہاں تین بڑے ٹریجڈی نگار ہوئے ہیں۔ اٹریس، یوری فیلس اور جوسف۔
تو ہم نے وہاں سے معلوم کر لیا اگر وہاں لکھا ہوتا کہ تین بڑے ٹریجڈی نگار میں سے ایک مختار شمیم ہیں تو ہم انہیں کو مان لیتے۔ تو ہم نے کتاب سے پڑھا ہے۔ ان کی بڑائی کو از خود نہیں دیکھا کتاب میں دیکھا ہے۔ ہم کوئی اتنے بڑے انگریز تو ہیں نہیں۔ ہمیں تو کتاب ملی پڑھنے کو ملٹن کی تو ملٹن کو پڑھا۔ ہاں… ملٹن اس کو کہتے ہیں۔ کبھی الہٰ آباد آئیے تو دکھاؤں گا۔ 18-20 سال کی عمر ہے، شمس الرحمن فاروقی کی۔ مشکل سے مشکل نظم شیکسپیئر کی، ملٹن کی پڑھے ہوئے ہیں۔ حاشیہ لکھے ہوئے ہیں۔ تو کون سا کمال کر رہے ہیں۔ کسی نے کہا کہ بڑا آدمی ہے پڑھو اس کو تو پڑھ لیا۔ دریافت میں نے نہیں کیا۔ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ جو ہم سے کہا گیا ہے کہ آپ کے یہاں کچھ نہیں ہے۔ آپ کے یہاں گھاس پوس بھی نہیں ہے تو ہم نے مان لیا صاحب۔ ایک بار رسیل کو ایک صاحب نے لکھا کہ آپ بڑے بے وقوف آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ میں نے آج کے اخبار میں آپ کا بیان دیکھا آپ نے یہ کہا ہے ،تو انھوں نے جواب دیا کہ آپ مجھ سے بڑے بے وقوف آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ اخبار میں چھپی ہر بات پر یقین کرلیتے ہیں۔ تو ہم نے پڑھنے میں زندگی کا بڑا حصہ گزارا ہے۔ میں نے لکھا بھی ہے۔ .B.A کا امتحان دینے کے بعد چشمہ لگائے ہوئے اعظم گڑھ کے دیہات میں گرمی کے موسم میں، لالٹین کی روشنی میں شمس الرحمن بجائے جاسوسی ناول پڑھنے کے شیکسپیئر کا ڈراما پڑھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے واقعی ہم نے دنیا دیکھ لی۔ آج دنیا ضرور دیکھ لی میں نے لیکن خود ڈسکور تھوڑی کی ہے۔ بڑی دیر لگی مجھے یہ سمجھنے میں۔
محمد نعمان : آپ کا شمار صف اوّل کے جدید ناقدین میں ہوتا ہے۔ میرؔ و غالبؔ جیسے کلاسیکی شعراکی جانب توجہ کے اسباب کیا ہیں؟
فاروقی صاحب: ارے سن تو لیا آپ لوگوں نے۔ یہی لوگ تو دال روٹی ہیں میری۔ یہی تو ماں باپ ہیں۔ جو آدمی کہ اپنے کو اردو کا آدمی سمجھے اور غالب کو کہے کہ یہ تھرڈ کلاس شاعر ہے اور یہ نیم وحشی صنف سخن کا شاعر ہے تو وہ اردو کا نہیں ہے، چاہے کسی اور زبان کا ہوگا۔ جاپانی کا ہوگا، مگر اردو کا نہیں ہے۔ دیکھئے اس بات کو گرہ میں باندھ لیجئے بڑی گہری بات اس نے کہی ہے۔ بہت چالاک بڑے میاں تھے۔ جب انھوں نے یہ کہا کہ بڑے شاعر فلاں فلاں استاد شاعر ایک ، دوتین، چار کی پہچان کی اوّل شرط یہ ہے کہ اس کو معاشرہ بڑا شاعر مانے۔ ہم نے پہلے جملہ پڑھا ! یہ کیا بات ہوئی ؟ ہم بیٹھے ہوئے ہیں کچھ لوگ آس پاس سے واہ واہ کر رہے ہیں تو آپ بڑے شاعر ہو گئے ؟ میں نے پھر غور کیا تو سمجھا وہ معاشرے کی بات کہہ رہا ہے۔ جس کا ادبی معاشرہ اس کو بڑا شاعر مان رہا ہے۔ معاشرے سے مراد عوام الناس کہے کہ وہ بڑا شاعر ہے کہ نہیں۔ تو یہی کہا گیا کہ بڑے شاعر ہمارے یہی لوگ ہیں۔ میرؔ ہیں، غالبؔ ہیں، میر انیسؔ ہیں، اقبالؔ ہیں۔ دردؔ ہیں تو انہیں پڑھیں گے۔
محمد نعمان : غالبؔ کو یہ شکایت ہوئی اپنے زمانے سے کہ انہیں یہ کہنا پڑا :
گر نہیں ہیں مِرے اشعار میں معانی نہ سہی
فاروقی صاحب : کل ہی توکہا تھا بھائی آج بھی کہوں گا شاعر کی بات جو اپنے بارے میں کہے اسے زیرو سمجھنا چاہیے۔ دیکھئے معاف کیجئے کہ یہ بھی ایک ہمارے یہاں روایت چلی آرہی ہے بلکہ ایک رسم بن گئی ہے دوسو ڈھائی سو برس سے کہ شاعر کو Romanticise کرو۔ شاعرکون ؟ ارے ہو گا بے چارہ کوئی پوچھتا نہیں اس کو ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے۔ کلام اس کا چھپتا نہیں ہے۔ یعنی داد ملتی نہیں ہے۔ کیا کریں صاحب زمانہ قدرداں نہیں ہے۔ ناقدری کرتا ہے۔ سب سے زیادہ غالب پر فٹ ہوتا ہے۔ سن 57 شروع ہوا۔ خط میں لکھا کہ وہاں سے پنشن بند ہوگئی … وہاں سے پنشن بند ہوگئی۔ لوگ دال روٹی کھاتے ہیں۔ میں کپڑا کھاتا ہوں گویا یہ کہ کپڑے بیچتے ہیں۔ اب اس کو ایک نقشہ بنالیا ہمارے سامنے۔ ہم کہتے ہیں کہ ذوق اتنے بڑے استاد شاعر تھے۔ ذوق کے کتنے شاگرد تھے؟ غالب کے سورت اور بھوپال سے لیکر گو ہائی تک شاگرد تھے۔ ذوق اور مومن کے تھوڑی تھے ! لوگ کیوں کہتے ہیں کہ قدر نہیں ہوئی ان کی وہ حبیب اللہ کہاں بیٹھا ہوا ہے۔ 2000 میل دور وہاں سے کہہ رہا ہے۔ ہاتھ جوڑ رہا ہے کہ حضور آپ استاد ہیں۔ ہمارے۔ ٹیپو سلطان کا پوتا ہے وہاں قید ہے مٹیا برج میں وہاں سے فارسی میں خط لکھ رہا ہے۔ ان کو استاد مان رہا ہے۔ کون کہہ رہا ہے کہ قدر نہیں ہوئی ان کی۔ خوب قدر ہوئی۔ محض پروپگنڈہ ہے۔ شاعر کو Romanticise کرنے کے لیے۔ ارے صاحب …! شاعر بے چارے کو معاشرے میں کون پوچھتا ہے۔ یہاں تو لوگ پونجی پتی کو پوچھیں گے۔ رئیسوں کو پوچھیں گے۔ شاعر کو لوگ کیا جانیں گے۔ غالب جیسا شاعر کتنا مشکل شاعر! ارے ہو گا مشکل شاعر بھائی !
محمد نعمان:اردو میں جدیدیت کا جو رجحان ہے اس کی ابتدا اس کو پروان چڑھانا اور اس کو نقطۂ عروج پر پہنچانے کا سہرا آپ ہی کے سر ہے۔ یہ تھا تو ایک رجحان مگر ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ خاص طور سے شب خون نے اپنا جو رول ادا کیا تو اس کا حلقہ وسیع ہوتا چلا گیا لیکن ایک Stage آنے کے بعد اس کی رفتار اور ترقی رک گئی اور پھر ایک آوازہ بلند ہوا، ما بعد جدیدیت کا۔ تو کیا اس کو جدیدیت کی توسیع کہیں گے۔ دونوں میں کیا مناسبت ہے؟
فاروقی صاحب: اصل میں مشکل یہ ہے کہ مناسبت یا توسیع تو تب ہو جب دونوں باتوں میں کوئی چیز مشتر کہ ہو۔ ہم نے جن باتوں کو اہمیت دی جدیدیت میں اور جن باتوں کا ذکر بار بار کیا کہ یہ ہمارے بنیادی تقاضے ہیں تو پہلا تو یہی تھا بھائی کہ ادب کو غیر مشروط طور پر ہونا چاہیے کہ وہ کسی شرط کا پابند نہ ہو۔ کسی پارٹی لائن کا پابند نہ ہو۔ جو اس کے دل میں آئے وہ اسے کہے۔ وہ بالکل اپنی بات خود کہے۔ ایک فرد کی بھی اہمیت ہے صرف جو سماجی معاملات ہیں وہ اپنی جگہ درست ہیں۔ ان سے کبھی ہم انکار نہیں کرتے۔ لیکن فرد کے بھی اپنے معاملے ہیں۔ فرد ایک دنیا کے برابر ہوتا ہے۔ وہ فرد آپ کے یہاں نظر نہیں آتا۔ اس کے اندر بھی کئی پریشانیاں ہونگی کئی مسائل ہونگے۔ اس کے دل کا حال بھی کبھی بیان ہونا چاہیے۔ شاعر کو افسانہ نگار کو حق ہے کہ اپنے بارے میں بھی بتائے کہ میرے دل میں کیا ہے۔ میں کیا سوچتا ہوں۔ اگر وہ ہر بات پر قلم اٹھاتے ہیں تو سوچتے ہیں لکھ تو دیا میں نے مگر پارٹی کیا کہے گی۔ لکھ تو دیا میں نے مگر فلاں کیا کہے گا۔ تو اس طرح تو پابندیاں نہیں کرنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہی ہے کہ ادیب کو کسی بھی ازم کا پابند نہیں ہونا چاہیے۔ جو اس کے دل میں آئے کہہ دینا چاہیے۔ ایک مثال دیتا ہوں میں آپ کو۔ ایک میرے دوست اللہ بخشے انتقال کر گئے۔ اللہ مغفرت کرے ان کی علی ظہیر… ! حیدر آباد کے تھے۔ انجینئر تھے۔ ہماری طرح شاعر تھے وہ ایران چلے گئے۔ ظاہر ہے نو جوان شیعہ اور انقلابی زمانے میں ایران پہنچے گا تو متاثر تو ہوگا۔ تو انھوں نے کئی نظمیں لکھیں انقلاب پر تو جب وہ واپس آئے تو مجھے نظمیں بھیجیں اور لکھا کہ صاحب بہت پریشان ہوں آپ نے تو ہم لوگوں کو سکھایا تھا کہ کسی کی جانب داری نہ ہوگی اور کسی پارٹی لائن کی بات نہ کریں گے۔ مگر یہ نئی نظمیں کہاں جائینگی۔ میں نے کہا کہ جدید نظمیں تو ہیں اور کیا ہے۔ تو اپنی بات کہہ رہا ہے کہ ’’ہم نے کب روکا ہے۔ اگر کوئی یہ کہہ دے کہ تم شیعہ عقائد کا اظہارنہ کرو تو زیادتی ہوگی ہمارے اوپر۔ کمیونسٹ پارٹی کہتی ہے کہ تمہارے عقائد وہ ہونگے جو پارٹی کے عقائد ہونگے۔ ترقی پسندی کہتی ہے کہ تمہارے وہ عقائد ہونگے جو ہمارے عقائد ہونگے۔ ادب میں ہمارے خیال سے جو عقیدہ ہونا چاہیے بس وہی عقیدہ صحیح ہے۔ ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اپنی بات کہنا چاہیے چاہے وہ کمیونسٹ پارٹی والی بات ہو چاہے شیعہ والی بات ہو۔ اپنی بات کہیے۔ خیر ان کو حیرت بھی ہوئی اور خوشی بھی ہوئی۔ ہم بھی خوش آپ بھی خوش۔ ہم تو اسی بات پر تو لڑے جارہے ہیں۔ اگر ہم تم کو پابند کر دیں کہ تم شیعہ مذہب کی بات نہ کرو تاریخ کا اتنا بڑا واقعہ ہے وہ پیش آیا ہے۔ تم شامل ہو اس میں۔ تم اس کو دیکھ رہے ہو تو ہم کیسے کہہ دیں کہ نہ کہو اس کو …؟
دوسری بات ہم نے یہ کہی کہ ادب کسی بھی ایک ڈھرّے کا پابند نہ ہونا چاہیے، تجربہ ہونا چاہیے۔ تجربے آپ دس کریں گے نو ساڑھے نو فیل ہو جائیں گے۔ ایک آدھ کامیاب ہو جائے گا، بس کافی ہے۔ ترقی پسند الٹا کہا کرتے تھے غزل مت کہو۔ ایسی کوئی بات مت کہو مثلاً یہ نہ کہو کہ کوئی پیسے والا آدمی اچھا بھی ہو سکتا ہے۔ پیسے والے ان کے یہاں سب بُرے ہی ہونگے۔ افسانہ ایسا مت لکھو جس کا مطلب نکالنے میں دیر لگے۔ صاف صاف بات کرو۔ ناک پکڑ کر قاری کی تھماتے رہو کہ یہاں چل وہاں چل۔ تو ہم نے کہا کہ افسانے کی بات چھوڑ دیتے ہیں۔ اب کوئی کہہ رہا ہے کہ آدمی ہی نظر نہیں آ رہا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ 2-4لکھا ہوا ہے۔ کوئی کہہ رہا ہے اس میں کٹے ہوئے سر کا آدمی لکھا ہوا ہے۔ ہم نے کہا کہ جو لکھا ہوا ہے اگر اس میں کوئی مطلب ہوگا تو رہے گا نہ ہوگا تو نہ رہے گا۔ مگر اس کو کہنے تو دو بھائی۔ ابھی تو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا ہے۔ آپ اس پر پہلے سے اڑے ہوئے ہیں کہ اس کی ایک ٹانگ نہیں ہے۔ بچہ پیدا ہونے دیجئے اگر اس کے ٹانگ نہیں ہے خود ہی لنگڑا ہو کر مر جائے گا۔ تو ہم نے کہا آزادی ہونی چاہیے اظہار کی۔ فکر کی آزادی۔ اظہار کی آزادی۔ یہ دو چیزیں جدیدیت کا طرہ اور پرانا تقاضہ ہیں۔ تیسرا ہم نے یہ کہا کہ صاحب دیکھئے پرانی شاعری کو مسترد نہ کیجیے۔ میرا بہت پہلے کا جملہ ہے کہ پرانی شاعری اور نئی شاعری میں کوئی فرق نہیں ہے کیوں کہ دونوں شاعری ہیں۔ وہ لوگ تو کہتے تھے کہ صاحب غزل تو اس لیے غیر ضروری ہے کہ جاگیر دارانہ سماج کا اظہار ہے۔ مثنوی اس لیے غیر ضروری ہے کہ یہ تو محض قصے کہانی پر مبنی ہے اور قصیدہ اس لیے غیر ضروری ہے کہ اس میں تو خالی مبالغہ اور جھوٹ ہوتا ہے۔ ہم نے کہا کہ بھئی کمال کر رہے ہیں آپ۔ وہیں سے تو آپ نکلے ہیں۔ مضمون اور کہاں سے بنا کر لاتے ہیں۔ معاف کیجیے اتنے کم عقل ہم اردو والے تھے کیا کہا جائے۔ دو لفظ انگریزی کے کیا پڑھ لیے کہ بس سمجھنے لگے کہ ہم سے…! محمد حسن نے کتاب میں لکھا ہے ’’غالبؔ کتنے بڑے بے وقوف تھے کہ بہادر شاہ ظفر جیسے چھوٹے موٹے آدمی جس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے ان کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر رہے ہیں۔‘‘ ان کو یہی پتہ نہیں ہے کہ وہ کچھ لینے کے لیے تھوڑی کچھ مانگ رہا ہے۔ وہ تو اپنا دکھا رہا ہے کہ ہم ایسے ہیں۔ وہ تو اپنا دکھا رہا ہے کہ میاں میں یوں مضمون نکالتا ہوں۔
ہاں مہ نوسنیں ہم اس کا نام
جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
ہم بتا رہے ہیں کہ دیکھو یہ ہمارا کمال ہے کہ ہم نے ثابت کر دیا کہ وہ بادشاہ کو سلام کر رہا ہے۔ وہ دو پیسہ دے نہ دے ہم تو اپنا دکھا رہے ہیں کہ ہماری طبیعت میں کتنا تنوع ہے۔ ہماری تخلیقیت میں کتنا وفور ہے کہ ہم کسی بات کو کس کس طرح سے کہہ سکتے ہیں۔ ایک آدمی کی تعریف کرنا ہے۔ کتنا کہیں گے ہم اس کے بارے میں۔ ظاہر ہے ایک دو بار تو کہیں گے نا کہ بڑھیا آدمی ہے، بڑھیا آدمی ہے۔ آگے کیا کہیں گے کیا جھک ماریںگے۔ یہی کہیں گے جو ہم نے کہا۔
ہاں مہ نوسنیں ہم اس کا نام
جس کو تو جھک کے کر رہا ہے سلام
اتنی بھی عقل نہیں ہے ان میں کہہ رہے ہیں کہ جھوٹ بول رہا ہے۔ارے جھوٹ کیا ہے اس میں… ! جھوٹ تو شاعری میں…! اچھا میں نے سو بار لکھا ہے مگر کوئی سننے والا نہیں۔ کوئی تم لوگ سن لو۔ ہماری تہذیب میں چاہے عرب ہو یا ایران ہو یا مصر ہو یا ہندوستان ہو۔ چین ہو یا جاپان ہو تین طرح کے بنیادی سوال ہیں ادب کے بارے میں۔ پہلا سوال جو یونان والوں کا تھا اور یوروپ والوں نے بھی پوچھا کہ ’’کیا یہ سچ ہے…؟، It, Is true یہ وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ سچ ہے کہ نہیں ! ہمارے بندے پوچھتے ہیں کہ اس میں معنی ہیں؟
It has some meaningجب ہم بی۔اے میں پڑھتے تھے تو کہیں سے یہ جملہ پڑھا کہ شعر کی تعریف کیا ہے۔ وہ موزوں بلا ارادہ کہا گیا ہو اور با معنی ہو۔ یہ کیا مطلب ہے بامعنی ہو۔ اب میری عقل میں بات آرہی ہے کوئی یہ کیوں نہیں کہہ رہا ہے کہ سچا ہو۔ یا کوئی یہ کیوں نہیں کہہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام ہو۔ اگر اللہ میاں نے قرآن شریف میں کہیں کہیں موزوں مصرعے کہہ دئے ہیں تو شاعر مان لوگے ان کو تم۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ ہم قلم کا غذ لیے بیٹھے ہیں۔ پلنگ پر اور ازار بند میں گرہ لگائیں اور کہیں کہ ہمیں کچھ کہنا ہے اور یہ کہ اس کے کچھ معنی ہوں…! چائینہ اور جاپان والا پوچھتا ہے کہ کیا یہ آدمیوں کے لیے ہے؟ ان کی شاعری پڑھو تم۔ ’’دریا کے کنارے پر ناؤ باندھتے ہوئے فلاں کو جنگ پر روانہ کرتے ہوئے فلاں سے جدا ہوتے ہوئے، جتنی نظمیں ہیں ان کی ایک سے ایک ہیں۔ کسی معاملے پر کسی واقعے کے بارے میں نہیں ہیں، آدمیوں کے بارے میں ہیں۔ About Human تو یہ تین سوال ہیں ہم اتنے بے حیا ہیں کہ ہم سوچتے ہیں کہ ان میں معنی ہیں کہ نہیں۔ ہم اسی میں پڑے ہوئے ہیں کہ It is true or notقصیدہ جھوٹ بول رہا ہے…! ارے کون کہہ رہا ہے کہ نہیں بول رہا ہے۔ ہم تو کہ رہے ہیں کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں۔ یہاں تو یہ بحث چلی کہ افسانہ جھوٹ ہوتا ہے کیوں کہ افسانہ نگار جھوٹ بول رہا ہے ہم۔ تو اتنے بڑے بے وقوف ہیں کیوں کہ ہمارے اوپر تو یہ بھوت سوار ہے It is true ارے “True” سے کیا مطلب بھائی۔ لفظ خود True نہیں ہے۔ کتنی مزے کی تین باتیں کہیں۔ پہلے افلاطون نے یہ بات کہی پھر امام پھر ایک امریکن نے کہی۔’’ضَرَب‘‘ یعنی اس نے مارا… ! چار آدمیوں نے طے کر لیا اگر کل کہ بَزَبَ کے معنی ہیں اس نے مارا… تو کیا کر لو گے تم… یہ تو اتفاق پر ہے نا کسی لفظ کے کیا معنی ہیں۔ اسی بات کو ایک نے بڑی پیاری بات کہی۔The word dog bite no one لفظ کتا کسی کو نہیں کاٹتا۔ لفظ میں شریعت تھوڑی ہوتی ہے۔ لفظ تو طے کیا جاتا ہے اپنے لوگوں کی سہولت سے۔ اگر کل کو ہم اردو والے طے کر لیں کہ کتّا کے معنی بلّی ہو نگے تو کیا کر لوگے تم۔مابعد جدیدیت کے بارے میں ہمیں بس اتنا کہنا ہے کہ مابعد جدیدیت کے جتنے بڑے بڑے مفکرین ہیں، مبلغین ہیں ان سب سے یہ پوچھو کہ سودا ؔکا قصیدہ کیسے پڑھیں۔ یہ سمجھا دیں ہمیں بس ! یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ افلاطون نے کہی تھی۔ کسی متن میں معنی کا مرکز کہاں ہے یہ طے کرنا اللہ میاں کا کام ہے۔ ہمارا کام نہیں ہے۔ کہیں ہوگا۔ کہیں نہیں ہوگا۔ ٹھیک ہے بھئی ہوگا اپنا۔ ہمارا بھی ہوگا ہم نے مانا۔ آپ نے کوئی بڑی بات نہیں کہی ہے۔ اس بات کو لوگ پہلے کہہ چکے ہیں اور آپ سے اچھا کہہ چکے ہیں۔ آپ نے تو مانگ تانگ کر لا کر دے دیا۔ معنی بدلتے رہتے ہیں ! ہاں واللہ سبحان اللہ ہم نے بھی مان لیا کون نئی بات ہے اس میں بھی پہلے رنڈی کے معنی عورت کے ہوتے تھے آج طوائف کے ہوتے ہیں مرد کے معنی مالک بھی ہوتا ہے۔ شوہر بھی ہوتا ہے مرد بھی ہوتا ہے جو آپ اور ہم ہیں۔ ان چیزوں کی روشنی میں سودا کا قصیدہ پڑھا جائے تو کیسے پڑھا جائے وہ جب کہتا ہے۔
’’کام اپنا ہے سانے جوئے تصویر اس کے ہاتھ‘‘
اب مابعد جدیدیت والا بتا دے اس کے معنی۔ مابعد جدیدیت کچھ نہیں ہے۔ ایک آدمی نے بڑے کام کی بات کہی Linguistic Theory کی فرانس میں آمد ہے۔ بے چارے فرانس والوں کو Linguistic Theory بالکل معلوم نہیں تھی۔ وہ سیدھے سادے لوگ تھے۔ اپنی شاعری واعری کرتے تھے اچھی طرح سے لیکن ان کو یہ خبر نہیں تھی کہ لفظ جو ہے افلاطون نے بتایا کہ لفظ کے معنی طے نہیں ہوتے کسی کے معنی کچھ ہوتے ہیں کسی کے کچھ ۔جو آپ طے کر لیں وہ معنی ہوتے ہیں۔افلاطون نے گڑ بڑ یہ کی کہ جو بحث اس میں انھوں نے کی ہے اس معاملے کو کیچ نہیں کیا۔ چھوڑ دیا۔ شاعروں کو توپکڑ لیا بند کرکے کہ باہر نکالو کہ بدمعاش ہیں۔ جھوٹ بولتے ہیں ! معنی کے بارے میں وہ گڑ بڑا گیاکہ بھئی یہاں اس کے معنی یہ تو ہیں… ! یہ بھی ہو سکتے ہیں…! دیکھئے کتّے میں کتاّپن ہے کہ نہیں ہے۔ اچھا ہاں ہو بھی سکتا ہے ہوگا… ! ایسا ویسا کہہ کر نکل لیتے ہیں لیکن اصول کی بات نہیں کہی کہ کسی چیز کے معنی اس کے اندر نہیں ہوتے۔ مابعد جدیدیت کی روشنی میں ادب کی کون سی تفہیم ممکن ہے۔ منٹو کی تفہیم ہم کرسکتے ہیں ؟ جدیدیت کے حساب سے ہم کر سکتے ہیں منٹو کی تفہیم۔ ترقی پسندی کے حساب سے بھی لوگ کر سکتے ہیں۔ جیسے کہ معلوم ہے آپ لوگوں کو اس کی جو مرمت کی آپ دیکھ چکے ہیں۔ لیکن خیر کر سکتے ہیں۔ ترقی پسندوں میں جو کچھ بھی تھا کم سے کم ان کو ایک بھرم تھا اپنے بارے میں کہ ہم ایکLiterary point of view رکھتے ہیں۔ ہم ایک Literary theory کے آدمی ہیں۔ لہٰذا ہم لٹریچر کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ دریدا خود کہتا ہے کہ میں لٹریری آدمی نہیں ہوں مجھے بیچ میں کا ہے کولار ہے ہو۔ اس نے کب کہا کہ میں لٹریری آدمی ہوں اس کو آپ گرو بنا رہے ہیں۔ وہ کہہ رہا ہے کہ بھئی میں تو چوہا ہوں ہم کہہ رہے ہیں کہ ہاتھی ہے تو۔ تو بنا دو اس کو ہاتھی ہمارا کیا جاتا ہے۔ اب وہ یہ سب کہہ رہا ہے کہ معنی اندر ہوتے ہیں۔ معنی بدلتے رہتے ہیں۔ ہم نے لکھا بھی ہے۔ ہم خود ہی بتا رہے ہیں کہ ایک لفظ کے بارہ، تیرہ معنی ہوتے ہیں۔ کس نے کہا؟ کس سے کہا؟ کس موقعے پر کہا ؟ کس سے کہا کہ ’’گھر میں کوئی ہے کہ نہیں ہے؟‘‘ لڑکی نے کہا کہ کوئی نہیں ہے۔ مطلب یہ کہ کوئی مرد نہیں ہے۔ اب ایک لطیفہ سن لیجئے۔ ملاّ نصر الدین اپنے گدھے کو بہت پیار کرتے تھے۔ ملاّ کے یہاں ایک آدمی گیا اور کہا کہ ملاّ ذرا آپ اپنا گدھا دے دیجیے ہمیں کچھ سامان پہنچانا ہے۔ تو ملاّ نے کہا کہ بھئی گدھا اس وقت ہے نہیں کوئی مانگ کر لے گیا ہے۔ تو وہ چپ ہوگئے اور جب لوٹنے لگے تو گدھا بول پڑا۔ تو اس آدمی نے کہا کہ ملاّ تم تو کہہ رہے ہو کہ گدھا نہیں ہے مگر وہ بول تو رہا ہے۔ تو ملاّ نے کہا ’’ابے آدمی کی بات نہیں مانتا، گدھے کی بات مانتا ہے‘‘۔ دریدا تو پہلے کہہ گئے اب اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ واللہ اس میں ایک پیسہ نیا نہیں ہے۔ بس یہ ہے کہ اس کو بہت خوبصورتی سے بڑا پھیلا کرکے کلی پھندے لگا کر کے بیان کر دیا گیا ہے کہSince post modernism history پوسٹ Modernism کچھ نہیں ہے۔It is the arrival linguistic theory in france اور کچھ نہیں ہے۔ کوئی ایسی بات نہیں ہے انھوں نے نہیں کہی ہو جو ان کے دادا افلاطون نے نہ کہی ہو جو ان کے چاچا نے نہ کہی ہو۔ جو ماما ابویعقوب نے نہ کہی ہو۔
محمد نعمان : ساختیات پس ساختیات کا concept بھی پہلے سے ہے۔ ہمارے یہاں اس میں نئی چیز کیا ہے؟
فاروقی صاحب: ساختیات ہے کیا ؟ بھئی جو ہم، یہ جو آپ لوگ شعر بناتے ہو کیسے بناتے ہو۔ تقطیع کیسے کرتے ہو۔ جب اسی شعر کو آپ نے کہا۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
کسی ایک چیز کولیکر کے اسے الگ الگ کر کے دکھانا۔ ایسا ہے…! ایسا ہے۔ اب اس کو کوئی نام دے دیجیے۔
محمد نعمان : ہم لوگ آپ کو بنیادی طور پر ایک ہمہ جہت تخلیق کار مانتے ہیں۔ آپ نے ادبی سفر کا آغاز بھی شعر گوئی سے کیا۔ فکشن میں بھی آپ کا بہت کام ہے۔ ناول تو بعد میں آیا پہلے آپ نے افسانے لکھے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ناقدان سب پر حاوی نظر آتا ہے؟
فاروقی صاحب: ایک صاحب گھوڑا دیکھنے گئے تو ان سے گھوڑے کے مالک نے کہا کہ گھوڑا تو بہت اچھا ہے مگر ایک خرابی ہے کہ مر گیا ہے ( زور دار قہقہہ) تو جناب لوگ یہی کہتے ہیں کہ فاروقی شاعر تو ٹھیک ہیں نقاد بڑے ہیں ہم تو یہ کہتے کہتے مر گئے زبان ہماری گھس گئی کہ نقاد کی لائف ہی کتنی ہوتی ہے۔ دس سال بیس سال، ہماری بدنصیبی ہے کہ مقدمہ شعر و شاعری ابھی تک پڑھائی جارہی ہے کلاس میں، ورنہ تنقیدی مضمون کی عمر کتنی ہوتی ہے۔ ایک شعر پر زندہ رہتا ہے آدمی۔ راجا رام نارائن کا ایک شعر کافی ہے اس کو امر کرانے میں۔
غزالاں تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی
دوانہ مَرگیا آخر کو ویرانے پہ کیا گذری
تخلیق میں دم ہوتا ہے۔ نقاد آپ لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے ہوتا ہے تو بس یہی کہتے ہیں کہ شاعری واعری تو ان کی ٹھیک ہے۔ ہاں نقاد بڑے اچھے ہیں۔ انھوں نے ناول بھی لکھا ہے! ہاں لکھا ہے… ! اتنا لمبا چوڑا ناول کون پڑھے…! ہاں نقاد بہت بڑے ہیں! افسانہ بھی لکھا ہے ! …ہاں… لکھا ہوگا… نقاد بڑے اچھے ہیں…!
محمد نعمان : اردو زبان کا مستقبل۔
فاروقی صاحب : میں کوئی نجومی نہیں۔ میں کوئی زائچہ نہیں کھینچ سکتا۔ حال اس پہلے کے مقابلے میں بہت اچھا ہے۔ اس معنی میں بہت اچھا ہے کہ اسے پڑھنے والے بہت ہیں۔ برا اس معنی میں ہے کہ پڑھ کر پڑھانے والے نہیں ہیں۔ جہاں کہ لوگ تکلیف اور زحمت میں فرق نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں کہ ’’بھئی آپ نے بڑی تکلیف کی …! ارے بھئی کیا انجیکشن لگا دیا مجھے… ارے زحمت کہو بھائی …میرے پاس 80% ہندو لوگ لڑکیاں ہیں، عورتیں ہیں بوڑھے لوگ ہیں، مرد لوگ ہیں۔ کوئی بنگال سے آتا ہے۔ کوئی مہاراشٹر سے آتا ہے۔ کوئی کہیں سے آتا ہے کہ ہم اردو پڑھ رہے ہیں، تیلگو پڑھنے والا اردو پڑھ رہا ہے۔ دلّی میں ایک لونڈا ہے تو اری۔ وہ مجھ سے عروض پر وہ بحث کر رہا ہے کہ میرا ناک میں دم کر دیا ہے، بہت باریکیاں نکال رہا ہے۔ میں نے کہا کہاں سے پڑھا۔کہنے لگا مجھے شوق ہے عروض پڑھنے کا ۔ایک صاحب حیدرآباد میں رہتے ہیں۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگے صاحب یہ چار نقطوں کی جگہ ’’ط‘‘ (ٹ) کب سے لگنے لگا۔ میں نے بتایا پھر انہیں۔ کہنے لگے فلاں کتاب میں تو ایسے لکھا تھاہیں کون وہ… ؟ Chartered Accountant مدراسی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کون بتائیگا یہ اسے باریکیاں تو چھوڑ دیجئے۔ سامنے کی باتیں ہیں۔ تمہارے استاد جو پڑھاتے رہتے ہیں پوچھو ان سے کہ یہ’’ ٹ‘‘ پر’’ ط‘‘ کیوں لگاتے ہیں۔ پہلے کیا تھا۔ عربی، فارسی میں تو ہے نہیں یہ تو ہمیں لوگوں نے بنایا ہے۔ ہندوستانی طریقہ ہے۔ یہ ہم نے کیوں لگایا ہے۔
محمد نعمان : آج جو ادب تخلیق ہورہا ہے آپ مطمئن ہیں اس سے؟
فاروقی صاحب : ہاں بالکل… کیا کہنا… سبحان اللہ۔
محمد نعمان : نئی نسل کے لیے کیا پیغام ہے؟
فاروقی صاحب: اردو پڑھو اور فخر کرو۔ قسم خدا کی۔ یہ میری وصیت ہے لکھ لو اس کویہ میرے مرنے سے پہلے کے آخری اقوال ہیں۔
’’اردو پڑھو، اردو پر فخر کرو، اردو سے محبت کرو ‘‘
اب ایک لطیفہ اور سن لو۔ ایک صاحب تھے جوانی کے زمانے میں ایک پر عاشق ہو گئے۔ شادی وادی کرلی۔ زندگی بڑی اچھی گزری۔ بیگم صاحبہ جو تھیں ان کی ایک آنکھ ذراسی بھینگی تھی۔ آدمی نے دھیان نہیں دیا۔ عشق میں جو مبتلا تھے نظر ہی نہیں آیا۔ ان کو جب 20-15 سال ہوگئے تو انھوں نے بیگم سے ایک دن کہا کہ کیا تمہاری آنکھ میں کچھ خرابی آگئی ہے تو بیگم بولیں کہ نہیں تمہاری محبت میں کمی آگئی ہے…( قہقہہ) تو بھیا جس کو محبت ہوتی ہے اس کو بھینگی بھی اچھی لگتی ہے۔ ’’ط ‘‘ بناؤ یا چار نقطے بناؤ سب اچھا لگتا ہے۔ جس زبان کے کلچر میں لوگ کہتے ہوں کہ ہم زبان کی اصلاح کریں گے اس زبان کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم ہوتے کون ہیں اصلاح کرنے والے لنگڑی ہے جب بھی ہمیں اچھی لگتی ہے۔ ہماری تو ہے، اماں ہے ہماری۔ املا ہمارا خراب، جملہ ہمارا غلط ، شاعری ہماری جھوٹی تحریر ہماری خراب۔ ہمیں لوگ کہتے ہیں ہمیں مخالفین کی ضرورت نہیں۔
فاروقی صاحب سے سوال پوچھتے اور جوابات سنتے دو گھنٹے سے زیادہ وقت گذر گیا اور پتا بھی نہ چلا۔ فاروقی صاحب نے کل بھی غالبؔ پر بے تکان لیکچر دیا۔ آج بھی بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل جوابات دیتے رہے۔ آج شام کو میرؔ پر بولنا ہے۔ ان کے چہرے پر تھکان کے آثار نمایاں ہورہے ہیں۔ ہماری زنبیل میں ابھی کئی سوالات محفوظ ہیں لیکن اب فاروقی صاحب کو مزید زحمت دینے کی ہمت نہیں ہے۔ لنچ کا وقت ہو رہا ہے۔ میزبان اودین واجپئی اور ان کے ساتھی لنچ کے لیے تشریف لاچکے ہیں۔ ہم وقت کے تقاضے کو محسوس کرتے ہوئے فاروقی سصاحب سے رخصت کی اجازت لیتے ہوئے ہوٹل پلاش کے کمرے سے اس طرح شاداں اور فرحاں باہر نکلتے ہیں گویا ہم نے کوئی ہفت خواں طے کر لیا ہو، کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ دورانِ انٹرویو فاروقی صاحب نے جس محبت ، اخلاص، مروت اور خرد نوازی کا ثبوت دیا اور ہمارے سوالات کو گوارہ کرتے ہوئے خوش گوار انداز میں مفصل اور مدلل جوابات دیے اس کے لیے ہم تا حیات ان کے شکر گزار رہیں گے۔ انٹرویو تو ہم نے کئی قلم کاروں کے لیے ہیں مگر اس یادگار انٹرویو کا سحر ہم پر تاحیات طاری رہے گا۔