اُلفت کاایک انوکھاانداز

ڈاکٹر حسن راشد
صدر شعبۂ اردو،گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی حیدرآباد

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابوکی پوسٹنگ شہر سے دور ایک گائوں میں تھی شہر سے گائوں آنے جانے میں بہت وقت لگتاتھا۔کئی گاڑیاں بدلناپڑتی تھیں ۔آمدنی محدودتھی۔ کرایہ گراں گزرتاتھاابووہیں رہتے تھے ۔ہفتے ،پندرہ دن اورکبھی کبھی ایک ایک مہینے بعدگھرآتے تھے ۔گھر آتے ہوئے گائوں اور رستے سے بہت کچھ لاتے تھے ہم سب بہن بھائی ،امی ،دادادادی ابوکاشدت سے انتظارکرتے تھے جس روزآتے اُس روزمیلہ سالگ جاتاتھاپھوپھیاں اور ان کے بچے بھی اکثر اُسی روزآجاتے گویاعیدکاسماں ہوتا۔یہ گرمیوں کے دن تھے جب ابوگائوں سے بہت ساسامان ساتھ لائے اور اُسے بھی ساتھ لائے اور ایک چارپائی پر بٹھادیا۔کچھ دیرتک سب ملنے ملانے میں مگن رہے پھر امی کی نظر اُس پر پڑی ۔ابونے اس کے متعلق بتایاکہ کس طرح وہ کم عمر گائوں میں اکیلی تھی ۔گائوں میں چوں کہ ابوکواستادہونے کے سبب نہایت معتبرمقام حاصل تھاچھوٹابڑاہرایک ان کی دل وجان سے عزت کرتاتھاشایدیہی وجہ تھی کہ اسے ابوکے سپردکردیاگیاامی نے گھر کے چھوٹے کمرے میں اس کے رہنے اور کھانے پینے کامستقل انتظام کردیااب وہی سب کچھ تھامیں اس وقت ۱۳یا۱۴بر س کاتھااور نویں جماعت کاایک اوسط درجے کاطالب علم تھاگھرپرمیری اس سے اس وقت نظریں چارہوئیں جب میں سائیکل لینے کمرے میں داخل ہوامجھے یوں اچانک کمرے میں دیکھ کر وہ سہم سی گئی اور چارپائی پرسمٹ کر بیٹھ گئی ۔امیداورخوف سے بڑی بڑی سیاہ غزالیں آنکھوں سے ٹکرٹکر دیکھنے لگی اور دبی دبی سسکی لینے لگی شایدچیخنے چلانے لگی۔اسی وقت چھوٹی بہن نجمہ آگئی اور مجھے اس کے متعلق بتایا۔نجمہ اس کی ہم عمر تھی لڑکی ہونے کے باوجوداسے اس سے قطعاًدل چسپی نہ تھی۔
اس کے آنے سے کمرہ میرے ہاتھ سے گیامگر مجھے اس میں رفتہ رفتہ دل چسپی پیداہونے لگی اوردل چسپی بڑھتے بڑھتے نجانے کب اُلفت میں بدل گئی ،پتاہی نہیں چلا۔یہی معاملہ اس کی طرف سے بھی تھااب وہ پہلے کی طرح مجھے دیکھ کر نہیں چونکتی تھی جیسے اُسے مجھ پر اعتمادہواور اپنامحافظ سمجھتی ہو۔پورے گھر میں اسے سب سے زیادہ مجھ سے تعلق پر فخر تھا امی اُسے کھانے پینے کودیتیں تونجمہ سے پہلے میں فوراً ہاتھ بڑھاتااور اسے اپنے ہاتھوں سے بچوں کی طرح کھلاتاپلاتااور اُس وقت تک پاس بیٹھارہتاجب تک کھاپی نہیںلیتی۔زندگی مجھے حسین سے حسین تر نظر آنے لگی تھی ۔میری صبح کاآغازاُس وقت ہوتاجب وہ چھت پرآتی ،ادھر سات بجتے ادھر وہ خاموشی سے دبے قدموں نازک اندام چال چلتی قریب آجاتی،اتنے قریب کہ میرا پیشانی اس سے مَس ہونے لگتی ،اس کے سیاہ ریشمین بال چہرے سے چھونے لگتے ،اس کے وجودکی خوش بومیرے رگ وپے میں سرایت کرنے لگتی ،اِس احساس سے اکثر آنکھ کھل جاتی اُسے اپنی جانب متوجہ پاتاپورے جسم میں ایک خوش گوار احساس جنم لیتا،دل کی دھڑکن بے قابوہونے لگتی، سیاہ بادلوں کی مانندزلفوں کی ٹھنڈک اور ملائمت سے سانسیں بے ترتیب ہونے لگتیں ،صبح کی اوس میں بھیگابستراس کے گداز سراپافرحت بخش تسکین دیتا،جذبات سے مغلوب میں اس کے پہلومیں لیٹاہوتاگویاکہ رہاہوں :
تیراپہلوبھی تیرے دل کی طرح آبادرہے
تجھ پہ گزرے نہ قیامت شبِ تنہائی کی
اس کی آوازایک نسوانی قہقہے کی مانند کانوں میں امرت گھولتی ،جیسے دورسناٹے میں مندر کی گھنٹیاں بجتی ہوں ،جیسے رات کے کسی پہر شہنائی گھونجتی ہو۔ا ب یہ میراروز کامعمول تھا۔اس کی قربت میں دن گزرنے کااحساس تک نہ ہوتانجانے کتنے ہی لمحات اُس کے ساتھ اور اُس کے دل فریب تصور میں گزرجاتے اور یہ سلسلہ امی کی آوازپر ٹوٹتا۔امی نجمہ کوجگانے بھیجتیں تواس کے آنے سے پہلے فوراً اٹھ کھڑاہوتا۔بے دلی سے ناشتہ کرتا،بوجھل قدموں سے اس کاحسین تصور لیے اسکول جاتاجن چیزوں سے وہ خوش ہوسکتی اس کاخیال کرتا۔پڑھائی سے دل اچاٹ ہوگیا۔اسکول میں اس کے بارے میں سوچتا،اوردوستوں سے باتیں کرتارہتا،کاشف ،زہیب ،پپونے شروع میںخوب دلچسپی لی لیکن رفتہ رفتہ وہ اس موضوع سے کترانے لگے تھے ۔اسکول جانے کے لیے جوجیب خرچ ملتااسے آدھی چھٹی میں بچالتااور واپسی میں اس کے لیے کچھ نہ کچھ ضرورلیتا،گھر میں داخل ہوتے ہی چوری چھپے اس کے کمرے میں جاتااور اس کی پسندیدہ چیزیں اس کے سامنے ڈھیر کردیتا۔وہ معصوم بھولی بھالی صورت اس پر ایسے ٹوٹ پڑتی جیسے کب سے بھوکی ہواور نجانے دوبارہ کب کھانے کوملے ۔اب یہ معمول تھاکہ صبح وشام اسے دیکھتا،زیادہ سے زیادہ وقت اس کے ساتھ بتاتا۔ہم دونوں کو ایک دوسرے کے بغیر چین نہ آتاتھامحبت کی یہ شدت عشق کاروپ دھارچکی تھی ۔کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے ۔جلد ہی سب ہی کواس کا علم ہوگیا۔یہ لگائوکسے برداشت ہوسکتاتھالہٰذاامی ابادادی دادا اور رشتے داروں نے سمجھایا۔اِدھریہ حالت کہ اس کے بغیر زندگی کی تمام رونقیں بے رونق تھیں ،اپنے پرائے سب دشمن بن گئے ایک دونے تواسے جان سے مارنے یاکہیں بھیجنے کامشورہ دیا۔ وہ گائوں کی بھولی بھالی،اس دنیامیں تنہاتھی میرے سواکوئی اس کاہمدردنہ تھا۔ اس ٖغیر فطری رشتے کوکیانام دیتا ۔اپنی محبت کوکیسے سب سے بچاتا۔امی میری حالت دیکھ دیکھ کر کڑھنے لگیں ۔ماں کارشتہ ہی ایساہے اپنی اولادکوتکلیف میں کیسے دیکھ سکتی ہے اُن کے آنسونکل آتے ۔اباملازمت پر ہوتے ۔ہم دونوں پر سختی کرتیں مجھ پر کم اور اُس پر زیادہ ۔آخر قیامت کی وہ گھڑی آن پہنچی ،اُس روزبارش رات سے جاری تھی جب وہ کمرے سے تنہاباہر نکلی۔ابھی اِس نے دہلیزہی پار کی ہوگی کہ ایک گاڑی اندھی گولی کی طرح اسے اس زور سے ٹکر ماری وہ آناًفاناًزندگی کی بازی ہارگئی ۔اس معصوم کابے جان جسم منٹوں میں ٹھنڈاپڑگیا۔اس کاصدمہ اس قد رہواکہ پورے تین دن بخارمیں جلتارہا۔آنسوتھے کہ سیلاب کی مانند امڈے چلے آتے تھے ۔امی ،ابو،نجمہ اس کی موت سے زیادہ میرے لیے پریشان تھے ۔چوتھے روزطبیعت ذراسنبھلی توامی نے پسندیدہ ہلکے اورپتلے شوربے کاسالن سامنے چن دیا،اچانک اس کی تصویرذہن پر ابھری اور پھر ٹپ ٹپ گرم گرم آنسورخسارپر پھیلنے لگے اوربے اختیارایک صدائے دردناک نوکِ زباں ہوئی ۔۔۔ہائے میری پیاری مرغی۔