سیرت النبی ﷺ کا مطالعہ بحوالہ “عشقِ شہِ اُمم”از نصیر ؔوارثی
پروفیسر مرزا حفیظ اوج
پیسفک گروپ آف کالجز ملتان(پاکستان)
؎سیرت کے پہلوؤں کو نبھاتا ہے خوب تر
عشقِ شہِ امم میں سجاتا ہے خوب تر
جذبات و احساسات کی عکاسی کے لیےشاعری بہترین ذریعہ ہے اس سے وارداتِ قلبی بطریقِ احسن الفاظ کے خوبصورت جامے میں ملبوس کیے جا سکتے ہیںاور اگر یہ احساسات و جذبات مبدائے کائنات کے محبوب اور حبیب رسول محتشم ، شاہ امم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت کی چادر میں لپٹے ہوئے ہوں تو بات ہی کچھ اور ہے۔ اور اس محبت کے ساتھ اگر حضوری کی کیفیت شامل ہو جائے تو الفاظ کے سانچے میں ڈھلے اشعار حیاتِ جاودانی پا جاتے ہیں۔جیسا کہ شرف الدین بوصیری کا قصیدہ بردہ شریف اور شیخ سعدی شیرازی کے اشعار” بلغ العلیٰ بکمالہ”وغیرہ۔ بالکل اسی طرح جس دل میں رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت ہو اس کے افعال سے محبت رسول ظاہر بھی ہوتی ہے۔ اس کے اقوال میں سرشاریء عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جھلک نمایاں رہتی ہے اور اگر وہ نعت گو شاعر ہو جسے اپنے جذبات کے موتیوں کو قرینے سے لڑی میں پرونے کا فن آتا ہو تو لکھے ہوئے اشعار عشقِ محبت رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے فروغ کا باعث بنتے اور قبولیت کی سند لے کر شاعر کو ہمیشہ زندہ و جاوید کر دیتے ہیں۔
عصرِ حاضر میں جہاں سیرت النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مختلف پہلوؤں پر کام ہو رہا ہے اور نت نئی کتب سامنے آرہی ہیں وہیں نعت لکھنے ، پڑھنے اور سننے کا رجحان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ نعت سننے اور پڑھنے سے زیادہ اہم کام نعت لکھنے کا ہے کیونکہ نعت خالص طور پر رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف و توصیف کا نام ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ شمائل النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نظم کرنے کا نام نعت ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ دورِ حاضر میں نعت کے ضمن میں بعض استغاثے تو ایسے ہیں کہ سننے والے پر رقت طاری کر دیتے ہیں ۔ بہرحال اس دور میں نعت لکھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ تھی اور اس پر کمال یہ کہ ہر شخص کی کوشش یہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعریف و توصیف کہنے والوں کی فہرست میں شامل کروا لے۔ اسی ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے شاعر حتیٰ المقدور کوشش میں رہتے ہیں کہ چند اشعار ہی سہی نبی کریم ، رؤف رحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں کہہ پائیں تاکہ نعت نگاروں میں شامل ہو سکیں۔
نصیر وارثی بھی اسی کوشش میں ہیں کہ انکا نام بھی اسی فہرست میں شامل ہو جائے زیرِ نظر مجموعہ نعت “عشقِ شاہِ امم”اس کا منہ بولتا ثبوت ہے جو نصیر وارثی کا محبت نامہ بحضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہے۔ نصیر وارثی کا اصل نام نصیر احمد خان وارثی ہے جو 17 مارچ 1962ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، نصیر وارثی کا تعلق ایک علمی و ادبی گھرانے سے ہے ان کے والد ستار وارثی نعت کے معروف شاعر اور کئی کتب کے خالق ہیں۔ بڑے بھائی ڈاکٹر سعید وارثی ہیں جو کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ سعید وارثی ایک سماجی ، ادبی شخصیت ہونے کے ساتھ منفرد اسلوب کے شاعر اور کئی کتب کے خالق بھی ہیں۔ دوسرے بھائی رشید وارثی محقق، نقاداور شاعر ہیںجبکہ تیسرے بھائی رئیس وارثی ہیںجنہیں ادبی دنیا میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ رئیس وارثی اردو مرکز نیو یارک کے بانی و صدر ہیں اس کے علاوہ رئیس وارثی عالمی دنیائے ادب کا واحد جریدہ سہ ماہی “ورثہ” نیو یارک کے مدیرِ اعلیٰ بھی ہیں۔ نصیر وارثی کے والدین پو۔پی (ہندوستان) کے شہر بریلی سے تقسیم پاکستان کے وقت ہجرت کرکے کراچی آباد ہوئے۔
نصیر وارثی لڑکپن ہی سے گھریلو ماحول اور تربیت کے باعث علمی و ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔ زمانہء طالب علمی میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ کالج میں دورانِ تعلیم ایک ادبی تنظیم “بابائے اردو ادبی تنظیم” قائم کی جس کے پرچم تلےبڑے بڑے مشاعرے اور اردو کانفرنسیز انعقاد پذیر ہوتی رہیں۔ نصیر وارثی نے اپنی شاعری اور لکھنے لکھانےکا عمل لڑکپن ہی سے شروع کیا۔ کالج سے فراغت کے بعد انہوں نے جامعہ کراچی میںداخلہ لیا اور وہاں بھی دیگر ادبی، علمی اور سیاسی سرگرمیوں میں شامل رہے۔ بعد ازاں نصیر وارثی نے Gemoloical Institute of Amrica سے کورس مکمل کیا۔
نصیر وارثی پاکستان کے معروف سماجی ادارے مجلس سماجی کارکنانِ پاکستان کے کراچی صدر بھی رہے۔ ینگ پاکستانی رائٹر کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا ۔ ملک پاکستان کے نامور ادیبوں اورشاعروںکی صحبت میں رہے ۔ رئیس امرہوی کی قائم کردہ “مہران رائٹر گلڈ” میں کارکن کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 1986ء میں کراچی سے شائع ہونے والے ادبی جریدے “ورثہ” میں انتظامی مدیر رہے جس کے بانیان میں ڈاکٹر سعید وارثی، ڈاکٹر شاہد الوری اور ولاور فگار جیسے شہرت یافتہ ادباء شامل ہیں۔ نصیر وارثی نے یونسیکو کی عالمی تحریک “ڈرگ فری زون” کے کراچی کے سربراہ کے طور پر بھی کام کیا۔اس کے علاوہ نصیر وارثی عالمی نارکوٹکس کنڑول بورڈ(جینوا)اور دیگر عالمی اداروں کے ساتھ انسداد منشیات کی مہم کا حصہ بھی رہے۔ نیشنل فیڈریشن آف این۔جی۔اوز پاکستان (کراچی) کی نمائندگی بھی کرتے رہے۔ پاکستان نارکوٹکس کنڑول بورڈ اور یو ۔ایس۔ ایڈ کے تربیتی کورسز بھی مکمل کیے۔
1989ء اور 1990ء میں دو مرتبہ امریکہ میں ہونے والی عالمی انسداد منشیات کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ نیو یارک میں مستقل قیام کے بعد ادبی تنظیم” اردو مرکز نیو یارک” کے منتظم اعلیٰ کے طور پر ذمہ داری سنبھالی اور نیو یارک میں ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیااور ساتھ ہی نیویارک میں مذہبی ریسرچ کا ادارہ”خدیجہ فاؤنڈیشن نیویارک” کا قیام کیا۔ نصیر وارثی گزشتہ 31 سالوں سے نیو یارک (امریکہ) میں مقیم ہیںاور نیو یارک ہی میں “جوئیلری و جیم اسٹون” کا کاروبار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ موصوف دنیائے اردو کا عالمی جریدہ سہ ماہی ورثہ نیو یارک کے مدیر و ناشر بھی ہیں۔
محقق ، ادیب، نثر نگار، افسانہ نگار اور شاعر نصیر وارثی طریقت میں وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ سے نسبت رکھتے ہیں۔ نصیر وارثی نعت نگاری میں بھی اپنا منفرد اسلوب رکھتے ہیں جو آنے والی مثالوں کے ذریعےآپ قارئین دیکھ سکیں گے۔نصیر وارثی کی نعت نگاری دراصل ان کو وثہ میں ملی ہے۔ نیویارک میں رہتے ہوئے بھی ان کے دل میں عشقِ شاہِ امم ﷺ کی شمع ٹمٹما رہی ہے۔ ان کی نعتیہ شاعری کے مصادر زیادہ تر قرآن ، حدیث اور آثار ہیں ، کہیں کہیں ہمیں استغاثے کی صورتیں بھی نظر آتی ہیں ۔ ان کے اشعار میں عشق رسول ﷺ کا رچاؤ نظر آتا ہے، کلام میں کیفیات اور وارداتِ قلبی صاف طور پر دیکھائی دیتی ہے۔ زیرِ نظر نعتیہ مجموعے”عشقِ شاہِ امم” میں قرآنی استدلال بکثرت ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ شمائل و خصائص نبوی ﷺ اور دلائل نبوت کے حوالے بھی کثیر تعداد میں ملتے ہیں۔ کہیں کہیں نصیر وارثی نہایت دقیق علمی نکات کو بڑی آسانی سے شعری قالب میں ڈھال کر وہ رائے پیش کر دیتے ہیں کو ائمہ و فقہا کی رائے ہے جیسے:
؎نبی ہیں نور کا پیکر ، نبی بشر بھی ہیں
نبی سا مظہرِ انوارِ کبریا ہی نہیں
اسی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت جداگانہ نہیں ہے کو نہایت خوبصورتی سے شعر کی لڑی میں پرودیا۔ جیسے:
؎خدا کے بعد اطاعت نبی کی فرض نصیر
نبی کی بات حکمِ رب ہے،شائبہ ہی نہیں
؎طاعت نبی کی لازم و ملزوم ہے نصیر
ہیں رب تلک پہنچنے کا زینہ مرے حضور
؎بدر الدجیٰ کی سیر میں حسنات ہیں کثیر
پہناں اس ایک نام میں برکات ہیں کثیر
شمائل و خصائص رسول ﷺ پر لکھے گئے اشعار کی تعداد بھی کثرت اس ان کے ہاں ملتی ہے ۔ جس میں روایتی موضوعات نہ ہونے کے برابر ہیں ، ہر شعر منفرد انداز میں کہا گیا ہےجس سے نعت نگاری میں انکا اپنا اسلوب نمایاں ہوتا ہے ۔ نمونتاً چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
؎شب سوالی ہے اسی نورضیا کے آگے
رنگ پھیکے ہیں سبھی ریشِ شہا کے آگے
سارا عالم ہی منور ہے تبسم کے سبب
ساری ظلمات ہیں کافور شہا کے آگے
ان کے دم سے ہی توازن ہے جہانِ کن میں
نظمِ عالم ہے جھکا بدرالدجیٰ کے آگے
؎نظریں اٹھا کے شاہ نے دیکھا تھا ایکبار
چہرہ نکھر گیا ہے نجوم و سحاب کا
؎حسنِ تحلیقِ قدرت کا شہکار ہیں
آپ روشن جبیں، آپ نور الہدیٰ
؎بیاں والیل زلفوں کی ضیا یا سیدِ عالم
ترے چہرے پہ صادق والضحیٰ یا سیدِ عالم
؎اے نصیر انکے فضائل کی کوئی حد ہی نہیں
فرض کرے عقلِ انساں، جتنے امکانات بھی، سچ
؎حسنِ تصویرِ جہاں ٹھہرے وہ
رب نے یوں نقش ابھارا ان کا
؎محبوب کو محب نے جو دیکھا تھا ایک شب
جلوؤں کا اہتمام بڑی دیر تک رہا
؎بےنوا ہوں ، مرا نطق خاموش ہے
انکو معلوم ہے جو بھی ہے مدّعا
؎ہمی پہ شکر کا سجدہ ہوا ہے یوں واجب
حضور آپ کا ہونا کمال نعمت ہے
؎چہرہ بنا حضور کا دستِ الہٰ سے
چہرے کو والضحیٰ سے مقلب کیا وہ تو
رسول مکرم ﷺ کے اسمِ گرامی کے حوالے سے کیا ہی منفرد اسلوب پیش کیا جسے پڑھ کر قاری واقعی کہنے لاجواب کہنے پر مجبور ہو جاتا ہےاور داد و تحسین دئیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جیسے
جہاں میں سکہء خیر الانام چلتا ہے
انہی کا اسمِ گرامی مدام چلتا ہے
اسی طرح نصیر وارثی نے اپنی نعتیہ شاعری میں دلائل النبوۃ کا بھی خاص اہتمام کیا ہے۔اس کی واضح مثالیں ان کی نعتیہ شاعری میں ملتی ہیں۔ نصیر وارثی کے ان اشعار کو پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دلائل النبوۃ پر ناصرف ان کا مطالعہ ہے بلکہ یہ اس موضوع پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
؎قرآں کلامِ حق ہے، ہمہ گیر، آخری
شہرہ رہے گا حشر تلک اس کتاب کا
؎سارے نبیوں میں اعلیٰ لقب آپ کا
آپ ختم الرسل ، سید الانبیا
؎آپ اعلیٰ سے اعلیٰ ہیں مخلوق میں
آپ تاج العُلا، سید الاصفیا
؎ترا رتبہ امام الانبیا، یا سیدِ عالم
تو ہی طہٰ، تو ہی بدر الدجیٰ یا سیدِ عالم
؎محشر میں انکے ہاتھ میں ہوں گی شفاعتیں
بخشش کا، مغفرت کا سفینہ مرے حضور
؎عقل ہے غرقابِ حیرت، یہ الگ بات ورنہ
آپ کی معراجِ عرشِ حق، وصالِ ذات بھی سچ
؎عرب عجم کے مقتدا رسول صاحبِ حشم
جہانِ کن کے پیشوا رسول صاحبِ حشم
قدم ہے فرش پر مگر ہے عرش مسندِ حضور
نبی ہیں صاحبِ دنا رسول صاحبِ حشم
وحی ہے جس کی بات اور ہاتھ رب کا ہاتھ ہے
وہ ہے حبیبِ کبریارسول صاحبِ حشم
تمہی ہو خلقِ اولیں، تمہی ہو جانِ امرِ کن
ہوئی تمہی سے ابتدا رسول صاحبِ حشم
رسول مکرم ﷺ کی عاداتِ مبارکہ پر بہت کم نعت نگاروں نے لکھا ہے ہاں آپ ﷺ کے جودوسخا کو اکثر و بیشتر نعت نگار اپنا موضوع بناتے ہیں مگر دیگر عاداتِ نبوی پر کلام کم پایا جاتا ہے۔ وہی نصیر وارثی خاص اہتمام سے رسول مکرم ﷺ کی عادات کو ناصرف بیان کرتے ہیں بلکہ مصادر پر بھی خصوصی توجہ کرتے ہیں تاکہ روایت و شعر کی صحت برقرار رہے۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
؎صبر و رضا، زُہد و سخا، صادق و امین
روشن ہے ہر اک پہلو ہی سیرت کے باب کا
؎ترے جود و سخا و حلم کی تنویر پھیلی ہے
ترے اوصاف ہیں فقرو غنا یا سیدِ عالم
تری گفتار کے آگے عرب کے دب گئے افصح
ترے اخلاق سے پھوٹی ضیا یا سیدِ عالم
؎فصاحت میں بلاغت میں نہیں ہے آپ کا ثانی
عرب کے سارے ہی فصحا، بہت حیران ہیں ان پر
شجاعت آپ کی، صبر و رضا ، وعدے کی پابندی
گہر نایاب ہیں اک اک، سبھی قربان ہیں ان پر
؎کچھ کھجوریں ہیں کبھی اور کبھی
جو کی روٹی پہ گزارا اُن کا
سابقہ صفحات میں آپ نے نصیر وارثی کے اسلوبِ نگارش، علمی نکات کا بیان، قرآنی استدلال، احادیثی روایات، سیرت النبی ، شمائل وخصائل و دلائل اور عاداتِ نبوی ﷺ کے نمونے ملاحظہ کیے۔ اب آخر میں ان کی دعوتِ فکر بھی ملاحظہ ہو:
؎ہر ایک دور میں انسان کی ضرورت ہے
نبی کے اسوہء کامل کی سب کو حاجت ہے
؎اوڑھا ہو اگر آپ کا اسوہ ء محبت
نیرنگیء دنیا میں یہ کھونے نہیں دیتا
وہ راحتِ جاں آپ کا غم ہے کہ کریما
پلکیں غمِ دنیا میں بھگونے نہیں دیتا
عشقِ شاہِ امم میں نصیر وارثی نے ایک ہی وقت میں قرآن، حدیث، اجماع، تفسیر، سیرت، شمائل و خصائص، دلائل ، علمی نکات و مغالطےاور ایسے ایسے نعتیہ موضوعات کو بیان کیا کہ پڑھنے والاباآسانی یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کا مطالعہ نہایت وسیع ہے۔ قرآن و سنت گویا ان کے سامنے رہی ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ نصیر وارثی کی یہ کاوش ادبی افق پر مثلِ آفتاب چمکے گی اور اسے خوب پذیرائی حاصل ہو گی۔ آخر میں دعا گو ہوں کہ اللہ و رسول عزوجل و صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حضور ان کی یہ کاوش قبولیت کی سند حاصل کرے اور ان کا قلم یونہی تقدیسی ادب کو فروغ دیتا رہے۔ آمین
https://shorturl.fm/K3rCG