پروفیسر ڈاکٹر اسحاق وردگ
عصرِ حاضر کا نمائندہ شاعر
نورحبیب نور
ایم فل سکالر ،شعبہ اردو ،جامعہ پشاور
ڈاکٹر اسحاق وردگ دورِ حاضر کے ان نوجوان شعراء کرام میں سے ہیں جنہوں نے اپنی شغف ،محنت، لگن اور تخلیقی صلاحیتوں سے پشاور کی جدید نسل کے جذبات اور احساسات کو شاعری میں ڈھالا۔ ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے پسماندہ علاقے ضلع دیر سے ہے، جہاں تعلیمی سہولیات اور ادبی ماحول محدود ہیں، مگر اسحاق وردگ نے اپنی محنت اور جذبے سے نہ صرف اپنی شناخت بنائی بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے پورے خطے میں ایک نئی سوچ اور انداز متعارف کروایا۔ڈاکٹر اسحاق وردگ سپیرئیر سائنس کالج پشاور میں پروفیسر ہیں اور اپنی خوش اخلاقی، خوبصورت لہجے اور کمال لطافت کی وجہ سے طلبہ اور ساتھی اساتذہ کرام میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کی گفتگو میں نرمی اور شائستگی نمایاں ہے، جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری میں جدید دور کے مسائل، نوجوانوں کی امیدیں، معاشرتی تضادات اور انسانی جذبات کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ ان کی معروف کتاب “شہر میں گاؤں کے پرندے”ہے جس میں انہوں نے دیہاتی پس منظر اور شہری زندگی کے تضاد کو نہایت خوب صورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں ایک طرف سادگی اور فطری رنگ جھلکتا ہے تو دوسری طرف جدید دور کے تقاضے اور مسائل بھی نمایاں ہیں۔ اس حوالے سے ان کا ایک سیگنچر شعر ملاحظہ ہو:
خیرات میں دے آیا ہوں جیتی ہوئی بازی
دنیا یہ سمجھتی ہے کہ میں ہار گیا ہوں
اس طرح کے کئی اشعار اسحاق وردگ کی زندگی اور سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی ظاہری کامیابیوں اور ناکامیوں سے بالاتر ہوکر اصل انسانی قدروں اور جذبات کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد، امید، محبت اور حقیقت پسندی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ جیسے کہ وہ فرماتے ہیں:
کاغذ کے بنے پھول جو گل دان میں رکھنا
تتلی کی اداسی کو بھی امکان میں رکھنا
اس شعر میں ڈاکٹر اسحاق وردگ نے زندگی کی عارضیت اور انسانی جذبات کی نزاکت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے کلام میں ایک خاص قسم کی لطافت اور گہرائی ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ نہ صرف ایک باکمال شاعر ہیں بلکہ ایک بہترین استاد بھی ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی عاجزی، محبت اور خلوص نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا ہے۔ان کا ایک شعر ملاحظہ ہو:
ہمارے ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا
وہی ایک شخص خدا ہونے سے پہلے
یہ شعر ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری کی گہرائی اور فلسفہ کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ عام انسانی تعلقات میں چھپی ہوئی عظمت اور سچائی کو بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری میں نہ صرف پشاور بلکہ پورے پاکستان کے نوجوانوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ان کی شخصیت میں سادگی اور انکساری نمایاں ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے علاقے اور لوگوں سے جڑے رہتے ہیں اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کے مسائل اور جذبات کو اجاگر کرتے ہیں۔ڈاکٹر اسحاق وردگ کی شاعری نوجوان نسل کے لیے امید، حوصلہ اور رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ ان کی کتاب “شہر میں گاؤں کے پرندے” آج کے نوجوانوں کے دلوں کی آواز بن چکی ہے۔ڈاکٹراسحاق وردگ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر انسان میں جذبہ، محنت اور اخلاص ہو تو وہ کسی بھی میدان میں اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ وہ آج بھی اپنی شاعری، تدریس اور اخلاق سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی زندگی اور شاعری نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ خواب دیکھنا اور انہیں حقیقت میں بدلنا ناممکن نہیں ۔
https://shorturl.fm/kcybA
https://shorturl.fm/1lqWF
https://shorturl.fm/ixkfK