قرۃ العین حیدرکے ناولوں میں تہذیبی شعور

ڈاکٹر نزہت عباسی(کراچی)

قرۃ العین حیدر کا نام اردو ناول نگاری میں سرفہرست ہے۔ ان کی تخلیقی زندگی کا آغاز جس وقت ہوا سیاسی ‘ معاشرتی‘ اور تہذیبی لحاظ سے وہ دور بڑی کشمکش کا تھا۔ اس دور کے دیگر ناول نگاروں کے ہاں تہذیب ‘ سماج‘ مذہب اور معاشرت کے لحاظ سے روایت اور جدت کے کئی مناظرنظر آتے ہیں۔قرۃ العین حیدر نے بھی یہ تہذیبی شعور اپنی تاریخ‘ ثقافت اور روایت سے اخذ کیا اور اسے اپنے توانا لب و لہجے میں پیش کیا۔۱۹۴۷ء میں تقسیم پاک و ہند کے بعد نئی تہذیبی اقدار نے جنم لیا ۔ قرۃ العین کے ناولوں میں تہذیبی زوال کی بھی صورتیں نظر آتی ہیں۔قرۃ العین اپنی تہذیب کو بے حد اہمیت دیتی ہیں۔ وہ ماضی‘ حال اور مستقبل‘کو ایک تسلسل میں دیکھتی ہیں اور اپنے ناولوں کا مواد اسی تہذیبی شعور سے اخذ کرتی ہیں۔ ان کے ناولوں’ میں’ آگ کا دریا‘‘ میرے بھی صنم خانے ‘ سفینہ ء غم دل‘ آخر ِشب کے ہم سفر ‘ کار ِجہاں دراز ہے ‘ گردش ِرنگِ چمن‘ چاندنی بیگم اور ناولٹ سیتا ہرن ‘ چائے کے باغ ‘ دلربا ‘ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو،ہاوسنگ سوسائٹی وغیرہ شامل ہیں۔
قرۃ العین حیدر نے اپنی فلسفیانہ اور دانشورانہ نظر سے ہندوستان کی تہذیبی فضا کو دیکھا ‘ سمجھا اور اس کی گہرائیوں میں اتر کر باریک بینی سے اس کا مشاہدہ کیا ۔ ان کے اس انداز نے ان کے ناولوںکو ایک نئی فکر جہت عطا کی اور ایک نیا اسلوب اردو دنیا میں متعارف کروایا ۔ وہ اپنے ناولوں میں ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی و ثقافتی وراثت کو پیش کرتی ہیں۔ ان کے ناول ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت اور جاگیر دارانہ عہد کی معاشرت اور اقدار کا نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ ان کے ناولوں کی تہذیب کا پس منظر زیادہ تر لکھنؤ اور اودھ کی توانا روایات اور خاص کر وہا ں کے طبقۂ اشرافیہ کی تہذیبی اقدار پر مبنی نظر آتا ہے۔جو ایک وسیع النظر ‘ رواداری اور مساوات کے نظریے پر یقین رکھتاتھا ۔ اس دور میں مذہبی رواداری نمایاں تھی۔ مذہب کے فرق کے باوجود مسلمان اور ہندوئوں میں کئی باتیں مشترک تھیں ‘زبان ‘ لباس ‘ رسوم ورواج وغیرہ سب میں ہم آہنگی نظر آتی تھی ۔ ایک مشترکہ کلچر اس دور میں نظر آتا ہے جس پر اس وقت کے ہندو مسلم تہذیبی اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ عید‘ دیوالی‘ ہولی وغیرہ جیسے تہوار مسلمان ہندو مل جل کر مناتے تھے ۔ نفرت اور دشمنی کے جذبات دلوں میں موجود نہ تھے ۔ لکھنؤ کے نوابین اثنائے عشری فرقے سے تعلق رکھتے تھے ۔ محرم کی مجالس کا نہایت مذہبی جذبے سے اہتمام کیا جاتا تھا مثلاً
لکھنؤ کا محرم جب گلی گلی امام باڑے سجتے تھے اور شربت کی سبیلیں لگائی جاتی تھیںاور ہندو مسلما ن شیعہ سنی اکٹھے ہو کر حسین مظلوم انسانیت کے سب سے بڑے ہیرو کی بارگاہ میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے تھے ۔ چوبیس گھنٹے ماتمی نقارہ بجتاتھا۔ ہند وعورتوں کی ٹولیاں پوربی زبان میں کہے ہوئے نوحے اپنے طریقے سے گاتی ہوئی سڑکوں اور گلیوں میں سے گزرتی رہتی تھیں‘ چالیس دن تک سارے شہر میں بلا کی چہل پہل ‘ زندگی اور جوش رہتاتھا ۔‘‘(۱)
مسلمان ہندوئوں کے تہوار بھی بڑے جوش و خروش سے مناتے ۔ محلوں‘ حویلیوں میں سب مل جل کر ان تہواروںمیں شریک ہوتے ۔
یہاں انہوں نے ہولی پر حویلی اور محلے کے بچوں کے ساتھ ہوا میں گلال اور عبیر اڑایاتھا۔ یہاں انہوںنے رام لیلاپروان کے جلنے اور سروپ لکھا کی ناک کٹنے پر بچپن میں اپنے دوسروں کے ساتھ اکٹھی خوشیاں منائی تھیں ۔ یہاں انہوں نے دیوالی پر کھانڈ اور مٹی کے کھلونوں سے اپنے گھروندے سجاکر حویلی میں چراغاں کیا تھا …‘‘(۲)
میرے بھی صنم خانے ‘‘ ناول جاگیردارانہ تہذیب کے زوال کی داستان سناتا ہے۔ صدیوں کی مشترکہ ہندو اسلامی تہذیب جب زوال اور انتشار کا شکار ہوئی تو کس طرح ایک تہذیبی المیہ نے جنم لیا اور صدیوں کے فاصلے پیدا ہوگئے ۔ قرۃ العین کے اس ناول میں اعلیٰ طبقے کی تہذیبی کشمکش کو نمایاںکیا ہے جن کی تہذیبی روایات درہم برہم ہوگئی تھیں ۔ ناول کی ہیروئن ’’رخشندہ‘‘ اس طبقے کی نوجوان نسل کی نمائندہ ہے جس کا ذہنی انتشار اس پوری تہذیب کے انتشار کو ظاہر کرتا ہے۔
’’سفینہء غم دل ‘ ‘ بھی تقسیم بر صغیر ‘ فسادات اور اس کے تہذیبی اثرات کی داستان سناتا ہے ۔ اس میں بھی جاگیر دارطبقے کے زوال کے اسباب پر نظر ڈالی گئی ہے ۔ اس طبقے کی اپنی کمزوریاں اس کو زوال کی طرف لے گئیں اس طبقے کا پوری تہذیبی منظر قرۃ العین نے پیش کیا ہے ۔ ان کی زندگی‘ تفریحات ‘ غم ‘ خوشیاں‘ رشتے ناتے سب کو حقیقی انداز سے پیش کیا ہے ۔ مرکزی کردار رضا بھائی ہجرت کرکے پاکستان آتے ہیں۔ اور اس طرح ایک طبقے کی تہذیب کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
مشترکہ و مخلوط تہذیبی و ثقافتی فضا اس تقسیم کے نتیجے میں ختم ہوجاتی ہے ۔ قرۃ العین حیدر اس تہذیبی سرمائے کے خاتمے کو عظیم انسانی المیہ سمجھتی ہیں۔
سفینۂ غم دل میں بھی ہندو مسلم مشترکہ کلچر کی خوبصورتی کا بیان ہے:
’’رضا بھائی کا یہ عالم تھا کہ جب انہوں نے ہوش سنبھا لا تو خود کو گوپال پور اور ملہر پور ہر دار دونوں جگہ کا کرشن کنہیا تصور کیا اس کے علاوہ کنبہ کے تقریباً سارے افراد قصبے سے باہر مختلف شہروں میں رہتے تھے لیکن رضا بھائی اپنے مصاحبوں کے ساتھ پرانی سرائے کی گلیوں میں گلی ڈنڈاکھیلنے او رام گنگا کے گھاٹ پر آنے والی کہارنیوں اور اہیرنوںکے ساتھ راس لیلا رچاتے پروان چڑھے ‘‘ (۳)
’’آگ کا دریا ‘‘ قرۃ العین حیدر کا سب سے مشہور ناول ہے۔ جو ان کے فلفسیانہ مزاج اور فکر سے پوری طرح میل کھاتا ہے ۔ اس ناول میں ہندوستان کی ڈھائی ہزار سالہ قدیم تاریخ اور عہد جدید کے حالات کا ذکر ہے ۔ا س ناول میں ہندوستانی تہذیب اور ثقافت کو رزمیہ انداز میں پیش کیاگیا ہے ۔ ہندوستان کی مشترکہ ہند اسلامی تہذیب کو مصنفہ نے حقیقت نگاری‘ بیان کی شگفتگی و تازگی اور پورے تخلیقی وجدان کے ساتھ پیش کیا ہے ۔ انسانی وجود ‘ وقت کا جبر اس ناول کا موضوع قرار پائے۔ ہندوستان کی تہذیبی فضا اور اس کی تبدیلیوں کے پس منظر میں مصنفہ نے انسانی وجود کا سراغ لگایا ہے ۔ اس کی ذات کے کرب کو تاریخ کے حوالے سے بیان کیا ہے ۔
وہ اپنی تاریخی واقفیت کو فلسفیانہ تجزیے کے ساتھ پیش کرتی ہیں اور انہیں اپنے علامتی کردار وں جو ہر دور میں ہمارے سامنے آتے ہیں مثلاً ہری شنکر ‘ گوتم نیلمبر ‘ کمال الدین ابوالمنصور اور چمپا وغیرہ۔ یہ سب کردار ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ان کے عقائد ‘ نظریات ‘ تصورات سب ہندوستانی تہذیب سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی و ثقافتی وحدت کو نمایاں کرتے ہیں۔
قدیم ہندوستان کے مذہبی عقائد ‘ مسلمانوں کی آمد کے بعد مسلم تہذیب کے اثرات ہندو معاشرت پر‘ صوفی اور بھگتی تحریک،مسلمانوں کا عہد حکومت‘ انگریزوں کی آمد اور قدیم وجدید تہذیب کی کشمکش‘ پھر بر صغیر کی تقسیم اور اس کے تہذیبی اثرات ‘ ان تمام تہذیبی اور ثقافتی دھارو ں کو قرۃ العین حیدر نے فنکارانہ اندا ز میں پیش کیا ہے۔
صوفیوں اور بھگتوں کے تکیوں پر مذہبی رواداری نظر آتی ہے۔
آ گ کا دریا ‘‘ میں عورت کے حوالے سے بھی ہندوستان کے عام تصورات کا ذکر ملتا ہے ۔ عورت کی حیثیت اس معاشرے میں کچھ نہیں۔ چمپا بائی کا کردار لکھنؤ کے تہذیبی زوال کی علامت ہے۔ تنہائی‘ کرب‘ اداسی‘ اسی تہذیبی زوال کا حاصل ہیں۔قرۃ العین کے ذہنی شعور کی نشو و نما اسی تہذیب میں ہوتی تھی اسی لیے وہ اس تہذیب سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔ یہ محبت ان کی نس نس میں پوشیدہ تھی۔ اسی لیے جب وہ تہذیب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی، برسوں کا نظام ٹوٹنے لگا تو وہ اس سے شدید متاثر ہوئیں۔ وہ اپنے ماضی اپنے آباو اجداد سے گہرا لگائو رکھتی تھیں ۔ یہ محبت انہیں ماضی میں لے جاتی ہے جہاں اذیت بھری یادوں کے جنگل انہیں گھیر لیتے ہیں ۔ وہ ہندوستانی سماج کو ایک مکمل وحدت کے طور پر دیکھتی تھیں جہاں ہندو اور مسلمانوں کے درمیان سماجی اور تہذیبی طور پر کوئی فرق نہ تھا انگریزوں کی آمد نے اس میں پھوٹ پیدا کردی تھی۔ اور پھر سیاسی تبدیلیوں نے اس مشترکہ تہذیب کو زوال کا شکار کردیا۔
ڈاکٹر محمد حسن قرۃ العین حیدر کے ان تصورات کے متعلق اپنی رائے دیتے ہیں کہ:۔
’’ جب وہ ایسے ہندوستانی سماج کا نقشہ کھینچتی ہیں جہاں ہندو اور مسلمان سچ مچ شیر و شکر نظر آتے ہیں تو جی چاہتا ہے کہ کاش ایسا ہوتا ۔ ہندو مسلم قریب تھے مگر ان میں کسی نہ کسی طرح کا تاریخی و تہذیبی بعد رہ گیا تھا جس نے تقسیم کی بھیانک شکل اختیار کرلی ۔‘‘ (۴)
بعض اوقات قرۃ العین حیدر کی یہی ماضی پرستی ان کی شدید رومانیت پرستی کا حاصل نظر آتی ہے ۔ وہ ماضی میںسفر کرتی ہیں جس کا ہر رنگ انہیں حسین و دلکش نظر آتا ہے۔ لیکن یہ کیفیت زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ان کے ناولوں میں فکری ارتقا ء بھی نظر آتا ہے۔ وہ مشترکہ تہذیب کے زوال اور اس کے سیاسی و سماجی اثرات کا تجزیہ بھی کرتی ہیں اور ان سے نتائج بھی اخذ کرتی ہیں۔
وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی تہذیب کا قریب سے مشاہدہ کرتی ہیں اور انہیں گہرے تاریخی و تہذیبی شعور کے ساتھ پیش کرتی ہیں ۔ کمال رضا کہتا ہے کہ:
’’ہندوستان پوری کوشش کرکے یہ ثابت کرنے میں مصروف ہے کہ تقسیم غلط تھی اور ملک ایک ہے اور اس کی تہذیب ناقابل تقسیم۔ پاکستان یہ ثابت کرتا ہے کہ تقسیم بالکل جائز اور صحیح تھی اور یہا ںکا کلچر بے حد مختلف ہے اور اسی قومیت کی بنیاد پر یہ ملک حاصل کیاگیا ہے ۔ ادھر ہندوستان یہ کہتا ہے کہ سارے مشرق کی تہذیب کا منبع اس کا کلچر ہے ۔‘‘(۵)
’’آخر شب کے ہم سفر ‘‘ میں بھی اسی تہذیب کی جلوہ گری نظر آتی ہے جس کی پروردہ قرۃ العین حیدر تھیں۔ اس میں انہوں نے کلکتہ اور بنگال کی تہذیبی فضا کو پیس کیا ہے اس ناول میں انگریز سامراج کے خلاف ابھرنے والی بائیں بازو کی دہشت گرد تحریک اور اس کا انجام پیش کیاگیا ہے۔ارجمند منزل کے مختلف کردار ‘ ریحان ‘ رابعہ ‘ ناصرہ ‘ نجم السحر ‘ جہاں آرا وغیرہ کے روپ میں مصنفہ نے بنگال کے مخصوص سیاسی اور تہذیبی پس منظر کو پیش کیا ہے ۔قرۃ العین حیدر تہذیبی تسلسل کو ایک علامتی انداز میں بیان کرتی ہیں:
’’لاکھوں برسوں سے سورج اسی طرح طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے اور طلوع ہے اور غروب ہوتا ہے اور طلوع …
ناول ’’چاندنی بیگم‘‘ ۱۹۹۰ء میں شائع ہوا ۔ چاندنی بیگم کا انداز ان کے عام ناولوں سے مختلف ہے گوکہ یہ ناول کا عنوان ہے اس لحاظ سے لگتا ہے کہ یہ پوے ناول پر حاوی ہوگا لیکن ناول میں یہ کردار درمیان میں تھوڑی دیر کے لیے آتا ہے اور موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے ۔ناول کا ارتقا جاری رہتاہے اس ناول میں بھی مصنفہ نے ایک جاگیر دار خاندان کا احوال پیش کیاجوتہذیبی زوال کی آئینہ داری کرتا ہے۔ مختلف کردار بیرسٹر اظہر علی ‘ قنبر علی وغیرہ اس کے اہم کردار ہیں۔ جاگیر دارانہ نظام کاجدید تہذیب سے تصادم ہوتا ہے اور مختلف رویے سامنے آتے ہیں ۔مصنفہ نے موجودہ دور کی مادیّت پسندی کو بھی بیان کیا ہے جس میں گم ہو کر انسان نے اپنی تہذیبی روایات کو فراموش کردیا ہے۔ دولت کے حصول نے دلوں میں سے محبت یکسر ختم کردی ہے۔ قرۃ العین حیدر کے ناولٹ بھی ان کے تہذیبی شعور کو ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔
’’ سیتا ہرن‘‘ میں سیتا ہندوستانی عورت کی علامت کے طور پر نظر آتی ہے ۔ عورت کے استحصال کو جو شاید ہندوستان کی غلط اقدار میں شامل ہے مصنفہ نے حقیقی انداز سے بیان کیا ہے۔ قدیم دور میں بھی یہی صورت تھی اور آج کے جدید دور میں بھی عورت کے استحصال کی کئی اور صورتیں موجود ہیں۔’’چائے کے باغ‘‘میں زندگی کی طبقاتی اور مصنفہ کے فلسفیانہ و تہذیبی شعور کا سراغ ملتا ہے ۔ مشرقی پاکستان کے پس منظر میں وہاں کا تہذیبی بیان وہاں کی زندگی کو اور تقسیم کی صورت میں ہونے والے مسائل کو پیش کرتا ہے حصول دولت کی وجہ سے تہذیبی اور اخلاقی اقدار کا خاتمہ اس ناولٹ کا نوحہ ہے۔ناولٹ’’دلربا‘‘ شو بز کے حوالے سے اس دنیا کی رنگینی و رعنائی کو مختلف انداز سے پیش کرتا ہے۔قدیم پارسی تھیٹر اور موجود ہ دور کی فلم انڈسٹری کے حالات کا بیان ہے ۔ تھیٹر کو ہندوستان میں تہذیبی اہمیت حاصل ہے ۔سوانگ ناٹک ‘ رہس وغیر اس کی قدیم شکلیں ہیں ۔ تھیٹر پر بھی اس کے اثرات ہوئے۔ اس ناولٹ میں قرۃ العین حیدر نے تھیٹر اس کی تہذیب ‘ عوامی دلچسپی اور مذاق سب کو بہترین تہذیبی شعور کے ساتھ پیش کیا ہے
ناولٹ’’ اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجو‘‘ بھی ہمارے تہذیبی پس منظر میں عورت کے حوالے سے ہمارے سماجی المیے اور رو یے کو پیش کرتا ہے ۔ ناولٹ کی ہیروئن رشک قمر کی زندگی مصائب و آلام میں گزرتی ہے ۔ اس کے نزدیک اخلاق و تہذیب صرف باتوں کی حد تک ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ تہذیبی اور معاشرتی طورپر استحصال اس کا مقدر ہے۔ ناولٹ ’’ہائوسنگ سوسائٹی‘‘ بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے جس کا موضوع بر صغیر کی تقسیم کے بعد معاشی اور معاشرتی صورت حال کی تبدیلی ہے جس میں تہذیب کے زوال‘ جاگیر دارطبقے کا خاتمہ اس کے مقابلے میں سرمایہ دارانہ نظام اور اس سے پیدا ہونے والی مادی بے حسی ہے۔
’’ ماضی کی محل سرائیں جل کے راکھ ہوئیں مگر ابھی اسی ملبے کی بنیادوں پر دونوں ملکوں میں نئی بورژوازی کے نئے محل کھڑے ہوں گے کل کے جاگیر دار کی جگہ آج کا سرمایہ دار لے لے گا ۔‘‘(۶)
قرۃ العین حیدر کے تمام ناولوں اور ناولٹ میں یہی تہذیبی شعور کارفرما ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کے شعور کی جڑیں اس تہذیب کی سرزمین میں پیوست ہیں۔ جن سے کبھی وہ جدا نہ ہوسکیں۔ یہ تہذیب چاہے اپنے اندر کتنی ہی برائیاں کیوں نہ رکھے ۔ قرۃ العین کے لیے عزیز ہے وہ ان کو دل و جان کے قریب رکھتی ہیں۔
ماضی کی تصویر کشی‘ گمشدہ روایتوں کی تلاش‘ ٹوٹتی بکھرتی تہذیب اور نئی جنم لینے والی اقدار ان سب کی بازگشت قرۃا لعین حیدر کے ناولوںکا طُرہء امتیاز ہے ۔ وہ اعلیٰ ترین تمدنی اقدار اور تہذیبی روایات کی علم بردار ہیں۔ وہ تہذیب انسانی کی قائل ہیں جو انسان کو طبقوں میں تقسیم نہ کرے بلکہ باہمی محبت ‘ امن اور سرشاری کی کیفیتوں سے ہمکنار کرے۔
حوالہ جات:
۱) قرۃ العین حیدر’میرے بھی صنم خانے‘ یوسف پبلشرز ص ۳۷۲۔۳۷۱
۲)ایضاً، ص۳۸۰۔۳۷۹
۳) قرۃ العین حیدر ’’ سفینہ غم دل‘‘ نسیم بک ڈپولکھنؤ ۱۹۵۵ء ص ۲۰۸
۴) ڈاکٹر محمد حسن’’ جدید اردو ادب ‘‘ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ ۱۹۷۵ء ص ۵۳
۵) قرۃ العین حیدر ’’آگ کا دریا‘‘ سنگ میل پبلشرز ۲۰۰۰ء ص ۵۰۳
۶) قرۃ العین ’’ ہاوسنگ سوسائٹی‘‘ مکتبہ جامعہ لمیٹڈ ۱۹۷۵ء ص ۳۱۰