ابن عربیؒ کے اثرات:اردو شاعری پر
محی الدین ہمدمؔ ۔بنگلہ دیش
شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ۲۸ جُون ۱۱۶۵ء کو اندلس کے شہر مُرسیہ میں پیدا ہُوئے۔پُورا نام محمد بن علی بن محمد‘ لقب محی الدین اور کنیت ابو عبداللہ ہے۔ آپکا تعلق عرب کے مشہور قبیلے بنو طے سے تھا۔سلسلہ نسب مشہور سخی مرد حاتم طائی سے مِلتا تھا۔اِسی لیے آپکو حاتمی اور طائی بھی کہا جاتا ہے(۱)۔ابن عربی تاریخ اسلامی کی ایک متنازعہ اور عجیب و غریب شخصیت ہیںجن کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ اٰن کی مخالفت زیادہ ہُوئی ہے یا حمایت۔یہی حال اُن کے وجودی فلسفے کا ہے جس کے بارے میں یہ کہنا دشوار ہے کہ اِس میں ابہام زیادہ ہے یا وضوح۔جن حضرات کو اِسے سمجھنے کا شوق ہو وہ اُنکی مشہور تصانیف ــ”فصوص الحکم”اور “فتوحات مکیّہ” سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر محمد اعظم قاسمی اپنے مضمون”مسلم فلسفے میں اللہ کا تصور”میں السراج البلقینی کے حوالے سے لکھتے ہیں”بلقینی کا خیال ہے کہ اُن کے دقائق مصنف کے ہم رتبہ علماء کے لیے ہی قابل فہم ہیں۔اُن کی تصنیفات کو عموماً ٹھیک طور پر سمجھا نہیں گیا۔ابن عربیؒ کی عظمت و صداقت کی ایک واضح ترین دلیل یہ ہے کہ اُنہوں نے خود بھی متبحر علماء اور تصوف کے عامل سالکین کے لیے اپنی تصنیفات کا مطالعہ جائز قرار دیا۔عوام علم سے بے خبر اور تصوف سے نابلد لوگوں کے لیے اُن کا مطالعہ تک حرام سمجھااور دُور رہنے کی تاکید کی”(۲)۔آیئے ہم فلسفہ وحدت الوجود کو مختصر اور آسان لفظوں میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔علّامہ سیّد ابوالحسنؒ ندوی اپنی شہرہ آفاق کتاب “تاریخ دعوت و عزیمت”میں علّامہ عبدالعلی بحرالعلوم لکھنوی کے رسالہ “وحدۃالوجود” کے چند اقتباسات پیش کرتے ہُوئے لکھتے ہیں”مصنف علوم حکمت و اصول کے بحر زخارہونے کے ساتھ شیخ اکبر کے نظریہ وحدت الوجود کے شارح و ترجمان ہیں‘ اور اُنکی تصنیفات بالخصوص “فتوحات مکیّہ”اور “فصوص الحکم” کے غواص و شناور‘ اِن اقتباسات سے کسی قدر شیخ اکبر کے منشا و مراد کے سمجھنے میں مدد مِلے گی۔اگرچہ اُن میں بھی ایسے متعدد اصطلاحات اور تعبیرات آئی ہیں جن سے اہل فن اور وہی حضرات واقف ہیںجو اِس سلسلہ کے عارفین کی زبان و طرز بیان سے مانوس ہیں۔اِس سے مختصر اور واضح ترجمانی ہم کو نہیں مِل سکی‘اِس لیئے اِس سے مدد لی گئی۔
“اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ ہے‘وہ عالم شیونات و تعینات ہے‘تمام شیونات و تعینات اُس کے مظاہر ہیں اور وہ اُن میں ظاہر و ساری ہے‘اُس کی سرایت وہ نہیں جس کے حلولی قائل ہیں‘یا جس کا بیان اتحادی کرتے ہیں‘یا یہ سریان مثل اُس سریان کے ہے‘جو کہ گنتی کے اعداد میں ایک کی ہے‘گنتی کے تمام اعداد بجز اکایئوں کے کچھ نہیں‘عالم میں ایک ہی عین ہے یعنی ایک ہی ذات کا ظہور ہے‘کثرت میں وہی ظاہر ہے‘اپنی ذات سے کثرت کا وجود نہیں‘اللہ کی پاک ذات سے اُس کا ظہور ہُوا ہے‘اللہ ہی کی ذات اِس کثرت میں ظاہر ہے‘اللہ ہی اوّل ہے‘اللہ آخر ہے‘اللہ ہی ظاہر ہے‘اللہ ہی باطن ہے‘اللہ اُن کے شریک بنانے سے پاک ہے”۔
“اللہ تعالیٰ کے نام بغیر کسی مظہر کے نہیں ہوتے‘وہ مبارک نام چاہے تنزیہی ہوں چاہے تشبیہی‘اب جبکہ اسماء مظاہرپر موقوف ہُوئے اور بغیر مظاہر کے اُن کا کمال متصّور ہی نہیں ہو سکتا‘تو اللہ تعالیٰ نے اعیان عالم کو موجود کیا ‘تاکہ وہ اعیان اُس کے مظاہر ہوں اور اُس کے اسماء کا کمال پُوری طرح ظاہر ہو”۔
اللہ تعالیٰ اپنے ذاتی کمال میں قطعاً غنی ہے ‘ لیکن اسمائی کمال کے مرتبہ میںعالم کے وجودِ خارجی سے غنی نہیں ہے ۔حافظ شیرازی کہتے ہیں
پرتو معشوق گر افتادبر عاشق چہ شد
ما بدو محتاج بودیم اُو بہ ما مشتاق بود
یعنی اگرمعشوق کا سایہ اور پرتَو عاشق پر پڑ گیاتو کیا بات ہُوئی ہم اُس کے محتاج تھے اور وہ ہمارا مشتاق تھا‘یہ بیان اِسی حدیث قدسی سے ثابت ہے۔”کنت کنزاً مخفیّاًفاحببت ان اعرف فخلقت الخلق” میں ایک مخفی خزانہ تھا‘ میں نے چاہا کہ پہچان لیا جاؤں لہذا خلق کو میں نے پیدا کیاتاکہ میرا ظہور ہواور مخلوقات مظہر ہو میرا اور میرے اسماء کا”۔
“جو دو وجود کا قائل ہُواکہ ایک اللہ کا وجود ہے اور ایک ممکن کا تو وہ شرک کررہا ہے ‘اور اُس کا یہ شرک شرکِ خفی ہے‘ اور جو شخص صرف ایک وجود کا قائل ہُوااور اُس نے کہا کہ وجود صرف اللہ ہی کا ہے‘ اُس کے سوا جو کچھ ہے‘ وہ اُس کے مظاہر ہیں اور مظاہر کی کثرت اُس کی وحدت کے منافی نہیں تو یہ شخص موحّد ہے”۔
“تم حق کے عین نہیں ہوکیوںکہ حق تعالیٰ وجود مطلق ہے اور تم مقیداور متعین ہواور متعین کسی طرح بھی عین مطلق نہیں ہوسکتا‘ ہاں تم اپنی حقیقت سے عین حق ہو‘ حق تعالیٰ تم میں متعین ہُوا ہے تم اللہ کو عین موجودات میں تعین کی قید سے آزاد اور تعین کے قید سے مقید پارہے ہو‘ یعنی اللہ تعالیٰ کو متعین میں ظاہر دیکھ رہے ہو‘”لا موجود و لا الہٰ الااللہ “اللہ کے سوا نہ کوئی موجود ہے‘ اور نہ کوئی معبود ہے”(۳)۔
مفتی محمد مشتاق تجاوری اپنے مضمونـ”صوفیہ کا تصوّر اللہ ” میں وحدۃ الوجود کی تشریح اِن لفظوں میں کرتے ہیں۔
“وحدۃالوجود کا مطلب ہے وجود ایک ہے۔اور اس کا اصطلاحی مفہوم ہے کہ سالک یہ اعتقاد رکھے کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات وجود ہے۔اس ذات کے علاوہ کوئی چیز موجود نہیں ہے‘تمام اشیاء باوجود غیر موجود ہونے کے اس ایک وجود کے مظاہراور اشکال یا تعینات ہیں۔یہ در اصل ایک ذوقی کیفیت ہے جو مسلسل ریاضت و مراقبہ سے سالک پر وارد ہوتی ہے۔اور یہ کیفیت بسا اوقات وقتی اور لمحاتی ہوتی ہے۔ایک لمحہ کو صوفی اسکا احساس کرتا ہے اور پھر اس کی اصلی حالت عود کر آتی ہے اور اُسے اپنے عبد ہونے اور اللہ تعالیٰ کے الہٰ کا شعور ہوجاتا ہے۔بسا اوقات یہ حالت دیرپا ہوتی ہے اور صوفی مہینوں اس میں مستغرق رہتا ہے۔اس حالت میں صوفی پر سکر کا غلبہ رہتا ہے اور یہ کیفیت اتنی لذت آنگیں اور فرحت بخش ہوتی ہے کہ صوفی اس سے نکلنا نہیں چاہتا بلکہ اس کا ذہن ہوتا ہے کہ ہمہ وقت اسی محویت اور استغراق کی سکرانہ حالت میں ڈوبا رہے۔لیکن ہر وقت ایک ہی حالت کا طاری رہنا ممکن نہیں اس لیے وہ اس حالت کو اپنے اوپر مصنوعی طریق سے طاری کرنے کی کوشش کرتا ہے ‘ اس کیفیت کو پانے کے لیے خوش الحان آوازیں سنتا ہے‘ رقص و سرور کی محفل میں شریک ہوتا ہے اور بسا اوقات مخدرات تک کے استعمال سے باز نہیں رہتا۔جن صوفیہ پر یہ احوال طاری ہُوئے اُن میں سے بیشتر پر یہ کیفیت صرف حالت سکر میں رہی‘جیسے ہی وہ صاحی ہُوئے اُنہوں نے اس سے توبہ کی اور رجوع کیا۔ ممکن ہے کچھ صوفیہ عمر بھر صاحی نہ ہُوئے ہوں‘ لیکن اس احساس کو فلسفیانہ بنیاد غالباً سب سے پہلے ابن عربی نے فراہم کیـ”(۴)۔
علّامہ شبلی نعمانی جن کا شمار علماء ظاہر اور متکلمین اسلام میں ہوتا ہے اس سلسلے میں لکھتے ہیں :
“حقیقت یہ ہے کہ وحدت الوجود کے بغیر چارہ نہیں ۔اس مسئلے کے لیے پہلے مقدمات ذیل کو ذہن نشیں کر لینا چاہیے۔(۱) خدا قدیم ہے،(۲) قدیم حادث کی علّت نہیں ہو سکتا کیوں کہ علّت و معلول کا وجو د ایک ساتھ ہوتا ہے۔اس لیے اگر علّت قدیم ہو تو معلول بھی قدیم ہوگا اور عالم حادث ہے۔(۳) اب نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا عالم کی کسی چیز کی علّت نہیں ہو سکتا۔اس اعتراض سے بچنے کے لیے اربابِ ظاہر نے یہ پہلو اختیار کیا ہے خدا کا ارادہ یا اس ارادہ کا تعلق حادث ہے اس لیے وہ عالم کی علّت ہے۔لیکن سوال پھر پیدا ہوتا ہے خدا کا ارادہ یا ارادہ کے تعلق کی علّت کیا ہے۔کیوں کہ جب ارادہ یا اس کا تعلق حادث ہے تو وہ علّت کا محتاج ہوگا اور ضرور ہے کہ یہ علّت بھی حادث ہوکیوں کہ حادث کی علّت حادث ہی ہوتی ہے اور چونکہ علّت حادث ہے تو اس کے لیے بھی علّت کی ضرورت ہے۔اب اگر یہ سلسلہ غیرالنہایتہ چلا جائے تو غیر متناہی کا وجود لازم آتا ہے جس سے متکلمین اور ارباب ظاہر کو انکار ہے اور اگر کسی علّت پر ختم ہوتو ضرور ہے کہ علّت قدیم ہوکیوں کہ حادث ہوگی تو یہ سلسلہ پھر آگے بڑھے گا۔قدیم ہونے کی حالت میں لازم آئے گاکہ قدیم حادث کی علّت ہواور یہ پہلے ہی باطل ثابت ہو چکا ہے۔اس بنا پر تین صورتوں سے چارہ نہیں ،(۱)عالم قدیم اور ازلی ہے اور باوجود اس کے خدا کا پیدا کیا ہُوا ہے لیکن جب خدا بھی قدیم اور ازلی ہے تو ازلی چیزوں میں سے ایک علّت دوسرے کو معلول کہنا ترجیح بلا مرجح ہے۔(۲) عالم قدیم ہے اور کوئی اس کا خالق نہیں، یہ ملحدوں اور دہریوں کا مذہب ہے۔(۳)عالم قدیم ہے لیکن وہ ذاتِ باری سے علٰحدہ نہیں بلکہ ذاتِ باری ہی کے مظاہرکا نام عالم ہے۔حضرات صوفیہ کا یہی مذہب ہے اور اس پر کوئی اعتراض لازم نہیں آتاکیوں کہ تمام مشکلات کی بنیاد اس پر ہے کہ عالم اور اس کا خالق دو جدا گانہ چیزیں ہیں اور ایک دوسرے کی علّت و معلول ہیں۔غرض فلسفہ کی رُو سے تو صوفیہ کے مذہب کے بغیر چارہ نہیں البتہ یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ شریعت اور نصوص قرآنی اس کے خلاف ہیںلیکن یہ شبہ بھی صحیح نہیں ہے۔قرآن مجید میں بکثرت اس قسم کی آیتں موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ظاہر و باطن ،اوّل و آخر جو کچھ ہے خدا ہی ہے: ھوالاوّل و الاخر و الظاہرو الباطن” (۵)۔
امید ہے کہ سطور بالا کے مطالعے کے بعد فلسفہ ’وحدت الوجود‘کی وضاحت ہو گئی ہوگی۔
محی الدین ابن عربیؒ کو اس فلسفے کا امام کہا جاتا ہے۔اس فلسفے نے جہاں صوفیاء اور علماء کو متاثر کیا ہے وہیں شعر و ادب بھی اس فلسفے سے متاثر ہُوئے بغیر نہ رہ سکا۔اردو کا شعری ادب بھی اس سے متاثر ہُوا ہے، نثری ادب میں بھی اس کی جھلکیاں مِلتی ہیں۔اردو کے شعرا نے اس فلسفے کو اپنے اشعار میں باندھا ہے۔صوفیوں نے اپنے متصوفانہ خیالات کا اظہار اپنے اشعار کے ذریعہ کیا ہے۔آیے ہم ابن عربیؒ کے خیالات کو اُن کی تحریر کے ذریعہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن کی کتاب ’ فصوص الحکم‘ سے چند اقتباسات پیش خدمت ہیں۔
(۱)”عمل انسان کے ہشت اعضا پر منقسم ہے۔دو ہاتھ،دو پاؤں، سماعت، بصارت، زبان، اور پیشانی۔حق تعالیٰ نے فرمایاکہ انسان کے تمام اعضا کی حقیقت خود ہے۔لہذا اصل عمل کرنے والاتوخود خدائے تعالیٰ ہے۔نہ کوئی اور۔ہاں صورت تو بندے کی ہے۔اسمائے الٰہیہ اسمائے مخلوقات میں مندرج و داخل ہیں۔حق تعالیٰ مخلوقات کا جو ظاہر ہیں ،عین ہے۔جب ظہور کرتا ہے تو اس کے مظہر کا نام خلق ہو جاتا ہے”(۶)۔
(۲)”وہ ہر شے میں محدود اور معیّن اور خاص اسم کا مسمّیٰ ہوکر جلوہ گر ہے بلکہ ان کا عین ہے،یہاں تک کہ شے خاص کے حق میں نہیں کہا جاتا۔مگر وہ اسم جو اس پر دلالت کرے خواہ اتفاق اہلِ لغت سے یا اصطلاح گروہ خاص سے ۔جیسے کہا جاتا ہے کہ یہ آسمان ہے۔زمین ہے، پتھر ہے،درخت ہے،حیوان ہے،فرشتہ ہے ،رزق ہے،کھانا ہے۔حالانکہ ذات بالذّات و موجود حقیقی و عین حقّہ ایک ہی ہے،ہر شے سے وہی ظاہر ہے ۔اور ہر چیز میں اُسی کا جلوہ ہے”(۷)۔
(۳)”مراتب داخلی میں جو قبل از کُن ہیں ، ہم خدائے تعالیٰ میں تھے اور مراتب خارجی میں جو بعد کُن ہیں،خدا ہم میں ہے”(۸)۔
(۴)”ما انت ھو بل انت ھو و تراہُ فی عین الامور مسرّحاً و مقیّداً
تم اس کے عین نہیں ہو باعتبار و آثارو احکام و حقائق کے۔بلکہ تم اس کے عین ہو بلحاظ وجود حقیقی کے۔اس کو اطلاق تقئیددونوں میں تمام اشیاء کا عین دیکھو گے”(۹)۔
اردو کے قدیم شعرا کے کلام میںیہ فلسفہ کار فرما نظر آتا ہے۔آیئے ہم چند مشہور شعرا کے کلام کا جائزہ لیتے ہیں۔
حُسن تھا پردہ تجرید میں سب سوں آزاد
طالب عشق ہُوا صورتِ انساں میں آ (ولیؔ دکنی)
تھا مستعار حُسن سے اُس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرّہ ظہور تھا (میر تقی میرؔ)
ہستی اپنی ہے بیچ میں پردا
ہم نہ ہوویں تو پھر حجاب کہاں (میر تقی میرؔ)
گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیا
جدھر دیکھ تدھر تیرا ہی رُو تھا (میر تقی میرؔ)
ڈھونڈے ہے تجھے تمام عالم
ہر چند کہ تُو کہاں نہیں ہے (خواجہ میر دردؔ)
دونوں جہاں کو روشن کرتا ہے نور تیرا
اعیان ہیں مظاہر، ظاہر ظہور تیرا
ہے جلوہ گاہ تیرا کیا غیب کیا شہادت
یاں بھی شہود تیرا واں بھی حضور تیرا (خواجہ میر دردؔ)
حباب آسا میں دم بھرتا ہُوں تیری آشنائی کا
نہایت غم ہے اس قطرے کو دریا سے جدائی کا (آتش لکھنوی)
ظہورِ آدمِ خاکی سے یہ ہم کو یقیں آیا
تماشا انجمن کا دیکھنے خلوت نشیں آیا (آتش لکھنوی)
جس طرف دیکھیے آتا ہے نظر وہ محبوب
جلوہ یار سے ہے عالم امکاں آباد (آتش لکھنوی)
ہر نقطہ ایک مرکز وحدت ہے ذات کا
ہر دائرہ ہے عالم کثرت صفات کا (ناطقؔ لکھنوی)
کم قدر ایک ذرّہ نہیں کائنات کا
ہر جز ہے صفات کا کل عین ذات کا
کثرت میں سب مناظر قدرت ہیں آئینہ
بحر صفت کا قطرہ بھی قلزم ہے ذات کا (ناطقؔ لکھنوی)
ذرّہ ذرّہ ہے تجلّی سے لڑاے ہُوئے آنکھ
کس قیامت کی نمائش ہے یہ پنہاں ہونا (ناطقؔ لکھنوی)
تماشاگاہِ حیرت میں کہاں کا تُو کہاں کا میں؟
بس اتنا تھا ،کہ آئینے سے آئینہ مقابل تھا (یگانہ یاس چنگیزی)
آئینہ حق ہُوں خود پسندی کیسی
دیوانہ ہُوں اپنا،ہوش مندی کیسی
عالم میں جدھر دیکھیئے میں ہی میں ہُوں
پستی کسے کہتے ہیں بلندی کیسی (یگانہ یاس چنگیزی)
ہم اب غالبؔ کے کلام کا جائزہ لیتے ہیں۔دیگر شعرا کی طرح اُنہوں نے تشبیہات،استعارے،رمز و کنایہ کے بجائے واشگاف لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔اُن کا یہ مشہور زمانہ شعر ملاحظہ ہو۔کہتے ہیں
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
غالبؔ نے بڑی فنکاری سے نیستی کو ہستی پہ ترجیح دی ہے۔اپنی اور خدا کی ذات کو یکجا کردیا ہے۔کہتے ہیں جب یہ کائنات پیدا نہیں ہُوئی تھی اس وقت صرف خدا ہی تھا۔اگر یہ عالم امکان پیدا نہ کیا جاتاتو صرف خدا ہوتا۔میری ہستی نے میرے جسم میں ظہور کیا اور اسی جسم نے مجھے برباد کردیا۔اگر میں اس جسم میں پیدا نہ ہوتااور میرا وجود نہ ہوتا تو میں کیا ہوتا ظاہر سی بات ہے میں خدا ہوتا۔پہلے مصرعے میں ہی انہوں نے کہا کہ جب کچھ نہ تھا تو خدا تھا،اور کچھ نہ ہوتا بھی تو خدا ہی ہوتا۔ یہ شعر بھی سُن لیں۔:
اصلِ شُہود و شاہد و مَشہود ایک ہے
حیراں ہُوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب!
اگر سالک کو تمام موجودات ِعالم میں حق ہی حق نظر آئے تو اسے شہود کہتے ہیں۔شاہد کے معنی دیکھنے والے کے ہیں اور جسے دیکھا جائے اُسے مشہود کہتے ہیں۔غالبؔ کہتے ہیں کہ شہود،شاہد اور مشہود کی اصل ایک ہی ہے ،جب یہ تینوں ایک ہیں تو میں حیران ہُوں کہ مشاہدہ کس حساب میں داخل ہے۔
یہ اقتباس ملاحظہ ہو “حق تعالیٰ فرماتا ہے ومَا رَمَیْتَ اذَ رَمَیْتَ وَ لٰکِنَّ اَ للہ رَمیٰ۔یا محمدؑ! جب تم نے بظاہر پھینکا تو حقیقت میں نہیں پھینکابلکہ اللہ ہی نے پھینکا۔آنکھوں نے تو صورتِ محمدیہؑ ہی کو دیکھا۔جس کے لیے حسّ ظاہر میں رَمیٰ یعنی پھینکنا ثابت ہے۔اسی صورت سے اللہ تعالیٰ نے نفی رمیٰ بھی کی ہے یعنی حضرت نے بالذّات نہیں پھینکاوَ مَارَمَیْتَ پھر اسی صورتِ محمدیؑ کے لیے رمیٰ ثابت کی گئی با اعتبار توسّط اور واسطہ ہونے کے اذَ رَمَیْتَ پھر بالذّات پھینکنے والے کو صاف طور پر بیان کیا کہ وہ اللہ ہے وَلَکنّ اللہ رَمیٰ ، مگر صورتِ محمدی میں”(۱۰)۔اسی تناظر میں آسی غازی پوری کے یہ اشعار دیکھیں۔
وہی جو مستوی عرش ہے خدا ہوکر
اُتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر
بجز تمہارے کسی کا وجود ہو یہ محال
مگر تمہیں نظر آتے ہو ماسوا ہو کر
ابن عربیؒ کہتے ہیں “اُس نے لوح وقلم کو پیدا کیا اور روزِ قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے۔اپنے علم کے مطابق قلم سے لکھوایا۔اُس نے بغیر کسی سابقہ نمونے کے عالم کو پیدا کیا۔مخلوقات کو پیدا کیا”۔(۱۱)اس باب میں وہ مزید کہتے ہیں”بغیر اللہ کے ارادے کے کوئی ارادہ بھی نہیں کر سکتا۔بندے کسی کام کا لاکھ ارادہ کریں جب تک خدا نہ چاہے وہ کام نہ ہوگا۔نہ اُس کے کرنے کی استطاعت وقوّت ہی پیدا ہوگی۔پس کفر و ایمان،طاعت و عصیاںاُس کی مشیّت و حکمت و ارادت سے ہیں۔ خدائے تعالیٰ کا ارادہ ازلی ہے”(۱۲)۔دیکھیے آتشؔ لکھنوی نے
درج بالا سطور کے مضمون کو کتنے لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔
کبھی قسمت کے لکھے سے زیادہ لکھ نہیں سکتا
وہ ناداں ہے جسے خوفِ کراماً کاتبیں آیا (آتش لکھنوی)
نا حق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی
جو چاہیں سو آپ کریں ہم کو عبث بدنام کیا (میر تقی میرؔ)
یہ اقتباسات ملاحظہ ہوں:
(۱)”عارفین جو حقیقت ِ نفس الامری سے واقف ہیںان صور کی عبادت سے انکار ظاہر کریں گے کیوں کہ اُن کے مرتبہ علم و معرفت کا اقتضاء ہے کہ حکم رسول کی تابداری کریں،وہ رسول پر ایمان لائے ہیں۔اسی وجہ سے انہیں مومنین کہتے ہیں۔اس کے باوجود وہ یہ بھی خوب سمجھتے ہیںکہ ان نادانوں نے دراصل ان صور واعیان کی پوجا نہیں کی بلکہ اللہ ہی کی عبادت کی ہے ان بتوں کی ضمن میں۔اور یہ سلطان تجلّی الٰہی کاتقاضا ہے۔عرفا ان تجلیّات کو اصنام کے اندر سے دیکھتے ہیں اور نادان جس کو تجلّیات کا علم نہیں،انکار کرتا ہے۔نبی و رسول اور اُن کے وارث حال جو عارف کامل ہیں،نادانوں سے اس حقیقت کو چھپاتے ہیں”(۱۳)۔
(۲)”موسیٰ علیہ السلام بہ نسبت ہارون کے حقیقت ِ نفس الامری سے زیادہ واقف تھے۔موسیٰ علیہ السلام جانتے تھے کہ گوسالہ پرستوں نے حقیقت میں کس کی پرستش کی ہے۔وہ جانتے تھے کہ اس کا حکم ازلی ہے کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔خدا جس شے کا حکم دیتا وہ ہو کر رہتا ہے۔صورتوں کو بقا و دوام کب ہے۔موسیٰ علیہ السلام نے جلدی کی ورنہ گو سالہ کی صورت تو جانے والی ہی تھی۔موسیٰ علیہ السلام پر غیرت نے غلبہ کیا اس لیے اسے جلا دِیا پھر اس کی راکھ دریا میں بہا دی اور سامری سے فرمایا: انظر الیٰ اِلٰھکـ”اپنے معبود کو دیکھ” یہ متنبہ کرنے کے لیے فرمایا حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بھی جلوہ گاہِ الوہیت میں سے ایک جلوہ گاہ ہیــ”(۱۴)۔
سطور بالا میں ابنِ عربیؒ نے بنی اسرائیل کی گو سالہ پرستی کی جو توجیہ پیش کی ہے اس پر ایک سوال اُٹھتا ہے کہ جب سب حق کی طرف سے ہے،بلکہ سب حق ہے،تو پھر حق و باطل کی تفریق اور کفر و ایمان کے امتیاز کا کیا سوال؟وحدت الوجود کے قائلین اس کا جواب دیں گے کہ کوئی فرق نہیں ہے۔جیسا کہ غالبؔ کہتے ہیں
ہم موحّد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملّتیں جب مِٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں
یعنی تمام مذہبوں اور ملّتوںکو اُن کے عقائد اوررسومات کے ساتھ ترک کرنااور مِٹانا موحّد کا اصل مذہب ہے اور یہی مِلّتیں جب مِٹ جاتی ہیں اجزائِ ایماں بن جاتی ہیں۔غالبؔ کا یہ شعر بھی پیشِ نظر رہے۔
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بتخانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
یعنی برہمن نے جب ساری عمر بت خانے میں بتوں کی پوجا کرتے گزار دی اور وہیں اُس کی موت ہو گئی تو وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُسے کعبے میں دفن کیا جائے۔کیوں کہ اُس نے وفاداری کا حق ادا کر دیا۔اُس نے بتوں کی پوجا نہیں بلکہ اللہ کی عبادت کی ہے۔یہی ایمان کی اصل ہے۔
چند اشعار پیش خدمت ہیں
کرشن کا ہُوں پُجاری علیؓ کا ہُوں بندہ
یگانہ شانِ خدا دیکھ کر رہا نہ گیا (یگانہ یاس چنگیزی)
کافر و دیں دار میں ہے رشتہِ واحد وہی
سب کے سب جکڑے ہُوئے ہیں ایک ہی زنجیر میں (یگانہ یاس چنگیزی)
بہت نادم ہُوں کعبہ سے کہ عاشق ایسے بت کا ہُوں
تصوّر جس کا بیت اللہ کو بیت الصنم کر دے (ناطقؔ لکھنوی)
نظر جب دِل پہ کی دیکھا تو مسجودِ خلائق ہے
کوئی کعبہ سمجھتا ہے کوئی سمجھے ہے بت خانہ (خواجہ میر دردؔ)
مدرسہ یا دَیر تھا یا کعبہ یا بتخانہ تھا
ہم سبھی مہمان تھے تو آپ ہی صاحب خانہ تھا (خواجہ میر دردؔ)
گہ یاد صنم دِل میں گہ یادِ الٰہی
کعبہ ہے تو یہ ہے جو کلیسا ہے تو یہ ہے (آتش لکھنوی)
مشتے نمونے از خروارے یہ چند اشعار پیش کیے گئے ہیں ۔اردو کے شعری ادب میں ایسے اشعار جابجا بکھرے پڑے ہیں جنہیں اگر اکٹھّا کیا جائے تو ایک ضخیم دفتر تیار ہو جائے۔
ابن عربیؒ کے مذکورہ خیال نے (جسے سطور بالا میں پیش کیا گیا ہے)بعد کے صوفیہ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔شیخ المشائخ نظام الدین اولیا کا ایک قول ہے “ہر قوم راست راہے دِینے و قبلہ گاہے” شیخ المشائخ کے قول میں اسی فلسفے کی جھلک مِلتی ہے اس کا پس منظر بیان کرتے ہُوئے سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن لکھتے ہیں کہ”تزک جہانگیری(ص۸۱ مطبوعہ علی گڑھ) میں ہے کہ ایک بار حضرت خواجہ ؒ جمنا کے کنارے آکر کھڑے ہو گئے تو دیکھا کہ ہندو اپنے کسی تہوار کے موقع پرجوق درجوق اس خیال سے غسل کررہے ہیں کہ ان کو ثواب حاصل ہوگا،خسرو بھی ان کی معیت میں تھے،حضرت خواجہ نے ہندوؤں کے مذہبی شغف اور انہماک کو دیکھ کر امیر خسرو سے مخاطب ہو کر فرمایا’ ہر قوم راست راہے دِینے و قبلہ گاہے‘ حضرت خواجہؒ کے سر مباک پر اس وقت ٹوپی کج تھی،امیر خسرو حضرت خواجہ کی زبان اقدس سے یہ مصرعہ سن کر مست ہوگئے اور فوراً دوسرا مصرعہ یہ کہا’من قبلہ راست کردم بر سمت کج کلاہے‘”(۱۵)
جیسا کہ میں پہلے عرض کرچکا ہُوں اس فلسفے کا پَر تَواردو نثر پر بھی پڑا ہے۔میں ایک مثال پیش کرنے پر اکتفا کروں گا۔ مولاناابوالکلام آزاد اپنے مضون “سرمد شہید” میں لکھتے ہیں کہ”سلسلہ مغلیہ میں دارا شکوہ ایک عجیب طبیعت کا اور دماغ کا شخص گزرا ہے،وہ ابتدا سے درویش دوست صوفیانہ دل و دماغ کا شخص تھا۔اور ہمیشہ فقراء اور ارباب تصوف کی صحبت میں رہتا تھا۔اس کی بعض تحریرات جو دست برد حوادث سے بچ گئی ہیں بتلاتی ہیں کہ ان کا لکھنے والاخود بھی ذوق و کیفیت سے خالی نہیں،اس کے صاحب ذوق ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ تلاش مقصد میںدَیر و حرم کی تمیز اُٹھا دی تھی،اورجس نیاز کشی کے ساتھ مسلمان فقراء کے آگے سر جھکاتا،ویسی عقیدت ہندو درویشوں کیساتھ رکھتا تھا۔اس اصول سے کون صاحبِ حال اختلاف کر سکتا ہے۔کیوں کہ اگر اس عالم میں بھی کفر و اسلام کی تمیز ہو پھر اعمیٰ اور بصیر میں کیا فرق ہے،پروانے کو تو شمع ڈھونڈنی چاہیے،اگر صرف شمع حرم ہی کا شیدا ہے تو سوز طلبی کامل نہیںـ”(۱۶)۔
“علماء نے سرمد سے کلمہ پڑھنے کی خواہش کی تو اپنی عادت کے بموجب صرف لا ا لہٰ پڑھا کہ جملہ نفی ہے اس پر علماء نے شور مچایا۔تو کہا ابھی تک میںنفی میں مستغرق ہُوں،مرتبہ اثبات تک نہیں پہنچا۔اگر الا اللہ کہوں تو جھوٹ ہوگا۔اور جو دِل میں نہ ہو زبان پر کیسے آئے؟علماء نے کہا ایسا کہنا کفر صریح ہے،اگر توبہ نہ کرے تو مستحق قتل ہے،یہ ظاہر پرست نہیں جانتے تھے کہ سرمد اس سے بہت اونچا ہے کہ کفر وایمان کی بحثیں سُنائی جائیں،وہ قتل وخون کے احکام سے مرعوب ہو۔یہ کفر ساز تو اپنے مدرسہ و مسجد کے صحن میںکھڑے ہو کر سوچتے تھے کہ اس کی کرسی کتنی اونچی ہے۔اور وہ اس منارہ عشق پر تھا۔جہاں دیوار کعبہ اور مندر بالمقابل نظر آتے ہیں،اور جہاں کفرو ایمان کے عَلم ایک ساتھ لہراتے ہیں”(۱۷)۔
ان عبارتوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان میں بیان کردہ نکتہء فکر ابن عربیؒ سے مستعار لیا گیا ہے۔
مصادر و مراجع
(۱)”فتوحات مکیّہ”۔تالیف،شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ(اردو ترجمہ۔ پیر سیّد محمد فاروق القادری)
(۲)”نقوش لاہو” (قرآن نمبر، جلد چہارم)
(۳)”تاریخ دعوت و عزیمت”تصنیف سیّد ابوالحسن ندویؒ(جلد چہارم)
(۴)”نقوش لاہور”(قرآن نمبر ،جلد چہارم)
(۵)”سوانح مولانا روم” مولف علّامہ شبلی نعمانیؒ(باب توحید،وحدۃالوجود)
(۶)”فصوص الحکم” صفحہ، ۲۸۹ از شیخ اکبر محی الدین ابن عربیؒ(اردو ترجمہ۔مولیٰنا محمد عبدالقدیر صدیقی)
(۷) ایضاً ،صفحہ۳۷۷
(۸)ایضاً،صفحہ ۳۷۵
(۹) ایضاً،صفحہ ۵۶
(۱۰) ایضاً،صفحہ۳۶۹
(۱۱) ایضاً،صفحہ۲۰
(۱۲) ایضاً،صفحہ۲۲
(۱۳)ایضاً، صفحہ ۳۹۰،۳۹۱
(۱۴)ایضاً،صفحہ۳۸۴
(۱۵) “صوفی امیر خسروؒ” ،صفحہ ۲۷ مصنف؛سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن
(۱۶)”ابوالکلام آزاد۔نادر تحریریں” صفحہ ۳۲ مرتّب: محمد شاہد حسین
(۱۷)ایضاً،صفحہ۳۴
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔