پروفیسرنثار احمد فاروقی

پروفیسرضیا ء الرحمن صدیقی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

پروفیسرنثار احمد فاروقی ممتاز محقق و نقاد دانشور انشا پردا، دو درجن کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ تقریباً دو سو مقالات بھی تحریر کیے۔ تلاش میر اور تلاش غالبؔ ان کی دو اہم تصانیف ہیں۔ ذہانت و مطانت خدا نے انہیں بے پناہ عطا کی تھی کثیر اللسان شخصیت کے مالک تھے۔ یعنی اردو، انگریزی، عربی اور فارسی پر انہیں ماہرانہ قدرت حاصل تھی۔ عربی کے پروفیسر اور صدر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی تھے۔ کئی برس عربی زبان کے مقتدر جرید، ثقافت الہند کے اعزازی مدیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر فاروقی کو معرفت اور تصوف کے موضوع سے گہری دلچسپی تھی۔ ملفوظاتی ادب پر ان کی گہری نظر تھی، اردو اور فارسی کے انہیں بے پناہ اشعار یاد تھے، کبھی کبھی عربی کا شعر بھی سنا دیتے تھے۔خاندانی تزک واحتشام ان کی شخصیت میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا آغاز ہفت روزہ، اردو آئینہ، دہلی سے کیا۔ بعد ازاں کچھ عرصہ دہلی یونیورسٹی کے اردو سیکشن میں ملازمت کی۔ ایم اے عربی میں امتیازی حیثیت سے مکمل کیا اور پی ایچ ڈی کا مقالہ Early Muslim Historiography کے موضوع پر انگریزی لکھا۔طالب علمی کے زمانہ میں پی ایچ ڈی کے طلبہ کی رہنمائی کرتے تھے، کلیات مصحفی، طبقات الشعرا اور تین تذکرے کی تدوین ان کے اہم کام میں دلی کالج میگزین کو بھی ایڈٹ کیا۔ دیوان غالب بخط غالب کی اشاعت اہم کارنامہ ہے۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی کی تصانیف و تالیفات کی ایک طویل فہرست ہے۔ تدوین و تحقیق کے متعلق دس کتابیں ،طبقات الشعرا مصحفی تالیفات کے تحت پانچ کتابیں دستیاب ہیں۔ اور تذکرے اہم ہیں ان میں میر تقی میرؔ، غالبؔ کی آپ بیتی ثقافت الہند شامل ہیں۔ مضامین کا مجموعوں کے ذیل میں دید و دریافت، تلاش غالبؔ، تلاش میر اور نقد ملفوظات اہم ہیں۔رسائل اور محاظرات کے تحت جو تصانیف شائع ہوکر منظر عام پر آئیں۔ ان میں چشتی تعلیمات اور عصر حاضر میں ان کی معنویت تذکرہ حضرت خواجہ نظام الدین کے علاوہ دو کتابیں اور بھی شامل ہیں۔تحقیق میں ان کا ہم کارنامہ Early Muslim Historiography ہے۔ اس کتاب کو ادارہ ادبیات دہلی میں۱۹۷۸ء میں شائع کیا۔ نثار احمد فاروقی کو فارسی اور عربی زبان وادب پر بھی ماہرانہ قدرت حاصل تھی۔ فارسی میں ان کی سات کتابیں ملتی ہیں۔ ان میں ہندوستان میں فارسی زبان وادب کی ترویج امیر خسروفن اور شخصیت اور امیر خسر و صوفی شاعر کے علاوہ مثنویات پیش کا شمیری اہم ہیں۔
عربی زبان وادب میں تیرہ کتا بیں تصنیف کیں۔ ان میں عربی زبان کے مطالعہ کی اہمیت لکچرر مدارس یونیورسٹی ۱۹۸۱ء عربی ادب کے جدید تنقیدی رجحانات لکچرر یونیورسٹیوں۱۹۸۱ء ہندوستان میں عربی زبان کی تعلیم و تدریس کے مسائل (ماہنامہ برہان دہلی) شامل ہیں۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی عربی زبان وادب سے بھی بخوبی واقف تھے۔ عربی کے استاد اور دہلی یونیورسٹی میں صدر شعبہ عربی تھے۔ انگریزی میں ان کی کتابیں اور لکچرر اس طرح Cambridge History of Arabic literature Amir Khusro in طرحthe presence of his mentor the Quran as the source of Islamic History. Development of indo Arabic literature زیر طبع کتابوں میں سات تصانیف ہیں۔ ان میں مقالات فاروقی دو جلدیں، مکتوبات شاہ ولی اللہ گنج باد اور تقاریر کا مجموعہ اور مفلوظات کا مطالعہ دوسو سے زائد مضامین ومقالات جو مختلف النوع موضوعات پر ہیں۔ ان کی تفصیل اس طرح ہے۔
قرآنیات ۲، حدیث ۲، سیرست پر تین، تاریخ پر۱۶، تصوف پر ۴۱، اردواد بیات پر ۳۴، غالبیات پر۱۶، میریات پر ۲، اقبالیات پر ۳۔ مولانا آزاد پر ۵، تذکرہ وسوانح پر ۲۔ تحقیق پر۶۔ خاکے۱۵۔ مقدمے اور پیش لفظ۔ ۲۷۔ تبصرے ۸۰،ہندی ادب ۴، تقابلی ۹۔ مذہبی مطالعہ ۵، اسلامیات ۸، سماجی موضوعات۱۷۔
پروفیسرنثار احمد فاروقی کو ان کی پر وقار علمی وادبی خدمات پر قومی سطح کے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔ ان ایوارڈ اس صدر جمہور یہ ہند سے سند امتیاز۱۵/ اگست۱۹۸۵ء، دہلی اردو اکیڈمی ایوارڈ برائے تحقیق و تنقید۱۹۸۳ء، امتیاز میر ایوارڈ، میر اکیڈمی لکھنؤ، نقوش ایوارڈ ۱۹۸۷ء، قاضی عبدالودود ایوارڈ برائے تحقیق بہار اردواکیڈمی ۱۹۹۳ء قابل ذکرہیں۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی کی اہم تصانیف و تراجم میں دید و دریافت میر کی آپ بیتی، نوادرِ امدادیہ، میر تقی میرؔ، کلیات مصحفی خواجہ حسن نظامی، دراسات، سیرت نبوی، سیرت نبوی کی اولین کتابیں اور ان کے مؤلفین۱۹۷۴ء، تاریخ برقی کے مآخذ ۱۹۹۸ء، نقد ملفوظات، قرآن کریم، اسلوب اور اعجاز سیرت طبیہ کی اہمیت، حضرت شیخ صدرالدین محمد یعقوب جنیدہ شہید، نوا در غالب غیر مطبوعہ مع مقدمہ، صوفیائے کرام اور قومی یکجہتی، تلاش میر، دید و دریافت اور چشتی تعلیمات، عربوں کی تاریخ نویسی (ترجمہ انگریزی سے) روضتہ الاولیا فارسی متن کی تصحیح حواشی و ترجمہ ارسالات النبویہ عربی متن اردو ترجمہ۔ ثقافت الہند عربی مجلہ مولانا آزاد کی ولادت کی صدی پر دو جلدوں میں زیر طبع کتابوں میں مقالات فارسی گنج باد آمد ریڈیائی تقاریر کا مجموعہ ملفوظات کا مطالعہ ان میں سے بیشتر شائع ہو چکی ہیں۔
پروفیسر نثار احمد فاروقی کے اہم مضامین ہیں۔ طبقات ابن سعد اسلام کا گہوارہ مولانا فضل حق خیر آبادی، دارا شکوہ، خلد آبا، سید سلیمان ندوی، خواجہ معین الدین چشتی، تصوف کا نظریہ رؤف امروہی، امراؤ جان، قصائد مصحفی، ذوق کا اسلوب کے علاوہ بھی کئی سو مقالات شامل ہیں۔ نثار احمد فاروقی کی شخصیت مشرق و مغرب کے قدیم وجدید افکار و خیالات کا ایک منفرد حسین امتزاج کہا جا سکتا ہے۔ مذہب اور اد بیاں کا عمیق مطالعہ ضرور کیا لیکن سیاست کبھی ان پر غالب نہیں آئی۔ نثار احمد فاروقی کے بارے میں عبدالماجد دریا بادی لکھتے ہیں۔
’’ایک ہونہار ادیب کے دس تنقید و تحقیق وادبی مضمونوں اور تبصروں کا مجموعہ بیشتر حصہ قابل دید، زبان صاف ستھری اور دلکش ہے۔‘‘
رشید احمد صدیقی:
’’خدا کا فضل ہے کہ آپ میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ دوسرے درجے کی چیز لکھنے پر آپ خود بھی راضی نہ ہوں گے دید و دریافت کے مطالعہ سے ایسا ہی اندازہ ہوا۔‘‘
(مکتوب ۰ ا / اگست۱۹۶۵ء)
پروفیسر اسلوب احمد انصاری:
’’میں سب سے زیادہ آپ کی تحریر کی پختگی سے متاثر ہوا، کتاب دید و دریافت مجھے پسند آئی۔ آپ نے تحقیق اور ذہنی کاوش کا ثبوت دیا ہے۔‘‘
امتیاز علی عرشی:
’’دس بارہ سال کے اندر جو نوجوان لکھنے والے تحقیق و تنقید کی طرف آئے ہیں ان میں (جناب ڈاکٹر) نثاراحمد فاروقی صاحب کا نام سرفہرست ہے۔‘‘
پروفیسر گیان چند جین شار فاروقی کے بارے میں لکھتے ہیں۔’’ ان کا میدان اختصاص شعراء کے تذکرے میر، مصحفی، غالب اور مولانا آزاد میں اپنی تحریروں میں وہ بڑی جگر داری سے کام لیتے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر فرمان فتح پوری اس طرح اظہار خیال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’فاروقی صاحب حد درجہ ذہن، با مطالعہ اور محنتی لکھنے والوں میں ہیں۔ ان کے قلم نے ہماری ادبیات میں جتنی تیزی سے رتبۂ اعتبار حاصل کیا وہ ان کے ہم عصروں کے لئے بجا طور پر قابل رشک ہے۔‘‘
پروفیسرنثار احمد فاروقی محقق و نقاد، مترجم وصحافی اور ماہراد بیات تھے۔ ان کی علمی و تحقیقی بصرت قابل فخر بھی ہیں اور معاصرین ادبیات کے درمیان قابل فخر بھی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔