رئیس وارثی کی شعری کائنات :ایک تخلیقی تجزیہ
پروفیسرضیا ء الرحمن صدیقی
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
کیا تھا شعر کو پردہ سخن کا
سو ٹھہرا ہے یہی اب فن ہمارا
اٹھارہویں صدی کا شعری منظر نامہ ریختہ کی اس مثبت و مستحکم روایت سے عبارت ہے جس کی عظمت کا اعتراف اردو کے استاد شعرا نے ’خدائے سخن‘ کو استناد کا درجہ دے کر کیا۔ اور جس نے اپنی شعری کائنات کو مستند فرمایا۔ کیونکہ شاعری ذوقی اور وجدانی کیفیات کا گہرا تجرباتی عمل ہے۔ جو الہامی مشاہدات اور تخلیقی و تخیلاتی جذبات کا نتیجہ کہی جاسکتی ہے۔
’’ جو جذبات موزونیت کے ساتھ منظوم شعری پیرایہ بیان میں ادا ہوں وہ شعر ہیں۔‘‘
مذکورہ تجربات و مشاہدات کے تناظر میں اگر رئیس و ارثی کے فن کا جائزہ لیا جائے تو بلا تامل کیا جا سکتا ہے کہ’ آئینہ ہوں ہیں‘ اور دیگر علمی و ادبی تخلیقات کا شاعر اکیسویں صدی میں اعلیٰ پایہ کا تخلیق کار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم رئیس وارثی کے شعری امتیازات پر گفتگو کریں تو ان کے یہاں محاکات کی کار فرمائی فطرت کی خیال انگیزی ،الفاظ کا برجستہ اور بر محل استعمال نیز کرب میں ڈوبے ہوئے خیالات موجود ہیں۔ افکار میں ہیں پختگی’ ایجاذ و اختراع‘ ان کے قادر الکلام ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
فن شاعری انہیں ورثہ میں میسر آئی۔ ان کی شاعری قاری کے ذہن و دل پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔ زندگی اور سماج سے ان کا رشتہ بہت گہرا ہے۔ رئیس وارثی کا جمالیاتی شعور ان کی شاعری میں پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے ان کی کے شعری اقدار اور فنی خصوصیات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک اعلیٰ پائے کے تخلیق کار ہیں۔ زبان و ادب کا گہرا شعور رکھتے ہیں۔ ان کے اشعار میں موضوعات کا تنوع بڑی رنگا رنگی اور قادر الکلامی ہے۔
میں اس زمین کے لیے پھول چن رہا ہوں رئیس
میرا نصیب جہاں بے اماں سمندر تھا
مجھے تو اپنی ہی سادہ دلی نے لوٹ لیا
کہ میرے دل سے مروت کے حوصلے نہ گئے
رئیس جرات اظہار مرا ورثہ ہے
قصیدے مجھ سے کسی شاہ کے لکھے نہ گئے
رئیس کے کلام میں جذبات کی فراوانی، احساسات کی شدت ،خیالات کی لطافت، الفاظ کی نزاکت اور تخیل کی بلندی کے ساتھ ساتھ فکر وفن کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ تشبیہات و استعارات کی ندرت اور اندازبیان میں جاذبیت ہے۔غزلوں میں فلسفیانہ تعمق اجمائیت اور اشاریت ہے انہوں نے اخلاقی مذہبی قومی،سماجی سیاسی اور تاریخی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔ اشعارمیںبڑی رنگا رنگی اور قادر الکلامی ہے۔ چند اشعار مثال کے طور پر پیش ہیں۔
سمندروں کے سفر میں وہ پیاس کا عالم
کہ فرش آب پر اک کر بلا کا منظر تھا
کتاب زیست کے عنوان بدل گئے لیکن
نصاب جان سے کبھی اس کے تذکرے نہ گئے
مجھے تو اپنا ہی سادہ دلی نے لوٹ لیا
کہ میرے دل سے مروت کے حوصلے نہ گئے
شوخی و ظرافت، جمالیاتی شعور ،ندرت بیان ،الفاظ کی در وبست اور فکر و خیال کا سیل رواں ان کے اشعار میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
مزہ جب ہے وہ کہہ دے بے خودی میں
قرارِ جاں رئیس وارتی ہے
تمام رات سحر کی دعائیں مانگی تھیں
کھلی جو آنکھ تو سورج ہمارے سر پر تھا
فصیل شہر پر کتنے چراغ روشن تھے
سیاہ رات کا چہرہ دلوں کے اندر تھا
میں اپنے نام سے نا آشنا سہی لیکن
تمہارے نام سے ہر شخص جانتا ہے مجھے
سہیل و سادہ زبان میں اشعار کہنا فن کا امتیاز ہے اور یہی شعری فنکارانہ امتیازی وصف ان کی شاعری کو ممیز وممتازبنا دیتا ہے۔
ہم جو کا رآزری میں بے ہنرٹھہرے تو کیا
ان کی صورت شعر کے قالب میں ڈھائی جائیگی
کاغذی پھولوں سے جب مانوس ہوں گی تتلیاں
عاشقی کی رسم دنیا سے اٹھالی جائیگی
نہ جس کو دست ِحنائی کا تیرے لمس ملے
کہاں سے بوئے وفا اس گلاب میں آئے
یہ مرحلے بھی محبت کے باب میں آئے
بچھڑ گئے تھے جو ہم سے وہ خواب میں آئے
جو آسکو تو بتاؤ کہ انتظار کریں
و گر نہ اپنے مقدر پر اعتبار کریں
رئیس وارثی کا کلام روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے ۔ان کے طرز اظہار میں روایت کی پاسداری کے ساتھ تازہ کاری کا احساس ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے دور کے مسائل کو داخلیت کا رنگ دے کر غزل کی زبان میں پیش کیا ہے۔ ان کا اصل میدان غزل ہے۔ فطری طور پر انہوں نے اپنے عہد کے ذہنی اور فکری رویوں پر اظہاررو اسلوب کے پیرایوں کا اثر قبول کیا ہے۔ بایں ہمہ انہوں نے اپنی شعری روایات سے کنارہ کشی اختیار نہیں کی۔ روایت اور جدت کایہ خوشگوار امتزاج رئیس وارثی کی شاعری کاامتیازی وصف قرار یا یا۔
رئیس وارثی بہترین ،کم گو ،لہجہ میں ملائمت، چہرے پر خاندانی تزک و احتشام، سادہ دل ،سادہ مزاج ،تخلیقی ذہن کے حامل، شاعر صحافی گیت نگار معروف ٹی وی اینکر اور سماجی کارکن ،حکومت امریکہ میں اعلی عہدے پر فائز ،والدستار وارثی نعت گو بھائی سید و ارثی، رشید وارثی اور معروف شاعر اور قلم کار نصیر وارثی مدیر بین الا قوامی سہ ماہی اردو جرنل’’ورثہ ‘‘نیویارک ۔رئیس وارثی عالمی شہرت یافتہ اردو جرنل ورثہ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ ماس کمیونی کیشن میںایم اے مکمل کیا۔ امریکہ میں اردومرکز کے قیام میں اپنی خدمات پیش کیں۔ گذشتہ تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ روزنامہ مشرق ،نوائے وقت اخبار جہاں، جنگ ،آواز، خواتین، ورثہ، ادراک اخبارات و رسائل کی ادارت میں شامل رہے۔ امریکہ میں شعری نشستوںور ادبی پروگرامو ں کا بین الاقوامی کانفرس انتقاد کیا۔ نیو یارک اور نیو جرسی میں نشریاتی خبروں کی اینکرنگ کی ذمہ داری قبول کی۔
Eastern Television Nethout
Aur. International Television Network
میں خدمات پیش کیں اور شریک پروڈیوسر رہے۔USAکے Dish Network کے میزبان اور اینکر بھی رہے۔
مختلف اداروں نے انہیں ایوارڈ سے نوازا فی الحال یعنی۲۰۲۴ء میں امریکی صدر مسٹر جوزف آر بائیڈن جو نئیر کی طرف سے اردو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔یہ خوش آئند خبر عالمی سطح پر قابل فخر بھی ہےاور قابل ستائش بھی۔
https://shorturl.fm/yp32Z