انیس اشفاق کی سلام گوئی کی انفرادیت
چند پہلو
ظفرالنقی
خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی لکھنو
ادبی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ کربلا کا المیہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا فکری و روحانی سرچشمہ ہے جس سے دنیا کی مختلف زبانوں کے ادب نے معنوی روشنی حاصل کی ہے۔ اردو زبان و ادب بھی اس آفاقی سانحے سے فکری اور جذباتی سطح پر گہرا تعلق رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اردو ادب بالخصوص اردو شاعری نے کربلا کے موضوع کو نہ صرف اپنی شعری روایت میں جذب کیا بلکہ اسے اپنے فکری، لسانی اور جمالیاتی تشخص کا ایک اٹوٹ حصہ بھی بنایا۔ اگرچہ کربلا کی فکری وراثت اردو شعروادب میں ایران و عرب کے ادبی ذخیرے سے منتقل ہوئی تاہم اردو شاعری نے اس موضوع کو جس شدت، تخلیقی گہرائی اور جذباتی وارفتگی کے ساتھ اپنایا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔کربلا کے اثرات سے اردو میں ایسی شعری اصناف پروان چڑھیں اور ان کو فروغ ملا جن کی بنیادیں اسی واقعۂ کربلا سے جڑی ہوئی ہیں۔ مرثیہ، دہے،نوحہ اور سلام جیسی شعری اصناف کا تصور کربلا کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ ان اصناف نے اردو شاعری کو نہ صرف فکری وسعت بخشی بلکہ اسے تہذیبی شعور، شعری صداقت اور فنّی اظہار کی ایسی سطح پر پہنچایا جو اردوشعرو ادب کی انفرادیت کا مظہر ہے۔ ان رثائی اصناف میں سے ِ سلام، اگرچہ ابتدا میں ایک ذیلی صنف کے طور پر سامنے آئی لیکن رفتہ رفتہ اس نے اپنی تخلیقی وحدت اور فکری وقعت کے باعث ایک مکمل اور خود مختار صنفِ سخن کی حیثیت حاصل کر لی۔سلام گوئی کے ابتدائی نمونوں میں سلام ،السلام،مجرئی اور مجراجیسے الفاظ کی تکرار کو جزوِ لاینفک تصور کیا جاتا تھا اور انھیں الفاظ کے ذریعے اس صنف کی ہیئت و پہچان متعین کی جاتی تھی۔ تاہم کلاسیکی اردو شاعری کے ایک اہم اور بڑے شاعرمرزا محمد رفیع سودانے اپنی تجدد پسند طبیعت کے زیر اثر سلام گوئی میں نئے رجحانات اور اسلوبیاتی تغیرات کو راہ دی۔ ان کے بعد میر انیس اور مرزا دبیر نے نہ صرف اس صنف کو اسلوب، فکر اور فن کی سطح پر نئی جہتیں عطا کیں بلکہ اسے مرثیہ گوئی سے الگ ایک تخلیقی شناخت عطا کی۔ انیس و دبیر کی فنی بصیرت اور فکری رفعت نے صنفِ سلام کو اس قدر سنوارا کہ ان کے عہد میں باقاعدہ سلام گویوں کا ایک ایسا حلقہ وجود میں آ گیاجنہوں نے سلام کو اپنے شعری اظہار کے لئے ایک مستقل ذریعہ قرار دیا۔ چنانچہ بعد ازاں سلام گوئی نہ صرف شعری حسیّت کی ایک دل نشیں صورت قرار پائی بلکہ اردو ادب کے تہذیبی و جمالیاتی تنوع کی ایک علامت بھی بن گئی۔
معاصر عہدمیں سلام گو شعرا کی ایک طویل فہرست موجود ہے مگر ان میں بہت کم ایسے نام ہیں جو اس صنف کی فنی نزاکتوں، اسلوبیاتی تقاضوں اور شعری حرفتوں سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں۔ بیشتر معاصر سلام گو شعرا نہ صرف فکری سطح پر ایک محدود دائرے میں گردش کرتے ہیں بلکہ بدلتے ہوئے شعری محاورے، جدید لسانی رجحانات اور الفاظ و تراکیب کے تخلیقی استعمال سے بھی نابلد نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری میں وہ تازگی، ندرت اور تخلیقی بصیرت عنقا ہے جو سلام جیسی سنجیدہ اور فکری صنف کا بنیادی جوہر ہے۔ایسےادبی و شعری معاشرے میں انیس اشفاق کے سلام اس لحاظ سے منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ محض رثائی جذبات کے حامل نہیںبلکہ ان میں زبان و بیان، فکر کی گہرائی اور اسلوب کے تنوع کی ایک بامعنی سطح دکھائی دیتی ہے۔انیس اشفاق کے یہاں سلام کی فضا صرف کربلا کے رثائی مناظر تک محدود نہیں بلکہ ان میں غزل کے محاکات، ڈکشن اور شعری محاورے کی جھلک بھی نمایاں ہے۔ ان کے سلام کا اسلوب گویا غزل کی خمیر سے تیار ہوا ہےجس کے باعث ان کے بہت سے اشعار غزلیہ انفرادیت کے حامل محسوس ہوتے ہیں تاہم یہی اشعار جب سلام کی مجموعی فضا، کربلائی تلمیحات اور شہادت و استقامت کے تناظر میں رکھے جاتے ہیں تو ان کا معنوی دائرہ وسیع تر ہو جاتا ہے اور وہ ایک الگ سطح کی معنویت اور تہذیبی شعور کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔ یہی وصف ان کے سلام کو محض رثائی شاعری کے زمرے سے نکال کر ایک فکری و تخلیقی تجربہ بنا دیتا ہے۔انیس اشفاق کے کلام میں الفاظ کے انتخاب، تراکیب کے استعمال، اور استعاراتی نظام میں جو فنی چابک دستی نظر آتی ہے وہ معاصر سلام گویوں کے یہاں نایاب تو نہیںمگر کمیاب ضرور ہے۔ وہ روایتی زبان سے اجتناب کرتے ہوئے ایک ایسی شعری زبان کی تشکیل کرتے ہیں جو کلاسیکی شکوہ اور جدید حساسیت کا حسین امتزاج ہے۔
انیس اشفاق کی شعری شخصیت کا ایک نمایاں اور امتیازی پہلو ان کی خالص لکھنوی شناخت ہےجو محض جغرافیائی وابستگی کی حامل نہیںہے بلکہ تہذیبی، لسانی اور فکری سطح پر بھی مکمل طور پر رچی بسی ہوئی ہے۔ ان کے یہا ں لکھنؤ محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب، ایک متمدن ذوق اور ایک جمالیاتی شعور کا نام ہے جو ان کی شاعری کے ہر مصرعے میں جھلکتا ہے۔ انیس اشفاق کی زبان و بیان کا سلیقہ، تراکیب کا انتخاب، لفظوں کی نشست و برخاست، اور شعری رچاؤ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ نہ صرف حرف و لفظ کی حرمت سے آشنا ہیں بلکہ ان کے حسب نسب یعنی ان کے ماخذ، تاریخی سیاق اور صوتی اثرات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔یہ شعری احتیاط اور لسانی نزاکت ان کے سلامیہ اور غزلیہ کلام دونوں میں یکساں طور پر نمایاں ہے۔ وہ جس شعوری ذمہ داری کے ساتھ الفاظ کا انتخاب کرتے ہیں، وہ محض صناعی نہیں بلکہ ایک عالمانہ بصیرت کا غماز ہے۔ ان کے یہاں کوئی بھی لفظ محض وزن پورا کرنے یا قافیہ سازی کے لیے نہیں آتابلکہ ہر لفظ اپنے مقام پر معنوی ضرورت اور صوتی ہم آہنگی کے اصولوں کے تحت استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں اگر کوئی ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائےتو پورے شعر کی جمالیاتی ساخت اور تاثر متزلزل ہو جاتا ہے۔انیس اشفاق کے کلام میں زبان کا یہ شعوری استعمال محض فنی مہارت کی دلیل نہیں بلکہ لکھنوی تہذیب،کلاسیکی ادب فہمی ور شعری روایت سے گہری وابستگی کا اظہار ہے۔ ان کی شاعری دراصل اس لسانی اور تہذیبی تسلسل کا مظہر ہے جو دبستانِ لکھنؤ کی پہچان رہا ہے۔اسی لئے وہ زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ ایک مقدس ورثہ اور فکری جمالیات کی امانت کے طور پر برتتے ہیں۔
تیرے خورشیدوں نے صحنوں کو منور کردیا
تیرے مہتابوں سے شب خانوں میں تابانی ہوئی
رم نہ کرنا ہوتو رکھو نہ یہاں اپنے قدم
دشت ہوتے نہیں آہستہ خراموں کے لئے
رکھنا تھا کف ظلم پہ پرکالۂ انکار
ورنہ یہ مسافر کبھی ہجرت نہیں کرتے
سنتا ہوں میں ہر خانۂ زنداں میں وہی شور
بجتی ہے ترے پاؤں کی زنجیر ابھی تک
بلند پھر سے کرو اپنی نصرتوں کے علم
کہ ظلم ڈھونڈ رہا ہے کوئی بہانہ ظلم
پی لیا کتنا لہو پیاس مگر کم نہ ہوئی
آج بھی ظلم کے ہاتھوں میں ہیں خنجر پیاسے
دشمن سے کبھی جنگ میں عجلت نہیں کرتے
شائستہ شمشیر ہیں سبقت نہیں کرتے
ازل سے حق کے طرفدار تھے سو آج بھی ہیں
علم بدلتے ہیں اپنا نہ صف بدلتے ہیں
خلق کو چاہیے ہے پھر کسی مختار کا ہاتھ
شورش موجۂ خوں پھر کسی تلوار میں ہے
کس نے آنکھوں کے صدف میں اشک روشن کر دیے
ہم تہی دستوں کو یہ طشتِ گہر کس نے دیا
اب یہاں اوپر دیئے گئے چند منتخب اشعار کے تجزیے کی روشنی میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انیس اشفاق نے اپنے سلاموں میں زبان و بیان کے مختلف پہلوؤں پر کس طرح فنّی مہارت کا مظاہرہ کیا ہےاور کس طور وہ شعری صناعی، اسلوبی تنوع اور لفظی جدت کے ذریعے معنوی جہات اور تہ دار مفاہیم کو خلق کیا ہے۔
تیرے خورشیدوں نے صحنوں کو منور کردیا
تیرے مہتابوں سے شب خانوں میں تابانی ہوئی
اس شعر میں زبان و بیان کی سطح پرایک طرف استعارہ،تضاد ،صوتی توازن اورفعلی ساخت کا خوبصورتی کے ساتھ التزام رکھا گیا ہے۔جس سے ایک طرف شعر کی قرأت میں ایک طرح کی روانی اور آہنگ پیدا ہوگیاہےاوردوسری طرف کربلا کے شہداء کی قربانی کو خورشید اور مہتاب جیسے پُرمعنی اور بصری استعاروں کے ذریعے نہ صرف یادگار بنایا ہے بلکہ ان کی روشنی کو عالمگیر اثر کا حامل بھی دکھایا ہے۔یہاں ” خورشید ” روشنی ،حرارت، حیات اور بیداری کا استعارہ ہےجب کہ ” مہتاب ” سکون، جمال، اور شب کی تاریکی میں ہدایت و بصیرت کی علامت کے طور پر آیا ہے۔در اصل یہ دونوں استعارے کربلا کے عظیم کرداروںکی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اس شعر کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ انیس اشفاق نے نور سے بھرے ہوئے لفظوں اور استعاروں کو استعمال کیا ہے جس سے شعر معنوی سطح پر بقعۂ نور کی صورت نظر آتا ہے۔صحنوں سے مراد میدانِ کربلا بھی ہو سکتا ہے اور انسانی قلوب و اذہان بھی۔اورشب خانے محض تاریک مکان نہیں بلکہ ظلمت، جبر، غفلت اور مایوسی کے استعارے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ” منور” اور” تابانی ” دونوں روشنی کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں مگربدلی ہوئی صورتحال کے ساتھ۔ ایک فعال انداز (منور کردیا) جبکہ دوسرا نتیجہ خیز ی کی صورت میں (تابانی ہوئی)استعمال ہوا ہے ۔یہ شعر محض ماضی کے ایک واقعہ (کربلا) کا بیان نہیں بلکہ اس کی آفاقی اور ابدی معنویت کو اجاگر کرتاہے گویا شہدائے کربلا کی عظیم قربانی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ مسلسل روحانی و اخلاقی روشنی ہے۔یہ شعر محض مدحیہ یا رثائی اظہار نہیں بلکہ ایک فکری و روحانی پیغام کا حامل شعر ہے۔ شاعر نے فنی چابک دستی سے کربلا کے کرداروں کو آفاقی روشنی کے پیکر میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ یہ شعر نہ صرف کربلا کے روحانی پہلو کو اجاگر کرتا ہے بلکہ موجودہ انسانی تاریخ میں حق و باطل کی کشمکش کے تناظر میں بھی ایک رہنما استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔
رم نہ کرنا ہوتو رکھو نہ یہاں اپنے قدم
دشت ہوتے نہیں آہستہ خراموں کے لئے
یہ شعر صرف خارجی سفر کی بات نہیںبلکہ باطنی سفرِ حق، مزاحمت، اور سچائی کی راہ کا نقشہ کھینچتا ہے۔اس شعر میں تین اہم اور کلیدی الفاظ و تراکیب رم،دشت اور آہستہ خراموں کے تخلیقی استعمال کےذریعے سے جہان معنی پیدا کیا گیا ہے۔” رم کرنا ” عام طور پر ہرن یا جانور کی تیز دوڑ کو ظاہر کرتا ہےلیکن یہاں اس کا مطلب عزم، تیقن اور استقامت کے ساتھ قدم بڑھانا ہے۔دشت (صحرا) صرف جغرافیائی حقیقت نہیںبلکہ یہاں یہ کربلا، جدوجہد، حق کے راستےیا باطنی سفر کا علامتی استعارہ بن گیا ہے۔اور آہستہ خرام سے مراد وہ لوگ ہیں جو تذبذب، مصلحت یا ہچکچاہٹ کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔گویااس شعرمیں ان لوگوں کے لیے پیغام ہے جو نیم دل، مصلحت پسند یا وقت پر کنارہ کش ہونے والے تھے۔ گویا امام حسینؑ کے قافلے میں وہی شامل ہو سکتا ہے جو رم کرنے یعنی ہر طرح کی قربانی دینےپر آمادہ ہو۔
رکھنا تھا کف ظلم پہ پرکالۂ انکار
ورنہ یہ مسافر کبھی ہجرت نہیں کرتے
یہ شعر مزاحمت اور احتجاج کی توانا اور پرقوت آواز کی صورت اختیار کرگیا ہےاور توانا آواز کی تعمیر کے لئےمختلف الفاظ و تراکیب کا استعمال کیا گیا ہے۔اس شعر میں” کف ظلم” یعنی یزیدی اقتدار ،جبر اور فسطائیت” پرکالۂ انکاریعنی امام حسینؑ کا جرات مندانہ “لا” ( نہیں) مسافر یعنی امام حسینؑ اور ان کے جانثاراور ہجرت مدینہ سےکربلا تک کا ایک مقدس احتجاجی سفر۔گویا امام حسینؑ نے ظلم کے نظام پر انکار کی چنگاری رکھی اور وہی انکار ہجرت اور شہادت کی بنیاد بن گیا۔
درج بالا شعروں کے مختصر تجزیےسےیہ حقیقت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انیس اشفاق سلام گوئی کو محض رثائی اظہار تک محدود نہیں رکھتےبلکہ اس صنف کو فکری اور تخلیقی سطح پر ایک نئی معنویت سے ہمکنار کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنےسلام کے شعروں میں غزل کے شعریات جیسے استعارہ، کنایہ، محاکات، ڈکشن، اور شعری محاورے کو غیرروایتی سیاق میں اس مہارت کے ساتھ برتا ہے کہ یہ عناصر سلام کی عمومی فضا میں جذب ہو کر نئے تہذیبی اور فکری افق روشن کرنے لگتے ہیں۔انیس اشفاق کی یہ شعری حرفتیں محض جمالیاتی چابکدستی نہیںبلکہ ایک عمیق فکر اورتہذیبی شعور کا اظہار ہےجو کربلا جیسے موضوع کو صرف المیہ کے پیرائے میں نہیں بلکہ مزاحمت، حریت، اخلاقی جرأت اور انسانی وقار جیسے آفاقی موضوعات کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ ان کے یہاں سلام ایک جامد رثائی سانچے میں بند صنف نہیں رہتی بلکہ وہ اسے ایک تخلیقی تجربہ، فکری مکاشفہ، اور تہذیبی بیانیہ بنا دیتے ہیں۔یہی انفرادیت ان کے کلام کو محض عقیدت کی روایت سے اٹھا کر ایک فکری، علامتی اور شعری اظہار کی سطح پر لے آتی ہے جہاں ہر شعر ایک نئی معنوی تہہ کھولتا ہے، ہر استعارہ ایک نیا فکری زاویہ تشکیل دیتا ہےاور ہر مصرع ایک عہد کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں انیس اشفاق کے سلام کے اشعار ہمیں ایک ایسی منور ہوتی ہوئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں جو بیک وقت جمالیاتی، فکری اور تہذیبی سطحوں پراپنے قاری سے مکالمہ قائم کرتا ہے۔
انیس اشفاق کا تا دم تحریر سلام کا واحدمجموعہ” صبح خورشید زوال “کے مطالعے سے یہ بات نہایت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ انھوں نے اپنے سلام کے بہت سے شعروں میں نور اور روشنی سے بھرے ہوئے لفظوں کو کثرت سے استعمال کیا ہے۔ ان کے یہاں نور کا تصور صرف ایک شعری پیکرکی صورت میں نہیںبلکہ ایک فکری و روحانی استعارہ کے طور پر آیا ہے جو پورے متن میں مرکزی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔اان کے کلام میں نور،روشنی ،چمک ،ضیا،اجالا،شمع ،چراغ ،مہر،ماہ،مہتاب اور خورشید جیسے الفاظ نہ صرف تکرار کی سطح پر موجود ہیں بلکہ معنوی سطح پر بھی گہرے اثرات رکھتے ہیں۔ ان الفاظ کا کثرت سے استعمال محض لفظی آرائش نہیں بلکہ ایک شعوری حکمت عملی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے سلام کو ایک ماورائی تجلی کا پیکر بنا دیتے ہیں۔یہ رجحان اس وجہ سے بھی فطری معلوم ہوتا ہے کہ رثائی ادب میں جن شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے، وہ خود نورانی صفات کی حامل ہیںاور یہ شخصیات اسلامی روایت میں نور کا سرچشمہ ہیں۔ انیس اشفاق اس روایت کو نہ صرف اپناتے ہیں بلکہ اسے شعری پیرایے میں ایک جدید اور بصری جہت عطا کرتے ہیں۔ ان کے سلام میںنور اور روشنی محض مابعد الطبیعاتی حقیقت نہیں بلکہ ظلم، جہالت اور جبر کے خلاف ایک مزاحمتی علامت بن کر ابھرتا ہے۔کربلا کے واقعے کو وہ ظلمت و نور کی آویزش کے طور پر پیش کرتے ہیںجہاں ظلمت کا استعارہ یزیدی قوتیں ہیں اور نور کا مظہر حسینی کارواں۔ یوں کربلا محض ایک سانحہ نہیں رہتا بلکہ ایک باطن افروز تمثیل بن جاتا ہےجس میں نور آخرکار تاریکی پر غالب آتا ہے۔ ان میں سے چند شعروں کو آپ بھی ملاحظہ فرمائیےاور اپنےدل و نظر کو منورکیجیے:
کس نے آنکھوں کے صدف میں اشک روشن کردیے
ہم تہی دستوں کو یہ طشت گہر کس نے دیا
ایک اور آفتاب نظر آئے گا تجھے
نوک سناں سے نور کی چادر اٹھا کے دیکھ
جس گھر میں چمکتا ہے ترے اسم کا مہتاب
اس گھر کا ہر اک بام ہر اک در ہے منور
کچھ اور مرے شکر کا خورشید ہو روشن
نیزے پہ مرے سر کو علم اور کیا جائے
نکلا ہے صف ظلمت شب سے جو ستارہ
سامان ضیاء اس کو بہم اور کیا جائے
مقتل نے کہی مہر منو ر کی زبانی
ظلمت میں ترے نور کی اک تازہ کہانی
بڑھائی اس نے بہت اپنی شمع ظلم کی لو
مگر نہ ہوسکا روشن سیاہ خانۂ ظلم
انیس اشفاق کے سلام گوئی کی ایک نمایاں اور قابلِ توجہ خصوصیت ان کا شعری شعور،فنی چابک دستی اور لسانی جمالیات سے آراستہ طرزِ اظہار ہے۔ وہ صرف معانی اور مفاہیم کی ترسیل پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ زبان و بیان کے صوتی اور جمالیاتی پہلوؤں کو بھی پوری طرح پیشِ نظر رکھتے ہیں۔ ان کے سلام میں صوتی ترکیب، پیکر تراشی، لفظیات کا حسن اور معانی کی تہ داری اس طرح باہم پیوست ہوتے ہیں کہ مجموعی شعری تاثر نہایت دلکش اور ہم آہنگ معلوم ہوتا ہے۔انیس اشفاق کی زبان برتنے کی مہارت قابلِ رشک ہے۔ وہ الفاظ کے انتخاب میں غیر معمولی دقتِ نظر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مترادفات میں سے صوتی، معنوی اور سیاقی سطح پر موزوں ترین لفظ کا انتخاب کرتے ہیں جس سے اشعار کی تاثیر دوچند ہو جاتی ہے۔ ان کے شعروںمیں الفاظ کی ترتیب، صوتی مناسبت اور نحوی ساخت ایک ایسا خوش آہنگ نظام ترتیب دیتی ہے جو قاری کو جمالیاتی مسرت سے ہمکنار کرتی ہے۔ان کے یہاں زبان ایک جامد ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک پیکر ہےجسے وہ بڑے ہنر کے ساتھ ڈھالتے ہیں۔ان کے سلام کے شعروںمیں نغمگی، نادر ترکیب سازی اور صوتی حسن صرف شعری ذوق کی تسکین کا سامان فراہم نہیں کرتےبلکہ وہ شعورِ فن اور تخلیقی وجدان کا آئینہ دار بھی ہیں۔ وہ تراکیب سازی کے عمل کے دوران غزل کی کلاسیکی روایت سے اکتساب کے باوجود ان کے یہاں یہ ترکیبیں محض تقلیدی نہیں بلکہ ایک تخلیقی تشکیل کا مظہر ہوتی ہیںجس سے ان کے کلام کو جدت اور تازگی حاصل ہوتی ہے۔ گویا انیس اشفاق صرف سلام گوئی کے دوران معانی اور مفاہیم کوہی پیش نگاہ نہیں ہوتے ہیں بلکہ شعری متن سازی میں استعمال ہونے والے تمام فنی حربوں اور شعری حرفتوں کو بروئے کار لاتے ہیں جس سے ان کے سلام میں شعریت تہ نشین موج کی طرح رواں دواں رہتی ہے۔
شام زوال ظلم میں روشن ہوا ہے کون
خاک نواح سب سے منور اٹھا کے دیکھ
یہ تاب آفتاب میں تجھ کو نظر نہ آئے
طشت طلائے چشم سے گوہر اٹھا کے دیکھ
قیاس مردنی چہرۂ کماں سے کیا
کہ بن رہا ہے کوئی تشنہ لب نشانۂ ظلم
ٍشائستگان شکر خوش آموزگان صبر
کوئی مثال آ ل پیمبر کبھی ہوا
وہی ہے زینت سرمایۂ تبسم لب
شگفتن لب اصغر نے جو ہنسی دی ہے
بڑھ رہی ہیں ہر طرف عہد زیاں کی ظلمتیں
زینۂ ایام سے اترے ہدایت کا چراغ
ظلم کوفے سے چلا تھا لے کے صندوق اجل
کربلا میں اس کو بیعت کا جنازہ مل گیا
درج بالا شعروں میں جوجو نادرا ور شگفتہ ترکیبیں استعمال ہوئی ہیں، وہ صرف فنی چابک دستی کا مظہر نہیں بلکہ ان کے شعری وجدان اور تخلیقی شعور کی گہری سطح کی بھی ترجمان ہیں۔ یہ ترکیبیں نہ صرف معانی و مفاہیم کے نئے زاویے پیدا کرتی ہیں بلکہ کلام کی صوتی جمالیات، اسلوبی رچاؤ اور نغمگی میں بھی نمایاں اضافہ کرتی ہیں۔شام زوال ظلم،طشت طلائے چشم،مردنی چہرۂ کماں،خوش آموزگان صبر،زینت سرمایۂ تبسم لب،شگفتن لب اصغر،زینۂ ایام ،صندوق اجل،خورشید گلو ،طلوع آفتاب ظلم اور خامۂ دست بریدہ کے علاوہ بہت سی ایسی نادر اور شگفتہ ترکیبیں ان کے سلام میں موجود ہیں اور یہ ترکیبیںمحض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی فضا کی تشکیل بھی کرتی ہیں۔
انیس اشفاق کے مجموعۂ سلام” صبح خورشید زوال ” کامطالعہ کرتے ہوئے ایک خاص پہلو قاری کی توجہ کا مرکز بنتا ہےاور وہ ہے جناب حر بن یزید ریاحی علیہ السلام کے کردار کی تخلیقی و علامتی پیش کش۔ اس مجموعے میں بارہا حر کے کردار کو مختلف شعری تناظرات میں موضوعِ اظہار بنایا گیا ہےاور ہر مرتبہ یہ کردار کسی نئی جہت، تازہ معنوی پہلو اور فکری زاویے کے ساتھ ابھرتا ہے۔ یہ تکرار محض موضوعی نہیں بلکہ ایک گہری فکری جستجو کا اظہار ہےجو جناب حر کی شخصیت کو معاصر انسانی جدوجہد، اخلاقی کشمکش اور باطنی انقلاب کی علامت بنا دیتی ہے۔جناب حر علیہ السلام کا کردار واقعۂ کربلا میں ایک منفرد روحانی اور اخلاقی سفر کا نمائندہ ہے۔ یہ سفر صرف مکانی یا عسکری تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری و ایمانی تغیر کا استعارہ ہےجو تاریکی سے نور، شک سے یقین اور باطل سے حق کی جانب ایک بیدار شعور کے ساتھ قدم اٹھانے کا نام ہے۔ انیس اشفاق کے اشعار میں حر کا یہ سفر داخلی کشمکش، ضمیر کی بیداری اور حق کے شعور سے ہمکنار ہونے کی پوری شدت کے ساتھ مجسم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر بار بار اس کردار کی طرف رجوع کرتا ہے،گویا حر کی ذات ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر دور اپنے چہرے کی سچائی دیکھ سکتا ہے۔سلامیہ شاعری میں جناب حر کے کردار کی پیش کش ایک پرانی روایت ہےلیکن انیس اشفاق کے ہاں جناب حر کے کردار کو نہ صرف روایتی معنی میں استعمال کیا ہے بلکہ اسے ایک زندہ اور متحرک استعارہ کے طور پر برتا ہے۔ ان کے سلاموں میں حر کا تذکرہ صرف عقیدےکا لازمی حصہ ہی نہیں بلکہ فکری بیداری کا حوالہ ہے۔انیس اشفاق کے نزدیک جناب حر کی کشمکش، ان کے داخلی سوالات اور پھر ایک فیصلہ کن لمحے میں حق کے لیے جان قربان کر دینے کا عمل نہ صرف ایک تاریخی واقعہ ہے بلکہ ایک ابدی پیغام ہے جو ہر صاحبِ ضمیر انسان کے لیے رہنما بن سکتا ہے۔معاصر عہد میں جب سچائی دبائی جاتی ہو، عدل و انصاف کی صدائیں مدھم پڑ چکی ہوںاور ضمیر کو خاموشی کی تلقین کی جاتی ہوایسے میں جناب حر کا کردار نہایت بامعنی ہو جاتا ہے۔ انیس اشفاق کے سلاموں میں حر ایک ایسی علامت بن کر ابھرتا ہے جو انفرادی اور اجتماعی سطح پر حق و صداقت کے حق میں فیصلہ لینے کی اخلاقی جرأت کی دعوت دیتا ہے۔ اسی لئے انیس اشفاق نے اپنے سلام کے بہت سے شعروں میں حر کی تصویر کشی اس طرح کی ہے کہ قاری ان شعروں میں محض ایک تاریخی کردار کو نہیں بلکہ ایک ابدی سوال کو دیکھتا ہےکہ آیا ہم میں حر جیسی جرأتِ انکار اور حق پسندی باقی ہے یا نہیں۔یوں انیس اشفاق کی سلامیہ شاعری میں جناب حر علیہ السلام کا کردار نہ صرف ایک استعارہ یا تلمیح ہے بلکہ ایک اخلاقی فلسفہ ہے، ایک فکری محرک اور معاصر انسان کے لیے ایک ضمیر افروز پیکرِ صداقت ہےجو ہر عہد میں نئے سوالات اور نئے جوابات کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔اس ذیل میں چند شعروں کو ملاحظہ فرمائیں:
ادھر نہ سبز چمن تھا نہ آب و دانہ تھا
تو حر نے چھوڑ دیا کیوں وہ آشیانۂ ظلم
تعلیم ہماری ہوئی ہے مکتب حر میں
ہم بھی کسی ظالم کی اطاعت نہیں کرتے
ضمیر حر ہے بہت گفتگو میں گرم مگر
ضمیر حر کی حرارت کو ہم نے سمجھا کب
حق بنا اس جنگ میں
آخر شب حر کی ڈھال
شب کی ہر ساعت میں اس کی روشنی بڑھتی رہی
صبح تک جلتا رہا حر کی ندامت کا چراغ
ظلمت کی صف ادھر ہے ادھر نور کی سپاہ
حر نور کی سپاہ میں کیو ں کر نظر نہ آئے
دنیائے نور،تخت فلک ،مسند قمر
اس رات چشم حرمیں بہت خواب آئے ہیں
کب حضور شاہ آکے حر کو حیرانی ہوئی
روشنی کی سلطنت تھی جانی پہچانی ہوئی
کیا رنگ کربلا نے دکھائے جدا جدا
حر بھی اسی زمین پہ ہے حرملا بھی ہے
اس کا گواہ حر ہے کہ دروازۂ حسین
جس پر ہوا تھا بند اسی پر کھلا بھی ہے
ختم ہے،حر نے کہا اس خانۂ ظلمت کی قید
اس طرف ایک روشنی کا گھر مری آنکھوں میں ہے
سیاہ خانۂ شب میں کسی نے حر سے کہا
وہ روشنی ہے چلو اس طرف کو چلتے ہیں
اب آئیے کچھ شعروں کا مختصر تجزیہ کرتے ہیں تاکہ ان شعروں کے اندر پوشیدہ معنوی ابعاد و جہات اور فنی خوبیوں اور جمالیاتی آہنگ واضح ہوسکے۔ پہلا شعر ایک بلند فکری سطح کا حامل ہے جس میں جناب حر علیہ السلام کے کردار کو علامتی، فکری اور جمالیاتی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔یہ شعر فنی خوبیوں اور موضوعاتی گہرائی کا حسین امتزاج ہے۔ فنی سطح پر بحر، قافیہ، موسیقیت اور استفہامیہ اسلوب نے اسے جمالیاتی طور پر مؤثر بنادیا ہے جبکہ موضوعاتی سطح پر اس میں ضمیر، اخلاق، قربانی اور صداقت جیسے ابدی انسانی موضوعات کو علامتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔شعر کی فنی خوبیوں میں سب سے نمایاں اس کا استفہامی اسلوب ہے۔ یہ اسلوب محض سوال نہیں بلکہ سوچ کی سطح کو متحرک کردیتا ہے جو قاری کو چونکاتا ہے اور اندرونی احتساب پر مجبور کرتا ہے۔انیس اشفاق نے جناب حر کے فیصلے کو محض ایک تاریخی لمحہ نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی استعارہ کے طور پر پیش کیا ہےکہ حر کا وہ لمحۂ انحراف، جب وہ ظلم کا لشکر چھوڑ کر حق کی طرف آتا ہے۔ان کے نزدیک ایسا عمل ہے جو مادیت کے ہر تصور کو رد کر دیتا ہے۔اور اس کی وضاحت کے لئے شعر میں تین اہم ترکیبوں” سبز چمن ” ” آب و دانہ ” اور ” آشیانۂ ظلم” کا استعمال کیا ہے۔” سبز چمن ” اور ” آب ودانہ ” در اصل پرندے کی بقا و آسائش کی علامتیں ہیں جبکہ ” آشیانۂ ظلم ” ایک محفوظ مگر گناہ آلود پناہ گاہ کی علامت ہے۔پہلے مصرعے میں یہ اشارہ موجود ہے کہ امام حسینؑ کے قافلے میں نہ مادی فائدے تھے، نہ طاقت، نہ بقا کی ضمانت۔ پھر بھی حر نے جس طرف قدم بڑھایادر اصل وہ حق تھااور دوسرے مصرعے میں یہ سوال موجودہے کہ حر نے یہ محفوظ ٹھکانہ کیوں چھوڑا؟ یہ سوال دراصل ہمارے عہد کی منافقت اور ضمیر کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔اس شعر میں انیس اشفاق نے ایک مخصوص تاریخی واقعے کو ہمہ وقتی اخلاقی علامت میں تبدیل کر دیا ہے۔ حر کا کردار اب صرف کربلا کا کردار نہیں رہا بلکہ ہر اس انسان کا استعارہ ہے جو حق کی پکار پر دنیاوی مفادات کو ترک کرنے کی جرأت رکھتا ہے۔
دوسرے شعر میں انیس اشفاق نے ایک معنی خیز ترکیب” مکتب حر” کا استعمال کیا ہےاور یہاں” مکتب حر” سے مراد وہ تربیت گاہ یا کردار سازی کاوہ نظام ہے جو انسان کو آزادی، غیرت، خودداری اور حق پر قائم رہنے کا سبق دیتا ہےاور ظالم سے مراد وہ شخص یا نظام ہے جو ظلم و جبر، ناانصافی اورآمریت پر مبنی ہو۔اور دوسرے مصرعے میں” ہم بھی ” کے ذریعےتاکیدپیدا کی گئی ہےکہ ہم خود مکتبِ حرؑ کے تربیت یافتہ ہںجہاں حق کے لیے سر کٹانا تو سکھایا جاتا ہےمگر باطل کے سامنے سر جھکانا نہیںاو ساتھ ہی رہم نے اسی درسگاہ سے تعلیم پائی ہے جہاں غلامی قبول کرنا سکھایا نہیں جاتاہے۔ اس دعوے میں نہ صرف فخر کا جذبہ ہے بلکہ زمانے کے باطل نظاموں کو چیلنج کرنے کی جرات بھی شامل ہے۔یہ ایک انقلابی اعلان ہے کہ ظالم کی اطاعت ہماری سرشت میں نہیں۔ جناب حر کے کردار کا یہی وہ زاویہ ہے جہاں انیس اشفاق کے سلام میںآزادی،حق گوئی، تربیتِ نفس، فکری استقامت اور انکارِ ظلم کی ایک پکار بن جاتی ہے۔ اوران کے سلام کے شعروں میںحر کا کردار موجودہ عہد میں روشن ضمیری اور حق پرستی کا ایسے منورچراغ کی صورت اختیار کرلیتا ہے جو ہر اس شخص کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
تیسراشعر اپنی معنوی گہرائی، علامتی قوت اور فکری جہت کے اعتبار سے ایک مؤثر سماجی و اخلاقی تنقید پر مبنی ہے۔ شاعر نے یہاں ‘ ضمیر حر’ کو ایک استعارے کے طور پر برتا ہے جو ایک ایسے باکردار، بیدار ضمیر، حق پرست اور غیرت مند انسان کی علامت ہے جو ظلم و جبر کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ یہ استعارہ جناب حرکا کردارہے جنہوں نے کربلا کے میدان میں حق و باطل کے درمیانی مرحلے پر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہا اور یزیدی لشکر کو چھوڑ کر امام حسینؑ کے قافلۂ حق میں شامل ہوگئے۔پہلے مصرعے میں ” گفتگو میں گرم ” ایک محاوراتی اظہار ہے جو ایسے معاشرتی رویے کی جانب اشارہ کرتا ہے جہاں ضمیر، اخلاق، حق، عدل اور انصاف کی باتیں تو جوش و خروش سے کی جاتی ہیںمگر ان باتوں کی عملی روح اور معنوی حرارت کو نہ سمجھا جاتا ہے اور نہ اپنایا جاتا ہے۔ یہ اس تضاد کی نشاندہی ہے جو قول و فعل کے درمیان پایا جاتا ہے۔شعر کے دونوں مصرعوںمیں ” ضمیر حر” کی تکرارنہ صرف شعر کے آہنگ میں اضافے کے ساتھ حسن بھی پیدا کرتی ہے بلکہ ایک قسم کی تاکید کا کام بھی دیتی ہےجس سے شاعر کے نزدیک “ضمیر حر ” کی معنوی اہمیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس تاکید کے ذریعے شاعر اس بنیادی سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ کربلا میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کرنے والا یہی ضمیر حر تھا جو آج کے معاشرے میں محض گفتگو کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔دوسرا مصرع ایک اخلاقی خوداحتسابی (moral self-reflection) کی صورت ہے۔یعنی شاعر اس بات پر افسوس کا اظہار کر رہا ہے کہ ہم صرف الفاظ کی حد تک ضمیر حر کی بات کرتے ہیں مگر اس کی اصل روح، اس کا جوہراوراس کی قربانی ہم سمجھنے اور اپنانے سے قاصر ہیں۔ اگر واقعی ہم اس ضمیر کی معنویت کو سمجھتے تو معاشرتی زندگی میں حق و باطل کی پہچان ہمارے لیے مشکل نہ ہوتی اور نہ ہی ہم ظلم کے خلاف مصلحت یا خوف کا شکار ہوتے۔
اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ انیس اشفاق کی سلام گوئی روایتی شعری ورثے کی تخلیقی توسیع ہے۔ ان کا کلام اردو سلام گوئی میں ایک نئی سمت، نئی جمالیات اور نئے فکری افق کا تعین کرتا ہےجس کی آج کے شعری منظرنامے میں اشد ضرورت ہے۔اور ان کے سلام خالص رثائی اور روایتی موضوعات کے ساتھ عصری موضوعات و مسائل اور سیاسی و سماجی معاملات و واقعات کو بھی اپنے درون میں سمیٹ لیتا ہے۔اسی لئے ان کے سلام صرف عقیدت کا اظہار نہیں بلکہ وہ فکری بیداری، تاریخی شعور، اخلاقی تعلیمات اور جمالیاتی اظہار کا حسین امتزاج ہیں۔ ان کی شاعری نہ صرف اہلِ بیتؑ سے محبت کی ترجمان ہے بلکہ شاعری کے اعلیٰ معیارات پر بھی پوری اترتی ہے۔ان کی سلام گوئی کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ادب بالخصوص مذہبی شاعری صرف روحانیت کی عکاس نہیں بلکہ تہذیبی، فکری اور اخلاقی شعور کی بیداری کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ پروفیسر انیس اشفاق نے سلام گوئی کو ایک فکری تحریک کا درجہ دیا ہے جو اردو ادب کا روشن باب بن چکی ہے۔
https://shorturl.fm/2JGR7
https://shorturl.fm/IAqct
https://shorturl.fm/6GTGf
https://shorturl.fm/70Vj9
https://shorturl.fm/KcI4X
https://shorturl.fm/Ig2fF
https://shorturl.fm/NQAZZ