نصر ملک

ڈنمارک

اردو ادب میں کچھ نام ایسے ہیں جنہوں نے وطن سے دور رہ کر بھی زبان، شناخت اور تہذیب سے جڑت کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ اس کے فکری اور تخلیقی دائرے کو وسعت بھی دی۔ نصر ملک ایسے ہی ایک تخلیق کار کا نام ہے جو ڈنمارک کی سرزمین پر اردو زبان کا چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ ان کا قلم تحقیق، ترجمے، افسانے اور تنقید کے میدان میں نہایت وقار اور شعور کے ساتھ متحرک ہے، اور انہوں نے اردو کو بین الاقوامی علمی و ادبی مکالمے کا حصہ بنانے میں قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔

نصر ملک یوروپ میں ادیبوں کے فہرست میں صف اول میں آتے ہیں ۔ یوروپ کی اہم علمی اور ادبی سر گرمیوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں ا س کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں سیمنار کے لیے  بلائے جاتے ہیں ۔ڈنمارک   کی ایک ادبی تنظیم ’’ بیلی ‘‘ سے وابستہ ہیں جس کے تحت ادبی سرگرمیاں منعقد ہوتی رہتی ہیں ۔اسکینڈینیویا میں منعقد ہونے والے تمام پروگراموں میں  نصر ملک  کامیابی کے  ضامن ہیں ۔وہ ڈنمارک میں  ریڈیو کی صحافت سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔عمر کے اس حصے میں وہ سرگرم رہتے ہیں یہ بڑی بات ہے اور اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ ان کی اہلیہ ہما نصر صاحبہ جو خطاطی میں ماہر ہیں اور اردو دوست ہیں وہ ان کے ویب میگزین  کے علاوہ تمام ادبی سرگرمیوں میں ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی رہتی ہیں۔ مختصر طور پر یہ کہا جاسکتاہے کہ مہجری ادب کو ثروت مند بنانے والوں میں ایک اہم نام جناب نصر ملک کا ہے۔اکستانی نژاد نصر ملک نے ڈنمارک کے عالمی شہریت یافتہ مصنف و شاعر اور فلسفی ول سؤرن کی کتاب ’’ راگنارُک ‘‘ کی کتاب کا ’’ دیوتاؤں کا زوال ‘‘ کے نام سے اردو میں ترجمہ کر کے اہل اردو کو ڈنمارک اور اسکینڈینیویائی میتھیالوجی اور اساطیری ادب سے روشناس کرایا ہے۔ اس کے علاوہ نصر ملک نے کئی ڈینش ادیبوں اور شاعروں کی تخلیقات کااردو زبان میں ترجمہ کیا ہے، جن میں ٹووے ڈٹلیووسن جیسی عظیم ڈینش مصنفہ اور ہنرک نور براندٹ، مریانے لارسن اور بینی آنڈرسن جیسے شاعروں کی نظموں، گیتوں اور نغموں کے تراجم بھی شامل ہیں اور یہ تراجم نصر ملک کے آن لائن جریدے ’’ اردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ‘‘ پر پڑھے جا سکتے ہیں۔ اسی ویب گاہ اور نصر ملک کے توسط سے کئی اردو تخلیقات کا ڈینش میں ترجمہ کیا گیا ہے۔

نصر ملک اردو ادب کی مہجری روایت میں ایک روشن نام ہیں، جو ڈنمارک میں رہائش پذیر ہیں اور اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے عشروں سے سرگرم عمل ہیں۔ وہ تخلیق، تحقیق، تنقید، ترجمہ اور تدریس کے میدان میں اپنی خدمات کی بدولت ایک معتبر مقام رکھتے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان سے ہے، مگر وہ برسوں سے یورپ میں مقیم رہ کر اردو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے مشن پر گامزن ہیں۔یورپ میں اردو ادب کی نمائندگی کرنے والے ادیبوں میں نصر ملک کا نام فخر سے لیا جاتا ہے۔ انھوں نے ڈنمارک میں نہ صرف اردو زبان کو زندہ رکھا بلکہ وہاں کی جامعات میں تدریسی فرائض انجام دے کر اسے علمی سطح پر روشناس بھی کرایا۔ انھوں نے اردو کو ثقافتی رابطے کی زبان کے طور پر متعارف کرانے کی مخلصانہ کوشش کی، اور یورپی قارئین کو اردو ادب سے جوڑنے کے لیے ترجمہ نگاری کا سہارا لیا۔

  افسانہ نگاری: نصر ملک نے زندگی کے مشاہدات، تارکین وطن کے مسائل، شناخت کے بحران، تنہائی، اور ثقافتی کشمکش جیسے موضوعات کو نہایت حساس انداز میں اپنے افسانوں میں برتا ہے۔

  ترجمہ نگاری: نصر ملک نے ڈنمارک کی ادبیات کو اردو میں منتقل کرنے اور اردو ادب کو دیگر زبانوں میں متعارف کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کے تراجم صرف لسانی نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری پل کا کام کرتے ہیں۔

 تدریس: وہ یورپ کی مختلف جامعات سے منسلک رہے ہیں، جہاں اردو زبان و ادب کی تدریس کے ذریعے انہوں نے مغربی دنیا میں اردو کے علمی و تعلیمی وقار کو بلند کیا۔

    ادارتی خدمات: انہوں نے اردو جرائد اور ویب پلیٹ فارمز کے ذریعے ادبی مکالمے کو وسعت دی، اور نوجوان نسل کو اردو ادب سے جوڑنے کی سنجیدہ کوششیں کیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔