ارمان شمسی

بنگلہ دیش

نام: محمد ارمان۔قلمی نام: ارمان شمسی۔پیدائش: 21 اگست، آنولہ، ضلع بریلی، اتر پردیش۔والدین: منظور احمد اور نشاط بیگم۔تعلیم: بی۔اے (نامکمل)۔پیشہ: تجارت۔ بنگلہ دیش میں اردو زبان کا چراغ جلائے رکھنا اور اردو زبان کی آب یاری کرنا ارمان شمسی کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ارمان شمسی متعدد کہانیوں کی کتابوں کے مصنف ہیں ارمان شمسی شاید اج کل کہانی لکھنے والوں میں وہ چند معدود کہانی کار ہیں جو کہانی کی نوک پلک سنوارے کہانی کے معنوی انداز کو اب تک سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ان کی کہانیاں اکہری نہیں بلکہ تہ دار ہیں اور ان کا پس منظر کردار کی حرکات و سکنات ہمیشہ توجہ طلب رہی ہیں اور سب سے اہم بات کہ ان کے موضوعات کے پیچھے ایک سبق آموز کہانی موجود رہتی ہے لہذا ارمان شمسی اس دور کے بہترین لکھنے والوں میں سے ایک ہیں۔

محمد ارمان قصبہ انولہ ضلع بریلی یو پی میں  ایک تجارت پیشہ گھرانے میں پیدا ہوئے ابھی صرف ڈھائی برس کے تھے کہ والد  کی شفقت سے محروم ہو گئے والد کے انتقال کے بعد زندگی نہایت کس مپرسی میں گزری یتیمی کے دور سے لے کر بڑے ہونے تک طرح طرح کے مصائب اور اذیتیں برداشت کیں بے شمار دکھ جھیلے ہجرت کے سانحے سے بھی دوچار ہوئے عشق کی ناکامی کا زہر بھی انہیں پینا پڑا غرض قدم قدم پر ازمائشوں کی بھٹی میں کچھ اس طرح بار بار تپے کہ کندن بن کر ابھرے اور ان تما م آزمائشوں کے نتیجے میں محمد ارمان، ارمان شمسی  کےنام سے ادبی فق پر اس طرح نمودار ہوئے”۔ ایسا قلم ہاتھ میں تھاما کہ اج تک وہ قلم اسی رفتار سے رواں دواں ہے اور صفحہ قرطاس پر تمام تر جولانیوں کے ساتھ کہانیاں رقم کرتا جا رہا ہے۔ ارمان شمسی نے جنسیت کا اظہار کہیں بہت کھل کر کیا ہے تو کہیں اشاروں کنایوں میں لیکن جنس کو انہوں نے ذہنی تلذذحاصل کرنے کے بجائے صحت مند طریقے سے برتا ہے ان کی کہانیوں میں معاشرے اور سماج سے جڑے ہوئے مسائل  ہیں اور اس میں رونما ہونے والی ایسی حقیقتیں بھی جو ہماری روزمرہ زندگی میں درپیش ہیں انہوں نے اپنی کہانیوں کا مواد زندگی میں پیش انے والے چھوٹے چھوٹے واقعات سے اخذ کیا ہے۔۔انداز بالکل سیدھا سادہ ہے وہ اپنے قاری کو کسی الجھن کا شکار نہیں ہونے دیتے ۔ نہ انہیں ابہام میں مبتلا کرتے ہیں زبان عام فہم اور سادہ استعمال کرتے۔۔۔ارمان شمسی کے افسانے زندگی کے تلخ تجربات، ہجرت، عشق کی ناکامی، ظلم و جبر، اور انسانی خودغرضی کو موضوع بناتے ہیں۔ ان کی کہانیاں نہ صرف قاری کو جذباتی طور پر متاثر کرتی ہیں بلکہ معاشرتی شعور بھی بیدار کرتی ہیں۔سادہ اور عام فہم زبان،کرداروں کی بول چال اور محاوراتی انداز قدرتی،فنکارانہ جرات اور پردہ داری کا امتزاج،حقیقت نگاری اور تجربات کی شدت کے ساتھ تہ دار افسانے۔ارمان شمسی بنگلہ دیش میں اردو ادب کے معتبر افسانہ نگار ہیں۔ ان کا بیانیہ انداز حقیقی مشاہدے، انسانی احساسات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی کے لیے نمایاں ہے۔

اردو ادب میں افسانہ نگاری کے اس جدید دور میں ارمان شمسی کی تحریریں قاری کو فکر، تجربہ اور بصیرت عطا کرتی ہیں، اور انہیں اردو ادب کے ممتاز ادیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔انہوں نے انحطاط اور انتشار دیکھا ہے کرب اور سیل بلا سے وہ گزرے ہیں اور ذرائع ابلاغ اور دیگر مشاغل و مصروفیت روزگار کی خارجی اور داخلی تبدیلیوں کو شدت سے محسوس کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے درجنوں افسانوں میں واقعات کا مشاہدہ زیادہ عمیق اور صداقت پر مبنی ہے، شدت احساس اور گہرے تجربے کا بھرپور عکس فن کارانہ رنگ میں ہے اور نئے حالات نئے مسائل اور نئے رویوں میں جاری و ساری لہو لہان سچائی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔