آفتاب حسین

آسٹریا

یومِ ولادت: آفتاب حسین آسٹریا میں مقیم ایک سنجیدہ، فکری اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر۔آفتاب حسین، جو اردو شعری دنیا میں اپنے تخلص “آفتاب” سے پہچانے جاتے ہیں، 6 جون 1962ء کو تلہ گنگ (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ وہ 1980 کی دہائی میں اردو شاعری کے اُفق پر ایک تازہ اور سنجیدہ آواز کے طور پر اُبھرے، جنہوں نے روایت اور جدیدیت کے امتزاج سے ایک منفرد شعری اسلوب ترتیب دیا۔آفتاب حسین نے اردو ادب کی اعلیٰ تعلیم یونیورسٹی اورینٹل کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد ازاں اسی شہر میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ وہ لاہور کے معروف ادبی فورم “حلقہ اربابِ ذوق” کے سیکریٹری بھی رہے۔ ان کا علمی و ادبی سفر مارشل لا کے سیاسی دباؤ کے باعث 2000 میں پاکستان سے رخصت ہو کر بھارت اور پھر جرمنی کے راستے آسٹریا جا پہنچا، جہاں انہوں نے ویانا یونیورسٹی سے تقابلی ادب میں پی ایچ ڈی کی اور وہیں جنوبی ایشیائی ادب و ثقافت کے استاد کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

آفتاب حسین کی شاعری صرف اردو تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا دائرہ کار بین الاقوامی سطح تک پھیل چکا ہے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام “مطلع” پاکستان اور بھارت میں یکساں طور پر شائع ہوا، جس نے انہیں سنجیدہ شعری حلقوں میں اعتبار بخشا۔ بعد ازاں ان کی شاعری کے تراجم ہندی، انگریزی اور جرمن زبان میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔ وہ جرمن ادب کے نامور شعرا جیسے پاولا سیلان، جارج ٹراکل، روز آوس لینڈر اور کافکا کے اردو تراجم بھی کر چکے ہیں، جو باقاعدہ کتابی صورت میں منظرِ عام پر آئے۔

آج کل وہ مہاجر ادب پر مبنی ایک دو لسانی (انگریزی-جرمن) ادبی جریدے کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔آفتاب حسین کی شاعری میں فکری گہرائی، جذبے کی سچائی، اور وجودیاتی سوالات کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کی غزلوں میں تغیر پذیر دنیا، تعلقات کی پیچیدگیاں، داخلی اضطراب، اور حیاتِ انسانی کی معنویت پر غوروفکر ملتا ہے۔

    “کرتا کچھ اور ہے، وہ دکھاتا کچھ اور ہے

    دراصل سلسلہ پسِ پردہ کچھ اور ہے”

    “دھوپ جب ڈھل گئی تو سایہ نہیں

    یہ تعلق تو کوئی رشتہ نہیں”

    “بس ایک بات کی اس کو خبر ضروری ہے

    کہ وہ ہمارے لیے کس قدر ضروری ہے”

آفتاب حسینؔ کا شمار ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف اردو شاعری کو مہاجر شعور سے جوڑا بلکہ اسے یورپی ادبی تناظر میں بھی نمایاں مقام دلوایا۔ ان کا کام ادب، تہذیب، اور مہاجرت کے تجربے کو زبان دیتا ہے۔

ان کی شاعری زندگی کے اُن پہلوؤں کو چھوتی ہے، جنہیں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اور شاید یہی ان کے کلام کی اصل طاقت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔