گوشہ ء انٹرویو
جناب سید تقی عابدی
از۔ ڈاکٹر صدف نقوی
صدر شعبہ اردوگورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی، فیصل آباد

سید تقی عابدی اردو ادب کے نامور محقق، نقاد، شاعر اور ادیب ہیں۔ کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ ماہر فزیشن ہیں۔ لیکن اردو ادب کی خدمت میں مشغول ہیں۔ 70 سے زائد کتب تصنیف کر چکے ہیں۔ ان کو گراں قدر اعزازو انعامات سے بھی نوازا گیا ہے۔ اردو کی نئی بستیوں کے روحِ رواں ہیں۔
ہے متاع آگہی سید تقی عابدی
معتبر و دانشوری سید تقی عابدی
علم و فن کی خسروی سید تقی عابدی
ایک مرد آہنی سید تقی عابدی
پاکستان آمد پر ڈاکٹر صدف نقوی صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی، فیصل آباد، پاکستان، نے ان کا انٹرویو کیا:۔
ریذیڈنٹ ایڈیٹر ورثہ پاکستان،
ڈاکٹر صاحب یہ مرثیہ جو ہے خاص طور پر انیس اور دبیر کے حوالے سے آپ کیا سمجھتے ہیں دونوں میں سے کس کا مقام زیادہ ہے؟
دیکھیے مسئلہ کیوں کہ موضوع ایک ہے دونوں بڑے شاعر ہیں۔ دونوں کا تعلق لکھنو سے ہے۔ دونوں نے اپنے چاہنے والے کے گروپ انیسہ اور دبیر یہ بنائے لیکن مفتی میر عباس کے جب کسی شخص کی چاہت نمکین ہو اور جب کسی شخص کی چاہت شیر یں ہو یعنی کوئی شیریں کا عاشق ہو کوئی نمکین کا عاشق ہو تو ان دونوں کے درمیان تقابل کرنا دشوار ہو گا۔ تو انیس اور دبیر کا مسئلہ یہ ہے اگر چہ یہ دونوں مرثیہ کے شاعر ہیں لیکن ان کے جو اسلوب ہیں ان کے جو زادیے ہیں وہ بالکل جدا ہے۔ تو انصاف یہ ہے کہ ان کا تقابل نہ کیا جائے الگ الگ مقام رکھا جائے۔ اور جو ان سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہ دوسرے سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے تو اسی وجہ سے میں یہ کہتا ہوں کہ میری ایک آنکھ انیسہ ہے اور ایک آنکھ دبیر یہ ہے۔ ہم لوگ اردو کے لوگ ہیں ہمارا مقصد یہ ہے کہ اردو کے گیسو سنواریں اور یہ دونوں جو ہیں اردو کی آنکھیں ہیں۔ تو اس لحاظ سے دونوں عظیم شاعر ہیں۔ دونوں فصیح و بلیغ شاعر ہیں۔ دونوں کے پاس مضامین نوع کے انبار ہیں ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا انصاف نہیں۔
2۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے لکھا ہے کہ جو انیس نے مراثے لکھے ہیں صبح کے منظر کی انہوں نے عکاسی کی ہے۔ شام کے منظر کی عکاسی نہیں کی تو اس کی کیا وجہ ہے؟
وزیر آغا صاحب نے کہا ہے لیکن میں عرض کروں گا کہ واقعہ کربلا میں صبح عاشور،اذانِ علی اکبر،لشکر حسینی کا لشکر، یزید کے روبرو ہونا یہ سب مسائل صبح کے تھے۔ میں نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں اکیس صبحیں صرف مر زاد بیر کی ہیں۔ دبیر عجیب شاعر ہیں۔ دبیر کے پچاس کے قریب مرثیے صرف لفظ صبح سے شروع ہوتے ہیں۔ انیس نے اپنے مرثیوں میں بھی صبح کے منظر کی عکاسی یوں کی ہے۔
جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے
جلوہ کیا سحر کے رخِ بے حجاب نے
دیکھا سوئے فلک شہ گردوں رکاب نے
مڑ کر سدا رفیقوں کو دی اس جناب نے
آخر ہے رات حمد و ثنائے خدا کرو
اُٹھو فریضہ سحری کو ادا کرو
صبح کی جو ترکیب استعمال کی گئی ہیں۔ وہ انیس ہو یاد بیر۔ اور صبح کی جو کیفیت ہے کہ شبنم گر رہی ہے۔ پرندے چہک رہے ہیں۔ نسیم چل رہی ہے۔ لوگ اپنے کام میں مصروف ہیں۔ چونکہ یہ کام ایک صبحِ عاشورکی صبح ہو رہے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ شام کے مناظر پیش نہیں کیے گئے ہیں۔ لیکن وہ محدود ہیں۔ جیسے شام، ’’شام جب ہوئی تو زنداں کے در پر‘‘ شعر یاد نہیں ہے۔ لیکن میں بتا رہا ہوں کہ شاعر نے یہ کہا کہ جب اندھیرا ہوا تو سکینہ نے دیکھا کہ ہر ایک اپنے بستر پر لیٹا ہو ا ہیتو اس اندھیرے میں اس شام میں ہاتھ دیوار پر رکھتے رکھتے پہنچی ہے۔ دربانوں پر ہو تے ہوئے میں اپنا درد بتانے آئی ہوں۔ یہ صحیح ہے اس قدر عناوی تو شام پر نہیں ہے۔ لیکن شام غریباں کے جو مناظر ہیں وہ میری نظر میں چار مصرعوں کا یا غزل کی ہیت کا سلام ہو یا وہ مرثیہ جو تمہارے اردو ادب میں چودہ شعر سے لے کر آٹھ سوتریپن (853) تک مرشیہ اس وقت تک مطبوعہ موجود ہے۔ ان سب میں صبح کے مضامین زیادہ ہیں۔ اور شام کے مضامین کم ہیں۔اس مرثیے کا بند دیکھیے:
بین تھا سکینہ کا شام ہونیوالی ہے
کب تک آؤ گے بابا، شام ہونے والی ہے
عصر کے اجالے میں گھر لٹا کے بیٹھے ہیں
پھر نہ لوٹ لیں اعدا شام ہونے والی ہے
ایک چار سالہ بچی کی جو کیفیت ہے درد سے بھری چیز ہے تو اس کو ہماری اردو ادب میں شامل اس عورت کے گھر پر جو مشکل کھڑی ہے کہ اردو اب نے اس کو جذب کیا۔ اس پر اعتراض ہے کہ وہاں پر پر ند وں کا چہکنا کیا کام ہے۔ وہاں پر خوشبوئے گل کا کیا کام ہے۔ لیکن لوگ یہ نہیں کہتے کہ یہ منظر نگاری نہیں یہ شاعری بھی ہے۔ تو انیس نے پہلے جو از حاصل کیا کہ جب واقعہ کربلا میں نواسہ رسولﷺ کے قدم پڑے تو اس وجہ سے کربلا کی ہر چیز تازہ دم ہو گئی۔
چھپنا وہ ماہتاب کا وہ صبح کا ظہور
یادِ خدا میں زمزمہ پردازی طیور
یعنی شاعر نے ایک جو از حاصل کر لیا۔ امیجری باب کھول دینے پر شاعری کا کمال ہے تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مریثے کو تاریخ کی طرح سننا چاہیے۔
جنگل سے آئی فاطمہ زہرا کی یہ صدا
امت نے مجھ کو لوٹ لیا وا محمد
” باقیات اقبال” کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
۱۹۵۲ سے باقیات اقبال کے حوالے سے انور حارث نے: مجموعہ” رختِ سفر ” جو کہ 40 صفحوں پر ہے شائع ہو ا۔ سب سے زیادہ اہمیت اس کو دیتا ہوں۔ میں اس کا مطالعہ کرتا ہوں نوٹس اور حوالے لیتا ہوں۔
باقیاتِ اقبال تدوین ہے، باقیات تالیف نہیں ہے۔ تشریح ہے تفسیر ہے۔ جب ان تینوں کو ملاتے ہیں تو تخلیق بن جاتی ہے۔ ’’رختِ سفر‘‘ سے لے کر جب ہم پہنچتے ہیں۔صابر حسین کلو روی کی کتاب ’’باقیات اقبال‘‘ تک جو ایک باہوش محقق ہیں۔
صابر حسین کلوروی نے اخبارات اور رسائل کے جو 63 نام دیے جن میں 40 سے 45 تک رسالہ ایسے ہیں جن میں صرف ا قبال کی نظم شائع ہوئی ہے۔ بہر حال شمع سے شمع جلتی ہے۔ میرے بعد بھی بہت کتا بیں آئیں گی لیکن صابر کلوروی کی کتاب ایک مینار رہے گی۔ “باقیات اقبال ” میں کچھ ایسا کلام ہے جو متروک ہے لیکن سارے کو متروک کہنا مناسب نہیں اقبال نے تمام نظمیں جو انجمن حمایت اسلام کی کہیں یا وہ نظمیں جوکسی ایک شخصیت یا تقریب کے لیے لکھیں ان کو شامل نہیں کیا۔
اقبال کے ہاتھہ میں دیوان حافظ ہے۔ ایک دیوان غالب پھر اقبال نظم طباطبائی سے بھی رہنمائی لیتے ہیں۔ اقبال نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے کہنے پر بچوں کے لیے نظمیں لکھیں۔ جن کا اقبال کو معاوضہ دیا گیا۔ ان پر اقبال کا نام نہیں تھا۔ اقبال نے 13 نظمیں لکھیں۔ ان میں سے ایک بھی نظم اقبال کے کلام میں شامل نہیں ہے۔ شریعت شعر میں آپ شعر کسی کو نہیں دے سکتے۔ آپ دیکھیں کہ “باقیات اقبال” کے حوالے سے”عورت “اور “کشود کار ” جیسی نظمیں سامنے آئیں۔ اگر اقبال کو یہ نظمیں مل جاتی تو وہ ضرور شائع کرتے۔
بیاتا از یں انجمن بگزریم
از یں کاخ و کوئے کہن بگزریم
(آؤ اس محفل سے نکل جائیں، ان محلوں اور پرانے گلیوں کوچوں سے نکل جائیں۔)
دگر خیمہ در کربلائے زینم
بایں بے نوائی نوائے زینم
(کر بلا کے میدان میں خیمہ نصب کریں اس بے آسرائی میں ہمت کا نعرہ لگائیں۔)
نوائے کہ آتش کند خاک را
نوائے کہ وا سوزد افلاک را
(وہ نعرہ جو خاک کو آگ کر دئے، وہ نعرہ جو آسمانوں کو جَلا دے)
نوائے کہ بے ساز تقدیر نیست
نوائے کہ بے ضرب شبیر نیست
(وہ نعرہ جو بغیر عمل اور تقدیر کے نہیں، وہ نعرہ جو ضربت شبیر ؑ کے بغیر نہیں۔)
اگر بندہ ایں نوائے زند
چو یزداں جہاں آفرینی کند
(اگر بندہ ایسا نعرہ لگائے تو وہ بھی پروردگار کی طرح دُنیا پر حکمرانی اور فتح حاصل کر سکتا ہے)
اس طرح کی نظموں کو ہم ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈال سکتے کیونکہ یہ اقبال شناسی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے
اگر اقبال نے دانستہ طور پر ان اشعار کو اپنے متداول کلام میں شامل نہیں کیا تو ہم کیوں انھیں با قیات کے عنوان سے شائع کریں؟
شعر شاعر کی ملکیت اور تخلیق ہے۔ شاعر کو پورا حاصل ہے کہ ان میں ترمیم کرے اسے تشہیر کرے یا اس کو ضائع کر دے۔ یہ سب عمل وہ اس وقت تک کر سکتا جب تک وہ زندہ ہے مگر شاعر دولت اور جائیداد کی طرح اپنے اشعار کو کسی اورکے نام نہیں کر سکتا۔ شریعت شاعری میں شعر کسی کو دینا جائز نہیں ہمیں پتا ہے بعض شاعروں نے اپنا پیٹ پالنے کے لییشاعروں کو اپنے شعر بیچے جو اگرچہ مخمل میں ٹاٹ کے پیوند بن کے ظاہر ہوئے لیکن بعد میں بہت مقامات پر نکال دیے۔
یہ عجیب ہے کہ کوئی شاعر شعر چھپنے کے بعد اس کو کتاب سے نکال دے۔ اگرچہ تخلیق شاعرکی ملکیت ہے لیکن اس سے استفادہ کرنا ہر صاحب ذوق کا حق بھی ہے۔ چناں چہ اگر شعر کسی رسالے، میگزین کتاب، روداد میں چھپ چکا ہے یا کسی صوتی آلے میں ریکارڈ ہو چکا ہو تو عوام کو روکا نہیں جاسکتا۔
ہر بڑے شاعر کے ساتھ ان کی زندگی کے بعد باقیات کا عمل جاری و ساری رہا۔ غالب کے اردو اشعار کی اعداد ساڑھے چار ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے اس طرح اقبال کے متداول کلام کو جب ان کے باقیات سے مقابلہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے 42 فیصد کلام اردو میں شامل نہیں کیا۔
میر انیس اور مرزاد بیر اور درجنوں پر شعرا کے کلام ہمیں آئے دن ملتے رہتے ہیں، جن کو نوادرات کے نام سے شائع کیا جاتا ہے اور لوگ اس کا استقبال بھی کرتے ہیں۔
پس معلوم ہوا اقبال نے تحریری طور پر کوئی خاص ممانعت نہیں کی البتہ زندگی میں متعدد بار اس روش کو روکا کہ ان سیبغیر پوچھے ان کے اشعار شائع نہ کیے جائیں باقیات کے کلام کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کی نظروں سے کچھ کلام چھپار ہاور نہ اس کو اقبال ضرور شائع کرتے یہ کلام معیاری اور کسی سقم کے بغیر شائع یا بیاضوں میں محفوظ ہو چکا تھا۔ شاید یہ کلام نظر انداز ہونے کی وجہ سے شائع نہ ہوا۔
ڈاکٹرصد ف نقوی کی کتاب “رئیس شہرسخن” جو کہ صاحب اسلوب شاعر ” رئیس وارثی” پر مشاہیر کے لکھے گئت 15 مضامین پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سیآپ کیا کہیں گے؟
میں عرض کر رہا ہوں کہ میرے کوئی پینتیس سالہ روابط رئیس وارثی صاحب سے رہیہم نے درجنوں آپ کے باہم مشاعرے پڑھے اردومرکز نیو یارک ہے یہ اس زمانے سے جب آپ نوجوان تھے کیونکہ یہ اس خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد اور ان کیبھائی دونوں نعت گو مشہور تھیاور میں نے آج سے کوئی 25 سال پہلے ان کی نعتیہ شاعری پر کولمبو یو نیور سٹی میں لیکچردیا تھا۔ اردو کی جو تاریخ لکھی جائے گی ممکن نہیں بغیر رئیس وارثی اور نصیر وارثی کے ذکر کے وہ کامل ہو سکے اور اب “ورثہ” ادبی جریدہ جو شائع کر رہے ہیں وہ انڈیا، پاکستان اور نیویارک سے بیک وقت شائع ہو رہا ہے۔ شب و روز اردو اادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ کسی لحظہ ان کو آرام نہیں ہے۔ بہترین شاعر ہیں اور ان کا اب نعتیہ مجموعہ آ رہا ہے “کائنات دل” میں اس پر بھی رئیس وارثی کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اور رئیس وارثی کو بھی یہ ایک انوکھا کام ہے اور کام اسی طریقے سے آکے کرتے ہیں ہم نے بتایا جیسا کہ مل کر اردو کا کام کیے ہیں اور یہ اردو دان 45 یا 46 سال سے یا اس سے کم نیو یارک میں مقیم ہے یہ کام کر رہے ہیں۔ میں پورے طریقے سے اس کا استفادہ کروں گا اسی وجہ سے آپ مضامین دیکھ رہے ہیں کہ وہ ضمیر جعفری ہو یا امجد اسلام ہویا جو شاعر ہو کیونکہ ان شاعروں میں شرکت کر تے تھے رئیس صاحب ان کے بارے میں گفتگو کرتے تھییہ پور امنظر نامہ میرے سامنے میرے سامنے ہے میں ڈاکٹر صدف نقوی کو اس کتاب پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔