اردو تحقیق و تدوین
اردو زبان ایک عظیم تہذیبی، ادبی، اور لسانی ورثہ رکھتی ہے، جس کی بقا، ترقی اور ترویج میں تحقیق و تدوین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ تحقیق ایک منظم اور علمی عمل ہے جس کے ذریعے ادب، زبان، تاریخ اور ثقافت کے گہرے پہلوؤں کا سراغ لگایا جاتا ہے، جب کہ تدوین اس تحقیق کو قابلِ اعتماد، مستند اور قابلِ فہم بنانے کا فنی عمل ہے۔ اردو زبان و ادب کے کلاسیکی متون سے لے کر جدید ادبی تخلیقات تک، ہر دور میں محققین اور مدوّنین نے اپنی علمی بصیرت اور محنت سے اس خزانے کو محفوظ، مرتب اور بہتر بنایا ہے۔ آج کے تیز رفتار اور ڈیجیٹل دور میں جہاں زبانیں اور تہذیبیں بدل رہی ہیں، اردو تحقیق و تدوین نہ صرف ماضی سے ربط قائم کرتی ہے بلکہ اردو ادب کو نئے فکری و فنی زاویے بھی فراہم کرتی ہے۔ اس مضمون میں ہم اردو تحقیق و تدوین کی اہمیت، اس کے دائرہ کار، ارتقاء، اور معاصر رجحانات کا جائزہ لیں گے۔
اگر آپ چاہیں تو اسی ابتدائیے کو کسی خاص زاویے یا درجے (یعنی ایم۔اے، ایم فل، یا پی ایچ ڈی) کی سطح کے مطابق مزید تفصیل یا سادگی کے ساتھ ڈھالا جا سکتا ہے۔ کیا آپ اسے کسی خاص مقالے کے لیے لکھوا رہے ہیں؟
اردو تحقیق و تدوین ایک اہم شعبہ ہے جو اردو ادب، زبان، اور تاریخ کے حوالے سے مواد کو مرتب اور تجزیہ کرنے کا عمل ہے۔ اس میں مختلف پہلوؤں پر تحقیق کی جاتی ہے، جیسے کہ شاعری، نثر، لغات، اسالیبِ بیان، اور ادبی تحریکیں۔ اردو تحقیق کا مقصد اردو زبان اور ادب کی شناخت کو مستحکم کرنا، اس کی تاریخ کو محفوظ کرنا اور نئے زاویوں سے اس کا مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔
تدوین کا عمل مواد کو مرتب، ترمیم اور درست کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ قابلِ استعمال، فہمی اور معیاری ہو۔ یہ شاعری، نثر، یا کسی بھی قسم کے ادبی یا تاریخی مواد کے لیے ضروری ہے تاکہ اس کی اصل حالت، معنی اور مقصد برقرار رہے۔
اگر آپ اردو تحقیق و تدوین کے کسی خاص موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں یا اس میں مزید معلومات چاہتے ہیں تو بتائیں!
اردو تحقیق و تدوین ایک اہم شعبہ
جی ہاں، اردو تحقیق و تدوین واقعی ایک اہم اور وسیع شعبہ ہے جو اردو ادب، زبان، تاریخ، ثقافت، اور دیگر مختلف پہلوؤں کی تفصیلات کو مرتب کرنے اور ان کا جائزہ لینے پر مرکوز ہے۔ اس شعبے میں کئی اہم مقاصد اور سرگرمیاں شامل ہیں:
ادبی مواد کا تجزیہ: اردو تحقیق میں ادبی متون کا گہرائی سے تجزیہ شامل ہوتا ہے تاکہ ان کے موضوعات، اسالیب، اور اسلوب کی تفہیم حاصل کی جا سکے۔
زبان و ادب کی ترقی: اس شعبے کے ذریعے اردو زبان کی ترویج اور ترقی پر بھی کام کیا جاتا ہے، جس میں لغات کی تدوین، گرائمر کی تشکیل، اور نئے الفاظ کی تحقیق شامل ہوتی ہے۔
ادبی تاریخ: اردو ادب کی تاریخ کا جائزہ لینا اور مختلف دوروں کی تحریروں کا مطالعہ کرنا تاکہ اس زبان کی ارتقاء کو سمجھا جا سکے۔
شاعری و نثر کا ترمیم و تصحیح: اردو تحقیق و تدوین میں شاعری اور نثر کے مختلف مجموعوں کی تصحیح، ترمیم، اور ترتیب شامل ہوتی ہے تاکہ ان کی اصل صورت برقرار رہ سکے اور قارئین کے لیے بہتر سمجھ بوجھ فراہم ہو سکے۔
نئے خیالات و تصورات کا آغاز: اس شعبے کے ذریعے نہ صرف موجودہ ادب کو محفوظ کیا جاتا ہے، بلکہ نئے خیالات، تنقید اور نظریات کو بھی متعارف کرایا جاتا ہے جو اردو ادب کو مزید نئی جہتوں سے روشناس کراتے ہیں۔
لغات اور اصطلاحات کا فروغ: اردو زبان کے نئے الفاظ اور اصطلاحات کی تحقیق و تدوین بھی اردو تحقیق و تدوین کا حصہ ہے تاکہ زبان میں مزید اصطلاحات کا اضافہ کیا جا سکے اور زبان کی جامعیت میں بہتری لائی جا سکے۔
اس شعبے کا مقصد نہ صرف اردو ادب کو محفوظ کرنا ہے بلکہ اسے جدید تقاضوں کے مطابق ان کی تفہیم اور ترویج کے لیے قابلِ فہم بنانا بھی ہے۔ یہ ایک اہم علمی اور ادبی کام ہے جو اردو زبان و ادب کی مستقبل میں موجودگی اور بقاء کے لیے ضروری ہے۔
اگر آپ اس موضوع پر مزید تفصیل چاہتے ہیں یا کسی خاص پہلو پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ضرور بتائیں!
اردو تحقیق و تدوین کے شعبے میں جاری کام اور تحقیق کئی اہم پہلوؤں پر مرکوز ہوتی ہے۔ اس شعبے کا دائرہ نہ صرف ادب اور زبان تک محدود ہے بلکہ اس میں اردو کے ثقافتی، سماجی، اور تاریخی پہلو بھی شامل ہیں۔ یہاں کچھ جاری تحقیقاتی اور تدوینی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی ہے:
1. اردو ادب کی تدوین
اردو ادب کی مختلف اہم کتابوں اور مجموعوں کی تدوین جاری ہے تاکہ ان کا اصل متنی معیار برقرار رکھا جا سکے۔ شاعری کے مجموعے، نثر کی تخلیقات، اور کلاسک ادب جیسے دیوانِ غالب، دیوانِ میرزا رفیع سودا، اور دیگر اہم کتابوں کی ترتیب اور تصحیح کا کام مسلسل جاری ہے۔ ان تصحیحات میں متن کی املا، اسلوب، اور حواشی کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ مواد کے مفہوم کو بہتر طور پر پیش کیا جا سکے۔
2. نیا تحقیقاتی مواد
اردو تحقیق میں جدید موضوعات اور مسائل پر کام جاری ہے، جیسے:
اردو ادب میں خواتین کی نمائندگی: خواتین ادیبوں، شاعرات، اور مصنفات کی تخلیقات کا تجزیہ کرنا اور ان کی اہمیت کو اُجاگر کرنا۔
اردو میں مستند تنقید: مختلف ادبی تحریروں کی تنقید اور ان کے اسلوب، نقطہ نظر اور اثرات کا جائزہ لینا۔
اردو میں زبان و بیان کی تغیرات: اردو زبان میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنا اور مختلف علاقوں میں اردو بولنے والوں کی بولی اور لہجے کا مطالعہ کرنا۔
3. محققین اور ادیبوں کی زندگیاں
کئی محققین اردو کے اہم ادیبوں، شاعروں اور مفکرین کی زندگیوں اور ان کے کاموں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ اس میں سرفراز احمد، علامہ اقبال، میرزا غالب، اور دیگر مشہور ادیبوں کی سوانح اور تخلیقات کا علمی تجزیہ شامل ہے۔
4. اردو لغات کی تدوین
اردو لغات کی تدوین کا عمل بھی جاری ہے، جس میں نہ صرف روایتی لغات کی تشہیر کی جاتی ہے بلکہ جدید اصطلاحات اور الفاظ کو شامل کیا جاتا ہے تاکہ اردو زبان کی جامعیت بڑھائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، اردو کے مختلف محاورے، ترکیبیں، اور الفاظ کے استعمال کی نئی تفصیلات بھی مرتب کی جارہی ہیں۔
5. ادبی تحقیقاتی ادارے
کئی تحقیقی ادارے اور ادبی انجمنیں اردو کی تحقیق و تدوین کے حوالے سے کام کر رہی ہیں۔ ان میں یونیورسٹیوں، اداروں اور لائبریریوں میں تحقیقاتی منصوبے، سیمینارز، اور ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس سے اردو زبان و ادب کی ترقی اور تشہیر میں مدد ملتی ہے۔
6. مختلف ادبی اصناف پر تحقیق
اردو کے مختلف ادبی اصناف جیسے غزل، نظم، افسانہ، ڈرامہ، اور ناول پر گہری تحقیق کی جا رہی ہے۔ ان اصناف کی ساخت، اسلوب اور تاریخی ارتقاء کا تجزیہ کیا جاتا ہے تاکہ ان کی جمالیاتی اہمیت کو سمجھا جا سکے۔
7. مستقبل کی تحقیق
اردو تحقیق و تدوین کا ایک اور اہم پہلو مستقبل میں اس زبان کی ترقی اور بقاء ہے۔ نئے موضوعات اور جدید خیالات کو اردو ادب میں شامل کرنا اور ان کی صحیح تدوین کرنا تاکہ اردو نہ صرف روایتی طور پر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی اہمیت برقرار رکھے۔
اردو تحقیق و تدوین کا یہ شعبہ مسلسل ترقی پذیر ہے اور اس میں نئے نئے تصورات اور تحقیق کے دروازے کھلتے جا رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف اردو زبان کی بقاء کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے اردو ادب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق زندہ اور کامیاب بنایا جا رہا ہے۔
اگر آپ اس سلسلے میں کسی خاص موضوع پر بات کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں!
اردو تحقیق و تدوین کا شعبہ مستقل طور پر ترقی کی راہوں پر گامزن ہے اور اس میں نہ صرف ماضی کی اہم تخلیقات کو محفوظ کرنے کا عمل جاری ہے بلکہ اس میں جدید رجحانات اور موضوعات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ یہاں کچھ مزید پہلو ہیں جو اس شعبے کی اہمیت اور سرگرمیوں کو اجاگر کرتے ہیں:
8. جدید تکنیکی وسائل کا استعمال
اردو تحقیق و تدوین میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ کمپیوٹر پروگرامز، ڈیجیٹل لائبریریوں اور ای-کتابوں کا ذخیرہ اردو ادب کی تدوین اور دستیابی کو آسان بنا رہا ہے۔ اس سے تحقیق کا عمل تیز اور مؤثر ہو رہا ہے، اور محققین کی رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈیجیٹل اردو کتب: مختلف ادبی مواد کو اسکین اور ڈیجیٹل فارمیٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ یہ مواد دنیا بھر میں اردو پڑھنے والوں کے لیے دستیاب ہو۔
اردو متن کا تجزیہ: ٹیکنالوجی کا استعمال اردو متن کے تجزیے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے، جیسے کہ الفاظ کی تکرار، شعری ترکیبوں کا تجزیہ، اور اسلوب کا تجزیہ۔
9. اردو کی بین الاقوامی ترویج
اردو تحقیق کا ایک بڑا حصہ دنیا بھر میں اردو کی ترویج پر مرکوز ہے۔ اردو زبان نہ صرف پاکستان اور بھارت میں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں بولی جاتی ہے۔ محققین اردو ادب کو عالمی سطح پر پیش کرنے کے لیے مختلف سیمینارز، کانفرنسوں، اور ادبی میلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
اردو کے عالمی سیمینارز: دنیا بھر میں اردو ادب پر سیمینارز اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جہاں محققین اور ادیب اپنے خیالات اور تحقیقاتی نتائج کا تبادلہ کرتے ہیں۔
اردو ترجمے: مختلف زبانوں میں اردو ادب کے تراجم کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اردو کے اہم تخلیق کاروں کی تخلیقات کا عالمی سطح پر تعارف ہو سکے۔
10. اردو ادب میں تحقیقی جریدوں کا کردار
اردو تحقیق و تدوین میں تحقیقی جریدے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ جریدے اردو ادب، زبان، اور ثقافت کے مختلف پہلوؤں پر مقالے اور تحقیقاتی مضامین شائع کرتے ہیں۔ ان جریدوں کا مقصد ادب و زبان کے جدید مسائل، نئی تخلیقات اور تحقیق کو اجاگر کرنا ہے۔
مقالات و تحقیق: مختلف تحقیقی جریدے اردو کے ادبی نقادوں، محققین اور اساتذہ کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں جہاں وہ اپنی تحقیق پیش کرتے ہیں۔
ادبی مباحثے: ان جریدوں کے ذریعے اردو ادب پر بحث و مباحثہ بھی جاری رہتا ہے، جس سے نئے خیالات اور نظریات کو سامنے لایا جاتا ہے۔
11. شعری اصناف کی تحقیق
اردو میں مختلف شعری اصناف جیسے غزل، نظم، رباعی، مرثیہ، اور قطعہ پر تحقیق کی جارہی ہے تاکہ ان کی تاریخی اہمیت اور ان کے معانی و پیغامات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
غزل اور اس کے تقاضے: غزل کے مخصوص اسلوب اور ترکیب پر تحقیق کی جا رہی ہے، جس میں اس کے عروض، تخیلاتی دنیا، اور اس کی جمالیاتی اہمیت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نظم کا ارتقاء: نظم کی مختلف اقسام اور اس کے زمانے کے ساتھ بدلتے ہوئے اسالیب کو سمجھنے کے لیے تحقیق کی جا رہی ہے۔
12. اردو ادب اور سماج کا تعلق
اردو تحقیق و تدوین میں ادب کو سماج اور ثقافت سے جوڑنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ محققین اردو ادب کے ذریعے سماجی مسائل، ثقافتی تبدیلیوں، اور سیاسی ماحول پر تجزیہ کرتے ہیں۔
سماجی مسائل کی عکاسی: اردو ادب میں سماجی انصاف، طبقاتی فرق، خواتین کے حقوق، اور دیگر مسائل کی عکاسی کی جاتی ہے۔ ان موضوعات پر تحقیق کا عمل بڑھ رہا ہے تاکہ اردو ادب کو موجودہ دور کے سماجی مسائل سے جوڑا جا سکے۔
ثقافتی و تاریخی تناظر: اردو ادب میں ثقافتی اور تاریخی حوالے کو اجاگر کیا جا رہا ہے، تاکہ ادب کو اس کے اصل معاشرتی و ثقافتی پس منظر میں سمجھا جا سکے۔
13. اردو میں موجودہ ادبی رجحانات
اردو ادب میں نئے ادبی رجحانات پر تحقیق کی جا رہی ہے، جیسے جدید شاعری، فکشن، اور ٹیکنالوجی سے متاثر ادبی اشکال۔
نیا فکشن: نیا فکشن، خاص طور پر مختصر کہانیاں اور جدید ناول، اردو ادب میں اہم تبدیلیاں لا رہا ہے۔ اس پر تحقیق کی جا رہی ہے تاکہ اس کے اسلوب، تکنیک اور اس کے موضوعات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
نیا شاعری کا رجحان: اردو شاعری میں جدید تخیلات اور اسلوب کا تجزیہ کیا جا رہا ہے، جیسے کہ آزاد نظم، جدید غزل، اور تجرباتی شاعری۔
14. اردو کے مختلف خطوں کا مطالعہ
اردو تحقیق میں اردو کے مختلف خطوں جیسے دہلی، لاہور، کراچی، اور دیگر علاقوں میں بولی جانے والی اردو کی خصوصیات پر بھی تحقیق کی جا رہی ہے۔
علاقائی اردو: اردو کے مختلف خطوں کی زبان، لہجے، اور محاوروں پر تحقیق کی جا رہی ہے تاکہ اردو کی علاقائی خصوصیات اور تنوع کو اجاگر کیا جا سکے۔
اردو تحقیق و تدوین کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور اردو ادب کی مسلسل ترقی اور بقاء میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اگر آپ اس سلسلے میں کسی اور پہلو پر تفصیل سے بات کرنا چاہیں یا کسی خاص تحقیقاتی موضوع پر مزید معلومات چاہتے ہیں تو ضرور بتائیں!
تدوین کا عمل مواد کو مرتب، ترمیم اور درست کرنا ہوتا ہے
جی بالکل! تدوین کا عمل مواد کو مرتب، ترمیم، اور درست کرنے کا ایک اہم اور پیچیدہ عمل ہے، جو کسی بھی ادبی یا علمی مواد کو قابلِ فہم، معیاری، اور مفہوم بنانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد صرف مواد کو جوں کا توں پیش کرنا نہیں ہوتا، بلکہ اسے بہتر بنانا، اس کی زبان و بیان کی صفائی کرنا اور اس میں ممکنہ غلطیوں کو درست کرنا بھی ہوتا ہے۔
تدوین کے مختلف مراحل:
1. مواد کی ترتیب (Organization)
تدوین کا آغاز مواد کی ترتیب سے ہوتا ہے، یعنی:
مواد کی ساخت کو بہتر بنانا، تاکہ اس میں تسلسل اور منطقی ربط ہو۔
مواد کو مختلف ابواب یا حصوں میں تقسیم کرنا، اگر ضرورت ہو، تاکہ قاری کو سمجھنے میں آسانی ہو۔
غیر ضروری یا غیر متعلقہ مواد کو حذف کرنا، تاکہ مواد مختصر اور جامع ہو۔
2. زبان و بیان کی درستگی (Language and Expression)
تدوین کے دوران زبان اور بیان کو بہتر بنایا جاتا ہے:
املا: الفاظ کی درست املا کو یقینی بنانا۔
گرامر: جملوں کی ساخت، فعل و فاعل، ضمیر وغیرہ کی درستگی۔
پہنچ اور روانی: جملوں کی روانی اور لفظوں کی مناسبت کو بہتر بنانا تاکہ مواد پڑھنے میں دلچسپ اور سمجھنے میں آسان ہو۔
زبان کا معیار: غیر ضروری پیچیدہ یا غیر معیاری الفاظ کو دور کرنا اور زیادہ سادہ، معیاری زبان استعمال کرنا۔
3. مفہوم کی وضاحت (Clarity of Meaning)
تدوین کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ مواد کا مفہوم صاف اور واضح ہو:
غیر واضح یا مبہم جملوں کی وضاحت کرنا۔
اگر کوئی اقتباس یا پیغام صحیح طریقے سے نہیں پہنچ رہا، تو اس میں مناسب تبدیلیاں کرنا۔
اشعار یا نثر کے پیچیدہ خیالات کو آسان زبان میں بیان کرنا، اگر ضروری ہو۔
4. سیاق و سباق کا خیال رکھنا (Contextual Consistency)
مواد کی تدوین میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ سیاق و سباق میں کوئی تضاد نہ ہو:
مواد کی ہر لائن یا پیراگراف کو اس کے عمومی سیاق و سباق کے مطابق درست کرنا۔
مختلف ابواب یا حصوں میں موضوع کی مطابقت کو برقرار رکھنا تاکہ ایک تسلسل اور مربوط مواد فراہم کیا جا سکے۔
5. اشتباہات کی اصلاح (Error Correction)
یہ ایک اہم مرحلہ ہے جس میں مواد کی ہر قسم کی غلطیوں کو دور کیا جاتا ہے:
املا کی غلطیاں: الفاظ کی غلط املا۔
گرامر کی غلطیاں: جملوں میں فعل، اسم، اور ضمیر کا غیر صحیح استعمال۔
نکات کی غلطیاں: جگہوں پر غلط نشانات، پونڈز، اور نقطوں کی غلط جگہوں پر موجودگی۔
6. اسٹائل کی موافقت (Style Consistency)
مواد کی تدوین میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ مختلف حصوں میں اسٹائل کی یکسانیت ہو:
اگر مواد میں کئی مختلف انداز یا طرزِ بیان ہے تو انہیں ایک ہی طرز میں لایا جاتا ہے تاکہ مواد میں ہم آہنگی ہو۔
اگر کسی تخلیقی نوعیت کے مواد میں مخصوص اسلوب یا تکنیک استعمال ہو رہی ہو تو اسے درست اور بہتر انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے۔
7. حوالہ جات اور اقتباسات کا درست استعمال (References and Citations)
تدوین میں مواد کے حوالہ جات اور اقتباسات کا درست طریقے سے شامل کرنا بھی ضروری ہے:
اقتباسات کی اصل کتاب یا ماخذ سے صحیح شناخت کرنا۔
حوالے یا اقتباسات کو مناسب طریقے سے پیش کرنا تاکہ قارئین ان تک پہنچ سکیں اور ان کا اعتبار قائم رہ سکے۔
تدوین کا مقصد نہ صرف مواد کو فنی اور تکنیکی طور پر درست بنانا ہے بلکہ اس کی اثر پذیری، اس کے پیغام اور تخلیق کے معیار کو بھی بہتر بنانا ہے۔ یہ عمل مواد کو ایک نئی زندگی دیتا ہے اور اس کے قارئین کے لیے زیادہ موثر اور مفہوم بنا دیتا ہے۔
اگر آپ تدوین کے کسی خاص پہلو پر مزید تفصیل چاہتے ہیں یا اس پر کوئی سوال ہو تو آپ آزاد ہیں پوچھنے کے لیے!
اردو تحقیق و تدوین کا عمل محض علمی سرگرمی نہیں بلکہ یہ اردو زبان و ادب کی علمی، فکری اور تہذیبی وراثت کی حفاظت، ترقی اور ترویج کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ تحقیق جہاں نئے سوالات اٹھاتی ہے، وہاں تدوین ان سوالات کے جوابات کو ایک منظم اور معیاری شکل دیتی ہے۔ اس شعبے کے ذریعے ہم نہ صرف قدیم متون کی معنوی گہرائی تک پہنچ سکتے ہیں بلکہ جدید ادبی رجحانات اور زبان کے ارتقائی مراحل کو بھی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، لسانی تغیر، اور بین الثقافتی روابط نے اردو تحقیق و تدوین کو نئے امکانات اور چیلنجز سے روشناس کیا ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو کے محققین اور مدوّنین اپنے کام کو صرف روایتی دائرے تک محدود نہ رکھیں بلکہ نئے ذرائع، جدید تنقیدی نظریات، اور بین العلومی زاویوں کو بھی اپنائیں تاکہ اردو زبان نہ صرف محفوظ ہو بلکہ عالمی علمی منظرنامے پر بھی اپنا مؤثر وجود برقرار رکھ سکے۔
Some times its a pain in the ass to read what people wrote but this internet site is real user genial! .
ifqzv6
Well I sincerely enjoyed studying it. This post provided by you is very effective for accurate planning.